Ayah 58:1خولہ بنت ثعلبہ کا واقعہ :
1 : قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ تجادل بمعنی تحاور : گفتگو کرنا۔ اور اس طرح پڑھا بھی گیا ہے۔ وہ عورت خولہ بنت ثعلبہ تھی جو کہ اوس بن صامت جو عبادہ بن صامت کے بھائی تھے ان کی زوجہ تھیں۔ معاملہ اس طرح پیش آیا کہ اوس نے اس کو نماز پڑھتے دیکھا۔ ان کا جسم حسین تھا۔ جب اس نے سلام پھیرا تو ان کے دل میں قربت کی خواہش ہوئی اس نے انکار کیا۔ یہ غصے میں آئے اور اس سے ظہار کردیا۔ خولہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس طرح گویا ہوئیں کہ اوس نے مجھ سے اس وقت نکاح کیا۔ جبکہ میں جوان تھی۔ اور اس کو میری طرف رغبت تھی۔ جب میری جوانی بیت گئی اور میرا کنبہ بچھڑ گیا اور اس نے میرا پیٹ جھاڑ دیا یعنی بہت سی اولاد ہوگئی تو اس نے مجھے اپنے اوپر ماں کی طرح قرار دے دیا۔ روایت میں ہے اس نے کہا میرے بچے چھوٹے ہیں۔ اگر ان کو اس کے ساتھ ملائوں تو ضائع ہوجائیں گے اور اگر ان کو اپنے ساتھ ملائوں تو بھوکے مرجائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے معاملے میں میرے پاس کوئی چیز نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ایسے کہا میرے خیال میں تو اس پر حرام ہوگئی ہے۔ وہ کہنے لگی یا رسول اللہ اس نے طلاق کا تذکرہ بھی نہیں کیا۔ وہ تو میری اولاد کا باپ ہے۔ اور مجھے بہت سے زیادہ لوگوں میں محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس پر حرام ہوگئی ہے۔ اس پر وہ کہنے لگی۔ میں اپنے غم و فاقہ کا شکوہ بارگاہ ایزدی میں پیش کرتی ہوں۔ جب بھی آپ فرماتے تو اس پر حرام ہوگئی تو وہ زور سے چیخ مارتی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت عرض کرتی پس یہ آیت نازل ہوئی۔ فِیْ زَوْجِھَا اپنے خاوند کے متعلق وَتَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ اللہ تعالیٰ کے سامنے پریشانی کا اظہار کرتی وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکَمَا (اللہ تعالیٰ تمہاری گفتگو کو سننے والے تھے) یہ حار سے نکالا ہے جس کا معنی لوٹنا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ0 وہ مجبور کی شکایات کو سننے والے ہیں۔ بَصِیْرٌاس کی حالت کو دیکھنے والے ہیں۔
Ayah 58:22 : اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ (تم میں جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں) قراءت : عاصم نے یُظَھِّرون پڑھا ہے۔
اور حجازی، بصری وغیرہم نے یُظَاہَرُوْنَ پڑھا ہے۔ مِنْکُمْ (تم میں سے) اس میں اہل عرب کو توبیخ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ قسم تھی اور کسی امت میں یہ بات نہ تھی۔ مِّنْ نِّسَآ ئِھِمْ (اپنی بیویوں سے) مَّاھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ اول حجازی ہے۔ اُمَّھا تہم یہ تمیمی ہے۔ اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلَّا اَلّٰئِیْ وَلَدْ نَھُمْ (وہ ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں۔ جنہوں نے ان کو جنا ہے) مراد یہ ہے حقیقت میں مائیں تو جننے والیاں ہیں۔ اور دودھ پلانے والیاں دودھ کی وجہ سے مائوں سے ملا دی گئیں ہیں۔ اسی طرح ازواج رسول اللہ ﷺ عظمت شان کی وجہ سے ماؤں کے ساتھ ملا دیں گئیں۔ رہی بیویاں تو وہ امومت سے سب سے زیادہ بعید تر ہیں اسی لئے فرمایا وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ (اور بلاشبہ وہ ایک نا معقول) یعنی ایسی بات جس کا احکام شرع انکار کرتے ہیں۔ وَزُوْرًا (اور جھوٹی بات کہتے ہیں) جھوٹ اور بےکار بات جو حق سے بالکل ہٹی ہوئی ہے۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ (اور یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے) اس کو جو ان سے پہلے گناہ ہوگیا۔
Ayah 58:33 : وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآ ئِھِمْ (اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں) پہلی آیت میں بتلا دیا کہ یہ منکر اور جھوٹی بات ہے اور اس آیت میں ظہار کا حکم بیان فرمایا۔ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا (پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں) العودؔ ابتداء یا بناء ایک سے دوسری حالت کی طرف لوٹنا۔ ابتداء ًلوٹنے کی مثال یہ آیت ہے : حتی عاد کالعرجون القدیم ] یٰسٓؔ : 39[ اور بناء ًلوٹنے کی مثال، ان عدتم عدنا۔ ] الاسراء : 8[ اور یہ متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں عدتہ جبکہ تم اس کے پاس آئے اور اس تک پہنچے اور حرف جر کے ساتھ متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔ وہ چار صلے ہیں الی، علی، فی ‘ لام، جیسے اس ارشاد باری تعالیٰ میں لورُدّوا لعادوا لما نہوا عنہ ] الانعام : 28[ اور اس آیت میں یہی لام استعمال فرمایا۔ ثم یعودون لما قالوا۔ مطلب یہ ہوا یعودون نقض ما قالوا۔ وہ لوٹے ہیں اس کو توڑنے کی طرف جو کچھ انہوں نے کہا۔ نمبر 2۔ یعودون لتدارکہٖ ماقالوا۔ پھر وہ اپنی بات کے تدارک کی طرف لوٹتے ہیں۔ گویا مضاف کو محذوف مانا گیا ہے۔
