Ayah 56:4141 : وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ (اور جو بائیں طرف والے ہیں وہ بائیں طرف والے کیسے برے ہیں) شمال اور مشأمہ ایک چیز ہے (بائیں طرف اور نحوست)
Ayah 56:4242 : فِیْ سَمُوْمٍ (وہ آگ میں ہونگے) وہ آگ کی ایسی حرارت میں ہونگے جو مسام میں سرایت کرنے والی ہوگی۔ وَّ حَمِیْمٍ (اور کھولتے ہوئے پانی میں ہونگے) ایسا گرم پانی جو حرارت کی انتہاء کو پہنچاہو۔
Ayah 56:4343 : وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ ( اور دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے) سیاہ دھوئیں کا سایہ۔
Ayah 56:44نام کا سایہ :
44 : لاَّ بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍ (جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش ہوگا) سائے کی دو صفات کی نفی کی گئی۔ مراد یہ ہے کہ وہ سایہ تو ہوگا مگر عام سایوں کی طرح نہ ہوگا اس کا نام سایہ ہی رکھا پھر سائے کی اچھی صفات بردوراحت کی نفی کردی۔ اور اس کا فائدہ سایہ والے کیلئے سوائے ایذاء کے اور کچھ نہ ہوگا۔ اور یہی اس کا کرم ہے اور انداز سے سایہ کے متعلق آرام حاصل ہونے کی جو دلالت تھی اس کا ازالہ ہوگیا۔ حاصل یہ ہے کہ گرم نقصان دہ سایہ ہوگا۔
Ayah 56:4545 : اِنَّھُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ (وہ لوگ اس سے پہلے بڑی خوشحالی سے رہتے تھے) قبل ذلکؔ سے مراد دنیا میں مترفینؔ خوشحال تھے اس وجہ سے انہوں نے ڈانٹ ڈپٹ کی طرف توجہ نہ کی اور عبرت سے بیخبر رہے۔
Ayah 56:46بڑا گناہ شرک :
46 : وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ (اور وہ بڑے بھاری گناہ پر اصرار کیا کرتے تھے) یصرونؔ مداومت کرتے تھے۔ الحنث العظیمؔ : بڑا گناہ نمبر 2۔ شرک۔ کیونکہ اس سے میثاق والا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ الحنْثِ قسم والے عہد کو توڑنا۔ نمبر 2۔ بعث کا انکار۔ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے۔ واقسموا باللّٰہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت ] النحل : 38[
Ayah 56:4747 : وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (اور کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو کر رہ گئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے)
نحو : تقدیر عبارت اس طرح ہے أنبعث اذا متنا اور ظرف میں یہی عامل ہے اور اس کا حذف جائز ہے۔ اس لئے کہ مبعوثون اس پر دلالت کر رہا ہے۔ البتہ مبعوثون اس کا عامل نہیں۔ کیونکہ اِنَّ اور استفہام اس بات سے مانع ہیں کہ ان کا مابعد ماقبل میں عمل کرے۔
Ayah 56:4848 : اَوَاٰبَآ ؤُنَا الْاَوَّلُوْنََ (یا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ کیے جائیں گے)
نحو : ہمزہ استفہام کو حرف عطف پر داخل کیا گیا۔ اور مبعوثون کے مضمر پر اس کا عطف نحنؔ کی ضمیر فاصل کے بغیر ہی خوب ہے۔ اس لئے کہ ہمزہ فاصل موجود ہے۔ جیسا کہ اس قول میں خوب ہے۔ ما اشرکنا ولا ٰاباؤنا۔ ] الانعام : 148 [ کیونکہ لاؔ جو تاکید نفی کیلئے ہے وہ فاصل کافی ہے۔
قراءت : أَوْآبَا ؤنا مدنی وشامی نے پڑھا ہے۔
Ayah 56:4949 : قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ (آپ کہہ دیجئے سب اگلے اور پچھلے)
