Explained with ayahs 8–10
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر
کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 21
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے نبی ﷺ ان لوگوں کو اس روش سے منع فرما چکے تھے، اس پر بھی جب وہ باز نہ آئے تب براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرمان عتاب نازل ہوا۔
سورة الْمُجَادِلَة 22
یہ یہود اور منافقین کا مشترک رویہ تھا۔ متعدد روایتوں میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ یہودی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے السام علیک یا ابا القاسم کہا۔ یعنی السلام علیک کا تلفظ کچھ اس انداز سے کیا کہ سننے والا سمجھے سلام کہا ہے، مگر دراصل انہوں نے سام کہا تھا جس کے معنی موت کے ہیں۔ حضور نے جواب میں فرمایا وعلیکم۔ حضرت عائشہ سے نہ رہا گیا اور انہوں نے کہا موت تمہیں آئے…
Read the full tafseer →سرگوشی اور مشورہ کے متعلق ایک ہدایت
(آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى، واقعہ شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ جس زمانے میں یہود سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ صلح ہوگیا تھا اس وقت وہ کھل کر تو مسلمانوں کے خلاف کوئی کام نہ کرسکتے تھے مگر اسلام اور مسلمانوں سے دل میں بھرا ہوا بغض نکالنے کا ایک یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب صحابہ کرام میں سے کسی کو اپنے قریب آتے دیکھتے تو باہم سرگوشی اور خفیہ مشورہ کی شکل بنا لیتے اور آنے والے مسلمانوں کی طرف کچھ اشارے کرتے جس سے ان کو یہ خیال پیدا ہوتا کہ ہمارے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں اور اس سے پریشانی اور رنج ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایسی…
Read the full tafseer →(الم ترائی الذین نھوا عن النجوی ثم یعودون لما نھوا عنہ و یتنجون بالاثم والعدوان و معصیت الرسول واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ ویقولون فی انفسھم لولا یعدبنا اللہ بما نقول حسبھم جھنم یصلونھا فبئس المصیبر (8)۔
(سرگوشیوں کی اصل غایت)۔ یہ ان کی حالت پر اظہار تعجب ہے کہ ذرا ان کی جسارت تو دیکھو کہ یہ جس نجوی سے روکے گئے ہیں اسی کا ارتکاب بار بار کر رہے ہیں اور اس سے بڑی جسارت یہ ہے کہ یہ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور ان کو نہ ذرا اپنی اس حرکت پر شرم آتی ہے اور نہ ان کو ذرا خوف خدا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کی سرگوشیوں کا آغاز ہوا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی حرکتوں پر توجہ…
Read the full tafseer →8۔ 1 اس سے مدینے کے یہودی اور منافقین مراد ہیں جب مسلمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ باہم سر جوڑ کر اس طرح سرگوشیاں اور کانا پھوسی کرتے کہ مسلمان یہ سمجھتے کہ شاید ان کے خلاف یہ کوئی سازش کر رہے ہیں یا مسلمانوں کے کسی لشکر پر دشمن نے حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا ہے جس کی خبر ان کے پاس پہنچ گئی ہے مسلمان ان چیزوں سے خوف زدہ ہوجاتے چناچہ نبی ﷺ نے اس طرح سرگوشیاں کرنے سے منع فرما دیا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد انہوں نے پھر یہ مذموم سلسلہ شروع کردیا آیت میں ان کے اسی کردار کو بیان کیا جارہا ہے۔
8۔ 2 یعنی ان کی سرگوشیاں نیکی اور تقویٰ کی باتوں میں نہیں ہوتیں، بلکہ گناہ، زیادتی اور معصیت رسول پر مبنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
5: یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے، السلام علیکم کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اور السام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر ہلاکت ہو، چونکہ دونوں لفظوں میں صرف ایک لام کا فرق ہے اس لئے بولتے وقت سننے والے خیال بھی نہیں کرتے تھے، لیکن وہ لوگ اس طرح اپنے بغض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس آیت میں ان کی اسی شرارت کی طرف اشارہ ہے۔
6: اپنی مذکورہ شرارتوں کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر سزا کیوں نہیں دیتا اور چونکہ ہم پر کوئی سزا مسلط نہیں ہورہی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ ہم برحق ہیں۔
Read the full tafseer →الم ترالی .................... المصیر (85 : 8) ” کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں ، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں منافقین کے بارے میں حضور ﷺ کا…
