58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے دیا تو اس کی بیوی نے اللہ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ ایک بوڑھا شخص تھا اس خاتون نے اللہ اور رسول اللہ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا جرات کے ساتھ اس کا اعادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۭ ) اے پیغمبر جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی تھی اللہ نے اس کی التجا سن لی اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔ ( اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ) بیشک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے (بَصِيْرٌ) جو اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع وبصری خبر ہے نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع وبصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

چناچہ فرمایا (اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ۭاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اڿ وَلَدْنَهُمْ ۭ ) جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ، ، ظہار، ، کرلیتے ہیں وہ ان کی مائیں (نہیں ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا۔ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے شوہر اپنی بیوی سے کہے، تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے، تو مجھ پر حرام ہے۔ عربوں کے ہاں اس موقع پر الظہر، پیٹھ کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ظہار سے موسوم کیا ہے، چناچہ فرمایا (اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ) یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انہیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤں سے تشبیہ دیتے ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے اسی لیے اللہ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے چناچہ فرمایا ہے ( وَاِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ۭ ) یعنی وہ نہایت بری اور جھوٹی بات کہہ رہے ہیں ( وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ) یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

(وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا) اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کربیٹھیں، پھر انہوں نے جو کہا اس سے رجوع کرلیں، رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں چناچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکور کفارہ واجب ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی حقیقی جماع کے ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا (ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا) پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں، اور جو بات انہوں نے کہی وہ جماع (کوحرام کرنا) ہے اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک مطابق جب بھی رجوع کیا جائے گا تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا (فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ) تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ لیکن وہ مومن ہو جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے، مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ( مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّـتَـمَاۗسَّا ۭ ) پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ کب تک کہ وہ غلام آزاد کرکے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے اظہار کیا ہے (ذالکم) یعنی جو ہم نے تمہارے لیے بیان کیا ہے (توعظون بہ) اس کے ذریعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ یعنی وہ تمہارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنی ترغیب وترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے پھر جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا تو اس سے رک جاتا ہے۔ ( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ) اور اللہ تعالیٰ عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ لہذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا وسزا دے گا۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔

) فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ ) پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے ( فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَـاۗسَّا ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ ) تو مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو (فاطعام ستین مسکینا) تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلنا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انہیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے، جو صدقہ فطر میں کفایت کرتی ہو نصف صاع عطا کرے جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔ یہ حکم جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے (لتومنوا باللہ ورسولہ) تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔ اور یہ ایمان اس حکم اور دیگر احکام کے الزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشونما پاتا ہے (وتلک حدود اللہ) اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ اس سے قاصر (پیچھے) رہا جائے (واللکافرین عذاب الیم) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کرکے اس کی مصیبت کا ازالہ کیا بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہراس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔ 2۔ ظہار بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (من نسائھم) اپنی عورتوں سے۔ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہوگا بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے مثلا کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا۔ اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ 3۔ کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے اس سے ظہار درست نہیں کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داکل نہیں ہے جیسا کہ نکاح سے قبل مرد کسی عورت کو خواہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کردے اس کو طلاق نہیں ہوسکتی۔ 4۔ ظہارحرام ہے کیونکہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔ 5۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ما ھن امھتھم) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔ 6۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے۔ مثلا، اے میری ماں، اے میری بہن، وغیرہ کیونکہ یہ بات محرمات سے مشابہت رکھتی ہے۔ 7۔ کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنی کے مطابق، ظہار کرنے کے رجوع کرنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ 8۔ کفارے میں چھوٹے یا بڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہوجاتا ہے کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ 9۔ آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل کفارہ ادا کرنا واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔ 10۔ جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ 11۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے، ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کو اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں۔ دے دے تو یہ جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (فاطعام ستین مسکینا) ، تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نافرمانی ان کے ساتھ دشمنی کے زمرے میں آتی ہے خاص طور پر امور قبیحہ میں، مثلا اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرکے دشمنی کرنا اور اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا، فرمایا (كُبِتُوْا كَـمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) یعنی پوری پوری جزا کے طور پر ان کو ذلیل ورسسوا کیا گیا جیسا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ذلیل ورسوا کیا گیا تھا اللہ کے خلاف ان کے پاس کوئی حجت نہیں کیونکہ مخلوق پر اللہ کی حجت بالغہ قائم ہوچکی ہے اللہ نے واضح دلائل اور براہین نازل فرمائے جو حقائق کو بیان اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں پس جس کسی نے ان کی اتباع کی اور ان پر عمل پیرا ہوا وہی ہدایت یافتہ اور فائز المرام ہے۔ (وللکافرین) یعنی ان آیات وبراہین کا انکار کرنے والوں کے لیے (عذاب مھین) ایسا عذاب ہے جو انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، چناچہ جس طرح انہوں نے آیات الٰہی کے مقابلے میں تکبر کیا اسی طرح اللہ بھی انکو ذلیل ورسوا کرے گا۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جو کام وہ کرتے رہے انکو جتائے گا۔ خدا کو وہ سب (کام) یاد ہیں اور یہ انکو بھول گئے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

