58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 58:1–6

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث و تکرار کرتی تھی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی اور اللہ آپ دونوں کی گفتگو سن رہے تھے۔ بیشک اللہ (سب کچھ) سننے والے (سب کچھ) دیکھنے والے ہیں

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (ماں کہہ دیتے ہیں) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور یقینا اللہ معاف کرنے والے بخشنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان (میاں بیوی) کے باہم ملنے سے پلے ایک گردن (غلام یا لونڈی) کا آزاد کرنا (ان کے ذمہ) ہے۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور اللہ کو تمہارے سب اعمال کو خبر ہے

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پس جس کو میسر نہ ہو تو وہ مجامعت سے پہلے دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے تو (اس کے ذمہ) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ (حکم) اس لئے ہے کہ تم اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لے آؤ (فرمابردار ہوجاؤ) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

بیشک جو اللہ اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں اس طرح ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے اور بیشک ہم نے کھلی کھلی آیات نازل فرمادی ہیں۔ اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہوگا

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو زندہ کریں گے تو جو کام وہ کرتے رہے ان کو بتائیں گے (کیونکہ) اللہ کے پاس وہ سب محفوظ ہے اور یہ اس کو بھول گئے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہیں

آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد فرمایا کہ یہ جھوٹ بھی ہے اور گناہ بھی لہذا اگر علیحدگی مقصود ہوتوطلاق کا درست طریقہ اختیار کیا جائے چناچہ ارشاد ہو ا کہ رب جلیل نے اس خاتون کی فریاد سن لی یعنی اس کی شکایت پر اس رسم بد کی اصلاح فرمادی جس بارے میں وہ آپ سے اصرار کررہی تھی اپنے خاوند کے بارے اور اپنے حال کے مطابق اصلاح کی تمنا رکھتی تھی کہ رب کریم ہی سب کی فریادیں سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ ظہار کا حکم۔ جولوگ بیویوں سے ظہار کرتے ہیں یعنی انہیں ماں بیٹی یابہن وغیرہ محرمات سے تشبیہ دے کر الگ ہوناچاہتے ہیں تو وہ سن لیں کہ ایسا کہنے سے بیویاں ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں بلکہ ماں تو وہی ہوتی ہے جس سے یہ کہنے والا پیدا ہوا تھا ، ہاں ان کا یہ کہنا بہت ہی معیوب بات ہے اور بہت بڑا جھوٹ بھی ہے انہیں یقینا اس بات سے توبہ کرکے اللہ سے مغفرت طلب کرنا چاہیے کہ وہ معاف کرنے والا اور خطاکاروں کو بخش دینے والا ہے۔ اختلاط کے لیے شرط۔ اب دوسری صورت کہ اس آدمی نے بیوی سے علیحدگی اختیار کی مگر پھر ندامت ہوئی ظہار سے توبہ کرلی اب پھر سے میاں بیوی کا تعلق چاہتا ہے تو اس کی خاطر ایک غلام مرد یا عورت آزاد کرے تب اختلاط کرنا جائز ہوگا اور اگر اس کی قدرت نہیں تو پھر ساٹھ روزے رکھے اگر دوماہ روزے بھی نہیں رکھ سکتا کہ بڑھاپا یابیماری ہے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے (ساٹھ مساکین) کو بیک وقت کھانا دینا درست ہے اور کھانے کی قیمت تقسیم کرنا بھی درست ، تفصیل کتب فقہ میں دیکھیے) ۔ یہ سزا اس لیے کہ تمہیں نصیحت ہو اور ایسی فضول حرکت نہ کرو اور یہ یاد رکھو کہ اللہ کریم کو تمہارے کاموں کی خبر ہوتی ہے یعنی کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت یہ دیکھ لیا کرو کہ اللہ بھی دیکھ رہے ہیں اور ہمارے حال سے باخبر ہیں۔ اور اس کا یہ فائدہ بھی ہے کہ تمہارا ایمان اللہ اور اس کے رسول سے مضبوط ہو کہ یہ حدود اللہ کی مقرر کردہ ہیں اور کفار جو ان کی پرواہ نہیں کرتے انہیں بہت دردناک عذاب ہوگا۔ حدود شرعی محض سزا نہیں۔ یہاں سے یہ بات بھی حاصل ہوئی کہ حدود شرعی اور اسلامی سزاؤں کا مقصد صرف تنبیہ اور اصلاح احوال ہی نہیں بلکہ ان کو ایمان کی زیادتی میں بھی دخل ہے کہ مومن جب اپنی خطا پر سزا پاکر پاک ہوتا ہے تو اس کی کیفیت ایمانی میں مزید اضافہ ہوتا ہے جو معاشرے کی اصلاح سے بھی کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ کہنے والے ذراغور کریں۔ مخالفت رسول کا نتیجہ۔ جولوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ان کی آخرت تو تباہ ہوتی ہی ہے جس کام میں یا جس اصول میں دنیاوی امور میں مخالفت کرتے ہیں اس میں ذلیل ہوجاتے ہیں یہ بات ان سے پہلے لوگوں کے حالات سے بھی واضح ہے کہ وہ کس طرح ذلیل ہوئے اور آج کی مغربی دنیا کے حالات بھی اس پر گواہ ہیں کہ معاشرتی نظام میں مرد وعورت کے تعلق کے باب میں انہوں نے مخالفت کی دونوں امور میں سخت ذلیل ہو رہے ہیں یہ سب تو دنیا میں ہے کفار کے لیے تو آخرت میں بھی ذلت کا عذاب ہے کہ آخر ایک دن سب انسانوں کو یکبارگی جمع فرمائے گا اور لوگوں کو ان کے اعمال کی خبر دے گا حالانکہ بہت سے جرائم لوگوں نے بھلادیے ہوں گے یا انہیں کوئی اہمیت نہ ہوگی جبکہ اللہ کے پاس تو وہ سب لکھے ہوئے اور محفوظ ہیں لہذا سب پر حساب لیاجائے گا اور عذاب ہوگا۔
Ayahs 58:7–13

