Ayah 58:1یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے دیا تو اس کی بیوی نے اللہ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ ایک بوڑھا شخص تھا اس خاتون نے اللہ اور رسول اللہ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا جرات کے ساتھ اس کا اعادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۭ ) اے پیغمبر جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی تھی اللہ نے اس کی التجا سن لی اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔ ( اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ) بیشک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے (بَصِيْرٌ) جو اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع وبصری خبر ہے نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع وبصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا۔
Ayah 58:2چناچہ فرمایا (اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ۭاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اڿ وَلَدْنَهُمْ ۭ ) جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ، ، ظہار، ، کرلیتے ہیں وہ ان کی مائیں (نہیں ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا۔ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے شوہر اپنی بیوی سے کہے، تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے، تو مجھ پر حرام ہے۔ عربوں کے ہاں اس موقع پر الظہر، پیٹھ کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ظہار سے موسوم کیا ہے، چناچہ فرمایا (اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ) یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انہیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤں سے تشبیہ دیتے ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے اسی لیے اللہ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے چناچہ فرمایا ہے ( وَاِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ۭ ) یعنی وہ نہایت بری اور جھوٹی بات کہہ رہے ہیں ( وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ) یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
Ayah 58:3(وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا) اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کربیٹھیں، پھر انہوں نے جو کہا اس سے رجوع کرلیں، رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں چناچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکور کفارہ واجب ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی حقیقی جماع کے ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا (ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا) پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں، اور جو بات انہوں نے کہی وہ جماع (کوحرام کرنا) ہے اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک مطابق جب بھی رجوع کیا جائے گا تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا (فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ) تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ لیکن وہ مومن ہو جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے، مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ( مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّـتَـمَاۗسَّا ۭ ) پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ کب تک کہ وہ غلام آزاد کرکے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے اظہار کیا ہے (ذالکم) یعنی جو ہم نے تمہارے لیے بیان کیا ہے (توعظون بہ) اس کے ذریعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ یعنی وہ تمہارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنی ترغیب وترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے پھر جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا تو اس سے رک جاتا ہے۔ ( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ) اور اللہ تعالیٰ عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ لہذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا وسزا دے گا۔
Ayah 58:4) فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ ) پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے ( فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَـاۗسَّا ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ ) تو مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو (فاطعام ستین مسکینا) تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلنا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انہیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے، جو صدقہ فطر میں کفایت کرتی ہو نصف صاع عطا کرے جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔ یہ حکم جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے (لتومنوا باللہ ورسولہ) تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔ اور یہ ایمان اس حکم اور دیگر احکام کے الزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشونما پاتا ہے (وتلک حدود اللہ) اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ اس سے قاصر (پیچھے) رہا جائے (واللکافرین عذاب الیم) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کرکے اس کی مصیبت کا ازالہ کیا بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہراس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔
2۔ ظہار بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (من نسائھم) اپنی عورتوں سے۔ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہوگا بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے مثلا کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا۔ اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔
3۔ کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے اس سے ظہار درست نہیں کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داکل نہیں ہے جیسا کہ نکاح سے قبل مرد کسی عورت کو خواہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کردے اس کو طلاق نہیں ہوسکتی۔
4۔ ظہارحرام ہے کیونکہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔
5۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ما ھن امھتھم) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔
6۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے۔ مثلا، اے میری ماں، اے میری بہن، وغیرہ کیونکہ یہ بات محرمات سے مشابہت رکھتی ہے۔
7۔ کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنی کے مطابق، ظہار کرنے کے رجوع کرنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔
8۔ کفارے میں چھوٹے یا بڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہوجاتا ہے کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔
9۔ آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل کفارہ ادا کرنا واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔
10۔ جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔
11۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے، ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کو اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں۔ دے دے تو یہ جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (فاطعام ستین مسکینا) ، تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
