58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی تھی، اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی تھی، اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے،

ظہار کی مذمت اور اس کے احکام و مسائل ان آیات میں ایک صحابی خاتون ؓ کے ایک واقعہ کا اور شوہر و بیوی سے متعلق ایک مسئلہ کا ذکر ہے، جس عورت کا یہ واقعہ ہے اس کے بارے میں چونکہ ﴿ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا ﴾ فرمایا ہے اس لئے اس سورت کا نام سورة المجادلۃ معروف اور مشہور ہوگیا، آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ زمانہ اسلام سے پہلے اہل عرب میں لفظ طلاق کے علاوہ عورت اپنے اوپر حرام کرنے کے دو طریقے اور بھی تھے ایک ایلاء اور ایک ظہار، ایلاء اس بات کو کہتے تھے کہ شوہر بیوی کو خطاب کر کے قسم کھالیتا تھا کہ میں تیرے پاس نہیں آؤں گا اس کا بیان سورة البقرہ کی آیت ﴿ لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ ﴾ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ (انوار البیان جلد 1 صفحہ 432) اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ یوں کہہ دیتے تھے : انت علی کظھر امی (تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی کمر ہے یعنی حرام ہے) اس کو ظہار کہا جاتا تھا چونکہ اس میں لفظ ظہر آتا تھا جو پشت کے معنی میں ہے اس لئے اس کا نام ظہار معروف ہوگیا، حدیث اور فقہ کی کتابوں میں بھی اس کو ظہار ہی کے عنوان اور نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ آیات ظہار کا شان نزول اب آیات کا سبب نزول معلوم کیجئے جس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ یہ عورت کون تھی جس کا واقعہ یہاں ذکر فرمایا ہے، قصہ یہ ہے کہ سیّدہ خولہ بنت ثعلبہ ؓ اوس بن صامت ؓ کی بیوی تھیں ایک دن ان کے شوہر نے اپنا مخصوص کام کرنے کا ارادہ کیا سیّدہ خولہ ؓ نے اس وجہ سے انکار کردیا کہ ان کے شوہر کو تکلیف تھی اور شوہر کی خیر خواہی پیش نظر تھی جیسے ہی بیوی نے انکار کیا شوہر نے یوں کہہ دیا : انت علی کظھر امی کہہ تو دیا لیکن بعد میں پچھتائے اور اپنی بیوی سے کہا کہ میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ اب تو مجھ پر حرام ہوگئی ہے۔ یہ سن کر سیّدہ خولہ ؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ طلاق نہیں ہے اس کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ میرے شوہر نے جب مجھ سے نکاح کیا تھا اس وقت میں جوان تھی مالدار تھی میرے شوہر نے میرا مال بھی کھالیا اور میری جوانی بھی فنا کردی اب جبکہ میرے خاندان والے منتشر ہوگئے اور میری عمر بڑی ہوگئی تو اس نے مجھ سے ظہار کرلیا اب اسے اس پرند امت ہے تو کیا ایسی کوئی صورت ہے کہ میں اور وہ مل کر رہتے رہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو اس پر حرام ہوگئی۔ سیّدہ خولہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! قسم اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے میرے شوہر نے طلاق کا لفظ نہیں بولا اس سے میری اولاد بھی ہے اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی ہے، رسول اللہ ﷺ نے پھر وہی فرمایا کہ تو اس پر حرام ہوگئی خولہ ؓ نے کہا کہ میں اللہ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتی ہوں میں اپنے شوہر کے ساتھ عرصہ دراز تک رہی ہوں آپ ﷺ نے پھر وہی فرمایا کہ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوگئی اور تیرے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا، وہ اسی طرح اپنی بات کرتی رہیں اور آنحضرت ﷺ اسی طرح جواب دیتے رہے، آخر میں اس نے کہا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اگر شوہر کے پاس چھوڑ دوں تو ضائع ہوجائیں گے اور اگر اپنے پاس رکھ لوں تو بھوکے مرجائیں گے یہ کہا اور آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہنے لگیں کہ اے اللہ میں آپ کی بارگاہ میں اپنی تکلیف کو پیش کرتی ہوں آپ اپنے نبی ﷺ پر ایسا حکم نازل فرمائیے جس سے میری پریشانی دور ہوجائے یہ زمانہ اسلام میں ظہار کا پہلا واقعہ تھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے خولہ ؓ سے کہا کہ تو اپنی بات بس کر دے دیکھتی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر کیا آثار ظاہر ہو رہے ہیں، (اس وقت رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی تھی) آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہلکی سی نیند میں ہوں، جب وحی ختم ہوگئی تو آپ نے خولہ ؓ سے فرمایا کہ تو اپنے شوہر کو بلا کر لا، جب وہ آگئے تو آپ ﷺ نے ﴿ قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ ﴾ سے آیات پڑھ کر سنائیں جن میں ظہار اور کفارہ ظہار کا حکم ہے۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ بابرکت ہے وہ جو تمام آوازوں کو سنتا ہے، جو عورت رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کر رہی تھیں میں اس کی بعض باتیں اسی گھر میں ہوتے ہوئے نہ سن پائی جہاں بات ہو رہی تھی اور اللہ تعالیٰ شانہ نے اس کی بات سن لی اور آیت کریمہ نازل فرما دی۔ اب پہلی آیت کا ترجمہ دوبارہ پڑھئے بیشک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑ رہی ہے اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے، اور وہ لوگ بلاشبہ ایک نا معقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں، اور یقینا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،

