Ayah 58:1(58:1) قد سمع اللہ : قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا معنی دیتا ہے اور ماضی کے ساتھ ہی تقریب کا فائدہ بھی دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال کے قریب بنا دیتا ہے۔ بیشک اللہ نے سن لیا ہے (قول کو)
قول التی تجادلک : قول مفعول فعل سمع کا التی اسم موصول واحد مؤنث ۔ تجادل فعل مضارع واحد مؤنث غائب۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جھگڑا کرنا۔ باہم جھگڑنا۔ ک ضمیر واحد مؤنث حاضر۔ صلہ۔ موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر مضاف الیہ اس عورت کا قول جو آپ سے تکرار کر رہی تھی۔
فی زوجھا۔ اپنے خاوند کے بارے میں۔
وتشتکی واؤ عاطفہ۔ تشتکی مضارع واحد مؤنث غائب۔ معطوف، جس کا عطف تجادلک پر ہے۔ وقیل حال من فاعلہ ای تجادلک وہی متضرعۃ الی اللہ تعالیٰ (تفسیر حقانی)
اشتکاء (افتعال) مصدر بمعنی گلہ شکوہ کرنا۔ شکایت کرنا۔ وتش کی الی اللہ تعالیٰ اور وہ اللہ سے شکوہ کر رہی تھی۔ جملہ حالیہ بھی ہوسکتا ہے۔
واللہ یسمع تحاورکما۔ جملہ سابقہ کی طرح یہ جملہ بھی حالیہ ہوسکتا ہے۔ تحاورکما : مضاف مضاف الیہ۔ تم دونوں کو باہم سوال و جواب، تم دونوں کی باہم گفتگو۔ تحاور (تفاعل) مصدر ہے۔ کما تثنیہ مذکر حاضر ۔ تم دونوں کی۔
ان اللہ سمیع بصیر : یہ ما قبل کی تغلیل ہے کیونکہ بیشک وہ سمیع وبصیر ہے۔ سمیع سمع سے۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کی سماعت ہر شی پر حاوی ہے۔ بصیر بمعنی فاعل بروزن فعیل : دیکھنے والا۔
Ayah 58:2(58:2) الذین یظھرون منکم من نسائھم۔ موصول و صلہ مل کر مبتداء ماھن امھاتھم۔ مبتداء کی خبر۔ بکسر التاء علیٰ انہ ، خبر اوبضمہا علی اللغۃ التمیمیتہ 12 (تفسیر حقانی) ما نافیہ حجازی استعمال میں لیس کی طرح اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔
یظھرون مضارع جمع مذکر غائب ظھر مادہ سے۔ بمعنی پشت ہے۔ باب مفاعلۃ سے منجملہ دیگر معانی کے ایک یہ بھی ہے کہ :۔ مرد عورت سے کہے کہ انت علی کظھر امی (تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت) اس کو مرد کا عورت سے اظہار کرنا کہتے ہیں
بعض کے نزدیک مرد کا عورت سے ظہار کرنا ظھر بمعنی پشت سے نہیں لیا گیا بلکہ یہ ظھر بمعنی علو سے لیا گیا ہے جس سے مراد چڑھنا ہے یعنی مرد جو اپنی بیوی پر چڑھتا ہے اس کو اپنی ماں پر چڑھنے سے تشبیہ دے رہا ہے زمانہ جاہلیت میں ایسا کرنا سخت طلاق کے مترادف تھا۔ اور مرد کے ایسا کہنے سے طلاق ہوجاتی تھی۔
شروع زمانہ اسلام میں بھی اس کو طلاق ہی قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن سورة مجادلہ کی ابتدائی آیات (1 تا 6) نازل ہونے پر اس کی شرعی صورت یہ ہوگئی کہ ظہار کرنے سے بیوی مرد پر حرام ہوجاتی تاآنکہ اس کا کفارہ ادا نہ کیا جائے اس ظہار سے اطلاق واقع نہیں ہوتی۔
یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔
منکم۔ تم میں سے۔ توبیخ للعرب لانہ کان من ایمان اہل جاہلیتہم دون سائر الامم (مدارک التنزیل) یہ عربوں کے لئے بطور ملامت ہے کیونکہ دوسری امتوں سے الگ یہ (ظہار کرنا) خاصۃ زمانہ جاہلیت میں ان کے ایمان میں سے تھا۔
ان امھاتھم ان نافیہ ہے۔ امھاتھم مضاف مضاف الیہ ۔ وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔
الا الی۔ الا حرف استثناء الی اسم موصول جمع مؤنث۔ ولدنھم صلہ ولدن ماضی جمع مؤنث غائب ۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ترجمہ :۔ نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہ جنہوں نے ان کو جنا ہے۔
لیقولون : لام تاکید کا ہے۔ یقولون جمع مذکر غائب ۔ وہ کہتے ہیں۔
منکرا۔ اسم مفعول۔ بری بات۔ وزروا۔ واؤ عاطفہ زورا زور اور ازوار سے ہے جس کے معنی انحراف کے ہیں۔ چونکہ جھوٹ بولنا حق سے منحرف ہونا ہے اس لئے اس کو زور کہا جاتا ہے۔ زورا مفعول ثانی ہے یقولون کا۔ بیشک یہ لوگ بہت بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں۔
فعو بہت معاف کرنے والا۔ خداوند تعالیٰ کا اسم صفت فعو (باب نصر) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔
غفور بہت بخشنے والا۔ غفران (باب نصر) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 58:3(58:3) والذین یظھرون من نسائھم مبتداءتحریر رقبۃ۔ ای فعلیہم تحریر رقبۃ خبر۔
ثم۔ تراخی مدت کے لئے ۔ پھر۔ کچھ مدت کے بعد۔
یعودون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عود (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ لوٹیں۔ وہ رجوع کریں۔ عود لما قالوا کے علماء نے مختلف معانی لئے ہیں۔
(1) بعض کے نزدیک لام بمعنی عن ہے یعنی اپنے پہلے قول سے لوٹ جاتے ہیں ۔ یعنی حرام کرلینے کے قول سے لوٹ کر حلت کے خواستگار ہوتے ہیں۔
(2) بیضاوی (رح) نے لکھا ہے لام بمعنی الیٰ ہے یعنی اپنے قول کی تلافی کی طرف لوٹ آتے ہیں ۔
(3) فراء نے کہا ہے کہ لام بمعنی فی ہے۔ عاد فلان لما قال کے دو معنی ہیں۔ فلاں شخص اپنی کی ہوئی بات میں لوٹ آیا، یا کہی ہوئی بات کے خلاف کرنے لگا اور اس کو توڑنے لگا۔
