Ayah 58:1قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا و تشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاورکما ان اللہ سمیع بصیر .
” بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے جھگڑ رہی تھی اور (اپنے رنج و غم کا) اللہ سے شکوہ کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
قَدْ سَمِعَ اللہ : لفظ قَدْ نے سَمِعَ کو ماضی قریب بنا دیا۔ یہ لفظ بتارہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یا اس عورت کو توقع تھی کہ اللہ اس عورت کی گفتگو اور شکوہ کو سن رہا ہے اور اس کے دکھ کو دور فرما دے گا۔
تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا : خولہ کے شوہر تھے اوس بن صامت۔ مجادلہ کا (لغوی) معنی ہے شدت مخاصمت۔ یہاں خولہ کے کلام میں شدت مراد ہے۔
تَحَاوُرَکُمَا : تحاور ‘ باہم کلام میں لوٹ پلٹ۔
سَمِیْعٌ : یعنی تم دونوں کے کلام کو سننے والا۔
بَصِیْرٌ : تمہارے حالات کو دیکھنے والا۔
بغوی نے لکھا ہے : یہ آیت حضرت اوس بن صامت کی بی بی حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں نازل ہوئی۔ خولہ حسین تھیں اور اوس کے مزاج میں غصہ بہت تھا۔ ایک روز اوس نے خولہ سے قربت کرنی چاہیے ‘ خولہ نے انکار کردیا۔ اوس نے کہا تو میرے لیے ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت (کہنے کو تو غصہ میں کہہ دیا) پھر پشیمان ہوئے کیونکہ دور اسلامی سے پہلے ظہار اور ایلاء (عورت سے محدود ایام میں کنارہ کش رہنے کی قسم) کو طلاق سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے اوس بن صامت نے خولہ سے کہا : میرے خیال میں تو میرے لیے حرام ہوگئی۔ خولہ نے کہا : واللہ ! یہ طلاق نہیں ہے۔ یہ کہہ کر خولہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اس وقت حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے سر کا ایک طرف کا حصہ دھو رہی تھیں۔ خولہ نے آکر کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے نکاح اس وقت کیا تھا ‘ جب میں جوان تھی ‘ مالدار تھی اور کنبہ والی تھی۔ جب وہ میرا مال کھاچکا اور میری جوانی ختم کردی اور میرا کنبہ بھی بچھڑ گیا اور میں بوڑھی ہوگئی تو اب مجھ سے اس نے ظہار کرلیا لیکن ظہار کرنے کے بعد پشیمان ہوگیا ‘ کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ میں اور وہ پھر یکجا ہو سکیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تو اس کے لیے حرام ہوگئی۔ خولہ نے کہا : میں اپنی محتاجی اور تنہائی کا شکوہ اللہ سے کرتی ہوں ‘ میرا اس کا ساتھ مدت دراز تک رہا اور میں نے اس کے لیے اپنا پیٹ جھاڑ دیا (یعنی اپنے پیٹ سے اس کے بہت بچے جنے) حضور ﷺ نے فرمایا : میرے خیال میں تو تو اس کے لیے حرام ہوگئی اور تیرے لیے کوئی خاص حکم میرے پاس نہیں آیا۔ خولہ با بار کلام کو لوٹتی پلٹتی رہی آخر جب حضور ﷺ نے فرمایا کہ تو اس کے لیے حرام ہوگئی تو گفتگو سے رکی اور کہنے لگی : میں اللہ ہی سے اپنی محتاجی اور بدحالی کا شکوہ کرتی ہوں ‘ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ اگر میں ان کو اپنے ساتھ رکھوں گی تو بھوکے رہیں گے اور اس کے پاس چھوڑوں گی تو تباہ ہوجائیں گے پھر اوپر (آسمان کی طرف) سر اٹھا کر کہنے لگی : اے اللہ ! میں تجھ سے ہی شکوہ کرتی ہوں ‘ اے اللہ (میرے لیے) اپنے نبی ﷺ کی زبان پر حکم نازل فرما دے۔ اسلام میں یہ پہلا ظہار تھا۔ حضرت عائشہ ؓ جب رسول اللہ ﷺ کے سر کا دوسرا حصہ دھونے لگیں تو خولہ بولی : اے اللہ کے رسول ﷺ میں آپ ﷺ پر قربان میرے معاملہ میں غور فرمائیے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : اپنی بات ختم کر اور جھگڑنا چھوڑ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اترتی تھی تو اس وقت آپ ﷺ پر ایک اونگھ طاری ہوجاتی تھی۔ جب وحی (کی حالت) ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے فرمایا : اپنے شوہر کو بلا لے۔ اوس ؓ آگئے تو آپ ﷺ نے آیات : قَدْ سَمِعَ اللہ قَوْلَ الَّتِیْ..... ان کو پڑھ کر سنائیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : بڑی خیر والا ہے وہ اللہ جس کی شنوائی تمام آوازوں کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔ میں گھر کے گوشے میں موجود تھی۔ اس عورت کی کچھ گفتگو سن رہی تھی اور کچھ نہیں سن پائی تھی (مگر اللہ نے اس کی ساری گفتگو سن لی) اور آیت : قد سمع اللہ نازل فرما دی۔
Ayah 58:2الذین یظھرون منکم من نساءھم ما من امھتھم ان امھتھم الا الی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا وان اللہ لعفو غفورٌ .
