58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 58:8–10

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔

اہل کتاب کو کس طرح سلام کہا جائے ؟ قول باری ہے (واذا جآء ک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ ) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا۔ صحابہ کرام نے اس کے سلام کا جواب دے دیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ پتہ چلا کہ اس نے کیا کہا ہے، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس نے ہمیں سلام کہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ” اس نے سا علیکم کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ تم اپنے دین سے اکتا جائو۔ “ حضور ﷺ کے ارشاد ہے کہ ” جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس کے جواب میں ” علیک “ کہہ دیا کرو۔ “ یعنی تم نے جو کچھ کہا ہے وہ تم پر پڑے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں اسحاق بن الحسین نے، انہیں ابو حذیفہ نے، انہیں سفیان نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ جب راستے پر مشرکین سے تمہارا آمنا سامانا ہوجائے تو سلام کہنے میں تم پہل نہ کرو اور انہیں راستے کے تنگ ترین حصے کی طرف ہٹ جانے پر مجبور کردو۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے جو روایت کی ہے اس میں ذکر ہے کہ اہل کتاب السام علیکم کہہ کر یہ مراد لیتے تھے کہ مسلمان اپنے دین سے اکتا جائیں۔ یہ بھی روایت ہے کہ اس لفظ سے وہ لوگ موت مرادلیتے تھے کیونکہ یہ لفظ موت کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہشام نے امام محمد سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ ہمارے خیال میں مشرکین کو ان کے سلام کا جواب دے دیا جائے البتہ انہیں سلام کہنے میں پہل نہ کی جائے۔ امام محمد کا قول ہے کہ ہمارے عام فقہاء کی یہی رائے ہے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں معاذ بن المثنیٰ نے، انہیں عمرو بن مرذوق نے، انہیں شعبہ نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ہمراہ تھے ہمارے ساتھ کچھ دہقان یعنی چودھری قسم کے غیر مسلم بھی تھے۔ انہوں نے ہمارے راستے سے ہٹ کر ایک اور راستہ اختیار کرلیا، حضرت ابن مسعود ؓ نے انہیں سلام کہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آیا یہ بات آپ کو ناپسند نہیں ؟ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ یہ حق صحبت ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہری طور پر اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے انہیں سلام کہنے میں پہل کی تھی۔ کیونکہ سلام کا جواب دینا کسی کے نزدیک مکرو نہیں ہے۔ حضور ﷺ کا بھی ارشاد ہے کہ ” جب وہ لوگ تمہیں سلام کہیں تو تم جواب میں ” وعلیکم “ کہہ دیا کرو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ سلام میں پہل کرنا مکروہ سمجھا گیا ہے کیونکہ لفظ اسلام اہل جنت کی نحیت ہے اس لئے یہ بات پسند نہیں کی گئی ہے کہ کافر کو جو اہل جنت میں سے نہیں ہے یہ لفظ کہنے میں پہل کی جائے۔ بدلے کے طور پر سلام کے جواب میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ ارشاد باری ہے (واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن المثنی نے، انہیں عثمان نے، انہیں عبدالواحد نے، انہیں سلیمان الاعمش نے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے مسئلہ پوچھا کہ میں ایک عیسائی طبیب کے پاس آتا جاتا رہتا ہوں، آیا میں اسے سلام کروں تو ابراہیم نے جواب میں کہا :” اگر اس سے تمہیں کوئی ضرورت پیش آجائے تو سلام کہہ دیا کرو۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

