Explained with ayahs 5–7
احکامات رسول اللہ ﷺ اور ہم
فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بےانتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 17
یعنی ان کے بھول جانے سے معاملہ رفت گزشت نہیں ہوگیا ہے۔ ان کے لیے خدا کی نافرمانی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی ایسی معمولی چیز ہو سکتی ہے کہ اس کا ارتکاب کر کے اسے یاد تک نہ رکھیں، بلکہ اسے کوئی قابل اعتراض چیز ہی نہ سمجھیں کہ اس کی کچھ پروا انہیں ہو۔ مگر خدا کے نزدیک یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اس کے ہاں ان کا ہر کرتوت نوٹ ہوچکا ہے۔ کس شخص نے، کب، کہاں، کیا حرکت کی، اس حرکت کے بعد اس کا اپنا رد عمل کیا تھا، اور اس کے کیا نتائج، کہاں کہاں کس کس شکل میں برآمد ہوئے، یہ سب کچھ اس کے دفتر میں لکھ لیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ میں اس پر تنبیہ ہے کہ غافل انسان دنیا میں گناہ اور فسق و فجور کے کام کرتا رہتا ہے جو اس کو یاد بھی نہیں رہتے اور بھولنے کا سبب دراصل یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لئے ذہن میں بھی نہیں رہتا، وہ سب اللہ تعالیٰ کے پاس لکھے ہوئے ہیں، یہ تو کر کے بھول گئے مگر اللہ تعالیٰ کو سب یاد ہیں سب پر محاسبہ اور عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →(یوم یبعثھم اللہ جمیعا فینبئھم بما عملوا احصہ اللہ ونسوہ والہل علی کل شی شھید) (6)۔ (یوم) کا نصاب اگرچہ (عذاب مھین) سے بھی ہوسکتا ہے لیکن میرے نزدیک یہ معروف ضابطہ عربیت کے مطابق، فعل محذوف سے منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو جو پیش آئے گا آئے گا ہی، یہ لوگ اس دن کو بھی یاد رکھیں جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا وہ سب ان کے آگے رکھ دے گا۔ (جمعیا) کی قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے کہ آج جو سازشیں اور سرگوشیاں ہو رہی ہیں ان کے تمام ارکان و عوامل جمع کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے سارے راز بےنقاب کر دے گا کہ کس نے کیا مشورے دیے…
Read the full tafseer →6 ۔ 1 یہ ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکال کا جواب ہے کہ گناہوں کی اتنی کثرت اور ان کا اتنا تنوع ہے کہ ان کا احصار بظاہر ناممکن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے لیے یقینا ناممکن ہے بلکہ تمہیں تو خود اپنے کیے ہوئے سارے کام بھی یاد نہیں ہوں گے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں اس نے ایک ایک کا عمل محفوظ کیا ہوا ہے۔
6۔ 2 اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں آگے اس کی مزید تاکید ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3: یہاں سے ظہار کا حکم بیان فرمایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ظہار کے بعد میاں بیوی کے لئے اپنے مخصوص تعلقات یعنی جماع بوس وکنار وغیرہ جائز نہیں رہتے، البتہ ظہار سے رجوع ہوسکتا ہے، جس کے بعد میاں بیوی والے تعلقات بحال ہوجاتے ہیں، لیکن اس کے لئے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، ان آیتوں میں کفارہ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی کے لئے ایک غلام کو آزاد کرنا ممکن ہو تو اس کے ذمے واجب ہے کہ وہ غلام آزاد کرنے کی صورت میں کفارہ ادا کرے ؛ لیکن اگر کسی کو غلام کی قدرت نہ ہو (جیسے کہ آج کل غلاموں کا وجود ہی نہیں رہا) تو اس کو دو مہینے متواتر روزے رکھنے ہوں گے، اور اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
پہلے پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ اہل اسلام کے ساتھ کس قدر مہربانی کرنے والا ہے اور جماعت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار ہے۔ یہ دوسرا پیراگراف کافروں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسول اللہ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں یعنی وہ مسلمانوں کی حدود پر متضاد اور مخالفانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور محاذ آرائی کرتے ہیں۔ پہلے چونکہ حدود اللہ کا ذکر ہے اور حدود پر جو جھگڑتا ہے وہ دشمن ہوتا ہے یعنی سرحدوں پر جو لڑتا ہے اس لئے یہاں ایسے دشمنان اسلام کا ذکر کردیا گیا۔ جو رسول اللہ کے مقابلے میں حد پر کھڑے ہیں اور مقابلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس سے دو مقابل فریقوں کی ایک…
Read the full tafseer →2 یعنی جو کام کیے تھے ان سب کا نتیجہ سامنے آجائے گا کوئی ایک عمل بھی غالب نہ ہوگا۔