چونکہ حضرت خولہ ؓ کے شوہر نے ظہار کرلیا تھا اور ان کے شوہر یوں سمجھ رہے تھے کہ طلاق ہوگئی اور وہ سمجھ رہی تھی کہ طلاق نہیں ہوئی اور اسی بات کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اس لئے اولا ظہار کی شرعی حیثیت بتائی پھر اس کا کفارہ بیان فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ﴾ کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں (یعنی یوں کہہ دیتے ہیں کہ تو میرے حق میں ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت مجھ پر حرام ہے) ایسا کہہ دینے سے وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں، نہ وہ پہلے ان کی مائیں تھیں اور نہ اب ان پر ماؤں کا حکم نافذ ہوگا (جس کی وجہ سے آئندہ کے لئے حرمت آجائے) ۔ ﴿اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓـِٔيْ وَلَدْنَهُمْ ﴾ ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے مائیں ہونے کے اعتبار سے حرمت موبدہ کا تعلق انہیں سے ہے۔ ظہار کی مذمت ﴿وَ اِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا ﴾ رہی یہ بات کہ شوہر اگر اپنی بیوی سے کہہ دے کہ تم میرے لئے ماں کی طرح سے ہے تو ان کا یہ کہنا بری بات ہے اور جھوٹی بات ہے اس بات کے کہنے سے حرمت دائمی کا حکم نہیں دیا جائے گا لیکن گناہ ضرور ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے قانون کو بدلنا لازم آتا ہے، جب اللہ تعالیٰ نے بیوی کو شوہر کے لئے حلال کردیا تو اب وہ کیسے کہتا ہے کہ یہ مجھ پر ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت ہے۔ ﴿ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ002﴾ (اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے بخشنے والا ہے) گناہ کی تلافی کرلی جائے اور ظہار کا جو کفارہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اس کی ادائیگی کردی جائے اللہ تعالیٰ گناہ کو معاف فرما دے گا۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ دونوں باہم ایک دوسرے کو چھوئیں اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے،

کفارہ ظہار اس کے بعد ظہار کا کفارہ بیان فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ (الی قولہ تعالیٰ ) فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ﴾ اس میں علی الترتیب تین چیزیں ذکر فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں پھر چاہتے ہیں کہ جو بات کہی ہے اس کی تلافی کریں سو جس کسی نے بھی ایسا کیا ہو وہ ایک غلام آزاد کرے اور غلام آزاد کرنے سے پہلے میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو نہ چھوئیں، یہ ﴿ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا ﴾ کا ترجمہ ہے یہ لفظ فرما کر یہ بتادیا کہ غلام آزاد کرنے سے پہلے نہ جماع کریں نہ دواعی جماع یعنی بوس و کنار اور مس وتقبیل کے ذریعہ استمتاع اور استلذ اذ کریں، ﴿ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ 1ؕ﴾۔ (یہ وہ چیز ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے) یعنی یہ کفارہ گناہ معاف کرانے کا ذریعہ بھی ہے اور آئندہ کے لئے ایسے الفاظ بولنے سے روکنے والا بھی ہے۔ ﴿وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ003﴾ (اور اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے) اگر کسی نے حکم کی خلاف ورزی کی کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کا ارتکاب کرلیا تو اس کی سزا مل سکتی ہے) ۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو میسر نہ ہو تو اس کے ذمہ لگاتا ردو مہینے کے روزے ہیں قبل اس کے کہ دونوں باہم ایک دوسرے کو چھوئیں پھر جس سے یہ بھی نہ ہو سکے تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، یہ حکم اس لئے ہے تاکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

پھر فرمایا ﴿ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا ﴾ (سو جو شخص غلام نہ پائے تو اس کے ذمہ لگا تار دو مہینے کے روزے رکھنا ہے اس سے پہلے کہ آپس میں ایک دوسرے کو چھوئیں) یہ کفارہ ظہار کا حکم نمبر 2 ہے اور علی سبیل التنزیل ہے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو (مال ہی نہ ہو یا غلام ہی نہ ملتے ہوں جیسا کہ آج کل شرعی جہاد نہ کرنے کی وجہ سے مسلمان غلاموں اور باندیوں سے محروم ہیں) تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے اور جب تک بلاناغہ پورے دو ماہ کے روزے نہ رکھ لے دونوں میاں بیوی الگ رہیں۔ پھر فرمایا ﴿ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ﴾ (سو جسے مذکورہ روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ 1ؕ﴾۔ (یہ اس لئے ہے کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ) یعنی اس کے سب احکام کی تصدیق کرو اور ایمان پر جمے رہو، (اور یہ اللہ کی حدود ہیں ان کے مطابق عمل کرو حد سے آگے مت بڑھو۔ اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے) جو اللہ کے احکام کی تصدیق نہیں کرتے۔ مسائل ضرور یہ متعلقہ ظہار مسئلہ : اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کے پیٹ ران یا شرم گاہ سے تشبیہ دیدی تب بھی ظہار ہوجائے گا۔ مسئلہ : اگر اپنی بہن یا پھوپھی یار ضاعی والدہ کے مذکورہ بالا اعضاء پشت، پیٹ، ران، شرم گاہ، سے تشبیہ دی تب بھی ظہار ہوجائے گا۔ مسئلہ : اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم میری ماں کی طرح سے ہو (کسی عضو سے تشبیہ نہیں دی) تو اس کے بارے میں اس سے دریافت کیا جائے گا کہ تیری نیت کیا تھی اگر یوں کہے کہ میں نے طلاق کی نیت سے کہا تھا تو طلاق بائن مانی جائے گی اور اگر یوں کہے کہ میری نیت ظہار کی تھی تو ظہار کا حکم نافذ ہوگا اور اگر یوں کہا کہ میری کچھ بھی نیت نہ تھی یا یوں کہا کہ میرا یہ مطلب تھا کہ جیسے میری والدہ محترم ہیں اسی طرح تم بھی قابل احترام ہو تو اس سے کچھ نہ ہوگا۔ مسئلہ : غلام آزاد کرنے میں غلام کا مرد اور بالغ ہونا ضروری نہیں ہے مرد ہو یا عورت، مسلمان ہو یا کافر بالغ ہو یا نا بالغ ہر ایک کے آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہوجائے گا مگر اندھایا دونوں ہاتھ یا دونوں پیر کٹے ہوئے نہ ہوں۔ مسئلہ : جب دو مہینے کے روزے رکھے تو اس میں رمضان کے روزے حساب میں نہیں لگ سکتے کیونکہ وہ پہلے سے فرض ہیں، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ان میں سے کوئی روزہ ان دنوں میں نہ ہو جن میں شرعاً روزہ رکھنا منع ہے۔ مسئلہ : اگر کسی نے کفارہ ظہار کے روزے رکھنے کے درمیان رات کو جماع کرلیا تو نئے سرے سے روزے رکھنا لازم ہوگا اور دن کو جماع کرنے سے تو روزہ ہی ٹوٹ جائے گا جس سے لگا تار والی شرط کا فوت ہوجانا ظاہر ہے اور چونکہ ﴿مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا﴾ کا عموم رات کے جماع کرنے کو بھی شامل ہے اس لئے رات کو جماع کرنے سے بھی لگا تار والی شرط کی مخالفت ہوجائے گی۔ مسئلہ : کھانا کھلانے کی صورت میں اگر ایک مسکین کو ساٹھ دن صبح شام پیٹ بھر کھانا کھلایا یا ساٹھ مسکینوں کو ایک دن میں صبح شام پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیا تو کفارہ ادا ہوجائے گا، اگر ساٹھ دن تک کسی مسکین کو آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجوریا جو یا ان کی قیمت دیتا رہا تو ان صورتوں میں کفارہ ادا ہوجائے گا۔ مسئلہ : اگر ظہار کرنے کے بعد عورت کو طلاق دیدی یا مرگئی تو کفارہ ساقط ہوجائے گا لیکن توبہ کرنا پھر بھی لازم ہے۔ قال صاحب روح المعانی : والموصول مبتدا، وقولہ تعالیٰ ﴿فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ﴾ مبتدا آخر خبرہ مقدر ای فعلیھم تحریر رقبة او فاعل فعل مقدر ای فیلزمھم تحریر، او خبر مبتدا مقدر ای فالوا جب علیھم (تحریر) وعلی التقادیر الثلاثة الجملۃ خبر الموصول و دخلتہ الفاء لتضمن المبتدا معنی الشرط وما موصولة او مصدریة واللام متعلقة (یعودون) وھو یتعدی بھا کما یتعدی بالی وبفی۔ فلا حاجة الی تاویلہ باحدھما کمافعل البعض، والعود لما قالوا علی المشھور عند الحنفیة العزم علی الوطء کانہ حمل العود علی التدارک مجازا لان التدارک من اسباب العود الی الشیء والذین یقولون ذٰلک القول المنکر ثم یتدار کونہ بنقضہ وھو العزم علی الوطء فالوا جب علیھم اعتاق رقبة۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ہوں گے جیسے وہ لوگ ذلیل ہوئے جو ان سے پہلے تھے، اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کئے ہیں اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہوگا

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ذلیل ہوں گے ان آیات میں کافروں کا دنیا میں ذلیل ہونا اور آخرت میں ذلت کے عذاب میں مبتلا ہونا بیان فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں (جیسے کفار مکہ تھے) وہ دنیا میں ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوچکے ہیں، چناچہ غزوات میں کفار مکہ اور ان کے ساتھی ذلیل ہوئے ان کے ذلیل ہونے کا سبب بھی بتادیا ﴿وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ﴾ (اور ہم نے کھلی کھلی واضح آیات اتاریں) انہوں نے انہیں تسلیم نہ کیا لہٰذا مستحق سزا ہوئے، دنیا میں تو انہوں نے ذلت کا منہ دیکھ ہی لیا آخرت میں بھی ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس روز ان سب کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ فرمائے گا پھر ان کا سب کیا ہوا ان کو بتلا دے گا اللہ تعالیٰ نے اسے محفوظ کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھول گئے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔

قیامت کے دن سب اٹھائے جائیں گے ﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ﴾ (الایۃ) اس آیت میں سب کو تنبیہ فرمادی کہ دنیا میں جو کچھ عمل کرتے ہیں قیامت کے دن وہ سب سامنے آجائیں گے اللہ تعالیٰ شانہ انہیں ان کے اعمال کی خبر دے دے گا یعنی یہ بتادے گا کہ تم نے ایسے اور یہ یہ اعمال كئے تھے، یہ لوگ دنیا میں عمل کر کے بھول گئے اور اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کے اعمال کو محفوظ رکھا، اتنی بڑی زندگی کے اعمال واقوال بندوں کو یاد نہیں رہتے لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس وہ سب محفوظ ہیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے جو کچھ کیا گزر گیا ہمیں تو یاد نہیں کہ کیا کیا۔ بات یہ ہے کہ جزا سزا ملنے کے لئے عمل کرنے والے کو یاد رہنا ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جزا وسزا دے گا اس کے علم میں سب کچھ ہے وہ بھولنے والا بھی نہیں ہے ﴿وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ (رح) 006﴾ (اور اللہ ہر چیز پر مطلع ہے) لہٰذا وہ قیامت کے دن بندوں کے اعمال کو ظاہر فرمادے گا اور جزا سزا کے فیصلے بھی فرمائے گا۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا آپ نے اس پر نظر نہیں فرمائی کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جو بھی خفیہ مشورہ تین آدمیوں کا ہوتا ہے وہ ضرور چوتھا ہوتا ہے اور جو پانچ آدمیوں کا مشورہ ہو تو وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اور اس سے کم افراد ہوں یا زیادہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں پھر وہ انہیں قیامت کے دن ان کے اعمال سے باخبر کر دے گا، بلاشبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ ہے ہر خفیہ مشورہ کو جانتا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم کو بیان فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ نے نظر نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے یہ آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے واسطے سے تمام انسانوں کو خطاب ہے مزید توضیح کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں کہیں بھی تین آدمی موجود ہوں جو کوئی خفیہ مشورہ کر رہے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا چوتھا ہوتا ہے یعنی اسے ان کی باتوں کا علم ہوتا ہے اور جہاں کہیں پانچ آدمی موجود ہوں تو وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے، اس سے کم افراد ہوں یا زیادہ ہوں بہرحال وہ اپنے علم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہے جو شخص تنہایا چھوٹی بڑی جماعت کے ساتھ جہاں کہیں بھی ہو وہ یوں نہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کو میرا حال معلوم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم سے سب کے ساتھ ہے سب کو جانتا ہے، دنیا والے جو بھی عمل کرتے ہیں، اس کا اسے سب علم ہے، قیامت کے دن ہر ایک کو سب کے عمل سے باخبر فرمادے گا وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی سے منع کیا گیا پھر وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو روکا گیا، اور وہ گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور وہ اپنے نفسوں میں یوں کہتے ہیں کہ ہمارے اس کہنے پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا، کافی ہے ان کے لئے جہنم، وہ اس میں داخل ہونگے، سو وہ برا ٹھکانا ہے