Read the full tafseer →5 حضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر منافق سرگوشیاں کرتے۔ مجلس والوں کا مذاق اڑاتے۔ ان پر عیب پکڑتے۔ ایک دوسرے کے کان میں اس طرح بات کہتا اور آنکھوں سے اشارے کرتا جس سے مخلص مسلمانوں کو تکلیف ہوتی۔ اور حضرت ﷺ کی بات سن کر کہتے۔ " یہ مشکل کام ہم سے کہاں ہو سکے گا۔ " پہلے سورة " نساء " میں اس طرح کی سرگوشیوں سے منع کیا جا چکا تھا۔ لیکن یہ موذی بےحیاء پھر بھی اپنی حرکتوں اور زیاد تیوں سے باز نہ آئے۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
6 یعنی اللہ نے تو آپ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ یہ دعائیں دی ہیں۔ (وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :181) ا اور (وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى) 27 ۔ النمل :59)…
Read the full tafseer →آیت 8{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰی ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُہُوْا عَنْہُ } ”کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں منع کیا گیا تھا نجویٰ سے ‘ پھر وہ اعادہ کر رہے ہیں اسی شے کا جس سے انہیں منع کیا گیا تھا“
یہ مدینہ کے منافقین کا ذکر ہے جو یہودیوں کے ساتھ مل کر ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال ُ بننے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ یہاں الَّذِیْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰیکے الفاظ میں سورة النساء کی آیت 114 کے اس حکم کی طرف اشارہ ہے : { لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰٹھُمْ } کہ ان لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ آیت زیر مطالعہ میں سورة…
Read the full tafseer →9 منافقوں کی سرگوشیاں :۔ ان لوگوں سے مراد مدینہ کے منافق ہیں۔ جو اپنے بعض معاملات کی خاطر مسلمان تو ہوگئے تھے۔ مگر ان کی سب ہمدردیاں کافروں کے ساتھ تھیں چاہے وہ یہود مدینہ ہوں یا قریش مکہ ہوں یا دوسرے عرب قبائل ہوں جو مشرک اور اسلام کے دشمن تھے۔ ان کی کئی قسم کی حرکات قابل گرفت تھیں جن سے مسلمانوں کو سخت کوفت ہوتی تھی۔ ایک یہ کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں سے خفیہ روابط رکھتے تھے اور مسلمانوں کی نقل و حرکت یا ارادوں سے انہیں باخبر رکھتے تھے۔ دوسرے مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کی قوت کو کمزور کرنے کے لیے آپس میں خفیہ مجلسیں کرتے تھے۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جہاں چند مسلمانوں کو دیکھا تو آپس میں…
Read the full tafseer →15۔ یعنی یہ بدسرشت لوگ حکم امتناعی کے باوجود سرگوشیاں کر کر کے تین تین قانونی دفعات کے تحت میں مجرم ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الاثم “۔ قانون کی خلاف ورزی بجائے خود ایک گناہ ہے، یہ پہلا جرم ہوا۔ (آیت) ” والعدوان “۔ یعنی مسلمانوں کو دیکھ پہنچانے اور ان کی طبیعت کو ملول ومکدر کرنے کا گناہ۔ یہ دوسرا جرم ہوا۔ (آیت) ” ومعصیت الرسول “۔ یعنی رسول کی براہ راست نافرمانی۔ یہ تیسرا جرم ہوا۔ (آیت) ” نھوا عن النجوی “۔ خفیہ سرگوشی بجائے خود کوئی جرم نہیں۔ یہاں مفاسد اور شرانگیزیوں کی بناء پر ممنوع قرار پائی۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ امام کو اختیا رہے، اپنے اجتہاد و احتیاط کی بناء پر جس امر مباح سے چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ترجمہ : کیا آپ نے اس پر غور نہیں کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ سب کو جانتا ہے ؟ کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں ایسی نہیں ہوتی کہ چوتھا اپنے علم کے اعتبار سے اللہ نہ ہو اور نہ پانچ کی سرگوشی مگر یہ کہ چھٹا ان میں اللہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں پھر ان سب کو قیامت میں ان کے کئے ہوئے اعمال بتلا دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے، کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن کو کانا پھوسی سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ اس منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں اور آپس میں گناہ کی اور ظلم و زیادتی کی اور پیغمبر کی نافرمانی کی…
Read the full tafseer →الم تر الی الذین نھوا عن النجوی ثم یعودون لما نھوا عنہ و یتنجون بالاثم والعدوان و
......