” تم میں سے جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں (ہو جاتی) ہیں۔ ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور بلاشبہ وہ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور یقیناً اللہ بڑا معاف کرنے والا ‘ بخشنے والا ہے۔
ظہارؔ کا معنی ہے کسی شخص کا اپنی بی بی سے یہ کہہ دینا کہ تو میرے لیے ایسی (ہی حرام) ہے جیسی میری ماں کی پشت۔ جاہلیت کے زمانہ میں اس کو طلاق مانا جاتا تھا اور اس سے وہ عورت اپنے شوہر کے لیے ہمیشہ کے واسطے حرام ہوجاتی تھی۔ شریعت نے ظہار کو حرمت دوامی کا موجب قرار نہیں دیا بلکہ ایک خاص وقت تک ایسی عورت کو حرام کردیا۔ کفارہ ادا کرے کے بعد ظہار والی عورت حرام نہیں رہتی ‘ شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے۔
ظِہَار ‘ ظَہَر سے مشتق ہے (ظہر کا معنی ہے پیٹھ) لیکن فقہاء نے عورت کے بدن کے ہر اس حصہ کو جس کو کھلا رکھنا حرام ہے جیسے ران یا شرمگاہ وغیرہ ظہر کے حکم میں شامل کردیا ہے بلکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک تو اپنی بی بی کو اپنی ماں کے کسی حصہ بدن سے بھی تشبیہ دینا جو واجب الستر نہ ہو اور جس کو دیکھنا اس کے لیے جائز ہو جیسے ہاتھ ‘ آنکھ وغیرہ ظہار کے حکم میں داخل ہے ‘ اسی طرح بی بی کو اپنی دادای ‘ نانی ‘ بیٹی ‘ پھوپھی ‘ خالہ یا ایسی غیر عورت سے تشبیہ دینا جس سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہے موجب ظہار ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک اگر اپنی بیوی کو اپنی دودھ پلانے والی ماں یا اپنے باپ کی منکوحہ سے تشبیہ دی تو ظہار کا حکم نہ ہوگا کیونکہ یہ حرمت نکاح عارض کی وجہ یعنی دودھ پلانے والی ماں یا باپ کی زوجہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ان عورتوں سے تشبیہ بھی موجب ظہار ہے کیونکہ ان عورتوں سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے۔ اسی طرح اگر اپنی عورت کے کسی غیر معین حصہ کو یا ایسے عضو کو جو کُل کے قائم مقام مانا جاتا ہے ‘ تشبیہ دی تب بھی ظہار کا حکم جاری ہوگا۔ مثلاً یوں کہا : میرے لیے تیرا سر یا تیری شرمگاہ یا تیرا چہرہ یا تیری گردن یا تیرا بدن یا تیرا جسم یا تیری جان یا تیرا نفس یا تیرا آدھا بدن یا تیرا ایک تہائی بدن میری ماں کی پشت کی طرح ہے ‘ کیونکہ ان الفاظ میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کو بول کر پوری شخصیت مراد ہوتی ہے یا ایسے اجزاء بدن ہیں جو غیر معین ہیں (مثلاً تیرا آدھا بدن یا تیرا ایک تہائی بدن وغیرہ) اس صورت میں حکم سارے جسم کی طرف متعدی ہے ‘ ہاں ! اگر یوں کہا کہ تیرا ہاتھ یا تیرا پاؤں میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے تو ظہار نہ ہوگا۔ شافعی کا ظاہر قول اس کے خلاف ہے ‘ اگر کسی نے اپنی بی بی سے کہا : تو میرے لیے ایسی ہے جیسی میری ماں یا یوں کہا کہ تو میرے لیے میری ماں کی مثل ہے ‘ تو تعیین مراد نیت پر موقوف ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا۔ اگر ان الفاظ سے بی بی کی تکریم اور اعزاز کی نیت ہوگی تو اس کی تکذیب نہیں کی جائے گی کیونکہ اپنی ماں کے ساتھ تعظیم و اعزاز میں کسی کو تشبیہ دینا بکثرت کلام میں مستعمل ہے اور ظہار کی نیت ہوگی تو اس کو بھی غلط نہیں کہا جاسکتا ‘ کیونکہ جب پورے جسم مادر سے تشبیہ دی تو بعض اعضاء سے بھی تشبیہ ہوجائے گی۔ کُل بول کر جزء مراد ہوسکتا ہے لیکن صریح نہ ہونے کی وجہ سے نیت کی ضرورت ہے اور اگر اس جملہ سے اس کی نیت طلاق کی ہوگی تو طلاق بائن پڑجائے گی۔ اس وقت یہ مراد ہوگی کہ تو میرے لیے میری ماں کی طرح حرام ہے اور اگر کچھ نیت نہ ہو تو کلام لغو مانا جائے گا۔ امام محمد (رح) کے نزدیک بالکل کوئی نیت نہ ہونے کی صورت میں بھی ظہار ہوجائے گا۔
مسئلہ اگر بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ ایک معین مدت کے لیے دی اور یوں کہا کہ تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ایک مہینہ تک ہے تو امام شافعی (رح) کے نزدیک ایک روایت کے لحاظ سے ظہار نہیں ہوگا بلکہ کلام لغو قرار دیا جائے گا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ امام شافعی (رح) کے نزدیک ظہار ہوجائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ اس صورت میں اگر مدت مقرر مثلاً ایک ماہ کے اندر جماع کرنے کا ارادہ کرلیا تو کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر معینہ مدت یونہی گزر گئی اور بیوی سے قربت نہیں کی تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ اوّل الذکر یعنی لزوم کفارہ کی صورت میں امام احمد (رح) کے نزدیک قربت سے پہلے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔ اوّل کفارہ دے پھر قربت کرے ورنہ گناہگار ہوگا اور کفارہ پھر بھی لازم ہوگا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک گناہ گار تو ہوگا مگر کفارہ کا استقرار نہ ہوگا۔ ہاں ! دوسری بار مدت مقررہ کے اندر قربت کا ارادہ ہو تو کفارہ دینا پڑے گا اور اگر یونہی مدت معینہ گزر گئی تو بلا کفارہ ادا کیے بیوی حلال ہوجائے گی اور اگر مدت مقررہ کے اندر طلاق بائنہ دے دی تو کفارہ لازم نہیں رہے گا۔
امام مالک (رح) کے نزدیک موقت ظہار ‘ دوامی ظہار کا حکم رکھتا ہے۔ ایک روایت میں امام شافعی (رح) کا بھی ایک قول یہی ہے۔