(4) ثعلب نے کہا ہے کہ : جس کو انہوں نے حرام کرلیا تھا اس کو حلال کرنے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔
ماقالوا سے مرا ہوگی وہ بات جس کے لئے لفظ ظہار کہا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ونرثہ ما یقول (19:80) یہاں یقول سے مراد کہنا نہیں ہے بلکہ وہ مال مراد ہے جس کے متعلق وہ کہتا ہے۔ اس میں اور بھی اقوال ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام انہوں نے کیا تھا اس پر پشیمان ہوکر پہلی حالت کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔
علامہ پانی پتی (رح) نے ترجمہ کیا ہے :۔ اور جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں۔ پھر اپنی کی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمے ایک بردہ آزاد کرنا ہے۔
تحریر رقبۃ مضاف مضاف الیہ۔ تحریر بروزن تفعیل مصدر ہے۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ گردن۔ جان۔ فلام۔ رقبۃ اصل میں گردن کا نام ہے پھر جملہ بدن انسانی کے لئے استعمال ہونے لگا اور عرف عام میں یہ غلاموں کا نام پڑگیا۔ جس طرح کہ الفاظ راس ظھر کا استعمال سواریوں کے لئے کیا جانے لگا۔ رقبۃ کی جمع رقاب ہے۔
من قبل ان یتماسا۔ قبل مضاف ان مصدریہ یتماسا مضارع تثنیہ مذکر غائب۔ تم اس (تفاعل) مصدر۔ مس مادہ۔ دونوں کے ایک دوسرے کو مس کرنے سے پہلے۔ امام شافعی کے نزدیک یہاں مس کرنے سے مراد ہے جماع کرنا۔ اور امام اعظم کے نزدیک ہر قسم کا لگاؤ مراد ہے۔ جماع ہو یا صرف ہاتھ سے چھونا۔ یا باشتہاء صنفی شرمگاہ کو دیکھنا ۔
ذلکم : مبتدائ۔ ذا اسم اشارہ ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر خطاب کے لئے ہے بمعنی یہ۔ یہی۔ مراد ذلکم سے کفارہ کا حکم ہے۔ کم سے خطاب نزول آیت کے وقت حاضر مومنون سے ہے۔ یا ان سے اور امت کے سارے مؤمنین سے ہے۔
توعظون بہ : خبرہ واللام فی لما قالوا متعلق بیعودون وما مصدریۃ ویمکن ان تجعل بمعنی الذی ونکرۃ موصوفۃ، وقیل اللام بمعنی فی۔ وقیل بمعنی الیٰ وقیل فی الکلام تقدیم وتاکٰر۔ تقدیرہ ثم یعودون فعلیہم تحریر رقبۃ لما قالوا فصیام شھرین ای فعلیہ صیام شھرین۔ 12 (حقانی)
توعظون مضارع جمع مذکر حاضر۔ وعظ (باب ضعب) مصدر۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب حکم کفارہ کے لئے ہے۔ اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔
Ayah 58:4(58:4) فمن لم یجد :تعقیب کا ہے من موصولہ، لم یجد صلہ۔ اس کا مفعول محذوف ہے ۔ ای فمن لم یجد رقبۃ۔ پھر جس جو غلام میسر نہ ہو۔
فصیام شھرین متتابعین ای فعلیہ صیام شھرین متتابعین۔ تو اس کے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں۔تعقیب کا ہے صیام مضاف۔ شھرین متتابعین موصوف مل کر مضاف الیہ۔ متتابعین : اسم فاعل تثنیہ مذکر تتابع (تفاعل) مصدر سے بمعنی پے در پے لگاتار۔ شھرین : دو مہینے، شھر سے تثنیہ کا صیغہ۔
فمن لم یستطع۔ ای فمن لم یستطع صیام شھرین متتابعین۔ پھر جو طاقت نہ رکھے دو مہینوں کے لگاتار روزوں کی۔
فاطعام۔ ای فعلیہ اطعام ستین مسکینا۔ تو اس کے ذمہ ہے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
وللکفرین عذاب الیم : کفرین : ای الذین یتعدونھا ولا یعلمون بھا والطلق الکافر علی متعدی الحدود تغلیظا بزجرہ ونظیر ذلک قولہ تعالیٰ ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین (3:97) یعنی وہ لوگ جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتے ان لوگوں کو کافر اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کو سختی سے باز رکھا جائے جس طرح ومن کفر ۔۔ میں کفر سے مراد حقیقی کفر نہیں بلکہ زجرو توبیخ کے لئے انکار کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (روح المعانی، ضیاء القرآن)
تلک اسم اشارہ ہے۔ واحد مذکر۔ یعنی یہ کفارہ کا متبادل حکم ۔ ومحلہ النصب بفعل معلل بقولہ لتومنوا ۔ اوالرفع علی الابتداء (تفسیر حقانی)
لتؤمنوا۔ لام تعلیل کا ہے تؤمنوا اصل میں تؤمنون تھا۔ لام علت کے عمل سے نون غر گیا۔ (یہ حکم اس لئے بیان کیا گیا کہ اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لے آؤ) ۔ یہاں ایمان سے مراد احکام شرعیہ پر عمل ہے جیسے کہ آیت وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (2:143) میں ایمان سے مراد نماز ہے۔
Ayah 58:5(58:5) یحادون مضارع جمع مذکر غائب محادۃ (مفاعلۃ) مصدر سے وہ مخالفت کرتے ہیں۔
کبتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کبت (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی زمین پر گرا دینا۔ دشمن کو ذلیل و خوار کرنا۔ وہ ذلیل کئے جائیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
لیقطع طرفا من الذین کفروا او یکبتہم فینقلبوا خائبین (3:27) (یہ خدا نے) اس لئے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے۔ کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں۔
