58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

سن لی اللہ نے بات اس عورت کی جو جھگڑتی تھی تجھ سے اپنے خاوند کے حق میں اور جھینکتی تھی اللہ کے آگے1 اور اللہ سنتا تھا سوال و جواب تم دونوں کا بیشک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے2

1 اسلام سے پہلے مرد اگر اپنی عورت کو کہتا کہ تو میری ماں ہے تو سمجھتے تھے کہ ساری عمر کے لیے اس پر حرام ہوگئی پھر کوئی صورت ان کے ملنے کی نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ کے وقت میں ایک مسلمان (اوس بن الصامت) اپنی عورت (خولہ بنت ثعلبہ) کو یہ ہی کہہ بیٹھا۔ عورت حضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچی اور سب ماجرا کہہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی خاص حکم نہیں دیا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوگئی۔ اب تم دونوں کیونکر مل سکتے ہو۔ وہ شکوہ وزاری کرنے لگی کہ گھر ویران ہوتا ہے اولاد پریشان ہوتی ہے۔ کبھی حضور ﷺ سے جھگڑتی کہ یا رسول اللہ ! اس نے ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ کبھی اللہ کے آگے رونے جھینکنے لگتی کہ اللہ ! میں اپنی تنہائی اور مصیبت کی فریاد تجھ سے کرتی ہوں، ان بچوں کو اگر اپنے پاس رکھوں تو بھوکے مریں گے، اس کے پاس چھوڑوں تو یوں ہی (کسمپرسی میں) ضائع ہوجائیں گے۔ اے اللہ ! تو اپنے نبی کی زبان سے میری مشکل کو حل کر۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ اور " ظہار " کا حکم اترا۔ (تنبیہ) حنفیہ کے نزدیک ظہار یہ ہے کہ اپنی بیوی کو محرمات ابدیہ (ماں بہن وغیرہ) کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دے جس کی طرف دیکھنا اس کو منع ہو۔ مثلاً یوں کہے " انت علیَّ کظہْرِ اُمِّی " (تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) " ظہار " کے احکام کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے۔ 2 یعنی اللہ تو سب ہی کچھ سنتا دیکھتا ہے۔ جو گفتگو آپ ﷺ کے اور اس عورت کے درمیان ہوئی وہ کیوں نہ سنتا۔ بیشک وہ مصیبت زدہ عورت کی فریاد کو پہنچا۔ اور ہمیشہ کے لیے اس قسم کے حوادث سے عہدہ برآ ہونے کا راستہ بتلا دیا۔ جو آگے آتا ہے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں تم میں سے اپنی عورتوں کو وہ نہیں ہوجاتیں ان کی مائیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا اور وہ بولتے ہیں ایک ناپسند بات اور جھوٹی3 اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے4

3 یعنی بیوی (جس نے اس کو جنا نہیں) وہ اس کی واقعی ماں کیونکر بن سکتی ہے جو محض اتنے لفظ پر ہمیشہ کے لیے حقیقی ماں کی طرح حرام ہوجائے ؟ ہاں آدمی جب اپنی بدتمیزی سے ایک جھوٹی نامعقول اور بیہودہ بات کہہ دے اس کا بدلہ یہ ہے کہ کفارہ دے، تب اس کے پاس جائے ورنہ نہ جائے۔ پر عورت اسی کی رہی، محض ظہار سے طلاق نہیں پڑگئی۔ 4 یعنی جاہلیت میں جو ایسی حرکت کرچکے وہ معاف ہے۔ اب ہدایت آچکنے کے بعد ایسا مت کرو۔ اگر غلطی سے کر گزرے تو توبہ کر کے اللہ سے معاف کرائے۔ اور عورت کے پاس جانے سے پہلے کفارہ ادا کرو۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں اپنی عورتوں کو پھر کرنا چاہیں وہی کام جس کو کہا ہے تو آزاد کرنا چاہیے ایک بردہ پہلے اس سے کہ آپس میں ہاتھ لگائیں5 اس سے تم کو نصیحت ہوگی6 اور اللہ خبر رکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو7