Ayah 56:5050 : لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ (ایک معین تاریخ کی حد پر سب جمع کیے جائیں گے) مقررہ حد جس سے دنیا کا وقت مقرر کیا گیا۔ یہاں میقات کی اضافت یوم کی طرف منؔ کے حذف کے ساتھ خاتم فضۃٍ جیسی ہے۔ میقاتؔ کسی چیز کی مقررہ حد جیسے میقات احرام۔ وہ حدود ہیں جن کو عمرہ، حج کیلئے مکہ جانے والا بلا احرام عبور نہیں کرسکتا۔
Ayah 56:5151 : ثُمَّ اِنَّکُمْ اَیُّھَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ (پھر اے گمراہ جھٹلانے والو) ضال ہدایت کو گم کرنے والے مکذبؔ سے بعث بعد الموت کی تکذیب کرنے والے مراد ہیں اور وہ اہل مکہ اور جو انہی جیسے لوگ ہیں۔
Ayah 56:5252 : لَاٰ کِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ (تم کو درخت زقوم سے کھانا ہوگا)
نحو : اول مِنؔ یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے اور دوسرا من بیان شجرکیلئے ہے۔ یعنی وہ درخت زقوم ہوگا۔
Ayah 56:5353 : فَمَا لِئُوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ (پھر اس سے پیٹ بھرنا ہوگا)
Ayah 56:5454 : فَشَارِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ ۔ (پھر اس پر کھولتا پانی پینا ہوگا)
ایک نکتہ :
ھاؔ ضمیر جو الشجر کی طرف راجع ہے معنی کا لحاظ کر کے مؤنث لائی گئی ہے۔ اور علیہ میں لفظ کے لحاظ سے اس کی طرف مذکر ضمیر لائے۔
Ayah 56:5555 : فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ (پینا بھی پیاسے اونٹوں جیسا)
قراءت : شُرْب کی شین کو مدنی، عاصم، حمزہ، سہل نے مضموم پڑھا۔ اور دیگر قراء نے فتحہ شین کے ساتھ شرب پڑھا۔ اور یہ دونوں ہی مصدر ہیں۔ الھیمؔ پیاسے اونٹ جو سیراب نہ ہوں۔ یہ اھیم و ھیماء کی جمع ہے۔
حاصل یہ کہ :
ان پر ایسی بھوک مسلط کردی جائے گی جو ان کو زقوم کھانے پر مجبور کر دے گی۔ جو کہ تلچھٹ کی طرح ہوگا۔ جب اس سے وہ اپنے پیٹ پر کرلیں گے۔ تو ان پر ایسی پیاس مسلط کردی جائے گی جو ان کو گرم پانی پینے پر مجبور کرے گی۔ ایسا گرم پانی جو ان کی انتڑیوں تک کو گلا کر پیٹ سے باہرنکال دے گا۔ مارے شدت پیاس کے وہ پیاسے اونٹوں کی طرح بڑے بڑے گھونٹ سے اندرکو پھینکے گا۔
شاربین کا عطف شاربین پر درست ہے کہ ان دونوں کی ذاتیں تو ایک مگر صفات مختلف ہیں۔ کیونکہ انکا انتہائی گرم پانی پینا جو کہ انتڑیاں باہر پھینک دے۔ یہ عجیب معاملہ ہے اور پھر انکا پیاسے اونٹوں کی طرح پینا یہ بھی تعجب انگیز ہے۔ پس اس لحاظ سے یہ دو مختلف صفتیں بن گئیں۔
Ayah 56:5656 : ھٰذَا نُزُلُھُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ (قیامت کے روز یہ ان کی دعوت ہوگی) نزلؔ وہ کھانا جو مہمان کے اعزاز کیلئے اس کو پیش کیا جائے۔ یوم الدینؔ سے قیامت کا دن مراد ہے۔
Ayah 56:5757 : نَحْنُ خَلَقْنٰکُمْ فَلَوْ لَاتُصَدِّقُوْنَ (ہم نے ہی پیدا کیا پھر تم تصدیق کیوں نہیں کرتے) لولا ھلا کے معنی میں تو بیخ کیلئے ہے۔ اس میں تخلیق اول کے ذریعہ تصدیق بعث پر آمادہ کیا گیا ہے کیونکہ وہ اول پیدائش کی تصدیق کرتے تھے۔ مگر جب ان کا مذہب تصدیق کے تقاضا کے خلاف تھا تو گویا وہ اس کے بھی مکذب ہوئے یا بعث سے ان کو آمادہ کیا گیا وہ اس طرح کہ جو ذات اولاً پیدا کرنے پر قادر ہے۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔
Ayah 56:5858 : اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ (بتلائو تم جو عورتوں کے رحم میں نطفہ ٹپکاتے ہو) ماتمنونہ جس کو تم ٹپکاتے ہو یعنی ارحام میں جو نطفے تم ڈالتے ہو۔
Ayah 56:5959 : ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗ ( کیا تم اس کو آدمی بناتے ہو) تم اس کا اندازہ کرتے، تصویربناتے اور اس کو صحیح سالم بشربناتے ہو۔ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (یا ہم بناتے ہیں)
Ayah 56:6060 : نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمْ الْمَوْتَ (ہم نے تمہارے درمیان موت کو وقت مقررہ پر ٹھہرا رکھا ہے) ہم نے اس کو پورے اندازے سے مقرر کررکھا ہے۔ اور رزق کی طرح اختلاف و تفاوت کے ساتھ اس کو ہم نے تمہارے لئے تقسیم کردیا ہے۔ جیسا کہ ہماری مشیئت تقاضا کرتی ہے۔ پس تمہاری عمریں مختلف لمبی، چھوٹی، متوسط ہیں۔
قراءت : قدرنا تخفیف کے ساتھ مکی نے پڑھا۔
وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ (اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں) سبقت بالشیٔ بولتے ہیں جبکہ اس کے کرنے سے عاجز آجائیں اس چیز کا غلبہ ہوجائے۔ اب معنی یہ ہوگا ہم عاجز نہیں۔
Ayah 56:61مماثل مخلوق :
61 : عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَکُمْ (کہ تمہاری جگہ اور تم جیسے آدمی پیدا کردیں) مطلب یہ ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں۔ اس سلسلہ میں تم مجھ پر غالب نہیں آسکتے۔ مثال جمع مِثْلٌ یعنی اس پر کہ تمہاری جگہ بدل کر تم جیسی اور مخلوق لے آئیں۔ وَنُنْشِئَکُمْ فِیْ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ ( اور تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جس کو تم جانتے بھی نہیں ہو) اس کا عطف نبدل پر ہے۔ علی ان ننشئکم ایسے قادر ہیں کہ تم کو پیدا کردیں کسی ایسی مخلوق کی شکل میں جس کو تم جانتے بھی نہیں اور نہ پہلے اس سے سابقہ پڑا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں باتوں پر قدرت رکھتے ہیں۔ نمبر 1۔ تمہارے مماثل مخلوق پیدا کرنے پر نمبر 2۔ اور ایسی مخلوق جو تمہارے مماثل نہ ہو۔ تو پھر ہم اعادہ سے کس طرح عاجز ہوتے۔ ؟ اور یہ بھی درست ہے کہ امثالکم جمع مِثْل کی ہو۔ مطلب یہ ہے ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ہم تمہاری صفات کو بدل دیں جو تمہارے خلق اور اخلاق میں پائی جاتی ہیں اور تم میں نئے سرے سے ایسی صفات پیدا کردیں جن کو تم جانتے بھی نہیں۔
Ayah 56:6262 : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی ( اور تم کو اول پیدائش کا علم ہے)
قراءت : ابوعمر وم کی نے النشاءۃ پڑھا ہے۔
فَلَوْلَا تَذَکَّرُوْنَ (پھر تم کیوں نہیں سمجھتے) کہ جو ایک چیز قابو رکھتا ہو دوسری مرتبہ وہ شی ٔ اس کے لئے ممتنع نہیں۔
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ قیاس درست ہے اس لئے کہ نشا ٔۃ ثانیہ کے نشا ٔۃ اولی پر قیاس نہ کرنے پر ان کی تجہیل کی گئی۔
Ayah 56:6363 : اَفَرَ ئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ (اچھا پھر یہ بتائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو) جو غلہ تم کاشت کرتے ہو یعنی زمین میں ہل چلاتے اور اس میں بیج ڈالتے ہو۔