قولِ ثعلب :
کہ جس کو انہوں نے اپنے لئے حرام کیا تھا اس کو حلال کرنے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس صورت میں بھی مضاف محذوف ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ما قالوا سے انہوں نے ماحرموا علی انفسہم بلفظ الظہار مراد لیا ہے۔ گویا قول کو مقول فیہ کے قائم مقام لے آئے جیسا کہ اس آیت میں ہے ونرثہ ما یقول یہاں ما یقول سے کہنا مراد نہیں بلکہ مال و ولد مراد ہے جس کے متعلق وہ کہتا ہے۔
اختلاف :
ہے کہ ظہار کس سے ٹوٹے گا۔
عند الاحناف :
وطی کا عزم کرلینے سے ٹوٹ جائے گا۔ یہ ابن عباس ؓ ، حسن ‘ قتادہ، رحمہم اللہ کا قول ہے۔ عند الشافعی (رح) : مطلق رک جانے سے اور رکنایہ ہے کہ ظہار کے بعد اس کو طلاق نہ دے (تو اس سے رجوع ثابت ہوگیا )
فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ (تو ان کے ذمہ ایک بردہ آزاد کرنا ہے) تو اس کے ذمہ ایک مومنہ گردن یا کافرہ گردن کا آزاد کرنا لازم ہے۔ مدبر، ام الولد اور مکاتب جس نے کچھ ادائیگی کردی ہو کو آزاد کرنا جائز نہیں ہے۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآ سَّا (دونوں کے باہم اختلاط کرنے سے پہلے) ضمیر ان دونوں کی طرف راجع ہے یعنی مظاہر اور مظاہر منھا کی طرف۔ جن پر کلام دلالت کرتی ہے۔ المماسۃؔ سے مراد جماع ہے۔ یا شہوت سے چھونا یا اس کی شرمگاہ کی طرف شہوت سے دیکھنا۔ ذٰلِکُمْ (اس حکم کی) تُوْعَظُوْنَ بِہٖ (تم کو نصیحت کی جاتی ہے) تاکہ تم ظہار کا ارتکاب دوبارہ نہ کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی سزا سے ڈرتے رہو۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال سے پورا باخبر ہے)
ظہار کی حقیقت :
کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے : انتِ علیَّ کظہر اُمِّی کہ تو میرے لئے اس طرح ہے جیسے ” میری ماں کی پشت “ جب اس نے اَنْتِ کی بجائے ایسا عضو رکھ دیا جس کی تعبیرپورا جسم ہے یا پھر پشت کی بجائے دیگر کوئی ایسا عضو محرمات ماں وغیرہ کا رکھ دیا جس کی طرف نظرڈالنا اس کے لئے حرام ہے۔ مثلاً پیٹ، ران وغیرہ یا ماں کی بجائے محرمات نسبیہ یا رضاعیہ یا محرمات صہریہ یا جن سے جماع حرام ہے۔ ان کو ذکر کردیا مثلاً کہا انت علی کظہراختی من الرضاع۔ تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میرے لئے میری رضاعی بہن کی پشت یا نسبی پھوپھی کی پشت یا میرے حقیقی بیٹے کی بیوی یا باپ کی بیوی یا میری بیوی کی ماں یا میری بیوی کی بیٹی تو ان تمام صورتوں میں وہ مظاہرشمار ہوگا۔
نحو : جب مظاہر کفارہ ادا نہیں کررہا۔ تو عورت کا حق ہے کہ وہ قاضی کی عدالت میں کیس لے جائے اور قاضی پر لازم ہے کہ وہ اس کو کفارہ پر مجبور کرے اور اس کے لئے اس کو قید کردے۔
ایک نکتہ :
کفارات میں سے کوئی کفارہ ایسا نہیں ہے جس پر جبر کرنا جائز ہو۔ اور کفارہ کی ادائیگی کیلئے قید میں ڈالنا جائز ہو صرف کفارئہ ظہار ہی ہے کہ اس کے لئے دونوں چیزیں قاضی پر لازم ہیں کیونکہ اس کو ترک کر کے وہ عورت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
نحو : عورت کے ساتھ استمتاع سے وہ کفارہ کی ادائیگی تک باز رہے اگر اس نے اس سے قربت کرلی۔ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور دوبارہ کفارہ کی ادائیگی سے قبل اس کے قریب تک نہ پھٹکے۔
قو لِ امام اعظم۔ :
اگر اس نے گردن کا بعض حصہ آزاد کیا پھر عورت کو چھو لیا تو کفارہ کا وہ حصہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا۔
Ayah 58:44 : فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ (پس جس کو غلام یا باندی میسر نہ ہو) ۔ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ (تو اس کے ذمہ لگا تار دو مہینے کے روزے ہیں) مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآ سَّا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ (قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے) یعنی روزے کی طاقت نہ ہو۔ فَاِطْعَامُ (تو اس کے ذمہ کھانا کھلانا ہے) سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا (ساٹھ مساکین کو) اس طرح کہ ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع دوسری چیزوں میں سے اور قربت سے پہلے کھا ناکھلائے۔ اگر کھانا کھلانے کے دوران اس نے قربت کرلی تو دوبارہ کھانا کھلانا نہ پڑے گا۔ ذٰلِکَ (یہ حکم اس لئے ہے) یہ احکام کی تعلیم اور وضاحت۔ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو) تاکہ تم عمل سے ان کی تصدیق کرو۔ (اور جو احکام اس نے ظہار کے سلسلے
