58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsسراج البیان

Ayahs 58:1–4

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارہ میں جھگڑا کررہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کرتی تھی اور اللہ تم دونوں کی باتیں سنتا تھا بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے (ف 1)

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں اپنی عورتوں کو ماں کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا اور وہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ بول دیتے ہیں ۔ اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر جو کہا تھا اس سے پھرنا چاہیں تو قبل اسکے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ۔ ایک گردن آزاد کرنا ہے ۔ یہ تمہیں نصیحت دیجاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے واقف ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جو کوئی نہ پائے تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے دو مہینے روزہ رکھے ۔ پھر جو کوئی یہ نہ کرسکے ۔ تو ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔ یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

عورت کا درجہ قانون میں 1: اسلام سے پہلے طلاق کی صورت یہ تھی کہ خاوند بیوی سے کہتا ۔ انت علی تظھرامی ۔ یعنی اب تو میرے لئے میری ماں کی حیثیت میں ہے ۔ اور بربنائے رواج پر وہ عورت دامی طور پر مفارقت اختیار کرلیتی ۔ اس کی اصطلاح میں ظہار کہتے تھے خولہ بنت ثعلیہ حضور ﷺ کے پاس فریاد لے کر آئی کہ الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ میرے اولاد بھی ہے ۔ اگر ان الفاظ سے علیحدگی واقع ہوجاتی ہے ۔ تو بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔ اولاد کو اگر خاوند کے سپرد کرتی ہوں تو مجھے خطرہ ہے ۔ کہ وہ شفقت سے ان کی تربیت نہیں کریگا ۔ اور اگر اپنے پاس رکھتی ہوں ۔ تو اندیشہ ہے ۔ کہ بھوکوں نہ مرجائیں ۔ میں ان کو کیوں کر پالوں گی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ۔ کہ وہ جب یہ الفاظ کہہ چکا ہے ۔ تو اب تو اس پر حرام ہوچکی ہے ۔ اور میاں بیوی کے تعلقات منقطع ہوچکے ہیں وہ روئی اور کہتی یا رسول اللہ اس نے طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے ہیں ۔ اور حضور ﷺ عام مسلک کی بنا پر یہی فرماتے ۔ کہ اب تو کوئی گنجائش نہیں ہے اتنے میں حضور ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی ۔ اور اظہار متعلق یہ آیات نازل ہوئیں ۔ جن میں بیاتا گیا ۔ کہ یہ جاہلیت کا دستور قطعاً غلط ہے ۔ کہ مطلقاً عورت کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں بن جائے ۔ ماں تو وہی ہے ۔ جس نے اس کو جنا ہے ۔ اور جو اس کی وجد میں لانے کا باعث ہوئی ۔ یہ قول اور یہ انداز بیان غلط اور جھوٹ ہے ۔ اور اس کا کفارہ یہ ہے ۔ کہ باہمی اختلاط سے پہلے غلام آزاد کیا جائے ۔ یا دو ماہ کے متواتر روزے رکھے جائیں ۔ یا اگر اتنی بھی استطاعت نہ ہو ۔ تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ۔ یہ اس لئے کہ ہر مسلمان کو معلوم ہو ۔ کہ یہ رشتہ کس درجہ ذمہ دارانہ سلوک کا مستحق ہے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ جب کسی شخص کی تمام امیدیں دنیا والوں کی طرف سے منقطع ہوجائیں ۔ اور وہ توجہ وتضرع کے ساتھ جناب باری میں اپنی گزارشات کو پیش کوے ۔ تو وہاں ضرور شتوائی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بدرجہ غایت مہربان اور شفیق ہیں ۔ وہ ان کی معروضات کو پوری شان کرم کے ساتھ سنتے ہیں ۔ اور لباس قبولیت سے مشرف فرماتے ہیں ۔ دیکھئے یہاں ایک طرف رواج ہے ۔ کہ اس کی پابندیاں دوسری طرف ، بیک ضیعف اور سیکس عورت ہے ۔ جس میں اتنی قوت نہیں ہے کہ رواج کی کڑی انجیروں کو توڑ سکے ۔ مگر جب وہ روتی ہے ۔ اور الحاح وزاری اختیار کرتی ہے ۔ تو دریائے رحمت جوش میں آجاتا ہے ۔ اور محض اس ایک عورت کی وجہ سے ایک بات باقاعدہ قانون میں داخل ہوجاتی ہے ۔ حل لغات : تجادلک ۔ آپ سے جھگڑتی تھی ۔ جدل کا لفظ عربی میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہاں اس کا طلاق اچھے معنوں میں ہے تحورکما ۔ باہمی گفتگو ۔ سمیع بصیر ۔ یہ اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اسلام کے احکام معلم اور مصالح پر مبنی ہیں رقبۃ ۔ گردن ۔ بندہ ۔ غلام آزاد کرنے کے پیدا کرتا ہے جس میں تمام آزاد کرنا ضروری ہو ۔
Ayahs 58:5–6