اس سلسلہ کی ایک حدیث سلمان ؓ بن یسار کی روایت سے آئی ہے کہ حضرت سلمہ (رح) بن صخر نے کہا : میرے اندر قوت مردمی سب لوگوں سے زائد تھی۔ رمضان آیا تو رمضان بھر کے لیے میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ رمضان کے دن یونہی گزرتے رہے۔ ایک رات جب میری بیوی خدمت کر رہی تھی ‘ اس کے بدن کا کچھ چھپا ہوا حصہ مجھے نظر آگیا۔ نظر پڑتے ہی میں اس پر جا پڑا۔ صبح ہوئی تو میں نے اپنے کنبہ والوں سے اس کا تذکرہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چلو اور حضور ﷺ سے میرے معاملہ میں کچھ عرض معروض کرو۔ خاندان والوں نے جواب دیا : نہیں خدا کی قسم ! ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے متعلق کوئی آیت نازل نہ ہوجائے یا رسول اللہ ﷺ کوئی ایسی بات نہ فرما دیں کہ اس کی عار ہم پر (ہمیشہ کے لیے) ہوجائے۔ تم خود جاؤ اور جو مناسب ہو وہ کرو۔ آخر میں خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تو نے ایسا کیا ؟ میں نے عرض کیا : (جی ہاں ! ) میں نے ایسا کیا۔ فرمایا : کیا تو نے ایسا کیا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے ہی ایسا کیا۔ فرمایا : کیا تو نے ایسا کیا ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : کیا تو نے ایسا کیا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے ایسا کیا۔ اب جو کچھ اللہ کا حکم ہو مجھ پر جاری کیجئے۔ میں ثابت قدم رہوں گا۔ فرمایا : ایک گردن آزاد کر دے۔ میں نے اپنی گردن کے ایک جانب ہاتھ مار کر عرض کیا : قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے۔ میں تو اس گردن کے علاوہ اور کسی گردن یعنی باندی یا غلام کا مالک نہیں ہوں۔ فرمایا : تو دو مہینے کے روزے رکھو۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ﷺ روزے ہی میں تو مجھ سے یہ حرکت ہوئی ہے۔ فرمایا : تو صدقہ دو (ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاؤ) میں نے عرض کیا : قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ کو برحق بھیجا ہے۔ ہم نے تو یہ رات خالی پیٹ گزاری ہے۔ نان شبینہ بھی ہم کو میسر نہیں تھا۔ فرمایا تو بنی زریق کے تحصیلدار زکوٰۃ کے پاس جاؤ۔ اس سے کہہ دو وہ تم کو (بنی زریق کے مال صدقات میں سے) دے دے۔ تم ایک وسق (ساٹھ صاع۔ ایک صاع تقریباً چار سیر) چھوارے لے لو۔ اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچ رہے وہ اپنے اور اپنے عیال کے کام میں لاؤ۔ یہ حکم پا کر میں اپنے کنبہ والوں کے پاس لوٹ کر آیا اور ان سے کہا : میں نے تم لوگوں کے پاس تو تنگی اور بدسلوکی پائی لیکن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مجھے کشائش اور برکت حاصل ہوئی۔ حضور ﷺ نے مجھے تمہاری زکوٰۃ کا مال لینے کا حکم دیا ہے ‘ اب تم مجھے اپنی زکوٰۃ کا مال دو ۔ امام احمد (رح) اور حاکم اور نسائی کے علاوہ باقی اصحاب السنن نے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ شیخ عبدالحق نے اس روایت کو منقطع کہا ہے اور لکھا ہے کہ سلیمان نے حضرت سلمہ کو نہیں پایا۔ ترمذی نے یہ بات بخاری کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ حاکم اور بیہقی نے یہ واقعہ محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت سلمہ بن صخر نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کی پشت کی طرح قرار دے دیا تھا اگر وہ اس سے قربت کرے یہاں تک کہ رمضان گزر جائے (یعنی حضرت سلمہ ؓ نے اپنی بیوی سے کہا تھا تو سارے رمضان میرے لیے ایسی حرام ہے جیسے میری ماں کی پشت) پھر اس کا تذکرہ (یعنی رمضان میں ہی رات کو قربت کرنے کا ذکر) رسول اللہ ﷺ سے کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایک گردن آزاد کر دو ۔ الحدیث
ابن جوزی نے اس حدیث سے دو باتوں پر استدلال کیا ہے :
1) ظہار موقت ‘ موقت ہی ہوتا ہے (دوامی ظہار نہیں بن جاتا)
2) اگر مظاہر کفارہ دینے سے پہلے قربت کرلے تو گناہگار ہوگا اور کفارہ ادا کرنا اس پر لازم ہوجائے گا (یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ مدت معینہ گزرنے کے بعد بغیر کفارہ ادا کیے بیوی اس کے لیے حلال ہوجائے) ۔
لیکن حدیث مذکور میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو یہ بتارہا ہو کہ ظہار موقت ‘ موقت ہی رہتا ہے۔ ہاں ! یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ کلام لغو نہیں قرار پائے گا۔ خواہ شرعاً ظہار موقت ہو یا دوامی۔ ابن جوزی کا کلام مصادرہ سے خالی نہیں کیونکہ ظہار موقت کو اگر ہم دوامی قرار دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے قربت کرنے سے کفارہ کا استقرار فی الذمہ ہوجائے۔ ہوسکتا ہے کہ رمضان کے بعد حرمت کو دور کرنے کے لیے حضور ﷺ نے کفارہ کا حکم دیا ہو اور اداء کفارہ سے قبل قربت کرنی صرف موجب گناہ ہو اور حرمت اس کے بعد بھی باقی رہے۔ اس کے بعد کفارہ کا لزوم اس شخص کے لیے ہے جو دوبارہ قربت کا ارادہ کرے اور حرمت کو دور کرنا چاہے ‘ اگر اداء کفارہ سے پہلے کسی نے قربت کرلی اور پھر طلاق بائن دے دی تو کفارہ کی ضرورت نہیں۔ امام ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ خلاصۂ استدلال حدیث مذکور کی روشنی میں یہ ہے کہ ظہار موقت موبد (غیر موقت ‘ دوامی) ہوتا ہے کیونکہ حضرت سلمہ ؓ نے صرف رمضان کے لیے ظہار کیا جو ختم رمضان کے بعد ختم ہوگیا۔ اس کے بعد کفارہ کی ضرورت ہی نہیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے دو مہینوں کے روزوں کا حکم دیا اور دو مہینوں کے روزوں کا تصور ہی ختم رمضان سے پہلے نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ ظہار کو اگر کسی شرط سے وابستہ کیا جائے تو رافعی کے نزدیک درست ہے۔ حضرت سلمہ ؓ ابن صخرنے رمضان کی شرط کے ساتھ ظہار کو وابستہ کیا تھا۔ ابن رافعہ کہتے ہیں کہ حدیث مذکور جو سنن میں آئی ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلمہ ؓ نے ظہار موقت کیا تھا ‘ کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں کیا تھا۔ بیہقی نے حدیث مذکور کے جو الفاظ : نقل کیے ہیں ‘ ان سے رافعی کے قول کی تائید ہوتی ہے۔