منافقین کی شرارت، سرگوشی اور یہود کی بیہودہ باتیں یہودی مکار تو تھے ہی، طرح طرح کی شرارتیں بھی کرتے تھے اور خفیہ مشورہ بھی کرتے رہتے تھے، لفظ نجویٰ خفیہ بات چیت کے لئے بولا جاتا ہے، لفظ مناجاۃ بھی اسی سے لیا گیا ہے، مومن بندے آہستہ آہستہ (جسے اللہ تعالیٰ ہی سنے کوئی دوسرانہ سنے) اپنے خالق ومالک جل مجدہ سے دعا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر ظاہر اور خفیہ بات کو سنتا ہے اسی لیے خفیہ دعاء کو مناجاۃ کہا جاتا ہے۔ یہودی اور منافقین اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن تو تھے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے بری بری حرکتیں کرتے تھے، ان کی ان حرکتوں میں یہ بات بھی تھی کہ راستوں میں کسی جگہ بیٹھ جاتے تھے جب کوئی مسلمان وہاں سے گزرتا تو گہری نظروں سے دیکھتے تھے اور آنکھوں سے اشارہ بازی کرتے تھے اور چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے تھے۔ منافقین بھی ان کے شریک حال تھے، مسلمانوں کو ان کی حرکتوں سے تکلیف ہوتی تھی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس بات کو پیش کردیا اور ان لوگوں کی شکایت کی، آپ نے ان لوگوں کو منع کردیا کہ سرگوشی اور خفیہ بات چیت نہ کریں اس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے ان لوگوں نے ہدایت پر عمل نہ کیا ممانعت کے باوجود اپنی حرکتیں کرتے رہے اس پر آیت کریمہ ﴿اَلَمْ تَرَاِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ﴾ (الآیۃ) نازل ہوئی جس میں ان کی حرکت بدکا بھی تذکرہ فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ یہ لوگ گناہ کے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں۔ یہودیوں کی شرارت یہودیوں کا یہ بھی طریقہ تھا کہ جب حاضر خدمت ہوتے تو السلام علیک کی بجائے السام کہتے تھے زبان دبا کر لام کو کھا جاتے تھے، سام عربی میں موت کو کہتے ہیں موت کی بددعاء کرتے تھے اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ ہم نے سلام کیا، ان کی اس حرکت کو بیان کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ ﴾۔ (اور وہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ میں تحیہ کرتے ہیں یعنی سلام کی ظاہری صورت اختیار کرتے ہیں، جن الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں بھیجا) ۔ ایک مرتبہ چند یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زبان دبا کروہی السام علیک کہہ دیا حضرت عائشہ ؓ نے محسوس فرمایا اور آڑے ہاتھوں لیا اور جواب میں فرمایا علیکم السام واللعنة فرمایا (تم پر موت ہو اور لعنت ہو) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! ٹھہرو (نرمی اختیار کرو) کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں نرمی کو پسند فرماتا ہے، عرض کیا یارسول اللہ آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا ؟ آپ نے فرمایا تو نے نہیں سنا میں نے کیا کہا ؟ میں نے ان کے جواب میں علیکم کہہ دیا یعنی (ان کی بات ان پر لوٹا دی) انہیں موت کی بددعاء دے دی۔ (صحیح بخاری صفحہ 925، ج 2) ﴿وَ يَقُوْلُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ ﴾ یعنی یہودی برے الفاظ بھی زبان پر لاتے ہیں پھر اپنے دلوں میں یوں بھی کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں ہماری باتوں پر عذاب کیوں نہیں دیتا، مقصد ان کا یہ تھا کہ اگر یہ اللہ کے نبی ہیں اور ہم ان کی شان میں بےادبی کرتے ہیں تو اب تک اللہ کا عذاب آجانا چاہئے تھا جب اللہ تعالیٰ ہمیں عداب نہیں دیتا تو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کے نبی نہیں ہیں (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی اعلان نہیں فرمایا کہ نبی کے جھٹلانے کی اور گناہوں کی سزا اسی دنیا میں ضرور دیدی جائے گی اور جلد دے دی جائے گی۔ بہت سے کافروں کو دنیا و آخرت دونوں میں سزا ملتی ہے اور بعض کو صرف آخرت میں دی جاتی ہے یہ دلیل بنا لینا کہ چونکہ ہمیں عذاب نہیں دیا جاتا اس لئے ہمارا عمل درست ہے جہالت اور حماقت کی بات ہے۔ ﴿حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ 1ۚ يَصْلَوْنَهَا 1ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 008﴾ اس میں ان لوگوں کی جاہلانہ بات کا جواب دے دیا اور بتادیا کہ ان کو دوزخ میں جاناہی جانا ہے وہ برا ٹھکانا ہے اگر دنیا میں عذاب نہ دیا گیا تو یوں نہ سمجھیں کہ عذاب سے محفوظ ہوگئے۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں مت کرو، اور نیکی اور تقویٰ کی سرگوشیاں کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم سب جمع کیے جاؤ گے،

اہل ایمان کو نصیحت کہ یہودیوں کا طریقہ کار استعمال نہ کریں یہود اور منافقین کی بدحالی بتا کر مومنین مخلصین کو نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ ﴾ (اے ایمان والو ! جب تمہیں خفیہ مشورہ کرنا ہو (آہستہ آہستہ باتیں کرنی ہوں) تو گناہگاری اور زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو) ۔ ﴿ وَ تَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ﴾ (اور نیکی اور تقویٰ کا مشورہ کرو) ۔ ﴿وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 009 ﴾ (اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم جمع كئے جاؤ گے) یعنی آخرت کے دن میں حاضر ہو گے۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

بات یہی ہے کہ سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو رنجیدہ کرے اور وہ بغیر اللہ کے حکم کے انہیں کچھ بھی نقصان نہیں دے سکتا اور مومن بندے اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔

پھر فرمایا ﴿ اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ (خفیہ سرگوشی شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے) یعنی جن لوگوں نے مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لئے خفیہ مشورہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے اس طریقہ پر انہیں شیطان نے ڈالا ہے، شیطان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کور نجیدہ کرے۔ ﴿وَ لَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ 1ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 0010﴾ (اور ان لوگوں کا یہ مشورہ اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں دے سکتا مگر اللہ کے حکم سے اور اہل ایمان اللہ پر بھروسہ کریں) یہ توکل علی اللہ انہیں مخلوق کی ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اسلام کامل دین ہے، اس میں جیسے عبادات بتائی گئی ہیں ایسے ہی اخلاق و آداب بھی سکھائے گئے ہیں، ان آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ کسی ساتھ کے بیٹھنے والے کو جسمانی اور روحانی تکلیف نہ دی جائے آئندہ آیت میں جسمانی تکلیف کا ذکر ہے اور روحانی تکلیف یہ ہے کہ بعض لوگ آپس میں مل کر چپکے چپکے ایسی باتیں نہ کریں جن سے دوسرے ساتھ بیٹھنے والوں کو تکلیف پہنچے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم مجلس میں تین آدمی ہوں تو دو آدمی تیسرے آدمی کو چھوڑ کر آپس میں چپکے چپکے باتیں نہ کریں جب تک کہ دوسرے آدمی نہ آجائیں، یہ اس لئے کہ ا گردو آدمی بات کریں گے تو تیسرے آدمی کو رنج ہوگا اور وہ سمجھے گا کہ شاید میرے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ (صحیح بخاری صفحہ 632 ج 2) ہاں اگر تین سے زائد آدمی ہوں تو دو آدمی آپس میں آہستہ بات کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے دوسرے حاضرین کے دلوں میں کوئی وسوسہ نہ آئے گا وہ بھی آپس میں اپنی کوئی بات کرلیں گے۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کھول دو تو تم جگہ کھول دیا کرو، اللہ تعالیٰ تم کو کھلی جگہ دے گا اور جب یہ کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو، جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اللہ ان کے اور ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا جنہیں علم عطا ہوا ہے اور اللہ کو سب اعمال کی پوری خبر ہے۔