یعذبونا اللہ بما نقول حسبھم جھنم یصلونھا فبئس المصیر .
” کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی لوٹ کر وہ وہی کام کرتے ہیں جن سے ان کو منع کردیا گیا تھا اور گناہ اور (مسلمانوں پر) زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جبِ پ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے سلام کے لیے استعمال نہیں کیا اور اپنے آپس میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ پیغمبر ہیں تو) اللہ نے ہم کو ہمارے اس کہنے پر (فوراً ) سزا کیوں نہیں دی ؟ ان کے لیے جہنم کافی ہے…
Read the full tafseer →محمد کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جن کو مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا پھر مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرتے ہیں اور گناہ ظلم و زیادتی اور رسول اکرم کی مخالفت کی سرگوشی کرتے ہیں حالانکہ رسول اکرم نے ان کو اس چیز سے منع کردیا تھا اور یہ منافقین کا گروہ تھا جو یہودیوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کی خفیہ باتوں کے بارے میں سرگوشی کیا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہو اور جب یہ یہودی آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور نہ آپ کو حکم دیا ہے اور وہ رسول اکرم کو آکر السام علیکم کہا کرتے تھے آپ انہیں اس کا جواب دے…
Read the full tafseer →1۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰی۔۔۔۔۔: یہاں سے یہود اور منافقین کے طرز عمل پر گرفت کا آغاز ہو رہا ہے ، جو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا۔ یہود نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا اور آپ کی مجلسوں میں آتے جاتے تھے اور منافقین بظاہر ایمان لا چکے تھے اور مسلمانوں کی جماعت کے فرد تھے ، مگر ان کی دوستی یہود ہی کے ساتھ تھی۔ منافقین اور یہود نے اندر ہی اندر اپنا الگ جتھا بنا رکھا تھا، انہیں جب بھی موقع ملتا خفیہ مجالس میں مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے ، فتنہ برپا کرنے اور مشرکین سے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتے تو آپس…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ الم تر الی الذین نھوا عن النجوی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں ہے جیسا پہلے ہم نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مومنوں کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی وہ مومنوں کو دیکھتے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے۔ مومن کہتے : شاید انہیں ہمارے مہاجر اور انصاری بھائیوں اور رشتہ داروں کے بارے میں شہادت، مصیبت اور ہزیمت کے بارے میں خبر پہنچی ہے۔ یہ امر انہیں پریشان کرتا ان کی شکایات نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں زیادہ ہوگئیں نبی کریم ﷺ نے انہیں نجوی سے منع کیا تو وہ نہ رکے تو یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت مایکون من نجوی ثلثۃ الا ہوا رابعہم ولا خمسۃ الا ہوسادسہم۔ کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چوتھا نہ ہو اور کوئی پانچ کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چھٹا نہ ہو یعنی وہ اللہ عرش پر ہیں اور ان کا علم ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
4۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین نہوا عن النجوی۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا۔ یعنی یہودیوں کو۔
سرگوشی کی ممنوع صورت
5۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور یہودیوں کے درمیان صلح تھی جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں…
Read the full tafseer →[اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِينَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ان کی طرف جن کو ][ نُهُوْا : منع کیا گیا ][ عَنِ النَّجوٰى: سرگوشی کرنے سے ][ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ : پھر وہ دوبارہ کرتے ہیں ][لِمَا نُهُوْا عَنْهُ : وہی ان کو روکا گیا جس سے ][ وَيَتَنٰجونَ : اور باہم سرگوشیاں کرتے ہیں ][بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَان : گناہ اور زیادتی کے بارے میں ][ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی نافرمانی کے بارے میں ][ وَاِذَا جَاۗءُوْكَ : اور جب یہ لوگ آتے ہیں آپ ﷺ کے پاس ][ حَيَّوْكَ : دعا دیتے (سلام کرتے) ہیں آپ ﷺ کو ][ بِمَا : اس (لفظ) سے ][ لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ : دعا نہیں دی آپ ﷺ کو جس سے اللہ نے…
