Ayahs 58:2–7قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم…
بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول باری ہے (والذین یظاھرون من نساء ھم ثم یعودون لما قالوا ۔ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کریں اور پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی) دوسری دفعہ جن لوگوں کا ذکر کیا ہے ان میں اہل ایمان کی تخصیص نہیں ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ دوسری آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے یہ وہی لوگ ہیں جن کا پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے اس لئے یہ ضروری ہوگیا کہ ظہار کا معاملہ صرف اہل اسلام کے ساتھ خاص رکھا جائے اور اہل ذمہ وغیرہ اس میں داخل نہ ہوں۔ قول باری (ثم یعودون لما قالوا) کی تفسیر میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔
معمر نے طائوس سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ اس سے وطی مراد ہے۔ جب وطی کرکے وہ حانث ہوجائے گا تو اس پر کفارہ ظہار لازم ہوجائے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ تاویل آیت کے خلاف ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (فتحریر رقبۃ من قبل ان یتما سا۔ دونوں کے باہم اختلاط سے پہلے ایک گردن آزاد کرنا ہوگا) دوسری طرف سفیان نے ابن ابی نجیح سے اور انہوں نے ظائوس سے روایت کی ہے کہ شوہر جب ظہار کے الفاظ اپنی زبان پر لائے گا اس پر ظہار لازم ہوجائے گا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ شوہر جب یہ کہے گا۔” انت علی کظھرامی “ (تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو) تو جب تک کفارہ ظہار ادا نہیں کرے گا اس کی بیوی اس کے لئے حلال نہیں ہوگی۔ ابن شہاب اور قتادہ سے مروی ہے کہ ظہار کرنے کے بعد جب شوہر ہم بستر کرنا چاہے گا تو جب تک کفارہ ادا نہیں کرے گا اس کے قریب نہ جاسکے گا۔
فقہاء امصار کا عود یعنی واپسی کے مفہوم میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ ظہار کی وجہ سے ایسی تحریم واجب ہوجاتی ہے جسے صرف کفارہ دور کرسکتا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک عود یعنی واپسی کے معنی اس کے ساتھ ہم بستری کی اباحت حاصل کرنے کے ہیں۔ شوہر یہ اباحت اس وقت حاصل کرسکے گا جب وہ اس سے پہلے کفارہ ادا کرے گا ۔ بشر بن الولید نے امام ابویوسف سے روایت کی ہے کہ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے وہ اس کے ساتھ ہمبستری کرلے اور پھر اس کی موت واقع ہوجائے تو اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
سفیان ثوری کا قول ہے کہ ظہار کرنے کے بعد بیوی اس کے لئے کفارہ ادا کرنے کے بعد ہی حلال ہوگی۔ اگر وہ اسے طلاق دے دے اور پھر اس سے نکاح کرلے تو کفارہ ادا کیے بغیر اس کے ساتھ ہم بستری نہیں کرے گا۔ یہ بات ہمارے اصحاب کے قول کے موافق ہے۔ ابن وہب نے امام مالک کی طرف سے یہ کہا ہے کہ ظہار کرنے کے بعد اگر وہ اسے عقدزوجیت میں رکھنے کا پکا ارادہ رکھتا ہو اور پھر اس سے ہم بستری بھی کرلے تو اس صورت میں اس پر کفارہ ظہار واجب ہوگا۔
اگر ظہار کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے اور اسے عقدزوجیت میں رکھنے کا پکار ارادہ نہ رکھتا ہو اور اس سے ہم بستری بھی کرلی ہو تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس کے بعدوہ اس سے نکاح کرلے تو کفارہ ظہار ادا کیے بغیر وہ اسے مس نہیں کرے گا۔
ابن القاسم نے امام مالک کی طرف سے ذکر کیا ہے کہ اگر شوہر ظہار کرلے پھر اس کے ساتھ ہم بستری کرلے اور بیوی کا انتقال ہوجائے تو اسے کفارہ ضرور ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس نے ظہار کے بعدوطی کی تھی۔ اشہب نے امام مالک کی طرف سے کہا ہے کہ اگر شہار کرنے کے بعد اسے عقد زوجیت میں رکھنے کا پکا ارادہ کیے ہوئے ہو اور ا س سے ہم بسری بھی کرچکا ہو اور کفارہ کی تلاش میں ہو کہ اس کی بیوی کا انتقال ہوجائے تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔
حسن بن صالح کا قول ہے کہ ظہار کرنے والا اگر بیوی کے ساتھ ہم بستری کا پکا ارادہ کرلے تو اس پر کفارہ لازم ہوجائے گا خواہ اس کے بعد وہ اسے چھوڑ دینے کا کیوں نہ ارادہ کرلے کیونکہ عود یعنی واپسی کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس کے ساتھ ہمبستری کا پکا ارادہ کرلے۔ عثمان البتی کا قول ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے ظہار کرلے اور پھر ہم بستری کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو اس پر ان کے خیال میں کفارہ عائد ہوجائے گا خواہ وہ روجوع کرے یا نہ کرے۔ اور اگر عورت کا انتقال ہوجائے تو جب تک کفارہ ادا نہیں کرے گا۔ اس کی میراث کا حق دار نہیں ہوگا۔
امام شافعی کا قول ہے کہ ظہار کرنے کے بعد اگر شوہر کے لئے اسے طلاق دے دینا ممکن تھا اور اس نے طلاق نہیں دی تو اس صورت پر اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا خواہ عورت مرجانے یا زندہ رہے۔ بعض بےت کے لوگوں سے یہ منقول ہے کہ عود یعنی واپسی کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر دو مرتبہ ظہار کرکے اپنے قول کا اعادہ کردے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ اور ابو العالیہ کی روایتوں میں یہ ذکر ہے کہ آیت کا نزول خولہ کے سلسلے میں ہوا تھا جب ان کے شوہر اوس بن الصامت نے ان سے ظہار کرلیا تھا۔ حضور ﷺ نے انہیں ایک گردن آزاد کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہ میں نہیں کرسکتا، آپ ﷺ نے فرمایا پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر میں دن میں تین مرتبہ نہ کھالوں تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں کھانا کھلانے کا حکم دیا۔
یہ روایت ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جنہوں نے اس سلسلے میں شوہر کی طرف سے اسے عقد زوجیت میں رکھنے کے عزم اور اس کے ساتھ ہم بستری کا اعتبار کیا ہے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ابن الصامت سے یہ باتیں نہیں پوچھی تھیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے قول کے بطلان پر بھی دلالت ہورہی ہے جنہوں نے جماع کے ارادے کا اعتبار کیا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ابن الصامت سے یہ بات نہیں پوچھی تھی۔
اسی طرح جن حضرات نے طلاق کا اعتبار کیا ہے ان کا قول بھی باطل ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ابن الصامت سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آیا تم نے اسے طلاق دے دی ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے یہ بھی نہیں پوچھا تھا کہ آیا تم نے ظہار کی یہ بات دو دفعہ دہرادی ہے اس لئے جو لو گ بات دودفعہ دہرانے کا اعتبار کرتے ہیں ان کا قول بھی باطل ہوگیا۔
جب یہ سب اقوال باطل ہوگئے تو ہمارے اصحاب کا قول ثابت ہوگیا اور وہ یہ کہ ظہار کا لفظ تحریم کو واجب کردیتا ہے اور یہ تحریم صرف کفارہ کے ذریعے رفع ہوسکتی ہے۔ قول باری (ثم یعودون لما قالوا) کے اندر دو احتمالات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے ذریعے اس حالت کا ذکر ہوا ہے جس کے تحت یہ خطاب وارد ہوا۔ وہ حالت یہ تھی کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو ظہار کرنے کی عادت تھی۔
چنانچہ ارشاد ہوا (الذین یظاھرون منکم من نسآء ھم) یعنی اس حالت سے پہلے (ثم یعودون لما قالوا) اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کے بعد وہ اس عادت کی طرف لوٹیں یعنی ظہار کرلیں جس طرح یہ قول باری ہے (فالینا مرجعھم ثم اللہ شھید، ہماری طرف انہیں لوٹ کر آنا ہے پھر اللہ تعالیٰ گواہ ہے) اس کے معنی ہیں ” اللہ تعالیٰ گواہ ہے۔ “
اس طرح نفس قول ہی اس عادت کی طرف لوٹنا شمار ہوگا جو ظہار کے بارے میں وہ اپنائے ہوئے تھے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (حتیٰ عاد کالعرجون القدیم یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی) اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے ۔ امیہ بن ابی الصلت کا شعر ہے : ؎
