58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة مجادلہ سورة نمبر 58 کل رکوع 3 آیات 22 الفاظ و کلمات 479 حروف 2103 مقام نزول مدینہ منورہ اہل ایمان کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب وہ کسی محفل میں یا کسی کے گھر مزاج پرسی کے لئے جائیں تو اس طرح جم کر نہ بیٹھ جائیں کہ جس سے دوسرے کو تکلیف ہو اور وہ شرم کی یا اپنے اخلاق کی وجہ سے کچھ کہہ نہ سکے۔ بعض صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیض حاسل کرنے کے لئے دیر تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھنا چاہتے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اخلاق کریمانہ سے کسی کو منع نہ فرماتے جب تک صحابہ کرام (رض) بیٹھتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بیٹھے رہتے مگر اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے نبی تو تم سے یہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن ہم تمہیں بتانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہ جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں جائیں تو مناسب وقت تک بیٹھا کریں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف نہ ہو۔ مجلس میں اگر کچھ زیادہ لوگ آجائیں تو سب کو اس بات کو موقع دیا کریں کہ ہر ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں شرکت کرکے فیض حاصل کرسکے۔ عربوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ اگر انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تو اس سے رجوع کیا جاسکتا تھا لیکن اگر کسی نے ” ظہار “ کرلیا تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی تھی۔ ” ظہار “ یہ ہے کہ اگر کسی شوہر نے اپنی بیوے سے یہ کہہ دیا ” الست علی کظھرامی “ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یعنی اب تجھ سے صحبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے میں نے اپنی ماں سے مباشرت کی۔ تو اس سے ہمیشہ کے لئے جدائی سمجھی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے اس جاہلانہ تصور اور قانون کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ فرمایا کہ اپنی بیوں کو ماں سے تشبیہ دینا انتہائی شرم ناک اور بےہودہ بات ہے لیکن اگر کسی نے یہ کہا تو اس کے کہہ دینے سے بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ ماں تو وہی ہے جس سے وہ پیدا ہوا ہے۔ البتہ اس غیر شائستہ اور نامناسب بات کا کفارہ یہ ہے کہ (١) بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے (٢) اگر غلام میسر نہ ہو تو مسلسل دو مہینے تک روزے رکھے (مہینہ چاند کے حساب سے ہوگا) اور اس دوران بیوی سے صحبت نہ کرے (٣) اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو صحبت سے پہلے ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے پکا کر کھلائے یا اتنی رقم دیدے جس سے ساٹھ آدمی دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ یہ کفارہ ادا کرنے کے بعد وہ شخص اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے اس سے پہلے صحبت حرام ہے۔ ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ قبیلہ خزرج کی ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ (رض) تھیں ان کے شوہر اوس بن صامت انصاری (رض) قبیلہ اوس کے سردار حضرت عبادہ ابن صامت (رض) کے بھائی تھے۔ حضرت خولہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر حضرت اوس ابن صامت (رض) نے ان سے ” ظہار “ کیا۔ جب انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا اظہار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اپنے شوہر کے لئے ہمیشہ کے واسطے حرام ہوچکی ہو (کیونکہ اس وقت تک یہی قانون رائج تھا) ۔ حضرت خولہ (رض) نے اللہ سے فریاد کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بار بار اصرار کیا کہ وہ اپنے شوہر سے کسی طرح جدا نہ ہوں گی ورنہ ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے گی۔ دوسری طرف حضرت خولہ (رض) نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کی الٰہی ! میری اس مصیبت پر نظر فرمائیے اور کوئی ایسا راستہ عطا فرمائیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہ سکیں۔ اللہ نے ان کی فریاد سن کر ” ظہار “ کے پرانے قانون کو منسوخ کردیا اور کفارہ لازم قرار دے دیا۔ ٭اس سورة میں مختلف معاشرتی مسائل کے حل کے لئے قوانین بھی بیان فرمائے گئے تاکہ ایک ایسا اسلامی معاشرہ بن سکے جس میں تہذیب و شائستگی اور دوسروں کی تکلیفوں کا خیال رکھا جاسکے۔ ٭منافقین طرح طرح کی شرارتوں کے منصوبے بنانے کے لئے چھپ چھپ کر سرگوشیاں کیا کرتے تھے تاکہ دین اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جو ان کے دلوں میں بغض و حسد کی آگ لگ رہی تھی اپنی تسکین کا سامان کرسکیں۔ فرمایا کہ ان کی سرگوشیاں اور منصوبہ بندیاں اللہ کی تدبیر کے سامنے دھری رہ جائیں گی اور وہ اہل ایمان کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ مومنوں کو چاہیے کہ وہ نہایت خلوس سے دین کی جدوجہد کرتے رہیں اگر کسی سرگوشی میں کوئی گناہ، ظلم و زیادتی اور اللہ و رسول کی دشمنی نہ ہو تو اس سرگوشی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ایک ادب یہ سکھایا گیا کہ کسی مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوں اور باہر سے کچھ اور لوگ آکر بیٹھنا چاہیں تو آنے والوں کے لئے گنجائش پیدا کرنے کے لئے سمٹ سمٹ کر بیٹھ جائیں کیونکہ یہ آداب مجلس کے خلاف ہے کہ کچھ لوگ بیٹھے رہیں اور کچھ انتظار میں کھڑے رہیں یا ایک دوسرے کو پھاندتے پھلانگتے اندر گھسنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی خود غرضی اور تنگ دلی ہے کہ آنے والوں کا خیال نہ رکھا جائے۔ ٭اسی میں ایک ادب یہ بھی سکھایا گیا کہ کسی محفل میں اس طرح جا کر بیٹھ جانا کہ دوسروں کی ضروریات اور پریشانیوں کا خیال ہی نہ کیا جائے یہ بات بھی قطعاً مناسب نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے صاحب خانہ کو کوئی ایسی ضرورت ہو جس کا اظہار وہ کرنا مناسب نہ سمجھتا ہو۔ فرمایا کہ اگر وہ زبان سے یا اپنے کسی انداز سے اشارے سے سے یہ کہہ دے کہ میں مصروف ہوں تو لوگوں کو اس جگہ یا محفل سے اٹھ جانے میں اپنی بےعزتی محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اخلاق کریمانہ کا پیکر تھے اور صحابہ کرام (رض) جن کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہو کر زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں کبھی کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ضروری کام ہوتا اور صحابہ کرام (رض) دیر تک بیٹھنا چاہتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے ان کو منع نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو فرمایا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو تم سے نہیں کہتے کہ شرماتے ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی کے آرام و راحت اور ضروریات کا خیال رکھیں۔ مختصر بیٹھیں اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں کہ آنے والوں کے لئے جگہ خالی کردیں۔ گنجائش پیدا کریں یا اٹھ کر چلے جانے کے لئے فرمائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر حکم اور اشارے کی تعمیل کی جائے اور تمام اہل ایمان کو قیامت تک اسی طرح کے مجلسی آداب کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ اگر کسی کو نبی کری (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات خاموشی سے علیحدگی میں کرنا ہو تو وہ پہلے صدقہ دے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں بات کرے۔ مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام (رض) اس بات کو سمجھ لیں اور اس عادت کو چھوڑ دیں۔ چناچہ جب اس کی عادت پڑگئی اور صحابہ (رض) کرام سمجھ گئے تو اس حکم کو منسوخ کردیا گیا۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ( ہوسکتا ہے ان میں منافق بھی ہوں) اپنی اہمیت جتاتے اور یہ بتانے کے لئے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت قریب ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کا بہت لحاظ فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں ملاقات کی خواہش کرتے اور پھر جم کر بیٹھ جاتے تھے جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی تھی مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سے کچھ نہ فرماتے تھے۔ ٭انصار اور مہاجرین جو ایمان لے آئے تھے وہ دین کے لحاط سے تو کفار سے علیحدہ ہوچکے تھے مگر رشتہ داریاں بہرحال قائم تھیں۔ بعض صحابہ (رض) اپنے رشتہ داروں سے ملتے اور بعض صحابہ (رض) کفار کو دشمن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ کر ان سے بات تک کرنا گوارا نہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کو ہر ایک کے ایمان و اخلاص کا پوری طرح علم ہے۔ وہ لوگ جو منافق ہیں اور دشمنان اسلام سے ملتے ہیں وہ کتنی ہی قسمیں کھا کر یقین دلائیں کہ ان کا مقصد محض رشتہ داریوں کا لحاظ کرنا تھا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ جب وہ کفار سے ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں فرمایا ایسے لوگ شیطان کے گروہ میں شامل ہیں اس لئے اللہ ان کو پسند نہیں کرتا لیکن جو لوگ ایمان اور اخلاص کا پیکر ہیں وہ اللہ کی جماعت ہیں وہی ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ صحابہ کرام (رض) اللہ کی ہر رضا پر راضی ہیں۔

Ayahs 58:1–6

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اس (عورت) کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی تھی۔ اللہ تم دونوں کی بات سن رہا تھا۔ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں ( یہ کہہ دیتے ہیں کہ تو میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے) وہ (کہنے سے) ان کی مائیں نہیں بن جاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ اور بلا شبہ وہ ایک نامعقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں اور پھر وہ ان سے رجوع کرنا چاہتے ہیں ( اس سے) جو انہوں نے کہا تھا تو ان کے ذمے آپس میں ملنے سے پہلے (صحبت کرنے سے پہلے) ایک غلام آزاد کرنا (لازمی) ہے اس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے۔