میں بیان کئے ان پر عمل پیرا ہو اور رسم جاہلیت کو چھوڑ دو ۔ وَتِلْکَ حَدُوْدُ اللّٰہِ (اور یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں) حدود سے مراد یہاں ظہار و کفارہ کے احکامات ہیں۔ اور حدود اللہ کہا کہ ان کو پھاندنا جائز نہیں ہے۔ وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہوگا) کافرینؔ جو ان احکام کی اتباع نہیں کرتے۔ الیمؔ : دردناک۔
Ayah 58:55 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ (اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) یعنی دشمنی اور مخالفت کرتے ہیں۔ کُبِتُوْا (وہ ایسے ذلیل ہونگے) پکڑے اور ہلاک کیے جائیں گے کَمَا کُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (جیسے وہ لوگ ذلیل ہوئے جو ان سے پہلے تھے) یعنی انبیاء (علیہم السلام) کے دشمن وَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کردیئے ہیں) جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور دین حق کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ (اور ان آیات کا انکار کرنے والوں کیلئے) عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (ذلت کا عذاب ہے) جو ان کی بڑائی وعزت کو ختم کرکے رکھ دے گا۔
Ayah 58:6تذکرئہ بعثت :
6 : یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ (جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ زندہ کریگا) نمبر : 1 یوم یہ مھین کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اذکر کا مفعول ہے یوم کی تعظیم کیلئے اس کو مقدم کیا۔ اللّٰہُ جَمِیْعًا (تمام کو کسی کو بھی بغیر اٹھائے نہ چھوڑے گا) نمبر 2۔ جمیعًا کا معنی مجتمعین فی حالۃ واحدۃ اکھٹے ایک ہی حالت میں اٹھا کھڑا کرے گا۔ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا (پھر ان کو ان کا سب کیا ہوا بتلا دے گا) ان کو شرمندہ کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور ان کی حالت کو سب کے سامنے مشہور کرنے کیلئے وہ اس وقت شرمندگی سے چاہیں گے کہ ان کو جلد آگ میں بھیج دیا جائے۔ اَحْصٰہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوط کر رکھا ہے) گن کر شمار کر رکھا ہے اس میں سے کسی چیز کو چھوڑا نہیں۔ وَنَسُوْہُ (اور یہ لوگ اس کو بھول گئے) کیونکہ انہوں نے اس کا ارتکاب کرتے ہوئے اس کو معمولی سمجھا۔ اور بڑے بڑے امور کو محفوظ کیا جاتا ہے ( اور ان کے ہاں گناہ کوئی بڑی چیز نہ تھی) وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ (اور اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز سے مطلع ہے) اس سے کوئی چیز غائب نہیں۔
Ayah 58:7کفار کی سرگوشیاں :
7 : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَایَکُوْنُ (کیا آپ نے ان پر نظر نہیں کی۔ کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے) یہ یکونؔ کان تامہ سے ہے اس کا معنی ما یقع ہے جو واقع ہوتا ہے۔ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰثَۃٍ (کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی) النجویؔ : سرگوشی کرنا۔ اس کی اضافت یہاں تین کی طرف کی گئی۔ یعنی تین شخصوں کی سرگوشی اِلَّا ھُوَ (مگر اللہ تعالیٰ ) رَابِعُھُمْ وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ھُوَ سَادِسُھُمْ وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ھُوَ مَعَھُمْ (چوتھا نہ ہو۔ اور نہ کوئی پانچ کی سرگوشی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ چھٹا نہ ہو اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زائد کی سرگوشی ہوتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے) ادنیؔ اقل کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں اور جس حالت میں وہ ہوتے ہیں وہ اس پر مخفی نہیں۔ ذات باری تعالیٰ مکان سے بلند وبالا ہے۔
وجہ تخصیص :
