Explained with ayahs 5–7
احکامات رسول اللہ ﷺ اور ہم
فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بےانتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 18
یہاں سے آیت 19 تک مسلسل منافقین کے اس طرز عمل پر گرفت کی گئی ہے جو انہوں نے اس وقت مسلم معاشرے میں اختیار کر رکھا تھا۔ وہ بظاہر مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے، مگر اندر ہی اندر انہوں نے اہل ایمان سے الگ اپنا ایک جتھا بنا رکھا تھا۔ مسلمان جب بھی انہیں دیکھتے، یہی دیکھتے کہ وہ آپس میں سر جوڑے کھسر پسر کر رہے ہیں۔ انہیں خفیہ سرگوشیوں میں وہ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور فتنے برپا کرنے اور ہراس پھیلانے کے لیے طرح طرح کے منصوبے بناتے اور نئی نئی افواہیں گھڑتے تھے۔
سورة الْمُجَادِلَة 19
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں دو اور تین کے بجائے تین اور پانچ کا ذکر کس مصلحت سے کیا گیا…
Read the full tafseer →شان نزول
اسباب نزول ان آیات کے چند واقعات ہیں، اول یہود اور مسلمانوں میں صلح تھی، لیکن یہود جب کسی مسلمان کو دیکھتے تو اس کے خیالات پریشان کرنے کے لئے آپس میں سر گوشی کرنے لگتے، وہ مسلمان سمجھتا کہ میرے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں، حضور ﷺ نے یہود کو اس سے منع فرمایا مگر وہ باز نہ آئے، اس پر (آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى الخ نازل ہوئی۔
دوماسی طرح منافقین بھی باہم سرگوشی کیا کرتے اس پر آیت اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا الخ اور آیة انما النجوی الخ نازل ہوئی، سومیہود آپ کے حضور میں آتے تو از راہ شرارت بجائے السلام علیکم کہنے کے السام علیکم کہتے، سام بمعنی موت…
Read the full tafseer →(الم تران اللہ یعلم ما فی السموات وما فی الارض ما یکون من نجری ثلثۃ الا ھو رابعھم ولا خمسۃ الا ھو سادسھم ولا ادنی من ذلک والا اکثرالا ھو معھم این ما گانو ثم ینبھم بما عملوا یوم المقیمۃ ان اللہ کل شی علیم) (7)
(اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے)۔ یہ اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز سے باخبر ہے۔ وہ ہر ایک کے سامنے اس کا ایک ایک عمل رکھ دے گا۔ الم تر کا خطاب یہاں عام ہے اور یہ اسلوب بیان اس موقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر شخص پر واضح ہونی چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے وہی اس سارے نظام…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی مذکورہ تعداد کا خصوصی طور پر ذکر اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کم یا اس سے زیادہ تعداد کے درمیان ہونے والی گفتگو سے بیخبر رہتا ہے بلکہ یہ تعداد بطور مثال ہے، مقصد یہ بتلانا ہے کہ تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ وہ ہر ایک کے ساتھ ہے اور ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔
7۔ 2 خلوت میں ہوں یا جلوت میں، شہروں میں ہوں یا جنگلوں صحراؤں میں، آبادیوں میں ہوں یا بےآباد پہاڑوں بیابانوں میں، جہاں بھی ہوں، اس سے چھپے نہیں رہ سکتے۔
7۔ 3 یعنی اس کے مطابق ہر ایک کو جزا دے گا نیک کو اس کی نیکیوں کی جزا اور بد کو اس کی بدیوں کی سزا۔
Read the full tafseer →4: حضور نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد وہاں کے یہودیوں سے امن وامان کے ساتھ رہنے کا معاہدہ فرمایا تھا، دوسری طرف یہودیوں کو مسلمانوں سے جو دلی بغض تھا، اس کی بنا پر وہ مختلف ایسی شرارتیں کرتے رہتے تھے جو مسلمانوں کے لئے تکلیف کا باعث ہوں ؛ چنانچہ ایک شرارت یہ تھی کہ بعض اوقات جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو آپس میں اس طرح کانا پھوسی اور ایسے اشارے شروع کردیتے تھے جیسے وہ ان کے خلاف کوئی سازش کررہے ہوں، بعض منافقین بھی ایسا ہی کرتے تھے، اس طرز عمل سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی تھی، اس لئے انہیں اس طرح کی سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا، اس کے باوجود وہ اس سے باز نہیں آئے اس پر یہ آیات…
