58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

حضرت محمد آپ کو اطلاع کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی اور گفتگو کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی صورت حال پیش کرنے کے لیے آہ وزاری کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ تمہاری اور اس عورت کی باہم گفتگو سن رہا تھا بیشک اللہ تعالیٰ اس کی بات کو سننے والا اور اس صورت حال کو دیکھنے والا ہے۔ شان نزول : قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ (الخ) امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عائشہ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں پاک ہے وہ ذات جس کی قوت سمع ہر ایک چیز پر محیط پر میں حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی گفتگو سن رہی تھی اور مجھ سے بعض باتیں مخفی رہیں وہ اپنے خاوند کی رسول اکرم سے شکایت کر رہی تھیں اور فرما رہی تھیں یا رسول اللہ میری جوانی ختم کردی اور خاوند کے لیے میرا پیٹ خالی ہوگیا اب جب میں بڑھاپے کو پہنچ گئی ہوں اور میری اولاد بھی منقطع ہوگئی ہے تو میرے شوہرے نے مجھ سے ظہار کرلیا میں آپ سے اپنے معاملہ کی شکایت کرتی ہوں۔ چناچہ وہ اپنی جگہ سے پر نہیں ہٹیں یہاں تک کہ جبریل امین ان آیات کو لے کر نازل ہوگئے اور ان کے خاوند حضرت اوس بن صامت تھے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

واقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ بن مالک حضرت اوس بن صامت انصاری کے نکاح میں تھیں اور حضرت اوس جن کے زیر اثر تھے تو وہ حضرت خولہ کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ جس حالت میں عورتوں کے پاس نہیں آیا جاتا انہوں نے انکار کیا اس پر حضرت اوس کو غصہ آیا اور بولے اگر میں اس کام کو کرنے سے پہلے گھر سے نکلوں تو، تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی کہ میری ماں کی پشت مجھ پر حرام ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ اب اس کا حکم بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ عورتوں سے ظہار کرتے ہیں مثلا اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتے : انت علی کظھر امی۔ تو وہ عورتیں ان کی مائیں نہیں ہیں حرمت ابدی میں تو ان کی مائیں وہی ہیں جنہوں نے ان کو پیدا کیا ہے یا دودھ پلایا ہے بلاشبہ یہ ظہار کے بارے میں ایک نامعقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے ان کو حرام کرنے والے سے فوری بدلہ نہیں لیتے اور تائب و نادم کو بخش دینے والے ہیں
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

اب اللہ تعالیٰ ظہار کے کفارے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر کے ان کو خود حرام کرلیتے ہیں اور پھر اپنی اس کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اس سے پہلے کہ دونوں میاں بیوی باہم اختلاط کریں اس آزادی سے تمہیں ظہار کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو کفارہ ظہار کی ادائیگی اور عدم ادائیگی کی پوری خبر ہے۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔

اور پھر جو شخص غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے قابل نہ ہو تو اس کے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنے ہیں اس سے پہلے کہ دونوں باہم اختلاف کریں اور پھر کسی کمزوری کی وجہ سے روزے بھی نہ رکھے جاسکیں تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے کہ ہر ایک مسکین کو آدھا صاع گیہوں کا یا ایک صاع جو کا یا کھجور کا دے۔ اور یہ کفارہ ظہار کا حکم اس لیے ہے تاکہ فرائض خداوندی اور سنن نبوی پر ثابت قدم رہو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرائض ظہار ہیں۔ اور جو اللہ تعالیٰ کی حدود کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت دردناک عذاب ہوگا کہ اس درد کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی ابتدا سورت سے لیکر یہاں تک یہ آیات حضرت خولہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ ان کے خاوند حضرت اوس نے کسی چیز پر ان سے ناراض ہو کر ان سے ظہار کرلیا تھا پھر اس پر نادم ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کفارہ ظہار کا حکم دیا۔ چناچہ حضور نے حضرت اوس سے فرمایا ایک غلام آزاد کردو تو انہوں نے عرض کیا اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ اگر میں دن میں ایک دو مرتبہ نہ کھاؤں تو میری نگاہ بھی جاتی رہے اور ممکن ہے کہ میں مرجاؤں حضور نے فرمایا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو انہوں نے فرمایا اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ سن کر حضور نے ان کو ایک کھجور کا ٹوکرا دینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کو مساکین میں تقسیم کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں تو مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان خود سے زیادہ اور کسی کو محتاج نہیں سمجھتا۔ چناچہ آپ نے ان ہی کو اس کے کھانے کا حکم دے دیا اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادیا، چناچہ جس چیز کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اس کی طرف انہوں نے رجوع فرمایا اس بات میں ان کی رسول اکرم اور ایک اور شخص نے مدد فرمائی۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