Ayah 58:6(58:6) یوم : اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے ۔ یاد کر جس دن۔
یبعثم : مضارع واحد مذکر غائب۔ بعث (باب فتح) مصدر۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ (جس دن) وہ ان کو اٹھائے گا۔ (یعنی دوبارہ زندہ کرکے ان کو اٹھا کھڑا کرے گا قیامت کے دن)
ینبئہم مضارع واحد مذکر غائب تنبئۃ (تفعل) مصدر۔ وہ بتادے گا۔ وہ خبر دیدے گا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
احصہ اللہ۔ احصی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب احصاء (افعال) مصدر۔ بمعنی شمار کرنا۔ گننا۔ محفوظ کرلینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ما عملوا ہے احصاء (افعال) حصا سے مشتق ہے جس کے معنی کنکری کے ہیں ۔ چونکہ عرب شمار کے لئے کنکریوں کا استعمال کرتے تھے اس لئے شمار کرنے اور محفوظ کرنے کے لئے احصاء بولا جانے لگا۔
احصی افعل التفضیل کا صیغہ بھی ہے بمعنی خوب گننے والا۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے : واحصی لما لبثوا امدا (18:12) دونوں جماعتوں میں سے ان کے غار میں رہنے کی مدت کو بہتر کون جاننے والا ہے۔
ونسوہ جملہ حالیہ ہے جبکہ وہ اسے بھلا چکے تھے۔
واللہ علی کل شیء شھید : جملہ اعتراض تذییلی ہے اللہ تعالیٰ کا ان کے اعمال کو بخوبی گن کر محفوظ کرلینے کی تائید میں لایا گیا ہے۔ شھید بمعنی شاہد یعنی وہ ہر شے پر مطلع ہے۔ کوئی شے اس سے غایت نہیں۔
Ayah 58:7(58:7) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر مضارع نفی جحد بلم (مجزوم) بمعنی الم تعلم کیا تو نہیں جانتا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔
ما فی السموت وما فی الارض : ما ہر دو جگہ موصولہ ہے یعنی آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے کلی ہے اور جزئی سب سے اللہ تعالیٰ واقف ہے۔
مایکون : میں ما نافیہ ہے یکون یہاں فعل تامہ ہے۔ اس کو خبر کی ضرورت نہیں ہے ۔ نہیں ہوتا ہے۔
جملۃ مستانفۃ مقررۃ لما قبلہا عن سعۃ علمہ یکون من کان التامۃ و قری تکون من التاء اعتبارا التانیث النحوی وان کان غیر حقیقی 12 (حقانی)
من نجوی : میں من زائدہ ہے نجوی اسم نکرہ مضاف ثلثۃ مضاف الیہ ۔ نجوی سرگوشی راز کی بات کرنا۔ کانا پوسی۔ تناجی کا اسم مصدر ہے۔ بقول زجاج نحوی (رح) کے نجوی نجوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں وہ اونچی زمین جو دوسری زمینوں سے ممتاز ہو۔ آہستہ اور راز سے کہی ہوئی بات بھی چونکہ غیر کے سننے سے محفوظ ہوجاتی ہے اس لئے وہ نجوی کے مشابہ ہے کہ وہ آس پاس کی زمینوں سے جدا ہوتی ہے۔
نجوی کا استعمال بطور صفت بھی ہوتا ہے جیسے قوم نجوی سرگوشی کرنے والے لوگ۔ قرآن مجید میں ہے واذھم نجوی (17:47) اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں۔ (قاموس القرآن)
مایکون من نجوی ثلثۃ : کہیں نہیں ہوتی سرگوشی تین کی۔
الا ھورا بعھم : مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے۔
ولا خمسۃ : ای ولا نجوی خمسۃ (الا ھو سادسھم) اور کہیں نہیں ہوتی سرگوشی پانچ کی کہ وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے۔
ولا ادنی من ذلک، اور خواہ اس سے کم کی سرگوشی ہو ۔ یعنی تین سے کم کی۔
ولا اکثر یا (اس سے) زیادہ کی یعنی پانچ سے زیادہ کی۔
معطوف علی العدد و یقرأ بالرفع علی الابتداء منصوب علی ان لا لنفی الجنس۔ 12 (حقانی)
الا ھو معہم : مگر وہ (اللہ) ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کو ان کے مشورے کی خبر ہوتی ہے۔
Ayah 58:8(58:8) نھوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ فہی (باب فتح) مصدر۔ ان کو منع کیا گیا۔ وہ روکے گئے۔ نھی عن کے صلہ کے ساتھ ۔ بمعنی روکنا۔ منع کرنا۔
یتنجون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہیں ۔ مناجاۃ (مفاعلۃ) چپکے چپکے کان میں بات کہنا۔ اللہ سے اپنی دلی مراد عرض کرنا۔
العدوان۔ ظلم و ستم۔ زیادتی۔ یہ عدا یعدوا کا مصدر ہے جو باب نصر سے آتا ہے۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ وہ عدوان کہ جس کی ابتداء کرنی ممنوع ہے وہ اس آیت میں مراد ہے :۔ وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (5:2) اور آپس میں مدد کرو نیک کام اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ اور زیادتی پر ۔ لیکن جو عدوان کہ بدلہ کے طور پر ہوا اور جس کا اس شخص کے ساتھ برتنا روا ہے کہ جو اس کی پہل کرچکا ہے ۔ وہ اس آیت میں مراد ہے :۔
فلا عدوان الا علی الظلمین : تو زیادتی نہیں مگر بےانصاف لوگوں پر۔ بعض علماء سے نقل ہے کہ عدوان کے معنی ہیں کہ بری طرح حد سے بڑھ جانا۔ خواہ یہ بات قوت (استعداد) میں ہو یا فعل میں یا حال میں۔ اور اسی معنی میں ارشاد ہے۔ ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارز (4:20) اور جو کوئی یہکام کرے زیادتی سے تو ہم ڈالیں گے اس کو آگ میں۔