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا آپ نے اس پر نظر نہیں فرمائی کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ سب کچھ جانتے ہیں۔ کوئی سرگوشی تین آدمیوں تین آدمیوں میں ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھے وہ (اللہ) نہ ہوں اور نہ پانچ کی جس میں چھٹے وہ نہ ہوں اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ مگر وہ (ہر حال میں) ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں خواہ وہ لوگ کہیں بھی ہوں ، پھر ان سب کو قیامت کے دن وہ کام بتائیں گے جو یہ کرتے رہے ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز کے جاننے والے ہیں

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا پھر جس کام سے منع کیا گیا تھا وہی کام پھر کرنے لگے اور وہ گناہ اور ظلم اور پیغمبر کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور اپنے جی میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمارے اس کہنے پر ہم کو سزا کیوں نہیں دیتے۔ ان کے لئے جہنم کافی ہے یہ لوگ اس میں (ضرور) داخل ہوں گے ، سو وہ برا ٹھکانہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم (کسی سے) سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں ن ہکرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے سامنے تم سب جمع کیے جاؤ گے

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

بیشک ایسی سرگوشی محض شیطان کی طرف سے ہے تاکہ ایمان والوں کو رنج میں ڈالے اور وہ اللہ کے چاہے بغیر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اور ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھا کرو ، اللہ تم کو کشادگی بخشیں گے۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو ، اللہ تم میں ایمان والوں اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے کے درجات بلند فرمائیں گے۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم پیغمبر سے سرگوشی میں بات کرنا چاہو تو اپنی بات سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور (گناہوں سے) پاک ہونے کا ذزریعہ ہے۔ پھر اگر تم نہ کرسکو تو یقینا اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم بات کرنے سے پہلے صدقات کرنے سے ڈر گئے ! سو اگر تم (اس کو) نہ کرسکے اور اللہ نے تم پر عنایت فرمائی تو تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی وفاداری کرتے رہو۔ اور اللہ کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔ نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ موجود ہے خواہ وہ کسی بھی جگہ پر ہو اور ان کی ان باتوں کا خواہ دنیا میں کوئی نقصان نہ بھی ہو کہ صرف مشورے کرتے رہ گئے اور مسلمانوں کا اور ان کی وساطت سے رسول اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے تو بھی آخرت کی گرفت سے تو نہ بچ سکیں گے بلکہ وقت حساب اللہ اس بات پر ان سے محاسبہ فرمائیں گے اس لیے کہ اللہ ہر شے سے خوب واقف ہے۔ کفار کا یہ عمل مسلمانوں کے خلاف تاحال موجود ہے مگر مسلمان کو اس سے خوفزدہ نہ ہوناچاہیے کہ اللہ کریم اس کے ساتھ ہے چناچہ آپ نے اس طرح کی سرگوشیوں سے ان لوگوں کو منع بھی فرمایا مگر باز نہ آتے تھے بلکہ گستاخی میں بڑھ گئے اور خود بارگاہ رسالت میں سلام عرض کرتے وہ طریقہ اختیارنہ کرتے جو اللہ نے بتایا ہے بلکہ گستاخانہ انداز خفیہ طریقے سے کہہ دیتے جیسے السلام علیکم کی بجائے السام علیکم کہتے جبکہ سام کا معنی موت کا ہے اور اس طرح کہتے کہ سمجھ نہ آئے جبکہ حضور ﷺ جانتے تھے۔ حسن کلام کا انداز۔ ایک بار حضرت عائشہ ؓ نے سن لیا اور سخت ناراض ہو کر فرمایا ، السام علیکم ولعنکم وغضب علیکم۔ کہ تم پر موت آئے اللہ کی لعنت ہو اور غضب ہو تو آپ نے فرمایا ایسانہ کہو بلکہ نرمی اختیار کریں تو انہوں نے عرض کیا آپ ﷺ نے سنا نہیں وہ کیا کہتے ہیں فرمایا سنا بھی اور جواب بھی دیا کہ ، علیکم ، یعنی تم پر بھی۔ اب ظاہر ان کی دعا تو اثر نہ کرے گی اور رسول اللہ ﷺ کی دعاخالی نہ جائے گی۔ حقیقی موت۔ جس کے نتیجے میں ان کی حقیقی موت واقع ہوگئی یعنی انہیں ایمان نصیب نہ ہوا اور کفر یامنافقت کی حالت میں موت آئی کہ یہ انداز منافقین نے بھی اپنا لیا تھا اور وہ بیوقوف آپس میں اس پر خوش ہوتے کہ ہم نے اس قدر گستاخی کہ مگر ہم پر کوئی عذاب نہ آیا حالانکہ مادی عذاب کی نسبت یہ روحانی موت بہت بڑا عذاب ہے کہ ان کاٹھکانہ جہنم ہے جس میں یقینا داخل ہوں گے اور بہت ہی بری جگہ ہے وہاں تودکھوں کی حد نہیں مگر ان دکھوں کا سایہ دنیا کی زندگی سے بھی چین چھین لیتا ہے۔ مسلمان کو کافروں کی ادائیں نہیں اپناناچاہئیں۔ آگے مسلمانوں کو ارشاد ہوتا ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی تم بھی خفیہ مشورے یاسرگوشی میں باتیں کرنا شروع نہ کردو ہاں اگر کوئی راز داری کی بات اور ضرور کسی سے سرگوشی کرنا مقصود ہو تو کوئی گناہ کی بات نہ کرو ، کسی زیادتی کی بات مت سوچو اور کوئی ایسی بات نہ ہو جس میں آپ ﷺ کی نافرمانی ہو ہاں نیکی بات ہو ظلم کو روکنے کا مشورہ ہو دین اور پرہیزگاری کی بات ہوتوضرور کرو اور عظمت الٰہیہ کو دھیان میں رکھو کہ آخر اس کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف سازش کیسے موثر ہوتی ہے۔ یہ کا ناپھوسی اور خفیہ سازشیں شیطان کے کام ہیں جن سے وہ مسلمانوں کو پریشان کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار بندے ہیں ہاں اگر اللہ ہی کو ناراض کردیں اور وہ ان پر مصیبت لانا چاہے تو پھر یہ سازشیں انہیں نقصان پہنچاتی ہیں لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اطاعت الٰہی کریں اور اسی کی مدد پر بھروسہ کریں۔ ترقی کا راز۔ ایک دوسرے سے چھپانے والی بات کیا ہے مل کر بیٹھا کرو اور اجتماعی مفاد کی بات کیا کرو اور اگر لوگ زیادہ آجائیں تو ان کو جگہ دیں یا اگر آنے والوں کی بات ضروری ہوتوجوفارغ ہوچکے ہوں وہ اٹھ جاؤ یامیرمجلس ہی فرمادیں کہ اب مجلس برخاست کرویا کچھ لوگوں کو جانے کا کہہ دیں تو ضرور اٹھ جاؤ کہ اس سے نہ صرف انتظامی امور میں فائدہ ہوگا بلکہ اللہ کریم تمہارے درجات بلند فرمائیں گے کہ ایمان وعلم میں ترقی نصیب ہوگی کہ وہ تمہارے ہر عمل پر نگاہ رکھتا ہے گویا ایمان وعمل کی ترقی کی شاندار صورت یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے انتظامی امور کو درست کرنے میں مدد کی جائے۔ اگر کسی کو نبی ﷺ سے الگ بات کرنے کا وقت لینا ہو تو پہلے حسب توفیق صدقہ کرے کہ یہی طریق کار تمہارے لیے بہتر اور عمدہ ہے اور ہاں اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو اللہ کریم معاف کرنے والے ہیں۔ لوگ نادانی کے سبب اور یہود منافقین پریشان کرنے کے لیے آپ سے وقت لے کر لمبی بات کرتے تو صدقہ کرنے کا حکم آگیا ، اب ظاہر ہے مومنین کو تنبیہ ہی کافی تھی اور کفار منافقین صدقہ پر مال کیوں خرچ کرتے لہذا وہ بھی رک گئے۔ شیخ کا وقت اور اس کی قدروقیمت۔ توحاصل ہوا کہ شیخ کے وقت کی بھی قدر کی جانی چاہیے اور بات کو لمبا کرکے وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ مقصد کی اور ضروری بات مختصرا کی جائے۔ حضرت علی کا قول : حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیہ مبارکہ پر صرف میں نے عمل کیا کہ صدقہ کرکے آپ سے وقت لیا پھر اس کا حکم منسوخ ہوگیا لہذا اور کسی کو اس پر عمل کرنے کی نوبت نہ آئی۔ اسلام زندگی آسان بناتا ہے۔ اس حکم سے مسلمانوں کو تنگی محسوس ہوئی کہ کچھ پاس نہ ہوتا شرمندہ ہوتے یاصدقہ دینے سے معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا تو مقصد چونکہ تنبیہ اور کفار منافقین کو روکنا تھا وہ حاصل ہوگیا تو اس کا حکم منسوخ کردیا گیا کہ اسلام زندگی کو آسان بناتا ہے اس کے لیے مشکلات پیدا نہیں فرماتالہذا اگر تمہیں ہر بارگزارشات پیش کرنے کے لیے صدقہ کرنے کے حکم سے مشکل پیش آئی ہے اور تم نہ کرسکنے کے سبب پریشانہ وتو اللہ اس حکم کو منسوخ فرماتا ہے اور تمہیں آپ ﷺ کی بارگاہ عالی کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے بات کرنے کی اجازت ہے نیز یہ خیال بھی رکھو کہ عبادات بھی پوری خوش اسلوبی سے ہوں اور زندگی کے تمام امور میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کرو یعنی اگر اس ایک بات پر دوعالم کے نفع ونقصان کا مدار ہے تو جان لو کہ فرائض عبادات اور معاشرے کے امور انتظامی کی اہمیت کیا ہوگی لہذا پورے خلوص کے ساتھ دونوں امور سرانجام دو اللہ اس کے خوبصورت نتائج عطا فرمائیں گے کہ وہ تمہارے ہر کام سے آگاہ ہیں۔
Ayahs 58:14–22