Ayah 56:6464 : ئَ اَنْتُمْ تَزْ رَعُوْنَہٗ (کیا تم اس کو اگاتے ہو) تم اس کو اگا کرنبات کی شکل میں لوٹاتے ہو۔ اَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ (یا ہم اس کو اگاتے ہیں) زارع : اگانے والے۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا : لا یقولن احدکم زرعت و لیقل حرثت۔ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے میں نے اگایا بلکہ کہے میں نے کھیتی بوئی۔ ] رواہ ابن حبان : 5723، البیہقی 6/138[
Ayah 56:6565 : لَوْنَشَآ ئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا (اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو چورا چورا کردیں) پکنے سے قبل ہی ریزہ ریزہ تنکے تنکے کردیں۔ فَظَلْتُمْ تَفَکَّھُوْنَ (پھر تم متعجب ہوکررہ جائو) تعجب میں پڑجائو یا اپنی تھکاوٹ و خرچ کے رائیگاں جانے پر شرمندہ ہوجائو۔ نمبر 3۔ اس گناہ پر پشیمان ہوتے ہو جو اس سزا کا باعث بنا۔
Ayah 56:6666 : اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ (اب ہم پر تاوان ہی پڑگیا) تم کہتے ہو۔
قراءت : ابوبکر نے ائنا پڑھا ہے۔ لمغرمونؔ ہم پر تو خرچہ کی چٹی پڑگئی۔ یا نمبر 2۔ ہم تباہ ہوگئے کیونکہ ہمارا رزق برباد ہوا۔ یہ الغرامؔ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہلاکت ہے۔
Ayah 56:6767 : بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ (بلکہ ہم محروم ہی ہو کر رہ گئے) بلکہ ہم ایسے لوگ ہیں جو محروم کردیئے گئے ہیں ہم تو بدنصیب و بدبخت ہیں نہ کہ خوش نصیب۔ ہمارا نہ کوئی حصہ ہے اور نہ نصیب۔ اگر ہم خوش نصیب ہوتے تو ہمارے ساتھ یہ نہ ہوتا۔
Ayah 56:6868 : اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآ ئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ (اچھایہ بتلائو کہ جس پانی کو تم پیتے ہو) الماءؔ سے وہ پانی جو میٹھا پینے کے قابل ہو۔
Ayah 56:6969 : ئَ اَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم برسانے والے ہیں) المزنؔ سفیدبادل۔ اس کا پانی نہایت شیریں ہوتا ہے۔ المنزلونؔ ہم اپنی قدرت سے اتارنے والے ہیں۔
Ayah 56:7070 : لَوْ نَشَآ ئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا (اگر ہم چاہیں تو اس کو کڑوا کر ڈالیں) اُجاجاؔ نمکین یا کڑوا جو پیا نہ جاسکے۔ فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ (پس تم شکر کیوں نہیں کرتے)
ایک لطیف تحقیق :
لولا یہ ھلا کے معنی میں ہے لو کے جواب میں لجعلناہ حطامًا میں لام لگائی گئی ہے۔ جبکہ یہاں لام نہیں لگائی گئی کیونکہ لو جب دو جملوں پر داخل ہو تو دوسرا جملہ پہلے کے ساتھ اس طرح معلق ہوگیا جیسے جزاء شرط سے معلق ہوتی ہے۔ یہ اِنؔ کی طرح خاص شرط کیلئے نہیں اور نہ اس طرح عمل کرنے والا ہے۔ پس اس میں شرط کا معنی تو اتفاقاً سرایت کرگیا اس لئے کہ اس سے دونوں جملوں کے مضمون میں فائدہ تھا اور دوسرے جملہ میں ممانعت تو پہلے جملے میں ممانعت کی بناء پر ہے۔ اس لئے اس کے جواب میں ایسی چیز کی محتاجی ہوئی جو علم کو نصب اس تعلق کی بنیاد پردے اسی لئے لام کا اضافہ کردیا۔ تاکہ وہ اس کی علامت بن جائے۔ جب اس کے موقعہ کی تشہیر ہوگئی تو لفظوں سے اس کے ساقط کردینے میں کوئی حرج نہ ہو کیونکہ ہر ایک اس کو جانتا ہے اور اس کی حذف، اور بقاء کی دونوں حالتیں برابر ہیں۔ باوجودیکہ اس کا ذکر پہلے ہوا اور معمولی فاصلہ اس کے دوسری مرتبہ تذکرے کا ضرورت مند نہیں ہے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ لام بہرصورت تاکید کے معنی کو مفید ہے پس مطعومات والی آیات میں اس کو داخل کیا گیا مشروب والی آیات میں نہیں اس لئے کہ مطعوم کا معاملہ مشروب سے مقدم ہے اور اس کے نہ پائے جانے سے وعید زیادہ سخت و مشکل ہے اس لحاظ سے بھی کہ مشروب کی ضرورت مطعوم کے تابع کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے مطعوم والی آیت کو مشروبات والی آیت پر مقدم فرمایا گیا۔
Ayah 56:7171 : اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ (پھر یہ بتلائو جس آگ کو تم سلگاتے ہو) تورونؔ سلگاتے اور چقماق سے اس کو حاصل کرتے ہو۔ اہل عرب دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ حاصل کرتے ہیں ایک کو دوسرے پر رگڑتے ہیں اوپر والی لکڑی کو الزندؔ اور نیچے والی کو الزنذہؔ کہتے ہیں اور دونوں کو نر مادہ سے مشابہت دیتے ہیں۔
Ayah 56:7272 : ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْ تُمْ شَجَرَ تََھَآ (کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا) وہ درخت جس سے یہ زنادؔ ہے۔ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ (یا ہم ہی اس کو پیدا کرنے والے ہیں) ابتداء ًاس کو بنانے والے ہیں۔
Ayah 56:7373 : نَحْنُ جَعَلْنٰھَا (ہم نے ہی اس کو بنایا ہے) یعنی آگ کو تَذْکِرَۃً (یاد دہانی) جہنم کی یاد دہانی۔ اس طرح کہ اسباب معاش اس سے متعلق کردیئے۔ اور عام ضرورت کی وجہ سے اس کو عام کردیا تاکہ لوگوں کے سامنے رہے اور ہر وقت اس کو دیکھتے رہیں۔ اور اس آگ کو یاد کریں جس سے ان کو ڈرایا گیا۔ وَّ مَتَاعًا (اور نفع بخش شی ٔ) لِّلْمُقْوِیْنَ (مسافروں کیلئے) جو کہ جنگل میں اترنے والے ہوں۔ القواء : سنسان جنگل۔ یا نمبر 2۔ ان کے لئے جن کے پیٹ طعام سے خالی ہیں۔ نمبر 3۔ یا ان کے توشہ دان طعام سے خالی ہیں عرب کہتے ہیں۔ اقوت الدار۔ جبکہ وہ رہائشی لوگوں سے خالی ہوجائے۔
عجیب ترتیب : انسان کی پیدائش کا ذکر کیا تو فرمایا افرأیتم ماتمنون کیونکہ یہ نعمت تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ نمبر 2۔ پھر جس سے بدن انسانی کا قوام ہے اس کو ذکر فرمایا اور وہ اناج ہے چناچہ فرمایا : افرأیتم ماتحرثون۔ نمبر 3۔ پھر جس سے اناج کو گوندھا اور اس کے بعد پیا جاتا ہے۔ وہ پانی ہے۔ افرأیتم الماء۔ نمبر 4۔ پھر جس سے روٹی پک کرتیارہوتی ہے۔ وہ آگ ہے۔ پس کھانا ان تین چیزوں کے مجموعہ سے بنتا ہے۔ اور جو انسانی زندگی تک اس سے بےنیاز نہیں۔ (سبحان ما اعظم شانہ)
Ayah 56:7474 : فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (پس آپ اپنے عظیم الشان رب کے نام کی تسبیح کیجئے) پس اپنے رب کی تنزیہ بیان کریں جو اس کی ذات کے لائق نہیں۔ اے مخاطب مستدل، نمبر 2۔ اسمؔ سے ذکر مراد ہے۔ مطلب یہ ہے پس تسبیح کریں اپنے رب عظیم کے ذکر کے ساتھ۔
نحو : العظیمؔ یہ مضاف کی صفت ہے یا مضاف الیہ کی۔
ایک قول :
سبحان ربی العظیمکہو۔ روایت مرفوعہ میں وارد ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اس کو اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔ ] رواہ احمد 4/155، ابودائود 869، ابن ماجہ 887، الدارمی، 1/299[