3 یعنی ان کو اپنی عمر بھر کے بہت سے کام یاد بھی نہیں رہے، یا ان کی طرف توجہ نہیں رہی۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ سب ایک ایک کر کے محفوظ ہیں۔ وہ سارا دفتر اس دن کھول کر سامنے رکھ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 6{ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا } ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا ‘ پھر انہیں جتلا دے گا ان کے اعمال کے بارے میں جو انہوں نے کیے تھے۔“
{ اَحْصٰٹہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ } ”اللہ نے ان اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ وہ انہیں بھول چکے ہیں۔“
یہ لوگ تو بھول چکے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں کیسی کیسی حرام خوریاں کی تھیں اور کس کس کے ساتھ کیا کیا زیادتی کی تھی۔ لیکن ظاہر ہے اللہ کے ہاں تو ہر شخص کے ایک ایک عمل اور ایک ایک حرکت کا ریکارڈ محفوظ ہوگا۔
{ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ۔ } ”اور اللہ تو ہرچیز پر خودگواہ ہے۔
Read the full tafseer →7 دنیا میں انسان بیشمار ایسے گناہ کے کام کرتا ہے جنہیں وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ لہذا وہ اسے یاد ہی نہیں رہتے۔ لیکن اللہ اور اس کے فرشتے ہر انسان کا ایسا مکمل ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ جس میں انسان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی کرتوت بھی درج ہونے سے رہ نہیں سکتی۔ قیامت کے دن اس کا یہی کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ تب اسے اپنی وہ سب کرتوتیں یاد آنے لگیں گی۔ جو اس کے دل و دماغ سے یکسر فراموش ہوچکی تھیں۔
Read the full tafseer →13۔ (اس کے علم میں اور اس کے حساب و کتاب میں کسی غلطی یا اختلال کا احتمال بھی نہیں) (آیت) ’ نسوہ “۔ مراد نسیان طبعی واضطراری نہیں، بلکہ نسیان ارادی ہے، ان کی دانستہ بےالتفاتی وبے فکری کا نتیجہ۔ (آیت) ” واللہ ..... شھید “۔ مشرکین جاہلین کے استحضار کے لئے حق تعالیٰ کے عالم جزئیات وکلیات ہونے اور اس کی صفات ہمہ بینی وہمہ دانی کی تکرار وتاکید کی ضرورت بار بار تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قاعدہ : والذین یطھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا، لما قالوا میں لام، عن کے معنی میں ہے۔
مامصدریہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں، اس آیت سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے، بیوی کفارہ کے بغیر حلال نہ ہوگی، خود ظہارہ کفارہ کی علت نہیں، اسی سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور وہ اس سے اختلاط کا خواہشمند نہیں تو کفارہ لازم نہیں، البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کر کے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دیکر آزاد کرنا واجب ہے، اگر یہ شوہر خود نہ کرے تو بیوی حاکم کی طرف مراجعت کر…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا ۭ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ
” جس روز ان سب کو اللہ دوبارہ زندہ کرے گا ‘ پھر ان کا سب کیا ہوا ان کو بتادے گا۔ اللہ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔
جَمِیْعًا : سب کو۔
فَيُنَبِّئُهُمْ : یعنی علی الاعلان سب کے سامنے رسوا کرنے کے لیے اللہ ان کو ان کے اعمال سے باخبر کرے گا تاکہ سب کے سامنے ان کو عذاب دیا جاسکے۔
اَحْصٰہُ اللہ : یعنی اللہ کا علم ان کے سارے اعمال کو محیط ہے۔ ان کا کوئی عمل اللہ کے علم سے باہر نہیں۔
وَ نَسُوْہُ : یعنی بد عملی…
Read the full tafseer →جس روز تمام ادیان والوں کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا پھر ان کے تمام دنیاوی اعمال ان کو بتا دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے جو اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا اس کو انہوں نے بھلا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →1۔ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا۔۔۔۔: اس کا تعلق پچھلی آیت کے آخری جملے ”وللکفرین عذاب مھین ‘ ‘ سے ہے ، یعنی ان کافروں کے لیے اس دن بھی رسوا کرنے والا عذاب ہے ، جب اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع فرمائے گا ، پھر وہ خود کرتے رہے اس سے انہیں آگاہ کرے گا ، تا کہ وہ اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