ھذی المکارم لا قعبان من لبن
شیبا بماء فعادا بعد ا بوالا
یہ مکارم یعنی اعلیٰ کارنامے اور عمدہ اخلاق ہیں۔ دودھ کے دو پیالے نہیں ہیں جن کے ساتھ پانی ملا دیا گیا ہو اور پھر پیشاب بن گئے ہوں۔ مفہوم یہ ہے کہ جب تک دودھ تھن میں تھا وہ اس طرح نہیں تھا جب پیالوں میں آگیا اور استعمال ہوگیا تو پیشاب بن کر خارج ہوگیا۔
وما المراء الا کا لشھاب وضوئہ
یحوررما دا بعد اذ ھو ساطع
انسان ایک ٹوٹے ہوئے تارے اور اس کی چمک کی طرح ہے جو چمکنے کے بعد راکھ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یحور کے معنی یرجع کے ہیں۔ یہاں اس کے معنی ہیں کہ وہ راکھ بن جاتا ہے۔
اسی طرح قول باری (ثم یعودون لما قالوا) کا مفہوم ہے کہ یہ لوگ ظہار کی اس حالت میں پہنچ جاتے ہیں جس پر یہ کبھی زمانہ جاہلیت میں ہوتے تھے۔
اس آیت کے اندر دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ظہار کے سلسلے میں اللہ کا حکم ہم بستری کی تحریم کا ایجاب ہے تاوقتیکہ کفارہ ادا نہ کیا جائے۔ جب ظہار ہم بستری کی تحریم کے ساتھ خاص ہے کسی اور چیز کے ساتھ نہیں نیز رفع نکاح میں اس کا کوئی کردار نہیں تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ عود یعنی واپسی سے اس چیز کی اباحت حاصل کرنے کی طرف واپسی مراد لی جائے جو اس نے ظہار کے ذریعے حرام کردی تھی۔
اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے ۔ پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹیں جس کے متعلق ظہار کی بات کہی گئی تھی یعنی ہم بستری کی اباحت حاصل کرنے کی طرف۔ جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے (العائد فی ھبتہ کا لکلب یعود فی قیئہ) ہبہ کرکے واپس کرلینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے اس چاٹ لیتا ہے، حالانکہ ہبہ کرنے والا ہبہ کی ہوئی چیز کی طرف واپس ہوتا ہے۔
یا جس طرح ہم کہتے ہیں : ” اللھم انت رجائو نا “ (اے اللہ تو ہماری امید ہے) یعنی تیری ذات وہ ہے جس سے ہم امید رکھتے ہیں۔ یا جس طرح یہ قول باری ہے (واعبد ربک حتی یاتیک الیقین اور آپ اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو امر یقین پیش آجائے) یعنی وہ بات جس کا یقین ہے اور وہ موت ہے۔ شاعر کا قول ہے :۔
اخبر من لا قیت ان قدو فیتم
ولو شئت قال المنیاون اساوا
جن لوگوں سے میں ملتا ہوں انہیں یہ بتاتا ہوں کہ تم لوگوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اگر میں چاہتاتو اس کے برعکس بھی خبردے سکتا تھا جسے سن کر لوگ یہ کہتے کہ تم نے بڑا برا کیا۔
وانی لراجیکم علی بطء سعیکم
کما فی بطون الحاملات جاء
تم لوگوں کی کوششوں کی سستی کے باوجودمجھے تم سے امید ہے جس حاملہ عورتوں کے بطون سے امید بندھی ہوتی ہے۔ یعنی جس طرح حاملہ عورت کے رحم میں موجود حمل سے امید کی جاتی ہے۔
یہاں رجاء بمعنی مرجو (اسم مفعول) ہے۔ اسی طرح قول باری (ثم یعودون لماقالوا) کے معنی ہیں لما حرموا (جس چیز کو انہوں نے حرام کردیا) اور پھر وہ اس کی اباحت طلب کریں تو ان پر کفارہ واجب ہوگا۔
جو لوگ بقاء علی النکاح کا اعتبار کرتے ہیں ان کا یہ قول دو وجوہ سے باطل ہے۔ ایک تو یہ کہ ظہار تحریم عقد نیز عورت کو عقد زوجیت میں رکھنے کی تحریم کا موجب نہیں ہوتا کہ پھر اس صورت میں عود یعنی واپسی اسے عقد زوجیت میں رکھنے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عود لامحالہ کسی ایسے معنی کے حکم کی طرف واپسی کا مقتضی ہے جس کا ایجاب پہلے ہوچکا ہو اس لئے امساک علی النکاح (عقد زوجیت میں رکھنے) میں اس کا اثر انداز ہونا جائز نہیں ہوگا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ قول باری ہے (ثم یعودون) حرف ثم تراخی کا مقتضی ہے۔ اب جو شخص عود کو بقاء علی النکاح پر محمول کرتا ہے وہ شوہر کو ظہار کی بات کہنے کے فوراً بعد یعنی تراخی کے بغیر لوٹنے والا قرار دیتا ہے اور یہ چیز آیت کے مقتضیٰ کے خلاف ہے۔ جو شخص عود کو ہم بستری کے پکے ارادے پر محمول کرتا ہے اس کا قول بھی بےمعنی ہے کیونکہ ظہار کے سلسلے میں شوہر کے قول کا موجب تو وطی کی تحریم ہے نہ کہ عزیمت یعنی پکے ارادے کی تحریم۔
کسی ممنوع کام کا پکا ارادہ کرلینا اگرچہ خود ممنوع ہے، پھر بھی اس عزیمت کے حکم کا تعلق وطی کے ساتھ ہوتا ہے۔ الگ سے صرف عیزیمت کا کوئی حکم نہیں ہوتا۔ نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اصول کے اندر عیزیمت کی اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ساتھ احکام کا تعلق ہوتا ہے آپ نہیں دیکھتے کہ تما عقود نیز تحریم کا عزیمت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اس لئے صرف عزیمت کا کوئی اعتبار نہیں۔
حضور ﷺ کا ارشاد بھی ہے (ان اللہ عفا الامتی عما حدثت بہ انفسھا ما لم یکلموابہ اویعملوبہ۔ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان تمام خیالات اور وسوسوں کو معاف کردیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں جب تک وہ ان خیالات و وساوس کو الفاظ کا جامہ نہ پہنادیں یا عمل سے ان کا اظہار نہ کردیں)
اگر یہ کہا جائے کہ عودکو قول کے دو مرتبہ اعادے پر کیوں نہیں محمول کیا جاتا کیونکہ آیت کے الفاظ میں اس تعبیر کی گنجائش موجود ہے جس طرح یہ قول باری ہے (ولوردوا لعادوا لما نھوا عنہ اور اگر انہیں (دنیا میں) لوٹا دیا جاتا تو یہ لوگ پلٹ کر پھر وہی کام کرتے جس سے انہیں روکا گیا تھا) اس کے معنی ہیں ” یہ لوگ پھر اس طرح کے کام کرتے جن سے انہیں روکا گیا تھا۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ سلف اور خلف سب کا اس پر اجماع ہے کہ آیت میں وہ معنی مراد نہیں ہیں جن کا معترض نے ذکر کیا ہے، اس بنا پر اس پول کا قائل اجماع کے دائرے سے خارج ہے۔ اس لئے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقل کے قائل آیت (ثم یعودون لمانھوا عنہ) کو ظہار کے قول اور لفظ کے دو دفعہ تکرار پر محمول کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” ثم یکررون القول مرتین (پھر وہ لوگ اس قول کو دو دفعہ دہراتے ہیں) اس طرح معترض کے قول کی بنا پر آیت میں اسیے معنی کا اثبات لازم آتا ہے جس کے آیت کے الفاظ مقتضی نہیں ہیں۔ یہ بھی جائز نہیں کہ آیت کے الفاظ کو تکرار قول کے مفہوم سے عبارت تسلیم کرلیا جائے۔
اگر معترض آیت کو اس معنی پر محمول کرے کہ ” ظہار کرنے والے اپنے پہلے قول جیسے قول کی طرف لوٹیں “ تو اس صورت میں آیت کے اندر ” لمثل القول “ (پہلے قول جیسے قول کی طرف) پوشیدہ ماننا لازم آئے گا اور یہ بات کسی دلالت کی بنا پر ہی درست ہوسکتی ہے اس لئے اس قول کا قائل اجماع کے دائرے سے خارج اور آیت کے حکم کا مخالف قرار دیا جائے گا۔
اگر یہاں یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ جب آیت کو وطی کی تحریم پر نیز اس امر پر محمول کرتے ہیں کہ وطی کی اباحت طلب کرنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے تو آپ بھی آیت کو اس کے ظاہر سے ہٹانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظہار نے جب وطی کی تحریم کو واجب کردیا تو وطی کی اباحت طلب کرنے والا شخص بعینہ وہی شخص ہوگا جس نے اپنے قول سے اسے حرام کردیا تھا اس لئے یہ کہنا جائز ہوگا اس نے جو کہا تھا اس کی طرف وہ عود کررہا ہے۔ کیونکہ وہ اس کے ذریعے بعینہ اس وطی کی اباحت طلب کررہا ہے جسے اس نے حرام کردیا تھا اور اس طرح اس نے ایجاب تحریم کی جو بات کی تھی گویا اب وہ اس کی تلافی کی طرف لوٹ رہا ہے۔