یعنی جس روز اللہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا (جَمِيْعًا) سب کو، تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا ( فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا) چناچہ انہوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے اللہ انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے (احصاہ اللہ) اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کررکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں (وَ ) اور، ، عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ (نسوہ) انہوں نے اپنے اعمال کو فراموش کردیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کررکھا ہے (وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) اللہ تعالیٰ تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح و مشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

بنا بریں اس نے اپنے لامحدود ولم کے بارے خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ( مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚ ) کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں اس معیت سے مراد معیت علم اور ان کی سرگوشیوں اور ان کے اسرار کا احاطہ ہے، اسی لیے فرمایا (اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
Ayahs 58:8–9

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔

(النَّجْوٰى) دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ہے، کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔ (البر) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے 0 التقوی) تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کردینے کے لیے جامع نام ہے پس بندہ مومن اس حکم الہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (الفاجر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے جیسے منافقین جن کا رسول اللہ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ (وَاِذَا جَاۗءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ ۙ ) اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپکو سلام نہیں کیا۔ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں (وَيَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ) یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے ( لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ ۭ ) اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیش سمجھتے ہیں اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں اللہ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ (حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ (فبئس المصیر) پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ یہ لوگ جن کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ سے اس خطاب کے زریعے سے مخاطب ہوتے تھے جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے، یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے (السام علیک یا محمد۔ نعوذ باللہ) اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اِنَّمَا النَّجْوٰى) یعنی مومنوں کے دشمن ان کے بارے میں سازش، دھوکے اور بری خواہشات کی جو سرگوشیاں کرتے ہیں۔ (مِنَ الشَّيْطٰنِ ) یہ شیطان کی طرف سے مکر غیر مفید ہے۔ ( لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) تاکہ وہ ایمان والوں کو غم زدہ کرے۔ اور اس مکروفریب سے اس کا مقصود بھی یہی ہے۔ (وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ) اور اللہ کے حکم کے بغیر ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کفایت اور دشمن کے خلاف فتح ونصرت کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے (ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ۔ فاطر 43) اور بری چال کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے پس اللہ تعالیٰ اس کے رسول اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا سوائے کسی ایسے ضرر کے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ ( وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) یعنی مومن اسی پر اعتماد کریں اور اس کے وعدے پر بھرسا کریں کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشتوں کے مقابلے میں، نیز اس کے دین ودنیا کے لی کافی ہوجاتا ہے۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں لہذا یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں۔ یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے کشادگی پیدا کردیتا ہے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ (وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا) جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو (فانشزوا) تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فورا اٹھ جایا کرو کیونکہ اس قسم کے معاملات کا لحاظ رکھنا علم اور ایمان کا حصہ ہے اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق، درجات بلند کرتا ہے ( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ) اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو خوب خبردار ہے۔ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہوگا تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برا عمل ہوگا تو بری جزا ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ، اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

اللہ تبارک وتعالی اہل ایمان کی تادیب وتعلیم اور رسول اللہ کی تعظیم کے لیے انکو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم اہل ایمانکے لیے بہتر اور زیادہ پاکیز ہے یعنی ایسا کرنے سے تمہاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہوگا، نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہوگی۔ بےفائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ کے ادب واحترام کو ترک کرنا بھی اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ نے رسول اللہ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہش مند ہے تو وہ صدقے کی پرواہ نہیں کرے گا جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت کی، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے تو اس طرح وہ ایسے امر سے بارز رہے گا جو رسول اللہ پر شاق گزرتا ہے نیز یہ حکم اس شخص کے لیے جو صدقہ دے سکتا ہے۔ جس کے پاس صدقہ دینے کے لی کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کردیا اور اس سے نرمی سے کام لیا۔ اور اس شکص کے لیے پیش کیے بغیر جو اس کی قدرت میں نہیں سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔ پھر جب اللہ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا تو ان پر معاملے کو آسان کردیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا البتہ رسول اللہ کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رکھا اس کو منسوخ نہیں فرمایا کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے فی نفسہ مقصود نہیں، اصل مقصد تو رسول اللہ کا ادب اور اکرام ہے۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

اور اللہ تعالیٰ کے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں چناچہ فرمایا ( فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا) چناچہ جب تم نے یہ نہ کہا۔ یعنی صدقہ پیش کرنا تمہارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ کسی کام کا بندے پر آسان ہونا شرط نہیں ہے اسی لیے اللہ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا (وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ) یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کردیا۔ (فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ) پس تم نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود لوازم کے ساتھ قائم کرو (وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) اور مستحق لوگوں کو زکوۃ ادا کرو جو تمہارے مال میں سے تم پر فرض ہے یعنی دو عبادات بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے وہی اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے بنابریں فرمایا (واطیعواللہ ورسولہ) اور اللہ اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرکے ان کے نواہی اسے اجتناب کرکے ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرکے اور شریعت کی حدود پر رک کر ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے اسی لیے فرمایا وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ ان کو خوب جانتا ہے پس انہوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔
Ayahs 58:14–15