2۔ اَحْصٰہُ اللہ ُ وَنَسُوْہُ ط : اس سوال کا جواب ہے کہ ہزاروں لاکھوں سالوں کے بعد اگر سب لوگوں کو زندہ کر بھی لیا گیا تو انہوں نے جو کچھ کیا اسے مدتیں گزر چکی ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اتنی بیشمار مخلوق کے بیشمار اعمال انہیں کیسے بتائے گا۔ فرمایا وہ اپنا کیا ہوا بیشک بھول چکے ہوں ، مگر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ان الذین یحآدون اللہ و رسولہ جب ممونین کا ذکر کیا جو اس کی حدود پر رکج اتے ہیں تو اس کی مخالفت کرنے والوں کا بھی ذکر کیا۔ محاورہ کا معنی دشمنی کرنا اور حدود کی مخالفت کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ذلک بانھم شآقوا اللہ و رسولہ (الحشر : 4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یحآدون اللہ کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی مخلافت کرتے ہیں جس طرح حدیث میں ہے من اھان لی ولیا فقد بار زنی بالمح اور بۃ جس نے میرے دوست کی اہانت کی اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا زجاج نے کہا، محادہ یہ ہے کہ تو ایسی حد میں ہو جو تیرے ساتھی کی حد کی مخالف ہو۔ اس کا اصل معنی ممانعت ہے اسی سے لفظ حدید ہے اسی سے لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1۔ فریابی وعبد بن حید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یحادون “ (وہ مخالفت کرتے ہیں) یعنی جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔
2۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یحادون اللہ ورسولہ۔ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑا کر رہے ہیں۔ آیت کبتوا کما کبت الذین من قبلہم۔ وہ دنیا میں ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے۔ یعنی ان کو اس طرح ذلیل ورسوا کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو ذلیل ورسوا کیا گیا۔
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ : جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ ][جَمِيْعًا : سب کے سب کو ][فَيُنَبِئُهُمْ : پھر وہ جتا دے گا ان کو ][بِمَا عَمِلُوْا : وہ جو انھوں نے عمل کیے ][اَحْصٰىهُ اللّٰهُ : شمار پورا کیا اس کا اللہ نے ][وَنَسُوْهُ : اور یہ لوگ بھول گئے اس کو ][وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور اللہ ہر چیز پر ][ شَهِيْدٌ: گواہ ہے ]
نوٹ۔ 1: عرب میں بسا اوقات شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو غصے میں شوہر کہہ دیتا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے ماں کی پیٹھ۔ آج کل بھی بہت سے نادان لوگ بیوی سے لڑ کر اس کو ماں، بہن، بیٹی سے تشبیہ دے بیٹھتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی گویا اب اسے بیوی نہیں…
Read the full tafseer →قیامت کے دن سب اٹھائے جائیں گے
﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ﴾ (الایۃ) اس آیت میں سب کو تنبیہ فرمادی کہ دنیا میں جو کچھ عمل کرتے ہیں قیامت کے دن وہ سب سامنے آجائیں گے اللہ تعالیٰ شانہ انہیں ان کے اعمال کی خبر دے دے گا یعنی یہ بتادے گا کہ تم نے ایسے اور یہ یہ اعمال كئے تھے، یہ لوگ دنیا میں عمل کر کے بھول گئے اور اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کے اعمال کو محفوظ رکھا، اتنی بڑی زندگی کے اعمال واقوال بندوں کو یاد نہیں رہتے لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس وہ سب محفوظ ہیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے جو کچھ کیا گزر گیا ہمیں تو یاد نہیں کہ کیا کیا۔ بات یہ ہے کہ جزا سزا ملنے کے لئے عمل کرنے والے کو یاد رہنا ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
تنبیہ ووعید پر بغاوت ونافرمانی از حکم خدا اور رسول ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ آیات میں کفارۂ ظہار کا حکم بیان فرما کر اخیر میں فرما دیا گیا تھا یہ احکام اللہ کی حدود ہیں۔ اور حدود خداوندی سے تجاوز کرنا اللہ کو ہرگز گوارا نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں احکام خداوندی سے بغاوت کرنے والوں اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں پر وعیدوتنبیہ ہے فرمایا۔
بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ ذلیل و خوار ہوئے جیسا کہ ذلیل ہوئے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے اتار دی ہیں کھلی کھلی نشانیاں اور واضح احکام جن کے بعد نہ کوئی تردد ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ابہام باقی رہ سکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
