58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsاحکام القرآن

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

ظہار کے مسائل قول باری ہے (قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا ۔ اللہ نے بیشک اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کررہی تھی) تا قول باری (وان اللہ لعفو غفور۔ اور بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے) ۔ سلیمان بن خالد نے ابو قلابہ سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایلا اور ظہار سے طلاق واقع ہوجاتی تھی اور یہی ان کی طلاق کا طریقہ تھا۔ جب اسلام آگیا تو ظہار اور ایلاء کے سلسلے میں اسلام کا اپنا حکم جاری ہوگیا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ عورتیں ظہار کی وجہ سے حرام ہوجاتی تھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیتیں نازل فرمادیں۔ وہ عورت کون تھی جس نے اپنے شوہر کی طرف سے کیے جانے والے ظہار کے سلسلے میں حضور ﷺ کے ساتھ ردوقدح اور بحث کی تھی، اس بارے میں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ابواسحاق سے درج بالا آیت کی تفسیر میں بتایا کہ اس کا نزول ایک عورت کے سلسلے میں ہوا تھا جس کا نام حویلہ تھا۔ عکرمہ نے کہا ہے کہ اس کے والد کا نام ثعلبہ اور شوہر کا نام اوس بن الصامت تھا۔ اس کے شوہر نے اس سے کہہ دیا تھا کہ ” تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ “ حضور ﷺ نے اس عورت سے فرمایا کہ ” میرے خیال میں تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ہو۔ “ اس وقت آپ اپنا سر دھو رہے تھے۔ عورت نے یہ سن کر کہا : ” اللہ کے نبی ﷺ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کردے، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ “ حضور ﷺ نے اپنی بات پھر دہرائی۔ عورت نے بھی اپنی بات دہرائی۔ اس طرح کئی دفعہ ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے درج بالا آیتیں نازل ہوئیں۔ قتادہ نے کہا ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلے پھر اس کی طرف رجوع کرکے اس کے ساتھ ہم بستری کرنا چاہے تو باہم اختلاط کرنے سے پہلے ایک گردن آزاد کرے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے قول ” میرے خیال میں تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ہو۔ “ میں یہ احتمال ہے کہ آپ نے اس سے طلاق والی تحریم مراد لی ہے جیسا کہ ظہار کا حکم ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے ظہار والی تحریم مراد لی ہو۔ بہتر بات یہ ہے کہ اس سے طلاق والی تحریم مراد لی جائے۔ کیونکہ ظہار کا حکم اس آیت سے ماخوذ ہے اور آیت کا نزول آپ ﷺ کے اس قول کے بعدہوا تھا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس سے طلاق والی تحریم اور رفع نکاح مراد ہے۔ یہ بات اس چیز کی موجب ہے کہ یہ حکم آیت ظہار کے نزول سے پہلے شریعت میں ثابت تھا اگرچہ اس سے پہلے یہ زمانہ جاہلیت کا ایک حکم تصور ہوتا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے جب اپنے درج بالا ارشاد کے ذریعے طلاق کا حکم سنادیا تھا تو اس حکم کے بعدبعینہ اسی خاتون کو ظہار کا حکم کیسے سنایا جبکہ آپ بعینہ اپنے اسی قول کے ذریعے طلاق کا حکم سنا چکے تھے۔ نسخ تو مستقبل میں حکم کا موجب ہوتا ہے بخلاف پہلے حکم کے کہ وہ ماضی میں ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور ﷺ نے طلاق کا حکم نہیں لگایا تھا بلکہ اس بارے میں آپ ﷺ نے حکم کو معلق کردیا تھا چناچہ آپ نے فرمایا تھا (ماراک الاقد حرمت علیہ میرے خیال میں تم اس پر حرام ہوگئی ہو) آپ ﷺ نے قطعیت کے ساتھ تحریم کی بات نہیں کی تھی۔ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے سے یہ بتادیا ہو کہ یہ حکم عنقریب منسوخ ہوجائے گا اور یہ طلاق سے ظہار والی تحریم کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ اس لئے حضور ﷺ نے اس میں یہ گنجائش رکھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی آیت نازل ہوجائے۔ اس بنا پر اس معاملے میں آپ کی طرف سے کوئی حکم لگانے کی بات ثابت نہیں ہوئی۔ پھر جب آیت نازل ہوگئی تو آپ ﷺ نے اس کے بموجب حکم عائد کردیا۔