Ayah 56:7575 : فَـلَآ اُقْسِمُ (پس میں قسم کھاتا ہوں) یہ فاء قسم ہے اور لا تاکید کیلئے زائدہ ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ لئلا یعلم اھل الکتاب ] الحدید : 29[
ایک قراءت : میں فَـلَا اقسم پڑھا گیا اس کا معنی فَلأنا اقسم ہے۔ یہ لام ابتدائیہ جس کو جملہ اسمیہ پر داخل کیا گیا۔ وہ جملہ انا اقسم ہے۔ پھر مبتدأ کو حذف کردیا گیا۔
ایک تنبیہ :
یہ لام قسم نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ نون تاکید اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ بِمَوٰ قِعِ النُّجُوْمِ (ستاروں کے چھپنے کی) ان کے غروب اور گرنے کے مقامات۔
قراءت : حمزہ، علی نے بموقع پڑھا ہے۔
وجوہ قسم : شاید کہ رات کے آخری حصہ میں جب ستارے مغرب کی طرف اترتے ہوں۔ کچھ قدرت کے مخصوص افعال ہوں۔ (اس لئے قسم اٹھائی) نمبر 2۔ ملائکہ کی مخصوص عبادات ہوں۔ (اور ان کے یہ اوقات ہوں) نمبر 3۔ اہل تہجد کے قیام اور آسمانوں سے ان پر رحمت و رضوان کے اترنے کا وقت ہے اسی لئے ان اوقات کو عظیم قرار دے کر قسم اٹھائی۔
Ayah 56:7676 : وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ (اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے) یہ جملہ معترضہ در معترضہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے قسم و مقسم بہٖ کے درمیان فاصلہ کیا گیا ہے۔ وہ مقسم بہٖ انہ لقرآن کریم ہے۔
Ayah 56:7777 : اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ (بلاشبہ یہ ایک معزز قرآن ہے) کریمؔ، عمدہ ‘ پسندیدہ، نمبر 2۔ بیشمار منافع والا۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں شان والا۔ اور لوتعلمون کے ذریعہ قسم اور عظیم جو صفت موصوف ہیں ان کے درمیان فاصلہ کردیا۔
Ayah 56:7878 : فِی کِتٰبٍ (جو ایک محفوط کتاب میں درج ہے) کتاب سے لوح محفوظ مراد ہے۔ مَّکْنُوْنٍ (باطل کی آمدوشر سے محفوظ ہے) نمبر 2۔ غیر مقربین سے اس کو محفوط کردیا گیا ہے مقربین کے علاوہ کوئی اس کی اطلاع نہیں پاسکتا۔
Ayah 56:7979 : لَّا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ (اس کو سوائے پاک ہستیوں کے اور کوئی نہیں چھوتا) المطہرونؔ وہ تمام گندگیوں سے پاک ہیں۔ گناہوں کی میل کچیل وغیرہ سے یہ اس وقت معنی ہے جبکہ تم اس کو کتاب مکنون کی صفت قرار دو ۔ جو کہ لوح محفوظ ہے نمبر 2۔ اور اگر اس کو قرآن مجید کی صفت قرار دو ۔ تو اس وقت معنی یہ ہوگا اس کو لوگوں میں سے وہ چھو سکتا ہے جو طہارت کی حالت میں ہو اور مس سے مراد اس کے لکھے ہوئے کا چھونا ہے۔
Ayah 56:8080 : تَنْزِیْلٌ (اتارا ہوا ہے) یہ قرآن مجید کی چوتھی صفت ہے۔ یعنی اتارا ہوا ہے۔ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (رب العالمین کی طرف سے) نمبر 2۔ مصدر سے قرآن کی صفت بیان کی گئی کیونکہ قرآن مجید تمام کتابوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا گویا کہ وہ ذات کے اعتبار سے اتارا ہوا ہے۔ اسی لئے اس کو ناموں کے قائم مقام لایا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ تنزیل میں اسی طرح آیا اور تنزیل نے اسی طرح بتلایا۔ نمبر 2۔ ھوؔ مبتدأ محذوف کی خبر ہے أی ھو تنزیل۔