مجلس کے بعض آداب اور علماء کی فضیلت اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو دو باتوں کا حکم دیا اول یہ کہ مجلسوں میں بیٹھے ہوں تو بعد میں آنے والوں کو بھی جگہ دیا کریں اور کھل کر بیٹھ جایا کریں، تاکہ مجلس میں گنجائش ہوجائے اور آنے والوں کو جگہ مل سکے، جب ایسا عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلہ میں ان پر کرم فرمائے گا ان کے لئے اپنی رحمت اور مغفرت کو وسیع فرمائے گا۔ آنے والوں کو چاہئے کہ وہ کسی پہلے سے بیٹھے ہوئے شخص کو نہ اٹھائیں اور بھری ہوئی مجلس میں اندر گھسنے کی کوشش نہ کریں اور بیٹھے والوں کو چاہئے کہ آنے والوں کے لئے جگہ نکالیں اور کھل کر بیٹھیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے ہاں کھل جایا کرو اور مجلس میں وسعت نکال لیا کرو۔ (صحیح بخاری صفحہ 928: ج 2) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خیر المجالس اوسعھا (سب مجلسوں میں بہتر مجلس وہ ہے جو سب سے زیادہ وسیع ہو) اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے تھے تو جہاں جگہ مل جاتی وہیں بیٹھ جاتے تھے۔ (رواہما ابوداؤد کمافی المشکوٰۃ صفحہ 405) حضرت واثلہ بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ اس کے لیے اپنی جگہ سے ہٹ گئے اس نے کہا یا رسول اللہ ! جگہ میں گنجائش ہے (آپ کو تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں) آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ مسلمان کا یہ حق ہے کہ اس کا بھائی اسے آتا ہوا دیکھے تو اس کے لیے ہٹ جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 404) دوسری نصیحت یہ فرمائی ﴿ وَ اِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا ﴾ (جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو) اس میں یہ ادب بتایا کہ کسی مجلس میں اتنا زیادہ نہ بیٹھو کہ جس کے پاس بیٹھے ہو جس کے گھر گئے ہو وہ زچ ہوجائے اول تو خود سے موقع شناس ہونا چاہیے کہ کتنی دیر بیٹھنے کا موقع ہے۔ اور مجلس کی صورت حال کیا اور وقت کا تقاضا کیا ہے اگر خود نہ اٹھے اور یہ کہہ دیا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو ضرور ہی اٹھ جانا چاہیے اعلان ہوجانے پر بیٹھے رہنا یہ مزید تکلیف دینے والی بات ہے آیت کی یہ ایک تفسیر ہے۔ علامہ قرطبی (رح) نے ابن زید سے نقل کیا ہے کہ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ آخر تک رسول ﷺ کی مجلس میں بیٹھا رہوں اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت بالا میں یہ حکم فرمایا کہ مجلس میں اٹھ جانے کا حکم ہوا کرے تو اٹھ جایا کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی دوسری حاجات بھی ہیں۔ اور ایک تفسیر یوں کی گئی ہے کہ نماز اور جہاد امور خیر کے لیے اٹھنے کو کہا جائے تو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ ﴿ يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ 1ۙ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ 1ؕ﴾ (تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا اللہ ان کو درجات کے اعتبار سے بلند فرما دے گا) یعنی جو احکام اوپر بیان كئے گئے ان پر عمل کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اور اہل علم کے درجات بلند فرمائے گا، اگرچہ اہل علم بھی اہل ایمان میں داخل ہیں لیکن ان کا مستقل تذکرہ فرما کر ان کی شان کو بڑھا دیا نیز آیت کریمہ میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان کے ذریعہ رفع درجات ہوتا ہے پھر علم کی وجہ سے مزید درجات بلند ہوتے ہیں، لیکن اس سے قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم مراد ہیں علماء کی فضیلت نہ صرف عامۃ المسلمین پر بلکہ ان عبادت گزاروں پر بھی ہے جو نوافل میں لگے رہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو عالم فرض پڑھ کر بیٹھ جاتا ہے پھر لوگوں کو خیر سکھاتا ہے اس کی فضیلت اس عابد پر جو دن بھر روزہ رکھتا ہے اور راتوں رات قیام کرتا ہے ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔ اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ جسے اس حال میں موت آگئی کہ وہ اس لئے علم حاصل کر رہا تھا کہ اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کرے تو اس کے اور نبیوں کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگیا۔ (روا ہما الدارمی کمافی المشکوٰۃ صفحہ 36) حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن حضرات انبیاء پھر علماء پھر شہداء شفاعت کریں گے۔ ﴿وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ0011﴾ (اور اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے، جو بھی خیر کا کام کرلو گے اس کا پھل پالو گے) ۔
Ayahs 58:12–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور پاک ہونے کا اچھا ذریعہ ہے، سو اگر تم نہ پاؤ تو اللہ عفور ہے رحیم ہے،