تین اور پانچ کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ تین تین اور پانچ پانچ کی ٹولیوں میں مسلمانوں کو غصہ دلانے کیلئے بیٹھتے اور سرگوشیاں کرتے۔ تو فرمایا گیا۔ ان میں سے جو بھی سرگوشی کرتے ہیں خواہ تین ہوں یا پانچ اور اس سے کم ان کی تعداد ہو اور اس سے زیادہ ہوں۔ مگر ذات باری تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتی ہے اور ان کی سرگوشی کو سنتی ہے اور کیونکہ سرگوشیاں کرنے والے اصحاب رائے اور اصحاب تجربہ ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا عدد دو ہے۔ پس اس سے بڑھ کر پانچ سے چھ تک پہنچ جاتے ہیں۔ جیسا کہ وقت کا تقاضا ہو پس اللہ تعالیٰ نے تین ‘ پانچ کی گنتی کو ذکر فرما دیا اور فرمایا ولا ادنٰی من ذلک پس اس دو اور چار پر دلالت ہوگئی اور پھر ولا اکثر فرما دیا جس سے اس عدد کے قریب قریب پر دلالت کردی گئی۔ اَیْنَ مَا کَانُوْا ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (خواہ وہ لوگ کہیں بھی ہوں۔ پھر قیامت کے دن ان کو ان کے کیے ہوئے کام بتادے گا) ان پر ان کو بدلہ دے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات سے باخبر ہے)
Ayah 58:8سرگوشیوں کا مقصد نافرمانیٔ رسول :
8 : اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ نُھُوْا عَنِ النَّجْوٰی ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَیَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ (کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا۔ پھر بھی لوٹ کر وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کردیا گیا تھا۔ اور گناہ اور مسلمانوں پر زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں) یہود اور منافقین ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے تھے۔ اور جب مؤمنوں کو دیکھتے تو آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارہ کرتے اور ان کا مقصد مسلمانوں کو غصہ دلانا اور اپنی سرگوشیوں کے متعلق اور اشارہ کے متعلق وہم دلانا ہونا تھا۔ ان کے غزوات شکست خوردہ ہیں۔ اور ان کے اقارب مقتول ہوچکے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس سے منع فرمایا مگر انہوں نے اپنے اس فعل کا اعادہ کیا۔ ان کی یہ سرگوشیاں گناہ، عداوت مؤمنین اور ایک دوسرے کو معصیت رسول کی تلقین اور مخالفت رسول کیلئے ہوتی تھیں۔
قراءت : حمزہ نے یَتنَجَّوْن پڑھا ہے اور اس کا معنی یتنا جون کا ہی ہے۔
وَاِذَا جَآ ئُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ (جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں۔ تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلام کیلئے استعمال نہیں کیا) یعنی وہ کہتے ہیں۔ السَّام علیک یا محمد السامؔ موت کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں : سلام علی عبادہ الذین اصطفٰی ] النمل : 59[ یٰٓا یھا الرسول ] المائدہ : 41[ یایھا النبی ] الاحزاب : 59 [
وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ (اور آپس میں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس کہنے پر سزا کیوں نہ دی) یعنی وہ کہتے ہیں اگر یہ پیغمبر ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمارے اس قول پر ہمیں سزادیتے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ حَسْبُہُمْ
جَھَنَّمُ (جہنم ان کے عذاب کیلئے کافی ہے) یَصْلَوْنَھَا (اس حال میں کہ اس میں وہ داخل ہونگے) یہ حال ہے۔ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (پس وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) مصیر سے جہنم مراد ہے۔
Ayah 58:99 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ( اے ایمان والو ! ) جو زبانوں سے فقط ایمان لائے ہو۔ یہ منافقین کو خطاب ہے۔ ظاہر کلام کا تقاضا یہ ہے کہ مؤمنین کو خطاب ہے۔ اِذَا تَنَا جَیْتُمْ فَـلَا تَتَنَا جَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی) وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ (سرگوشیاں نہ کیا کرو) یعنی جب سرگوشی کرو تو یہود اور منافقین کی طرح شرو گناہ کی سرگوشی مت کرو) وَتَنَاجَوْا بِالْبِّرِ (اور نفع رسانی کی سرگوشی کرو) طاعات اور ادائے فرائض کی سرگوشی کرو۔ وَالتَّقْوٰی (اور پرہیز گاری کی باتوں کی) گناہوں کو ترک کرنے کی سرگوشی کرو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! جس کے پاس تم سب کو جمع کیا جائیگا) حساب و کتاب کیلئے پس وہ تمہاری اچھی یا بری سرگوشیوں پر بدلہ دے گا۔