جو لوگ دین میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اس سے دشمنی رکھتے ہیں یعنی وہ کفار مکہ وہ خندق کے دن اس طرح قتل و شکست کے ساتھ پکڑے جائیں گے جیسا کہ ان سے پہلے لوگ ذلیل و خوار کیے گئے جنہوں نے انبیاء کرام سے قتال کیا اور ہم نے بذریعہ جبریل امین اور امر و نواہی حلال و حرام کے بارے میں احکامات نازل کیے ہیں اور احکام خداوندی کا انکار کرنے والوں کو ذلت کا عذاب یا یہ کہ سخت ترین عذاب ہوگا۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے انکو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ انکو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

جس روز تمام ادیان والوں کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا پھر ان کے تمام دنیاوی اعمال ان کو بتا دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے جو اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا اس کو انہوں نے بھلا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح و مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

محمد کیا آپ کو بذریعہ قرآن حکیم اس چیز کی اطلاع نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو کہ آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں ان کے اعمال اور کوئی سرگوشی تین آدمیوں کی ایسی نہیں ہوتی جس سے اللہ تعالیٰ واقف نہ ہو اور نہ پانچ کی سرگوشی ایسی ہوتی ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ واقف نہ ہو اور نہ اس سے کم کی اور نہ اس سے زیادہ کی مگر وہ ہر حالت میں ان سے اور ان کی سرگوشی سے واقف ہوتا ہے۔ وہ لوگ کہیں بھی ہوں پھر ان سب کو قیامت کے روز ان کے دنیاوی اعمال بتا دے گا بیشک اللہ تعالیٰ کو ان کی اور ان کی سرگوشیوں کی پوری خبر ہے یہ آیت حضرت صفوان بن امیہ اور ان کے داماد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا واقعہ سورة حم سجدہ میں گزر گیا ہے۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے

محمد کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جن کو مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا پھر مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرتے ہیں اور گناہ ظلم و زیادتی اور رسول اکرم کی مخالفت کی سرگوشی کرتے ہیں حالانکہ رسول اکرم نے ان کو اس چیز سے منع کردیا تھا اور یہ منافقین کا گروہ تھا جو یہودیوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کی خفیہ باتوں کے بارے میں سرگوشی کیا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہو اور جب یہ یہودی آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور نہ آپ کو حکم دیا ہے اور وہ رسول اکرم کو آکر السام علیکم کہا کرتے تھے آپ انہیں اس کا جواب دے دیتے تھے اور سام کے معنی ان کی لغت میں موت کے تھے اور اپنے دل میں یا آپس میں کہتے ہی کہ اگر یہ نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے اس طرح کہنے پر ہمیں فورا سزا کیوں نہیں دیتا کیونکہ نبی کی دعا مقبول ہوتی ہے اور آپ ہم پر ہمارے الفاظ لوٹا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آخرت میں ان کی سزا کے لیے جہنم کافی ہے اس میں یہ لوگ داخل ہوں گے سو وہ جہنم جس میں یہ داخل ہوں گے بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ شان نزول : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى (الخ) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم اور یہود کے درمیان باہم صلح تھی، چناچہ جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی شخص ادھر سے گزرتا تو یہودی آپس میں سرگوشی کنے بیٹھ جاتے جس سے وہ مسلمان سمجھتا کہ وہ مجھے قتل کرنے یا اور کوئی تکلیف پہنچانے کے بارے میں سرگوشی کر رہے ہیں تو رسول اکرم نے ان یہودیوں کو اس طرح سرگوشی کرنے سے منع کیا مگر وہ اس پر بھی باز نہ آئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور امام احمد طبرانی اور بزار نے سند جید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو سے روایت نقل کی ہے کہ یہودی رسول اکرم کو کہا کرتے تھے سام علیکم اور اپنے دلوں میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے اس کہنے پر سزا کیوں نہیں دیتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ واذا جاوک حیوک (الخ)۔ اور اس بارے میں حضرت انس اور حضرت عائشہ سے بھی روایت مروی ہے۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔

اے ایمان والو ! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو جھوٹ ظلم اور رسول اکرم کے حکم کی مخالفت کی سرگوشیاں مت کیا کرو جیسا کہ منافقین یہودیوں کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں اور فرائض خداوندی کی تعمیل اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان و بھلائی اور معاصی و ظلم کے چھوڑنے کے بارے میں سرگوشی کیا کرو اور مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس تم سب آخرت میں جمع کیے جاؤ گے۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔

منافقین کی یہودیوں کے ساتھ سرگوشی محض شیطان کی طرف سے اور اس کے حکم سے ہے تاکہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور منافقین کی یہ سرگوشی بغیر اللہ کے ارادہ کے ان مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ کسی پر بھروسا کریں۔ شان نزول : اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ منافقین آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے تھے اور یہ چیز مسلمانوں کو غصہ دلاتی اور ان پر شاق گزرتی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

اے ایمان والو جب تم سے نبی اکرم فرمائیں کہ مجلس میں جگہ کھول دو تو تم جگہ کھول دیا کرو اللہ تعالیٰ آخرت اور جنت میں تم پر کشادگی فرمائے گا یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جس کا واقعہ سورة حجرات میں گزر چکا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت اصحاب بدر میں سے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان ہی میں سے ثابت بن قیس بن شماس بھی ہیں، واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ حضرات نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ جمعہ کے دن حضرت صفیہ کے چبوترے پر تشریف فرما تھے تو ان حضرات کو بیٹھنے کے لیے جگہ نہیں ملی یہ مجلس کے کونے پر کھڑے ہوگئے تو رسول اکرم نے ان لوگوں سے جو بدری نہیں تھے فرمایا اے فلاں تم اپنی جگہ سے کھڑے ہوجاؤ اور فلاں تم اپنی جگہ سے ہٹ جاؤ تاکہ بدری حضرات اس جگہ پر بیٹھ جائیں کیونکہ آپ بدر والوں کی تعظیم کیا کرتے تھے تو جن حضرات کو آپ نے مجلس سے کھڑا کیا تھا آپ نے ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ نماز و جہاد اور ذکر خداوندی میں اٹھ کھڑے ہوا کرو اللہ تعالیٰ تم میں ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو ایمان کے ساتھ علم دین عطا ہوا ہے ظاہر و باطن میں درجے بلند کرے گا کیونکہ وہ مومن جو کہ عالم ہو وہ اس مومن سے افضل ہے جو کہ عالم نہ ہو لہذا ان مومنین کے جو عالم ہیں جنت میں غیر عالموں سے درجے بلندے کرے گا اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ (الخ) قتادہ سے روایت ہے کہ منافقین جب کسی کو آتا ہوا دیکھتے تو رسول اکرم کے پاس اپنی مجلس میں پھیل کر بیٹھ جاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی وقعہ یہ پیش آیا کہ اصحاب بدر میں سے کچھ حضرات آئے اور جگہ تنگ تھی اور مجلس والوں نے بھی ان کو جگہ نہ دی اور وہ حضرات کھڑے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ رسول اکرم نے اہل مجلس میں سے کچھ لوگوں کو اٹھا کر ان کی جگہ ان حضرات کو بٹھا دیا اس پر اس اٹھنے والی جماعت کو ناگواری ہوئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