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت (ف 1) کرتے ہیں وہ خوار ہوئے تھے جیسے ان سے پہلے خوار ہوئے تھے اور ہم نے صاف آیتیں نازل کیں اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جب اللہ ان سب کو اٹھائے گا ۔ پھر ان کے کاموں کی انہیں خبر دے گا ۔ اللہ نے ان کو شمار کررکھا ہے ۔ اور یہ انہیں بھول گئے ہیں ۔ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے

قانون الٰہی کا احترام ضروری ہے 1: تجادون سے مراد شدید مخالفت اور سخت ترین مظاہرہ عناد اور بغض کا ارتکاب سے مکہ والے قرآن کی تعلیمات کو حضور ﷺ کے منہ سے سنتے اور زاراہ بدبختی ان کی مخالفت کرتے اور ان کو ہدف استہزاء بناتے ۔ اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں ۔ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ جس کا احترام بنی نوع انسان کے لئے ضروری ہے ۔ اگر ان لوگوں سے اس تذلیل کی ۔ اور انکار کیا ۔ تو پھر یاد رکھیں ۔ کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہلاکت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے ۔ اور جس طرح پہلے گروہوں کو ان کے مقاصد میں ناکام اور غائب و خاسر رکھا گیا ہے ۔ اسی طرح ان کو ان کی ناپاک غرضوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ جہاں تک حق وصداقت کا تعلق ہے ۔ وہ پوری آب وتاب سے ان میں موجود ہے ۔ دلائل وبراہین کے اعتبار سے ان پر اتمام حجت ہوچکا ہے ۔ اور وقت آگیا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے اور ان کو مایوسی اور بےچارگی کے سمندر میں پھینک دے ۔ فرمایا : آج یہ جتنا چاہیں ۔ خوش ہولیں ۔ اور مسرت کا اظہار کرلیں ۔ کل وہ دن آنے والا ہے ۔ جب ان کو قبروں میں سے نکالا جائیگا ۔ اور محاسبہ کے لئے زندہ کیا جائے گا ۔ سبب ان سے ایک ایک حرکت کے متعلق پوچھا جائیگا ۔ قضا وقدر کے فرشتے ان کے انکار وتمرد کی نسبت ان سے سوال کرینگے ۔ اس وقت وہ سب کچھ بھول بھلا چکے ہوں گے ۔ اس لئے نہ مانیں گے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ہمہ گیر علم ان سے باز پرس کئے بغیر نہ رہے گا ۔ اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے ۔ اور ان کی پوزیشن کیا ہوگی ؟ اس حالت بےچارگی میں جب کہ کوئی کسی کی مدد ہی نہیں کرسکے گا ۔ یہ لوگ بتائیں ۔ کہ انہوں نے اس وقت کے لئے کیا سوچ رکھا ہے ۔ حل لغات :۔ حدود اللہ ۔ جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ یہ قانون ظہار اور اس قبیل کے تمام حکام اللہ کی طرف سے متقین اور مقرر ہوتے ہیں اور اللہ ہی صحیح معنوں میں انسان کے لئے موزوں اور مناسب قانون وضع کرسکتا ہے تبتوعلھم جل مکبوت کے معنے ذلیل اور رسوا کے ہوتے ہیں ۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تونے یہ نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ اللہ سب جانتا ہے ۔ جب تین کا مشورہ ہوتا ہے تو وہ (ضرور) ان کا چھٹا ہوتا ہے اور اس سے کم ہوں یا زیادہ جہاں کہیں (ف 1) بھی ہوں وہ (ضرور) ان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی خبر دیگا ۔ بیشک اللہ کو ہر شئے معلوم ہے