معصیت الرسول۔ مضاف مضاف الیہ۔ رسول کی نافرمانی۔ معصیۃ مصدر۔ میمی ہے اور اسم ہے۔ نافرمانی کرنا۔ نافرمانی۔ عصیان بھی مصدر ہے (باب ضرب) ۔ عصا۔ لاٹھی ۔ عصیان کا ماخذ عصا ہی ہے ۔ جس کے پاس لاٹھی (قوت) ہوتی ہے وہ دوسرے کی نافرمانی کرتا ہی ہے۔ گویا عصیان کے معنی ہوئے لاٹھی کے بل پر کسی کی نافرمانی کرنا۔ توسیع استعمال کے بعد نافرمانی کو عصیان کہا جانے لگا۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ کیا آپ نے (اے رسول) ان کو نہیں دیکھا کہ جن کو کانا پھوسی سے منع کردیا تھا ۔ پھر بھی وہ اس سے باز نہیں آتے اور گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی کے لئے مخفی مشورے کرتے ہیں۔ (ترجمہ تفسیر حقانی)
واذا واؤ عاطفہ۔ اذا ظرف زمان ۔ جب۔
حیوک۔ حیوا ماضی جمع مذکر غائب تحیۃ (تفعیل) مصدر۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ انہوں نے تجھ کو سلام کیا۔ وہ تجھ کو سلام کرتے ہیں۔ (ح ی ی حروف مادہ)
لم یحیک : لم یحییٰ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ اس نے تجھ کو (ان کلمات سے) سلام نہ کیا۔
بما میں ما موصولہ اور بہ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب کفار آپ سے ملتے ہیں تو ایسے کلمات سے آپ کو دعا سلام کرتے ہیں کہ جن سے اللہ سلام نہیں بھیجتا۔ مثلاً السلام علیکم کی بجائے السام علیکم کہنا جس کے معنی ہیں تم پر اللہ کی مار ہو۔
فی انفسھم : فی حرف جر۔ انفسھم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، اپنے دلوں میں۔ یا فی ما بینھم۔ آپس میں۔
لولا : ای ہل لا کیوں نہیں۔
حسبھم۔ ان کو بس ہے، ان کو کافی ہے۔ حسب مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ۔
یصلونھا : یصلون مضارع جمع مذکر غائب۔ صلی (باب سمع) مصدر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ جس میں وہ داخل ہوں گے۔ یا یصطلون بھا۔ وہ اس میں جلیں گے۔
فبئس المصیر۔پس ۔ پھر۔ بئس فعل ذم ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی بئس اصل میں بئس تھا۔ بروزن فعل (سمع) سے۔ ۔ عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فاء کلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کردیا گیا۔ بئس ہوگیا۔ بئس برا ہے۔
المصیر : صیر سے اسم ظرف ومصدر میمی۔ لوٹنے کی جگہ۔ لوٹنا۔ یہاں بطور ظرف مستعمل ہے۔
Ayah 58:9(58:9) اذا تناجیتم : اذا شرطیہ ہے یا اسم ظرف زمان ہے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ تم نے سرگوشی کی۔ یا جب تم سرگوشی کرو۔
فلا تتناجوا :جواب شرط کے لئے۔ لا تتناجوا فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ (تو تم) سرگوشی مت کرو۔ کانا پھوسی نہ کرو۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ تتناجوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم سرگوشی کیا کرو۔ یہاں نجوی سے مراد مشورہ ہے۔ یعنی جب رازدارانہ بات کرنا ہی ہو تو نیکی اور پرہیزگاری کے متعلق مشورہ کیا کرو۔
البر : مصدر ہے بمعنی نیکی کرنا۔ بھلائی کرنا۔ نیکوکاری۔ اعتقادی و عملی دونوں قسم کی نیکیاں اس میں شامل ہیں۔
التقوی : پرہیزگاری۔ بچنا۔ تقویٰ اسم ہے اتقی سے۔ لغت میں تو تقوی کے معنی ہیں نفس کو اس چیز سے بچانا اور حفاظت میں رکھنا کہ جس کا خوف ہو۔ لیکن کبھی کبھی خوف کو تقوی سے اور تقوی کو خوف سے بھی موسوم کرلیتے ہیں۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بول کر سبب مراد لے لیتے ہیں۔
اور عرف شرع میں تقوی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام ہے جو گناہ کی طرف لیجائے۔
اتقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو، اتقوا اللہ تم اللہ سے ڈرو۔
الذی الیہ تحشرون : الذیاسم موصول۔ باقی جملہ اس کا صلہ الیہ الی انتہاء غایت۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے
تحشرون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر، حشر (باب نصر) مصدر۔ تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔ تم جمع کئے جاؤ گے۔
Ayah 58:10(58:10) انما۔ بےشک، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔
النجوی۔ سرگوشی ، کانا پھوسی۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت ، متذکرہ بالا) ان کا اسم ہے ۔
من الشیطن۔ خبر ان ۔ بیشک سرگوشی ایک شیطانی فعل ہے۔ النجوی میں آل عہد کا ہے۔ مراد اس سے التناجی بالاثم والعدوان و معصیت الرسول ہے۔
لیحزن۔ خبر دوم۔ لام علت کا ہے۔ تاکہ۔ یحزن مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل لام) حزن (باب نصر) مصدر۔ وہ فمگین کرتا ہے۔ لیحزن تاکہ وہ غمگین کردے۔ یہ خبر دوم ہے ان کی :۔ خیر اخر لانما النجوی والاول من الشیطان 12 (حقانی)
الذین امنوا۔ موصول وصلہ مل کر مفعول ہے یحزن کا۔ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں َ یعنی ایمان والوں کو۔
ولیس بضارھم شیئا۔ جملہ حالیہ ہے واؤ حالیہ لیس (نہیں ہے) فعل ناقص۔ ماضٰ واحد مذکر غائب اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ لیس کا اسم کافروں کی سرگوشی یا شیطان ہے۔ ضارھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کو نقصان پہنچانے والا۔ ان کو ضرر پہنچانے والا۔