Read the full tafseer →منافقین کی شرارت، سرگوشی اور یہود کی بیہودہ باتیں
یہودی مکار تو تھے ہی، طرح طرح کی شرارتیں بھی کرتے تھے اور خفیہ مشورہ بھی کرتے رہتے تھے، لفظ نجویٰ خفیہ بات چیت کے لئے بولا جاتا ہے، لفظ مناجاۃ بھی اسی سے لیا گیا ہے، مومن بندے آہستہ آہستہ (جسے اللہ تعالیٰ ہی سنے کوئی دوسرانہ سنے) اپنے خالق ومالک جل مجدہ سے دعا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر ظاہر اور خفیہ بات کو سنتا ہے اسی لیے خفیہ دعاء کو مناجاۃ کہا جاتا ہے۔
یہودی اور منافقین اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن تو تھے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے بری بری حرکتیں کرتے تھے، ان کی ان حرکتوں میں یہ بات بھی تھی کہ راستوں میں کسی جگہ بیٹھ جاتے تھے جب کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →9:۔ ” الم تر الی الذین “ زجر ثانی برائے منافقین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ قال ابن عباس نزلت فی الیھود والمنافقین (قرطبی ج 17 ص 291) ۔ جب مسلمانوں کی ایک جماعت کہیں جہاد میں شریک ہوتی تو منافقین دوسرے مسلمانوں کے سامنے الگ ٹولی بنا کر کھسر پھسر کرتے اور آنکھوں اور ہاتھوں سے مسلمانوں کی طرف اشارے کر کے ان کے وہم میں ڈالتے کہ ان کے اقارب تو وہاں کام آچکے اب وہ واپس نہیں آئیں گے اور اگر وہ کسی مسلمان کو تنہا گذرتے دیکھتے تو فورًا سر جوڑ کر اور اس کی طرف سر اور آنکھوں سے اشارے کر کے سرگوشی شروع کردیتے جس سے وہ سمجھے کہ یہ میرے قتل کا پروگرام بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات :
پہلے مسئلہ ظہار اور اس کی قباحت بیان ہوئی کہ یہ گناہ کی بات ہے اور نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ غلطی کر بیٹھے اور اپنی بیوی کو ماں یا بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ عورت اس شخص کے لئے حرام ہوجاتی ہے جب تک کہ وہ اس کے لئے مقررہ کفارہ ادا نہ کرے۔ پھر اللہ نے کفارے کی تین متبادل صورتیں بیان فرمائیں یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اگر طاقت نہیں ہے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے قبل اس کے کہ اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کرے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ ذلت ناک عذاب کی صورت…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَيَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ 0 ۡوَاِذَا جَاۗءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِہِ اللہُ 0 ۙ وَيَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللہُ بِمَا نَقُوْلُ 0 ۭ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ 0 ۚ يَصْلَوْنَہَا 0 ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 8
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ترکیب : مایکون جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھا من سعۃ علمہ۔ یکون من کان التامۃ وقریٔ تکون من التاء اعتبار التانیث النجویٰ وان کان غیرحقیقی۔ نجو ای مصدر کالتناجی وقال الزجاج النجوٰی مشتق من النجوۃ وھی ما ارتفع من الارض فان السرا مرمرتفع عن استماع الغیر کالارض المرتعفۃ لارتفاعھا انفصلت عن اتصال الغیر۔ ثلاثۃ مجرد رباضافۃ نجوٰی الیہ او علی انھا موصوفۃ بھا بتقدیر مضاف الاستثناء مفرغ من اعم الاحوال۔ ولاخمسۃ ای ولانجوٰی ولا اکثر معطوف علی العددو یقرء بالرفع علی اللابتدائ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ علیٰ کل شیئٍ شہید کہ اللہ کے نزدیک ہر چیز حاضر و موجود ہے۔ اب اس جگہ اس وسعت علمی کی تشریح فرماتا ہے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نُھُوْا عَنِ النَّجْوٰی ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَیَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ ز وَاِذَا جَآئُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ لا وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ لَوْلاَ یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ ط حَسْبُہُمْ جَھَنَّمُ ج یَصْلَوْنَہَا ج فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (المجادلۃ : 8)
(کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جارہے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور یہ لوگ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب آپ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ اپنے علم، اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے لوگوں کی سرگوشیوں کو جانتا ہے۔ وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا کہ جو وہ کیا کرتے تھے لیکن اس کے باروجود لوگ اپنی روش سے باز نہیں آتے۔
لوگوں کو یہ بات بتلانے اور سمجھانے کا مقصد یہ ہے کہ کفار، منافق اور برے لوگ اپنی روش سے بازآجائیں۔ لیکن برے لوگ اپنی روش سے باز آنے کی بجائے اس میں آگے ہی بڑھے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کے دور میں منافقین اور کفار کی حالت یہ تھی کہ وہ گناہ، ظلم اور آپ کی مخالفت کرنے کے لیے خفیہ مجالس میں منصوبہ بندی کرتے تھے کہ اسلام کی ترقی اور آپ ﷺ کے مقام کو لوگوں کی نظروں…
Read the full tafseer →سرگوشیوں کا مقصد نافرمانیٔ رسول :
8 : اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ نُھُوْا عَنِ النَّجْوٰی ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَیَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ (کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا۔ پھر بھی لوٹ کر وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کردیا گیا تھا۔ اور گناہ اور مسلمانوں پر زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں) یہود اور منافقین ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے تھے۔ اور جب مؤمنوں کو دیکھتے تو آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارہ کرتے اور ان کا مقصد مسلمانوں کو غصہ دلانا اور اپنی سرگوشیوں کے متعلق اور اشارہ کے…
Read the full tafseer →7 ۔” الم تران اللہ یعلم مافی السموات ومافی الارض مایکون “ ابوجعفر (رح) نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے النجوی کے مونث ہونے کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے درمیان میں فاصلہ ہونے کی وجہ سے۔” من نجویٰ ثلاثۃ “ یعنی تین کی سرگوشی یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جس کی آدمی اپنے ساتھیوں سے سرگوشی کرے۔ ” الاھورا بعھم ، علم کے ذریعے۔ اور کہا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ تین سرگوشی کرنے والے نہیں ہوتے جو آپس میں سرگوشی کریں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے علم کے ساتھ ان کی سرگوشی کو جانتا ہے ولا خمسۃ الاھود سادسھم اور نہ ہی پانچ مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے۔ ” ولا ادنیٰ من ذلک ولا اکثر الاھو معھم اینما کانوا “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ خولہ بنت ثعلبہ اور اوس بن صامت کا قصہ جو اوپر گزرا ہے۔ ابن ماجہ 1 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس قصہ کی روایت کے بعد فرمایا کرتی تھیں اللہ اکبر کس قدر ذرا ذرا سے اپنے بندوں کے قول و فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ جس مکان میں خولہ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی باتیں کیں اسی مکان میں میں بھی تھی میں نے بعضی باتیں خولہ کی نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب باتیں اس کی سن کر اس کی شکایت رفع کی۔ اور سورة مجادلہ کی اول آیتیں خولہ کے اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے نازل فرمائیں۔ حاکم نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ کے علم باطنی کا ایک نمونہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(النَّجْوٰى) دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ہے، کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔ (البر) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے 0 التقوی) تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کردینے کے لیے جامع نام ہے پس بندہ مومن اس حکم الہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (الفاجر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اہل کتاب کو کس طرح سلام کہا جائے ؟
قول باری ہے (واذا جآء ک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ )
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا۔ صحابہ کرام نے اس کے سلام کا جواب دے دیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ پتہ چلا کہ اس نے کیا کہا ہے، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس نے ہمیں سلام کہا تھا۔
اس پر آپ نے فرمایا کہ ” اس نے سا علیکم کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ تم اپنے دین سے اکتا جائو۔ “ حضور ﷺ کے ارشاد ہے کہ ” جب اہل کتاب…