ف 1: منافقین اور منکرین خفیہ طور پر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ۔ اور سرگوشیاں کرتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ آپ کو معلوم ہے ۔ کہ ہم سے کوئی بات پوشیدہ اور مسقتر نہیں ۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں ۔ زمین کی وسعتیں اور آسمان کی بلندیاں سب ہمارے سامنے ہیں ۔ جب یہ لوگ تین ہوتے ہیں ۔ تو چوتھا میں ہمارا وجود ہوتا ہے ۔ اور جب یہ پانچ ہوتے ہیں تو چھٹے ہم ہوتے ہیں ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ کوئی راز کی بات کریں ۔ اور ہم اس کو نہ جانیں ۔ کیونکہ ہمارا علم ہر چیز کو محیط ہے ۔ واضح رہے کہ یہ معیت جس کا ذکر یہاں ہوا ہے محض علم اور شہادت کی زد سے ہے ۔ ورنہ اللہ تو اس چیز ومکان کی احتیاجات سے بےنیاز ہے ۔ وہ اگرچہ مخلوق سے جدا ہے ۔ مگر اس کا علم اس درجہ وسیع ہے ۔ کہ وہ ہر واقعہ کو براہ راست جانتا ہے ۔ حل لغات :۔ نجویٰ ۔ اصل میں نجوۃ سے اشتقاق ہے ۔ جس کے بلند اور اونچی زمین کے ہیں ۔ سرگوشی کرنے والے چونکہ اپنے آپ کو ایسی بلند پر سمجھتے ہیں ۔ کہ دوسرے کی وہاں تک رسائی نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے اس حرکت کو نجویٰ کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے معصیت ال رسول ۔ پیغمبر کی نافرمانی ۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہیں دیکھا جن کو کانا پھوسی کرنے کی ممانعت کی گئی تھی ۔ پھر وہی کرتے ہیں جن کی ان کو ممانعت ہوچکی ہے اور گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کرنے کی کانہ پھوسی کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے وہ دعا دیتے ہیں جو دعا اللہ نے تجھے نہیں دی اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں اس پر ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں دیتا ۔ انہیں جہنم (ف 1) کافی ہے اس میں داخل ہونگے سو بری جگہ ہے پھرجانے کی