مسئلہ اگر ظہار کو کسی شرط کے ساتھ وابستہ کیا پھر طلاق بائن دے دی۔ پھر طلاق کے بعد وقوع شرط ہوگیا تو (طلاق ہوجائے گی) ظہار کا حکم نہیں ہوگا۔ (کذا قال ابن الہمام)
مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ظہار بشرط نکاح صحیح ہے ‘ مثلاً کسی اجنبی عورت سے کہا : اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو میرے لیے تو ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت ‘ پھر اس سے نکاح کرلیا تو کفارۂ ظہار لازم ہوگا۔
اگر کسی عورت سے کہا تو میرے لیے رجب اور رمضان میں ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت پھر رجب میں کفارہ دے دیا تو کافی ہے۔ (رمضان میں دوبارہ کفارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں) ۔
مسئلہ اگر ظہار کیا ‘ پھر دیوانہ ہوگیا ‘ پھر جنون جاتا رہا تو حکم ظہار قائم رہے گا۔ افاقۂ جنون کی وجہ سے اصلی حالت کی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ جب تک قربت نہ کرے۔ امام شافعی کا ایک قول اس کے خلاف ہے۔
مسئلہ اگر کسی نے اپنی بیویوں سے کہا : تم سب میرے لیے ایسی ہو جیسی میری ماں کی پشت تو باتفاق علماء سب سے ظہار ہوجائے گا۔ کیا بیویوں کی تعداد کے موافق کفارے ادا کرنے ہوں گے یا ایک کفارہ سب عورتوں کی حالت کیلئے کافی ہوگا ؟ اوّل قول امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی کا ہے۔ حسن ‘ طبرانی اور ثوری بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک ایک کفارہ کافی ہے۔ بیہقی نے سعید بن مسیّب کی روایت سے حضرت عمر کا اور مجاہد کی روایت سے حضرت ابن عباس کا یہی قول نقل کیا ہے۔ حضرت علی ‘ عروہ اور طاؤس کے اقوال بھی اسی طرح مروی ہیں۔ ان بزرگوں نے ایلاء کے سلسلہ میں قسم پر قیاس کیا ہے (یعنی اگر کسی نے قسم کھا کر اپنی ساری عورتوں سے کنارہ کشی کرلی تو قسم توڑنے کا صرف ایک کفارہ دینے سے سب عورتوں کی حرمت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کفارۂ ظہار ہے) ۔
ہم کہتے ہیں : ظہار سے سب عورتیں شوہر کے لیے حرام ہوجاتی ہیں اور کفارۂ حلت پیدا کردیتا ہے اور چونکہ شوہر کے لیے ہر بیوی کا حرام ہونا الگ الگ ہے اس لیے ہر عورت کی حرمت کو دور کرنے کے لیے کفارہ بھی الگ الگ ہونا چاہیے۔ رہا قسم کا کفارہ تو وہ حرمت خداوندی کو توڑنے کی وجہ سے عائد ہوتا ہے اور حرمت الٰہیہ ایک ہی ہے (اس میں تعدد کا احتمال ہی نہیں ہے) ۔
مسئلہ اگر ایک عورت سے ایک نشست یا متعدد مجالس میں کئی بار ظہار کیا تو امام ابوحنیفہ (رح) وغیرہ کے نزدیک ہر بار ظہار کرنے کا کفارہ الگ الگ دینا ہوگا کیونکہ ظہار کرنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ نکاح حسب سابق باقی رہتا ہے۔ اس لیے دوسری بار اور تیسری بار (بلکہ یکے بعد دیگرے بہت مرتبہ) ظہار صحیح ہے اور اسباب حرمت کا ایک جگہ اجتماع درست ہے جیسے روزہ کی حالت میں شراب کی حرمت اس لیے بھی ہے کہ شراب بجائے خود حرام ہے اور چونکہ شراب روزہ شکن ہے اس لیے بھی روزے میں حرام ہے۔ اسی طرح اگر شراب نہ پینے کی قسم کھالی ہو تو ایک شراب فی نفسہٖ حرام ہے دوسرے قسم توڑنا بھی حرام ہے۔ ہاں ! اگر دوسری اور تیسری مرتبہ کلمات ظہار کہنے سے پہلے ظہار کو پختہ کرنے کی نیت ہو اور ظہار کرنے والا کہے : میری نیت ایک ہی بار ظہار کی تھی تو قضاءً اور دیانۃً دونوں طور پر اس کو سچا قرار دیا جائے گا۔ طلاق کا حکم اس کے خلاف ہے دو یا تین (یا زیادہ) بار طلاق دینے والا اگر کہے کہ میری نیت پہلی طلاق کو پختہ کرنے کی تھی (دوسری ‘ تیسری طلاق کی نہیں تھی تو عدالت اسلامیہ اس کا اعتبار نہیں کرے گی) کیونکہ ظہار کا تعلق (براہ راست) اللہ سے ہے (اور طلاق کا تعلق حقوق انسانی سے ہے) ۔
ایک اعتراض پہلی بار ظہار کرنے سے حرمت پیدا ہوجاتی ہے اس لیے اوّل ظہار کے بعد دوسرے اور تیسرے ظہار سے ثبوت حرمت نہیں ہوتا۔ حاصل شدہ حرمت کا دوبارہ حصول تحصیل حاصل ہے اور متعدد اسباب اگر ایک قسم کے ہوں تو ان کے تعدد سے حرمت کی تکرار نہیں ہوجاتی۔ لامحالہ متعدد ظہاروں سے پیدا شدہ حرمت صرف ایک کفارہ سے دور ہوجاتی ہے (کیونکہ حرمت متعدد نہیں ہوتی) جس طرح متعدد اسباب سے پیدا شدہ حدث ایک وضو سے دور ہوجاتا ہے۔
مِنْکُمْ : یہ عرب کے قدیم قبیح رواج پر ایک طنز ہے۔ اہل جاہلیت کی قسم کے طریقوں میں سے یہ بھی ایک طرح کی قسم تھی۔ . منکم کا لفظ بتارہا ہے کہ ذمی کافروں کا ظہار درست نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد کا قول اس کے خلاف ہے۔ مسلک اوّل کی دلیل یہ ہے کہ کافر ہم میں سے نہیں ہیں اور قیاس سے ذمیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کرنا مشکل ہے کیونکہ ظہار ایک طرح کا جرم ہے اور جرم کا حکم اس سے بندش ہے اور یہ حرمت کفارہ سے دور ہوجاتی ہے اور کافر مشرک ہے اور اس کا شرک کفارہ کے ذریعہ سے جرم کے اثر کو دور کردینے سے مانع ہے کیونکہ وہ کفارہ کا اہل ہی نہیں ہے۔ کفارہ تو عبادت ہے ‘ اسی لیے اس میں نیت ضروری ہے لہٰذا کافر کا ظہار صحیح نہیں ہے اور ظہار سے پیدا ہونے والی تحریم دوامی ہوگی یا یوں کہا جائے کہ نص میں کافر کے لیے حکم ہی جدا ہے۔
