Ayah 56:11 : اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ جب قیامت قائم ہوگی ایک قول یہ ہے قیامت کو واقع سے اس لئے تعبیر کیا کیونکہ قیامت بہر حال آئے گی۔ گویا اس طرح فرمایا اذا وقعت لا بد من وقوعہاجب وہ آجائے گا۔ جس کا وقوع یقینی ہے۔ وقوع الامر عرب کے لوگ اس وقت بولتے ہیں جبکہ وہ اتر پڑے چناچہ کہتے ہیں وقع ماکنت اتوقعہ یعنی وہ اتر پڑا جس کے نزول کا میں منتظر تھا۔
نحو : اذا اذکرؔ فعل کی وجہ سے ہے۔
Ayah 56:22 : لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَۃٌ (اس کا جھٹلانے والا کوئی نہ ہوگا) کاذبہ یہ نفس کی صفت ہے مطلب یہ ہے جب قیامت واقع ہوجائے گی تو کوئی نفس اس وقت ایسا نہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول سکے۔ اور غیب کی تکذیب میں کذب بیانی کرے۔ کیونکہ اس وقت ہر نفس ایمان لانے اور سچ بولنے اور تصدیق کرنے والا ہوگا۔ آج کی دنیا میں اکثرنفوس جھوٹ بولنے والے ‘ تکذیب کرنے والے ہیں۔
نحو : لوقعتھا کی لام اسی طرح ہے جیسا اس ارشاد میں : یٰلیتنی قدمت لحیاتی ] الفجر : 24[
Ayah 56:3مناظر قیامت :
3 : خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ (وہ پست کر دے گی ‘ بلند کر دے گی) یعنی وہ پست و بلند کرنے والی ہے۔ بعض لوگوں کو بلند کردے گی اور دوسروں کو ذلیل کر دے گی۔
Ayah 56:44 : اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا (جب زمین سخت ہلائی جائے گی) یہاں تک کہ ہر چیز جو اس پر واقع ہے پہاڑ، تعمیرات یہ سب گر کر منہدم ہوجائیں گے۔
نحو : یہ اذاؔ وقعت سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ خافضۃ رافعۃ کی وجہ سے اس کو منصوب قرار دینا بھی درست ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے تخفض و ترفع وقت رج الارض و بس الجبال۔
Ayah 56:55 : وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا (اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے) اور ریزہ ریزہ ہو کر ستو کی طرح ہوجائیں گے۔ یا چلائے جائیں گے اس وقت یہ بَسَّ الغنم۔ (اس نے بکریوں کو چلایا) جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : و سیرت الجبال ] النباء : 20[
Ayah 56:66 : فَکَانَتْ ھَبَآ ئً (پھر وہ غبار ہوجائیں گے) مُّنْچبَثًّا (پراگندہ) متفرق۔
Ayah 56:7تین اقسام :
7 : وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا (اور تم ہوجائو گے) ازواجًا اصناف کے معنی میں ہے یہ ان اصناف کیلئے آتا ہے جو ایک دوسرے سے ہوں یا جن کے بعض کا ذکر بعض کے ساتھ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ کیا جائے۔ ثَلٰثَۃً (تین قسم) دو قسمیں جنت اور ایک قسم جہنمی۔ پھر ان اقسام کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 56:88 : فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ (سو جو داہنے والے ہیں) یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا صحیفہ عمل ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ (اور دائیں طرف والے کیسے اچھے ہونگے دائیں طرف والے) یہ مبتدأ و خبر مل کر اصحاب المیمنۃ کی خبر ہے۔ اس میں ان کی سعادت والی حالت اور عظمت شان پر تعجب ظاہر کیا گیا گویا اس طرح فرمایا ماھم ؟ وای شیٔ ھم ؟ وہ کیا ہیں اور کیا چیز ہیں ؟ ( جو اس قدر اعزاز ملا)