Read the full tafseer →آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ اللہ کا علم اس کائنات کے بارے میں جامع ومانع ہے اور ہر چیز کو شامل ہے۔ انسانی فکر اس پوری کائنات کے اندر ، آسمان کی دوریوں میں اور زمین کے اطراف میں ہر چیز تک چھوٹی ہو یا بڑی ظاہر ہو یا خفیہ معلوم ہو یا مجہول ہو ، نہیں پہنچ سکتی جبکہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ یہ آیت انسانی فکر کو یوں دور تک لے جاتی ہے۔
اس کے بعد پھر ہماری فکر خود مخاطیں کے قلوب تک جاپہنچی ہے۔ ہر شخص کا قلب خزاہ خیالات ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے خفیہ ترین مشورے دو ، تین ، چار یا پانچ یا کم وبیش آدمی جہاں اور جس محفل میں ہوں ، وہاں تک لے جائی جاتی ہے۔
مایکون .................... ماکانوا (85 : 7) ”…
Read the full tafseer →4 یعنی صرف ان کے اعمال ہی پر کیا منحصر ہے، اللہ کے علم میں تو آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز ہے۔ کوئی مجلس، کوئی سرگوشی اور کوئی خفیہ سے خفیہ مشورہ نہیں ہوتا جہاں اللہ اپنے علم محیط کے ساتھ موجود نہ ہو جہاں تین آدمی چھپ کر مشورہ کرتے ہوں نہ سمجھیں کہ وہاں کوئی چوتھا نہیں سن رہا۔ اور پانچ کی کمیٹی خیال نہ کرے کہ کوئی چھٹا سننے والا نہیں۔ خوب سمجھ لو تین ہوں یا پانچ یا اس سے کم زیادہ، کہیں ہوں، کسی حالت میں ہوں، اللہ تعالیٰ ہر جگہ اپنے علم محیط سے ان کے ساتھ ہے کسی وقت ان سے جدا نہیں۔ (تنبیہ) مشورہ میں اگر صرف دو شخص ہوں تو بصورت اختلاف ترجیح دشوار ہوتی ہے۔ اسی لیے عموماً معاملات مہمہ میں طاق…
Read the full tafseer →آیت 7{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سب کچھ کے بارے میں جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ؟“
{ مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ } ”نہیں ہوتے کبھی بھی تین آدمی سرگوشیاں کرتے ہوئے مگر ان کا چوتھا وہ اللہ ہوتا ہے“
{ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ } ”اور نہیں سرگوشی کر رہے ہوتے کوئی پانچ افراد مگر ان کا چھٹا وہ اللہ ہوتا ہے“
خفیہ انداز میں سرگوشیاں کرنے کو ”نجویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اندر نجویٰ کا رجحان یا…
Read the full tafseer →8 مشورہ اور مشیروں کی تعداد اور جمہوریت پسند :۔ اس آیت سے دراصل سمجھانا یہ مقصود ہے کہ انسان کسی وقت اور کسی حال میں بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتا۔ اور اگر وہ کوئی بات کرے تو وہ اسے بھی سن رہا ہوتا ہے۔ لہذا انسان کو گناہ کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے ہر حال میں پرہیز کرنا چاہیے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین اور پانچ یعنی طاق اعداد کا ذکر کیا ہے۔ دو اور چار وغیرہ جفت اعداد کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ مشورہ طاق لوگوں سے لینا چاہیے۔ ایک سے تو مشورہ کیا یا لیا نہیں جاسکتا اور دو مشورہ کرنے والوں میں اگر اختلاف ہوجائے تو کچھ فیصلہ نہ ہوسکے گا۔ اور اگر تین ہوں اور دو کی رائے ایک…
Read the full tafseer →14۔ یہ تنبیہ وسرزنش یہود ومنافقین پر ہے جو اکثر باطل کے لئے سرگوشیاں آپس میں کیا کرتے، اور یہ سمجھے رہتے کہ اس کی خبر نہ مسلمانوں کو ہوگی نہ ان کے خدا اور رسول کو۔ (آیت) ” الم ..... الارض “۔ چناچہ انسانوں کا کوئی بڑے سے بڑا مخفی راز بھی حق تعالیٰ کے لئے راز نہیں۔ (آیت) ’ نجوی “۔ اس کے لفظی معنی تو مطلق سرگوشی کے ہیں۔ لیکن یہاں مراد وہ اسرار مخفی ہیں جو کسی بےگناہ کی اذیت رسانی یا امر حق کی مخالفت میں ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ترجمہ : کیا آپ نے اس پر غور نہیں کیا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ سب کو جانتا ہے ؟ کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں ایسی نہیں ہوتی کہ چوتھا اپنے علم کے اعتبار سے اللہ نہ ہو اور نہ پانچ کی سرگوشی مگر یہ کہ چھٹا ان میں اللہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں پھر ان سب کو قیامت میں ان کے کئے ہوئے اعمال بتلا دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے، کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن کو کانا پھوسی سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ اس منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں اور آپس میں گناہ کی اور ظلم و زیادتی کی اور پیغمبر کی نافرمانی کی…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ
” کیا آپ نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ (سب کچھ) جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ (اللہ) چوتھا نہ ہو اور نہ کوئی پانچ کی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں اللہ چھٹا نہ ہو اور نہ اس سے کم (تعداد)…
Read the full tafseer →محمد کیا آپ کو بذریعہ قرآن حکیم اس چیز کی اطلاع نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو کہ آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں ان کے اعمال اور کوئی سرگوشی تین آدمیوں کی ایسی نہیں ہوتی جس سے اللہ تعالیٰ واقف نہ ہو اور نہ پانچ کی سرگوشی ایسی ہوتی ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ واقف نہ ہو اور نہ اس سے کم کی اور نہ اس سے زیادہ کی مگر وہ ہر حالت میں ان سے اور ان کی سرگوشی سے واقف ہوتا ہے۔ وہ لوگ کہیں بھی ہوں پھر ان سب کو قیامت کے روز ان کے دنیاوی اعمال بتا دے گا بیشک اللہ تعالیٰ کو ان کی اور ان کی سرگوشیوں کی پوری خبر ہے یہ آیت حضرت صفوان بن امیہ اور ان کے داماد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا واقعہ سورة…
Read the full tafseer →1۔ اَلَمْ تَرَ : اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ فیل کی پہلی آیت اور سورة ٔ نور کی آیت (41) کی تفسیر۔
2۔ اَنَّ اللہ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط : یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہی کو نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو جانتا ہے۔
3۔ یہاں سے آیت (19) تک مسلسل منافقین کے طرزعمل پر گرفت کی گئی ہے۔
4۔ مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلاَّ ھُوَ رَابِعُہُمْ۔۔۔۔۔:”نجا ینجو نجوا و نجوی و ناجی منا جاۃ و نجاء ، الرجل“ کسی آدمی سے اپنے دل کی بات دوسروں سے چھپا کر کرنا۔”نجوی“ اس سے اسم مصدر ہے ، سر گوشی۔ زیادہ تر اس کا استعمال برے کاموں کی سر گوشیوں اور سازشوں کے لیے ہوتا ہے ،…
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض اس پر کوئی راز مرخفی ہے اور نہ ہی اعلانیہ بات۔ مایکون من نجویٰ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے کیونکہ فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ ہے۔ ابو جعفر بن قعقاع، اعرج، ابوحیوہ اور عیسیٰ نے ماتکون پڑھا ہے کیونکہ فعل مونث ہے۔ نجوی کا معنی راز داری ہے۔ یہ مصدر ہے اور مصدر کے ساتھ کبھی صفت لگائی جاتی ہے یہ کہا جاتا ہے : قوم نجوی یعنی قوم ذونجوی اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واذھم نجوی (الاسرائ : 47)
ثلثۃ یہ مجرور ہے کیونکہ نجوی کا لفظ اس کی طرف مضاف ہے۔ فراء نے کہا، یہ نجوی کی صفت ہے اس وجہ سے مجرور ہے اگر تو چاہے تو نجوی کو اس کی طرف مضاف کر دے اگر تو فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت مایکون من نجوی ثلثۃ الا ہوا رابعہم ولا خمسۃ الا ہوسادسہم۔ کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چوتھا نہ ہو اور کوئی پانچ کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چھٹا نہ ہو یعنی وہ اللہ عرش پر ہیں اور ان کا علم ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
4۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین نہوا عن النجوی۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا۔ یعنی یہودیوں کو۔
سرگوشی کی ممنوع صورت
5۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور یہودیوں کے درمیان صلح تھی جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں…