ضار ضر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ” مضاف ہے “ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ ۔ بضارھم خبر ہے۔ شیئا کچھ بھی
مطلب یہ کہ :۔ حال یہ ہے کہ کافروں کی سرگوشی یا شیطان ایمان والوں کو خچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ الا باذن اللہ بغیر اللہ کے حکم کے۔
فلیتوکل :کا عطف محذوف پر ہے۔ لیتوکل امر کا صیغہ واحد مذکر غائب یہاں بمعنی جمع (المؤمنون) کے لئے آیا ہے۔ چاہیے کہ بھروسہ رکھیں۔
وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون : ای وعلی اللہ لاعلی غیرہ یجب ان یتوکل المؤمنون۔ مومنوں کو چاہیے کہ صرف اللہ پر نہ کہ کسی غیر پر توکل اور بھروسہ رکھیں۔ (السیرالتفاسیر)
Ayah 58:11(58:11) اذا قیل لکم ۔۔ فی المجلس جملہ شرطیہ ہے۔
تفسحوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تفسح (تفعیل) مصدر بمعنی کھل کر بیٹھنا اور کشادگی و فراخی کرنا۔ تم کشادگی کرو۔ کھل کر بیٹھو
الفسح والفسیح کے معنی وسیع جگہ کے ہیں۔ فسحت مجلسہ میں نے اس کے لئے مجلس میں۔ محفل میں جگہ کردی تو وہ اس میں کھل کر بیٹھ گیا۔ فافسحوا۔جواب شرط کے لئے ہے۔ افسحوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ فسح (باب فتح) مصدر۔ بمعنی وسعت سے بیٹھنا۔ اور کھل کر رہنا۔ تو تم کھل جاؤ ۔ جواب شرط ہے۔
یفسح اللہ لکم : جواب امر۔ خدا تم کو فراخی دے گا۔ یفح مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ واحد مذکر غائب۔ فسح (باب فتح) مصدر۔ اللہ تمہارے لئے کشادگی کردیگا تمہارے لئے جگہ کشادہ کر دے گا۔
واذا قیل انشزوا فانشزوا۔ پہلا جملہ شرطیہ ہے دوسرا جملہ جواب شرط ہے ۔ انشزوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نشز (باب نصر، ضرب) مصدر۔ اٹھ کھڑا ہونا۔ یعنی جب کہا جائے کھڑے ہوجاؤ۔ تو کھڑے ہوجایا کرو۔
یرفع اللہ الذین امنوا منکم۔ یرفع مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ اللہ بلند کرے گا ان لوگوں کو جو تم میں سے ایماندار ہیں۔ بوجہ یرفع کا مفعول ہونے کے الذین محل نصب میں ہوگا۔ والذین اوتوا العلم۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ الذین امنوا منکم پر ہے یرفع کا مفعول ثانی ہے۔
اتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دئیے گئے، ان کو دیا گیا۔ العلم مفعول۔ اور وہ جن کو علم دیا گیا۔
درجت۔ منصوب بوجہ تمیز ہونے کے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ :۔ اگر تم کو کہا جائے اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان داروں کو اور وہ جنہیں علم دیا گیا بلحاظ درجات کے بلند فرمائے گا۔
واللہ بما تعملون خبیر : ما ماصولہ۔ تعملون صلہ۔ اللہ مبتدا ۔ خبیر۔ خبر۔ موصول و صلہ مل کر تعلق خبر۔
Ayah 58:12(58:12) اذا ناجیتم الرسول جملہ شرطیہ ہے۔ ناجیتم ماضی جمع مذکر حاضر مناجاۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ الرسول مفعول۔ رسول کریم ﷺ ۔ ترجمہ :۔ جب تم رسول کریم ﷺ سے راز دارانہ بات کان میں کرنا چاہو۔
فقدموا بین یدی نجوکم صدقۃ۔جواب شرط کے لئے۔ قدموا امر کا صیغہ، جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر سے۔ تم آگے بھیجو۔ تم پہلے ادا کردو (صدقہ)
بین۔ درمیان۔ بیچ۔ جدائی۔ ملاپ۔ اسم ظرف مکان ہے۔ دو چیزوں کے درمیان اور بیچ کو بنانے کے لئے اس کی وضع عمل میں آئی ہے۔ منجملہ دیگر استعمال کے اس کا استعمال بین یدی اور بین ایدی آتا ہے۔ پہلے کے لغوی معنی ہیں دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔ اور دوسرے کے معنی ہاتھوں کے درمیان ۔ مطلب دونوں کا ہے آگے ۔ سامنے۔ قریب۔ ایسی صورت میں بین کی اضافت ایدی۔ یا یدی کی طرف ہوتی ہے۔
بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے۔ جیسے بین البلدین (دوشہروں کے درمیان) یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ جیسے بین الرجلین اور بین القوم (قوم کے درمیان) ۔ بین مضاف ہے۔ نجوکم مضاف مضاف الیہ مل کر یدی کا مضاف الیہ۔ یدی مضاف۔ یہ مضاف اور مضاف الیہ مل کر بین کا مضاف الیہ۔
ترجمہ آیت کا ہوگا :۔ تو بات کرنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دیدیا کرو۔
ذلک : یعنی نجوی سے قبل صدقہ کا دینا۔ مبتداء ، خیر لکم خبر۔ واطھر خبر بعد خبر ۔ اطھر افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بمعنی پاکیزہ ۔ زیادہ پاک۔ طھارۃ سے۔ یہ تمہارے لئے بہتر اور زیادہ پاکیزگی والی بات ہے۔
فان لم تجدوا۔ جملہ شرطیہ۔ اور لم تجدوا کے بعد اس کا مفعول محذوف ہے عبارت کچھ یوں ہوگی۔ فان لم تجدوا شیئا ما تتصدقون بہ اور اگر تمہیں کوئی چیز میسر نہ آسکے جسے تم صدقہ میں دے سکو۔
فان اللہ غفور رحیمـ فی ترخیص المناجاۃ من غیر صدقۃ)جواب شرط کے لئے ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بغیر صدقہ کے مناجات کی رخصت دینے میں غفور اور رحیم ہے۔ غفور۔ غفران سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت بخشنے والا۔