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو غلا میسر نہ ہو تو اس کو ملاقات سے (صحبت سے) پہلے مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنے ہیں۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر اس کے ذمے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس نے یہ حکم تمہیں اس لئے دیا ہے تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ یہ اللہ کی حدود ہیں۔ (جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے) اور کافروں کے لئے بدترین عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالت کرتے ہیں وہ اس طرح ذلیل و رسوا کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل و رسوا کئے گئے تھے۔ حالانکہ ہم نے صاف صاف احکامات نازل کئے تھے۔ اور کافروں کے لئے ذلت والا عذاب ہے۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

وہ دن (زیادہ دور نہیں ہے کہ) جب اللہ سب کو جمع کرے گا۔ پھر وہ ان کے کئے ہوئے کاموں سے آگاہ کرے گا جن اعمال کو وہ بھول گئے مگر اللہ نے شمار کر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر گواہ اور نگران ہے۔

لغات القرآن۔ سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔ تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہوسکی اور باہمی اختلافات بڑھ کر بات طلاق تک پہنچ گئی تو وہ اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں چاہے دیدیتے اور پھر جب چاہتے اس سے رجوع کرلیتے اس طرح عورتیں مردوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گئی تھیں اور مردوں کے ظلم و ستم سے نکلنے کا مظلوم عورتوں کے لئے کوئی راستہ نہ تھا۔ دین اسلام نے طلاق کے لئے ایسے اصول عطا فرمائے کہ جس سے کسی شخص کو عورت پر ظلم و زیادتی کرنے کا راستہ نہ مل سکے۔ عربوں میں طلاق کے لئے تو یہ تصور تھا کہ اگر طلاق دیدی جائے تو اس سے رجوع کیا جاسکتا ہے لیکن اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہ کہہ دیا ” انت علی کظھر امی “ یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس لفظ کے ادا کرتے ہی گویا وہ اپنی بیوی سے قطع تعلق کا ایک ایسا اعلان سمجھا جاتا تھا جس سے کسی حال مین رجوع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کو عربی میں ” ظہار “ کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مجادلہ کی ان زیر مطالعہ آیات میں بالکل صاف صاف اعلان فرمادیا ہے کہ تم می سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں یعنی یہ کہہ دیتے ہیں کہ تو میری ماں جیسی ہے تو کہ کہنے سے ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں کیونکہ درحقیقت مائیں تو وہی ہیں جن کو کوکھ سے انہوں نے جنم لیا ہے۔ فرمایا کہ اپنی بیوک کو ماں کہہ دینا انتہائی غیر سنجیدہ، نامعقول اور جھوٹ بات ہے جس کی توقع ایک سمجھد ار اور باوقار مومن سے نہیں کی جاسکتی لیکن جو لوگ اس سے رجوع کرنا چاہیں وہ کفارہ ادا کرکے پھر سے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ علماء مفسرین نے ان آیات کے شان نزول میں حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ کا ایک واقعہ لکھا ہے جس سے ان آیات کی پوری طرح وضاحت ہوجاتی ہے۔ قبیلہ اوس کے سردار حضرت عبادہ ابن صامت ؓ کے بھائی حضرت اوس ؓ ابن صامت انصاری ؓ نے اپنی بیوی حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ سے کہہ دیا کہ ” انت علی کظھر امی “ یہ کہتے ہی حضرت خولہ ؓ پر تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ غم سے نڈھال سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا آپ نے اس زمانہ کے رواج کے مطابق فرما دیا کہ میرا خیال ہے تم اپنے شوہر کے لئے حرم ہوچکی ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک ظہار کے متعلق کوئی وحی نازل نہ ہوئی تھی۔ حضرت خولہ ؓ نے رونا پیٹنا شروع کیا اور نبی کریم ﷺ اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے کہنا شروع کیا یا رسول اللہ ﷺ جب اسلام میں طاق کے احکامات ہیں اور ظہار کے لئے کوئی حکم نہیں ہے تو پھر اس رواج کو کیوں مانا جائے۔ آپ ﷺ نے پھر اپنی بات ارشاد فرمادی کہ میرے خیال میں تم اپنے شوہر کے لئے حرام ہوچکی ہو۔ حضرت خولہ ؓ نے شکوے کے ساتھ ساتھ اپنے حق کے لئے جھگڑنا شروع کردیا۔ ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ حضور اکرم ﷺ پر وحی کے نزول کی کیفیت طاری ہونا شروع ہوئی تو حضرت عائشہ ؓ نے اشارہ سے حضرت خولہ ؓ کو چپ رہنے کے لئے کہا۔ اس وت سورة مجادلہ کی یہ ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں اس زمانہ کے چلتے ہوئے قانون کو منسوخ کرکے خانگی اور گھریلو زندگی کو تباہی سے بچا لیا گیا۔ صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ اللہ کو اس قدر محبوب ہیں کہ قرآن کریم میں ان کی بہت سی اداؤں اور باتوں تک کو محفوظ کردیا گیا جو ان کے لئے دنیا اور آخرت کی عزت و سربلندی اور وقار کا ذریعہ ہیں۔ ان آیات میں فرما دیا کہ بیشک اللہ نے اس عورت (خولہ ؓ بن ثعلبہ) کی بات سن لی جو وہ اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکایت کر رہی تھی ( اس کی اور اے نبی ﷺ ! آپ کی) باتوں کو وہ سن رہا ہے بیشک اللہ ہی تو سب کچھ سننے اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیوی سے ظہار کرلیتے ہیں یعنی وہ کہہ دیتے ہیں کہ تو میری ماں جیسی ہے تو وہ اتنا کہہ دینے سے ان کی مائیں نہیں بن جاتیں کیونکہ مائیں تو وہی ہوتی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوتے ہیں ایسی بات کہنا بہت ہی بری اور جھوٹ بات ہے۔ لہٰذا جو لوگ ” ظہار “ کرنے کے بعد اپنی بیویوں سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو وہ صحبت و مباشرت سے پہلے ایک غلام آزاد کریں۔ اگر گلام (باندی) میسر نہ ہو تو مسلسل دو مہینے تک روزے رکھیں اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو ( دو وقت پیٹ بھر کر) کھانا کھلائیں۔ تو بہ استغفار کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ اللہ کی حدود کو خیال رکھنا ضروری ہے۔ اللہ اور اس کے رسول نے جن حدود کو مقرر کردیا ہے ان کے قریب بھی جانا اللہ اور اس کے رسول کی توہین اور مخالفت ہے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اللہ ان کو بھی اسی طرح ذلیل و رسوا کردے گا جس طرح اس نے گذشتہ امتوں کے نافرمانوں کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا تھا۔ فرمایا کہ ہر شخص کو اس بات کو خیال رکھنا چاہیے کہ اس کو بہت جلد اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے جس سے اللہ اچھی طرح واقف ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت اوس ابن صامت انصاری ؓ کو بلا کر فرمایا کہ اللہ کے حکم کے تحت تمہارے لئے رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔ اب تم ایک غلام آزاد کر دو انہوں نے اس سے معذرت چاہی آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا تو تم لگاتار دو مہینے تک روزے رکھو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اوس کا تو یہ حال ہے کہ دن میں تین مرتبہ کھانانہ کھائے تو اس کی بینائی جواب دینے لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو۔ عرض کیا میری اتنی مالی حیثیت نہیں ہے کہ میں ساٹھ آدمیوں کو کھانا کھلا سکوں آپ ہی میری مدد کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے ان کو اتنا دیدیا کہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکیں۔ اس طرح حضرت اوس ابن صامت انصاری ؓ نے ” ظہار “ سے رجوع فرمایا اور پھر وہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزارنے لگے۔ (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہ ؓ بنت ثعلبہ کی فریاد کو سن کو فوراً ہی ان پر احکامات کو نازل فرما دیا جس کی وجہ سے حضرت خولہ ؓ کو صحابہ کرام ؓ میں عزت و عظمت کا ایک خاص مقام حاصل ہوگیا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ کہیں تشریف لے جا رہے تھے راستے میں ایک خاتون ملیں انہوں نے امیر المومنین کو روکا حضرت عمر سر جھکا کر دیر تک ان خاتون کی بات سنتے رہے۔ کسی نے عرض کیا امیر المومنین آپ نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کی وجہ سے روکے رکھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جانتے ہو یہ خاتون کون ہیں ؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہیں جن کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی۔ اللہ کی قسم اگر یہ رات بھر مجھے روکے کھری رہتیں تو میں کھڑا رہتا صرف نمازوں کے اوقات میں ان سے معذرت کرتا۔ (ابن ابی حاتم۔ بیہقی) ۔ (2) ۔ ظہار کرنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ عورت بدستور اس شوہر کی بیوی رہتی ہے۔ وقتی طور پر عورت اپنے شوہر سے الگ کردی جاتی ہے۔ جب شوہر کفارہ ادا کردے گا تو جو رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی وہ دور ہوجائے گی اور وہ دونوں پھر سے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزاریں گے۔ (3) ۔ مردوں کی طرح اگر بیوی نے اپنے شوہر سے کہہ دیا کہ تو میرے باپ کی طرح ہے یا یہ کہ میں تیری ماں کی طرح ہوں تو اس سے ظہار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ نے مردوں کو طلاق دینے کا حق دیا ہے وہی ظہار کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرا ان کریم میں بالکل واضح طریقے پر فرما دیا ہے ” بیدہ عقدۃ النکاح “ کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے چاہے تو وہ گرہ بندھی رکھے اور اگر چاہے تو اس کو کھول دے یعنی طلاق دیدے۔ شریعت نے طلاق دینے کا حق عورت کو نہیں دیا ہے۔ یہ حق صرف مردوں کو دیا گیا ہے۔ (4) ۔ اگر کوئی مسلم، عاقل، بالغ اور مکمل ہوش و حواس میں ہو تو وہ ظہار کرسکتا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ دین اسلام نے مردوں کو طلاق اور ظہار کا حق ضرور دیا ہے لیکن اس کو پسند نہیں کیا ہے کہ مرد کی زبان پر (شدید مجبوری کے سوا) یہ لفظ طلاق آئے یا وہ عورت جو اس کی بیوی ہے اس کو ماں، بہن، بیٹی کے کسی عضو سے پکارے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو بہت ہی برا کرتا ہے جو اللہ ور اس کے رسول کو سخت ناپسند ہے۔ (5) ۔ وہ شخص جس نے اپنے بیوی سے ظہار کیا ہے اگر تعلق رکھنا چاہتے ہیں تو قرآن کریم کے حکم کے مطابق اس کا کفارہ ادا کرے۔ اور اگر وہ رجوع کرنا نہیں چاہتا تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے چونکہ اس میں بیوی کی حق تلفی ہے اس لئے کفارہ ادا کرکے پھر اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے۔
Ayahs 58:7–13