5 یعنی یہ لفظ (اَنْتِ عَلیَّ کَظَہْرِ اُمِّی) کہا صحبت موقوف کرنے کو۔ پھر صحبت کرنا چاہیں تو پہلے ایک غلام آزاد کرلیں اس کے بعد ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ ( تنبیہ) حنفیہ کے ہاں کفارہ دینے سے پہلے جماع اور دواعی جماع دونوں ممنوع ہیں۔ بعض احادیث میں ہے " اَمَرَہ، اَنْ لَّا یَقْرُبَہَا حَتّٰی یُکَفِّرُ ۔ " 6 یعنی کفارہ کی مشروعیت تمہاری تنبیہ و نصیحت کے لیے ہے کہ پھر ایسی غلطی نہ کرو۔ اور دوسرے بھی باز آئیں۔ 7 یعنی تمہارے احوال کے مناسب احکام بھیجتا ہے اور خبر رکھتا ہے کہ تم کس حد تک ان پر عمل کرتے ہو۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جو کوئی نہ پائے تو روزے ہیں دو مہینے کے لگاتار8 پہلے اس سے کہ آپس میں چھوئیں پھر جو کوئی یہ نہ کرسکے تو کھانا دینا ہے ساٹھ محتاجوں کا9 یہ حکم اس واسطے کہ تابعدار ہوجاؤ اللہ کے اور اس کے رسول کے10 اور یہ حدیں باندھی ہیں اللہ کی اور منکروں کے واسطے عذاب ہے دردناک

8 یعنی بیچ میں دم نہ لے۔ 9 " بردہ " (غلام) آزاد کرنے کا مقدور نہ ہو، تب روزے رکھ سکتا ہے۔ اور روزے رکھنے سے مجبور ہو تب کھانا دے سکتا ہے۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے۔ 10 یعنی جاہلیت کی باتیں چھوڑ کر اللہ و رسول کے احکام پر چلو، جو مومن کامل کی شان ہے۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ کہ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ خوار ہوئے جیسے کہ خوار ہوئے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے اتاری ہیں آیتیں بہت صاف اور منکروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا1

1 یعنی مومنین کا کام نہیں کہ اللہ کی باندھی ہوئی حدود سے تجاوز کریں۔ باقی رہے کافر جو حدود اللہ کی پروا نہیں کرتے اور خود اپنی رائے و خواہش سے حدیں مقرر کرتے ہیں۔ انہیں چھوڑیے کہ ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔ ایسے لوگ پہلے زمانہ میں بھی ذلیل و خوار ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ اللہ کی روشن اور صاف صاف آیتیں سن لینے کے بعد انکار پر جمے رہنا اور خدائی احکام کی عزت و احترام نہ کرنا اپنے کو ذلت کے عذاب میں پھنسا نے کے مترادف ہے۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن کہ اٹھائے گا اللہ ان سب کو پھر جتلائے گا ان کو ان کے کیے کام2 اللہ نے وہ سب گن رکھے ہیں اور وہ بھول گئے، اور اللہ کے سامنے ہے ہر چیز3

2 یعنی جو کام کیے تھے ان سب کا نتیجہ سامنے آجائے گا کوئی ایک عمل بھی غالب نہ ہوگا۔ 3 یعنی ان کو اپنی عمر بھر کے بہت سے کام یاد بھی نہیں رہے، یا ان کی طرف توجہ نہیں رہی۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ سب ایک ایک کر کے محفوظ ہیں۔ وہ سارا دفتر اس دن کھول کر سامنے رکھ دیا جائے گا۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں کہیں نہیں ہوتا مشورہ تین کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چوتھا اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چھٹا اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ جہاں وہ نہیں ہوتا ان کے ساتھ جہاں کہیں ہوں4 پھر جتلا دے گا ان کو جو کچھ انہوں نے کیا قیامت کے دن، بیشک اللہ کو معلوم ہے ہر چیز