ایک اعتراض اس آیت میں ظہار سے عورت کا شوہر کے لیے حرام ہوجانا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنا کچھ بھی نہیں بیان کیا گیا ‘ مظاہر کو گناہگار ‘ امر قبیح کا مرتکب اور جھوٹی بات کہنے والا کہا رگیا ہے۔ ظہار کو موجب تحریم و کفارہ تو اس کے بعد والی آیت میں کہا گیا ہے اور فرمایا ہے : اَلَّذِیْنَ یُظَاھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآءِھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا اور اس مؤخر الذکر آیت میں منکم کا لفظ نہیں ہے اور مسلمانوں کے لیے اس حکم کو مخصوص نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمی کا ظہار درست ہے اس لیے اولیٰ یہ ہے کہ یوں تقریر کی جائے کہ ظہار سے عورت کا شوہر کے لیے حرام ہونا ایک شرعی حکم ہے اور احکام شرع کے مخاطب کفار نہیں ہیں۔ لہٰذا قانون ظہار کے مامور بھی مسلمان ہی ہیں۔ کافر اس حکم کے مکلف ہی نہیں ہیں۔ جیسے شرعی نکاح کے مکلف غیر مسلم نہیں ہیں۔ ان کا باہمی نکاح بغیر گواہوں کے اور کافر کی عدت کے اندر (یعنی کافر شو ہر مرگیا ہو یا اس نے طلاق دے دی ہو اور عورت عدت کے اندر ہو) صحیح ہے۔ پس کافر کے لیے حرمت ظہار کفر کی وجہ سے نہیں ہوگی۔ اب اس کے بعد اگر ظہار کرنے والا کافر مسلمان بھی ہوجائے گا تب بھی حرمت ظہار پیدا نہیں ہوگی کیونکہ ظہار کے وقت سبب حرمت (یعنی اسلام) موجود ہی نہیں تھا۔
مِنْ نِّسَآءِھِمْ : اپنی عورتوں سے۔ یہ لفظ بتارہا ہے کہ ظہار صرف منکوحہ سے ہی ہوتا ہے ‘ باندی سے نہیں ہوتا خواہ اس باندی سے پہلے قربت کی ہو یا نہ کی ہو۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے۔ بکثرت صحابہ (رح) اور تابعین (رح) بھی اسی کے قائل ہیں۔
امام مالک (رح) اور ثوری باندی سے بھی ظہار کرنے کی صحت کے قائل ہیں۔ سعید بن جبیر ‘ عکرمہ ‘ طاؤس ‘ قتادہ اور زہری کہتے ہیں کہ جس باندی سے پہلے قربت کرچکا ہو ‘ اس سے ظہار صحیح ہے ورنہ صحیح نہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ لغوی اعتبار سے لفظ نساء کا اطلاق باندیوں پر اگرچہ صحیح ہے ‘ باندیاں بھی عورتوں ہی ہوتی ہیں لیکن نساء ھم میں نساء کی اضافت بتارہی ہے کہ اس جگہ اطلاق لغوی مراد نہیں ہے کیونکہ کسی شخص یا چند اشخاص کی عورتوں سے مراد بیویاں ہی ہوتی ہیں۔ مثلاً زید کی باندیوں کے لیے تو جو ارئ زید کہا جاتا ہے نساء زید نہیں کہا جاتا۔
اللہ نے پردہ کے سلسلہ میں فرمایا ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ ِ لّاَزْوَاجِکَ وَ بَنَاتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ ۔ اس آیت میں نسآء المؤْمنین سے مسلمانوں کی بیویاں مراد ہیں۔ باندیوں کے لیے تو پردہ کا وجوب نہیں ہے۔
ایک باندی ہی ہے جس نے اوڑھنی اوڑھ رکھی تھی۔ حضرت عمر نے فرمایا تھا : اوڑھنی الگ کر کیا تو آزاد عورتوں جیسی بننا چاہتی ہے۔
باندی کے لیے حکم ظہار صحیح نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دور جاہلیت میں ظہار کو طلاق کہا جاتا تھا۔ شریعت اسلامیہ نے اس کو (طلاق نہیں مانا ہاں) موجب تحریم قرار دیا اور اس تحریم کو ختم کرنے کے لیے کفارہ کا قانون جاری کیا اور ظاہر ہے کہ باندی کی طلاق کا کوئی معنی نہیں (اس لیے باندی سے ظہار کرنے کی بھی کوئی صورت نہیں) ۔
مَّاھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ : یعنی حقیقت میں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں کہ ماؤں کی طرح وہ حرام ہوں۔
اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ الاَّ اِلّٰئْ وَلَدْنَھُمْ : ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ جن کے پیٹ سے وہ پیدا ہوئے ہیں۔
وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا : قول منکر ‘ وہ بات جسکے جواز کا شریعت نے انکار کیا ہے۔ زور ‘ جھوٹ ‘ غلط بات۔
ایک شبہ جھوٹ تو خبر کی صفت ہے۔ خبر اسی کلام کو کہتے ہیں جس میں جھوٹے اور سچے ہونے کا احتمال ہو اور ظہار انشاء ہے۔ اس سے بیوی حرام ہوجاتی ہے اس میں صدق و کذب کا احتمال نہیں ہوتا۔
ازالہ ظہار اگرچہ نشانی کلام ہے لیکن حقیقت میں وہ خبر ہی ہے کیونکہ وہ ظہار کو دوامی حرمت سمجھتا ہے۔
Ayah 58:3والذین یظھرون من نساء ھم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ من قبل ان یتما سا ذلکم تو عظون بہ واللہ تعملون خبیر . ” اور جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں ‘ پھر اپنی کہی ہوئی
بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک بردہ آزاد کرنا ہے۔ دونوں کے باہم اختلاط کرنے (یعنی قربت صنفی کرنے) سے پہلے اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے سارے اعمال سے پورا باخبر ہے۔ “
ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا : اہل علم کے نزدیک اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ اہل ظاہر نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لفظ پہلے کہا تھا اس کی طرف لوٹتے ہیں یعنی لفظ ظہار مکرر کہتے ہیں۔ اسی تشریح کی وجہ سے علماء ظاہر کے نزدیک مکرر لفظ ظہار کہے بغیر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ ابو العالیہ کا بھی یہی قول ہے لیکن یہ قول اجماع ائمہ (رح) کے خلاف ہے۔ ظہار کے سلسلے کی احادیث بھی اس کے خلاف آئی ہیں۔ کسی حدیث میں کفارہ کو لفظ ظہار کی تکرار کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا۔
مجاہد نے کہا : اہل جاہلیت ظہار کرتے تھے ‘ پس اسلام کے بعد جس نے ظہار کیا وہ مقولۂ جاہلیت کی طرف لوٹا۔ خواہ حقیقتاً یا حکماً ۔ حکماً عود کا یہ معنی ہے کہ قول جاہلیت کا عقیدہ رکھا۔ جو کسی بات کا عقیدہ رکھتا ہے وہ گویا اس کا قائل ہوتا ہے۔