آداب مجلس قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا اے ایمان والو ! جب تم سے یہ کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کردیا کرو اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا) قتادہ کہتے ہیں کہ لوگ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے چناچہ انہیں جگہ کھول دینے کا حکم دیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے قتال کی مجلس مراد ہے۔ قتادہ نے قول باری (و اذا قیل انشزوا فانشزوا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جایا کرو) کی تفسیر میں کہا ہے کہ جب تمہیں کسی کار خیر کی دعوت دی جائے تو اٹھ کھڑے ہوجایا کرو۔ ایک قول کے مطابق (انشووا) کے معنی ہیں ” مجلس میں بلند ہوجایا کرو۔ “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اہل علم کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہی لوگ رفعت اور بلندی کے زیادہ حق دار ہیں۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ اہل علم کی نشستوں کو دوسرے لوگوں کی نشستوں سے بلند رکھتے تھے تاکہ لوگوں کے سامنے آپ کے نزدیک اہل علم کی فضیلت ومنزلت واضح ہوجائے۔ حضور ﷺ کے بعد بھی اسی طریق کار کو اپنانا واجب ہے۔ اہل علم کا مرتبہ قول باری ہے (یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات، اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے جنہیں علم عطا ہوا ہے درجے بلند کردے گا) حضور ﷺ کا بھی یہی ارشاد ہے (لیلینی منکم اولوا الاحلام والنھیٰ ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم، مجھ سے وہ لوگ قریب رہیں جو تم میں سے سمجھدار اور عقلمند ہوں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب اور پھر وہ لوگ جو ان لوگوں کے قریب ہوں ) آپ نے سمجھدار اور عقلمند لوگوں کو سب سے اونچے مرتبے پر رکھا کیونکہ آپ نے انہیں وہ مرتبہ عطا کیا جو مرتبہ نبوت سے متصل تھا۔
Ayahs 58:12–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور ضورر غالب رہیں گے بیشک خدا زور آور (اور) زبردست ہے۔

حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے لئے بڑی مشقت پیدا کردی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے یہ بوجھ ہلکا کردینا چاہا۔ جب درج بالا آیت نازل ہوئی تو بہت سے لوگ مسائل پوچھنے سے باز رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے (اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات، کیا تم اس سرگوشی کرنے سے پہلے خیرات کرنے کا حکم سے ڈر گئے ؟ ) تا آخر آیت نازل فرمائی۔ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے وسعت پیدا فرمادی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت تین احکام پر دلالت کر رہی ہے۔ اول حضور ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے پہلے کچھ خیرات کرنا بشرطیکہ یہ میسر ہو۔ دوم جسشخص کو کوئی خیرات میسر نہ ہو اسے بلا خیرات سرگوشی کی اجازت ہے۔ چناچہ ارشاد ہے۔ (فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم، اگر تمہیں یہ میسر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ غفوررحیم ہے) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو صدقہ میسر نہیں تھا اس کے لئے بھی مسئلہ پوچھنا مباح تھا۔ سوم مسئلہ پوچھنے سے پہلے صدقہ کرنا واجب تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے (ء اشفقتم ان تقدمو موا بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا تاب اللہ علیکم) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ایوب سے انہوں نے مجاہد سے قول باری (اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے یہ فرمایا تھا کہ اس آیت پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا یہاں تک کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ یہ آیت صرف ایک گھڑی کے لئے تھی۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

اہل حرب سے دوستی کی ممانعت قول باری ہے (لا تجد قوما یومنون باللہ ولایوم الاخریوادون من حاد اللہ وورسولہ جو لوگ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں نہیں پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ محاورہ کے معنی یہ ہیں کہ فریقین میں سے ہر فریق ایک حد اور مقام میں ہو جو دوسرے فریق کی حد اور مقام سے الگ اور جدا ہو۔ ظاہر آیت اس امر کا مقتضی ہے کہ مذکورہ لوگوں سے اہل حرب مراد ہیں۔ کیونکہ ان کی حد الگ ہے اور ہماری حد الگ ۔ یہ بات اہلحرب سے خواہ وہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہوں شادی بیاہ کی کراہت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ مناکحت ایک دوسرے کی دوستی کی موجب ہوتی ہے۔ قول باری ہے (ومن ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ اور اسی کی نشانیوں میں ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں بنائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور اس نے تمہارے (یعنی میاں بیوی کے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کردی) ۔