4 یعنی صرف ان کے اعمال ہی پر کیا منحصر ہے، اللہ کے علم میں تو آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز ہے۔ کوئی مجلس، کوئی سرگوشی اور کوئی خفیہ سے خفیہ مشورہ نہیں ہوتا جہاں اللہ اپنے علم محیط کے ساتھ موجود نہ ہو جہاں تین آدمی چھپ کر مشورہ کرتے ہوں نہ سمجھیں کہ وہاں کوئی چوتھا نہیں سن رہا۔ اور پانچ کی کمیٹی خیال نہ کرے کہ کوئی چھٹا سننے والا نہیں۔ خوب سمجھ لو تین ہوں یا پانچ یا اس سے کم زیادہ، کہیں ہوں، کسی حالت میں ہوں، اللہ تعالیٰ ہر جگہ اپنے علم محیط سے ان کے ساتھ ہے کسی وقت ان سے جدا نہیں۔ (تنبیہ) مشورہ میں اگر صرف دو شخص ہوں تو بصورت اختلاف ترجیح دشوار ہوتی ہے۔ اسی لیے عموماً معاملات مہمہ میں طاق عدد رکھتے ہیں۔ اور ایک کے بعد پہلا طاق عدد تین تھا پھر پانچ۔ شاید اس لیے ان دو کو اختیار فرمایا اور آگے " وَلَا اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَا اَکْثَرَ " سے تعمیم فرمادی۔ باقی حضرت عمر کا شوریٰ خلافت کو چھ بزرگوں میں دائر کرنا (حالانکہ چھ کا عدد طاق نہیں) اس لیے ہوگا کہ اس وقت یہ ہی چھ خلافت کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق تھے۔ جن میں سے کسی کو چھوڑا نہیں جاسکتا تھا۔ نیز خلیفہ کا انتخاب ان ہی چھ میں سے ہو رہا تھا تو ظاہر ہے جس کا نام آتا، اس کے سوائے رائے دینے والے تو پانچ ہی رہتے ہیں۔ پھر بھی احتیاطا حضرت عمر نے بصورت مساوات ایک جانب کی ترجیح کے لیے عبد اللہ بن عمر کا نام لے دیا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جن کو منع ہوئی کانا پھوسی پھر بھی وہی کرتے ہیں جو منع ہوچکا ہے اور کان میں باتیں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی5 اور جب آئیں تیرے پاس تجھ کو وہ دعا دیں جو دعا نہیں دی تجھ کو اللہ نے اور کہتے ہیں اپنے دل میں کیوں نہیں عذاب کرتا ہم کو اللہ اس پر جو ہم کہتے ہیں کافی ہے ان کو دوزخ داخل ہوں گے اس میں سو بری جگہ پہنچے6