Read the full tafseer →[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ][ ان اللّٰهَ يَعْلَمُ : کہ اللہ جانتا ہے ][ مَا فِي السَّمٰوٰتِ : اس کو جو آسمانوں میں ہے ][ وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور اس کو (بھی) جو زمین میں ہے ][ مَا يَكُوْنُ : نہیں ہوتی ][ مِنْ نَّجوٰى ثَلٰثَةٍ : کسی تین کی کوئی بھی سرگوشی ][اِلَّا هُوَ : مگر وہ (اللہ)][ رَابِعُهُمْ : ان کا چوتھا ہوتا ہے ][وَلَا خَمْسَةٍ : اور کسی پانچ کی (سرگوشی)][ اِلَّا هُوَ : مگر وہ (اللہ)][ سَادِسُهُمْ : ان کا چھٹا ہوتا ہے ][ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ : اور نہ اس سے کم کی (سرگوشی)][ وَلَآ اَكْثَرَ : اور نہ زیادہ کی (سرگوشی)][ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ : مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ][…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ ہے ہر خفیہ مشورہ کو جانتا ہے
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بیان فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ نے نظر نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے یہ آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے واسطے سے تمام انسانوں کو خطاب ہے مزید توضیح کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں کہیں بھی تین آدمی موجود ہوں جو کوئی خفیہ مشورہ کر رہے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا چوتھا ہوتا ہے یعنی اسے ان کی باتوں کا علم ہوتا ہے اور جہاں کہیں پانچ آدمی موجود ہوں تو وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اس سے کم افراد ہوں یا زیادہ ہوں بہرحال وہ اپنے علم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہے جو شخص تنہایا چھوٹی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →8:۔ ” الم تر ان اللہ یعلم “ یہ نہایت ہی سرکش اور بدترین قسم کے منافقوں پر پہلی زجر ہے۔ یہ منافقین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کرتے اور سمجھتے کہ ان کی ان پوشیدہ باتوں کا کسی کو علم نہیں، حالانکہ ان کی کوئی خفیہ سازش اللہ تعالیٰ سے خفیہ نہیں سکتی اللہ تعالیٰ تو زمین و آسمان کی ہر بات اور چیز کو جانتا ہے اور کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔ اگر کسی جگہ بھی آدمی چھپ کر کوئی مشورہ کریں تو چوتھا اللہ تعالیی ہوتا ہے اور اگر پانچ آدمی کوئی خفیہ پروگرام بنائیں تو ان کے پاس بھی وہ موجود ہوت ہے۔ الغرض اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی چھپ کر کوئی مشورہ کریں اللہ تعالیٰ ان کے پاس موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات :
پہلے مسئلہ ظہار اور اس کی قباحت بیان ہوئی کہ یہ گناہ کی بات ہے اور نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ غلطی کر بیٹھے اور اپنی بیوی کو ماں یا بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ عورت اس شخص کے لئے حرام ہوجاتی ہے جب تک کہ وہ اس کے لئے مقررہ کفارہ ادا نہ کرے۔ پھر اللہ نے کفارے کی تین متبادل صورتیں بیان فرمائیں یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اگر طاقت نہیں ہے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے قبل اس کے کہ اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کرے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ ذلت ناک عذاب کی صورت…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۭ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَرَابِعُہُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَسَادِسُہُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا ہُوَمَعَہُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا 0 ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 7