Ayah 58:13(58:13) ء اشفقتم۔ ہمزہ استفہامیہ۔ اشفقتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ اشفاق (افعال) مصدر۔ اشفاق علی کے صلہ کے ساتھ کسی کی خیر خواہی کے لئے اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا۔ کیونکہ مشفق ہمیشہ مشفق علیہ کو محبوب سمجھتا ہے اور اسے تکلیف پہنچنے سے ڈرتا رہتا ہے۔ جب یہ فعل حرف من کے واسطہ سے متعدی ہو تو اس میں خوف کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ ترسیدن از کسے۔ کسی سے ڈرنا۔
ان تقدموا : ان مصدریہ ہے ۔ تقدموا مضارع منصوب۔ جمع مذکر حاضر ۔
بین یدی نجوکم : ملاحظہ ہو آیت 13 متذکرہ الصدر۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا تم اس سے کہ پیغمبر ﷺ کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے ہو ؟
فاذ :عاطفہ۔ اذ (ظرفیہ للماضی) پھر جب۔
لم تفعلوا مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر، پھر جب تم ایسا نہ کرسکے یا تم نے ایسا نہ کیا (یعنی مفلسی کے ڈر کی وجہ سے تم نے صدقہ نہیں دیا) ۔ وتاب اللہ علیکم۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے : اور اللہ نے تمہیں معاف کردیا۔ اور اللہ نے تمہیں اسے ترک کرنے کی رخصت دیدی ہے۔
فاقیموا الصلوۃ :سببیہ ہے۔ پس بایں سبب تلافی مافات کے لئے پابندی کے ساتھ نماز پڑھا کرو۔ زکوٰۃ دیا کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ اذ بمعنی ان شرطیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں فاقیموا الصلوۃ جملہ جو اب شرط ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ :۔ اگر تم نے ماضی میں ایسا نہیں کیا تو اس کوتاہی کے تدارک کے لئے اب نماز کی ادائیگی، ایتائے زکوۃ، اطاعت رسول ﷺ کی پابندی کرو۔
Ayah 58:14(58:14) الم تر : استفہام انکاری ہے۔ نفی کا انکار موجب اثبات ہوتا ہے۔ اسلئے الم ترکا مطلب ہوا۔ تو نے دیکھا۔ تو نے دیکھا ہے۔
الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم : الذین اسم موصول تولوا اس کا صلہ۔ قوما مفعول تولوا کا۔ غضب اللہ علیہم صفت قوما کی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب قوما کی طرف راجع ہے۔
تولوا ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی :۔
(1) کسی سے دوستی رکھنے۔ (2) کسی کام کو اٹھانے۔ (3) والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔
(1) کی مثال۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے وہ ان میں سے ہے۔
(2) کی مثال :۔ والذی تولی کبرہ (24:11) اور جس نے کہ اٹھایا اس بڑی بات کو۔
(3) کی مثال :۔ فہل عسیتم ان تولیتم (48:22) پھر تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم والی ہو۔
اور جب عن کے ساتھ متعدی ہو خواہ لفظوں میں مذکور ہو یا مستتر (محذوف) ہو تو منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ فتولی عنھم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالۃ ربی (7:79) پھر اس نے ان سے منہ موڑا۔ اور کہا کہ اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا۔
یہاں سورة ہذا میں تولوا بمعنی دوستی رکھنا ہے۔ یعنی کیا تو نے دیکھا نہیں (تو نے دیکھا ہے) ان لوگوں کی طرف جو دوستی کرتے ہیں اس قوم سے کہ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔
ماہم منکم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین تولوا کی طرف راجع ہے اور منکم میں ضمیر کم جمع مذکر حاضر الم تر کے مخاطب کی طرف راجع ہے۔
ولا منھم : جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا 12 (حقانی) منھم میں ضمیر ھم جمع مذکر غائب قوما غضب اللہ علیہم کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ یہ منافقین نہ تو پورے پورے تم میں سے ہیں۔ کیونکہ دین اور دوستی میں یہودیوں کے ساتھ ہیں۔ اور نہ یہ پورے پورے یہودیوں میں سے ہیں ۔ کیونکہ ظاہر میں یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔
ویحلفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حلف (باب ضرب) مصدر۔ وہ قسمیں کھاتے ہیں۔ وہ قسمیں کھائیں گے۔ اس کا عطف تولوا پر ہے۔ مضارع کا صیغہ تکرار حلف پر دلالت کرتا ہے۔
علی الکذب۔ جھوٹ پر۔ وہم یعلمون : جان بوجھ کر۔
آیت کا ترجمہ ہوا :۔ اور جان بوجھ کر جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔ وھم یعلمون جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ جانتے ہیں (کہ جو وہ کہہ رہے ہیں جھوٹ ہے) ۔
Ayah 58:15(58:15) اعد : ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) مصدر۔ بمعنی تیار کرنا ۔ اعداد یہ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ وہ شمار کی جاسکے۔ اعد اس نے تیار کیا ہے۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ انھم : ان حرف مشبہ بالفعل ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ سب لوگ۔