5 حضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر منافق سرگوشیاں کرتے۔ مجلس والوں کا مذاق اڑاتے۔ ان پر عیب پکڑتے۔ ایک دوسرے کے کان میں اس طرح بات کہتا اور آنکھوں سے اشارے کرتا جس سے مخلص مسلمانوں کو تکلیف ہوتی۔ اور حضرت ﷺ کی بات سن کر کہتے۔ " یہ مشکل کام ہم سے کہاں ہو سکے گا۔ " پہلے سورة " نساء " میں اس طرح کی سرگوشیوں سے منع کیا جا چکا تھا۔ لیکن یہ موذی بےحیاء پھر بھی اپنی حرکتوں اور زیاد تیوں سے باز نہ آئے۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ 6 یعنی اللہ نے تو آپ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ یہ دعائیں دی ہیں۔ (وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :181) ا اور (وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى) 27 ۔ النمل :59) اور مومنین کی زبانوں سے " اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا الَّنِبُّی وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ بَرَکَاتُہ،۔ " مگر بعض یہود جب آپ کے پاس آتے تو بجائے السَّلَامُ عَلَیْکَم کے دبی زبان سے " السَّامُ عَلَیْکَ " کہتے جس کے معنی ہیں " تجھے موت آئے۔ " گویا اللہ نے جو سلامتی کی دعا، آپ کو دی تھی، اس کے خلاف بددعا دیتے تھے۔ پھر آپس میں کہتے کہ اگر یہ واقعی رسول ہے تو ایسا کہنے سے ہم پر فوراً عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب دیا۔ " حسبہم جہنم " یعنی جلدی نہ کرو۔ ایسا کافی عذاب آئے گا جس کے سامنے دوسرے عذاب کی ضرورت نہ ہوگی۔ (تنبیہ) احادیث میں " یہود " کے متعلق آیا ہے کہ ' السلام " کی جگہ " السام " کہتے تھے۔ ممکن ہے بعض منافقین بھی ایسا کہتے ہوں گے۔ کیونکہ منافق عموماً یہودی تھے۔ حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی یہودی یہ کہتا آپ جواب میں صرف " وعلیک " فرما دیتے۔ ایک مرتبہ عائشہ صدیقہ نے ' السام علیک " کے جواب میں یہودی کو " علیک السام واللعنۃ " کہا تو حضور ﷺ کو کمال خلق سے یہ جواب پسند نہ آیا۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والوں جب تم کان میں بات کرو تو مت کرو بات گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی اور بات کرو احسان کی اور پرہیزگاری کی1 اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے پاس تم کو جمع ہونا ہے2

1 یعنی سچے مسلمانوں کو منافقین کی خو سے بچنا چاہیے۔ ان کی سرگوشیاں اور مشورے ظلم وعدوان اور اللہ و رسول کی نافرمانی کے لیے نہیں، بلکہ نیکی اور تقویٰ اور معقول باتوں کی اشاعت کے لیے ہونے چاہئیں جیسا کہ سورة " نساء " میں گزرا۔ (لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۢ بَيْنَ النَّاسِ ) 4 ۔ النسآء :114) 2 یعنی سب کو اللہ کے سامنے جمع ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ اس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں۔ لہذا اس سے ڈر کر نیکی اور پرہیزگاری کی بات کرو۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

یہ جو ہے کانا پھوسی سو شیطان کا کام ہے تاکہ دل گیر کرے ایمان والوں کو اور وہ ان کا کچھ نہ بگاڑے گا بدون اللہ کے حکم کے اور اللہ پر چاہیے کہ بھروسہ کریں ایمان والے3

3 یعنی منافقین کی کانا پھوسی (سرگوشی) اس غرض سے تھی کہ ذرا مسلمان رنجیدہ اور دلگیر ہوں اور گھبرا جائیں۔ کہ نہ معلوم یہ لوگ ہماری نسبت کیا منصوبے سوچ رہے ہوں گے۔ یہ کام شیطان ان سے کرا رہا تھا۔ مگر مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس کے قبضہ میں کیا چیز ہے۔ نفع و نقصان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا حکم نہ ہو تو کتنے ہی مشورے کرلیں اور منصوبے گانٹھ لیں، تمہارا بال بیکا نہ ہوگا۔ لہذا تم کو غمگین و دل گیر ہونے کے بجائے اپنے اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (تنبیہ) احادیث میں ممانعت آئی ہے کہ مجلس میں ایک آدمی کو چھوڑ کردو شخص کانا پھوسی کرنے لگیں۔ کیونکہ وہ تیسرا غمگین ہوگا۔ یہ مسئلہ بھی ایک طرح آیہ ہذا کے تحت میں داخل ہوسکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " مجلس میں دو شخص کان میں بات کریں تو دیکھنے والے کو غم ہو کہ مجھ سے کیا حرکت ہوئی جو یہ چھپ کر کہتے ہیں۔ "
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والوجب کوئی تم کو کہے کہ کھل کر بیٹھو4 مجلسوں میں تو کھل جاؤ اللہ کشادگی دے تم کو5 اور جب کوئی کہے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو6 اللہ بلند کرے گا ان کے لیے جو کہ ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم ان کے درجے میں7 اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو8