اسے ایک اور جہت سے دیکھئے، نکاح کے بعد وطی کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ اور دوسری بار وطی کا حکم بایں معنی پہلی بار وطی کے حکم کی طرح ہوتا ہے کہ ان دونوں کا استحقاق ایک ہی سبب یعنی نکاح کی بنا پر پیدا ہوا تھا۔ شوہر نے اس وطی کو ظہار کرکے حرام کردیا تھا اس لئے یہ کہنا جائز ہے کہ اس کی اباحت طلب کرنے کے لئے اس کا اقدام گویا اس وطی کی طرف عود ہے جو اس نے حرام کردیا تھا۔ اس طرح یہ مفہوم آیت کے لفظ کے مطابق ہوگیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ اگر اباحت کی طلب کفارہ کی موجب ہے تو یہ طلب یا تو عزیمت ہوگی یا وطی کے لئے اقدام یا ایقاع وطی ہوگی۔ اگر پہلی بات مراد ہوگی تو اس سے آپ پر نفس عزیمت کے ساتھ ہی وطی سے پہلے ایجاب کفارہ لازم ہوجائے گا جس طرح امام مالک (رح) اور حسن بن صالح کا قول ہے اگر اس سے ایقاع وطی مراد ہوگی تو اس صورت میں یہ بات ضروری ہوگی کہ ظہار کرنے والے کو وطی کے بعد ہی کفارہ لازم ہو جب کہ یہ بات آیت کے خلاف ہے اور یہ آپ کا مسلک بھی نہیں ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ا س سلسلے میں اصل بات وہی ہے جس کا ہم ذکر کر آئے ہیں یعنی وطی کی اباحت طلب کرنے کا اقدام ۔ اس صورت میں ظہار کرنے والے سے یہ کہا جائے گا کہ اگر تمہارا ارادہ وطی کا ہے اور تم نے جس چیز کو حرام کردیا تھا اس کی اباحت حاصل کرنے کے لئے لوٹ آئے ہو تو اب جب تک کفارہ ادا نہیں کرو گے اس وقت تک اس کے ساتھ ہم بستری نہ کرو۔
یہ اس بنا پر نہیں ہے کہ کفارہ واجب ہے بلکہ کفارہ رفع تحریم کے لئے شرط ہے ۔ جس طرح یہ قول باری ہے (فاذا اقوات القران فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ جب تم قرآن مجید پڑھو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ پڑھ لو) یعنی قرات پر استعاذہ کا مقدم کرو۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (اذا قمتم الی الصلوٰۃ فاغسلوا وجوھکم۔ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنا چہرہ دھولو) مفہوم یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے قیام کا ارادہ کرو اور تمہارا وضو نہ ہو تو نماز سے پہلے وضو کرلو۔
اسی طرح یہ ارشاد باری ہے (اذاناجیتم الرسول فقد موابین یدی نجوکم صدقۃ ، جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے قبل کچھ خیرات دے دیا کرو) یا یہ قول باری (اذا طلقتم النساء فطلقو ھن لعدتھن جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت پر طلاق دو ) مفہوم یہ ہے کہ طلاق دینے کا ارادہ کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ درج بالا وضاحتوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ظہار کفارہ واجب نہیں کرتا بلکہ وطی کی تحریم کو واجب کردیتا ہے اور یہ تحریم صرف کفارہ کے ذریعے مرتفع ہوتی ہے اس لئے اگر شوہر اس کے ساتھ ہمبستری کا ارادہ نہیں کرے گا اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ اور اگر بیوی مرجائے یا زندہ رہے تو شوہر پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی کیونکہ ظہار کا حکم یہ ہے کہ اس سے صرف تحریم کا ایجاب ہوتا ہے تاوقتیکہ وہ کفارہ ادا نہ کردے جب تک وہ کفارہ ادا نہیں کرے گا اس وقت تک اس کے ساتھ وطی کی ممانعت رہے گی۔
اگر وطی کرے گا تو ظہارہ اور کفارہ دونوں ساقط ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظہار کے حکم کو نیز ظہار کی بنا پر واجب ہونے والے کفارہ کو اس امر کے ساتھ معلق کردیا ہے کہ کفارہ کی ادائیگی وطی سے قبل کی جائے چناچہ ارشاد ہے (من قبل یتما سا) اس لئے جب مسیس واقع ہوجائے گی تو شرط فوت ہوجائے گی اور آیت کی بنا پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
اس لئے کہ ہر وہ فرض جسے کسی وقت کے اندر محدود کردیا گیا ہو یا کسی شرط پر معلق کردیا گیا ہو جب وہ قت نکل جائے گا یا شرط فوت ہوجائے گی تو اس صورت میں پہلیحکم کے تحت وہ فرض باقی نہیں رہے گا بلکہ دوسرے وقت میں اس جیسے فرض کے ایجاب کے لئے کسی اور دلالت کی ضرورت پڑجائے گی۔ جب مسیس یعنی ہم بسری کفارہ ادا کرنے سے پہلے واقع ہوجائے تو ظہار کا بھی یہی حکم ہوگا۔
تاہم حضور ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا تھا اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہم بستری کرلی تھی پھر اس نے جب آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا (استغفر اللہ ولا تعد حتی تکفر اللہ سے استغفار کرو اور جب تک کفارہ ادا نہ کرو اس وقت تک دوبارہ ہم بستری نہ کرو) اسی طرح وطی کے بعد تحریم سنت کے ذریعے واجب ہوئی۔
جو شخص ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی سے ہم بستری کرلیتا ہے اس پر کتنا کفارہ واجب ہوگا اس بارے میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حسن، جابربن زید، ابراہیم نخعی اور سعید بن المسیب کا قول ہے کہ اس پر صرف ایک کفارہ واجب ہوگا ، مجاہد، طائوس، ابن سیرین اور دوسرے حضرات کا بھی یہی قول ہے۔
حضرت عمرو ؓ بن العاص، قبیصہ بن ذئویب، زہری اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس پر دو کفارے واجب ہوں گے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہم بستری کرلی۔
یہ سن کر آپ نے اس سے فرمایا (استغفر اللہ ولا تعد حتی تکفر) آپ ﷺ نے اس پر وطی کے بعد دو کفارے واجب نہیں کیے۔
ظہار کی توقیت میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب سفیان ثوری اور امام شافعی کا قول ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ ” تم آج کے لئے مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ “ تو دن گزرنے کے ساتھ ظہار باطل ہوجائے گا۔ ابن ابی لیلیٰ ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اس کے اس قول سے ہمیشہ کے لئے ظہار واقع ہوجائے گا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظہار کی تحریم اس وقت تک رہتی ہے جب تک کفارہ ادا نہ ہوجائے اس لئے ظہار کرنے والا اگر ظہار کو ایک وقت کے اندر محدود کردے تو اس کی یہ توقیت واجب ہوجائے گی کیونکہ ظہار اگر غیر موقت ہوتا تو کفارہ ادا کرنے کے باوجود بھی تحریم ختم نہیں ہوتی جس طرح طلاق کی صورت ہے۔ اس طرح ظہار کے مشابہ ہوگیا جسے حنث ختم کردیتا ہے۔ اس لئے قسم کی توقیت کی طرح ظہار کی توقیت بھی واجب ہے، ظہار طلاق کی طرح نہیں ہوتا کیونکہ طلاق کو کوئی چیز ختم نہیں کرسکتی۔
اگر یہ کہا جائے کہ تین طلاقوں کی وجہ سے واقع ہونے والی تحریم بھی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح تک موقت ہوتی ہے۔ لیکن شوہر کی توقیت کی بنا پر وہ موقت نہیں ہوتی۔ مثلاً شوہر بیوی سے یہ کہہ دے ” انتطالق الیوم “ (تم پر آج کے دن کے لئے طلاق ہے) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ طلاق دوسرے شوہر کی وجہ سے موقت نہیں ہوتی بلکہ پہلے شوہر کی طرف سے تین طلاق ہوجانے کے بعد جب دوسرا آدمی اس سے نکاح کرلیتا ہے تو اس دوسرے شوہر کی وجہ سے پہلے شوہر کو اس کے ساتھ نکاح کی صورت میں صرف مستقبل میں طلاق دینے کی سہولت حاصل ہوجاتی ہے۔
اس کی دی ہوئی پہلی تین طلاقیں بحالہ باقی رہتی ہیں اسے صرف ان طلاقوں کے علاوہ مزید طلاقیں دینے کی سہولت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس طرح طلاق کے اندر کسی حالت میں توقیت نہیں ہوتی جبکہ ظہار لامحالہ کفارہ کی ادائیگی تک موقت ہوتا ہے۔ اس لئے شرط کے ذریعے اس کی توقیت جائز ہے۔
فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ظہار پر ایلاء داخل ہوسکتا ہے یا نہیں ہمارے اصحاب ، حسن بن صالح، سفیان ثوری (ایک روایت کے مطابق) اور اوزاعی کا قول ہے کہ ظہار کرنے والے پر ایلاء داخل نہیں ہوسکتا خواہ وہ طویل عرصے تک اپنی بیوی سے الگ رہے۔
ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ آزاد آدمی کی صورت میں اظہار پر ایلاداخل نہیں ہوسکتا البتہ اگر ظہار کرنے والا بیوی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اپنے ظہار سے واپس ہونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں اس کا ظہار پر ایلا داخل ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ غلام کا ہو تو اس کے ظہار پر ایلا داخل نہیں ہوگا۔
ابن القاسم نے امام مالک کی طرف سے کہا ہے کہ اگر ظہار کرنے والا نقصان پہنچانا چاہتا ہو تو اس صورت میں ظہار پر ایلا داخل ہوجائے گا۔ بیوی کو نقصان پہنچانے کا پتہ اس طرح چل سکتا ہے کہ شوبہ کفارہ ادا کرنے کی قدرت کے باوجود کفارہ ادا نہ کرے۔ جب اس کا پتہ چل جائے تو اسے عدالت کی طرف سے آگاہ کرایا جائے گا کہ یا توکفارہ ادا کردے یا پھر اس کی بیوی کو طلاق دے دی جائے گی جس طرح ایلاء کرنے والے کو عدالت کی طرف سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
