57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے

کلمہ کی جہالت اربعہ : 1 : سَبَّحَ لِلّٰہِ اس سورت اور سورة حشر وصف میں سبح للہ سے شروع کیا جو لفظ ماضی ہے اور بعض سورتوں مثلاً جمعہ، تغابن میں مضارع کے لفظ اور سورة بنی اسرائیل میں لفظ مصدر سے اور سورة اعلیٰ میں لفظ امر سے ذکر فرمایا گیا۔ اس کلمہ کی چارجہات ہوئیں۔ نمبر 1۔ مصدر نمبر 2۔ ماضی۔ نمبر 3۔ مضارع۔ نمبر 4۔ امر۔ سبحؔ فعل کبھی لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور بعض اوقات متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے جیسا اس قول و تسبحوہ اور اس کی اصل متعدی بنفسہٖ ہے کیونکہ سَبَّحْتُہٗ کا معنی میں نے اس کو برائی سے دور کیا۔ یہ سَبَحَ سے منقول ہو کر آیا ہے جس کا معنی جانا اور دور ہونا ہے۔ پس اس میں لام یا تو نصحتہ و نصحت لہ کی طرح ہے یا پھر سبح للہ سے مراد اللہ تعالیٰ کیلئے اس نے تسبیح کی اور خالص اس کی ذات کیلئے کی۔ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہے) ماؔ سے ہر وہ مخلوق مراد ہے جس سے تسبیح کا صدور ہوسکتا ہو۔ تسبیح اس سے درست ہو۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست ہے) اس مکلف سے انتقام لینے والا ہے) جس نے عناداً اس کی تسبیح نہیں کی۔ الْحَکِیْمُ (اس کو بدلہ دینے میں حکمت والا ہے) جس نے مطیع بنکر اس کی اطاعت کی۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

2 : لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے) نہ کہ کسی اور کی یُحْیٖ (وہ زندہ کرتا ہے) مسئلہ : یحییٰ مقام رفع میں واقع ہے ای ھو یحییٰ الموتیٰ وہ مردوں کو زندہ کریگا۔ وَیُمِیْتُ (اور وہ موت دیتا ہے) زندوں کو نمبر 2۔ یہ موضع نصب میں واقع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : لہ ملک السمٰوٰت والارض محییًا و ممیتًا اس کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس حالت میں کہ وہ زندگی اور موت دینے والا ہے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے

3 : ھُوَ الْاَوَّلُ (وہی پہلے ہے) وہ قدیم ذات ہے جو ہر شئی سے پہلے تھی۔ وَالْاٰخِرُ (اور وہی پیچھے) جو کہ ہر شئی کے ہلاک ہونے کے بعدباقی رہنے والی ہے۔ وَ الظَّاھِرُ (وہی ظاہر ہے) ان دلائل سے جو اس کی ذات پر دلالت کرنے والی ہیں۔ وَالْبَاطِنُ (وہی باطن ہے) کیونکہ وہ مدرک بالحواس نہیں اگرچہ وہ مرئی ہے۔ وائو کا فائدہ : پہلی وائو کا معنی یہ ہے کہ وہ اولیت و آخریت ہر دو صفات کے جامع ہیں اور تیسری وائو اس لئے کہ وہ ظہور و خفاء کو جامع ہے رہی درمیانی وائو وہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کی ذات پہلی دونوں صفات اور پچھلی دونوں صفات کی جامع ہے۔ اس کا وجود ماضی و مستقبل تمام اوقات میں دائمی ہے۔ وہ تمام اوقات میں ظاہر و باطن ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ الظاہر کا معنی ہر چیز پر بلند اور اس پر غالب۔ یہ ظہر علیہ سے ماخوذ ہے جبکہ وہ اس چیز پر بلندو غالب ہوجائے اور الباطن جو ہر چیز کے اندرون کو جانتا ہے۔ وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے)
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

4 : ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (وہی تو ہے جس نے آسمان کو زمین کو چھ روز کی مقدار میں پیدا کیا) قولِ حسن (رح) ہے کہ ایام دنیا کی مقدار اگر وہ پلک جھپک میں بنانا چاہیں تو وہ بناسکتے ہیں۔ لیکن چھ دن کو ایک بنیادبنانا تھا تاکہ اس پر مدار زمانہ ہو۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یَعْلَمُ مَایَلِجُ فِی الْاَرْضِ (پھر وہ تخت پر قائم ہوا۔ وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے) جو زمین میں بیج، پانی کے قطرات، خزانے، مردے وغیرہ داخل ہوتے ہیں۔ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا (اور جو چیز زمین سے برآمد ہوتی ہے) نباتات وغیرہ وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ئِ (اور جو آسمان سے اترتی ہے) یعنی ملائکہ اور بارشیں۔ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا (اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے) یعنی اعمال اور دعائیں وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ (اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے تم جہاں کہیں ہو) اپنے علم وقدرت عامہ اور اپنے فضل و رحمت خاصہ کے ساتھ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (اور وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھتا ہے)
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

5 : لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (آسمان و زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے)
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

(وہی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

6 : یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَھُوَ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے۔ اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے وہی دلوں کی پوشیدہ باتوں کو بخوبی جانتے ہیں) یولجؔ کا معنی رات کو دن میں داخل کرتا ہے کہ رات میں سے کچھ حصہ کم ہوجائے اور دن میں رات کو داخل کر کے اس کو طویل کردیتا ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں خرچ کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے

7 : ٰامِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا (تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اور خرچ کرو اس مال سے) یہ انفاق زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کا احتمال رکھتا ہے۔ قائم مقام بنایا : مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ (جس مال میں اللہ تعالیٰ نے تم کو قائم مقام بنایا) یعنی تمہارے ہاتھوں میں جو اموال ہیں۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کے اموال ہیں۔ اسی نے یہ بنائے اور پیدا کیے ہیں۔ تم کو نفع اٹھانے کیلئے مالک بنایا ہے اور ان کے تصرفات میں تم کو اس نے اپنا نائب بنایا ہے۔ حقیقت میں یہ تمہارے اموال ہیں ہی نہیں۔ اور تم ان میں صرف وکیل اور نائب ہو اس لئے ان اموال میں سے حقوق اللہ میں صرف کرو اور اس میں سے خرچ تمہیں اسی قدر آسان ہونا چاہیے جتنا آدمی پر غیر کا مال خرچ کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ وہ غیر اس کو خرچ کی اجازت دے دے۔ نمبر 2۔ جعلکم مستخلفین اس نے تمہیں ان کا خلیفہ اور نائب بنادیا جو تم میں سے پہلے گزرے۔ تم ان کے وارث بن گئے اسی طرح یہ مال تم سے بھی منتقل ہو کر بعد والوں کو پہنچ جائے گا پس ان کے حالات سے عبرت حاصل کر کے اس میں بخل نہ کرو۔ فَالَّذیْنَ ٰامَنُوْا (پس وہ لوگ جو ایمان لائیں) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَہُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ (تم میں سے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں ان کو بڑا ثواب ہوگا)
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے

تم کیوں ایمان نہیں لاتے : 8 : وَمَا لَکُمْ لَاتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ( اور تمہارے لئے کیا سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے) یہ مالکم میں جو معنی فعل ہے اس سے حال ہے جیسا تم کہو : مالک قائما ؟ معنی یہ تم کھڑے کیا کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہوا تم کیوں کر اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو حالانکہ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ (رسول اللہ (ﷺ) تم کو بلا رہے ہیں) وائو حالیہ ہے۔ یہ دونوں حال متداخل ہیں۔ مطلب یہ ہے ایمان کو چھوڑنے میں تمہارے پاس کیا عذر ہے جبکہ رسول ﷺ تم کو بلا رہے ہیں۔ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّکُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ (کہ اپنے رب پر ایمان لائو۔ اور خود اللہ تعالیٰ نے تم سے پکا عہد لیا تھا) اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تم سے پکا وعدہ لیا اپنے اس قول سے الست بربکم ] الاعراف : 172[ نمبر 4۔ یا اس سبب سے کہ اس نے تمہیں عقول عنایت فرمائیں اور دلائل پر غور و فکر کی قوت عنایت فرمائی۔ پس جب تمہارے پاس عقلوں کی راہنمائی اور رسول ﷺ کی تنبیہ آچکی تو تم کیوں ایمان قبول نہیں کرتے ہو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم کو ایمان لانا ہو) کسی موجب کے سبب سے تو یہ موجب موجود ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی موجب ایمان نہیں ہوسکتا۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اور بیشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

قراءت : ابو عمرو نے اُخِذَ میثاقکم پڑھا ہے۔ 9 : ھُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ (وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ وہ اپنے بندے پر کھلی ہوئی آیتیں اتارتا ہے) عبدہٖؔ سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ یعنی قرآن مجید) لِّیُخْرِجَکُمْ (تاکہ وہ تم کو نکالے) اللہ تعالیٰ یا محمد ﷺ اپنی دعوت کے ذریعہ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (تاریکیوں سے روشنی کی طرف) یعنی ظلمات کفر سے نور ایمان کی جانب وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر بڑا شفیق اور مہربان ہے) انتہائی رأ فت اور رحمت والے ہیں۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ (اور جس نے یہ کام پیچھے کئے وہ) برابر نہیں ان لوگوں کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں خرچ (اموال) اور (کفار سے) جہاد و قتال کیا اور خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے واقف ہے

قراءت : لرئُ وف کو مد و ہمزہ کے ساتھ حجازی، شامی اور حفص نے پڑھا ہے۔ 10 : وَمَا لَکُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا (اور تمہارے لئے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے) الا سے قبل فی محذوف ہے کہ اس بارے میں ای فی الا تنفقوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (حالانکہ سب آسمان اور زمین اخیر میں اللہ تعالیٰ ہی کا رہ جائے گا) وہ ان میں ہر چیز کا اخیر میں مالک ہے کسی کے پاس کوئی مال وغیرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ انفاق کی ترغیب کا بلیغ پیرایہ : مطلب یہ ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے چھوڑنے کی تمہیں کیا غرض ہے اور اسی طرح اس کے رسول کے ساتھ تر کِ جہاد کی کیا غرض ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کرنے والے پھر تمہارے اموال کے وہی وارث ہونگے یہ انفاق فی سبیل اللہ پر ابھارنے کا بلیغ ترین انداز ہے۔ پھر دونوں خرچ کرنے والوں میں فرق بیان فرمایا، فرمایا لَایَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ (جو لوگ فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ کرچکے اور لڑ چکے برابر نہیں) یعنی فتح مکہ سے اسلام کو عزت و قوت ملی اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے اور وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا (دونوں برابر نہیں) من بعد الفتح کو حذف کردیا کیونکہ من الذینؔ انفقوا من بعد اس پر دلالت کررہا ہے۔ اُولٰٓپکَ (وہ لوگ جنہوں نے فتح سے قبل خرچ کیا) وہ السابقون الاولون من المہاجرین والانصار ] التوبہ : 100[ ہیں۔ انہی کے بارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ لو انفق احدکم مثل احد ذھبًا ما بلغ مداحدھم ولا نصیفہ ] رواہ البخاری : 3673 و مسلم : 2540[ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر سونا خرچ کرڈالے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے مد تو کجا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی (وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے اور اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ سب سے کیا ہے) کُلاؔ سے مراد فریقین میں سے ہر ایک۔ الحسُنٰیؔ عمدہ ثواب اور وہ جنت ہے تفاوت و فرقِ مراتب کے ساتھ ساتھ۔ : کلًا یہ وعد کا مفعول اول ہے الحسنیٰ مفعول ثانی ہے۔ قراءت : شامی نے کلٌ پڑھا۔ ای کل وعدہ اللّٰہ الحسنٰی۔ ہر وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ عمدہ ہے۔ ایک قول : یہ ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق اتری کیونکہ وہ سب سے پہلے اسلام لائے اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔ اس آیت میں ابوبکر صدیق ؓ کی فضیلت سب سے بڑھنے کی دلیل ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے) پس وہ تمہارے اعمال کی مقدار کے مطابق بدلہ دیں گے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے ؟ تو وہ اس کو اس سے دگنا ادا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی) جنت ہے