Read the full tafseer →[ 25] مخالفین کی سرگوشیوں اور ان کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا یونی ان کے حال پر غور نہیں کیا جن کو سرگوشیوں سے منع کیا گیا مگر وہ پھر بھی اسی بات کی طرف لوٹتے ہیں، جس سے ان کو منع کیا گیا اور وہ گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں، روایات میں ہے کہ یہود جب کسی مسلمان کو آتا دیکھتے تو آپس میں کانا پھوسی شروع کردیتے، تاکہ اس سے اس کو ڈر اور خوف لاحق ہو، اور وہ سمجھے کہ یہ لوگ میرے ہی بارے میں کوئی پروگرام بنا رہے ہیں، تاکہ اس طرح وہ راستہ بدلنے پر مجبور ہوجائے، تو آنحضرت ﷺ نے یہود کو اس طرح سرگوشیوں سے منع فرمایا مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سرگوشی اور نیت اللہ سب جانتا ہے
تشریح : ان آیات میں یہودیوں اور منافقین کے بارے میں تفصیلاً بتا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اکثر اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے اور چپکے چپکے رسول اللہ ﷺ پر فقرے کستے اور مذاق اڑاتے یہ رویہ تو آج کے انسان میں بھی ہے کہ جب بھی کسی واعظ کی مجلس میں جاتے ہیں تو بدنیت، شیطان فطرت لوگ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے الٹا غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ دین کو مسلم معاشرے کو اور ہدایت کار کو نقصان پہنچائیں۔ تو اس وقت ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ رب العزت علیم وخبیر ہے۔ سمیع وبصیر ہے اور قادر مطلق ہے۔ یعنی کوئی کو نہ ایسا نہیں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم نہ ہو مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 4 مفسرین نے لکھا ہے کہ منافقوں اور یہودیوں کی عادت تھی کہ جب وہ کسی مسلمان کو آتادیکھتے تو علیحدہ ہو کر سرگوشیاں کرنے لگتے، تاکہ گزرنے والا مسلمان یہ سمجھے کہ وہ اس کے یا پیغمبر کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں اور پھر اس مسلمان کو تنگ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو آنکھ بھی مارتے مسلمانوں کو اس سے بڑا رنج ہوتا چناچہ انہوں نے آنحضرت سے اس کا ذکر کیا۔ آنحضرت نے ان یہودیوں اور منافقوں کو بلا کر علیحدہ سرگوشیاں کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن وہ باز نہ آئے اور اپنی عادت پر قائم رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات فرمائیں۔ (ابن کثیر)5 یہ خاص طور پر یہودیوں کی عاد تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتیتو معروف طریقہ سے…
Read the full tafseer →(58:8) نھوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ فہی (باب فتح) مصدر۔ ان کو منع کیا گیا۔ وہ روکے گئے۔ نھی عن کے صلہ کے ساتھ ۔ بمعنی روکنا۔ منع کرنا۔
یتنجون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہیں ۔ مناجاۃ (مفاعلۃ) چپکے چپکے کان میں بات کہنا۔ اللہ سے اپنی دلی مراد عرض کرنا۔
العدوان۔ ظلم و ستم۔ زیادتی۔ یہ عدا یعدوا کا مصدر ہے جو باب نصر سے آتا ہے۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ وہ عدوان کہ جس کی ابتداء کرنی ممنوع ہے وہ اس آیت میں مراد ہے :۔ وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (5:2) اور آپس میں مدد کرو نیک کام اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ اور زیادتی پر ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
مسلم امت کے دشمن یہود ومنافقین۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو آپس میں سرگوشیاں کرتے ، اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے ، اور اس سے انہیں رنج ہو ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ان لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یا ہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئیں اور مسلمانوں نے نبی ﷺ کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سرد اور دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[11] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ ان لفظوں میں سلام کیا '' سلام علی المرسلین '' اور '' سلام علی عبادہ الذین اصطفے '' لیکن جب یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تو بجائے '' السلام علیک '' کے دبی زبان میں '' السام علیک '' کہتے جس کے معنی ہیں کہ تجھے موت آئے۔
[12] انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس مغالطے سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی گرفت نہیں ہوگی حالانکہ یہ محض اس کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجاتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا…