Ayah 58:1010 : اِنَّمَا النَّجْوٰی (بیشک سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے) جو سرگوشی گناہ اور دشمنی کی ہو مِنَ الشَّیْطٰنِ (یعنی شیطان کی تزیین سے ہے) لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْ ا (تاکہ ایمان والے غم زدہ ہوں) وَلَیْسَ بِضَآ رِّھِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (حالانکہ مؤمنین کو کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نقصان پہنچانے والی نہیں) مسلمانوں کو شیطان یا غم نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ الا باذن اللہؔ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضاء و قدر سے وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی پر مؤمنین بھروسہ کرتے ہیں) یعنی اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں اور اس کی اور شیطان سے اسی کی پناہ میں آتے ہیں۔
Ayah 58:111 1 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ (اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کھول دو ۔ مجالس میں توسع پیدا کرو) فی المجالس عاصم و نافع کی قراءت ہے۔ مراد اس سے مجلس رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم ہے۔ آپ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کے مقابلہ میں قریب تر بیٹھتے تاکہ آپ کی بات خوب سن سکیں۔
مجالس میں توسیع ‘ ایک قول :
وہ قتال کی مجالس میں سے ایک مجلس تھی۔ اور وہ مجالس ہی قتال کے مراکز ہوتیں جیسا کہ فرمایا مقاعد للقتال ] آل عمران : 121[ مقاعد، مقاتل کے معنی میں ہے۔ نماز جمعہ میں لڑائی کے مقامات فَافْسَحُوْا (پس تم مجلس میں وسعت پیدا کرو) یَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہارے لئے وسعت فرمائیں گے) یہ عام ہے اس میں ہر وسعت شامل ہے۔ خواہ وہ وسعت مکان میں ہو۔ رزق میں خواہ سینے میں ہو وغیرہ ذلک۔ وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا (اور جب کہا جائے کہ مجلس سے وسعت کیلئے اٹھ جائو) نمبر 1۔ آنے والوں پر مجلس کو وسیع کرنے کیلئے اٹھ جایا کرو۔ نمبر 2۔ یا مجلس رسول اللہ ﷺ سے اٹھ جانے کا حکم ملے تو فوراً اٹھ جایا کرو۔ نمبر 3۔ یا مجلس رسول ﷺ میں جہاد، نماز اور اعمال خیر کیلئے اٹھ جایا کرو۔ فَانْشُزُوْا۔ دونوں میں ضمہ مدنی، شامی، عاصم نے سوائے حماد کے پڑھا ہے۔ یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے درجات بلند کرے گا) اس کے احکام کی پابندی کی وجہ سے اور اس کے رسول کے حکموں کو ماننے کی وجہ سے۔ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ (اور وہ لوگ جن کو علم دیا گیا) اور خاص کر ان میں سے جو علماء ہیں۔ دَرَجٰتٍ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پورے طور پر باخبر ہیں) درجات کے متعلق دو قول ہیں۔ نمبر 1۔ دنیا میں مرتبہ اور شرف کا حصول نمبر 2۔ آخرت میں مرتبہ و شرف ملنا۔
قول ابن مسعود ؓ :
جب اس آیت کو پڑھتے تو فرماتے یٰٓایھا الناس، اے لوگو ! اس آیت کو خوب سمجھ لو۔ اور علم کی طرف خوب دھیان دو ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عالم کو عابد پر اس طرح فضیلت حاصل ہے۔ جیسا کہ چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر ] الترمذی : 2683، ابن ماجہ 223، رواہ احمد، 5/196، ابو دائود 3641[ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ عالم کی ایک دن کی عبادت وہ عابد کی عبادت کے چالیس سال کے برابر ہے۔ ] رواہ ابن ماجہ : 4313[ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔ قیامت کے دن تین افراد سفارش کریں گے۔ نمبر 1۔ انبیاء نمبر 2۔ علماء نمبر 3۔ شہداء۔ علم کا مرتبہ کتنا اعلیٰ ہے کہ یہ نبوت و شہادت کے درمیان واسطہ ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کا ارشاد شاہد ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
کہ سلیمان (علیہ السلام) کو علم اور مال و بادشاہت کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے علم کو اختیار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و بادشاہت بھی عنایت فرما دی۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ اے ابراہیم ! میں علیم ہوں مجھے ہر علم والا پسند ہے۔] رواہ ابن عبد البر فی العلم : بحوالہ حاشیہ کشاف[
بعض حکماء کا قول :
کاش مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ جس سے علم فوت ہوا اس نے کیا چیز پائی ؟ اور جس نے علم کو پالیا اس کی کون سی چیز رہ گئی۔
زبیری کا قول :
علم مذکر ہے اور اس کو نر مرد ہی پسند کرتے ہیں۔ علم کی بہت سی اقسام ہیں مگر سب سے اعلیٰ وہ ہے جس کی معلومات اعلیٰ ہوں۔