11 : مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض کے طور پر دے) حسنًا سے مراد بطیب خاطر یقرضؔ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ بطور استعارہ اس کو قرض سے تعبیر فرمایا تاکہ جزاء کے لازم ہونے پر دلالت کرے۔ فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ (پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جاتا ہے) یعنی اس کے انفاق پر وہ اپنے فضل سے کئی گنا بڑھا کر بدلہ دیتے ہیں۔ وَلَہٗ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (اور اس کے لئے اجر پسندیدہ ہے) وہ اجر جو کئی گنا بڑھا کر اس کو دیا گیا وہ ذاتی لحاظ سے پسندیدہ شاندار رزق ہے۔ قراءت : مکی نے فیضعّفُہٗ پڑھا۔ شامی نے فَیُضَعَّفَہٗ عاصم نے فَیُضَاعفَہُ اور سہل نے فَیُضَاعِفُہُ پڑھا ہے۔ جبکہ باقی قراء نے فَیُضَاعِفَہٗ پڑھا ہے۔ اس میں نصب تو جواب استفہام میں آیا اور رفع ھو مبتدأ محذوف فھو یضاعفہ کی بناء پر۔ یا یقرض پر عطف کی وجہ سے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے (ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے یہی بڑی کامیابی ہے

12 : یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے) نمبر 1۔ یوم یہ ولہ اجر کریم کا ظرف ہے نمبر 2۔ اذکر مضمر کا ظرف ہے اس دن کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے فعل محذوف ہے۔ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ (اس دن ان کا نور چلے گا یہ نور توحید صبر و طاعات کا ہوگا) دو طرفوں کا ذکر : بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ (ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑتا ہوگا) یہاں سامنے اور دائیں جانب کا ذکر کیا کیونکہ سعادت مندوں کو صحائف اعمال انہی دو طرفوں سے دیئے جائیں گے۔ جیسا کہ بدبختوں کو ان کے صحائف بائیں طرف اور پیٹھ پیچھے سے دئیے جائیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ مؤمنوں کیلئے بطور شعار کے ہر دو جانب نور پھیلا دیں گے۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو اپنی حسنات کے سبب سعادت مند ہوئے اور اپنے روشن صحائف سے کامران بنے۔ جب ان کو جنت کی طرف لے جایا جائیگا۔ تو پل صراط پر دوڑتے ہوئے گزریں گے اور ان کی یہ دوڑ ان کے نور کی تیزی کے حساب سے ہوگی ان کو ملائکہ کہیں گے۔ بُشْرٰکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ (آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی) جنات سے قبل دخول مضاف محذوف ہے ای دخول جنات۔ کیونکہ بشارت احداث و واقعات پر واقع ہوتی ہے۔ اجسام پر نہیں تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن کے اند روہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے)
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر (شفقت) کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو پھر ان کے بیچ میں ایک ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اسکی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (و اذیت)

منافقین کا پل صراط پر حال : 13 : یَوْمَ یَقُوْلُ : یہ یوم تریٰ سے بدل ہے۔ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوا انْظُرُ وْنَا (جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گی۔ کہ ذرا ہمارا انتظار کرو) انظروا، انتظار کے معنی میں ہے کیونکہ ایمان والوں کو کو ندنے والی بجلیوں کی طرح جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ قراءت : انظِرونا حمزہ نے پڑھا اور اس کو النَّظِرۃ بمعنی مہلت دینا سے لیا گیا ہے۔ آیت میں چلنے میں رفتار کے کم کرنے کو تاکہ وہ مل سکیں اِنظَار قرار دیا گیا۔ نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ (تاکہ ہم روشنی حاصل کرلیں) ہم اس میں سے پالیں۔ اور وہ اسی طرح ہے کہ وہ ان کے ساتھ آملیں پس اس سے روشنی ہوجائے۔ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآ ئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا (جواب دیا جائیگا۔ کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جائو پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو) اس میں ان کو دھتکار دیا جائیگا۔ اور شرمسار کرنے کیلئے ان کو فرشتے کہیں گے یا مومن کہیں گے ارجعوا تم موقف حساب کی طرف لوٹ جائو جہاں سے ہمیں یہ روشنی ملی ہے۔ پس وہاں روشنی تلاش کرو۔ بس اس جگہ سے اس کا شعلہ حاصل ہوگا۔ نمبر 2۔ دنیا کی طرف لوٹ جائو۔ اس کا سبب اصلی ایمان حاصل کر کے پھر وہاں سے روشنی کو تلاش کرو۔ فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ (پھر ان دونوں فریقوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائیگی) بینہم سے مؤمنین اور منافقین مراد ہیں۔ بِسُوْرٍ (ایک دیوار) جو اہل جنت اور اہل جہنم کے مابین حائل ہوگی ایک قول کہ وہ اعراف ہے۔ لَّہٗ (اس دیوار کیلئے) بَابٌ (دروازہ ہوگا) اہل جنت کیلئے جس میں سے وہ جنت میں داخل ہونگے۔ بَاطِنُہٗ (اس کی اندرونی جانب) دیوار کی اندرون یادروازے کی اندرون یہ وہ جانب ہوگی جو جنت کے قریب ہوگی۔ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ (اس میں رحمت ہوگی) نمبر 1۔ نور نمبر 2۔ جنت۔ وَظَاہِرُہٗ (اور اس کا بیرون) جو بیرون اہل نار کی جانب ہے۔ مِنْ قِبَلِہِ (اس کی طرف اور اس کے پاس) الْعَذَابُ (عذاب ہے) اندھیرا یا آگ ہے۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