5 یعنی اس طرح بیٹھو کہ جگہ کھل جائے اور دوسروں کو بھی موقع بیٹھنے کا ملے۔ 6 یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تنگیوں کو دور کرے گا اور اپنی رحمت کے دروازے کشادہ کر دے گا۔ 7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ آداب ہیں مجلس کے۔ کوئی آئے اور جگہ نہ پائے تو چاہیے سب تھوڑا تھوڑا ہٹیں تاکہ مکان حلقہ کا کشادہ ہوجائے۔ یا (اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں اور) پرے ہٹ کر حلقہ کرلیں۔ (یا بالکل چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جائیں) اتنی حرکت میں غرور (یا بخل) نہ کریں۔ خوئے نیک پر اللہ مہربان ہے اور خوئے بد سے بیزار۔ " (تنبیہ) حضور ﷺ پر نور کی مجلس میں ہر شخص آپ کا قرب چاہتا تھا جس سے کبھی مجلس میں تنگی پیش آتی تھی۔ حتی کہ بعض مرتبہ اکابر صحابہ کو حضور ﷺ کے قریب جگہ نہ ملتی۔ اس لیے یہ احکام دیے گئے۔ تاکہ ہر ایک کو درجہ بدرجہ استفادہ کا موقع ملے، اور نظم و ضبط قائم رہے۔ اب بھی اس قسم کی انتظامی چیزوں میں صدر مجلس کے احکام کی اطاعت کرنا چاہیے۔ اسلام ابتری اور بدنظمی نہیں سکھلاتا بلکہ انتہائی نظم و شائستگی سکھلاتا ہے۔ اور جب عام مجالس میں یہ حکم ہے تو میدان جہاد اور صفوف جنگ میں تو اس سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔ یعنی سچا ایمان اور صحیح علم انسان کو ادب و تہذیب سکھلاتا اور متواضع بناتا ہے۔ اہل علم و ایمان جس قدر کمالات و مراتب میں ترقی کرتے ہیں، اسی قدر جھکتے اور اپنے کو ناچیز سمجھتے جانتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ ان کے درجے اور زیادہ بلند کرتا ہے۔ " مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ ۔ " یہ متکبر بد دین یا جاہل گنوار کا کام ہے کہ اتنی سی بات پر لڑے کہ مجھے یہاں سے کیوں اٹھا دیا اور وہاں کیوں بٹھا دیا۔ یا مجلس سے اٹھ جانے کو کیوں کہا۔ افسوس کہ آج بہت سے بزرگ اور عالم کہلانے والے اسی خیالی اعزاز کے سلسلہ میں غیر مختتم جنگ آزمائی اور مورچہ بندی شروع کردیتے ہیں۔ " اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ " یعنی ہر ایک کو اس کے کام اور لیاقت کے موافق درجے عطا کرتا ہے اور وہ ہی جانتا ہے کہ کون واقعی ایماندار اور اہل علم ہیں۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو تم کان میں بات کہنا چاہو رسول سے تو آگے بھیجو اپنی بات کہنے سے پہلے خیرات یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور بہت ستھرا پھر اگر نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے9