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ترکیب : مایکون جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھا من سعۃ علمہ۔ یکون من کان التامۃ وقریٔ تکون من التاء اعتبار التانیث النجویٰ وان کان غیرحقیقی۔ نجو ای مصدر کالتناجی وقال الزجاج النجوٰی مشتق من النجوۃ وھی ما ارتفع من الارض فان السرا مرمرتفع عن استماع الغیر کالارض المرتعفۃ لارتفاعھا انفصلت عن اتصال الغیر۔ ثلاثۃ مجرد رباضافۃ نجوٰی الیہ او علی انھا موصوفۃ بھا بتقدیر مضاف الاستثناء مفرغ من اعم الاحوال۔ ولاخمسۃ ای ولانجوٰی ولا اکثر معطوف علی العددو یقرء بالرفع علی اللابتدائ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ علیٰ کل شیئٍ شہید کہ اللہ کے نزدیک ہر چیز حاضر و موجود ہے۔ اب اس جگہ اس وسعت علمی کی تشریح فرماتا ہے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَایَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلاَّ ھُوَ رَابِعُہُمْ وَلاَخَمْسَۃٍ اِلاَّ ھُوَ سَادِسُھُمْ وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلاَّ ھُوَ مَعَھُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا ج ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 7)
(کیا سمجھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ میں مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم میں اور نہ زیادہ میں، مگر وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہی نہیں بلکہ وہ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کے اعتبار سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔
انسان کو اس حقیقت پر ایمان لانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ جب تین شخص آپس میں بیٹھ کر سرگوشیاں کرتے ہیں تو ان کے ساتھ چوتھا ” اللہ “ ہوتا ہے۔ جب پانچ ہوتے ہیں تو چھٹا ” اللہ “ ہوتا ہے۔ لوگ اس سے کم ہوں یا زیادہ ” اللہ “ ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا جو وہ عمل کیا کرتے تھے یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ حقیقت بتلائی ہے کہ اے انسان ! میں اپنے علم،…
Read the full tafseer →کفار کی سرگوشیاں :
7 : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَایَکُوْنُ (کیا آپ نے ان پر نظر نہیں کی۔ کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے) یہ یکونؔ کان تامہ سے ہے اس کا معنی ما یقع ہے جو واقع ہوتا ہے۔ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰثَۃٍ (کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی) النجویؔ : سرگوشی کرنا۔ اس کی اضافت یہاں تین کی طرف کی گئی۔ یعنی تین شخصوں کی سرگوشی اِلَّا ھُوَ (مگر اللہ تعالیٰ ) رَابِعُھُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ھُوَ سَادِسُھُمْ وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ھُوَ مَعَھُمْ (چوتھا نہ ہو۔ اور نہ کوئی پانچ کی سرگوشی ہوتی ہے…
Read the full tafseer →6 ۔” یوم یبعثھم اللہ جمیعا فینبتھم بما عملوا احصاہ اللہ “ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو یاد کیا ہے۔ ” ونسوہ واللہ علی کل شیء شھید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ خولہ بنت ثعلبہ اور اوس بن صامت کا قصہ جو اوپر گزرا ہے۔ ابن ماجہ 1 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس قصہ کی روایت کے بعد فرمایا کرتی تھیں اللہ اکبر کس قدر ذرا ذرا سے اپنے بندوں کے قول و فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ جس مکان میں خولہ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی باتیں کیں اسی مکان میں میں بھی تھی میں نے بعضی باتیں خولہ کی نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب باتیں اس کی سن کر اس کی شکایت رفع کی۔ اور سورة مجادلہ کی اول آیتیں خولہ کے اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے نازل فرمائیں۔ حاکم نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ کے علم باطنی کا ایک نمونہ…