(تو منافق لوگ مومنوں سے) کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزؤں نے تم کو دھوکا دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آپہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغا باز دغا دیتا رہا

14 : یُنَادُوْنَھُمْ (یہ منافق ان مؤمنوں کو پکاریں گے) اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) مراد اس سے ان کی وہ ظاہری مرافقت ہے جو دنیا میں وہ رکھے ہوئے تھے۔ قَالُوْا (وہ مومن کہیں گے) ۔ بَلٰی وَلٰکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ (کہ ہاں تھے تو صحیح لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا) تم نے اپنے کو نفاق کی مشقت میں ڈال کر اپنے نفسوں کو ہلاک کر ڈالا۔ وَتَرَبَّصْتُمْ (اور تم منتظر رہا کرتے تھے) ایمان والوں کے متعلق کہ ان پر کب حوادث پڑتے ہیں۔ وَارْتَبْتُمْ ( اور تم نے شک کیا) اور توحید میں تم نے شک کیا۔ وَغَرَّ تْکُمُ الْاَمَانِیُّ ( اور تم کو تمہاری تمنائوں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا) طویل امید اور درازیٔ عمر کی طمع۔ حَتّٰی جَآئَ اَمْرُاللّٰہِ (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا) یعنی موت آگئی۔ وَ غَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ (اور تم کو دھوکہ دینے والے نے دھوکا میں ڈال رکھا تھا) شیطان نے یہ دھوکا دیا کہ اللہ تعالیٰ تو معاف کرنے والے مہربان ہیں وہ تم کو عذاب نہ دیں گے۔ یا یہ کہ بعث و حساب کا وجود نہیں۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے

15 : فَالْیَوْمَ لَایُؤْخَذُ مِنْکُمْ (آج نہ تم سے لیا جائے گا) اے منافقو ! قراءت : شامی نے توخذ تاء سے پڑھا ہے۔ فِدْیَۃٌ (کوئی معاوضہ) جس سے فدیہ دیا جاسکے وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ کفَرُوْا مَاْ وٰ کُمُ النَّارُ ھِیَ مَوْلٰـکُمْ (اور نہ کافروں سے تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہی تمہارا رفیق ہے) ماوٰی : ٹھکانہ، مولیٰؔ بمعنی وہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔ مولاکمؔ ای محراکم وہ مکان تمہارے مناسب ہے جیسا کہتے ہیں۔ ھو مئنۃ للکرم۔ ای مکان جبکہ کوئی کہے انہ لکریمٌ وہ مکان مہربانی ہے۔ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ برا ٹھکانہ ہے) یعنی آگ۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں

16 : اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے) یانؔ یہ انی الامر یانی سے لیا گیا ہے، جبکہ اس کا وقت آجائے۔ ایک قول : مکہ میں قحط تھا۔ جب ہجرت کی تو رزق و نعمت میسر آگیا۔ جس بات پر پہلے عمل پیرا تھے اس سے ڈھیلے پڑگئے۔ تو یہ آیت اتری۔ روایت ابن مسعود ؓ : ہمارے اسلام اور ہمارے اس آیت سے عقاب کے درمیان چار سال کا فاصلہ ہے۔ قول ابوبکر ؓ : یہ آیت آپ کے سامنے پڑھی گئی جبکہ آپ کے سامنے اہل یمامہ کی ایک جماعت تھی وہ سنکربہت روئے۔ پس ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو دیکھ کر فرمایا ہم اسی طرح تھے یہاں تک کہ دل سخت ہوگئے۔ قراءت : نَزَلَ کو نافع و حفص نے تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ باقی قراء نے نَزَّل پڑھا ہے۔ اور ماؔ الذی کے معنی میں ہے۔ الذکرؔ اور مانزل من الحقؔ سے قرآن مجیدمراد ہے۔ کیونکہ قرآن ہر دو کا جامع ہے۔ ذکر و نصیحت ہے اور یہ وہ حق ہے جو آسمان سے اترا ہے۔ وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی) قراءت : لا یکونوا یاؔ کے ساتھ تخشع پر عطف کرتے ہوئے اور تاء کے ساتھ لا تکونواؔ پر یہ رویس کی قراءت ہے بصورت التفات اور یہ بھی درست ہے کہ ان کو اہل کتاب کے قسوئہ قلوب میں مشابہت میں ممانعت مقصود ہو اس کے بعد کہ ان کو تو بیخ کی گئی۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ حق ان کے اور ان کی خواہشات کے مابین گھومتا پھرتا تھا۔ جب انہوں نے تورات و انجیل کو سنا تو ان کے دلوں میں خشوع و رقت پیدا ہوئی۔ جب عرصہ درازہوگیا تو ظلم وسخت دلی ان پر غالب ہوگئی۔ اس وقت انہوں نے باہمی اختلاف کیا اور تحریف کو ایجاد کیا تاکہ خواہشات پوری ہوں۔ فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ (پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا) امد مدت مقررہ یا زمانہ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ (پھر ان کے دل خوب ہی سخت ہوگئے) اس کا سبب اتباع شہوت تھا۔ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ (اور ان میں سے بہت لوگ کافر ہیں۔ ) فاسق ؔ اپنے دین سے نکلنے والے۔ دونوں کتابوں میں جو کچھ تھا اس کا انکار کردیا۔ مطلب یہ ہوا کہ مؤمنوں کی تعداد ان میں بہت تھوڑی تھی۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

17 : اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا (یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے) قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (ہم نے تم سے اس کے نظائر بیان کردیے تاکہ تم سمجھو) ایک قول یہ ہے دلوں میں ذکرکے اثر کو بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے۔ کہ یہ ذکردلوں کو اسی طرح زندہ کردیتے ہیں جیسا بادل زمین کو زندہ کردیتا ہے۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں انکو دو چند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے

18 : اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ (بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں۔ ) قراءت : مصدّقات دال کی صرف تشدید سے مکی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ یہ مصدقین اسم فاعل کا صیغہ ہے باب صدق اس سے مراد وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے اللہ اور رسول کی تصدیق کی یعنی مؤمن۔ باقی قراء نے مُصّدّقین دونوں کی تشدید سے پڑھا ہے۔ اور یہ اسم فاعل تصدق سے ہے۔ پھر تاء کو صادؔ میں ادغام کردیا اور اس کو اصل پر بھی پڑھا گیا ہے۔ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (اور وہ خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو قرض دیتے رہے ہیں) اس کا عطف مصدقین میں معنی فعل پر ہے۔ کیونکہ المصدقین کی لام الذین کے معنی میں ہے۔ اور اسم فاعل، فعل کے معنی میں ہے اور وہ فعل اصدَّقُوا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ ان الذین اصدقوا و اقرضوا۔ قرض حسن (1) عمدہ شئی (2) خوشدلی سے خرچ کرے (3) اور نیت بھی درست ہو اور (4) خرچ بھی مستحق پر کی جائے۔ یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَہُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (وہ صدقہ ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لئے پسندیدہ اجر ہوگا ) قراءت : مکی و شامی نے یُضَعَّفُ پڑھا ہے۔ اجر کریم سے مراد جنت ہے۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا اور ان (کے ایمان) کی روشنی اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

19 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖٓ اُولٰٓپکَ ھُمُ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایسے ہی) الْصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّھَدَآ ئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ (لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں) مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین و شہداء کے مرتبہ میں ہیں۔ الصدیقونؔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تصدیق میں سبقت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوگئے۔ لَھُمْ اَجْرُ ھُمْ وَنُوْرُھُمْ (ان کے لئے خاص اجر ہے۔ اور پل صراط پر ان کا نور ہوگا) ان کو صدیقین اور شہداء جیسا اجر ملے گا۔ سو ان جیسا نور میسر ہوگا۔ فائدہ : اور یہ بھی درست ہے کہ الشہداء مبتدأ اور لھم اجر ھم اس کی خبر ہو۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِایٰتِنَآ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخی ہیں)
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت (و آرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (و ستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اگتی ہے اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے ! ) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

20 : اِعْلَمُوْا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ (تم خوب جان لو، کہ بیشک دنیا کی زندگی محض لعب) جیسا بچوں کا کھیل ہوتا ہے۔ وَّلَھْوٌ (اور لہو ہے) جیسے نوجوانوں کا بہلاوا ہوتا ہے۔ وَّزِیْنَۃٌ ( اور زینت و سجاوٹ ہے) جیسا عورتوں کی زینت وَّ تَفَاخُرٌم بَیْنَکُمْ ( اور ایک دوسرے پر فخر کرنا ہے) جیسا ہم جو لی ایک دوسرے پر بےجا تفاخر کرتے ہیں۔ وَتَکَاثُرٌ (اور کثرت میں مقابلہ ہے) جیسا کسان کثرت میں مقابلہ کرتے ہیں۔ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَ وْلَادِ (مال و اولاد میں) ان کے ذریعہ فخر و مباہات ہے التکاثر۔ کثرت کا مدعی بننا۔ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ (جیسے بارش کہ اس کی پیدوار کاشتکاروں کو اچھی لگتی ہے۔ پھر وہ خشک) فَتَرٰہُ مُصْفَرًّا (ہو جاتی ہے کہ تم کو زرد دکھائی دیتی ہے) اس کے بعد کہ وہ سبز تھی۔ ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا (پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے) حطام : ریزہ ریزہ۔ دنیا کی بےثباتی اور سرعت زوال اور قلت منفعت کو اس نبات سے تشبیہ دی جس کو بارش اگائے۔ وہ درست اگ کر مضبوط ہوجائے۔ اور وہ ان کفار کو جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے منکر ہیں کہ بادل و نبات سے اللہ تعالیٰ نے ان پر کیا انعام کردیا ہے ان کفار کو وہ خوب صورت نظر آتی ہے اللہ تعالیٰ نے اچانک آفت بھیجی جس سے اس نے جوش مارا اور وہ زرد پڑگئی۔ اور ریزہ ریزہ کردی گئی یہ ان کے انکار نعمت کی بناء پر ہوا جیسا کہ باغ والوں کے ساتھ پیش آیا۔ ایک قول یہ ہے کفار سے کسان مراد ہے۔ وَ فِی الاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ (اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔ ) کفار کیلئے وَّ مَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٌ ( اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے) ایمان والوں کیلئے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا ایک معمولی شئی ہے۔ بس وہ لہود لعب، زینت و تفاخر و تکاثر کا نام ہے۔ اور وہی آخرت وہ عظیم الشان معاملات کا نام ہے۔ سخت قسم کا عذاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت و رضا مندیاں۔ نحو : کمثل غیثؔ اس میں کاف محل رفع میں واقع ہے۔ اسطور پر کہ یہ خبر کے بعددوسری خبر ہے۔ ای الحیاۃ الدنیا مثل غیثٍ ۔ وَ مَا الْحَیٰوۃ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (اور دنیا کی زندگی محض سامان فریب ہے) اس شخص کیلئے جو دنیا کی طرف جھک گیا اور اس پر اعتماد کر بیٹھا۔ قول ذوالنون (رح) : اے مریدین کے گروہ ! دنیا کو طلب مت کرو۔ اور اگر تم اس کو طلب کرو تو اس سے محبت مت کرو۔ پس اس سے زاد راہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اور قیلولہ کسی دوسری جگہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو ! ) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے (اور) جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