Ayah 58:1212 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا نَا جَیْتُمُ الرَّسُوْلَ (جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کا ارادہ کرو) جب تمہارا ارادہ ان سے سرگوشی کرنے کا ہو۔ فَقَدِّ مُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً (تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات کردیا کرو) یعنی نجوٰکم ای قبل نجوٰکم سرگوشی سے قبل۔ یہ استعارہ ان کے لئے ہے جن کو قدرت حاصل ہے۔ جیسا کہ عمرفاروق ؓ کا قول ہے من افضل ما اوتیت العرب الشعر۔ اہل عرب کو افضل ترین چیز شعر ملے ہیں۔ جن کو اپنی ضرورت سے قبل امیر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور انہی اشعار سے سخی کی سخاوت اس سے طلب کی جاتی ہے۔ اور انہی سے کمینہ کو نیچے اتارا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اپنی حاجت سے قبل وہ صدقہ پیش کرے۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ ( یہ تمہارے لئے بہتر ہے) ذلک کا مشار الیہ تقدیم صدقہ ہے۔ خیر ؔ سے مراد دین کے اعتبار سے بہتر ہے۔ وَاَطْھَرُ (اور گناہوں سے پاک ہونے کا ذریعہ ہے) کیونکہ صدقہ پاکیزگی ہے۔ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا (پس اگر تم کو خیرات دینے کا مقدور نہ ہو) جو کہ تم صدقہ کرسکو۔ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ (پس اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہیں) کہ اس نے بلا صدقہ بھی سرگوشی کی اجازت مرحمت فرما دی ہے۔ ایک قول یہ ہے یہ حکم دس رات رہا پھر منسوخ ہوگیا۔
ایک قول :
یہ ہے یہ دن کی ایک گھڑی رہا پھر منسوخ کردیا گیا۔
قولِ علی ؓ :
یہ کتاب اللہ کی وہ آیت ہے کہ اس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا۔ میں نے اس کو بطور صدقہ صرف کردیا۔ پھر جب بھی میں سرگوشی کرتا تو ایک درہم صدقہ کردیتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دس مسائل دریافت کئے پس آپ نے مجھے ان کے جوابات مرحمت فرمائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ نمبر 1۔ وفا کیا ہے آپ نے فرمایا توحید اور لا الٰہ الا اللہ کی گواہی۔ نمبر 2۔ فساد کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کفر اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ نمبر 3۔ حق کیا ہے۔ آپ نے فرمایا اسلام اور قرآن اور دوستی جبکہ اس کا اختتام تم پر ہوگا۔ نمبر 4۔ حیلہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا حیلہ کا چھوڑدینا۔ نمبر 5۔ مجھ پر کیا لازم ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت۔ نمبر 6۔ میں اللہ تعالیٰ سے کس طرح دعا کروں آپ نے فرمایا صدق و یقین کے ساتھ نمبر 7۔ میں اللہ تعالیٰ سے کیا مانگوں آپ نے فرمایا عافیت۔ نمبر 8۔ اپنے نفس کی نجات کیلئے کیا کروں آپ نے فرمایا حلال کھائو اور سچ بولو۔ نمبر 9۔ خوشی کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جنت نمبر 10۔ آرام کیا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ملاقات جب میں ان سوالات سے فارغ ہوا تو یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ (قال ابن حجرلم اجدہ حاشیہ کشاف)
Ayah 58:1313 : ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقٰتٍ (کیا تم اپنی سرگوشی کے قبل خیرات دینے سے ڈر گئے) کیا تم صدقات پیش کرنے سے ڈر گئے اس لئے کہ اس میں وہ انفاق ہے جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا (جب تم اس کو نہ کرسکے) جس کا تمہیں حکم دیا گیا اور وہ تم پر گراں گزرا۔ وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی) یعنی تخفیف کردی گئی اور اس پر مواخذہ کو اٹھا لیا گیا۔ جیسا کہ نائب سے مؤاخذہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (پس تم نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو) نماز و زکوٰۃ اور تمام طاعات میں کمی و کوتاہی مت کرو۔ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ پورے طور پر باخبر ہے) یہ وعدہ اور وعید دونوں ہیں۔
Ayah 58:1414 : اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ (کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ہے) منافقین یہود سے دوستی کا دم بھرتے تھے۔ اور یہود پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ من لعنہ اللّٰہ وغضب علیہ ] المائدہ : 60[ اور منافقین ایمان والوں کے راز یہود کی طرف منتقل کرتے تھے۔ مَاھُمْ مِّنْکُمْ (وہ اے مسلمانوں تم میں سے نہیں) وَلَا مِنْہُمْ (اور نہ وہ یہود میں سے ہیں) جیسا کہ ارشاد فرمایا۔ مذبذبین بین ذلک لا الٰی ھؤلاء ولا الٰی ھؤلاء ] النساء : 143[ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ (وہ اللہ تعالیٰ پر دانستہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں) یعنی اس طرح کہتے ہیں۔ واللّٰہ انا لمسلمون لا منافقون۔ اللہ کی قسم ہم مسلمان ہیں منافق نہیں ہیں۔ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ (حالانکہ وہ جانتے ہیں) کہ وہ اس قول میں جھوٹے ہیں۔ اور وہ منافق ہیں۔