ذلیل ترین حرکات 1: منافقین نہایت ذلیل قسم کے لوگ تھے ۔ یہ ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ کہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچائے ۔ اور سنانے کے لئے نئی نئی باتیں اختیار کی جائیں اور زندگی کچھ اس ڈھب کی بنائی جائے ۔ کہ خواہ مخواہ ہر طرز عمل سے اذیت ٹپکے ۔ چناچہ یہ لوگ مواقع کی تلاش میں رہتے ۔ اور حتی المقدور دلآزاری سے نہ چوکے ۔ مسلمانوں کے ساتھ انہیں کسی مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ۔ تو باہم سرگوشیاں کرتے ۔ اور کچھ اس انداز سے کھیس لیں کہ مسلمانوں کو اس بدتمیزی سے دکھ محسوس ہوتا ۔ وہ یہ خیال کرتے کہ ہمارے متعلق کچھ باتیں ہورہی ہیں ۔ اور ہماری مذمت میں لب ہل رہے ہیں ۔ ان کو اس عادت بد سے روکا گیا ۔ مگر یہ رکنے والے کہاں تھے ۔ اس کو تو انہوں نے عمداً اختیار کیا تھا ۔ اور اس کا مقصد ہی یہ تھا ۔ کہ جب حضور ﷺ کے پاس آئے ۔ تو ازراہ غائت السلام علیک کی بجائے السام علیک ہے ، جس کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ کہ خدا کرے تو مرجائے ۔ اور اپنی اس حرکت پر خوش ہوتے اور کہتے ۔ اگر یہ اللہ کا رسول ہوتا ۔ تو اب تک گستاخی کی سزا ہم کو مل چکی ہوتی ۔ اور اب تک عذاب نے ہم کو آگھیرا ہوتا ۔ اور چونکہ ہم اللہ کی گرفت سے آزاد اور محفوظ ہیں ۔ اس لئے ہم حق بجانب ہیں ۔ فرمایا ۔ تم اپنی بیہودگی پر ناز نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ان تمام شرارتوں کے لئے سزا کا ایک دن تجویز کررکھا ہے ۔ اور وہ دن تمہارے لئے خوش آئند نہیں ہے ۔ اس دن تمہیں جہنم میں پھینکا جائے گا جو بدترین جگہ ہے ۔ اور بہت برا ٹھکانا ہے ۔ دنیا میں وہ تمہیں ڈھیل اور مہلت دیتا ہے ۔ تاکہ تم اپنے گناہوں کا احتساب کی نظر دوڑاؤ۔ اور پاکبازی کی زندگی بسر کرو ۔ وہ امکانات مہیا کرتا ہے ۔ کہ تمہاری روائتی بدبختی سعادت اور فلاح سے بدل جائے ۔ اور تم اس کے حضور مجرم نہ قرار دیئے جاؤ۔ مگر تم ہو ۔ کہ اسی مہربانی اور کرم کی وجہ سے گستاخی اور معصیت پر دلیر ہوگئے ہو ۔ اور وہ چیز جس کو تمہاری ہدایت کا سبب ہونا چاہیے تھا ۔ تمہاری گمراہی کا باعث بنی ہے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے اور محض اس لئے کہ تمہاری بداخلاقی انتہا تک پہنچ گئی ہے ۔ تم ان ذلیل کاموں پر فخر کرنے لگے ہو ۔ جن سے تم کو شرمانا چاہیے ۔ اور تمہارے نزدیک سب سے بڑی بات یہی ہے ۔ کہ گناہ اور سرکشی کی باتوں کو پھیلاؤ۔ اور پیغمبر کی دشمنی میں دیوانے ہوجاؤ۔ عقل وہوش اور اخلاق ودین کو یک قلم فراموش کرو ۔ تم ہی کہو ۔ کہ جب اخلاقی جس اس درجہ مردہ ہوجائے ۔ اس وقت اصلاح کی کیا امید باقی رکھی جاسکتی ہے ۔ حل لغات :۔ حیولک ۔ تحیۃ سے ہے ۔ بمعنی سلام دعا ۔
Ayahs 58:9–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

دیکھو جب تم کانا پھوسی کرو (ف 2) تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی کانا پھوسی نہ کرو اور بھلائی اور پرہیز گاری کے بارہ میں کانا پھوسی کرو ۔ اور اللہ سے ڈرو ۔ جس کے پاس تم جمع ہوگے

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

یہ جو کانا پھوسی سے سو شیطان کا کام ہے ۔ کہ مومنین کو غمگین کرے اور ان کو بغیر خدا کے حکم کے کچھ ضرر نہیں پہنچا سنتا اور ایماندار دل کو چاہیے کہ خدا پر بھروسہ رکھیں

ف 2: عام مجلس میں دو تین آدمیوں کو کانا پھوسی کے لئے منتخب کرلینا اخلاقی لحاظ سے مذموم اور آداب مجلس کے خلاف ہے ۔ کیونکہ اس فریق سے دوسروں کے دلوں میں بدظنی پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ضرورت پیش آجائے ۔ تو ارشاد فرمایا ۔ کہ تمہاری باتیں نیکی اور تقویٰ کی باتیں ہونا چاہئیں ۔ کسی شخص کے متعلق اس لئے سرگوشی کرنا ۔ کہ اس کو تکلیف پہنچنے ۔ اسلامی زاویہ نگاہ سے بہت برا ہے ۔ اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ کہ واتقو اللہ یعنی ان باتوں کو حقیر اور معمولی نہ جانو ۔ یہ زہدواتقاء کا صحیح مفہوم ہے ۔ کہ مسلمان زبور اخلاق سے آراستہ ہو ۔ اور یہ جانتا ہو ۔ کہ کون باتیں آداب مجلس کے منافی ہیں ۔ اور کن باتوں سے دوسروں کو دکھ پہنچنے کا احتمال ہے ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ سرگوشی کی یہ حرکت تو بلا شبہ مذموم ہے ۔ مگر مسلمانوں کو اتنا نازک احساسات کا نہ ہونا چاہیے ۔ کہ ان معمولی چیزوں سے اس قدر متاثر ہوں ۔ انہیں زیبا ہے ۔ کہ بہرحال اللہ پر توکل رکھیں ، اور یقین جانیں ۔ کہ اس کی نصرتیں ان کے شامل حال رہیں گی ۔
Ayahs 58:11–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ تم مجلسوں (ف 1) میں کھل کر بیٹھو تو تم جگہ کشادہ کردیا کرو ۔ کہ اللہ تمہیں کشادگی دے گا ۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو ۔ تو اٹھ کھڑے ہوا کرو اللہ تم میں سے ایمانداروں کے اور ان کے جنہیں علم ملا ہے درجے بلند کریگا ۔ اور جو تم کرتے ہو ۔ اللہ اس سے خبردار ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم رسول کے کان میں بات کہنا چاہو تو کان میں بات کرنے سے پہلے کچھ خیرات آگے رکھ لیا کرو ۔ یہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ صفائی کا موجب ہے ۔ پھر اگر تم پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