اے ایمان والو جس وقت تم رسول اکرم سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا کرو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ آیت مال داروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان میں سے بعض حضرات رسول اکرم کے ساتھ زیادہ سرگوشی کیا کرتے تھے جس سے حضور اور فقرا کو بھی تکلیف ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس زیادتی سے منع کردیا اور رسول اکرم سے سرگوشی کرنے سے پہلے اس چیز کا حکم دیا کہ ہر ایک کلمہ کے بدلے ایک درہم مساکین کو دے دیا کریں۔ کیونکہ یہ صدقہ تمہارے لیے کنجوسی سے بہتر ہے اور یہ گناہوں سے تمہارے دلوں کی پاکی کا اچھا ذریعہ ہے یا یہ کہ فقرا کے دل میں جو کدورت ہوتی ہے اس کے لیے اچھا ذریعہ ہے اور اگر تمہیں صدقہ دینے کی قدرت نہ ہو تو رسول اکرم سے جس قدر چاہو بغیر صدقہ دیے ہوئے گفتگو کرو تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ (الخ) ابن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ مسلمان رسول اکرم سے بہت زیادہ مسائل دریافت کرتے تھے حتی کہ آپ پر گراں ہوجاتا تھا اس لیے مشیت خداوندی ہوئی کہ اپنے نبی سے کچھ بوجھ ہلکا کردے اس پر یہ خیرات کرنے والی آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ جب یہ حکم نازل ہوا تو بہت سے لوگ زیادہ مسائل دریافت کرنے سے رک گئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا (الخ)
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

جب صدقے کا حکم ہوا تو بعض آدمی ضروری بات کرنے سے بھی رک گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اے مالدارو کیا تم حضور کے ساتھ سرگوشی سے پہلے غریبوں میں خیرات کرنے سے ڈر گئے خیر جب تم صدقہ نہ دے سکے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اس صدقہ کے حکم کو منسوخ کردیا تو پانچوں نمازوں کے پابند رہو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے جب حکم نازل ہوا تو سب رک گئے اور حضرت علی کے علاوہ اور کسی نے صدقہ کر کے گفتگو نہیں کی، حضرت علی نے ایک دینار خیرات کر کے آپ سے دس باتیں دریافت کیں اور وہ دینار دس درہموں کے عوض فروخت کیا۔ شان نزول : ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا (الخ) امام ترمذی نے تحسین کے ساتھ حضرت علی سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اذا ناجیتم (الخ) تو حضور نے مجھ سے فرمایا کیا خیال ہے یہ لوگ ایک دینار دے دیا کریں میں نے عرض کیا وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے آپ نے فرمایا تو آدھا دینار میں نے عرض کیا ان میں اس کی بھی طاقت نہیں ہے، اس پر حضور نے فرمایا تو پھر کتنا میں نے عرض کیا ایک چاول آپ نے فرمایا تم تو بالکل زاہد ہو تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ حضرت علی فرماتے ہیں میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے تخفیف فرما دی، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کی جو یہودیوں کے ساتھ دوستی تھی اگلی آیات اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نازل فرمائی ہیں۔ محمد کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی، یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے یہ منافق اندرونی طور پر نہ تو تم میں ہیں کہ تمہارے لیے جو چیزیں واجب ہیں وہ ان کے لیے واجب ہوں اور نہ علانیہ طور پر یہودیوں ہی میں ہیں کہ ان پر جو غصہ ہے وہ ان پر بھی ہو اور اپنے مسلمان ہونے اور ایمان کے دعوے کرنے پر جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ وہ اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں۔ شان نزول : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔

ان منافقین کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیاو آخرت میں سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے کیونکہ وہ اپنے نفاق برے کام کیا کرتے تھے۔
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

انہوں نے اپنی جھوٹٰ قسموں کو قتل سے بچاؤ کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے اور خفیہ طور پر لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے لیے ذلت والا عذاب ہونے والا ہے۔
Ayah 58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .

ان منافقین اور یہودیوں کے اموال اور اولاد کی کثرت اللہ کے عذاب سے ان کو بالکل نہیں بچا سکے گی یہ منافقین اور یہودی جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔

قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ ان منافقین اور یہودیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھوٹٰ قسمیں کھائیں گے کہ ہم کافر اور منافق نہیں تھے جس طرح دنیا میں تمہارے سامنے قسمیں کھا جاتے ہیں اور یوں خیال کریں گے کہ ہم دین پر قائم ہیں خوب سن لو یہ اللہ کے نزدیک بڑے ہی جھوٹے ہیں۔ شان نزول : يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا (الخ) امام احمد اور اسی طرح امام حاکم کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم اپنے حجرہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے اور سایہ ختم ہوتا جارہا تھا اتنے میں آپ نے فرمایا تمہارے پاس عنقریب ایک شخص آنے والا ہے اور میں اپنی آنکھوں سے اسے شیطان دیکھتا ہوں جب وہ تمہارے پاس آئے تو اس سے بات مت کرنا۔ کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ اتنے میں ایک کانا نیکی آنکھوں والا شخص آیا رسول اکرم نے اسے اپنے پاس بلایا جب اسے دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ تو اور تیرے ساتھی کس وجہ سے مجھے برا کہتے ہیں وہ کہنے لگا آپ مجھے چھوڑیے میں اپنے ساتھیوں کو لے کر آتا ہوں۔ چناچہ وہ گیا اور ان کو بلا لایا ان لوگوں نے آکر آپ کے سامنے جو کچھ انہوں نے کہا تھا یا کیا تھا اس کے بارے میں قسمیں کھا لیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

ان پر شیطان نے پورا قبضہ جما کر کے اپنی پیروی کا ان کو حکم دیا ہے سو یہ اسی کی پیروی کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے خفیہ طور پر اطاعت خداوندی اور اس کی یاد کو بھلا دیا ہے واقعہ ہی یہود و منافقین شیطان کا گروہ ہے اور شیطان کا گروہ دنیا و آخرت کے ضائع ہونے سے ضرور برباد ہونے والا ہے۔
Ayah 58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔

یہ منافقین اور یہودی دین میں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ دوزخ میں ذلیل لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ میں اور محمد فارس و روم اور یہود و منافقین پر غالب رہیں گے بیشک اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام کی مدد کرنے میں قوت والا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور ضورر غالب رہیں گے بیشک خدا زور آور (اور) زبردست ہے۔

یہ آیت خاص طور پر عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے مومنین مخلصین سے کہا تھا کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پر فارس و روم فتح ہوجائے گا۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

اگلی آیت حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے مکہ والوں کو رسول اکرم کی کچھ خفیہ باتوں سے مطلع کرنے کے لیے خط لکھا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یعنی حضرت حاطب آپ انہیں ایسا نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے افراد سے خیر خواہی کریں اور دین میں ان سے دوستی رکھیں یعنی مکہ والوں سے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین میں مخالفت کرتے ہیں گو ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی محبت اور ان کی تصدیق کو ثبت کردیا ہے اور اپنی رحمت یا یہ کہ اپنی مدد سے ان کو قوت دی ہے اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں جاری ہوں گی جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور اعمال اور ان کی توبہ سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب سے راضی ہوگئے۔ یہ لوگ یعنی حضرت حاطب اور دیگر صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کا گروہ ہے اور اللہ ہی کا گروہ عذاب و ناراضگی سے نجات پانے والا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جس چیز کی طلب کی اس کو پالیا اور جس شر سے بھاگے اس سے محفوظ رہے اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ بدری ہیں ان کا مفصل واقعہ سورة ممتحنہ میں آئے گا۔ شان نزول : لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن ثوذب سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ بدر کے دن انہوں نے اپنے باپ کو قتل کردیا تھا اور اسی روایت کو طبرانی اور حاکم نے مستدرک میں انہی الفاظ میں روایت کیا ہے کہ بدر کے دن حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے باپ ان پر حملہ کرنے کے لیے آتے تھے اور ابو عبیدہ ان سے کنارہ کشی کرتے تھے جب ان کے باپ نے زیادتی کی تو حضرت ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا تو ان کی تعریف میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ ابو قحافہ نے رسول اکرم کی شان میں گستاخی کی تو حضرت ابوبکر نے اپنے والد کے تھپڑ رسید کردیا جس سے وہ گر گئے اور پھر اس چیز کا حضور سے تذکرہ کیا آپ نے فرمایا اے ابوبکر تم نے ایسا کیا ؟ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میرے قریب تلوار ہوتی تو میں ان کی گردن اڑا دیتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