Ayah 58:1515 : اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کیلئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے) ان کے لئے عذاب کی خاص قسم کا غلبہ پالینے والا عذاب ہوگا۔ اِنَّھُمْ سَآ ئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے) وہ زمانہ ماضی میں بد عملی پر مصر تھے۔ یہ دراصل قیامت کے دن کہی جانے والی بات کی حکایت ہے۔
Ayah 58:1616 : اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَھُمْ (انہوں نے اپنی قسموں کو بنا لیا ہے) قسموں سے جھوٹی قسمیں مراد ہیں۔ جُنَّۃً (ڈھال) اپنے اموال و دماء کو محفوظ کرنے کیلئے وہ قسمیں کھاتے ہیں۔ فَصَدُّوْا ( پھر وہ روکتے ہیں) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے امن و سلامتی کے زمانہ میں عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) طاعت و ایمان مراد ہے۔ فَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (پس ان کے لئے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے) ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے ان کے ساتھ رسوا کن عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللّٰہ زدناھم عذابًا فوق العذاب ] النحل : 88[
Ayah 58:1717 : لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (ان کے مال و اولاد اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کو ذرا نہ بچا سکیں گے) من اللہ یعنی من عذاب اللہ شَیْئًا (ذرا بھر) ذرا سا فائدہ بھی نہ دیں گے۔ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (یہ لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 58:1818 : یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ (جس روز اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا پھر اس کے سامنے وہ جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے) اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن کہ وہ دنیا میں مخلص تھے منافق نہ تھے۔ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ (جیسا کہ وہ تمہارے سامنے کھاتے ہیں) اس بات پر دنیا میں وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ (اور خیال کریں گے کہ وہ) دنیا میں عَلٰی شَیْ ئٍ (کسی اچھی حالت پر ہیں) یعنی نفع بخش یا ان کا خیال یہ ہے کہ ان کو کچھ نفع حاصل ہوجائے گا جیسا کہ اپنی جھوٹی قسموں سے یہاں ان کو فائدہ پہنچا۔ اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (یقینا یہ انتہائی جھوٹے ہیں) اس میں کہ ان کا حال دنیا اور آخرت میں برابر ہوگا۔
Ayah 58:1919 : اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ (ان پر شیطان غالب آگیا) مسلط ہوگیا۔ فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ (شیطان نے ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد بھلا دی ہے)
قول علامہ کرمانی (رح) :
بندے پر شیطان کے غلبہ کی علامت یہ ہے کہ اس کو ظاہری بناوٹ کھانے، پینے اور پہننے میں مشغول کر دے۔ اور اللہ تعالیٰ کے انعام پر غور کرنے سے اس کے دل کو مشغول کردے اور اس کے شکر کی ادائیگی سے غافل کردے اور اس کی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہٹا کر جھوٹ ‘ غیبت ‘ بہتان پر لگا دے اور دل کو سوچ وبچار اور توجہ سے دنیا کی تدبیر اور اس کے جمع کرنے کی وجہ سے مشغول کر دے۔
اُولٰٓپکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ (یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں) اس کا لشکر ہیں۔ اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (اور شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے)
Ayah 58:2020 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآ دُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُولٰٓپکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ (جولوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت ذلیل لوگوں میں سے ہیں) یعنی وہ من جملہ ان لوگوں میں سے ہونگے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے ذلیل ترین ہیں۔ ان سے بڑھ کر تم کسی کو ذلیل نہ پائو گے۔