سفیان ثوری سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایلاء ظہار پر داخل ہوجاتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظہار نہ تو طلاق سے کنایہ ہے اور نہ ہی طلاق صریح ہے۔ اس لئے ظہار کے ذریعے توقیف یعنی شرعی دلیل کے بغیر طلاق کا اثبات جائز نہیں ہوگا۔ دوسری طرف حضور ﷺ کا ارشاد ہے (امن ادخل فی امرنا مالیس منہ فھورد، جو شخص ہمارے امر یعنی دین میں کوئی ایسی چیز داخل کرے گا جس کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو تو اسے ٹھکرا دیا جائے گا۔ )
اب جو شخص ظہار کرنے والے پر ایلاء داخل کرتا ہے وہ اس پر ایسی چیز داخل کرتا ہے جس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ایلاء کرنے والے پر نصاً یہ حکم عائد کردیا ہے کہ وہ یا تو رجوع کرلے یا طلاق کا پکا ارادہ کرلے جبکہ ظہار کرنے والے پر ہم بستری سے قبل کفارہ کے ایجاب کا نصاً حکم عائد کیا ہے اس طرح ایلاء کرنے والے اور ظہار کرنے والے کا حکم الگ الگ منصوص ہے اس لئے ایک کو دوسرے پر محمول کرنا جائز نہیں ہوگا۔
کیونکہ منصوصات کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ ان میں سے بعض کو بعض پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور بہ منصوص حکم اپنے دائرے کے اندر جاری رہتا ہے اور اسے صرف اس کے معنی پر محمول کیا جاتا ہے کسی اور کے معنی پر محمول نہیں کیا جاتا۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ ایلا کے معنی مدت کے اندر ہم بستری کی صورت میں حنث کے وقوع اور کفارہ کے وجوب کے ہیں۔ جبکہ ہم بستری کے ساتھ کفارہ ظہار کا تعلق نہیں ہوتا۔
اس لئے ظہار نہ تو ایلا کے معنی میں ہے اور نہ ہی اس کے حکم میں نیزایلاء کرنے والا خواہ بیوی کو نقصان پہنچانے کا قصد کرے یا قصد نہ کرے دونوں صورتوں میں اس کے حکم کے اندر کوئی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جبکہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ظہار کرنے والا ظہار کے ذریعے بیوی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کرے تو مدت گزر جانے کے بعد اسے ایلاء کا حکم لازم نہیں ہوگا۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ظہار کرنے والا اگر نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو بھی اسے ایلاء کا حکم لازم نہ ہو۔
اگر یہ کہا جائے کہ نقصان پہنچانے کے ارادے کا ایلاء کے اندر اس لئے اعتبار نہیں کیا گیا کہ نفس ایلا نقصان پہنچانے کے قصد کی خبر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ دراصل مدت کے اندر ہم بستری سے باز رہنے کی قسم ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظہار میں بھی نقصان پہنچانے کا قصد ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی کفارہ کی ادائیگی بیوی کے ساتھ ہم بستری کی تحریم ہوتی ہے۔ اس لئے جہاں تک نقصان پہنچانے کے قصد کا تعلق ہے ان دونوں کے مقتضیٰ میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
لونڈی سے ظہار کرنے کے مسئلے میں سلف کے مابین اور ان کے بعد آنے والے فقہاء امصار کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ عبدالکریم نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” جو شخص چاہے میں اس کے ساتھ اس امر پر مباہلہ کرنے کو تیار ہوں کہ لونڈی سے ظہار نہیں ہوتا۔
ابراہیم ، شعبی اور سعید المسیب کا یہی قول ہے اور امام شافعی نیز ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جبیر، نخعی، عطاء، طائوس اور سلیمان بن یسار سے مروی ہے کہ لونڈی سے ظہار ہوتا ہے۔ امام مالک ، سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد اور حسن بن صالح کا یہی قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے ظہار کرنے کی طرح اپنی لونڈی سے بھی ظہار کرسکتا ہے۔
حسن کا قول ہے کہ اگر ایک شخص اپنی لونڈی سے ہم بستری کرتا ہو تو وہ ظہار کرنے والا بن سکتا ہے اگر ہم بستری نہ کرتا ہو تو ظہار نہیں ہوگا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری ہے (والذین یظاھرون من نسآء ھم) اس لفظ کا مصداق آزاد عورتیں ہیں لونڈیاں نہیں ہیں۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے (اونسآء ھن اوما ملکت ایمانھن) قول باری (او نسآء ھن) کا مفہوم آزاد عورتیں ہیں۔ کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس پر (او ما ملکت ایمانھن) کا عطف درست نہ ہوتا کیونکہ ایک چیز کا اس کی اپنی ذات پر عطف درست نہیں ہوتا۔
قول باری ہے (وامھات نساء کم اور تمہاری عورتیں کی مائیں) اس کا اطلاق بیویوں پر ہوتا ہے۔ لونڈیوں پر نہیں ہوتا۔ جب ظہار کا حکم آیت سے ماخوذ ہے اور آیت کا مقتضیٰ بیویوں تک محدود ہے، اس میں لونڈیاں داخل نہیں ہیں تو پھر لونڈیوں کے سلسلے میں ظہار کا ایجاب درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ جن عورتوں کے بارے میں ظہار کا حکم واردہوا ہے ان کے سوا دوسری عورتوں پر اس کے اثبات کے لئے قیاس کو کوئی دخل نہیں ہے۔
اسے ایک اور جہت سے دیکھئے ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ لوگ ظہار کے لفظ سے طلاق دے دیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس طلاق کو ایسی تحریم سے بدل دیا جسے کفارہ رفع کردیتا ہے اس لئے جب لونڈی کو طلاق دینا درست نہیں ہوتا اس سے ظہار کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
ایک اور جہت سے بھی اس پر نظر ڈالیے۔ وہ یہ کہ ظہار قول کی جہت سے ایسی تحریم کا موجب ہے جس کی بنا پر کفارہ واجب ہوجاتا ہے۔ جبکہ قول کی جہت سے لونڈی کی تحریم درست نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کی مشابہت ان تمام مملوکہ چیزوں مثلاً اشیائے خوردنی اور مشروبات کے ساتھ ہوگئی جنہیں اگر کوئی شخص قول کے ذریعے حرام کردے تو وہ حرام نہیں ہوتیں۔
آپ نہیں دیکھتے کہ ایک شخص اگر اپنے اوپر کوئی طعام یا مشروب حرام کرلیتا ہے تو وہ اس پر حرام نہیں ہوتا صرف اسے کھا لینے یا پی لینے کی صورت میں اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوجاتا ہے۔ ملک یمین یعنی لونڈیوں کی بھی یہی صورت ہے۔ یعنی آقا اگر اپنی لونڈی سے ظہار کرتا ہے تو اس ظہار کا درست نہ ہونا واجب ہے کیونکہ قول کی جہت سے اس کی تحریم درست نہیں ہوتی۔
ماں کے بغیر کسی اور عورت کے ذریعے ظہار کا حکم
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ ” تم مجھ پر میری ہمشیرہ یا میری کسی محرم خاتون کی پشت کی طرح ہو۔ “ تو آیا یہ ظہار ہوگا یا نہیں۔ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ یہ ظہار ہوگا۔ اگر وہ یہ کہے تم مجھ پر فلاں عورت کی پشت کی طرح ہو۔ “ اور وہ فلاں عورت شوہر کی محرم رشتہ دار نہ ہو تو اس صورت میں ظہار نہیں ہوگا۔
سفیان ثوری، حسن بن صالح اور اوزاعی کا یہی قول ہے۔ امام مالک اور عثمان البتی کا قول ہے کہ ظہار محرم اور اجنبی دونوں عورتوں کے ذریعے درست ہے۔ اس بارے میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔
ایک قول تو یہ ہے کہ ظہار صرف ماں کے لفظ سے درست ہوتا ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ محرم عورتوں کے ذریعے بھی یہ درست ہوتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جب ماں کے لفظ سے ظہار درست ہوتا ہے اور محرم عورتیں تحریم نکاح میں ماں کی طرح ہوتی ہیں اس لئے ان کے ذریعے بھی ظہار درست ہونا واجب ہے۔ کیونکہ تحریم کی جہت سے ماں اور دوسری محرم خواتین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
آپ نہیں دیکھتے کہ رضاعی ماں کے ذریعے بھی ظہار درست ہوتا ہے حالانکہ اس کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ داری نہیں ہوتی۔ ظہار کے درست ہونے کی وجہ تحریم نکاح ہے جو رضاعی ماں میں موجود ہوتی ہے اسی طرح تمام محرم خواتین میں بھی یہی سبب یعنی تحریم موجود ہوتا ہے۔ جابر بن زید، حسن، ابراہیم اور عطاء سے ہمارے اصحاب کے قول کی طرح روایت منقول ہے۔