Ayah 56:99 : وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ (اور بائیں طرف والے) یعنی وہ لوگ جن کو ان کے صحائف اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ نمبر 2۔ بلندمرتبہ والے اور خسیس ترین مرتبہ والے۔ جیسا کہتے ہیں فلان منی بالیمین و فلان منی بالشمال۔ جبکہ تم ان دونوں کی تعریف بلندی اور حقارت کے ساتھ کرو۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب یمین کے ساتھ برکت اور بائیں طرف سے نحوست مراد لیتے تھے۔ ایک اور قول یہ ہے اہل جنت کو دائیں جانب سے لیا جائے گا۔ اور اہل نار کو بائیں جانب سے۔ ماَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ (کیسے برے ہونگے بائیں طرف والے) وہ کیا چیز ہیں ؟ بدبختی میں ان کی اس حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ ( کہ یہ لوگ کتنے ہی بدبخت ہیں ؟ )
Ayah 56:1010 : وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ( اور جو آگے بڑھنے والے ہیں وہ آگے بڑھنے والے ہیں) پہلا السابق مبتدأ اور دوسرا خبر ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ السابقون الی الخیرات السابقون الی الجنات جو بھلائی کی طرف بڑھنے والے ہیں وہ جنتوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ ایک اور قول یہ ہے دوسرا السابقون اول کی تاکید ہو کر مبتدأ ہے اور۔
Ayah 56:1111 : خبر اولئک المقربون ہے۔ اُولٰٓپکَ الْمُقَرَّبُوْنَ (اور جو اعلی درجہ کے ہونگے وہ تو اعلیٰ درجہ کے ہی ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے مقرب ہونگے)
دونوں میں اوّل ترکیب راجح ہے۔
Ayah 56:1212 : فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (آرام کے باغ میں ہونگے) یعنی وہ آرام کے باغ میں ہونگے۔ مبتدأ محذوف ہے۔
Ayah 56:1313 : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ (ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا) ثُلۃ لوگوں کی بہت بڑی جماعت معنی یہ ہے ساتفین اول لوگوں میں بہت ہونگے۔
Ayah 56:1414 : وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ (اور پچھلے لوگوں میں سے تھوڑے ہونگے) اور یہ آدم (علیہ السلام) سے محمد ﷺ تک تمام امتوں سے ہونگے۔ قلیل من الآخرین اس سے محمد ﷺ کی امت مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ من الاولین سے اس امت کے متقدمین اور آخرینؔ سے امت کا پچھلا طبقہ مراد ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ دونوں طبقے میری امت سے ہیں۔ ( طبری۔ ابن عدی، بحو الٰہ کشاف)
Ayah 56:15جنت کے مناظر :
15 : عَلٰی سُرُرٍ (تختوں پر) سرر جمع سریر جیسا کثیب و کثب۔ مَّوْضُوْنَۃٍ (سونے کے تاروں سے بنے ہوئے) جو سونے کے تاروں اور موتیوں اور یاقوت سے بنے ہوئے ہونگے۔
Ayah 56:1616 : مُّتَّکِئِیْنَ (وہ تکیہ لگانے والے ہونگے) یہ علیؔ کی ضمیر سے حال ہے۔ اور وہی اس میں عامل ہے تقدیر کلام اس طرح ہے استقروا علیھا متکئینتم استقرار اختیار کرو اس پر اس حال میں کہ وہ تکیہ لگانے والے ہونگے۔ عَلَیْھَا مُتَقٰبِلِیْنَ (آمنے سامنے بیٹھنے والے ہونگے) وہ ایک دوسرے کے چہرہ کو دیکھیں گے ایک دوسرے کی پشت کی طرف دیکھنا نہ ہوگا۔ ان کی یہ صفت اس لئے بیان کی گئی تاکہ ان کے حسن معاشرت، تہذیب اخلاق اور خالص مودت پر دلالت کرے۔
نحو : متقابلین بھی حال ہے۔
Ayah 56:1717 : یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ (اور ان کے پاس آتے جاتے رہیں گے) ان کی خدمت کریں گے۔ وِلْدَانٌ (لڑکے) جمع ولید بمعنی لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ (ہمیشہ رہنے والے ہونگے) وہ لڑکوں کی شکل میں ہمیشہ رہیں گے اس حالت سے نہیں پھریں گے۔ ایک قول یہ ہے ان کے کانوں میں بالیاں ڈالی جائیں گی۔ عرب الْخُلدۃ بالی کو کہتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے یہ اہل دنیا کی وہ اولاد ہے کہ جن کی کوئی نیکی نہ تھی کہ ان کو ثواب ملے اور نہ کوئی گناہ تھا کہ ان کو عذاب دیا جائے۔ حدیث میں ہے جس کو بزاز نے کشف الاستار میں ذکر کیا ہے۔ اولاد کفار اہل جنت کے خدام ہونگے۔ مجمع الزوائد 7/219 کشف الاستار 2172۔