Ayah 58:2121 : کَتَبَ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا) لوح محفوظ میں لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلْیِ (کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے) دلائل اور تلوار سے یا ان دونوں میں سے کسی ایک سے اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ (بلا شک اللہ تعالیٰ قوت والا ہے) اس کے ارادے کو کوئی موڑ نہیں سکتا۔ عَزِیْزٌ (وہ غلبہ والا ہے) وہ غالب ہے اس پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔
Ayah 58:2222 : لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآ دُّوْنَ (جو لوگ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں۔ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہوں) یوادونؔ یہ تجد کا مفعول ثانی ہے۔ یا حال ہے یا قوما کی صفت ہے۔ اور تجدؔ کا معنی مقابل پانا ہے۔ مَنْ حَآ دَّ اللّٰہَ (جو اللہ تعالیٰ کے مخالف ہوں) مخالفت اور عداوت رکھنے والا وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کے)
مومن مشرک سے موالات نہیں کرسکتا :
مطلب یہ ہے کہ یہ بات ناممکن ہے کہ مومن ہو کر مشرکین سے موالات ومودت قائم کرنے والا ہو۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمنوں کیلئے یہ مناسب نہیں ہے۔ اور مومن کا تقاضائے ایمانی یہ ہے کہ وہ اس سے باز رہے اور اس سے یہ بات کسی حال میں نہ پائی جائے۔ یہ انداز بیان ڈانٹ میں مبالغہ کیلئے ہے۔ کہ ان سے ملابست بھی اختیار نہ کی جائے۔ اور اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے سلسلہ میں مضبوطی دکھائیں۔ اور ان سے دور رہیں۔ اور ان کے میل جول اور رہن سہن سے بچ کر رہیں اور اس ارشاد نے تاکید میں مزید اضافہ کردیا۔
وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآء ھُمْ اَوْ اَبْنَآ ئَ ھُمْ اَوْ اِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَ تَھُمْ (خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان کے باپ ہوں۔ یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے کنبے والے ہوں) اور یہ فرما کر تاکیددر تاکید کردی۔ اُولٰٓپکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ (یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان جما دیا ہے) پختہ کردیا ہے اور اس کا تقابل اولئک حزب الشیطان سے کرتے ہوئے فرمایا۔ اولئک حزب اللّٰہ کہ یہ میرا لشکر ہے میری مددکاہاتھ ان کے پیچھے ہے۔ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ (اور ان کو اپنے نور سے مدد دی) یعنی روحؔ سے مراد کتاب اللہ ہے اس طرح کہ وہ ذاتی لحاظ سے دلوں کی زندگی کیلئے بمنزلہ روح ہے۔
قولِ ثوری (رح) :
یہ ان لوگوں کے بارے میں اتری جو بادشاہوں کے ساتھی بنتے ہیں۔
قولِ عبدالعزیز بن ابی روّاد رحمہما اللہ :
منصورعباسی کی ان سے ملاقات ہوئی جب اس کو پہچان لیا کہ یہ منصور ہے۔ تو اس سے بھاگ گئے۔ اور یہ آیت پڑھی۔
قولِ سہل (رح) :
جس نے اپنے ایمان کو صحیح رکھا اور توحید کو خالص کیا۔ وہ کسی مبتدع سے مانوس نہیں ہوسکتا۔ اور نہ اس کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔ اس کے دل میں اس بدعتی سے دشمنی ہوگی اور جس نے کسی بدعتی سے مداہنت اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل سے سنت کی حلاوت چھین لیتے ہیں۔ اور جس نے کسی بدعتی کی بات کو قبول کیا تاکہ دنیا کی عزت حاصل کرے یا دنیا کا کوئی سامان جوڑے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس عزت کے بدلے ذلیل کرے گا۔ اور ایسی مالداری سے اس کو فقیر کردے گا۔ اور جس نے مبتدع کے ساتھ کسی بات پر خوشی کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل سے نور ایمان کھینچ لیتے ہیں۔ اور جو آدمی تصدیق نہیں کرتا۔ وہ تجربہ کرلے۔ وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ (اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کریگا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی) خٰلِدِیْنَ فِیْھَا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ (اور ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا) ان کی خالص توحید اور اطاعت کی وجہ سے وَرَضُوْا عَنْہُ (اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے) آخرت میں اس کے عظیم ثواب دینے پر یا دنیا میں جو ان پر مہربانیاں ہوئیں۔ اُولٰٓپکَ حِزْبُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کا گروہ ہے) وہ اس کے حق کے مددگار ہیں اور اس کی مخلوق کے نگران ہیں۔ اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی یقینا کامیاب ہونے والا ہے) وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں میں باقی رہیں گے اور ہر محبوب چیز ان کو میسر ہوگی۔ اور خوفناک چیز سے مامون و محفوظ ہونگے۔