یہ قول غلط ہے کہ کیونکہ یَعُوْدُوْنَ کا یُظَاھِرُوْنَ پر عطف ہے اور عطف کا اقتضاء ہے کہ معطوف معطوف علیہ کے مغایر ہو اور لفظ ثم تر اخی کا خواستگار ہے یعنی ظہار کے کچھ مدت کے بعد عود ہونا چاہیے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ عود کو بعینہٖ ظہار قرار دیا جائے (اور کفارہ کے لیے تکرار ظہار کو ضروری قرار دیا جائے) ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عود کرنے سے مراد پشیمان ہوجانا یعنی کہی ہوئی بات پر پشیمان ہوتے ہیں اور حرمت کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ عود کا معنی ہے کسی چیز (یا کسی جگہ) سے چل کر پھر اسی کی طرف لوٹ آنا۔ (کذا فی الصحاح) ظہار کرنے والے کی بھی یہی حالت ہے ‘ پہلے عورت اسکے لیے حلال تھی۔ پھر ظہار کیا تو حرام ہوگئی۔ پھر جب حرمت پر پشیمان ہوتا ہے تو اصل حلّت کی طرف لوٹ آنا چاہتا ہے۔
اکثر مفسرین کے نزدیک آیت کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے اس صورت میں مختلف توجیہات کی گئی ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ لِمَا قَالُوْا میں لام بمعنی عَنْ ہے۔ یعنی اپنے پہلے قول سے لوٹ جاتے ہیں ‘ یعنی تحلیل کے خواستگار ہوتے ہیں۔ بعض نے کہا : مضاف محذوف ہے یعنی پچھلے قول کے تدارک اور تلافی کے لیے لوٹتے ہیں۔
بیضاوی نے لکھا ہے (لام بمعنی الیٰ ہے) یعنی اپنے قول کی تلافی کی طرف لوٹتے ہیں۔ بہرحال ان تمام تاویلات پر عود کے معنی ہوں گے۔ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا یعنی ناراضگی اور غصے کی حالت سے رضامندی کی طرف لوٹتے ہیں اور عورت کی حلت کے خواستگار ہوتے ہیں۔
فراء نے کہا : (لام بمعنی فِیْ ہے) عَادَ فُلاَنٌ لِمَا قَالَ کے دو معنی ہیں۔ فلاں شخص اپنی کہی ہوئی بات میں لوٹ آیا ‘ یا کہی ہوئی بات کو توڑنے (اور اس کے خلاف کرنے) لگا۔
ثعلب نے کہا : یعنی جس کو اپنے لیے انہوں نے حرام کرلیا تھا۔ اس کو حلال کرنے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس قول پر بھی مضاف محذوف ہوگا اور ماقالُوْا سے مراد ہوگی وہ بات جس کو ظہار کر کے انہوں نے اپنے لیے حرام کرلیا تھا (یعنی عورت کی قربت) گویا قول سے مراد ہوگی وہ بات جس کے لیے لفظ ظہار کہا تھا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَ نَرِثُہٗ مَا یَقُوْلُ : یقول سے مراد کہنا نہیں ہے بلکہ وہ مال مراد ہے جس کے متعلق وہ کہتا ہے۔
ابو مسلم نے کہا : مقول منہا سے عورت کو حلال بنانے اور اس کو روک رکھنے کی طرف لوٹتے ہیں۔
حسن ‘ قتادہ ‘ زہری اور طاؤس نے کہا : ظہار سے رجوع اور واپسی کا تحقق صنفی قربت سے ہوتا ہے اس لیے جب تک مباشرت نہ کرے گا کفارہ لازم نہ ہوگا۔ جیسے قسم کے کفارہ کا لزوم اس وقت ہوتا ہے جب قسم توڑ دے لیکن آیت میں مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا کا لفظ اس قول کی تردید کر رہا ہے اس سے تو قربت سے پہلے کفارہ کا وجوب ثابت ہو رہا ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : اگر ظہار کے بعد اتنی مدت تک عورت کو روکے رکھا جس میں طلاق دینا ممکن تھا لیکن طلاق نہیں دی تو اس سے ثابت ہوجائے گا کہ ظہار سے رجوع کرلیا اور کفارہ اس پر واجب ہوگیا لیکن ظہار کے بعد فوراً کسی شرط سے مشروط کردیا یا دونوں میں سے کوئی ظہار کے بعد اسی وقت مرگیا تو کفارہ واجب نہ ہوگا کیونکہ پہلے قول سے رجوع کرلینے کا معنی ہے اس کی مخالفت کرنا۔ اب اگر ظہار کے بعد روک رکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے تحریم سے رجوع کرلیا اس لیے کفارہ لازم ہوگیا۔ امام شافعی (رح) نے تو یہاں تک کہا کہ اگر عورت کو طلاق رجعی دی پھر اس سے ظہار کرلیا تو ظہار ہوجائے گا اور کفارہ اس وقت تک لازم نہ ہوگا جب تک ظہار سے رجوع نہ کرلے۔ اگر قول اوّل (یعنی ظہار) سے رجوع کرلیا تو کفارہ لازم ہوجائے گا۔
ہم کہتے ہیں ‘ ظہار جو تحریم کو چاہتا ہے وہ اس طلاق کی وجہ سے نہیں ہے جو ظہار کے بعد دی جاتی ہے کہ اگر طلاق سے رجوع کرلے اور نکاح میں باقی رکھے تو ظہار کی مخالفت لازم آجائے اور تقاضائے ظہار پورا نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں ظہار سے بھی ویسی ہی حرمت مطلقہ منافی حلت پیدا ہوجاتی تھی جیسے طلاق سے۔ دونوں میں کوئی فرق نہ تھا لیکن شریعت اسلامیہ نے دونوں میں فرق کردیا) ظہار کو موجب حرمت تو ضرور مانا لیکن نکاح کو باقی رکھا اور حرمت مباشرت کو دور کرنے کے لیے کفارہ کا قانون بنا دیا۔ پس ظہار کے بعد خاموش ہوجانا (عورت کا آزاد نہ کرنا) اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کی قربت چاہتا ہے اور اس سے مباشرت کو اپنے لیے حلال بنانے کا خواستگار ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا میں عود سے مراد ہو مباشرت۔ حسن اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے لیکن مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا فرما کر اللہ نے کفارہ کو حلت مباشرت کے لیے شرط بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعودون میں عود سے مراد ہے مباشرت ‘ یعنی ارادۂ مباشرت اور قربت کی خواہش۔ آیت : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا میں بھی قیام سے مراد ارادۂ قیام ہے ‘ پس یہ کہنا غلط ہے کہ مباشرت سے پہلے کفارہ کا وجوب نہیں ہوتا۔
فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ : یعنی ایک گردن (بردہ) آزاد کرنا جواز مباشرت کے لیے ضروری شرط ہے۔ فتحریر میں فَ صرف تعقیب کے لیے ہے۔ سببیت کے لیے نہیں ہے۔ اکثر علماء نے اس فَ کو سببی کہا ہے (یعنی آزادی بردہ کا سبب اس سے پہلے کا کلام ما قبل فِ ما بعد فَ کے لیے سبب ہے) ۔