9 منافق بےفائدہ باتیں حضرت ﷺ سے کان میں کرتے کہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں اور بعض مسلمان غیر مبہم باتوں میں سرگوشی کر کے اپنا وقت لے لیتے تھے کہ دوسروں کو حضور ﷺ سے مستفید ہونے کا موقع نہ ملتا تھا، یا کسی وقت آپ خلوت چاہتے تو اس میں تنگی ہوتی تھی۔ لیکن مروت و اخلاق کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ جو مقدرت والا آدمی حضور ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہے وہ اس سے پہلے کچھ خیرات کر کے آیا کرے۔ اس میں کئی فائدے ہیں۔ غریبوں کی خدمت، صدقہ کرنے والے کے نفس کا تزکیہ، مخلص و منافق کی تمیز، سرگوشی کرنے والوں کی تقلیل، وغیر ذلک۔ ہاں جس کے پاس خیرات کرنے کو کچھ نہ ہو، اس سے یہ قید معاف ہے۔ جب یہ حکم اترا منافقین نے مارے بخل کے وہ عادت چھوڑ دی اور مسلمان بھی سمجھ گئے کہ زیادہ سرگوشیاں کرنا اللہ کو پسند نہیں۔ اسی لیے یہ قید لگائی گئی ہے۔ آخر یہ حکم اگلی آیت سے منسوخ فرما دیا۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم ڈر گئے کہ آگے بھیجا کرو کان کی بات سے پہلے خیراتیں سو جب تم نے نہ کیا اور اللہ نے معاف کردیا تم کو تو اب قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو اللہ کے اور اس کے رسول کے اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو1

1 یعنی صدقہ کا حکم دینے سے جو مقصد تھا، حاصل ہوگیا۔ اب ہم نے یہ وقتی حکم اٹھا لیا ہے چاہیے کہ ان احکام کی اطاعت میں ہمہ تن لگے رہو جو کبھی منسوخ ہونے والے نہیں۔ مثلاً نماز و زکوٰۃ وغیرہ اسی سے کافی تزکیہ نفس ہوجائے گا۔ (تنبیہ) " فَاِذْلَمْ تَفْعَلُوا " سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم پر عام طور سے عمل کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ بعض روایات میں حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس حکم پر امت میں سے صرف میں نے عمل کیا۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جو دوست ہوئے ہیں اس قوم کے جن پر غصہ ہوا ہے اللہ2 نہ وہ تم میں ہیں اور نہ ان میں ہیں3 اور قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ بات پر اور ان کو خبر ہے4

2 یہ لوگ منافق ہیں اور وہ قوم یہود ہے۔ 3 یعنی منافق نہ پوری طرح تم مسلمانوں میں شامل کیونکہ دل سے کافر ہیں، اور نہ پوری طرح ان میں شریک کیونکہ بظاہر زبان سے اپنے کو مسلمان کہتے ہیں۔ (مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ ) 4 ۔ النساء :143) 4 یعنی بیخبر ی اور غفلت سے نہیں، جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ مسلمان سے کہتے ہیں۔ " انہم لمنکم " کہ وہ تم میں سے ہیں اور تمہاری طرح سچے ایماندار ہیں۔ حالانکہ ایمان سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں۔
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

تیار رکھا ہے اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب5 بیشک وہ برے کام ہیں جو وہ کرتے ہیں6

5 جس کو دوسری جگہ فرمایا۔ " (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) 4 ۔ النسآء :145) 6 یعنی خواہ ابھی ان کو نظر نہ آئے لیکن نفاق کے کام کر کے وہ اپنے حق میں بہت برا بیج بو رہے ہیں۔
Ayahs 58:16–17

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

بنا رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال پھر روکتے ہیں اللہ کی راہ سے تو ان کو ذلت کا عذاب ہے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

کام نہ آئیں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی وہ لوگ ہیں دوزخ کے وہ اسی میں پڑے رہیں گے7

7 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کے ہاتھوں سے اپنی جان و مال کو بچاتے ہیں اور اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے دوستی کے پیرایہ میں دوسروں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ لوگ اس طرح کچھ عزت نہیں پاسکتے۔ سخت ذلت کے عذاب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا، اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، جن کی حفاظت کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے پھرتے ہیں۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن جمع کرے گا اللہ ان سب کو پھر قسمیں کھائیں گے اس کے آگے جیسے کھاتے ہیں تمہارے آگے اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں8 سنتا ہے وہی ہیں اصل جھوٹے9