شعبی کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خالائوں کا ذکر کرنا بھول نہیں گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ظہار صرف ماں کے لفظ سے ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے (و الذین یظاھرون من نساء ھم)
ظاہر آیت ہر محرم عورت کے ذریعے ظہار کا مقتضی ہے کیونکہ آیت میں دوسری محرم خواتین کو نظر انداز کرکے صرف ماں کی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔ اس لئے جو شخص ظہار کا دائرہ صرف ماں کے لفظ تک محدود رکھے گا وہ کسی دلیل کے بغیر آیت کی تخصیص کردے گا۔
اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا (ما ھن امھا تھم ان امھا تھم الا الائی ولدنھم۔ یہ ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے) تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ ماں کے لفظ کے ساتھ ظہار مراد ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ مائوں کا صرف اس لئے ذکر ہوا کہ آیت کا سلسلہ بیان ان پر مشتمل تھا لیکن اس قول باری (والذین یظاھرون من نساء ھم) کے ان تمام محرم خواتین کے لئے عموم بن جانے کی نفی نہیں ہوتی جن کی پشت کے ساتھ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو تشبیہ دے رہا ہو نیز یہ قول باری خود تمام محرم خواتین کے ذریعے ظہار کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔
اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کو بیان کردیا جس کی بنا پر ظہار کا حکم لازم کیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوا (ما ھن امھاتھم ان امھاتھم الا الائی ولدنھم لیقولون منکرا من القول وزورا) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس نے لوگوں پر یہ حکم اس لئے لازم کیا کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بنتی ہیں اور ان کی یہ بات انتہائی نامعقول اور جھوٹ ہے۔
یہ چیز اس امر کی مقتضی ہے کہ ظہار کے اندر تمام محرم خواتین کے ذریعے اس حکم کا ایجاب ہوجائے۔ کیونکہ ایک شخص جب کسی اجنبی عورت کے نام سے ظہار کرے گا تو وہ نہ اس کی بہت بنے گی اور نہ ہی محرم رشتہ دار۔ اس کی یہ بات نامعقول اور جھوٹ اس لئے ہے کہ وہ اپنی بیوی کے بضع کا مالک ہوتا ہے یعنی وہ اس سے جنسی تلذذ حاصل کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے، بیوی اس کے لئے مباح ہوتی ہے جس کہ اس کی محرم خواتین ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوتی ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا وضاحت سے آپ پر یہ لازم آتا ہے کہ اجنبی عورت کے ذریعہ ظہار کا ایجاب کردیں۔ کیونکہ آیت میں عموم ہے نیز آیت کا مضمون تمام محرم خواتین کے ذریعے ظہار کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آیت نے محرم اور اجنبی عورتوں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے نیز اپنی بیوی کو اجنبی عورت کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بھی تو ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات لازم نہیں ہے۔ کیونکہ اجنبی عورت اس کے لئے کسی نہ کسی حال میں حلال ہوتی ہے اس لئے اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ ” تم مجھ پر اجنبی عورت کی پشت کی طرح ہو۔ “ تمام اوقات کے لئے تحریم کو لازم نہیں کرتا کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ اجنبی عورت کے بضع کا مالک بن جائے اس صورت میں وہ اجنبی عورت اس کی بیوی کی طرح اور اس کے حکم میں ہوجائے گی۔
نیز اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ چیزوں اور اموال کے ذریعے تحریم درست نہیں۔ مثلاً بیوی سے یہ کہے تم مجھ پر فلاں شخص کے سامان یا فلاں شخص کے مال کی طرح ہو۔ “ اس لئے کہ شوہر کبھی اس مال کا مالک بھی بن سکتا ہے اور اسے اپنے لئے مباح کرسکتا ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے لیکن ظہار میں پشت کا ذکر نہیں کرتا بلکہ کسی اور عضو کا ذکر کرتا ہے ۔ آیا یہ ظہار درست ہے یا نہیں، اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر وہ کہے ” تم مجھ پر میری ماں کے ہاتھ یا سر کی طرح ہو۔ “ یا کسی ایسے عضو کا نام لے جس پر نظر ڈالنا حلال ہو تو ایسی صورت میں اس کا ظہار درست نہیں ہوگا۔ لیکن اگر پیٹ یاران وغیرہ کا ذکر کرے تو ظہار ہوجائے گا کیونکہ ان اعضاء پر پشت کی طرح نظر ڈالنا حلال نہیں ہوتا۔
ابن القاسم کا قول ہے کہ امام مالک نے یہ قیاس کیا ہے کہ ماں کے ہر عضو کے ذریعہ ظہار درست ہوجائے گا ۔ سفیان ثوری اور امام شافعی کا قول ہے کہ اگر وہ کہے ” تم مجھ پر میری ماں کے ہاتھ یا سر کی طرح ہو “ تو ظہار ہوجائے گا کیونکہ ان اعضاء سے تلذذ کا حصول حرام ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ظہار کے حکم کو نصاً بیان کردیا ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہے ” تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو “ پشت پر نظر ڈالنا مباح نہیں ہوتا اس سے یہ ضروری ہوگیا وہ تمام اعضاء بھی پشت کے حکم میں ہوجائیں جن پر نظر ڈالنے کی اباحت نہیں ہے۔ رہ گئے وہ اعضاء جن پر نظر ڈالنے کی اباحت ہے…تو آیت میں یہ دلالت موجود نہیں ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو ان اعضاء کے ساتھ تشبیہ دے تو وہ اس پر حرام ہوجائے گی کیونکہ ماں کے ساتھ مطلقاً تشبیہ دینے کی بنا پر تحریم واقع نہیں ہوتی۔ اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ ان اعضا کے ساتھ تشبیہ کی صورت میں ظہار درست نہ ہو کیونکہ ظہار تو تحریم کا موجب ہوتا ہے۔
نیز جب ان اعضاء پر نظر ڈالنا اس کے لئے جائز ہے تو ان کی مشابہت ان تمام اشیاء کے ساتھ ہوگئی جن پر نظر ڈالنا مباح اور جائز ہوتا ہے مثلاً اموال اور مملوکہ اشیاء۔
ظہار کی وجہ سے بیوی کی حرمت کس چیز کے اندر ہوجاتی ہے۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ حسن کا قول ہے کہ ظہار کرنے والااپنی بیوی کے فرج سے بچ کر ہم بستری کرسکتا ہے ۔ عطاء کا قول ہے کہ اس کے ساتھ بوس وکنار جائز ہے اس لئے کہ قول باری ہے (من قبل ان یتماسا)
زہری اور قتادہ کا قول ہے کہ اس قول باری سے نفس جماع مراد ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ظہار کرنے والا جب تک کفارہ ادا نہ کردے اس وقت تک نہ وہ اپنی بیوی کے قریب جاسکتا ہے نہ اسے ہاتھ لگا سکتا ہے نہ بوس وکنار کرسکتا ہے اور نہ ہی شہوت کے تحت اس کی شرمگاہ پر نظر ڈال سکتا ہے۔ امام مالک کا بھی یہی قول ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کفارہ ادا کرنے تک وہ اس کے بالوں اور سینہ پر بھی نظر نہیں ڈال سکتا۔ کیونکہ یہ بات اسے بھلائی کی طرف آمادہ نہیں کرے گی۔ سفیان ثوری کا قول ہے کہ فرج سے بچ کر وہ اس کے ساتھ ہم بستری کرسکتا ہے البتہ جماع کرنے کی ممانعت ہے۔ اوزاعی کا قول ہے کہ حائضہ عورت کی طرح ازار سے اوپر اوپر کی حلت ہے۔
امام شافعی کا قول ہے کہ بوس وکنار اور تلذذ کے حصول سے احتیاطاً ممانعت ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جب ارشاد باری ہے (من قبل ان یتما سا) تو یہ مسیس کی تمام صورتوں کی ممانعت کے لئے عموم ہوگا خواہ یہ ملس بالید ہو یا اس کے سوا کوئی اور صورت ہو۔ نیز جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (والذین یظاھرون من نساء ھم) اور ماں کی پشت کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دینے کی وجہ سے شوہر پر تحریم کا حکم لازم کردیا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ یہ تحریم مباشرت یعنی بوس وکنار لمس اور جماع سب کو عام ہوجائے جس طرح ماں کی پشت کا ملس، بوسہ وغیرہ بیٹے پر حرام ہے۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے ، انہیں زیادہ بن ایوب نے، انہیں اسماعیل نے انہیں الحکم بن ابان نے عکرمہ سے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرلی اور حضور ﷺ کے پاس آکر سارا واقعہ بتادیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ جب تک کفارہ ادا نہ کرو بیوی سے دور رہو۔ اس حدیث کو معمر نے الحکم بن ابان سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے۔ اس کے الفاظ ہیں :” جب تک کفارہ ادا نہ کردو اس کے قریب نہ جائو۔ “ یہ بات ہم بستری بوس وکنار اور ملس وغیرہ کے لئے مانع ہے۔