Ayah 56:1818 : بِاَکْوَابٍ (آبخوروں کے ساتھ) اکواب جمع کو ب ایسا برتن جس کا دستہ نہ ہو اور نہ ٹونٹی۔ وَّاَبَارِیْقَ جمع ابریق (لوٹے) جس برتن کا دستہ اور ٹونٹی دونوں ہوں۔ وَکَاْسٍ (اور جام جن میں شراب ہوگی) اور ان میں شراب نہ ہو تو اس کو کاس نہ کہیں گے۔ مِّنْ مَّعِیْنٍ (جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا) ان کے پاس آبخورے، آفتابے اور جاری رہنے والی شراب سے بھرے ہوئے جام لیئے ہونگے۔ معین ؔ وہ شراب جو چشموں سے جاری ہوگی۔
Ayah 56:1919 : لَّایُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا (نہ اس شراب سے ان کو درد سر ہوگا) عنہاؔ اس کے سبب سے۔ حقیقت میں یہ اس طرح ہے لا یصدر صداعھم عنھا ان کا سر درد اس کی وجہ سے صادر نہ ہوگا۔۔ وَلَا یُنْزِفُوْنَ (اور نہ عقل میں فتور آئے گا) نہ ان کو نشہ چڑھے گا۔ عرب کہتے ہیں۔ نزف الرجلؔ اس کی عقل جاتی رہی نشے کی وجہ سے۔
قراءت : ینزفون زاء کا کسرہ کو فیوں نے پڑھا۔ ان کی شراب ختم نہ ہوگی کہتے ہیں۔ اَنْزَفَ القَوْم جبکہ ان کی شراب ختم ہوجائے۔
Ayah 56:2020 : وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ( اور پسندیدہ میوے) ان میں سے افضل و عمدہ وہ پسند کر کے لیں گے۔
Ayah 56:2121 : وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ( اور مرغوب خاطر پرندوں کا گوشت) یشتھون تمنا کرنے کے معنی میں آتا ہے۔
Ayah 56:2222 : وَ حُورٌ عِیْنٌ ( اور گوری گوری بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی) حورٌ یہ حوراء کی جمع ہے۔ عینعیناء کی جمع ہے۔ یعنی اس جنت میں بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی۔ نمبر 2۔ ان کے لئے بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کا عطف ولدانٌ پر ہو۔
قراءت : حمزہ، علی، یزید نے حورٍ پڑھا اور اس کو جنات النعیم پر عطف کیا۔ گویا اس طرح فرمایا ھم فی جنات وفاکھۃ ولحم و حورٍ وہ باغات اور میوے اور گوشت اور حوروں میں ہونگے۔
Ayah 56:2323 : کَاَمْثَالِ اللُّؤْ لُؤِ الْمَکْنُوْنِ (جیسے حفاظت سے پوشیدہ رکھا ہوا موتی) لؤلؤ کے ساتھ صفائی و ستھرائی میں تشبیہ دی۔ اور المکنونؔ محفوظ قول الزجاج (رح) موتیوں کی طرح جب کہ ان کو سیپ سے نکالا جائے اور زمانہ نے اس میں کوئی تبدیلی نہ کی اور نہ استعمال کے مختلف حالات سے وہ گزرا ہو۔
Ayah 56:2424 : جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ہوگی) جزاء ً یہ مفعول لہ ہے۔ یعنی یہ سب کچھ سلوک ان کے اعمال کے بدلہ کی خاطر کیا جائے گا۔ یا جزاء مصدر ہے تقدیر اس طرح ہے یجزون جزائً ان کو بدلہ دیا جائے گا بدلہ دیا جانا۔
Ayah 56:2525 : لَایَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّ لَاتَاْ ثِیْمًا (اور وہاں وہ نہ بک بک سنیں گے اور نہ کوئی بیہودہ بات) وہ جنتوں میں کوئی باطل بات اور نہ ہی ہذیان سنیں گے۔
Ayah 56:2626 : اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا (سلام ہی سلام کی آواز آئے گی) مگر سلامتی والی بات۔
نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ اور سلاماً یہ قیلاً سے بدل ہے یا قیلاً یہ مفعول بہٖ ہے۔ یعنی وہ اس میں کوئی چیز نہ سنیں گے سوائے سلام سلام کہنے کے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو السلام علیکم کھل کر کہیں گے۔ وہ سلام کے بعد سلام کہیں گے۔
Ayah 56:2727 : وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ( اور دائیں طرف والے، وہ کیسے اچھے ہونگے دائیں طرف والے)
Ayah 56:2828 : فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ (جہاں بےخاربیریاں) السِّدْر بیری کا درخت۔ المخضودؔ جس میں کانٹا نہ ہو گویا اس کے کانٹے کو کاٹ دیا گیا ہے۔