آدمب مجلس 1: صحابہ کو حضور ﷺ سے بدرجہ غایت محبت تھی ۔ اس لئے مجالس نبوی ﷺ میں خوب بھیڑ رہتی ۔ اور ہر شخص یہ کوشش کرتا کہ اس کو زیادہ قریب جگہ ملے ۔ تاکہ جمال نبوت سے وہ دل ودیدہ کی تسکین کا سامان بہم پہنچائے اس میں سبقت ہوتی ۔ اور بڑھ بڑھ کر لوگ آگے پہنچنے کی کوشش کرتے ۔ اور جب آدمی آکر یہ کہتے ۔ کہ بھائی ہمیں بھی جگہ دو ۔ تو انہیں ناگوار ہتا ۔ اور وہیں جمے رہتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ کہ جب مجالس کا اہتمام کرو ۔ تو نشستیں کشادہ رکھو ۔ تاکہ بعد میں آنے والے لوگ بھی سماعت اور دیدار کی لذتوں سے استفادہ کرسکیں ۔ اور اگر تمہیں یہ کہا جائے ۔ کہ نشست بدل لو ۔ یا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو ۔ تو تمہیں اس میں تکلف نہ ہونا چاہیے ۔ کیونکہ یہ چیزیں آداب مجلس میں داخل ہیں ۔ اور مہذب قوموں کا فرض ہے ۔ کہ وہ ان چیزوں کا خیال رکھیں ۔ اس حقیقت کے اظہار سے دو باتیں خصوصیت کے ساتھ معلوم ہوئیں ۔ ایک تو یہ کہ صحابہ کو حضور ﷺ کے ساتھ کس درجہ عشق تھا کتنی محبت تھی ۔ اور کس درجہ تعلق خاطر تھا ۔ کہ حضور ﷺ جہاں تشریف فرما ہوئے ۔ یہ لوگ پروانہ دار گرتے اور کسب انوار کرتے ۔ دوسرے یہ کہ اسلام کتنا کامل اور صاحب تہذیب مذہب ہے ۔ کہ اس میں صرف عبادات اور معاشرت کی گیسوں کو ہی نہیں سلجھایا گیا ۔ بلکہ روز مرہ کے اخلاق دعوید پر بھی سلیقہ سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ حل لغات :۔ ففشحوا ۔ کھلے کھلے ہوکر چلو ۔ انمشن وا ۔ نشتر کے معنے اٹھ کھڑے ہونے کے ہیں ۔
Ayahs 58:13–17

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے ڈرگئے ۔ کہ کان میں بات کہنے سے پہلے خیرات لاکر آگے رکھو ۔ پھر جب تم نے یہ نہ کیا ۔ اور اللہ نے تمہیں معاف کردیا ۔ تو اب نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول (ف 1) کی اطاعت کرو ۔ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا ان کی طرف نہیں دیکھا ۔ جنہوں نے ان لوگوں سے دوستی کی ہے ۔ جن پر اللہ کا غضب ہے یہ لوگ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

ان کے لئے اللہ نے سخت عذاب تیار کیا ہے ۔ بیشک جو کام وہ کرتے ہیں برے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنایا ہے ۔ پھر اللہ کی راہ سے روکتے ہیں تو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

اللہ کے ہاں نہ ان کے مال ان کے کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد ان کے کام آئے گی ، وہ دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے

پہلے خیرات دو پھر سرگوشی کرو 1: باوجود اس کے کہ حضور کائنات میں سب سے بڑے انسان تھے ۔ سادگی رحمت اور عفو کا یہ عالم تھا ۔ کہ آپ تک پہنچنے کے لئے کسی توسل کی حاجت نہ تھی ۔ کوئی صاحب اور دربان نہ تھا ۔ جہاں بیٹھتے ۔ لوگوں کا ایک ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا ۔ ہر شخص کو ہر وقت آزادی حاصل تھی ۔ کہ وہ آپ سے مسائل پوچھے ۔ آپ کو مخاطب کرے ۔ آپ کا سارا وقت خلق اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھا ۔ اس سے جہاں یہ فائدہ ہوا ۔ کہ فیضان نبوت عام ہوا ۔ اور برکات کا دریا امڈا ۔ تو ہر جگہ سیراب ہوگئی ۔ وہاں اہل غرض اور باب تعلق نے یہ چاہا ۔ کہ آپ کی سادگی سے ناجائز استفادہ کیا جائے ۔ اور آپ کو اس طرح گفتگو میں سرگوشیوں میں اور مشوروں میں مشغول رکھا جائے ۔ کہ آپ غرباء اور مساکین کی طرف توجہ نہ دے سکیں ۔ چناچہ یہ لوگ آئے اور حضور ﷺ کو اپنے لئے کچھ اس طرح مخصوص کرلیتے ۔ کہ دوسروں کو موقع ہی نہ ملتا ۔ کہ وہ کچھ پوچھ سکیں ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ کہ دیکھو حضور کو مخاطب کرنے سے پہلے عقیدت کے ثبوت میں کچھ نذرانہ پیش کرو ۔ جو فقراء کے لئے بمنزلہ خیرات کے ہو ۔ اور جس سے تمہاری پاکیزگی قلب اور خلوص کا امتحان ہوسکے ۔ اس حکم کا نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ وہ ہجوم چھٹ گیا ۔ جو حضور ﷺ کا وقت ضائع کرتا تھا ۔ اور ان کو معلوم ہوگیا ۔ کہ ہماری شرارت کا پتہ چل گیا ہے ۔ لہٰذا یہ حکم بھی موقوف ہوا ۔ فرمایا ۔ اگر مخلصین کے لئے یہ خیرات دینا دشوار ہو ۔ تو وہ نہ دیں ۔ نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو برقراررکھیں ۔ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہیں ۔ بس یہی کافی ہے ۔ حل لغات :۔ صدقۃ ۔ خیرات ء اسفقتم ۔ کیا تم ڈر گئے ۔
Ayahs 58:18–21

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن ان سب کو اللہ اٹھائے گا ۔ پھر وہ اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے ۔ جیسے تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ وہ اچھی راہ میں سنتا ہے ۔ وہی جھوٹے (ف 1) ہیں

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان غالب آیا ہو اس نے اللہ کی یاد بھلادی وہ شیطان کی جماعت ہیں سنتا ہے جو شیطان کی جماعت میں وہی زیان کار ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی ذلیلوں میں ہیں

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے ۔ بیشک اللہ زور آور زبردست ہے