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا (اے مخاطب) تو نے نہیں دیکھا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ ہر بات کو جانتا ہے۔ کہیں بھی تین آدمیوں میں سرگوشی (خفیہ مشورہ) ہوتا ہے تو چوتھا اللہ ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں پانچ آدمی خفیہ بات کر رہے ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے۔ خفیہ بات کرنے والے تھوڑے ہوں یا زیادہ کوئی خفیہ مشورہ ایسا نہیں ہوتا مگر یہ اللہ ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی خفیہ مشورہ کریں۔ پھر وہ قیامت کے دن بتادے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن لوگوں کو سرگوشیوں (خفیہ سازشوں) سے روکا گیا تھا مگر وہ پھر بھی وہی کام کرتے ہیں جس سے روکا گیا تھا اور وہ آپس میں گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لئے چپکے چپکے مشورہ کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ سے سلام کرتے ہیں جن الفاط سے اللہ نے آپ پر سلام نہیں بھیجا۔ اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہم جو الفاط ادا کرتے ہیں ان پر ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں دیتا۔ (یاد رکھیں) ایسے لوگوں کے لئے جہنم کافی ہے جس میں یہ داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم جب بھی آپس میں سرگوشیاں کرو تو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کرو۔ بلکہ بھلائی اور پرہیز گاری کی باتو میں باہم مشورہ کرتے رہا کرو۔ اللہ سے ڈرتے رہو جس کے سامنے تمہیں حاضر ہونا ہے۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

ہر اس قسم کی سرگوشی کرنا شیطانی کام ہے۔ جو مسلمانوں کو رنجیدہ کردے۔ حالانکہ جب تک اللہ کا حکم نہ ہو اس وقت تک وہ اہل ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کھول دیا کرو۔ (تم ایسا کرو گے تو) اللہ تمہارے لئے کشادگی پیدا کردے گا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ (مجلس سے) اٹھ جائو تو کھڑے ہوجایا کرو۔ اللہ تعالیٰ تم میں سے اہل ایمان کو اور ان لوگوں کو جنہیں علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کردے گا۔ اور اللہ کو معلوم ہے تو جو کچھ کرتے ہو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ خیرات کردیا کرو۔ اسی میں تمہارے لئے بہتری اور پاکیزگی ہے۔ پھر اگر تمہیں (صدقہ ) میسر نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کردیا کرو۔ پھر جب تم نے اس کو نہ کیا اور اللہ نے تم سے درگذر کرلیا تو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ اللہ کو معلوم ہے تم جو کچھ کرتے ہو۔

نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔ تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔ مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر میں لگے رہتے تھے کہ اپنے دلی بغض و حسد کی آگ کو تھنڈا کرنے کے لئے اہل ایمان کے درمیان غلط فہمی اور بدگمانی کی فضا پیدا کردیں۔ ان منافقین کا یہ حال تھا کہ اگر انہیں اہل ایمان کی ذرا سی بات بھی ہاتھ لگ جاتی تو وہ اس کو جگہ جگہ اڑانے میں اپنی ساری طاقتیں لگا دیتے تھے۔ ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حضور اکرم ﷺ کی محفل کے تین بڑے برے آداب سکھائے ہیں۔ { 1۔ سرگوشیاں } منافقین اور یہودی جب بھی جاں نثاران مصطفیٰ ﷺ کو دیکھتے تو ایک دوسرے کے کان میں اس طرح سرگوشیاں کرتے جیسے وہ کوئی بہت اہم بات کر رہے ہیں اور اہل ایمان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کو بھی اس سرگوشی میں شریک کیا جائے۔ اس سے صحابہ کرام ؓ کو سخت اذیت پہنچتی اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ یا تو منافقین ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں یا وہ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اسی طرح اپنے گھروں میں پردے لٹکا کر اور دروازے بند کرکے نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور دین اسلام کے خلاف خفیہ مشورے اور سازشیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے فرمایا ہے کہ جب وہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ جس طرح وہ دنیا والوں سے بہت سی باتیں چھپا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کو دیکھنے، سننے والا کوئی نہیں ہے اللہ سے بھی چھپا لیں گے کیونکہ جہاں بھی دو یا تین چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں تو چوتھا اللہ ہوتا ہے اور جہاں بھی پانچ آدمی سرگوشیاں کر رہے ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ راز کے ہزار پردوں میں بھی جو باتیں کی جاتی ہیں وہ تین ہوں، چار ہوں یا زیادہ یا کم ہوں ان کی تمام باتوں کو اللہ سن رہا ہے اور ان کے ظاہری اور دلوں کے حالات تک سے وہ واقف ہے۔ کانوں میں چپکے چپکے باتیں اور سرگوشیاں کرنا برا بھی ہے اور اچھا بھی۔ اگر سرگوشی کسی اعلیٰ اور بہتر مقصد کے لئے کی جا رہی ہے تو اس پر اجرعظیم ہے لیکن اگر یہ سرگوشی کسی سازش راز داری اور اہل ایمان کو چڑانے یا اذیت دینے کے لئے کی جا رہی ہے تو یہ نہ صرف انتہائی گھٹیا حرکت ہے بلکہ اللہ کی طرف سے سخت سزا دئیے جانے کا سبب بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة نساء کی آیت نمبر 116 میں ارشاد فرمایا ہے۔ اکثر سرگوشیاں وہ ہوتی ہیں جن میں کوئی خیر ہیں ہوتی۔ ہاں اگر صدقہ کرنے، نیکیوں اور بھلائیوں کو پھیلانے اور لوگوں میں باہمی صلح و صفائی اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہو تو ایسا کرنے والوں کو اجر عظیم عطا کیا جائے گا۔ سورة مجادلہ کی زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے مومنو ! تم جب بھی آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانیوں کی سرگوشیاں نہ کرو بلکہ بھلائی اور پرہیز گاری کی باتوں میں سرگوشیاں کیا کرو۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے جس کے سامنے تمہیں ایک دن حاضر ہونا ہے۔ بری سرگوشی درحقیقت شیطان کا کام ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ مومنوں کو رنجیدہ کردے اور کوئی نقصان پہنچائے لیکن شیطان کی کوششوں کے باوجود کسی کو اس وقت تک نقصان نہیں پہنچ سکتا جب تک اللہ نہ چاہے۔ ایمان والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ اگر سرگوشی خیر اور بھلائی کے لئے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اس پر اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے البتہ اللہ کے نزدیک وہ سرگوشی سخت ناپسندیدہ ہے جو کسی برے ارادے اور بری نیت سے کی گئی ہو۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین اپنی اہمیت جتانے کے لئے نبی کریم ﷺ سے یہ درخواست کرتے کہ ہمیں تنہائی میں آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں۔ آپ ان کو اجازت دیدیتے۔ وہ منافقین علیحدہ بیٹھ کر اتنی فضول باتیں کرکے وقت ضائع کردیتے کہ جس سے بعض صحابہ کرام جو اپنے ذاتی مسائل میں آپ سے بات کرنے کے خواہش مند ہوتے تھے وہ اس سے محروم رہ جاتے۔ آپ اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے سب کچھ جاننے کے باوجود کسی سے کچھ نہ فرماتے اور اس اذیت کو برداشت فرما لیا کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ منافقین آپ سے علیحدہ وقت لے کر اس بات کا اظہار کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے بہت قریب ہیں اور آپ ﷺ ان کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ آپ سے سرگوشی کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے کچھ صدقہ دیدیا کریں۔ جب یہ حکم آیا تو منافقین اپنی ذہنی کمینگی اور کنجوسی کی وجہ سے ڈر گئے کہ اب اگر ہم علیحدگی میں کوئی بات کریں گے تو ہمیں سدقہ بھی دینا پڑے گا۔ لیکن وہ صحابہ کرام ؓ جو آپ ﷺ کی عظمت کو پہنچانتے تھے وہ سمجھ گئے کہ اللہ کی طرف سے اس حکم میں کیا راز پوشیدہ ہے چناچہ صحابہ کرام ؓ نے علیحدگی میں سرگوشی کرنے سے اجتناب شروع کردیا کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے محبوب نبی ﷺ کو کسی طرح اور کسی قسم کی بھی تکلیف دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مومنو ! کیا تم اس حکم دے ڈر گئے حالانکہ اللہ تم سے درگذر کرنے والا یعنی معاف کرنے والا ہے۔ بہرحال تم نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ ادا کرتے رہو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے کہ تم جو کچھ کرتے ہو۔ مراد یہ ہے کہ تمہاری زندگی کو جو مشن اور مقصد ہے اس میں لگے رہو اس سے منہ نہ پھیرو۔ اگر آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنا ضروری ہو تو اس میں اللہ کے احکامات کا ضرور خیال رکھو۔ (1) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے ہیں تو تیسرے آدمی کو ان سے اجازت لینی چاہیے (تاکہ ان دونوں کو ناگوار نہ گزرے) ۔ (صحیح مسلم) ۔ (2) ۔ فرمایا کہ جب تین آدمی بیٹھے ہوں تو دو آدمی آپس میں چپکے چپکے باتیں (سرگوشیاں) نہ کریں کیونکہ یہ بات تیسرے آدمی کے لئے رنج کا باعث ہوسکتی ہے۔ اسی طرح دو آدمی کسی ایسی زبان میں بات نہ کریں جس کو پاس بیٹھا تیسرا آدمی سمجھتا نہ ہو کیونکہ اس سے اس کے دل میں بدگمانی پیدا ہوسکتی ہے یا وہ اجنبیت محسوس کرسکتا ہے۔ { 2۔ سلام کو بگاڑ کر کہنا } ان منافقین کی ڈھٹائی، بےادبی اور گستاخی کی انتہا یہ تھی کہ جب وہ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تو اللہ نے جن الفاظ کے ساتھ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور خود نبی کریم ﷺ پر سلام بھیجا ہے وہ اس کو بگار کر ” السلام علیکم “ کے بجائے ” السام علیکم “ کہتے تھے جس کے معنی ہیں تمہیں موت آجائے۔ ایک مرتبہ منافقین نے اسی طرح نبی کریم ﷺ کو سلام کیا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے سن لیا۔ ام المومنین نے فرمایا کہ اللہ تمہیں غارت کردے اور اس کی تم پر لعنت اور غضب ہو تم کس طرح سلام کر رہے ہو ؟ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو روکتے ہوئے فرمایا کہ اے عائشہ اللہ کو ایسا کلام پسند نہیں ہے جس میں سختی ہو تمہیں نرمی سے بات کرنا چاہیے۔ عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان لوگوں نے آپ کو کیا کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے سن لیا ہے اور میں نے اس کا مناسب جواب بھی دیدیا ہے کیونکہ میں نے جواب میں کہا ” وعلیکم “ یعنی تم پر بھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان کی دعاتو قبول نہ ہوگی البتہ میری دعاضرور قبول ہوگی۔ اس لئے ان کی شرارت کا بدلہ تو ہوگیا۔ (بخاری شریف) ۔ منافقین حضور اکرم ﷺ کو ان برے الفاظ سے سلام کرکے اپنے دل میں کہتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہوتے تو ایسے برے الفاظ جو ہم اکثر کہتے رہتے ہیں ان کی وجہ سے اللہ کا قہر فوراً ٹوٹ پڑتا اور ہم تباہ ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر اللہ کا غضب تو آئے گا مگر اس جہنم کی شکل میں آئے گا جو بدترین ٹھکانا ہوگا۔ { 3۔ مجلس میں بیٹھنے کے آداب }۔ تیسرا ادب یہ سکھایا گیا کہ جب تم سے یہ کہا جائے کہ مجلس میں کشادگی پیدا کرو تو کھل کر بیٹھ جایا کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تمہارے لئے کشادگی پیدا کردے گا اور اگر (کسی مصلحت کی وجہ سے ) تم سے یہ کہا جائے کہ تم (مجلس سے ) اٹھ جائو تو کھڑے ہوجایا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تم میں سے اہل ایمان اور اہل علم کے درجات کو بلند کردے گا۔ مفسرین نے آیات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اصحابہ صفہ ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے کچھ بدری صحابہ ؓ بھی آگئے (جن کا اسلام میں اعلیٰ ترین مقام ہے) چونکہ بیٹھنے کی جگہ نہ تھی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ وہ مجلس میں وسعت پیدا کریں یعنی جو بعد میں آنے والے ہیں ان کیلئے جگہ بنا دیں اور آپ نے یہ بھی فرمادیا کہ جو لوگ دیر سے بیٹھے ہیں وہ اٹھ جائیں تاکہ بعد میں آنے والے بھی استفادہ کرسکیں۔ یہ اتنی بڑی بات نہ تھی لیکن منافقین اور یہودیوں کو تو ایک بہانہ چاہے تھا انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ یہ تو انصاف کے خلاف ہے کہ جو لوگ پہلے سے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو اٹھا کر دوسروں کو بٹھا دیا جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس کو اٹھنے کا حکم دیا جائے اور اس حکم کی تعمیل میں اٹھ جائے تو اس سے اس کا درجہ گھٹ نہیں جاتا بلکہ اللہ اس کے درجات کو بہت بلند فرما دیتا ہے کیونکہ انہوں نے رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل کی ہے جس پر بہت اجرو ثواب ہے۔ آداب محفل کی لئے نبی کریم ﷺ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں ایسی کشادگی پیدا کرے جس سے آنے والے کو جگہ مل جائے۔ (بخاری۔ مسلم۔ ترمذی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر دو آدمی بیٹھے ہوں تو ان کے درمیان تیسرے آدمی کو بغیر ان دونوں کی اجازت کے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ (ابو دائود۔ ترمذی۔ مسند احمد) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اگر کسی مجلس میں دو آدمی بیٹھے ہوں تو وہ ان دونوں کے درمیان دوری پیدا کردے جب تک ان سے اجازت نہ لے لے۔ (ابو دائود۔ ترمذی) ۔ آداب مجلس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٭مجلس میں جہاں بھی جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔ مجمع کو چیرتے پھاڑتے اور پھلانگتے آگے جانے کی کوشش کرنا اس لئے مناسب نہیں ہے کہ اس سے ان لوگوں کو شدید تکلیف پہنچتی ہے جو پہلے سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ٭مجلس سے کسی بیٹھے ہوئے کو اٹھانا اور اس کی جگہ بیٹھ جانا بہت بری بات ہے اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اس سے بچنا چاہیے۔ ٭مجلس میں دو آدمی چپکے چپکے باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو ناگواری محسوس ہوتی ہے اور اس سے بدگمانی پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ دونوں ہمارے خلاف ہی تو باتیں نہیں کر رہے ہیں۔
Ayahs 58:14–22

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل کیا گیا۔ یہ لوگ نہ تو تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں۔ اور یہ لوگ جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بیشک وہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

ان (منافقین نے) اپنی قسموں کو ( اپنے بچائو کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ لہٰذا ان کے لئے ذلت و رسوائی والا عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کی اولادیں اللہ کے مقابلے میں ( ان کے) کسی کام نہ آسکیں گے یہ جہنم والے ہیں جو اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو جمع کرے گا تو یہ اللہ کے سامنے اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ انہوں نے کوئی اچھی بات کہی ہے۔ سنو ! یہ بڑے ہی جھوٹے لوگ ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان نے پوری طرح قابو پا رکھا ہے۔ جس نے انہیں اللہ کی یاد سے غاگل کر رکھا ہے۔ یہ شیطانی جماعت ہے۔ سنو ! کہ شیطان کا لشکر ہی تباہ ہونے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ اس بات کو لکھ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول دونوں غالب رہیں گے بیشک اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے محبت کرتے نہ دیکھیں گے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ان کے باپ دادا، بیٹے، بھائی یا کنے والے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے یقین کو جما دیا ہے ۔ اور ان کے دلوں کو اپنے فیض سے قوت دی ہے۔ وہ اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یہ اللہ کی جماعت ہے۔ سنو ! کہ بیشک اللہ کی جماعت ہی فلاح و کامیابی حاصل کرنے والی ہے۔