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے اور جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں اور وہ (خود بھی) جانتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر کھا ہے بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پھر اللہ کی راہ سے روکتے رہتے ہیں۔ سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے اموال اور اولاد ان کو اللہ (کے عذاب) سے ذرا نہ بچا سکیں گے۔ یہ لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو (دوبارہ) زندہ کریں گے تو اس کے روبرو بھی (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور خیال کریں گے ہ ان کا کچھ کام بن گیا۔ خوب سن لو ! یہ لوگ بڑے ہی جھوٹے ہیں

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان نے تسلط کرلیا ہے پھر ان کو اللہ کی یاد بھلا دی۔ یہی شیطان کا گروہ ہے خوب سن لو ! کہ بیشک شیطان کا گروہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ نہایت ذلیل ہوں گے

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے (اپنے حکم ازلی میں) یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ بیشک اللہ قوت والے غلبہ والے ہیں

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے پیغمبر کے مخالف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ ہی ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے (ثبت کردیا ہے) اور ان (کے قلوب) کو اپنے فیض غیبی سے قوت دی ہے۔ اور وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوں گے اور وہ (اللہ) سے راضی ہوں گے۔ یہ اللہ کا لشکر ہے۔ خوب سن لو ! بیشک اللہ کا لشکر ہی مراد پانے والا ہے