ساء فعل ذم ہے سوء (باب نصر) مصدر ہے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب برا ہے۔
ما کانوا یعملون : ما موصولہ۔ کانوا یعلمون صلہ۔ جو وہ کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے۔
Ayah 58:16(58:16) اتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ٹھہرا لیا۔ انہوں نے اختیار کرلیا۔
ایمانھم : مضاف مضاف الیہ۔ اپنی قسموں کو۔ ایمان جمع ہے اس کا واحد یمین ہے۔ یمین کے معنی اصل میں تو وہ اپنے ہاتھ کے ہیں۔ معاہدہ کرنے والا حلیف جو دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے۔ یمین حلف کے معنی میں اسی فعل سے مستعار لیا گیا ہے۔
جنۃ : سپر، ڈھال، آڑ، پردہ، جنن جمع ہے۔ جن سے مشتق ہے چونکہ ڈھال سے جسم کو چھپایا جاتا ہے اس لئے اس کو جنۃ کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (اپنے بچاؤ کے لئے) ۔
فصدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ صدو صدود (باب نصر) مصدر سے پھر خڈا کی راہ سے دوسروں کو روکتے ہیں۔
عذاب مھین : موصوف و صفت۔ مھین اسم فاعل واحد مذکر اھانۃ (افعال) مصدر۔ ذلیل و خوار کرنے والا۔
Ayah 58:17(58:17) لن تغنی : مضارع نفی تاکید بلن (منصوب بوجہ عمل لن) صیغہ واحد مؤنث غائب اغناء (افعال) مصدر سے بمعنی کام آنا۔ کفایت کرنا۔ وہ ہرگز کفایت نہیں کرے گی۔ وہ ہرگز کام نہیں آئے گی۔ لن تغنی کا فاعل اموالہم واولادھم ہے ان کے مال اور ان کی اولاد ان کا مال اور ان کی اولادیں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی اللہ کے مقابلہ میں ۔
اولئک۔ اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ وہی لوگ۔ اصحب النار۔ مضاف مضاف الیہ۔ دوزخی۔ جہنمی۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اولئک ہے۔ وہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
فیہا : میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع النار ہے۔
خلدون : اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے خلود (باب نصر) مصدر۔ ہمیشہ رہنے والے۔
Ayah 58:18(58:18) یوم : مفعول فیہ۔ جس دن۔
یبعثھم : یبعث فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ بعث (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بھیجنا۔ اٹھانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو (مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے گا۔
جمیعا سب کو۔
فیحلفون لہ :تعقیب کا ہے یحلفون مضارع جمع مذکر غائب، خلف (باب ضرب) مصدر۔ وہ قسمیں کھائیں گے۔ لہ اس کے سامنے ۔ پھر اس (خدا) کے سامنے وہ قسمیں کھائیں گے۔ ای قائلین واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ بخدا ہم مشرک نہیں تھے
کام یحلفون لکم : کاف تشبیہ کا ہے۔ لکم تمہارے سامنے۔ یعنی جیسا کہ وہ اب تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم سے ہیں کافر یا غیر مسلم نہیں ہیں۔
ویحسبون انھم علی شیء واؤ عاطفہ۔ یحسبون مضارع جمع مذکر غائب ۔ حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ گمان کریں گے۔ وہ خیال کریں گے۔ انھم علی شیء کہ ان کا کچھ کام بن گیا ہے۔ وہ کچھ نفع میں رہے ہیں ۔ کہ جلب منفعت اور دفع مضرت میں ان کو کچھ حاصل ہوا ہے۔ کہ وہ کچھ حاصل کر رہے ہیں۔
الا : جان لو، سن رکھو، خبردار ہوجاؤ۔ یہ حرف تنبیہ اور استفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) ہے۔ کبھی یہ عرض کے لئے استعمال ہوتا ہے (یعنی کسی چیز کو نرمی سے طلب کرنا) جیسے الا تحبون ان یغفر اللہ لکم : کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے۔ اور کبھی تخصیص یعنی کسی چیز کے سختی کے ساتھ مطالبہ کے لئے بھی آتا ہے جیسے کہ فرمایا : الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وہم بدء وکم اول مرۃ۔ کیا تم نہیں لڑو گے ان لوگوں سے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انہی نے تم سے پہلے چھڑ کی۔
جب یہ تنبیہ اور استفتاح کے لئے آتا ہے تو جملہ اسمیہ و فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے اور جب عرض و تحضیض کے لئے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے خواہ وہ افعال لفظا مذکور ہوں یا تقدیرا۔
انھم ہم الکذبون : ہم ضمیر جمع مذکر غائب کو تخصیص کے لئے لایا گیا ہے۔ بیشک یہی وہ لوگ ہیں جو بہت جھوٹے ہیں (اور ان کے انتہائی جھوٹے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ خدا جو عالم الغیب ہے اس کے سامنے بھی یہ جھوٹ بولیں گے) ۔
Ayah 58:19(58:19) استحوذ علیہم : ماضی واحد مذکر غائب استحواذ (استفعال) مصدر۔ بمعنی قابو میں کرکے ہانکنا (شیطان نے ان پر قابو پا لیا ہے) ۔ فانسھم ذکر اللہ :سببیہ ہے انسی ماضی واحد مذکر غائب انساء (افعال) مصدر بمعنی بھلا دینا ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ذکر اللہ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مفعول ثانی انسی کا۔ پس اس نے (یعنی شیطان نے) ان کو اللہ کی یاد بھلادی۔