7:۔ ” ان الذین یحادون “ یہ ان کفار و منافقین کے لیے زجر اور تخویف دنیوی واخروی ہے ج خدا اور رسول کے احکام کی مخافلت کرتے اور احکام شریعت پر نعطن کرتے ہیں۔ ان کو دنیا میں ذلیل و رسوا کیا جائیگا۔ جس طرح گذشتہ امتوں کے کافروں کو کیا گیا۔ حالانکہ ہم اسلام، قرآن اور پیغمبر (علیہ السلام) کی صداقت پر واضح اور روشن دلائل قائم کرچکے ہیں کہ انکار و مخالفت کی کئی گنجائش ہی باقی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان معاندین کو دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں مختلف مواقع پر نہایت ذلیل ورسوا کیا۔ جنگ بدر یا جنگ احزاب میں یا دونوں ہی مراد ہوں (بحر، روح) ۔ ” وللکفرین عذاب مھین “ دنیا میں اس ذلت و ناکامی کے علاوہ آخرت میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ظہار کی ناپسندیدگی کا ذکر تھا کیونکہ یہ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے اور دوسرے معنوی میں گناہ کبیرہ بنتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے یعنی اس کو اپنی ماں کی پشت سے تشبیہ دیتا ہے تو اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے عدم مباشرت اور علیحدگی کا اعلان کررہا ہے۔ مگر ایسا کہنے سے بیوی کو طاق نہیں ہوجاتی بلکہ آدمی گنہگار بن جاتا ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ جس کا ذکر آج درس میں آرہا ہے۔
کفارہ ظہار (1) غلام کی آزادی :
ارشاد باری تعالیٰ ہے والذین یظھرون من نسآء ھم جو لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَبْعَثُہُمُ اللہُ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا 0 ۭ اَحْصٰىہُ اللہُ وَنَسُوْہُ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ 6 ۧ
يوم
اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ،
( ی و م ) الیوم
( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1 ؎ محاذۃ مخالفت کردن دباز داشتن حق تحاد کذلک قولہ تعالیٰ ان الذین یحادون کبت بازدگردانیدن دخوار کردن بر روئے درافگندن یقال کبت اللہ اور العدد ای صرفہ داذلہ و صرفہ بوجہ صعاک ام صراح۔ 12 منہ
Read the full tafseer →یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا ط اَحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (المجادلۃ : 6)
(یاد کرو جس روز اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرکے اٹھائے گا اور انھیں بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو گن رکھا ہے اور وہ بھلا چکے ہیں، اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ )
آخرت میں مخالفین کا انجام
جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کے قانون کی توہین کرتے ہیں اور ان کی نگاہوں میں وضعی قوانین کی تو عزت ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو اذکاررفتہ سمجھتے ہیں اور انھیں اپنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے والوں کی دنیا میں سزا۔
جو لگ اللہ کی مقرر کردہ حدود کا خیال اور احترام نہیں کرتے حقیقت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ اسی طرح ہی ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اپنے احکام نازل کردیئے ہیں جو ان کو نہیں مانتے انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو زندہ کرے گا اور پھر انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا عمل کیا کرتے تھے۔ لوگ اپنے اعمال کو بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے…
Read the full tafseer →تذکرئہ بعثت :
6 : یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ (جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ زندہ کریگا) نمبر : 1 یوم یہ مھین کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اذکر کا مفعول ہے یوم کی تعظیم کیلئے اس کو مقدم کیا۔ اللّٰہُ جَمِیْعًا (تمام کو کسی کو بھی بغیر اٹھائے نہ چھوڑے گا) نمبر 2۔ جمیعًا کا معنی مجتمعین فی حالۃ واحدۃ اکھٹے ایک ہی حالت میں اٹھا کھڑا کرے گا۔ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا (پھر ان کو ان کا سب کیا ہوا بتلا دے گا) ان کو شرمندہ کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور ان کی حالت کو سب کے سامنے مشہور کرنے کیلئے وہ اس وقت شرمندگی سے چاہیں گے کہ ان کو جلد آگ میں بھیج دیا جائے۔ اَحْصٰہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوط…