21 : مسئلہ : جب دنیا کی تحقیر اور تذلیل ذکر کردی اور آخرت کی عظمت شان بتلا دی۔ اب اپنے بندوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ میں نے آخرت میں جو وعدہائے حسنہ کیے ہیں ان کو پانے کیلئے مسارعت کریں۔ وہ وعدہ مغفرت اور سخت عذاب سے نجات پانا ہے۔ اور ہمیشہ کی کامرانی جنت کے داخلہ کی صورت میں پالینا ہے۔ فرمایا سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اور تم تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت) اعمال صالحہ کے ذریعہ ایک قول سارعوا مسارعۃ المسابقین۔ تم مقابلہ کے میدان میں دوڑ میں مقابلہ کرنے والوں کی طرح جلدی کرو۔ عرضِ جنت : وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہے) ۔ قولِ سدی m : جس کی چوڑائی ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے عرض کے برابر ہے۔ آیت میں عرض کو ذکر فرمایا۔ طول کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ جس چیز کا طول عرض ہو اس کا عرض طول سے چھوٹا ہوتا ہے۔ جب جنت کے عرض کی وسعت اور پھیلائو اتنا بڑا ہے تو اس کا طول تو بہت ہی وسیع ہوگا۔ نمبر 2۔ عرضؔ سے مطلق پھیلائو مراد ہے۔ اس سے ان لوگوں کی بات کی تردید ہوتی ہے۔ جو جنت کو چوتھے آسمان میں بتلاتے ہیں۔ کیونکہ جو ایک آسمان میں سمانے والی ہو وہ عرض میں ساتوں آسمان اور زمین کے برابر کہاں ہوگی۔ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْابِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ (وہ ان لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں) ۔ فائدہ : یہ دلیل ہے کہ جنات بنائی جاچکی ہیں۔ ذٰلِکَ (یہ) مغفرت و جنت کا وعدہ۔ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ (اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہے عنایت کرے) اور وہ مومن ہیں جو اس کے مستحق ہیں۔ مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر جنت میں نہ جائے گا۔ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں) ۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

22 : : پھر بیان فرمایا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر سے ہوتا ہے۔ فرمایا : مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ (کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے) مصیبت سے مراد قحط، کھیتوں اور پھلوں پر اترنے والی آفات۔ نحو : فی الارض یہ موضع جر میں ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ما اصاب من مصیبۃ ثابتۃ فی الارض۔ وَلَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ (اور نہ تمہاری جانوں میں) جیسے امر اض، تکالیف اور موت ِاولاد وغیرہ۔ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ (مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے) کتابؔ لوح محفوظ میں ہے۔ نحو : یہ موضع حال میں ہے ای الا مکتوبًا۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا (اس سے قبل کہ ہم ان کو پیدا کردیں) اس سے پہلے کہ ہم نفوس کو پیدا کریں۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ) اس کا اندازہ اور کتاب میں لکھنا و قائم کرنا۔ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ (اللہ تعالیٰ کے نزدیک آسان کام ہے) اگرچہ بندوں کے لئے مشکل ہے۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور خدا کسی اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

23 : : پھر اس کا سبب اور حکمت کو واضح کیا۔ فرمایا لِّکَیْلَا تَاْسَوْا (یہ بات اس لئے کہ تم غمگین نہ ہو) ایسا غم نہ کرو جو تمہیں سرکشی میں مبتلا کر دے۔ عَلٰی مَا فَاتَکُمْ (جوچیز تم سے جاتی رہے) جیسے دنیا کی خوشحالی نمبر 2۔ عافیت و صحت۔ وَلَا تَفْرَحُوْا (اور نہ اترانے لگو) جیسے متکبر فخر والے کرتے ہیں۔ بِمَآ اٰتٰکُمْ (جو چیز تم کو عطاء فرمائی) یہ اعطاء کے معنی میں ہے یا الایتاء مصدر سے ہے۔ قراءت : ابوعمرو نے اتاکم پڑھا یعنی جو آئے تمہارے پاس۔ ہر چیز مقدر سے ملے گی : یہ الاتیان سے ہے مطلب یہ ہے جب تمہیں یہ معلوم ہوگا کہ ہر چیز مقدر اور اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھی ہوئی ہے۔ تو فوت شدہ چیز پر تمہیں افسوس کم ہوگا اور آنے والی چیز پر اترانا بھی کم ہوگا۔ کیونکہ جس کو یہ معلوم ہے جو کچھ اس کے پاس ہے یہ بہرحال مفقود ہوگا تو اس کی گمشدگی پر اس کو زیادہ افسوس نہیں ہوگا کیونکہ اس نے اپنے کو اس کا عادی بنا لیا ہے۔ اسی طرح جس کو یہ معلوم ہے کہ بعض بھلائیاں مجھے ملنے ہی والی ہیں اور وہ کسی حال میں مجھ سے رہ نہیں سکتیں تو حاصل ہوجانے پر وہ حد سے زیادہ خوش نہ ہوگا۔ اور ہر آدمی منفعت کے پالینے پر خوش ہوتا ہے اور تکلیف کے اترنے پر غمگین ہوتا ہے۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ خوشی شکریہ کی صورت میں ہو۔ اور غم صبر کی شکل میں ہو۔ ایسا حزن جو جزع فزع تک پہنچادے۔ وہ منافی صبر ہونے کی وجہ سے قابل مذمت ہے اور وہ خوشی جو سرکشی میں مبتلا کر کے شکر سے غافل کر دے وہ بھی مذمت کے قابل ہے۔ وَاللّٰہُ لَایُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ ڑ (اللہ تعالیٰ کسی شیخی باز اترانے والے کو پسند نہیں کرتے) لیکن جو شخص دنیا کے کسی حصہ پر خوش ہوا اور اپنے دل میں اس کو بڑا سمجھا تو وہ فخر غرور میں مبتلا ہو کر شیخی بگھارے گا اور لوگوں پر بڑائی ظاہر کرے گا۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ (اور) سزاوار حمد (و ثنا) ہے