Ayah 56:2929 : وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ (تہ بہ تہ کیلے) الطلعؔ : کیلے کا پودا المنضود : جو پھل کی وجہ سے نیچے سے اوپر تک بھرا ہو۔ اس کا ظاہر ہونے والا کوئی تنا نہیں ہوتا۔
Ayah 56:3030 : وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ( اور وسیع سائے) دراز پھیلے ہوئے جیسا کہ سائے طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے وقت ہوتے ہیں۔
Ayah 56:3131 : وَّمَآ ئٍ مَّسْکُوْبٍ (اور آب رواں) جو بلا کھائی اور کنارے کے جاری ہوگا۔ یعنی وہ زمین پرنالیوں کے بغیر چلے گا۔
Ayah 56:3232 : وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ (اور کثیر خوش ذائقہ پھل ہوں گے) کثیرہؔ سے کثیر الاجناس مراد ہے۔
Ayah 56:3333 : لَّا مَقْطُوْعَۃٍ (جو نہ ختم ہونگے) وہ کسی وقت میں منقطع نہ ہونگے جیسے دنیا کے پھل ہیں۔ بلکہ وہ دائمی ہونگے۔ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ (نہ ان کی روک ٹوک ہوگی) کسی طرح سے لینے والے کو روکا نہ جائے گا۔ ایک قول یہ ہے وقت کے ساتھ منقطع نہ ہونگے اور نہ قیمت کے بغیر ممنوع ہونگے۔
Ayah 56:34بلند مرتبہ والے :
34 : وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ (اور اونچے فرش ہونگے) بلند مرتبے والے یا نمبر 2۔ ان کو بچھایا جائے۔ یہاں تک کہ اٹھانا پڑے۔ نمبر 3۔ چار پایوں پر بلند ہونگے۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد عورتیں ہیں کنایۃً عورت کو فراش کہا جاتا ہے۔ بلند ہونگی مسہریوں پر دوسرے مقام پر فرمایا : ہم وازواجہم فی ظلال علی الارائک متکئون ] یسؔ : 56[ اور اگلی آیت اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔
Ayah 56:3535 : اِنَّآ اَنْشَاْ نٰھُنَّ اِنْشَآ ئً (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے) ہم نے ان کی خلقت کی ابتداء محض قدرت سے کی ہے۔ وہ ولادت سے پیدا نہیں ہوئیں۔ پھر یا تو وہ مرادہوں جن کو ابتداء ًپیدا فرمایا یا ان کو دوبارہ پیدا کیا گیا۔ اس تاویل کے علاوہ تاویلات کیلئے ھُنَّ کی ضمیر لائی گئی کیونکہ فرش کا تذکرہ جو کہ بستر ہیں۔ ان پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 56:3636 : فَجَعَلْنٰھُنَّ اَبْکَارًا (پس ان کو اس طور پر بنایا کہ وہ کنواری ہیں) ابکارؔ کنواری۔ جب بھی خاوند ان کے پاس جائیں گے تو ان کو کنواری پائیں گے۔
Ayah 56:3737 : عُرُبًا اَتْرَابًا (محبوبہ ہیں، ہم عمر ہیں)
قراءت : حمزہ، خلف، یحییٰ ، حمادنے عُرُبًا جمع عروب پڑھا ہے۔ عروبؔ محبوبہ ‘ اپنے خاوند سے محبت کرنے والی خوبصورت، مطیع و فرمانبردار۔ اترابا : عمر میں برابر۔ تینتیس سال کی لڑکیاں اور ان کے خاوند بھی اسی عمر کے ہونگے۔
Ayah 56:3838 : لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ (دائیں طرف والوں کیلئے )
نحو : اس میں لام انشا ٔ نا کے صلہ میں لائی گئی ہے۔
Ayah 56:3939 : ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّ لِیْنَ (ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا) یعنی دائیں طرف والے پہلے لوگوں کا بڑا گروہ ہیں۔
Ayah 56:4040 : وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ (اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا)
سوال : اس سے پہلے کہا گیا۔ و قلیل من الآخرین اور یہاں فرمایا : ثلۃ من الآخرین۔ کیوں ؟
جواب : وہ السابقون الاولون کا بیان ہے۔ اور یہ اصحاب الیمین کا بیان ہے۔ یہ اولین وآخرین دونوں میں کثرت سے ہونگے۔
قولِ حسن (رح) :
سابقین پہلی امتوں میں سے ہماری امت کے سابقین سے زیادہ ہیں اور ان امتوں کے پیرو وہ اس امت کے پیروئوں کی طرح ہیں۔