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات دیا کرو، سو جب تم نے نہ کیا اور اللہ نے تمہارے حال پر مہربانی فرمائی سو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرما نبرداری کرو اور اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے صدقہ کا حکم اور اس کی منسوخی یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم دیا ہے کہ مومنین جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی بات کرنے کے لئے آئیں اور سرگوشی کے طور پر خفیہ بات کرنا چاہیں تو اس سے پہلے صدقہ دے دیا کریں اور دوسری آیت میں اس حکم کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے سوالات کیا کرتے تھے۔ جب سوالات کا سلسلہ زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کو شاق گزرنے لگا اللہ تعالیٰ شانہ نے ان سوالات میں تخفیف کرانے کے لیے یہ حکم دیا کہ صدقہ کرکے آپ کی خدمت میں آیا کریں جب ایسا ہوا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے رک گئے، بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس میں وسعت دے دی یعنی بغیر صدقہ كئے بھی حاضر ہونے کی اجازت دے دی۔ حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو نبی اکرم ﷺ سے خلوت میں گفتگو کرنے کی درخواست کرتے تھے جب آپ سے سرگوشی کرتے تھے تو دوسرے مسلمانوں کو خیال ہوتا تھا کہ شاید ہمارے بارے میں کوئی بات چیت ہو رہی ہے، جب عامۃ المسلمین کو تنہائی میں وقت لینے والوں کا طریقہ کار ناگوار گزرا تو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے حکم فرمایا کہ جنہیں سرگوشی کرنا ہو وہ صدقہ دے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کریں تاکہ خلوت میں وقت مانگنے کا سلسلہ ختم ہوجائے۔ (تفسیر قرطبی صفحہ 301: ج 17) حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں ایک آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کو دس درہم میں تڑوالیا تھا۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خفیہ مشورہ کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو ایک درہم صدقہ کر کے آتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ فرما دیا۔ (ابن کثیر صفحہ 326: جلد 4) جن لوگوں کے پاس صدقہ دینے کو کچھ نہ تھا ﴿ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ0012﴾ فرما کر پہلے ہی سے ان کو مستثنیٰ فرما دیا تھا، سنن ترمذی میں حضرت علی ؓ کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً ﴾ نازل فرمائی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے (مسلمان) ایک دینار (صدقہ کر کے آئیں گے) میں نے عرض کیا انہیں اس کی طاقت نہیں، فرمایا آدھا دینار ؟ میں نے عرض کیا انہیں اس کی طاقت نہیں، فرمایا پھر کتنا ؟ میں نے عرض کیا ایک جو (کے برابر سونا) ہو فرمایا تم تو بہت تھوڑے پر آگئے اس پر آیت کریمہ ﴿ ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ ﴾ نازل ہوئی حضرت علی ؓ نے فرمایا میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف فرما دی (قال الترمذی حدیث غریب حسن من ھذا الوجہ ومعنی قولہ شعیرة یعنی شعیرةٍ من ذھب) صدقہ دینے کے حکم کا منسوخ ہونا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ ءَاَشْفَقْتُمْ ﴾ (الآیۃ) کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات کرو سو اگر اس پر تم نے عمل نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی (کہ بالکل اس کو منسوخ فرما دیا) تو تم دوسرے احکام دینیہ پر پابندی سے عمل کرتے رہو نماز کے پابندر ہو زکوٰۃ ادا کرو اللہ اور اس کے رسول کی فرما نبرداری کرو۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ﴿ وَ تَاب اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ﴾ میں بتادیا کہ صدقہ دینے کا جو حکم ہوا تھا اس سے ڈرنایہ گناہ تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرما دیا اور ﴿ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا ﴾ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ” اذ “ ظرفیہ بھی ہوسکتا ہے اور شرطیہ بھی، پھر لکھا ہے : والمعنی علی الاول انکم ترکتم ذلک فیما مضی فتدار کوہ بالمثابرة علی اقامة الصلوة وایتاء الزکوٰة۔ ” یعنی جب تم نے حکم پر عمل نہ کیا تو اس کا اس طرح تدارک کرو کہ نمازوں کی خوب پابندی کرو اور زکوٰتیں ادا کیا کرو۔ “ قلت ومعنی الشرطیة یول الی ذلك۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (رح) 0013﴾ (اور اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے) ۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن پر اللہ کا غضب ہوا نہ وہ تم میں سے ہیں نہ ان میں سے، اور وہ جانتے ہوئے جھوٹ پر قسم کھاتے ہیں،

منافقین کا بدترین طریق کار، جھوٹی قسمیں کھانا، اور یہودیوں کو خبریں پہنچانا معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ یہ آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جنہوں نے ظاہراً اسلام کا دعویٰ کیا لیکن اندر سے یہودیوں سے دوستی جاری رکھی مومنین کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے جو ان کے راز معلوم ہوجایا کرتے تھے وہ یہودیوں تک پہنچا دیا کرتے تھے، اس کے بعد ایک قصہ یوں نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن نبتل نامی ایک یہودی تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر بیٹھا کرتا تھا پھر آپ کی باتیں (جو عام کرنے کی نہ تھیں) یہودیوں کو پہنچا دیتا تھا ایک دن یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے آپ نے خود ہی فرمایا کہ ابھی ایک شخص آئے گا جس کا قلب جبار ہے اور وہ شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اس شخص کی آنکھیں نیلی تھیں جب پہنچ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو اور تیرے ساتھی مجھے برے الفاظ میں کیوں یاد کرتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ نہیں ایسی بات تو نہیں ہے اور اپنے ساتھی کو بھی لے کر آگیا وہ بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں کھا گیا اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ارشاد فرمایا ﴿ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا ﴾ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے (ان سے یہودی مراد ہیں) ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ یہ لوگ یہودیوں سے ان کا دوست بن کر ملتے ہیں اور تمہارے پاس آکر یہ بتاتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں، اور یقینی قطعی بات یہ ہے کہ یہ لوگ نہ ان میں سے ہیں نہ تم میں سے (جو شخص مطلب کا یار ہوتا ہے وہ ظاہر میں ہر اس شخص اور اس جماعت کا ساتھی بن جاتا ہے جس سے مفادوابستہ ہو، لیکن اخلاص کے ساتھ وہ کسی کا بھی دوست نہیں ہوتا) ، منافق ہر فریق کے پاس جا کر یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا ہوں لیکن حقیقت میں وہ کسی کا بھی نہیں ہوتا، اسی کو سورة النساء میں فرمایا ہے ﴿ مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ 1ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ ﴾ (الآیۃ) نہ وہ ان کی طرف ہیں نہ ان کی طرف، جو اعمال کرتے ہیں وہ بھی دکھاوے کے لئے تاکہ ان کو دیکھ کر لوگ یہ سمجھیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہے حالانکہ وہ کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوتے۔ ان منافقوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹی قسم کھاتے ہیں اور یہ قسم بھی غلط فہمی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ یہ جانتے ہوئے جھوٹی قسم کھاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں جھوٹی قسم کھا رہے ہیں۔
Ayahs 58:15–17