بیوی کا اپنے شوہر سے ظہار کرلینے کا بیان
ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر سے ظہار کرنا درست نہیں ہے۔ امام مالک، سفیان ثوری ، لیث اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، طحاوی نے ابن ابی عمران سے، انہوں نے علی بن صالح سے اور انہوں نے حسن بن زیادہ سے روایت کی ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر سے کہے کہ ” تم مجھ پر میری ماں یا میری بہن کی پشت کی طرح ہو۔ “ تو بیوی اپنے شوہر سے ظہار کرنے والی قرار پائے گی۔
علی کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن الحسن سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ بیوی پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں امام ابویوسف کے پاس آیا اور ان دونوں حضرات کا قول ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے فرمایا کہ یہ دونوں بزرگ علم فقہ کے شیوخ ہیں تاہم ان سے غلطی ہوگئی ہے۔
عورت کا اس طرح کہنا تحریم کا موجب ہے اور عورت پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا جس طرح اس کا یہ قول ہے جو وہ اپنے شوہر سے کہتی ہے ” تم مجھ پر حرام ہو۔ “ اوزاعی نے کہا ہے کہ عورت کا یہ قول یمین ہے جس کا وہ کفارہ ادا کرے گی ۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ عورت ایک گردن آزاد کرے گی اور ظہار کا کفارہ دے گی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے بلکہ قسم کا کفارہ اداکرے تو ہمیں امید ہے کہ یہی کفارہ اس کے لئے کافی ہوجائے گا۔
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ مصعب بن الزبیرنے عائشہ بنت طلحہ کو پیغام نکاح بھیجا، عائشہ نے پیغام سن کر کہا کہ اگر میں ان سے نکاح کرلوں تو وہ مجھ پر میرے باپ کی پشت کی طرح ہوں گے۔ لیکن جب مصعب کو گورنری مل گئی تو انہوں نے پھر پیغام نکاح بھیجا۔ عائشہ نے پیغام بھیج کر مسئلہ پوچھا۔ اس وقت مدینہ منورہ میں فقہاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ان حضرات نے یہ فتویٰ دیا کہ ایک گردن آزاد کرنے کے بعد وہ ان سے نکاح کرسکتی ہیں۔
ابراہیم نے اس سلسلے میں یہ کہا ہے کہ عائشہ نے جب یہ بات کہی تھی اگر اس وقت وہ کسی کے عقد زوجیت میں ہوتیں تو ان پر گردن آزاد کرنا لازم نہ ہوتا یعنی اپنے شوہر سے ان کا ظہار درست نہ ہوتا۔ لیکن جب انہوں نے یہ بات کہی تھی اس وقت وہ اپنی ذات کی مالک اور خود مختار تھیں یعنی کسی کی زوجیت میں نہیں تھیں۔
اوزاعی سے مروی ہے کہ اگر عورت یہ کہے۔ ” میں اگر فلاں مرد سے نکاح کرلوں تو وہ مجھ پر میرے باپ کی پشت کی طرح ہوگا۔ “ تو وہ ظہار کرنے والی قرار دی جائے گی۔ اگر وہ یہ بات کسی کی زوجیت میں ہوتے ہوئے کہتی تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوتا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ درج بالا صورت میں عورت پر قسم کا کفارہ لازم ہونا جائز نہیں ہے کیونکہ مرد پر جو ظہار میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے، اس قول کی بنا پر قسم کا کفارہ لازم نہیں ہوتا تو عورت پر کس طرح لازم ہوگا۔ جس طرح مرد کا یہ کہنا کہ ” انت طالق “ طلاق کے سوا اور کسی مفہوم پر دلالت نہیں کرتا۔ اسی طرح عورت کے ظہار سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں آتی۔
بلکہ ان الفاظ کے ذریعہ عورت کا اظہار درست بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ ظہار قول کے ذریعے تحریم کا موجب ہوتا ہے جب کہ عورت اس تحریم کی مالک نہیں ہوتی جس طرح وہ طلاق کی مالک نہیں ہوتی۔ کیونکہ طلاق اس تحریم کے لئے موضوع ہے جو قول کے ذریعے واقع ہوتی ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تم مجھ پر میرے باپ کی پشت کی طرح ہو۔ “ تو آیا ظہار ہوگا یا نہیں۔ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب، اوزاعی اور امام شافعی کا قول ہے کہ یہ ایک بےمعنی فقرہ ہے۔ جبکہ امام مالک کا قول ہے کہ اس فقرے کا قائل ظہار کرنے والا قرار دیا جائے گا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ظہار کا حکم اس شخص پر لگایا ہے جو اپنی بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے یا اپنی کسی محرم خاتون کی پشت کے مشابہ قرار دے جس پر نظر ڈالنا اس کے لئے کسی بھی حال میں جائز نہیں ہوتا۔ جبکہ باپ کی پشت پر نظر ڈالنا اس کے لئے جائز ہوتا ہے اور اس معاملے میں باپ اور اجنبی شخص دونوں کی حیثیت یکساں ہوتی ہے۔
اگر شوہر یہ کہتا کہ ” تم مجھ پر اجنبی شخص کی پشت کی طرح ہو۔ “ تو اس کا یہ کہنا ایک بےمعنی سی بات ہوتی اسی طرح باپ کی پشت کے ساتھ تشبیہ بھی ایک بےمعنی سی بات ہے۔
اگر شوہر اپنی بیوی سے کئی مرتبہ ظہار کرے تو اس کے کفارہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب اور امام شافعی کا قول ہے کہ اس پر ظہار کے بدلے ایک کفارہ لازم ہوگا۔ البتہ اگر اس نے ایک ہی مجلس میں ظہار کیا ہو اور صرف تکرار کا ارادہ ہو تو اس صورت میں ایک کفارہ لازم ہوگا امام مالک کا قول ہے کہ اگر شوہر نے کئی نشستوں میں بیوی سے ظہار کیا ہو تو اس پر صرف ایک کفارہ لازم آئے گا۔ اگر ظہار کرنے کے بعد کفارہ ادا کردے اور پھر ظہار کرلے تو اس پر پھر کفارہ لازم ہوگا۔
اوزاعی کا قول ہے کہ اس پر ایک کفارہ واجب ہوگا خواہ اس نے متعدد نشستوں میں ظہار کیا ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظہار جب ایسی تحریم کا سبب ہوتا ہے جو کفارہ سے رفع ہوتی ہے تو اس اصل پر ہر ظہار کے بارے میں ایک کفارہ واجب ہونا چاہیے تاہم فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اگر وہ ایک ہی نشست میں ظہار کے الفاظ کئی مرتبہ کہے اور اس کا مقصد صرف ان الفاظ کی تکرار ہو تو اس پر صرف ایک کفارہ واجب ہوگا کیونکہ الفاظ میں اس تکرار کا احتمال موجود ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (والذین یظاھرون من نساء ھم) صرف ایک کفارہ کے ایجاب کا مقتضی ہے۔ خواہ شوہر نے ظہار کے الفاظ کئی مرتبہ کیوں نہ کہے ہوں۔ کیونکہ آیت کے الفاظ صرف صرف ایک مرتبہ ظہار کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ ان میں کئی مرتبہ کا ظہار بھی داخل ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ رفع تحریم کے سلسلے میں کفارہ کا تعلق جب لفظ کی حرمت سے ہوتا ہے تو اس کی مشابہت قسم کے ساتھ ہوجاتی ہے اور قسم کا مسئلہ یہ ہے کہ جتنی بار ایک شخص قسم کھائے گا قسم توڑنے کی صورت میں اس پر اتنی بار کفارہ لازم آئے گا۔
اس سلسلے میں قول باری (فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے) اس امر کا موجب نہیں ہے کہ متعدد بار قسموں کی صورت میں صرف ایک کفارہ پر اختصار کیا جائے۔
آیا ظہار کرنے والے کو کفارہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا ! اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔
ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ بیوی کے لئے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ شوہر کو کفارہ ادا کیے بغیر اپنے قریب آنے دے۔ طحاوی نے عباد بن العوام سے اور انہوں نے سفیان بن حسین سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حسن اور ابن سیرین سے اس شخص کے متعلق مسئلہ پوچھا تھا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا تھا اور پھر سستی کی بنا پر کفارہ ادا نہیں کیا تھا، انہوں نے کہا کہ عورت شوہر کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے امام ابوحنیفہ سے یہی مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ عورت شوہر کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرے گی۔