24 : الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ (وہ ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں) یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ کل مختال فخور کا بدل ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے لا یحب الذین یبخلون (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو بخل کرتے ہیں) وہ لوگ جو سرکشی والی خوشی میں مبتلا ہیں وہ یہ چاہتے ہیں جب ان کو مال ملے وہ اور دنیا کا حصہ پائیں تو وہ اس مال کی محبت کی وجہ سے اور ان کے نزدیک اس کی بڑائی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق سے منہ موڑتے اور اس میں بخل کرتے ہیں۔ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ (اور وہ دوسرے لوگوں کو بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں) اور دوسروں کو بخل پر آمادہ کرتے ہیں۔ اور مال کے روک رکھنے کی ان کو رغبت دلاتے ہیں۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ (اور جو شخص روگردانی کریگا) انفاق سے منہ موڑے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی سے منہ موڑے گا اور جس بات سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا وہ اس سے نہ باز رہے گا۔ مثلاً فوت شدہ چیز پر شدید افسوس اور ملنے والی چیز پر اترانا۔ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ (تو اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے) تمام مخلوقات سے پس اس شخص سے بےنیاز کیوں نہ ہوگا۔ الْحَمِیْدُ (وہ سزا وار حمد ہیں) اپنے افعال میں۔ قراءت : مدنی اور شامی نے فان اللّٰہ الغنی پڑھا ہے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرلے بیشک خدا قوی (اور) غالب ہے

رسل سے مراد : 25 : لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا (ہم نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا) ہم نے ملائکہ کو اپنے انبیاء (علیہم السلام) کے پاس بھیجا۔ بِالْبَیِّنٰتِ (دلائل و معجزات کے ساتھ) وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ (اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اتاری) الکتاب سے مراد وحی۔ ایک قول الرسل سے انبیاء مراد ہیں۔ مگر قول اول اولیٰ ہے اس لئے کہ معھمؔ کا لفظ اس کی تائید کرتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) پر کتاب نازل ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ نہیں۔ وَالْمِیْزَانَ (اور انصاف کا حکم اتارا) روایت میں ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) میزان لے کر اترے اور نوح (علیہ السلام) کے اس کو سپرد کیا اور کہا اپنی قوم کو اس کے ساتھ وزن کا حکم دیں۔ لِیَقُوْمَ النَّاسُ (تاکہ لوگ قائم رہیں) تاکہ وہ اپنے مابین برابری سرابری کے ساتھ معاملات کریں۔ بِالْقِسْطِ (اعتدال کے ساتھ) اور کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔ لوہے کو پیدا کیا : وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ (اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا) ایک قول یہ ہے آدم جنت سے ان کو لے کر آئے۔ اس وقت ان کے پاس پانچ چیزیں تھیں۔ لوہا۔ ہتھوڑا، سوئی ‘ ہرن ‘ چل اس۔ روایت میں ہے ان کے ساتھ پھاوڑا۔ قو لِ حسن انزلنا کا معنی خلقنا ہے۔ فوائد ِحدید : فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ (اس میں شدت و مصیبت ہے) اس سے قتال کیا جاتا ہے۔ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ( اور لوگوں کے طرح طرح کے فائدے ہیں) ۔ مصالح، صنعتوں اور زندگی کے بہت سے مقامات پر استعمال ہوتا ہے۔ ہر صنعت کا آلہ لوہے سے تیار ہوتا ہے نمبر 2۔ جو بھی کام کیا جاتا ہے وہ لوہے سے وابستہ ہے۔ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ (تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے) تلواروں کو استعمال کر کے اور نیزے کام میں لا کر اور دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں تمام آلات حدیدہ کام میں لائے جائیں۔ قول الزجاج (رح) : تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ کون اس کے رسول کے ساتھ ہو کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے۔ بِالْغَیْبِ (بےدیکھے) اس حالت میں کہ یہ ان سے غائب ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ (بیشک اللہ تعالیٰ قوت والے ہیں) وہ اپنی قوت سے دور کرتے ہیں اس کی لڑائی جو دین اسلام سے اعراض کرتا ہے۔ عَزِیْزٌ (وہ زبردست ہے) وہ اپنے غلبہ سے اس آدمی کے جوش کو روک دیتا ہے جو اس کی نصرت کے راستے میں آڑ بنتا ہے۔ فائدہ : ان تین آیات کے درمیان مناسبت یہ ہے کہ کتاب شریعت کا قانون اور احکامات وحدود دینیہ کا دستور ہے۔ جو عہد و مراشد کے راستوں کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ اور جامع احکام اور حدود پر مشتمل ہے۔ عدل و احسان کا حکم دیتا اور سرکشی اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔ عدل کا استعمال اور ظلم سے پرہیز ایسے آلہ سے ہونا چاہیے جس سے تعامل واقع ہو اور باہمی عدل وبرابری حاصل ہو۔ وہ میزان ہے اور یہ بات جانی پہچانی ہے۔ کہ کتاب جو کہ اوامر الٰہیہ کی جامع ہے اور وہ برابر باہمی معاملات کیلئے مقرر شدہ آلہ ہے۔ عام آدمی کو ان کی اتباع پر پختہ تلوار کے ذریعہ رکھا جاسکتا ہے۔ جو کہ منکرین و معاندین کیلئے اللہ تعالیٰ کی حجت ہے۔ اور وہ تلوار حدید ہی تو ہے جس کی صفت باس شدید سے فرمائی گئی ہے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر) بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