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار فرمایا ہے، بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا سو اللہ کے راستہ سے روک دیا، لہٰذا ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے،

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ہرگز ان کے اموال اور اولاد اللہ سے بچانے کے لئے کچھ کام نہ آئیں گے یہ دوزخ والے ہیں اس میں، ہمیشہ رہیں گے،

پھر فرمایا ﴿ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ﴾ (الآیات الثلث) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار فرمایا ہے، یہ برے عمل کرتے تھے جھوٹی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنالیتے تھے اور اس طرح اللہ کی راہ سے روکتے تھے ان کے لئے عذاب شدید بھی ہے اور عذاب مہین بھی یعنی ” ذلیل کرنے والا عذاب “ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے جو منافقانہ طرز اختیار کیا ہے اس میں ہمارے مالوں کی حفاظت بھی ہے اور ہماری اولاد کی بھی، ان کا یہ سمجھنا غلط ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ انہیں دوزخ میں لے جاؤ تو وہاں عذاب سے چھڑانے کے لئے نہ کوئی مال نفع دے گانہ اولاد کام آئے گی جن کی حفاظت کے لئے یہ مکرو فریب اختیار کرتے رہے ہیں اور اپنی آخرت خراب کرتے ہیں وہ لوگ اللہ کے عذاب سے چھڑانے کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ان کو دوزخ میں جانا ہی ہوگا اور اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس روز اللہ ان کو دوبارہ زندہ فرمائیگا سو وہ اس کے لئے بھی ایسی قسمیں کھائیں جیسی قسمیں تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور وہ خیال کر رہے ہیں کہ ہم کسی اچھے حال میں ہیں خبردار بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں،

اس کے بعد ان لوگوں کی جھوٹی قسم کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو ! اتنی ہی سی بات نہیں ہے کہ دنیا میں تمہارے سامنے یہ جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں ان کی بدحالی کا تو یہ عالم ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ انہیں قبروں سے اٹھائے گا اور میدان حشر میں حاضر فرمائے گا اور وہاں ان سے ان کے کفر اور ان کی شرارتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے۔ ﴿ َلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ 0018﴾ خوب سمجھ لیا جائے کہ یہ لوگ جھوٹے ہی جھوٹے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اسے کمال بھی سمجھتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ دیکھو ہم کیسے اچھے رہے جھوٹ بولا تو کیا ہے اپنا کام تو نکال ہی لیا، دنیا کی مطلب پرستی کی طرف ان کو دھیان ہے آخرت کے عذاب کی طرف کچھ دھیان نہیں۔
Ayahs 58:19–20

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان نے ان پر غلبہ پا لیا، سو انہوں نے اللہ کا ذکر بھلا دیا، یہ شیطان کا گروہ ہے، خبردار بیشک شیطان کا گروہ خسارے میں پڑجانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کا اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں یہ لوگ بڑی ذلت والوں میں ہیں۔

مخالفین پر شیطان کا غلبہ، آخرت میں خسارہ اور رسوائی : ﴿اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ ﴾ (الآیۃ) ، (شیطان نے ان پر غلبہ پالیا سوا نہیں اللہ کی یاد بھلا دی) اللہ کی یاد سے غافل ہیں تو آخرت کے مواخذہ اور محاسبہ سے بھی غافل ہیں بس ان کے سامنے دنیا ہی دنیا ہے چونکہ شیطان کا ان پر غلبہ ہے وہ ان پر برے اعمال کو اچھا کر کے پیش کرتا ہے اور کفر اور شرک اور معاصی میں ان کا فائدہ بتاتا ہے اس لیے یہ لوگ شیطان ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ﴾ (ان کا گروہ شیطان کا گروہ ہے) یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں ان کی یہ غلط فہمی قیامت کے دن دور ہوجائے گی جب ﴿ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ﴾ کا مصداق بنیں گے نہ کچھ مال پاس ہوگا نہ اولاد فائدہ دے گی اور اپنی جانوں کو عذاب سے چھڑانے کی کوئی راہ نہ پائیں گے بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا، اسی کو فرمایا ﴿اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 0019﴾ (خبردار اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان کا گروہ بربادہی برباد ہے) ۔ اس کے بعد ان سب لوگوں کی بدحالی بیان فرمائی جو کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا یہ لوگ ان لوگوں میں ہوں گے جو بہت زیادہ ذلت والے ہوں گے دوزخ میں جو شخص داخل ہوگا ذلیل ہوگا، سورة آل عمران میں مومنین کی دعاء نقل فرمائی ہے : ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ﴾ (اے ہمارے رب تو جسے دوزخ میں داخل فرمائے گا، اسے رسوا فرما دے گا) اہل دوزخ کے بہت سے گروہ ہوں گے جس جس درجہ کا جو شخص اہل ہوگا اسی کے لائق عذاب اور ذلت اور رسوائی میں مبتلا کیا جائے گا، منافقین کے بارے میں سورة نساء میں فرمایا ﴿ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ﴾ (بلاشبہ منافقین آگ کے سب سے نیچے والے درجہ میں ہوں گے) بہت سے لوگ منافق نہیں ہوتے کھلے ہوئے کافر ہوتے ہیں اور اپنی دشمنی اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر تلے رہتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں پیشگی خبر دے دی اور مستقل قانون بتادیا کہ یہ لوگ ذلیل ترین لوگوں میں ہوں گے۔ اعاذنا اللہ من عذابہ وسخطہ۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے لکھ دیا ہے میں ضرور ضرور غالب رہوں گا اور میرے رسول بیشک اللہ قوی ہے عزیز ہے،