منافق جھوٹے ہیں 1: یہودیوں کو اسلام کے ساتھ قلبی عناد تھا ۔ منافقین ان کے ساتھ ساز بازرکھتے ۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ۔ اور اکل وشرب کی محفلوں میں شریک ہوتے ۔ اس ارتباط اور دوستی کا مقصد محض یہ تھا ۔ کہ مسلمانوں کی مذمت کریں ان کے اسراران تک پہنچائیں ۔ اور اس طرح دونوں مل کر دل جلے پھپھولے توڑیں ۔ اور پھر جب حضور ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوجاتا ۔ اور آپ ان لوگوں سے باز پرس کرتے ۔ تو وہ صاف انکار کردیتے ۔ اور کہتے ۔ بخدا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم ان تک آپ کی باتیں قطعاً نہیں پہنچاتے اور اس طرح وہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ۔ کہ ہم آپ کے دشمن اور بدخواہ نہیں ہے ۔ فرمایا آج ان یہودیوں اور منافقین کو اپنے مال پر ناز ہے ۔ اولاد کی کثرت پر غرہ ہے ۔ مگر ان کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے ۔ کہ مال و دولت کی فراوانی بالکل کام نہیں آسکے گی ۔ اور اموال وانصار کی کثرت عذاب الٰہی سے بےنیاز نہیں کریگی ۔ اس وقت بھی یہ لوگ جھوٹ بولیں گے ۔ کہ دنیا میں ہم نے ان اعمال کا ارتکاب قطعاً نہیں کیا ہے ۔ مگر اس کو کہا جائے ۔ کہ وہاں جھوٹ کو بالکل فروغ نہ ہوگا ۔ فعاجو قلام الغیوب سے بھلا اس کو یہ نکرہ سو کہ اور فریب میں رکھا جاسکتا ہے ۔ اعمال کی فروسامنے ہوگی ۔ اور معلوم ہوگا ۔ کہ زندگی کو کن کن مشاغل میں صرف کیا گیا ہے ۔ آج یہ لوگ اس بات پر خوش ہولیں ۔ کہ مسلمان بےسروسامان ہیں اور ان کی دل کھول کر مذمت کرلیں ۔ اس وقت جب یہ دیکھیں گے ۔ کہ انہیں مساکین اور غربا کے سروں پر افتخار اور اعزاز کا تاج رکھا ہے ۔ جن کو یہ بنظر اعتقاد دیکھتے تھے ۔ تو ان کی دل کیفیات کیا ہونگی فرمایا : بات یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کو جھوٹا خیال نہیں کرنے ۔ خواہشات نفس نے ان پر غلبہ حاصل کرلیا ہے ۔ اور شیطان ان کی رگ وپے میں سرایت کرچکا ہے ۔ یہ دنیا میں اس طرح محو ہیں ۔ کہ اللہ کو بھول گئے ہیں ۔ ان لوگوں نے اس نقد کو اس نسیہ پر ترجیح دے رکھی ہے ان کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے ۔ جو منزل تک نہ پہنچے ۔ اور درمیان کی دلچسپیوں کو زیادہ اہمیت دے ۔ راستے ہی میں اترپڑے اور بھول جائے ۔ کہ اس کو آگے جانا ہے ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ اپنے اعمال اور کرتوت کی وجہ سے شیطان کا گروہ ہیں ۔ اور ان کو حتما اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ جو لوگ حق وصداقت کی مخالفت کریں ۔ فطرت سے لڑیں اور حقائق سے دست وگریباں ہوں ۔ وہ ذلیل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے یہ بات ازل سے طے کررکھی ہے ۔ کہ سچائی کا بول بالا ہو ۔ حق کو غلبہ اور تطرق حاصل ہو ۔ بلندی اور اعقلا ومیسر ہو ۔ اس کے رسول جب آئیں تو کامیاب رہیں غابء میں اور باطل کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں ۔ جھوٹ کے لئے قطعی کامیابی نہیں ہے ۔ باطل بالکل چھپ سکتا ۔ کیونکہ روشنی کے مقابلہ میں تاریکی رخصت ہوجاتی ہے ۔ اور جوئے رواں کے سامنے خس و خاشاک کا وجود نہیں رہنے پاتا ۔ ان اللہ قوی عزیز کے معنے یہ ہیں کہ اگر اللہ کے ساتھ تعلقات معبودیت استوار ہوں ۔ اگر اس کے نیاز مند رہیں ۔ اور اس جگہوں کو بلاتامل و تشویش تسلیم کریں ۔ تو پھر وہ قوت وعزت کی توفیق بخش دیتا ہے ۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تو کوئی ایسی قوم نہ پائیگا جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھے ۔ پھر ایسوں سے دوستی کرے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبے کے لوگوں کیوں نہ ہوں ۔ ان کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے ۔ اور وہ انہیں باغوں میں داخل کریگا ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ وہاں ہمیشہ رہینگے اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش وہ اللہ کے لوگ ہیں ۔ سننا ہے ۔ اللہ ہی کے لوگ مراد کو پہنچیں گے