Ayah 58:5اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نافرمانی ان کے ساتھ دشمنی کے زمرے میں آتی ہے خاص طور پر امور قبیحہ میں، مثلا اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرکے دشمنی کرنا اور اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا، فرمایا (كُبِتُوْا كَـمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) یعنی پوری پوری جزا کے طور پر ان کو ذلیل ورسسوا کیا گیا جیسا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ذلیل ورسوا کیا گیا تھا اللہ کے خلاف ان کے پاس کوئی حجت نہیں کیونکہ مخلوق پر اللہ کی حجت بالغہ قائم ہوچکی ہے اللہ نے واضح دلائل اور براہین نازل فرمائے جو حقائق کو بیان اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں پس جس کسی نے ان کی اتباع کی اور ان پر عمل پیرا ہوا وہی ہدایت یافتہ اور فائز المرام ہے۔ (وللکافرین) یعنی ان آیات وبراہین کا انکار کرنے والوں کے لیے (عذاب مھین) ایسا عذاب ہے جو انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، چناچہ جس طرح انہوں نے آیات الٰہی کے مقابلے میں تکبر کیا اسی طرح اللہ بھی انکو ذلیل ورسوا کرے گا۔
Ayah 58:6یعنی جس روز اللہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا (جَمِيْعًا) سب کو، تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا ( فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا) چناچہ انہوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے اللہ انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے (احصاہ اللہ) اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کررکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں (وَ ) اور، ، عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ (نسوہ) انہوں نے اپنے اعمال کو فراموش کردیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کررکھا ہے (وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) اللہ تعالیٰ تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔
Ayah 58:7بنا بریں اس نے اپنے لامحدود ولم کے بارے خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ( مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚ ) کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں اس معیت سے مراد معیت علم اور ان کی سرگوشیوں اور ان کے اسرار کا احاطہ ہے، اسی لیے فرمایا (اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
Ayahs 58:8–9(النَّجْوٰى) دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ہے، کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔ (البر) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے 0 التقوی) تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کردینے کے لیے جامع نام ہے پس بندہ مومن اس حکم الہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (الفاجر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے جیسے منافقین جن کا رسول اللہ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ (وَاِذَا جَاۗءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ ۙ ) اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپکو سلام نہیں کیا۔ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں (وَيَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ) یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے ( لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ ۭ ) اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیش سمجھتے ہیں اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں اللہ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ (حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ (فبئس المصیر) پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ یہ لوگ جن کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ سے اس خطاب کے زریعے سے مخاطب ہوتے تھے جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے، یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے (السام علیک یا محمد۔ نعوذ باللہ) اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔
Ayah 58:10اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اِنَّمَا النَّجْوٰى) یعنی مومنوں کے دشمن ان کے بارے میں سازش، دھوکے اور بری خواہشات کی جو سرگوشیاں کرتے ہیں۔ (مِنَ الشَّيْطٰنِ ) یہ شیطان کی طرف سے مکر غیر مفید ہے۔ ( لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) تاکہ وہ ایمان والوں کو غم زدہ کرے۔ اور اس مکروفریب سے اس کا مقصود بھی یہی ہے۔ (وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ) اور اللہ کے حکم کے بغیر ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کفایت اور دشمن کے خلاف فتح ونصرت کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے (ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ۔ فاطر 43) اور بری چال کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے پس اللہ تعالیٰ اس کے رسول اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا سوائے کسی ایسے ضرر کے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ ( وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) یعنی مومن اسی پر اعتماد کریں اور اس کے وعدے پر بھرسا کریں کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشتوں کے مقابلے میں، نیز اس کے دین ودنیا کے لی کافی ہوجاتا ہے۔
Ayah 58:11یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں لہذا یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں۔ یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے کشادگی پیدا کردیتا ہے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ (وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا) جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو (فانشزوا) تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فورا اٹھ جایا کرو کیونکہ اس قسم کے معاملات کا لحاظ رکھنا علم اور ایمان کا حصہ ہے اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق، درجات بلند کرتا ہے ( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ) اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو خوب خبردار ہے۔ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہوگا تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برا عمل ہوگا تو بری جزا ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ، اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔
Ayah 58:12اللہ تبارک وتعالی اہل ایمان کی تادیب وتعلیم اور رسول اللہ کی تعظیم کے لیے انکو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم اہل ایمانکے لیے بہتر اور زیادہ پاکیز ہے یعنی ایسا کرنے سے تمہاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہوگا، نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہوگی۔ بےفائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ کے ادب واحترام کو ترک کرنا بھی اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ نے رسول اللہ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہش مند ہے تو وہ صدقے کی پرواہ نہیں کرے گا جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت کی، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے تو اس طرح وہ ایسے امر سے بارز رہے گا جو رسول اللہ پر شاق گزرتا ہے نیز یہ حکم اس شخص کے لیے جو صدقہ دے سکتا ہے۔
جس کے پاس صدقہ دینے کے لی کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کردیا اور اس سے نرمی سے کام لیا۔ اور اس شکص کے لیے پیش کیے بغیر جو اس کی قدرت میں نہیں سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔ پھر جب اللہ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا تو ان پر معاملے کو آسان کردیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا البتہ رسول اللہ کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رکھا اس کو منسوخ نہیں فرمایا کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے فی نفسہ مقصود نہیں، اصل مقصد تو رسول اللہ کا ادب اور اکرام ہے۔