26 : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰھِیْمَ (اور ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا) ان دونوں کا خصوصاً تذکرہ اس لئے فرمایا کیونکہ یہ دونوں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کے جدامجد ہیں۔ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمَا (اور ہم نے ان کی اولاد میں جاری رکھی) ان کی اولاد میں النُّبُوَّۃَوَالْکِتٰبَ (نبوت اور کتاب) یعنی وحی۔ قول ابن عباس ؓ : الخط بالقلم اس کو کتب کتاباً و کتابۃ سے تعبیر کرتے ہیں۔ فَمِنْہُمْ (سو ان لوگوں میں) پس نمبر 1۔ اس اولاد میں سے یا نمبر 2۔ مرسل الیہم میں سے۔ اور ان دونوں پر ارسال اور مرسلین کا تذکرہ دلالت کر رہا ہے۔ مُّھْتَدٍوَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ (پس ان لوگوں میں بعض تو ہدایت یافتہ ہوئے اور بہت سے ان میں نافرمان تھے) یہ ان کے حالات کی تفصیل ہے کہ کچھ ان میں سے اتباع رسل کی وجہ سے ہدایت پا گئے اور بعض ان میں سے اطاعت سے نکل کر فاسق بن گئے اور غلبہ فساق و فجار کا تھا۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے انکا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

27 : ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ (پھر ان کے بعد بھیجتے رہے، یکے بعد دیگرے) یعنی نوح و ابراہیم (علیہم السلام) کے بعد۔ اور اسی طرح جو انبیاء (علیہم السلام) ہو گزرے۔ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً (رسولوں کو اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا ان کے دلوں میں ہم نے شفقت و رحمت پیدا کردی) رأفۃ مودت و نرمی کو کہتے ہیں رحمتؔ اپنے بھائیوں سے مہربانی جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی صفات میں آیا ہے۔ رحماء بینہم ] الفتح : 29 [ وَرَھْبَا نِیَّۃَ اڑبْتَدَ عُوْھَا (اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا) رہبانیت ؔ پہاـڑوں میں الگ تھلگ چلے جانا۔ تاکہ دین محفوظ ہوجائے اور الگ ہو کر اپنے کو عبادت کیلئے وقف کردیں۔ مسئلہ : یہ الرھبان سے اسم منسوب ہے۔ اور رھبان یہ فعلان کا وزن ہے۔ رھب یرھب ڈرنے والا جیسا خشیان از خشی یخشی رھبانیۃ یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ ظاہر جس کی تفسیر کر رہا ہے اے ابتدعوا رھبا نیۃ ابتدعوھا یعنی اس کو اپنی طرف سے نکالا اور اس کی نذر مان لی۔ مَاکَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ (ہم نے اس کو ان پر واجب نہیں کیا تھا) ہم نے ان پر اس کو فرض نہیں کیا۔ اِلَّا ابْتِغَآ ئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ (لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے اس کو اختیار کیا تھا) یہ مستثنیٰ منقطع ہے لیکن انہوں نے اس کو ایجاد کیا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہنے کیلئے۔ لکنھم ابتدعوھا ابتغاء رضوان اللّٰہ۔ نذر کی رعایت نہ کی : فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا (پس انہوں نے اس رہبانیت کی پوری نگہداشت نہیں کی) جیسا کہ نذر ماننے والے کو اپنی نذر کی رعایت کرنا لازم ہے۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ سے ایسا عہد کیا ہے جس کا توڑنا جائز نہیں۔ فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْہُمْ اَجْرَ ھُمْ (ان میں جو لوگ ایمان لائے ہم نے ان کا اجر ان کو عطاء کردیا) یعنی رأفت و رحمت والے لوگ جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کی۔ اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئے۔ وکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ (اور زیادہ ان میں نافرمان ہیں) فاسق ؔ یہاں کافر کے معنی میں ہے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

28 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا ( اے ایمان والوں) اے عیسیٰ پر ایمان رکھنے والو ! اس میں خطاب اہل کتاب کو ہے۔ اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ (اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لائو) رسول سے یہاں محمد ﷺ مراد ہیں۔ یُؤْتِکُمْ (وہ اللہ تعالیٰ تمہیں دے گا) کِفْلَیْنِ (دو حصے) مِنْ رَّحْمَتِہٖ (اپنی رحمت سے) اس لئے کہ تم محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ان پیغمبروں پر ایمان لائے جو ان سے پہلے ہوئے۔ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ (اور تم کو عنایت کریگا) قیامت کے دن نُوْرًاتَمْشُوْنَ بِہٖ (ایسا نور کہ اس کو تم لیے ہوئے چلو گے) یہ وہی نور ہے جس کا تذکرہ اس ارشاد میں فرمایا یسعیٰ نور ھم ] الحدید : 12[ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ( اور تم کو بخش دے گا) تمہارے گناہ۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ غفوررحیم ہیں)
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

29 : لِئَلَّا یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ (تاکہ اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے) ۔ اس سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اسلام نہ لائے۔ نحو : لئلا یعلم کالاؔ زائدہ ہے۔ اَ لَّا یَقدِرُوْنَ (کہ ان کو دسترس حاصل نہیں) اَلاَّ میں ان مخففہ من المثقلہ ہے اس کی اصل یہ ہے انہ لا یقدرون یعنی اَنَّ الشأن لا یقدرون۔ شان یہ ہے کہ وہ قدرت و دسترس نہیں رکھتے۔ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی) یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کے اس فضل میں سے کچھ بھی نہ ملے گا۔ جس کا ذکر فرمایا گیا کہ دو حصے رحمت اور نور اور مغفرت کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے ( جو کہ اس فضل کو ملنے کیلئے شرط تھی۔ ) پس ان کا ماقبل انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان ان کو فائدہ نہ دے گا۔ اور اس سے وہ فضل کو کبھی نہ کما سکیں گے۔ (کیونکہ اس رسول کو نہ مان کر گویا انہوں نے سارے رسولوں کی تکذیب کردی) وَاَنَّ الْفَضْلَ (اور یہ کہ فضل) اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس کا عطف لا یقدرون پر ہے۔ بِیَدِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے) یعنی اس کی ملک اور تصرف میں ہے۔ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآ ئُ (وہ جس کو چاہے عطاء فرما دے) اپنے بندوں میں سے وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے) ۔