لغات القرآن۔ یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی تعلقات مین اگر اہل ایمان کا نقصان اور غیرت مسلم کا ۔ ۔ پیش آجائے تو پھر وہ بھی جائز نہ ہوگا۔ مدینے کے یہودی اور کفار جو دکھانے اور کچھ دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لئے بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے اور دیکھا دیکھی مسلمانوں کے ساتھ عبادات میں بھی شریک رہتے تھے وہ ذہنی الجھن اور کشمکش کا شکار ہو کر رہ گئے تھے۔ نہ تو ان کا مخلصانہ تعلق اہل ایمان سے تھا اور نہ یہودو نصاریٰ اور مشرکین سے بلکہ وہ اپنے وقتی مفادات کے لئے دونوں سے رشتہ اور تعلق قائم کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے۔ چونکہ ان کی سوچ اور ذہنیت مجرمانہ بن چکی تھی لہذا اگر انہین اس بات کا خطرہ پیدا ہوتا کہ ان کا نفاق اور جھوٹ کھل جائے گا تو وہ جھوٹی قسمیں کھانے سے بھی گریز نہ کرتے تھے۔ جھوٹی قسمیں کھا نے کی عادتیں اتنی پختہ ہوچکی ہوں گی کہ جب قیامت میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور ان منافقین سے پوچھا جائے گا تو وہاں بھی اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دراصل ان کے دل و دماغ اور حواس پر شیطان نے اس طرح قابو پا لیا ہے کہ وہ شیطان کی گرفت سے کوشش کے باوجود نکل نیں سکتے۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت کے عذاب سے بھی نہ بچ سکیں گے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو سچے مومن ہیں ان کے نزدیک صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہی سب کچھ ہے۔ ان کے نزدیک رشتہ داریاں، تعلقات اور ذاتی مفادات سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی تعمل کرنا ہے۔ اس تعملیل میں اگر رشتہ داریاں اور تعلقات حائل ہونے کی کوشش کریں تو وہ ان کو کاٹ کر پھینک دینے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد اس کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ غزوہ بند ر میں حضرت معصب ابن عمیر ؓ کے سگے بھائی ابو عزیز ابن عمیر کو ایک انصاری صحابی ؓ گرفتار کرکے ان کے ہاتھ پیر باندھ رہے تھے۔ حضرت معصب ؓ نے پکار کر کہا ذرا مضبوط باندھنا اس کی ماں بڑی مال دار ہے اس کی رہائی کے لئے وہ تمہیں بہت سافدیہ دے گی۔ ابو عزیر نے کہا کہ تم بھائی ہو کر یہ بات کہہ رہے ہو ؟ حضرت معصب ؓ نے جواب دیا کہ اس وقت تم میرے بھائی نہیں ہو بلکہ یہ انصاری میرا بھائی ہے جو تمہیں گرفتار کرکے لایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے نفاق کا راستہ اختیار کر رکھا ہے وہ کسی کا دوست نہیں ہوتا اس کو صرف اپنا ذاتی مفاد عزیز ہوتا ہے جہاں اسے اپنا ذاتی فائدہ نظر آتا ہے وہ اسی طرف جھکتا چلا جاتا ہے اور ہر ایک کو راضی کرنے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ لیکن جس دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت رچ بس جاتی ہے اس کے نزدیک اپنے ذاتی مفادات، دوستیوں، رشتہ داریوں اور ہر طرح کے تعلقات کی اللہ ورسول کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ایک مومن کی حیثیت سے انسانیت کی خدمت، مجبوروں اور بیکسوں سے ہمدردی کرنے کو، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کو اپنے دین و مذہب کا جزو سمجھتا ہے اور اس کا قلبی تعلق اور محبت صرف اللہ اور اس کے رسول ہی کے لئے ہوتی ہے۔ ان تمام باتوں کو زیر مطالعہ آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے بی ﷺ آپ نے کبھی ان منافقین کے حالات پر غور کیا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل کیا گیا (یعنی یہودو نصاریٰ ) حقیقت یہ ہے کہ یہ منافق نہ تو تم میں سے ہیں اور نہ ان (یہودیوں) میں سے۔ یہ تو اپنے مفاد کے بندے ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ اپنے حق میں بہت برا کر رہے ہیں۔ ان کا عذاب الٰہی سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ یہ جھوٹی قسموں کو اپنا سہارا اور ڈھال بنائے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ اپنی اولادوں اور گھر والوں کے لئے مال بٹورتے رہتے ہیں لیکن یہ بدنصیب لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مال و دولت اور بال بچے اس کو قیامت کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ شیطان ان پر اس طرح مسلط ہوگیا ہے کہ یہ اس کے جال سے باہر نکل ہی نہیں سکتے یہ شیطانی جماعت بن چکے ہیں۔ اگر یہ لوگ بڑا جتھا بن بھی جائیں پھر بھی اہل ایمان پر غالب نہ آسکیں گے۔ اللہ نے یہ طے کرلیا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی سب پر غالب رہیں گے کیونکہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی ہے اس کے سوا کسی کی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں وہ کبھی ایسے لوگوں سے قلبی تعلق نہیں رکھ سکتے جو اللہ و رسول کے دشمن ہیں۔ اگرچہ وہ ان کے باپ، دادا، بھائی اور عزیر و اقارب ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کے یقین کو جما دیا ہے اور ہر جگہ ان کو باطنی قوت اور باطنی سکون و اطمینان حاصل رہتا ہے۔ ان کا انجام بہترین ہے۔ ان کے لئے جنت کی راحتیں، بہتی ہوئی نہریں اور راحت و آرام کا ہر سامان موجود ہوگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ ہر حال میں اللہ کی رضا میں راضی ہیں۔ درحقیقت یہ اللہ کی جماعت ہے اور ہر شخص کو مان لینا چاہیے کہ ساری فلاح و کامیابی صرف اللہ کی جماعت ہی کو حاصل ہوگی۔