8 یعنی یہاں کی عادت پڑی ہوئی وہاں بھی نہ جائے گی۔ جس طرح تمہارے سامنے جھوٹ بول کر بچ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہوشیار ہیں اور بڑی اچھی چال چل رہے ہیں، اللہ کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے کو تیار ہوجائیں گے کہ پروردگار ! ہم تو ایسے نہ تھے، ویسے تھے۔ شاید وہاں بھی خیال ہو کہ اتنا کہہ دینے سے رہائی ہوجائے گی۔ 9 بیشک اصل اور ڈبل جھوٹا وہ ہی ہے جو خدا کے سامنے بھی جھوٹ کہنے سے نہ شرمائے۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

قابو کرلیا ہے ان پر شیطان نے پھر بھلا دی ان کو اللہ کی یاد10 وہ لوگ ہیں گروہ شیطان کا سنتا ہے جو گروہ ہے شیطان کا وہی خراب ہوتے ہیں11

10 شیطان جس پر پوری طرح قابو کرلے اس کا دل و دماغ اسی طرح مسخ ہوجاتا ہے اسے کچھ یاد نہیں رہتا کہ خدا بھی کوئی چیز ہے۔ بھلا اللہ کی عظمت اور بزرگی و مرتبہ کو وہ کیا سمجھے۔ شاید محشر میں بھی جھوٹ پر قدرت دے کر اس کی بےحیائی اور حماقت کا اعلان کرنا ہو کہ اس ممسوخ کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کے آگے میرا جھوٹ کیا چلے گا۔ 11 شیطانی لشکر کا انجام یقینا خراب ہے۔ نہ دنیا میں ان کے منصوبے آخری کامیابی کا منہ دیکھ سکتے ہیں، نہ آخرت میں عذاب شدید سے نجات پانے کی کوئی سبیل ہے۔
Ayahs 58:20–21

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا، اور اس کے رسول کا، وہ لوگ ہیں سب سے بےقدر لوگوں میں

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول بیشک اللہ زور آور ہے زبردست12

12 یعنی اللہ و رسول کا مقابلہ کرنے والے جو حق و صداقت کے خلاف جنگ کرتے ہیں سخت ناکام اور ذلیل ہیں۔ اللہ لکھ چکا ہے کہ آخرکار حق ہی غالب ہو کر رہے گا اور اس کے پیغمبر ہی مظفر و منصور ہوں گے۔ اس کی تقریر پہلے کئی جگہ گزر چکی ہے۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے ان کے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے ایمان1 اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے2 اور داخل کرے گا ان کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی3 وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا سنتا ہے جو گروہ ہے اللہ کا وہی مراد کو پہنچے4

1 یعنی ایمان ان کے دلوں میں جما دیا اور پتھر کی لکیر کی طرح ثبت کردیا۔ 2 یعنی غیبی نور عطا فرمایا جس سے قلب کو ایک خاص قسم کی معنوی حیات ملتی ہے یا روح القدس ( جبرائیل) سے ان کی مدد فرمائی۔ 3 یعنی یہ لوگ اللہ کے واسطے سب سے ناراض ہوئے تو اللہ ان سے راضی ہوا۔ پھر جس سے اللہ راضی ہو اسے اور کیا چاہیے۔ 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ملتے ہیں۔ " صحابہ ؓ کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی، اسی سلسلہ میں ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ جنگ " احد " میں ابوبکر صدیق اپنے بیٹے عبدالرحمن کے مقابلہ میں نکلنے کو تیار ہوگئے، مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو، عمر بن الخطاب نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو، علی بن ابی طالب، حمزہ، عبیدۃ بن الحارث نے اپنے اقارب عتبہ، شیبہ، اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بیٹے عبد اللہ بن عبد اللہ نے جو مخلص مسلمان تھے، عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ ﷺ حکم دیں تو اپنے باپ کا سر کاٹ کر خدمت میں حاضر کروں۔ آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔ فَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ وَرَضُواعَنْہُ ورزقنا اللہ حُبَّہُمْ واتباعہم واماتنا علیہ۔ آمین۔