فَ کو سببی قرار دینے کے بعد وجوب کفارہ کا سبب کیا ہے ؟ علماء اجتہاد کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : وجوب کفارہ کے لیے شرط ہے ظہار اور پھر صنفی قربت کی طرف رجوع یعنی ظہار کے بعد اتنے وقت تک عورت کو روکے رکھنا جس میں عورت کو چھوڑ دینا ممکن تھا (لیکن عورت کو آزاد نہیں کیا ‘ بس یہی رجوع ہے) کیونکہ (آزادی رقبہ کا) حکم دونوں باتوں کے مجموعہ پر مترتب کیا گیا (ظہار اور رجوع) اور ظہار کے مکرر ہونے سے کفارہ مکروہ ہوجاتا ہے اس لیے دونوں باتوں کا مجموعہ وجوب کفارہ کا سبب ہے۔
حنفیہ کہتے ہیں : ظہار کفارہ کا سبب نہیں ہوسکتا کیونکہ کفارہ ایک طرح کی عبادت ہے اور ظہار محض بیہودہ اور جھوٹا اور قبیح عمل ہے اور ممنوع ہے اور ممنوع فعل عبادت کا سبب نہیں ہوسکتا اور اللہ نے وجوب کفارہ کو دو باتوں سے وابستہ کیا ہے : ظہار اور رجوع۔ اس لیے وجوب کفارہ کا سبب دونوں چیزوں کا مجموعہ ہے۔ تنہا ظہار تو گناہ ہے اور اس کے اندر سبب عقوبت ہونے کی زیادہ صلاحیت ہے اور رجوع یعنی دستور شرعی کے مطابق عورت کو روک رکھنا عبادت ہے اور وجوب کفارہ (حسب صراحت آیت) عقوبت اور عبادت کے درمیان دائر ہے اس لیے دونوں کا مجموعہ ہی وجوب کفارہ کا سبب ہوگا۔
محیط میں ہے کہ کفارہ کے وجوب کا سبب صرف رجوع ہے کیونکہ کفارہ سے پہلے دو چیزوں کا ذکر ہے : اوّل ظہار کا پھر عود کا اور عود کا ذکر چونکہ ظہار کے بعد ہے۔ اس لیے کفارہ کا حکم اسی پر مرتب ہوگا اور ظہار کو شرط مانا جائے گا۔ سبب کا بسیط (یعنی مفرد) ہونا اصل ہے۔ اس لیے وجوب کفارہ کا سبب صرف رجوع کو مانا جائے گا اور حکم تکرار شرط کی صورت میں مکرر ہوجاتا ہے جیسے صدقۂ فطر مکرر ہوتا رہتا ہے اور اس کا سبب وجود افراد ہے۔
ایک اعتراض اگر صرف ارادۂ مباشرت یا ظہار اور ارادۂ قربت کے مجموعہ کو وجوب کفارہ کا سبب قرار دیا جائے گا تو لازم آئے گا کہ ظہار کرنے کے بعد اگر کسی نے ارادۂ مباشرت کیا ہو اور پھر طلاق بائن دے دی ہو اور ارادۂ مباشرت کے بعد عورت رک جائے تو کفارہ واجب ہوجائے کیونکہ کفارہ کے وجوب کا سبب (ظہار اور ارادۂ مباشرت) موجود ہے لیکن اس صورت میں کفارہ تو واجب نہیں ہے کیونکہ اگر واجب ہوتا تو ساقط نہ ہوتا۔ مبسوط میں بصراحت آیا ہے کہ ظہار کرنے والا اگر عورت کو طلاق بائن دے دے یا ارادۂ مباشرت کے بعد ہی عورت مرجائے تو کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ تحقیق مبحث یہ ہے کہ اس جگہ واجب کا اطلاق مجازی ہے۔ فن اصول فقہ میں بیان کردیا گیا ہے کہ مامورین کے ساتھ خطاب الٰہی کا تعلق تین طرح کا ہوتا ہے ‘ اقتضاء کی وجہ سے یا تخییر کی وجہ سے یا وضع کی وجہ سے۔ خطاب اقتضاء کی دو صورتیں ہیں : ایجاب (واجب کردینا) اور استحباب اور خطاب تخییر سے مراد ہے مباح کردینا ‘ جائز بنا دینا اور خطاب وضع کا معنی یہ ہے کہ کسی شے کو کسی چیز (کسی حکم) کے لیے شرط یا سبب یا رکن یا مانع بنا دینا۔ خطاب وضع کا درجہ اقتضاء سے کم ہے۔ ظہار سے جو تحریم ہوجاتی ہے اس کو دور کرنے کے لیے اللہ نے کفارہ کو سبب قرار دیا ہے اور جواز مباشرت کے لیے شرط۔ جس طرح آیت : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ میں وضو کو جواز صلوٰۃ کی شرط اور طہارت کا سبب قرار دیا ہے یا آیت : اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَۃً میں اداء صدقہ کو جو از گفتگو کی شرط بتایا ہے۔
پس ظہار وجوب کفارہ کا سبب نہیں ہے بلکہ تحریم مباشرت کو ختم کردینے کا ارادہ سبب ہے۔ اسی طرح ارادۂ مباشرت وجوب کفارہ کا سبب نہیں ہے بلکہ نکاح حقوق زوجیت کے وجوب کا سبب ہے اور حقوق زوجیت میں سے مباشرت بھی ہے اور ظہار سے پیدا ہونے والی حرمت حقوق زوجیت سے مانع ہے اور جو امر حقوق واجبہ سے مانع ہو اس کو دور کردینا واجب ہے۔ لہٰذا نکاح جس طرح حقوق زوجیت کے وجوب کا سبب ہے اسی طرح جو امر حقوق زوجیت سے مانع ہے اس کے ازالہ کا بھی سبب ہے اور کفارۂ ازالہ حرمت کا سبب ہے نتیجہ یہ کہ سابق نکاح ظہار کے بعد وجوب کفارہ کا سبب ہے جس طرح قسم اس بات سے روکنے کا سبب ہوتی ہے جس کی قسم کھائی جائے پھر قسم شکنی کے بعد یہی قسم کفارہ کا سبب بھی ہوتی ہے۔ یہی صورت دوبارہ نکاح کرنے کی ہے (کہ ظہار سابق کا کفارہ ساقط نہیں ہوتا) مثلاً اگر کسی نے ظہار کے بعد تین طلاقیں دے دیں ‘ پھر حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کرلیا تو بغیر کفارہ ادا کیے قربت جائز نہیں ہوگی یا کوئی کسی کی باندی تھی۔ زید نے اس سے نکاح کیا۔ پھر ظہار کیا۔ ظہار کے بعد (ہبہ یا وراثت یا کسی اور ذریعہ سے) وہ باندی زید کی ملک میں آگئی تو حلت قریب کے لیے کفارۂ ظہار ادا کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ ظہار کرنے والے کی کفارہ کے بغیر قربت بھی حرام ہے اور وہ مبادی اسباب بھی حرام ہیں جو مباشرت تک پہنچا دیتے ہیں جیسے بوسہ ‘ چھونا (معانقہ وغیرہ) یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) اور مالک کا ہے۔ امام شافعی کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں : قدم و جدید۔ جدید قول اباحت کا ہے۔ امام احمد (رح) کے بھی دو قول ہیں ‘ آخری قول حرمت کا ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ جب ظہار کی حالت میں مباشرت حرام ہے تو اس کے دواعی (مبادی و تمہیدات) بھی حرام ہیں تاکہ مباشرت میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی نہ رہے جیسے مدت استبراء اور ایام احرام میں مباشرت مع وداعی حرام ہے۔ حائضہ اور صائم کے لیے دواعی قربت کا ارتکاب حرام نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں حالتیں کثیر الوقوع ہیں (ہر مہینے حیض ہونا اور ہر سال رمضان کا آنا اور بار بار آنا یقینی ہے) استبراء اور احرام کی حالت نادر الوقوع ہے (بعض لوگوں کو تو ساری عمر اس کا اتفاق ہی نہیں ہوتا) اگر حیض و صیام کی حالت میں دواعی کو بھی حرام کردیا جائے تو بہت دشواری ہوگی۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ ظہار سے پیدا شدہ حرمت محرم عورتوں کی حرمت کے مشابہ ہے اور محارم سے قربت مع دواعی کے حرام ہے۔ پس ظہار سے پیدا شدہ حرمت بھی مع دواعی کے حرام ہونا چاہیے۔