Ayah 58:13اور اللہ تعالیٰ کے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں چناچہ فرمایا ( فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا) چناچہ جب تم نے یہ نہ کہا۔ یعنی صدقہ پیش کرنا تمہارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ کسی کام کا بندے پر آسان ہونا شرط نہیں ہے اسی لیے اللہ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا (وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ) یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کردیا۔ (فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ) پس تم نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود لوازم کے ساتھ قائم کرو (وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) اور مستحق لوگوں کو زکوۃ ادا کرو جو تمہارے مال میں سے تم پر فرض ہے یعنی دو عبادات بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے وہی اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے بنابریں فرمایا (واطیعواللہ ورسولہ) اور اللہ اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرکے ان کے نواہی اسے اجتناب کرکے ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرکے اور شریعت کی حدود پر رک کر ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے اسی لیے فرمایا وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ ان کو خوب جانتا ہے پس انہوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔
Ayahs 58:14–15اللہ تبارک وتعالی نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاری اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ (مذبذبین بین ذالک لا الی ھولاء۔ النساء 143) وہ ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں نہ پورے مومنین کی طرف ہیں اور نہ پورے کفار کی طرف۔ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے یہ ہے ان کا وصف جو اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں ان جھوٹے، فاجر وخائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کررکھا ہے جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جاسکتا ہے بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں وہ ایسے اعمال بجالاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
Ayah 58:16(اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ) یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے (فصدوا) وہ روکتے ہیں اپنے آپ کو اور دوسروں کو (عن سبیل اللہ) اللہ کے راستے سے یہ وہ راستہ ہے جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے تو یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے۔ (فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) چناچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ پر ایمان نہ لائے اور انہوں نے اس کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا تو اللہ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل ورسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ ہوگا نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
Ayahs 58:17–18(لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا ۭ ) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہیں آئیں گی یعنی وہ ان سے عذاب کو ہٹا سکیں نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کرسکیں گے۔ّاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۭ ) وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گے اور ( هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ سب کو زندہ کرکے اٹھائیں گے تو جس طرح مومنوں کے لیے قسمیں اٹھایا کرتے تھے اسی طرح اللہ کے لیے بھی قسمیں اٹھائیں گے وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھیں گے کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں کیونکہ ان کا کفر ونفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کردیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ متعد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دارومدار ہے حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پارکھا ہے اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آرستہ کردیے اور ان کو اللہ کا ذکر فراموش کرادیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے۔ ارشاد (انما یدعواحزبہ لیکونوا من اصحب السعیر۔ فاطر 6) ۔ بس وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہوجائے۔
Ayah 58:19(اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) یہ شیطان کی پارٹی ہے، سن لو، شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین ودنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑگئے۔
Ayahs 58:20–21یہ وعدہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے ہے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرتا ہے کہ وہ بےیارومددگار اور ذلیل ورسوا ہے اس کا انجام اچھا ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے اور جو کچھ انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں ان کی اتباع کرتا ہے پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہوگیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے ان کے لیے فتح ونصرت اور دنیا وآخرت میں غلبہ ہے یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر وتبدل کیا جائے گا کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی اور نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بےبس نہیں کرسکتی۔
Ayah 58:22اے نبی آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے بندہ اس وقت تک اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو یہ ہے وہ حقیقی ایمان، جس کا پھل ملتا ہے اور جس مقصود حاصل ہوتا ہے اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے یعنی اس کو راسخ اور ثابت کردیا ہے اور ان کے دلوں میں شجر ایمان کو اگا دیا ہے جو کبھی متزلزل ہوسکتا ہے نہ شکوک و شبہات اس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی طرف سے روح کے ذریعے سے طاقت وربنایا یعنی اپنی وحی، اپنی معرفت اور مددالٰہی اور اپنے احسان ربانی کے ذریعے سے تائید کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا میں حیات طیبہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے نعمتوں بھری جنتیں ہیں جہاں ہر وہ چیز ہوگی جو دل چاہیں گے جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور اسے پسند کریں گی ان کے لیے ایک سب سے بڑی اور افضل ترین نعمت ہوگی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رضامندی نازل فرمائے گا اور ان سے کبھی ناراض نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ ان کو جو اکرام و تکریم کی مختلف انواع سے نوازے گا ان کو جو وافر ثواب عطا کرے گا جو بےپایاں عنایات سے بہرہ مند اور ان کے درجات بلند کرے گا وہ اس پر اپنے رب سے راضی ہوں گے وہ اس طرح کہ ان کے مولا نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہوگا اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا زعم رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ مودت وموالات بھی رکھتا ہے اور ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جنہوں نے ایمان کو پس پشت ڈال رکھا ہے تو یہ ایمان کا محض خالی خولی دعوی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ ہر دعوے کے لیے کسی دلیل کا ہونا لازمی ہے جو اس کی تصدیق کرے پس مجرد دعوی کسی کام نہیں آتا اور ایسا دعوی کرنے والے کی تصدیق نہیں کی جاتی۔