امام مالک کا قول ہے کہ عورت پر لازم ہے کہ وہ شوہر کو اپنے سے دور رکھے۔ امام المسلمین ان دونوں کے درمیان حائل ہوجائے گا۔ امام شافعی کا قول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ شوہر کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے گا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ شوہر کو بیوی کے ساتھ ہم بستری کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر وہ انکار کرے تو بیوی اس کی پٹائی کرے گی۔ ہشام نے اس کی روایت کی ہے۔
یہ روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ظہار کرنے والے شوہر کو کفارہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا تاکہ بیوی کہ ہم بستری کا جو حق حاصل ہے شوہر اس حق کی ادائیگی کردے۔
ظہار کے کفارہ میں اگر کافر گردن آزاد کردی جائے تو آیا کفارہ ادا ہوجائے گا اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ عطاء، مجاہد، ابراہیم اور حسن (ایک روایت کے مطابق) کا قول ہے کہ کافر غلام آزاد کردینا بھی کافی ہوگا۔ ہمارے اصحاب ، سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا بھی یہی قول ہے۔ البتہ حسن سے ایک روایت منقول ہے کہ کفارات میں مومن گردن آزاد کرنا ضروری ہے اس کے بغیر کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
امام مالک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر قول باری (فتحریر رقبۃ) کافر گردن کے جواز کا مقتضی ہے۔ اسی طرح ظہار کرنے والے حضور ﷺ کا ارشاد (اعتق رقبۃ۔ ایک گردن آزاد کردو) بھی اسی امر کا مقتضی ہے کیونکہ آپ نے ایمان کی شرط نہیں لگائی تھی۔
کفارہ ظہار کو کفارہ قتل پر قیاس کرنا درست نہیں ہے کیونکہ منصوص احکامات کو ایک دوسرے پر قیاس کرنے کا جواز ممتنع ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے نص پر اضافہ لازم آتا ہے جو ہمارے نزدیک نسخ کا موجب ہوتا ہے۔
اگر خدمت کے لئے رقبہ موجود ہو تو اس صورت میں روزے کے جواز کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ظہار کرنے والے کے پاس اگر خدمت کے لئے غلام یا لونڈی موجود ہو اور اس کے سوا اس کے پاس اور کچھ نہ ہو یا اس کے پاس ایک گردن خریدنے کے لئے پیسے موجود ہوں اور اس کے سوا اس کے پاس اور پیسے نہ ہوں تو اس صورت میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہوگا اور اس سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
امام مالک ، سفیان ثوری اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے۔ لیث بن سعد اور امام شافعی کا قول ہے کہ اگر اس کی خدمت کے لئے ایک غلام موجود ہو اور اس کے سوا اس کے پاس اور کچھ نہ ہو تو اس صورت میں اس کے لئے روزہ رکھنا جائز ہوگا۔ ارشاد باری ہے (فتحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین ایک گردن آزاد کرنا ہے جسے یہ میسر نہ ہو اسے دو مہینے مسلسل روزہ رکھنا ہوگا)
اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں گردن میسر ہونے کی صورت میں اس پر گردن آزاد کرنا واجب کردیا۔ اور گردن میسر نہ ہونے کی صورت میں کفارہ کو روزہ کی طرف منتقل کردیا۔ جب درج بالا صورت میں ظہار کرنے والے کو گردن میسر ہے تو اس کے لئے اس کے سوا اور کسی چیز کا جواز نہیں ہوگا۔
اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا صورت میں ظہار کرنے والے کی حیثیت اس شخص کی طرح ہے جس کے پاس پانی موجود ہو لیکن اسے پیاس کا خطرہ ہو تو اس وقت اس کے لئے تیمم کرنا جائز ہوجاتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ پیاس کے خطرے کی صورت میں وہ شخص پانی کو بچا لینے کا پابند ہوتا ہے اور پانی کا استعمال اس کے لئے ممنوع ہوتا ہے۔
لیکن سب کے نزدیک ظہار کی درج بالا صورت میں اس گردن کو آزاد کردینا ممنوع نہیں ہوتا۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ مذکورہ صورت میں ظہار کرنے والے کو کفارہ میں آزاد کرنے کے لئے گردن میسر ہوتی ہے۔
کفارہ ظاہر میں ام ولد، مدبر اور مکاتب وغیرہ کو آزاد کرنے کے بارے اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ام ولد، مدبر اور مکاتب کو اگر اس نے کتابت کی کچھ رقم ادا کردی ہو آزاد کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر مکاتب نے کوئی رقم ادا نہ کی ہو تو اسے آزاد کیا جاسکتا ہے۔ اگر ظہار کرنے والے نے اپنے باپ کو کفارہ میں آزاد کرنے کی نیت سے خرید لیا ہو تو یہ جائز ہے۔ اسی طرح دوسرے تمام محرموں کا مسئلہ ہے۔ اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ ” جو غلام بھی میں خریدوں گا وہ آزاد ہوجائے گا۔ “
پھر کفارہ میں آزاد کرنے کی نیت سے کوئی غلام خریدلے گا تو اس کی آزادی سے کفارہ کی ادائیگی نہیں ہوگی۔
زفر کا قول ہے کہ مکاتب کو کفارہ میں آزاد کرنا کافی نہیں ہوگا خواہ اس نے کتابت کی رقم ادا نہ بھی کی ہو۔ امام مالک کا قول ہے کہ مکاتب، مدبر اور ام ولد کو آزاد کرنے سے کفارہ کی ادائیگی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اس غلام کی آزادی سے بھی کفارہ کی ادائیگی نہیں ہوگی جسے چندسالوں تک آزادی ملنے والی ہو۔ اسی طرح بیٹے یا باپ کو آزاد کرنے کی صورت ہے۔ اوزاعی کا قول ہے کہ مکاتب، مدبر اور ام ولد کو آزاد کرنے سے کفارہ ظہار کی ادائیگی نہیں ہوگی۔
عثمان البتی کا قول ہے کہ کفارہ ظہار اور کفارہ یمین میں مدبر اور ام ولد کو آزاد کردینا جائز ہے لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر ظہار کرنے والا اپنے باپ کو خرید کر کفارہ میں آزاد کردے تو اس کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ ایسے شخص کو آزاد کرنے سے کفارہ ظہار ادا نہیں ہوگا جس کی خریداری ہوتے ہی وہ خریدار پر آزاد ہوجاتا ہے۔
البتہ مدبر کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہوجائے گا مکاتب نے اگرچہ کتابت کی کوئی رقم ادا نہ بھی کی ہو اسے آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا، یہی مسئلہ ام ولد کا ہے البتہ ایسے غلام کو آزاد کردینے سے کفارہ ادا ہوجائے گا جسے چند سالوں تک آزادی ملنے والی ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ام ولد اور مدبر (ایسا غلام جسے اس کے آقا نے یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو) کو آزاد کرنے سے کفارہ ظہار ادا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں کفارہ کی جہت کے سوا دوسری جہتوں سے آزادی کے حق دار بن چکے ہوتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ان دونوں کو آزاد ہوجانے کا جو حق مل چکا ہے وہ انہیں فروخت کرنے کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے اور ان دونوں سے اس حق کو واپس لے لینا بھی درست نہیں ہوتا۔
اس لئے ظہار کرنے والے نے اگر ان دونوں کو کفارہ میں آزاد کردیا تو گویا اس نے ایسی آزادی دینے میں تعجیل سے کام لیا جس کا حق پہلے ہی ان دونوں کو حاصل ہوچکا تھا۔ یہ بات اس صورت کی طرح نہیں ہے جس میں آقا اپنے غلام سے کہہ دے کہ تم ایک ماہ ایک سال بعد آزاد ہو۔ کیونکہ آقا کے اس قول سے غلام کو کوئی ایسا حق حاصل نہیں جو اس کی فروخت کی راہ میں حائل ہوسکتا ہو۔
آپ نہیں دیکھتے کہ آقا کو اس غلام کی فروخت کی اجازت ہوتی ہے۔ مکاتب کی بیع اگرچہ جائز نہیں ہوتی لیکن عقد کتابت کو فسخ لاحق ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں مکاتب پھر سے مکمل غلام بن جاتا ہے۔ مکاتب کی بیع اسی طرح جائز نہیں ہے جس طرح بھاگے ہوئے غلام، رہن رکھے ہوئے غلام اور اجارہ پر دیے ہوئے غلام کی بیع جائز نہیں ہوتی۔
اس لئے یہ بات مکاتب کو کفارہ ظہار میں آزاد کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔ جب ظہار کرنے والا مکاتب کو کتابت کی رقم کی ادائیگی سے پہلے آزاد کردیتا ہے تو وہ گویا اس رقم کو ساقط کردیتا ہے۔ اس صورت میں وہ گویا غیر مکاتب غلام کو آزاد کرتا ہے۔ اگر مکاتب نے کچھ رقم ادا کردی ہو تو اسے آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرنے کی بنا پر اس کی ادائیگی فسخ نہیں ہوگی اس طرح اس کی آزادی کا ایک بدل آقا کو مل جائے گا اس لئے اس کی آزادی سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
