58. Surah Al-Mujaadila
المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة مجادلہ سورة نمبر 58 کل رکوع 3 آیات 22 الفاظ و کلمات 479 حروف 2103 مقام نزول مدینہ منورہ اہل ایمان کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب وہ کسی محفل میں یا کسی کے گھر مزاج پرسی کے لئے جائیں تو اس طرح جم کر نہ بیٹھ جائیں کہ جس سے دوسرے کو تکلیف ہو اور وہ شرم کی یا اپنے اخلاق کی وجہ سے کچھ کہہ نہ سکے۔ بعض صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیض حاسل کرنے کے لئے دیر تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھنا چاہتے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اخلاق کریمانہ سے کسی کو منع نہ فرماتے جب تک صحابہ کرام (رض) بیٹھتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بیٹھے رہتے مگر اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے نبی تو تم سے یہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن ہم تمہیں بتانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہ جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں جائیں تو مناسب وقت تک بیٹھا کریں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف نہ ہو۔ مجلس میں اگر کچھ زیادہ لوگ آجائیں تو سب کو اس بات کو موقع دیا کریں کہ ہر ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں شرکت کرکے فیض حاصل کرسکے۔ عربوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ اگر انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تو اس سے رجوع کیا جاسکتا تھا لیکن اگر کسی نے ” ظہار “ کرلیا تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی تھی۔ ” ظہار “ یہ ہے کہ اگر کسی شوہر نے اپنی بیوے سے یہ کہہ دیا ” الست علی کظھرامی “ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یعنی اب تجھ سے صحبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے میں نے اپنی ماں سے مباشرت کی۔ تو اس سے ہمیشہ کے لئے جدائی سمجھی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے اس جاہلانہ تصور اور قانون کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ فرمایا کہ اپنی بیوں کو ماں سے تشبیہ دینا انتہائی شرم ناک اور بےہودہ بات ہے لیکن اگر کسی نے یہ کہا تو اس کے کہہ دینے سے بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ ماں تو وہی ہے جس سے وہ پیدا ہوا ہے۔ البتہ اس غیر شائستہ اور نامناسب بات کا کفارہ یہ ہے کہ (١) بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے (٢) اگر غلام میسر نہ ہو تو مسلسل دو مہینے تک روزے رکھے (مہینہ چاند کے حساب سے ہوگا) اور اس دوران بیوی سے صحبت نہ کرے (٣) اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو صحبت سے پہلے ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے پکا کر کھلائے یا اتنی رقم دیدے جس سے ساٹھ آدمی دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ یہ کفارہ ادا کرنے کے بعد وہ شخص اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے اس سے پہلے صحبت حرام ہے۔ ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ قبیلہ خزرج کی ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ (رض) تھیں ان کے شوہر اوس بن صامت انصاری (رض) قبیلہ اوس کے سردار حضرت عبادہ ابن صامت (رض) کے بھائی تھے۔ حضرت خولہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر حضرت اوس ابن صامت (رض) نے ان سے ” ظہار “ کیا۔ جب انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا اظہار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اپنے شوہر کے لئے ہمیشہ کے واسطے حرام ہوچکی ہو (کیونکہ اس وقت تک یہی قانون رائج تھا) ۔ حضرت خولہ (رض) نے اللہ سے فریاد کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بار بار اصرار کیا کہ وہ اپنے شوہر سے کسی طرح جدا نہ ہوں گی ورنہ ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے گی۔ دوسری طرف حضرت خولہ (رض) نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کی الٰہی ! میری اس مصیبت پر نظر فرمائیے اور کوئی ایسا راستہ عطا فرمائیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہ سکیں۔ اللہ نے ان کی فریاد سن کر ” ظہار “ کے پرانے قانون کو منسوخ کردیا اور کفارہ لازم قرار دے دیا۔ ٭اس سورة میں مختلف معاشرتی مسائل کے حل کے لئے قوانین بھی بیان فرمائے گئے تاکہ ایک ایسا اسلامی معاشرہ بن سکے جس میں تہذیب و شائستگی اور دوسروں کی تکلیفوں کا خیال رکھا جاسکے۔ ٭منافقین طرح طرح کی شرارتوں کے منصوبے بنانے کے لئے چھپ چھپ کر سرگوشیاں کیا کرتے تھے تاکہ دین اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جو ان کے دلوں میں بغض و حسد کی آگ لگ رہی تھی اپنی تسکین کا سامان کرسکیں۔ فرمایا کہ ان کی سرگوشیاں اور منصوبہ بندیاں اللہ کی تدبیر کے سامنے دھری رہ جائیں گی اور وہ اہل ایمان کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ مومنوں کو چاہیے کہ وہ نہایت خلوس سے دین کی جدوجہد کرتے رہیں اگر کسی سرگوشی میں کوئی گناہ، ظلم و زیادتی اور اللہ و رسول کی دشمنی نہ ہو تو اس سرگوشی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ایک ادب یہ سکھایا گیا کہ کسی مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوں اور باہر سے کچھ اور لوگ آکر بیٹھنا چاہیں تو آنے والوں کے لئے گنجائش پیدا کرنے کے لئے سمٹ سمٹ کر بیٹھ جائیں کیونکہ یہ آداب مجلس کے خلاف ہے کہ کچھ لوگ بیٹھے رہیں اور کچھ انتظار میں کھڑے رہیں یا ایک دوسرے کو پھاندتے پھلانگتے اندر گھسنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی خود غرضی اور تنگ دلی ہے کہ آنے والوں کا خیال نہ رکھا جائے۔ ٭اسی میں ایک ادب یہ بھی سکھایا گیا کہ کسی محفل میں اس طرح جا کر بیٹھ جانا کہ دوسروں کی ضروریات اور پریشانیوں کا خیال ہی نہ کیا جائے یہ بات بھی قطعاً مناسب نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے صاحب خانہ کو کوئی ایسی ضرورت ہو جس کا اظہار وہ کرنا مناسب نہ سمجھتا ہو۔ فرمایا کہ اگر وہ زبان سے یا اپنے کسی انداز سے اشارے سے سے یہ کہہ دے کہ میں مصروف ہوں تو لوگوں کو اس جگہ یا محفل سے اٹھ جانے میں اپنی بےعزتی محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اخلاق کریمانہ کا پیکر تھے اور صحابہ کرام (رض) جن کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہو کر زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں کبھی کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ضروری کام ہوتا اور صحابہ کرام (رض) دیر تک بیٹھنا چاہتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے ان کو منع نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو فرمایا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو تم سے نہیں کہتے کہ شرماتے ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی کے آرام و راحت اور ضروریات کا خیال رکھیں۔ مختصر بیٹھیں اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں کہ آنے والوں کے لئے جگہ خالی کردیں۔ گنجائش پیدا کریں یا اٹھ کر چلے جانے کے لئے فرمائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر حکم اور اشارے کی تعمیل کی جائے اور تمام اہل ایمان کو قیامت تک اسی طرح کے مجلسی آداب کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ اگر کسی کو نبی کری (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات خاموشی سے علیحدگی میں کرنا ہو تو وہ پہلے صدقہ دے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں بات کرے۔ مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام (رض) اس بات کو سمجھ لیں اور اس عادت کو چھوڑ دیں۔ چناچہ جب اس کی عادت پڑگئی اور صحابہ (رض) کرام سمجھ گئے تو اس حکم کو منسوخ کردیا گیا۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ( ہوسکتا ہے ان میں منافق بھی ہوں) اپنی اہمیت جتاتے اور یہ بتانے کے لئے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت قریب ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کا بہت لحاظ فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں ملاقات کی خواہش کرتے اور پھر جم کر بیٹھ جاتے تھے جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی تھی مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سے کچھ نہ فرماتے تھے۔ ٭انصار اور مہاجرین جو ایمان لے آئے تھے وہ دین کے لحاط سے تو کفار سے علیحدہ ہوچکے تھے مگر رشتہ داریاں بہرحال قائم تھیں۔ بعض صحابہ (رض) اپنے رشتہ داروں سے ملتے اور بعض صحابہ (رض) کفار کو دشمن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ کر ان سے بات تک کرنا گوارا نہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کو ہر ایک کے ایمان و اخلاص کا پوری طرح علم ہے۔ وہ لوگ جو منافق ہیں اور دشمنان اسلام سے ملتے ہیں وہ کتنی ہی قسمیں کھا کر یقین دلائیں کہ ان کا مقصد محض رشتہ داریوں کا لحاظ کرنا تھا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ جب وہ کفار سے ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں فرمایا ایسے لوگ شیطان کے گروہ میں شامل ہیں اس لئے اللہ ان کو پسند نہیں کرتا لیکن جو لوگ ایمان اور اخلاص کا پیکر ہیں وہ اللہ کی جماعت ہیں وہی ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ صحابہ کرام (رض) اللہ کی ہر رضا پر راضی ہیں۔
قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader
بیشک اللہ نے اس (عورت) کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی تھی۔ اللہ تم دونوں کی بات سن رہا تھا۔ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader
اور تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں ( یہ کہہ دیتے ہیں کہ تو میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے) وہ (کہنے سے) ان کی مائیں نہیں بن جاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ اور بلا شبہ وہ ایک نامعقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں اور پھر وہ ان سے رجوع کرنا چاہتے ہیں ( اس سے) جو انہوں نے کہا تھا تو ان کے ذمے آپس میں ملنے سے پہلے (صحبت کرنے سے پہلے) ایک غلام آزاد کرنا (لازمی) ہے اس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے۔
فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader
پھر جس کو غلا میسر نہ ہو تو اس کو ملاقات سے (صحبت سے) پہلے مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنے ہیں۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر اس کے ذمے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس نے یہ حکم تمہیں اس لئے دیا ہے تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ یہ اللہ کی حدود ہیں۔ (جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے) اور کافروں کے لئے بدترین عذاب ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالت کرتے ہیں وہ اس طرح ذلیل و رسوا کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل و رسوا کئے گئے تھے۔ حالانکہ ہم نے صاف صاف احکامات نازل کئے تھے۔ اور کافروں کے لئے ذلت والا عذاب ہے۔
یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader
وہ دن (زیادہ دور نہیں ہے کہ) جب اللہ سب کو جمع کرے گا۔ پھر وہ ان کے کئے ہوئے کاموں سے آگاہ کرے گا جن اعمال کو وہ بھول گئے مگر اللہ نے شمار کر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر گواہ اور نگران ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader
کیا (اے مخاطب) تو نے نہیں دیکھا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ ہر بات کو جانتا ہے۔ کہیں بھی تین آدمیوں میں سرگوشی (خفیہ مشورہ) ہوتا ہے تو چوتھا اللہ ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں پانچ آدمی خفیہ بات کر رہے ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے۔ خفیہ بات کرنے والے تھوڑے ہوں یا زیادہ کوئی خفیہ مشورہ ایسا نہیں ہوتا مگر یہ اللہ ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی خفیہ مشورہ کریں۔ پھر وہ قیامت کے دن بتادے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن لوگوں کو سرگوشیوں (خفیہ سازشوں) سے روکا گیا تھا مگر وہ پھر بھی وہی کام کرتے ہیں جس سے روکا گیا تھا اور وہ آپس میں گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لئے چپکے چپکے مشورہ کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ سے سلام کرتے ہیں جن الفاط سے اللہ نے آپ پر سلام نہیں بھیجا۔ اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہم جو الفاط ادا کرتے ہیں ان پر ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں دیتا۔ (یاد رکھیں) ایسے لوگوں کے لئے جہنم کافی ہے جس میں یہ داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تم جب بھی آپس میں سرگوشیاں کرو تو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کرو۔ بلکہ بھلائی اور پرہیز گاری کی باتو میں باہم مشورہ کرتے رہا کرو۔ اللہ سے ڈرتے رہو جس کے سامنے تمہیں حاضر ہونا ہے۔
اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader
ہر اس قسم کی سرگوشی کرنا شیطانی کام ہے۔ جو مسلمانوں کو رنجیدہ کردے۔ حالانکہ جب تک اللہ کا حکم نہ ہو اس وقت تک وہ اہل ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader
اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کھول دیا کرو۔ (تم ایسا کرو گے تو) اللہ تمہارے لئے کشادگی پیدا کردے گا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ (مجلس سے) اٹھ جائو تو کھڑے ہوجایا کرو۔ اللہ تعالیٰ تم میں سے اہل ایمان کو اور ان لوگوں کو جنہیں علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کردے گا۔ اور اللہ کو معلوم ہے تو جو کچھ کرتے ہو۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader
اے ایمان والو ! جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ خیرات کردیا کرو۔ اسی میں تمہارے لئے بہتری اور پاکیزگی ہے۔ پھر اگر تمہیں (صدقہ ) میسر نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader
کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کردیا کرو۔ پھر جب تم نے اس کو نہ کیا اور اللہ نے تم سے درگذر کرلیا تو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ اللہ کو معلوم ہے تم جو کچھ کرتے ہو۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل کیا گیا۔ یہ لوگ نہ تو تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں۔ اور یہ لوگ جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔
اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader
اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بیشک وہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔
اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader
ان (منافقین نے) اپنی قسموں کو ( اپنے بچائو کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ لہٰذا ان کے لئے ذلت و رسوائی والا عذاب ہے۔
لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader
ان کے مال اور ان کی اولادیں اللہ کے مقابلے میں ( ان کے) کسی کام نہ آسکیں گے یہ جہنم والے ہیں جو اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader
جس دن اللہ ان سب کو جمع کرے گا تو یہ اللہ کے سامنے اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ انہوں نے کوئی اچھی بات کہی ہے۔ سنو ! یہ بڑے ہی جھوٹے لوگ ہیں۔
اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader
ان پر شیطان نے پوری طرح قابو پا رکھا ہے۔ جس نے انہیں اللہ کی یاد سے غاگل کر رکھا ہے۔ یہ شیطانی جماعت ہے۔ سنو ! کہ شیطان کا لشکر ہی تباہ ہونے والا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔
كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader
اللہ اس بات کو لکھ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول دونوں غالب رہیں گے بیشک اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے محبت کرتے نہ دیکھیں گے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ان کے باپ دادا، بیٹے، بھائی یا کنے والے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے یقین کو جما دیا ہے ۔ اور ان کے دلوں کو اپنے فیض سے قوت دی ہے۔ وہ اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یہ اللہ کی جماعت ہے۔ سنو ! کہ بیشک اللہ کی جماعت ہی فلاح و کامیابی حاصل کرنے والی ہے۔