ایمان والے اللہ تعالیٰ کے دشمن سے دوستی نہیں رکھتے اگرچہ اپنے خاندان والا ہی کیوں نہ ہو یہ دو آیات کا ترجمہ ہے ان سے پہلی آیات میں منافقین کی حرکتوں اور شرارتوں کا اور جو لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کریں ان کی بد حالی اور بربادی کا ذکر تھا، ان آیات میں اہل ایمان کی بعض صفات خاصہ کا اور ان کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ایسا نہیں کرسکتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے اس سے دوستی کریں، جب اللہ پر ایمان لے آئے جو پیدا فرمانے والا ہے سب سے بڑا ہے تو اس کے مخالفوں سے دوستی کرنے کا کوئی موقع نہیں رہا سچے مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ پر بھی ایمان لائے اور اس کے دشمنوں سے بھی دوستی کا تعلق رکھے، جو اللہ کا ہوگیا وہ اور کسی کا نہیں رہا اس کی دوستی دشمنی اللہ ہی کے لیے ہے وہ جئے گا اللہ کے لیے مرے گا اللہ کے لیے تعلق رکھے گا اللہ کے لیے تعلق توڑے گا اللہ کیلئے۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا من احب للہ و ابغض للہ واعطی للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان۔ (رواہ ابوداؤ) (جس نے محبت کی اللہ کے لئے اور نفرت کی اللہ کے لئے اور دیا اللہ کے لئے اور روک لیا اللہ کے لئے اس نے اپنا ایمان کا مل کرلیا) آیت بالا میں یہی فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے اب وہ اس شخص سے محبت نہیں رکھتے جو اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا مخالف ہو، اللہ کے تعلق اور محبت کی وجہ سے اگر انہیں اپنے خاص عزیزوں اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے قبیلوں سے تعلق توڑنا پڑے تو ان سے تعلق توڑ دیں گے اور نہ صرف یہ کہ تعلق توڑ دیں گے بلکہ قتل و قتال کی نوبت آئے تو قتل بھی کردیں گے جو اللہ کا دشمن ہے اہل ایمان کا بھی دشمن ہے دینی دشمنی کے سامنے رشتے داری کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

آپ نہ پائیں گے ایسے لوگوں کو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کہ دوستی رکھتے ہوں اس شخص سے جو مخالفت کرتا ہو اللہ کی اور اس کے رسول کی اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا کنبہ کے لوگ ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو لکھ دیا اور اپنی رحمت کے ذریعہ ان کی تائید فرما دی اور وہ ان کو داخل فرمائے گا ایسی بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہیں، یہ جماعت اللہ کا گروہ ہے خبردار بلاشبہ اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے

غزوہٴ بدر میں حضرات صحابہ نے ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کافر رشتہ داروں کو قتل کردیا حضرات صحابہ ؓ کو ایسے متعد دواقعات پیش آئے کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دشمن اسلام کو یہ جانتے ہوئے قتل کردیا کہ یہ میرا باپ ہے یا بھائی ہے یاکنبہ کا فرد ہے چناچہ غزوہ بدر میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے باپ جراح کو قتل کردیا تھا اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اور حضرت عمر ؓ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو قتل کردیا تھا۔ مفسر ابن کثیر نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں یہ مثالیں لکھی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے بیٹے عبدالرحمن نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے والد سے کہا کہ ابا جان جنگ بدر کے موقع میں کئی بار ایسا موقع پیش آیا کہ میں آپ کو قتل کرسکتا تھا لیکن میں بچ کر نکل گیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا اگر میرا موقع لگ جاتا تو میں قتل کردیتا تجھے چھوڑ کر آگے نہ بڑھتا۔ (ذكرہ فی سیرۃ ابن ہشام) غزوہ بدر کے موقع پر یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ جب مشرکین اور مسلمین کا آمنا سامنا ہوا تو مشرکین مکہ نے با قاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے شخصی مقاتلہ اور مقابلہ کے لئے دعوت دی اس پر حضرت انصار میں سے تین آدمی آگے بڑھے۔ مشرکین مکہ نے کہا تم لوگ کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم انصار میں سے چند آدمی ہیں ! وہ کہنے لگے ہمیں تمہاری کوئی حاجت نہیں ہمارے بنی عم یعنی چچاز اد بھائیوں کو ہمارے سامنے لاؤ اور زور سے پکار کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہماری قوم میں سے ہمارے برابر کے لوگ مقابلہ کے لئے بھیجئے، آپ نے حضرت عبیدہ بن حارث اور حضرت حمزہ اور حضرت علی ؓ کو مقابلہ میں آنے کا حکم دیا آپس میں مقابلہ ہوا تو حضرت عبیدہ بن حارث ؓ نے عتبہ پر اور عتبہ نے حضرت عبیدہ ؓ پر حملہ کیا ہر ایک کی ضرب سے ایک دوسرا نیم جان ہوگیا اور حضرت حمزہ ؓ نے شیبہ کو اور حضرت علی ؓ نے ولید کو قتل کردیا پھر ان دونوں حضرات نے عتبہ کو بھی قتل کردیا اور حضرت عبیدہ ؓ کو اٹھا کرلے آئے پھر ان کی روح پرواز کرگئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اشھد انک شھید “ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو۔ (البدایہ والنہایہ ص 273: ج 3) یہ واقعہ ہم نے یہ بتانے کے لئے لکھا ہے کہ کافر اپنے کفر پر جم کر کفر کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر اتنے آگے بڑھے ہوئے ہیں کہ انہیں یہ منظور نہیں کہ ہم اپنے رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے کسی قبیلے کے افراد سے جنگ کریں، انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ ہم اپنے چچا زاد بھائیوں کو قتل کریں گے جب اہل کفر کا یہ جذبہ ہے تو اہل ایمان اللہ و رسول کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو اور ایمان کے دشمنوں کو قتل کرتے وقت یہ کیوں دیکھیں کہ ہم جسے قتل کر رہے ہیں یہ ہمارا کوئی عزیز قریب تو نہیں ہے، جب اللہ ہی کے لئے مرنا ہے اور اللہ ہی کے لئے مارنا ہے تو جو لوگ اللہ کے دشمن ہیں ان پر رحم کھانے کی کوئی وجہ نہیں اور اس موقعہ پر اپنے اور پرائے میں فرق کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کا گروہ ہے ان کے لئے جنت کا وعدہ ہے : ﴿ اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ ﴾ (اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا) یعنی ثابت فرما دیا اور جما دیا۔ ﴿ وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ﴾ (انہیں اپنی روح کے ذریعہ قوت دے دی) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ روح سے نور القلب مراد ہے اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے نور ڈال دیتا ہے اس کے ذریعہ اطمینان ہوتا ہے اور معارج تحقیق پر عروج نصیب ہوتا ہے۔ ﴿1ؕ وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا 1ؕ ﴾ (اور انہیں داخل فرمائے گا ایسی جنتوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) ﴿ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ 1ؕ﴾ (اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہیں) ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ 1ؕ ﴾ (یہ لوگ اللہ کی جماعت ہیں) ﴿ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (رح) 0022﴾ (خبر دار ! اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے) ۔ وھذا آخر تفسیر سورة المجادلہ، والحمد للہ رب العلمین والصلٰوة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین و علی الہ وصحبہ اجمعین