Read the full tafseer →بنا بریں اس نے اپنے لامحدود ولم کے بارے خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ( مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚ ) کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں اس معیت سے مراد معیت علم اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم…
بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول…
Read the full tafseer →[ 24] اللہ تعالیٰ کی معیت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی یہ ہوں، یعنی وہ ہر وقت ہر حال میں انکے ساتھ ہوتا ہے، یعنی اپنے علم لامتناہی اور قدرت بےپایاں کے اعتبار سے، اور جس کے علم وقدرت کی یہ شان ہو اس سے کائنات کی کوئی چیز چھپی کس طرح رہ سکتی ہے ؟ اور ایسی ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور اپنی عرض والتجاء پیش کرنے کیلئے واسطوں کے ڈھونڈنے کی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور اس کو دنیا کے حاکموں اور بادشاہوں پر قیاس کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ تعالیٰ اللّٰہ عما یقولون علواً کبیراً ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ جتنے بھی ہوں، اور جہاں بھی اور جس حال میں بھی ہوں، وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سرگوشی اور نیت اللہ سب جانتا ہے
تشریح : ان آیات میں یہودیوں اور منافقین کے بارے میں تفصیلاً بتا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اکثر اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے اور چپکے چپکے رسول اللہ ﷺ پر فقرے کستے اور مذاق اڑاتے یہ رویہ تو آج کے انسان میں بھی ہے کہ جب بھی کسی واعظ کی مجلس میں جاتے ہیں تو بدنیت، شیطان فطرت لوگ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے الٹا غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ دین کو مسلم معاشرے کو اور ہدایت کار کو نقصان پہنچائیں۔ تو اس وقت ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ رب العزت علیم وخبیر ہے۔ سمیع وبصیر ہے اور قادر مطلق ہے۔ یعنی کوئی کو نہ ایسا نہیں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم نہ ہو مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اسے ان کی کانا پھوسی کی اطلاع ہوتی ہے اور وہ اپنے علم کے ذریعہ ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے اس مفہوم پر بعض مفسرین نے سلف کا اجماع نقل کیا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(58:7) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر مضارع نفی جحد بلم (مجزوم) بمعنی الم تعلم کیا تو نہیں جانتا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔
ما فی السموت وما فی الارض : ما ہر دو جگہ موصولہ ہے یعنی آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے کلی ہے اور جزئی سب سے اللہ تعالیٰ واقف ہے۔
مایکون : میں ما نافیہ ہے یکون یہاں فعل تامہ ہے۔ اس کو خبر کی ضرورت نہیں ہے ۔ نہیں ہوتا ہے۔
جملۃ مستانفۃ مقررۃ لما قبلہا عن سعۃ علمہ یکون من کان التامۃ و قری تکون من التاء اعتبارا التانیث النحوی وان کان غیر حقیقی 12 (حقانی)
من نجوی : میں من زائدہ ہے نجوی اسم نکرہ مضاف ثلثۃ مضاف الیہ ۔ نجوی سرگوشی راز کی بات کرنا۔ کانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →خدا ہر جگہ موجود ہے۔
(ف 1) یہاں وسعت علمی کا ذکر ہے نہ آسمانوں میں کوئی چیز اللہ پر مخفی ہے نہ زمینوں میں کوئی شے پوشیدہ ہے یہ اسلیے فرمایا ہے تاکہ ہر مکلف کو معلوم ہوجائے کہ انسان کا کوئی فعل کوئی قول کوئی حرکت کوئی دل کا مضمون اللہ پاک پر پوشیدہ نہیں جہاں تین آدمیوں میں کوئی مشورہ کرتا ہے کہ سوائے ان کے کوئی نہیں سن سکتا وہاں خدا چوتھا موجود ہے اور جہاں پانچ آدمیوں کا خفیہ مشورہ ہوتا ہے ان کے حال واقوال کا عالم، اور جہاں اس سے کم اور اس سے زائد خواہ کتنوں ہی کا خفیہ مشورہ ہو تو مگر وہ سب کے ساتھ رہتا ہے سب کا ہر وقت حال کہیں کیوں نہ ہوں ہر طرح جانتا ہے وہ سب کا مار کر اپنے پاس بلا کر بروز…
Read the full tafseer →[10] یہاں سے آیت 10 تک یہود اور منافقین کا بیان ہے جو اکثر باطل کے لئے آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے اور یہ سمجھتے رہتے کہ اس کی خبر نہ مسلمانوں کو ہوگی اور نہ اللہ اور رسول ﷺ کو۔