لیکن اگر اپنے غلام کے باپ کو خریدتے وقت کفارہ ادا کرنے کی نیت کرلے تو کفارہ ادا ہوجائے گا کیونکہ اس کی خریداری قبول کرتا اس کے قول کے مترادف ہے کہ ” انت حر “ (تم آزاد ہو) اس کی دلیل حضور ﷺ کا وہ ارشاد ہے جس میں آپ نے فرمایا (لا یجزی ولد والدہ الان یعبدہ مملوکا فیشتریہ فیعتقہ، کوئی بیٹا اپنے کو اس کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا الا یہ کہ وہ اسے غلام پائے اور پھر اسے خرید کر آزاد کردے)
ظاہر ہے کہ اس کا مفہوم ہے ” اس کی خریداری کے ذریعے اسے آزاد کردے۔ “ اس طرح گویا آپ نے اس کی خریداری کو اس کے قول ” انت حر “ کے مترادف قرار دیا اس لئے اس کا کفارہ ادا ہوگیا۔ کیونکہ یہ چیز اس بات کے مترادف تھی کہ کوئی شخص اپنے غلام سے یہ کہتا ” انت حر “۔
کفارہ ظہار کے سلسلے میں مسکینوں کو کھانا کھلانے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب اور ثوری کا قول ہے کہ ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا جور دیا جائے گا۔ امام مالک کا قول ہے کہ مد ہشام کے حساب سے ہر ایک کو ایک مددیا جائے گا یہ حضور ﷺ کے زمانے کے مد کے حساب سے ایک تہائی کم دو مد ہے۔ گندم اسی حساب سے فی مسکین ادا کی جائے گی۔ (ایک صاع تقریباً ساڑھے تین سیر کا ہوتا ہے اور ایک مداہل عراق کے نزدیک دورطل اور اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی کا ہوتا ہے۔ ایک رطل چالیس تولے کا ہوتا ہے)
جو کا حساب یہ ہے کہ اگر یہ شہر والوں کی خوراک ہو تو اس صورت میں اس کی فی کس ادائیگی گندم کے حساب سے ہوگی۔ یہی حساب کھجور کا بھی ہے۔ اگر جو اور گندم شہر والوں کی خوراک نہ ہو تو اس صورت میں ان دونوں میں سے کوئی جنس اتنی مقدار میں ہر مسکین کو دے گا جس سے جو اور کھجور کی صورت میں اوسط دجے کی شکم سیری ہوجائے۔
امام شافعی کا قول ہے کہ ہر مسکین کو اس شہر کی خوراک کا ایک مدد دیا جائے گا خواہ وہ خوراک گندم ہو یا جو یا چاول یا کھجور یا پنیر وغیرہ، اس میں حضور ﷺ کے زمانے کے مد کا اعتبار کیا جائے گا۔ بعد میں پیدا ہونے والے مدکا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلیمان الانباری نے، انہیں ابن ادریس نے ، محمد بن اسحاق سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے سلمہ بن ضخر ؓ سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے عورتوں کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ پھر انہوں نے اپنی بیوی سے ظہار کا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی بتایا کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے انہوں نے بیوی کے ساتھ ہم بستری بھی کرلی تھی۔
پھر حضور ﷺ سے جاکر مسئلہ پوچھا۔ آپ نے انہیں ایک گردن آزاد کرنے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا ” اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث کیا ہے میں اس گردن (اپنی گردن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے سوا اور کسی گردن کا مالک نہیں۔ “ آپ نے فرمایا۔ ” پھر دو ماہ مسلسل روزے رکھو۔ “ انہوں نے عرض کیا۔ اس وقت جو غلطی مجھ سے ہوئی ہے وہ روزے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
اس پر آپ نے فرمایا ” ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ “ انہوںں نے عرض کیا ۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر مبعوث کیا ہم نے خالی پیٹ رات گزاری ہے ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا۔ بنو زریق کے صدقات کے محصل کے پاس چلے جائو، وہ تمہیں صدقات میں وصول شدہ کھجور دے دیں گے ، اس میں سے ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور بقیہ کھجور تم اور تمہارے اہل وعیال کھالیں۔ (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) ۔
اگر یہ کہا جائے کہ اسماعیل بن جعفر نے محمد بن ابی حرملہ سے اور انہوں نے عطاء بن یسار سے روایت کی ہے کہ خولہ بنت مالک بن ثعلبہ کے شوہر اوس بن الصامت نے ان سے ظہار کرلیا تھا۔ حضور ﷺ نے خولہ سے کہا کہ وہ اپنے شوہر سے کہے کہ وہ فلاں شخص کے پاس چلا جائے، اس کے پاس نصف وسق کھجور ہے۔ وہ اس سے یہ کھجور صدقہ کے طور پر لے لے اور پھر اسے ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کردے۔
عبداللہ بن ادریس نے محمد بن اسحاق سے ، انہوں نے معمر بن عبداللہ بن حنظلہ سے، انہوں نے یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اور انہوں نے خولہ سے روایت کی ہے کہ ان کے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا تھا۔ انہوں نے جب اس کا ذکر حضور ﷺ سے کیا تو آپ نے ان کے شوہر کو پندرہ صاع ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ہم نے محمد بن اسحاق کو حدیث روایت کی ہے جو انہوں نے محمد بن عمروبن عطاء سے روایت کی تھی جس میں یہ ذکر ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کا حکم دیا تھا۔ یہ روایت اولیٰ ہے کیونکہ اس میں معترض کی بیان کردہ روایت سے زائد بات بیان کی گئی ہے۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں پندرہ صاع کی تعداد اعانت کے طور پردے دی ہو۔
اس روایت میں یہ دلالت نہیں ہے کہ پندرہ صاع کفارہ کی کل مقدار تھی۔ یہ بات اسرائیل کی اس حدیث میں بیان ہوئی ہے جو انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے، انہوں نے یزید بن زید سے اس کی روایت کی ہے کہ خولہ کے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا تھا۔ حضور ﷺ نے پندرہ صاع کھجور دے کر ان کی اعانت کی تھی۔
یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے کفارہ کے ایک حصے کا انتظام اعانت کے طور پر کردیا ہو۔
یہ بات یوسف بن عبداللہ بن سلام کی روایت میں بھی بیان کردی گئی ہے۔ یحییٰ بن زکریا نے اسے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے معمر بن عبداللہ سے، انہوں نے یوسف بن عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خولہ بنت مالک بن ثعلبہ نے بتایا تھا کہ حضور ﷺ نے ظہار کا کفارہ ادا کرنے میں ان کے شوہروں کی اعانت فرمائی تھی۔
آپ نے کھجور کا ایک درخت انہیں عطا کیا اور خولہ کو ان سے حاصل ہونے والا کھجور مجموعی طور پر ساٹھ صاع یعنی ایک وسق بن گیا پھر آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اسے صدقہ کردیں۔
اگر شہار کرنے والا مسکینوں کو کھانا کھلانے سے پہلے بیوی کے ساتھ ہم بستری کرلیتا ہے تو اس کے حکم میں اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب، امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ مظاہر پر اگرمسکینوں کو کھلانا فرض ہو تو اس صورت میں جب تک انہیں کھلا نہ دے ہم بستری نہ کرے۔
زید بن ابی الزرقاء نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے کہ اگر کھلانے سے پہلے اس نے ہم بستری کا ارادہ کرلیا تو اس صورت میں گنہگار نہیں ہوگا۔ المعافی اور الا شجعی نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے کہ جب تک کھلا نہ دے اس وقت تک بیوی کے قریب نہ جائے۔ ظہار کرنے والے نے حضور ﷺ سے جب روزہ رکھنے کی عدم استطاعت کا ذکر کیا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ جب تک کفارہ ادا نہ کردو اس وقت تک بیوی کے قریب نہ جائو۔
نیز جب سب کا اس پر اتفاق ہے کہ گردن آزاد کرنے سے پہلے اس کے لئے ہم بستری ممنوع ہے تو پھر گردن آزاد کرنے کی عدم استطاعت کی صورت میں اس ممانعت کا باقی رہنا واجب ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کھلانے سے پہلے آزاد کرنے کے لئے اسے کوئی گردن میسر آجائے۔
اگر وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کرچکا ہوگا تو اس صورت میں گردن آزاد کرنے سے پہلے ہم بستری واقع ہوجائے گی۔ اس سے بچنے کے لئے ہم بستری کی ممانعت کا باقی رہنا ضروری ہے یہاں تک کہ مساکین کو کھلا کر فارغ ہوجائے۔