مسئلہ اگر ظہار کرنے والا بغیر کفارہ دیئے عورت سے قربت کرنا چاہے تو عورت پر لازم ہے کہ مرد کو اس فعل سے روک دے اور قاضی پر لازم ہے کہ کفارہ ادا کرنے پر اس کو مجبور کرے ‘ اگر وہ کفارہ دینے سے انکار کرے تو اسے پٹوائے لیکن اگر وہ کہے کہ میں کفارہ دے چکا تو اس کی بات کو سچ مانا جائے گا ‘ بشرطیکہ دروغ گو ہونے میں مشہور نہ ہو۔ (کذا فی فتح القدیر)
مسئلہ قرآن میں اس جگہ چونکہ لفظ رقبہ (گردن یعنی بردہ) مطلق ہے اس لیے غلام ہو یا باندی ‘ کافر ہو یا مسلمان ‘ بچہ ہو یا بڑا۔ سب کو کفارہ میں آزاد کیا جاسکتا ہے۔ امام شافعی (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک کافر غلام یا باندی کو آزاد کرنا کافی نہیں ہے۔ ایک قول امام احمد کا بھی یہی مروی ہے کیونکہ کفارۂ : قتل میں مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنے کی صراحت ہے۔ اس لیے ایمان کی شرط اس جگہ بھی ضروری قرار پائے گی۔ ہم کہتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ ہم مقید پر مطلق کو قیاس کریں۔ مقید اپنی جگہ مقید رہے گا اور مطلق اپنی جگہ مطلق۔ اس مسئلہ کی تفصیل اصول فقہ میں مذکور ہے۔
مسئلہ مندرجہ ذیل عیوب رکھنے والے غلام کی آزادی کفارۂ ظہار کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
نابینا ‘ دونوں ہاتھ یا دونوں پاؤں یا ایک ہی طرف کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا یا ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے کٹے ہوئے یا انگوٹھے کے علاوہ ہر ہاتھ کی تین انگلیاں کٹی ہوئی ہوں یا ایک ہاتھ اور مخالف سمت کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی ہو یا اتنا بہرا کہ چیخ کی آواز بھی نہ سن کے۔ اگر چیخ کی آواز سن سکتا ہو تو اس کی آزادی کافی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی عضو کے نقصان سے اتنی خرابی پیدا ہوجائے کہ مطلقاً کام ہی نہ چل سکے تو ایسے ناقص العضو غلام کی آزادی کافی نہیں اور اگر کسی طرح کام چل سکے ‘ خواہ ناقص طریقہ سے ہی ہو تو ایسے غلام و باندی کی آزادی کفارۂ ظہار کے لیے کافی ہے۔
مسئلہ مدبر غلام (یعنی وہ غلام جس سے آقا نے کہہ دیا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے) اور ام الولد (بچہ کی ماں یعنی وہ باندی جس کے پیٹ سے اس کے آقا کا کوئی بچہ پیدا ہو یا ہو) کو کفارہ میں آزاد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان دونوں کی غلامی ناقص ہے (آقا پورے طور پر ان کا مالک نہیں ہے ‘ یہاں تک کہ ان دونوں کو فروخت نہیں کرسکتا) مکاتب (یعنی وہ غلام جس سے آقا نے معاہدہ کرلیا ہو کہ مقررہ رقم اگر تو مجھے کما کر یا کسی سے لا کر دیگا تو تو آزاد ہے) اگر مقررہ رقم کا کچھ حصہ ادا کرچکا ہو تو اسکا بھی یہی حکم ہے۔ ہاں معاہدہ کے بعد اگر وہ مقررہ رقم کا کوئی حصہ بھی ادا نہ کرسکا ہو تو کفارۂ ظہار میں اسکو آزاد کیا جاسکتا ہے۔ امام شافعی کا قول اس کے خلاف ہے۔
مسئلہ اگر کسی نے اپنے باپ یا بیٹے کو خرید لیا (تو خریدتے ہی وہ آزاد ہوجائیں گے) اب اگر خریدنے سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کے ظہار کا کفارہ ادا ہوجائے تو صحیح یہ ہے کہ کفارہ ادا ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی کا باپ یا بیٹا کسی کا غلام ہو اور ان کا آقا اس شخص کو اس کا باپ یا بیٹا بطور ہبہ دے دے اور اس کے قبول کرنے کا وقت کفارہ ادا کرنے کی نیت ہو تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔ امام شافعی کا قول اس کے خلاف ہے لیکن اگر باپ یا بیٹا بطور وراثت کسی کو مل جائے اور مورث کے مرنے کے وقت اس وارث کی نیت بھی اداء کفارہ کی ہو تو کفارہ ادا نہ ہوگا (کیونکہ پہلی دونوں صورتیں ملکیت اختیاری کی ہیں۔ خریدنے اور ہبہ قبول کرنے میں اپنے اختیار کو دخل ہے اور تیسری صورت اضطراری غیر اختیاری ہے۔ مورث کے مرنے کے بعد وارث کا حصہ موروثی کا مالک ہوجانا غیر اختیاری ہے) ۔
مسئلہ اگر غلام سے کہا : اگر تو گھر میں داخل ہوا تو تو آزاد ہے اور اس کہنے سے اس کی نیت ادائے کفارہ کی ہو تو صحیح ہے بشرطیکہ یہ جملہ کہتے وقت اداء کفارہ کی نیت ہو ‘ لیکن جملہ مذکورہ کہنے کے وقت تو نیت کفارہ نہیں تھی اور غلام کے گھر میں داخلہ کے وقت نیت کفارہ کرلی تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا : چھونے سے مراد ہے مباشرت کرنا۔ یہ فقرہ اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ حلت مباشرت کے لیے اداء کفارہ شرط ہے اور ظہار موجب حرمت ہے۔
ذٰلِکُمْ : یعنی مباشرت سے پہلے کفارہ ادا کرنے کا حکم۔
تُوْعَظُوْنَ بِہٖ : تم کو اس کی نصیحت کی جاتی ہے تاکہ ظہار سے جو حرمت پیدا ہوگئی ہے وہ زائل ہوجائے یا یہ مطلب ہے کہ دوبارہ ظہار کا ارتکاب اس ڈر سے نہ کرو کہ بیوی سے جدا ہونا پڑے گا یا یہ سمجھ لو کہ کفارہ کا وجوب تم پر اس لیے ہوا ہے کہ ارتکاب گناہ کیا ہے اس خیال سے تم نصیحت حاصل کرو اور ارتکاب ظہار سے آئندہ باز رہو۔