Read the full tafseer →ف 1: منافقین اور منکرین خفیہ طور پر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ۔ اور سرگوشیاں کرتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ آپ کو معلوم ہے ۔ کہ ہم سے کوئی بات پوشیدہ اور مسقتر نہیں ۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں ۔ زمین کی وسعتیں اور آسمان کی بلندیاں سب ہمارے سامنے ہیں ۔ جب یہ لوگ تین ہوتے ہیں ۔ تو چوتھا میں ہمارا وجود ہوتا ہے ۔ اور جب یہ پانچ ہوتے ہیں تو چھٹے ہم ہوتے ہیں ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ کوئی راز کی بات کریں ۔ اور ہم اس کو نہ جانیں ۔ کیونکہ ہمارا علم ہر چیز کو محیط ہے ۔ واضح رہے کہ یہ معیت جس کا ذکر یہاں ہوا ہے محض علم اور شہادت کی زد سے ہے ۔ ورنہ اللہ تو اس چیز ومکان کی احتیاجات سے بےنیاز ہے ۔ وہ اگرچہ…
Read the full tafseer →(7) کیا آپ نے اس پر نظر نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں کہیں تین شخصوں کا خفیہ مشورہ ایسا نہیں ہوتا جہاں چوتھا وہ اللہ تعالیٰ موجود نہ ہو اور نہ کہیں پانچ کا خفیہ مشورہ مگر یہ کہ چھٹا ان کا وہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور نہ تین سے کم اور نہ پانچ سے زائد کوئی خفیہ مشورہ مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ مشورہ کرنے والے کہیں بھی ہوں پھر جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن آگاہ کرے گا اور جتادے گا یقینا اللہ تعالیٰ ہر بات کو خوب جانتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بعض یہود اور بعض منافق نبی کریم ﷺ کی مجلس میں سرگوشیاں…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس آیت کا مضمون بعنوان کلی اگلے مضامین جزئیہ کی تمہید ہے یعنی یہ بالباطل سرگشی کرنے والے خدا سے ڈرتے نہیں کہ خدا کو سب خبر ہے اور ان کو سزا دے گا، آگے وہ جزئی مضامین ہیں۔
Read the full tafseer →جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے ، تمہاری ہر حالت سے وہ واقف ہے
7 ؎ زیر نظر آیت گزشتہ آیات کی مزید وضاحت کر رہی ہے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے دراصل آپ ﷺ کی ساری امت بلکہ ساری انسانیت کو مخاطب کیا جا رہا ہے کیونکہ جو بات کی جا رہی ہے اس میں پوری انسانیت ہی کو مخاطب کرنا مقصود ہے خواہ پکے اور سچے مسلمان ہوں اور خواہ نام کے مسلمان اور کام کے کافر ہوں اور خواہ وہ کفر میں نہایت سچے ہوں کیونکہ سچ اور کفر دونوں منافی نہیں ہیں ۔ فرمایا جب سارے نظام کا بنانے والا اور چلانے والا اللہ ہے تو لاریب وہ ہر ایک چیز سے واقف بھی ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
أَحْصَاهُ اللَّـهُ وَنَسُوهُ (...Allah has its full account, while they have forgotten transgressions, but because he treats them as trivial and insignificant, he is unable to remember and recall them. However, they are all recorded and kept safely with Allah, even though the humans have done the actions and forgotten them. Allah will call them to give an account of them on the Day of Resurrection and chastise them.
Read the full tafseer →18 From here to verse 10 continuously the hypocrites have been taken to task for the attitude they had adopted in the Muslim society. Although apparently they were a part of the Muslim community, secretly they were a separate group from the believers, Whenever the Muslims saw them, they found them whispering secretly together. That is hew they conspired and made all sorts of plans in order to create rifts in the ranks of the Muslims, and to cause alarm and spread mischief among them.
19 The question may arise Why have three and five been mentioned here instead of two and three? Why has two,…
Read the full tafseer →