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا برا ہے۔

اللہ تبارک وتعالی نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاری اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ (مذبذبین بین ذالک لا الی ھولاء۔ النساء 143) وہ ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں نہ پورے مومنین کی طرف ہیں اور نہ پورے کفار کی طرف۔ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے یہ ہے ان کا وصف جو اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں ان جھوٹے، فاجر وخائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کررکھا ہے جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جاسکتا ہے بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں وہ ایسے اعمال بجالاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

(اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ) یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے (فصدوا) وہ روکتے ہیں اپنے آپ کو اور دوسروں کو (عن سبیل اللہ) اللہ کے راستے سے یہ وہ راستہ ہے جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے تو یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے۔ (فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) چناچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ پر ایمان نہ لائے اور انہوں نے اس کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا تو اللہ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل ورسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ ہوگا نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
Ayahs 58:17–18

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے گہ ایسا کرنے سے کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں۔

(لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا ۭ ) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہیں آئیں گی یعنی وہ ان سے عذاب کو ہٹا سکیں نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کرسکیں گے۔ّاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۭ ) وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گے اور ( هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ سب کو زندہ کرکے اٹھائیں گے تو جس طرح مومنوں کے لیے قسمیں اٹھایا کرتے تھے اسی طرح اللہ کے لیے بھی قسمیں اٹھائیں گے وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھیں گے کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں کیونکہ ان کا کفر ونفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کردیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ متعد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دارومدار ہے حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔ یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پارکھا ہے اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آرستہ کردیے اور ان کو اللہ کا ذکر فراموش کرادیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے۔ ارشاد (انما یدعواحزبہ لیکونوا من اصحب السعیر۔ فاطر 6) ۔ بس وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہوجائے۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان کو قابو میں کرلیا ہے اور خدا کی یاد ان کو بھلا دی ہے یہ (جماعت) شیطان کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ شیطان کا لشکر نقصان اٹھانے والا ہے

(اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) یہ شیطان کی پارٹی ہے، سن لو، شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین ودنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑگئے۔
Ayahs 58:20–21

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور ضورر غالب رہیں گے بیشک خدا زور آور (اور) زبردست ہے۔

یہ وعدہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے ہے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرتا ہے کہ وہ بےیارومددگار اور ذلیل ورسوا ہے اس کا انجام اچھا ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے اور جو کچھ انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں ان کی اتباع کرتا ہے پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہوگیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے ان کے لیے فتح ونصرت اور دنیا وآخرت میں غلبہ ہے یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر وتبدل کیا جائے گا کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی اور نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بےبس نہیں کرسکتی۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے۔

اے نبی آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے بندہ اس وقت تک اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو یہ ہے وہ حقیقی ایمان، جس کا پھل ملتا ہے اور جس مقصود حاصل ہوتا ہے اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے یعنی اس کو راسخ اور ثابت کردیا ہے اور ان کے دلوں میں شجر ایمان کو اگا دیا ہے جو کبھی متزلزل ہوسکتا ہے نہ شکوک و شبہات اس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی طرف سے روح کے ذریعے سے طاقت وربنایا یعنی اپنی وحی، اپنی معرفت اور مددالٰہی اور اپنے احسان ربانی کے ذریعے سے تائید کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا میں حیات طیبہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے نعمتوں بھری جنتیں ہیں جہاں ہر وہ چیز ہوگی جو دل چاہیں گے جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور اسے پسند کریں گی ان کے لیے ایک سب سے بڑی اور افضل ترین نعمت ہوگی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رضامندی نازل فرمائے گا اور ان سے کبھی ناراض نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ ان کو جو اکرام و تکریم کی مختلف انواع سے نوازے گا ان کو جو وافر ثواب عطا کرے گا جو بےپایاں عنایات سے بہرہ مند اور ان کے درجات بلند کرے گا وہ اس پر اپنے رب سے راضی ہوں گے وہ اس طرح کہ ان کے مولا نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہوگا اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا زعم رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ مودت وموالات بھی رکھتا ہے اور ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جنہوں نے ایمان کو پس پشت ڈال رکھا ہے تو یہ ایمان کا محض خالی خولی دعوی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ ہر دعوے کے لیے کسی دلیل کا ہونا لازمی ہے جو اس کی تصدیق کرے پس مجرد دعوی کسی کام نہیں آتا اور ایسا دعوی کرنے والے کی تصدیق نہیں کی جاتی۔