اصل دین محبت وعشق ہے 1: اسلام دنیا میں پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے انسان کو فطرت کو بدل دیا ہے اور نفسیات تک تبدیل کردی ہیں ۔ یہی وہ مذہب ہے جس نے حریت انگیز طور پر محسوسات کی دنیائے سے روح انسانی کو لاہوت کی دنیا سے وابستہ کردی ہے ۔ بلکہ یوں کہیے ۔ کہ بھی وہ قوت ہے جس نے قلوب میں تمام رشتوں کی اہمیت کو اس تعلق کے مقابلہ میں گھٹادیا ہے ۔ جو ایک مرد مسلمان کا اس کے اللہ اور رسول کے ساتھ ہے ۔ چناچہ اسلام نے بھی محبت اسی شفقت اور اسی تحقیق کو معیاد ایمان قرار دیا ہے ۔ یہ جس سے دل میں اسلامی کی محبت ہے ۔ جو خدا اور اس نے رسول کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب سمجھتا ہے ۔ چناچہ منافقین کو مخاطب کرکے فرمایا ۔ کم بختو ! تم نے یہ بھی سوچا ہے کہ ایک دل میں بیک وقت خدا کے دشمنوں اور اس کے دوستوں کی محبت کیسے سماسکتی ہے ۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ تمہارے پہلو پہلو میں اسلام کے لئے درد اور تڑپ بھی ہو ۔ اور تم یہودیوں سے سازباز بھی رکھو ۔ مومن تو وہ ہے ۔ جو صرف اللہ سے محبت رکھتا ہے اور رسول کو اپنا محبوب سمجھتا ہے ۔ پھر اگر اس کے عزیز اور اس کے رشتہ دار بھی اس دولت عشق سے مالامال ہیں ۔ تو وہ ان کا عزیز ہے ۔ اور دوست ہے ۔ اور اگر یہ لوگ معاند ہیں ۔ اور ان کے دل میں بجائے محبت کے گل وریحان کے بغض کا زقوم پنہاں ہے تو وہ ان کا دشمن ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ وہ خدا کے متعلق کفریہ کلمات سنے اور خاموش رہے ۔ رسول ﷺ کی ذات کے بارے میں ادنی گستاخی کو بھی گوارا کرے ۔ مگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کے سوالات قائم رکھتا ہے ۔ تو قطعاً مومن نہیں ہے ۔ اس کو اپنے متعلق فیصلہ کرلینا چاہیے ۔ کہ وہ کافر ہے ۔ اور متاع ایمان سے ایک قلم محروم یہاں ایک باریک بحث پیدا ہوتی ہے ۔ اس کو سمجھ لینا چاہیے ورنہ غلط فہمی کا احتمال ہے ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ کیا مسلمان کفار کے ساتھ عام معاشرتی اور مدنی تعلقات قائم نہیں رکھ سکتا ۔ اور کیا وہ اتنا تنگ نظر ہے ۔ کہ سوائے مسلمانوں کے اور کسی جماعت کے ساتھ اس کی نہیں نبھ سکتی اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیتوں میں ان منکرین کا ذکر ہے ۔ جو معاند ہیں اور سخت بغض اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ۔ اور پھر عام مدنی تعلقات سے نہیں روکا گیا ہے ۔ بلکہ تودو اور مخلصانہ ساز باز سے روکا گیا ہے ۔ مسلمان کے لئے یہ ناممکن ہے ۔ کہ وہ اپنے دل میں خدا اور اس کے دشمنوں کی محبت کو بیک وقت جگہ دے سکے ۔ وہ یہ نہیں کرسکتا ۔ کہ خدا کے اقتدار کو بھی تسلیم کرے ۔ اور حقیر کے حقوق کو بھی وہ دنیا میں اس لئے زندہ ہے کہ احیاء دین ہو اور اس لئے مرتا ہے ۔ کہ املاء کلمۃ اللہ ہو ۔ حل لغات :۔ جنۃ ۔ سپر ڈبل ۔ استنثوا ۔ قابو پالیا ۔ تسلط کردیا حزب الشیطن ۔ شیطان کی جماعت جس کے دل میں برائی کے لئے محبت ہو یحادون ۔ مخالفت کرتے ہیں ۔ حمید سے ہے یعنی جو مخالفت میں لوہے کی طرح سخت ہو ۔ بروج قیہ ۔ تشریف و تفصیل کے لئے روح قبض کو اپنی جانب منسوب کرتا ہے بلکہ مسلمان وہ ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے مسلمان وہ نہیں ہے ۔ جو رسوم مذہبی دینی کو کسی نہ کسی طرح ادا کرلیتا ہے ۔