Read the full tafseer →5 ۔” ان الذین یحادون اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی کرتے اور ان کے امر کی مخالفت کرتے ہیں۔ ” کیتوا “ ذلیل ورسوا کیے گئے اور ہلاک کیے گئے ” کما کبت الذین من قبلھم وقد انزلنا “ آپ (علیہ السلام) کی طرف۔ ” آیات بینات وللکافرین عذاب مھین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
2۔ 6۔ معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن 3 ؎ مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہار اسلام میں پہلا ظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں مذکور ہے اس پہلے ظہار کے مبہم ذکر کرکے بعد جو حکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورت ماں نہیں ہوسکتی۔ ماں تو وہی ہے جس کے پیٹ سے آدمی پیدا ہوتا ہے یہ ایک گھڑا ہوا غلط رواج ہے کہ غیر عورت کو ماں کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →یعنی جس روز اللہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا (جَمِيْعًا) سب کو، تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا ( فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا) چناچہ انہوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے اللہ انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے (احصاہ اللہ) اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کررکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں (وَ ) اور، ، عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ (نسوہ) انہوں نے اپنے اعمال کو فراموش کردیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کررکھا ہے (وَاللّٰهُ عَلٰي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم…
بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول…
Read the full tafseer →[ 21] ایک بہت بڑے مغالطے کا ازالہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو بھول گئے ہیں، یعنی یہ بھول گئے ہیں اپنے کیے کرائے کو، کہ ان کے نزدیک کوئی حساب کتاب ہونا ہی نہیں ہے، بلکہ ان کے خیال کے مطابق یہ سب کچھ یونہی مٹ مٹا کر ختم ہوجائے گا، اور بس، مگر ان کے بھلا دینے سے معاملہ یونہی رفت گزشت تھوڑا ہی ہوجائے گا، کہ ان کی کوئی پرستش اور پوچھ نہ ہو، نہیں بلکہ ان کے کرتوتوں کا پورا ریکارڈ تیار اور محفوظ ہے، جس کے نتیجہ میں ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتنا بہرحال اور پورے طور پر بھگتنا ہوگا، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، سو بڑے ہی خصارے میں ہیں وہ لوگ جو اس بارے غفلت و لاپرواہی کا شکار ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ایک ایک کر کے اس کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں اور یہ ریکارڈ قیامت کے روز ان کے سامنے آجائیگا2 یعنی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ غیب یا پوشیدہ جو کچھ ہے۔ وہ دوسروں کی نسبت سے ہے نہ کہ خود اس کی نسبت
Read the full tafseer →(58:6) یوم : اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے ۔ یاد کر جس دن۔
یبعثم : مضارع واحد مذکر غائب۔ بعث (باب فتح) مصدر۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ (جس دن) وہ ان کو اٹھائے گا۔ (یعنی دوبارہ زندہ کرکے ان کو اٹھا کھڑا کرے گا قیامت کے دن)
ینبئہم مضارع واحد مذکر غائب تنبئۃ (تفعل) مصدر۔ وہ بتادے گا۔ وہ خبر دیدے گا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
احصہ اللہ۔ احصی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب احصاء (افعال) مصدر۔ بمعنی شمار کرنا۔ گننا۔ محفوظ کرلینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ما عملوا ہے احصاء (افعال) حصا سے مشتق ہے جس کے معنی کنکری کے ہیں ۔ چونکہ عرب شمار کے لئے کنکریوں کا استعمال کرتے تھے اس لئے شمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔
تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(ف 1) معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہاراسلام میں پہلاظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں ذکر ہے اس پہلے ظہور کے مبہم ذکر کرکے بعدجوحکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپرگذرچکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی اس لیے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورتیں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہوجاتی اور وہ جو ان پر حرام ہیں وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکوجنا ہے یعنی حقیقی والدہ یا جس نے دودھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[9] مخالفت سے مراد اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو نہ ماننا اور ان کی بجائے کچھ دوسری حدیں مقرر کرلینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
قانون الٰہی کا احترام ضروری ہے
1: تجادون سے مراد شدید مخالفت اور سخت ترین مظاہرہ عناد اور بغض کا ارتکاب سے مکہ والے قرآن کی تعلیمات کو حضور ﷺ کے منہ سے سنتے اور زاراہ بدبختی ان کی مخالفت کرتے اور ان کو ہدف استہزاء بناتے ۔ اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں ۔ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ جس کا احترام بنی نوع انسان کے لئے ضروری ہے ۔ اگر ان لوگوں سے اس تذلیل کی ۔ اور انکار کیا ۔ تو پھر یاد رکھیں ۔ کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہلاکت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے ۔ اور جس طرح پہلے گروہوں کو ان کے مقاصد میں ناکام اور غائب و خاسر رکھا گیا ہے ۔ اسی طرح ان کو ان کی ناپاک غرضوں میں کامیاب نہیں ہونے…
Read the full tafseer →(6) اس عذاب کا وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو زندہ کرکے اٹھائے گا پھر ان کے تمام اعمال سے ان کو آگاہ کرے گا اور ان تمام وہ اعمال ان کو جتائے گا جو انہوں نے کئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب اعمال کو جو انہوں نے کئے تھے شمار کررکھا ہے اور گن رکھا ہے حالانکہ یہ خود اعمال کو کرنے کے بعد بھول گئے اور فراموش کرچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مطلع اور ہر چیز پر نگراں ہے اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے۔ یعنی ان کے عذاب کا وہ دن ہوگا جس دن تمام مردے اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے تمام اعمال سے باخبر کرے گا جو دنیا میں کرچکے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو گن رکھا ہے حالانکہ یہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ خواہ حقیقة یا باعتبار بےفکری و بےالتفاتی کے۔
Read the full tafseer →جب ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو بات بالکل واضح ہوجائے گی
6۔ وہ دن جب اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور ظاہر ہے کہ ان میں وہ بھی ہوں گے جو سچے مسلمان ہیں ، وہ بھی ہوں گے جو نام کے مسلمان اور کام کے کافر یعنی منافق بیے ہوں گے اور کھلے منکر بھی جن کو اسلام نے کافر ہی سے خطاب کیا ہے اور وہ بھی ہوں گے جو علمائے قوم یا علمائے اسلام کے نام سے موسوم کیے جاتے ہیں لیکن عوام کو خوش کرنے کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے رہتے ہیں اور بلا شبہ وہاں علمائے حق بھی ہوں گے اور سب کے اعمال اور اقوال و افعال کھول کھول کر سامنے رکھ دیئے جائیں گے کیونکہ ان سارے انسانوں کا مکمل ریکارڈ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
أَحْصَاهُ اللَّـهُ وَنَسُوهُ (...Allah has its full account, while they have forgotten transgressions, but because he treats them as trivial and insignificant, he is unable to remember and recall them. However, they are all recorded and kept safely with Allah, even though the humans have done the actions and forgotten them. Allah will call them to give an account of them on the Day of Resurrection and chastise them.
Read the full tafseer →14 "Those who oppose . . . " : Those who do not recognize the bounds set by Allah and instead set some other bounds for themselves. Ibn Jarir Tabari has given this commentary of this verse: "That is, the people who resist Allah with regard to the bounds and duties enjoined by Him, and set for themselves some other bounds instead of the bounds set by Him." Baidawi; has given this commentary of it: "That is, they show hostility towards and dispute with Allah and His Messenger, or set other bounds for themselves than the bounds set by them, or adopt the bounds set by others. " Alusi in his Ruh…
Read the full tafseer →