Read the full tafseer →ذلیل ترین حرکات
1: منافقین نہایت ذلیل قسم کے لوگ تھے ۔ یہ ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ کہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچائے ۔ اور سنانے کے لئے نئی نئی باتیں اختیار کی جائیں اور زندگی کچھ اس ڈھب کی بنائی جائے ۔ کہ خواہ مخواہ ہر طرز عمل سے اذیت ٹپکے ۔ چناچہ یہ لوگ مواقع کی تلاش میں رہتے ۔ اور حتی المقدور دلآزاری سے نہ چوکے ۔ مسلمانوں کے ساتھ انہیں کسی مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ۔ تو باہم سرگوشیاں کرتے ۔ اور کچھ اس انداز سے کھیس لیں کہ مسلمانوں کو اس بدتمیزی سے دکھ محسوس ہوتا ۔ وہ یہ خیال کرتے کہ ہمارے متعلق کچھ باتیں ہورہی ہیں ۔ اور ہماری مذمت میں لب ہل رہے ہیں ۔ ان کو اس عادت بد سے روکا گیا ۔ مگر یہ رکنے…
Read the full tafseer →(8) کیا اے پیغمبر آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کی سرگوشیوں سے روکا گیا تھا اور منع کیا گیا تھا اور وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور روکا گیا تھا اور وہ آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کے چپکے چپکے مشورے اور سرگوشیاں کیا کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو ان الفاظ سے آپ کو سلام کرتے اور دعا دیتے ہیں جن الفاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام نہیں بھیجا اور دعا نہیں دی اور اپنے دل میں اور اپنے جی میں یوں کہتے ہیں کہ جو الفاظ سلام اور دعا کے ہم کہتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ہم کو سزا کیوں نہیں دیتا اور ہم کو عذاب کیوں نہیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی ایسی سرگوشی کرتے ہیں جس میں بوجہ منہی عنہ ہونے کے گناہ لازمی بھی ہے اور بوجہ تحرین مسلمین کے عدوان یعنی ضرر متعدی بھی ہے اور بوجہ اس کے کہ حضور ﷺ منع فرماچکے تھے معصیت رسول بھی ہے۔
4۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے الفاظ تو یہ ہیں سلام علی المرسلین، سلام علی عبادہ الذین اصطفی، صلوا علیہ وسلم وا تسلیما، اور وہ کہتے ہیں السام علیک۔
Read the full tafseer →منافقین کی حرکتوں کی مزید نشاندہی کہ وہ کیا کچھ کرتے ہیں اور کیا کیا رنگ بدلتے ہیں ؟
8 ؎ ( نجوی) کیا ہے ؟ النجری کا مادہ ن ج و ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں کثرت سے استعمال ہوئے ہیں ۔ النجوی معرف باللام ہے اور مصدر بھی اس کا یہی ہے اور اس کے معنی سرگوشی کرنے کے ہیں یعنی کسی کے کان کے قریب منہ لگا کر آہستہ آہستہ بات کرنا تاکہ کوئی دوسرا اس کو سن نہ لے اور جس طرح اکثر ظن خیر نہیں ہوتا اسی طرح اکثر سرگوشیاں بھی خیر کی نہیں ہوتیں اس لیے اسلام نے سرگوشیوں سے منع کیا ہے اور خصوصاً بعض سرگوشیوں کو بہت برا کہا ہے اور سمجھا ہے اور ہماری اردو زبان میں اس کو ” کانا پھوسی “ کے نام سے موسوم کرتے…
Read the full tafseer →Commentary
Circumstances of Revelation
There are several incidents related to the revelation of the current set of verses. [ 1] there was a peace agreement between the Jews and Muslims. But when one of the Holy Prophet's ﷺ Companions would pass by a gathering of Jews, they would speak among themselves in secret, prompting the believer to think that they were plotting to harm or hurt him. The Holy Prophet ﷺ advised them to give up their secret plots and conspiracies but they did not heed. As a result, verse أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَىٰ was revealed.
[ 2] Likewise, the…
Read the full tafseer →21 This shows that before the revelation of this verse the Holy Prophet (upon whom by Allah's peace) had forbidden the people this practice. Yet when they did not desist, AIIah directly sent down this verse containing His warning and wrath for such people.
22 This was the common practice of the Jews and the hypocrites. According to several traditions, some Jews came before the Holy Prophet (upon be Allah's peace) and said: "As-sam alaika ya abul-Qasim. " That is, they pronounced as-sam `alaika in such a manner as to give the impression that they had said as-salam alaika (peace be on you),…
Read the full tafseer →