آیات 14 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔ کفار سے معاہدہ۔ عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور کفار سے معاہدوں کی بات کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کہ ان معاہدوں کی دوستی اسلام اور مسلمانوں سے تھی اور ان کی بہتری مقصود تھی ۔ ایسا آج بھی نہ صرف جائز ہے بلکہ کمال ہے مگر ایسے معاہدوں جن میں مسلمانوں کا نقصان ہو اور کفار کا فائدہ ہو یہ کفار سے دوستی ہے اور ایسا کرنے والاخود مسلمان نہیں رہتا۔ بلکہ ارشاد ہوتا ہے ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے شدید عذاب تیار کررکھا ہے کہ یہ بہت ہی برا کام کر رہے ہیں انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کو ڈھال بنالیا ہے حالانکہ یہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا سبب ہیں۔ اس عہد کے منافقین بھی یہی کوشش کرتے تھے کہ مسلمان عملا اسلام سے دور ہوتے جائیں اور آج کے کفار کے ساتھ مل کر نام ونہاد مسلمان وہی کام کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو نظام اسلام کی برکات سے محروم کررکھا ہے جو عملا اسلام کا راستہ روکنے کا عمل ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے بہت ہی ذلیل کرنے والاعذاب ہے ۔ ایسے لوگوں کونہ اولاد کام آئے گی اور نہ ان کا وہ مال جو انہوں نے لوٹ لوٹ کر خزانے بھررکھے ہیں اللہ کے عذاب سے بچاسکے گا بلکہ انہیں دوزخ میں ڈالاجائے گا جہاں یہ ہمیشہ پڑے سڑتے رہیں گے۔ قیامت کو یہ حال ہوگا کہ جب اللہ سب کو جمع کرے گا تو یہ اپنی سچائی پر ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسے آج مسلمانوں کے روبرو کھاتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح ان کی بات میں دم ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ سخت جھوٹے ہیں ایسے کہ خود بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان پر شیطان غالب آگیا تھا۔ انہوں نے اس کی باتیں مان لیں اور اس نے ان کے دلوں سے اللہ کی محبت ختم کردی کہ ان سے اللہ کی یادہی چھین لی اور وہ اللہ کا ذکر ہی بھول گئے یہی لوگ شیطان کی فوج ہیں جو ساری زندگی شیطنت کے غلبہ کے لیے لڑتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ شیطان کی فوج ہمیشہ خسارے میں رہتی ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہاں بھی وقتی غلبے کے بعد شکست ان کا مقدر ہے۔ دنیا میں سب سے بڑے ناقدر شناس لوگ۔ کفار نے بھی انکار کرکے رسول اللہ کی قدر نہ پہچانی مگر یہ لوگ جو مسلمان کہلانے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں یہ سخت ناقدرے ہیں اور ذلیل ترین لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول ، اور وہ زبردست قوت والا ہے وہی ہوگاجو وہ چاہے گا۔ لہذا ذلت ان کا مقدر ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ایک اصولی بات۔ اصولی بات یہ ہے کہ اے مخاطب تو ایسے لوگوں کو جن کا اللہ پر ایمان ہے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں کبھی کفار کو دوست نہیں پائے گا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اس میں خواہ ان کے باپ بیٹے یا بھائی اور رشتہ دار بھی ہوں تب بھی ان سے دوستی نہیں کرتے اس لیے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے یعنی ثبت کردیا ہے اور ان کے دلوں کو اپنی تجلیات سے قوت دی۔ ایک ضروری وضاحت۔ کفار کے ساتھ حسن سلوک ، ہمدردی یاتجارتی واقتصادی امور میں یاسیاسی معاملات میں سمجھوتہ آپ سے اور خلفائے راشدین سے ثابت ہے اور درست ہے مگر ان سب میں بنیادی شرط ہے کہ سمجھوتے مسلمانوں کے لیے اسلام پر عمل کی راہ میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہوں نہ کہ مسلمانوں سے کفار کی پیروی کرانے لگیں۔ مسئلہ۔ حضرات فقہاء کرام نے بدعمل اور بدکردار مسلمانوں سے بھی اسی عمل کا حکم دیا ہے کہ کام کاج کی ضرورت کے علاوہ دلی دوستی نہ کی جائے اور رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ کسی فاجر کا احسان مجھ پر نہ ہو۔ لہذایہی روشن قلوب لوگ اور عملی زندگی میں پل پل اسلام پرچلنے والے ہی وہ خوش نصیب ہیں جن کو اللہ جنت میں داخل فرمائے گا جہاں نہریں باغوں کے تابع ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور سب سے بڑا انعام کہ اللہ ان سے راضی ہوگا اور اتنا عطا کرے گا کہ وہ اللہ سے راضی اور بہت خوش ہوں گے ہاں یہ لوگ اللہ کی فوج ہیں اور اللہ کی فوج ہمیشہ کامیاب ہونے والی ہے یہی اپنی مراد کو پاتے ہیں۔ دوقومی نظریہ۔ کتاب اللہ نے واضح فرمادیا کہ انسان بنیادی طور پر دوقوموں میں تقسیم ہے اللہ کی فوج یا اللہ والے اور شیطان کی فوج یا شیطان والے ۔ اللہ والے وہ ہیں جن کا عقیدہ درست دل روشن اور اسلامی احکام ونظام حیات پر عمل کرتے ہیں اور شیطان کے ساتھ وہ ہیں جن کا دل ایمان سے خالی ہے اور نظام حیات میں اسلام کی پیروی نہیں کرتے۔