حزب الشیطن : مضاف مضاف الیہ۔ حزب گروہ، جماعت، ٹولہ، احزاب جمع۔ شیطان کا گروہ۔
الا : ملاحظہ ہو آیت 18 متذکرۃ الصدر۔
الخسرون : خسرو خسران : سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ نقصان اٹھانے والے۔ گھاٹا پانے والے۔ زیاں کار۔
Ayah 58:20(58:20) یحا دون۔ وہ مخالفت کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو آیت 5 متذکرۃ الصدر۔
الاذلین۔ یہ اذل کی جمع ہے ذلۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ ذلیل۔ زیادہ کمزور۔ اذلین۔ سب سے زیادہ ذلیل یا بےقدر لوگ۔
Ayah 58:21(58:21) کتب اللہ۔ اللہ نے لکھ دیا ہے۔ اللہ نے فیصلہ دے دیا ہے۔ اللہ نے یہ فیصلہ لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔
لاغلبن۔ مضارع بالام تاکید ونون ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم۔ غلبۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ میں ضرور غالب ہوں گا۔
ورسلی : واؤ عاطفہ۔ رسلی مضاف مجاف الیہ۔ میرے رسول۔ میرے پیغمبر فعل محذوف۔ اور میرے رسول بھی ضرور غالب رہیں گے۔ یا ترجمہ یوں ہوگا۔ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔
قوی : قوۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر، زبردست، توانا۔ خدا تعالیٰ کا اسم صفت ہے۔ ایسا طاقت ور کہ کوئی اس کی مشیت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
عزیز : غالب، زبردست، قوی۔ ایسا غالب کہ کوئی اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے
Ayah 58:22(58:22) لاتجد : مضارع منفی۔ واحد مذکر حاضر وجود (باب ضرب) مصدر۔ تو نہیں پائے گا۔
قوما : لا تجد کا مفعول یؤمنون باللہ والیوم الاخر جملہ صفت ہے قوما کی یعنی ایسے لوگ جو اللہ پر اور روز قیامت پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں۔
یوادون من حاد اللہ ورسولہ : قوما کی صفت ثانی۔ ترجمہ ہوگا :۔ آپ ایسی کوئی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں۔ (تفسیر حقانی) یا یہ جملہ قوما سے حال ہے۔ اور ترجمہ یوں ہے :۔ جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ (مولانا فتح محمد جالندھری)
یوادون : مضارع جمع مذکر غائب۔ وداء موادۃ (مفاعلۃ) دوستی کرنا۔ دوستی رکھنا۔
من حاد اللہ : من موصولہ۔ حاد اللہ اس کا صلہ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ محادۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ بمعنی لڑنا۔ دشمن رکھنا۔ مخالفت کرنا۔ ناراض کرنا۔
ورسولہ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
من حاد اللہ ورسولہ : میں اگرچہ من بصیغہ واحد استعمال ہوا ہے لیکن مراد اس سے جمع کی ہے۔ یعنی سارے ایسے لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں ۔
لو : اگر ، خواہ۔
اباء ھم : یہ کانوا کی خبر ہے۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کے باپ۔
او ابناء ھم : او یا۔ ابناء ھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے بیٹے۔
اخوانھم۔ مضاف مجاف الیہ۔ ان کے بھائی۔
عشیرتھم۔ مضاف مضاف الیہ ان کے کہنے کے لوگ۔
اولئک۔ اسم اشارہ بعید۔ جمع مذکر۔ وہی لوگ ، وہ لوگ۔ مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ اور رسول کے دشمنوں سے دوستی نہیں رکھتے۔ اولئک مبتداء ہے۔ فی قلوبھم الایمان : یہ خبر ہے مبتداء کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان تحریر کردیا ہے۔ ثبت کردیا ہے۔ راسخ کردیا ہے۔
وایدہم بروح منہ یہ خبر ثانی ہے اولئک کی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اید : ماضی واحد مذکر غائب۔ تائید (تفعیل) مصدر۔ بمعنی مدد کرنا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کی مدد کی۔ بروح منہ : اپنے نور سے۔ اپنی روح سے۔ روح کے علماء نے مختلف معانی مراد لئے ہیں :۔
(1) سدی نے کہا۔ ایمان مراد ہے۔ (2) ربیع نے کہا کہ قرآن اور وہ استدلا لات جو قرآن میں مذکو رہیں۔
(3) بعض کے نزدیک اللہ کی رحمت مراد ہے۔ (4) بعض کے نزدیک جبرائیل مراد ہے۔
(5) بعض نے کہا کہ اس سے مراد نور، یا اللہ کی مدر ہے۔
ویدخلہم جنت تجری من تحتھا الانھر : یہ خبر سوم ہے ۔ اولئک کی۔ اور وہ ان کو داخل کرے گا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔
خلدین فیہا اسم فاعل جمع مذکر۔ خلود (باب نصر) ہمیشہ رہنے والے ۔ سدا رہنے والے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔
رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ یعنی ان کی اطاعت کی وجہ سے وہ اللہ ان سے راضی ہوگا۔ اور اللہ کی طرف سے عطائے ثواب پر وہ اس (اللہ سے) راضی ہوں گے۔
اولئک : اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ وہی لوگ۔ وہ لوگ ، اشارہ ہے اس قوم کی طرف جو اللہ پر کامل ایمان اور آخرت پر بھی ایمان رکھتی ہے۔ (شروع آیت ہذا) ۔
حزب اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی جماعت۔ اللہ کا گروہ۔