Ayah 56:8181 : اَفَبِھٰذَا الْحَدِیْثِ (کیا تم اس کلام کو) الحدیث سے قرآن مجید مراد ہے۔ اَنْتُمْ مُّدْ ھِنُوْنَ (سرسری بات سمجھتے ہو) سستی برتنے والے ہو۔ جیسا کہ کوئی کسی بات میں مداہنت کرے، نرم پہلواختیار کرے اور سستی کرتے ہوئے اس میں پختگی ظاہر نہ کرے۔
Ayah 56:8282 : وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ (کہ اس کی تکذیب کو تم نے اپنا رزق بنا لیا ہے) یعنی تم نے اپنے رزق کے شکر کو تکذیب بنا لیا ہے یعنی شکر کی بجائے تم تکذیب اختیار کرنے والے ہو۔
قراءت ِعلی ؓ میں ہے اور بقول صاحب کشاف یہ قراءت ِرسول اللہ ﷺ بھی ہے۔ وتجعلون شکرکم انکم تکذبون ( تم نے اپنے شکریہ کو اس طرح بنالیا کہ تم تکذیب کرتے ہو) تم نے نعمت قرآن پر شکریہ کو اس طرح بنا لیا کہ تم قرآن کی تکذیب کرتے ہو۔ ایک قول یہ ہے یہ ستاروں کے بارے میں نازل ہوئی جن سے عرب میں بارش حاصل کرنے کا رواج تھا۔ اور اسی طرح رزق بھی۔ اب معنی یہ ہے تم نے بنا لیا اس چیز پر شکریہ کو جو اللہ تعالیٰ تم کو بارش کی صورت میں دیتے ہیں کہ اس بارش کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کا انکار کردیا اور کہنے لگے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
Ayah 56:8383 : فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ (پس جس وقت روح حلق تک آپہنچتی ہے) جب روح موت کے وقت حلقوم تک پہنچ جاتی ہے۔ حلقومؔ کھانے، پینے کی گزرگاہ۔
Ayah 56:8484 : وَاَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَ (اور تم اس وقت دیکھا کرتے ہو) یہ خطاب ہر اس شخص کو ہے جو میت کے پاس اسوقت موجود ہو۔
Ayah 56:8585 : وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (ہم اس وقت اس مرنے والے آدمی سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں) ۔ الیہؔ کی ہٖ ضمیر سے مراد قریب المرگ شخص۔ لا تبصرونؔ نہ سمجھتے ہو اور نہ جانتے ہو۔
Ayah 56:8686 : فَلَوْلَآ اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ (تو فی الواقع) اگر تمہارا حساب و کتاب ہونے والا نہیں ہے) مدینین مطیع و غلام۔ یہ دان السلطان الرعیۃ سے لیا گیا جبکہ وہ ان کے معاملات کو چلائے مطیع بنائے۔
Ayah 56:87تم ہر چیز کے انکار پر اترتے ہو
87 : تَرْجِعُوْنَھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (تو پھر اس روح کو بدن کی طرف نہیں لوٹاتے ہو۔ اگر تم سچے ہو) ترجعونؔ روح کو لوٹائو جسم میں حلق تک پہنچ جانے کے بعد اگر بقول تمہارے تم مغلوب و غلام نہیں ہو۔ لولاان دونوں آیات میں لولا تحضیصکیلئے ہے اور ایک فعل کا طالب ہے اور ترجعونھا اس کو دو مرتبہ لانے کی بجائے ایک بار پر اکتفاء کرلیا۔ پس آیت کی ترتیب معنوی اس طرح ہوگی۔ فلولا ترجعونھا اذا بلغت الحلقوم ان کنتم غیر مدینین۔ دوسرا لولاؔ تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ ونحن اقرب الیہ منکم اور ہم تمہاری نسبت اس کے قریب تر ہیں۔ اے میت کے گھر والو ! ہم اپنی قدرت و علم سے قریب ہیں یا ملائکہ 00 الموت کے ذریعہ قریب ہیں۔ مطلب یہ ہے اے لوگو ! تم تو ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی آیات قدرت کا انکار کرنے پر اترے ہوئے ہو۔ اگر وہ معجز کتاب اتارتا ہے تو اس کو سحرو افتراء کہہ کرمسترد کردیتے ہو اور اگر وہ اپنا رسول بھیجتا ہے جو صادق الامین ہے تو تم اس کو ساحر، کذاب کہہ کر مسترد کردیتے ہو۔ اگر وہ تمہاری آبادی کیلئے بارش نازل کرتا ہے تو اس کی نسبت تم ستاروں کی طرف کرتے ہو۔ ( یہ ان کے مذ ہب کے مطابق ہے جو اہمال و تعطیل تک پہنچنے والے ہیں) پھر تمہیں کیا ہوا کہ روح کے حلق تک پہنچنے کے بعد تم دوبارہ اس کو بدن کی طرف واپس نہیں کرتے۔ اگر کوئی وہاں قبضہ قدرت والا نہیں اور تم تعطیل کے قول میں سچے ہو اور ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات اور ممیت ومبدیٔ اور المعید کے قائل نہیں ہو۔
Ayah 56:8888 : فَاَمَّآ اِنْ کَانَ (پھر جو شخص ہوگا) متوفی مرنے والا مِنَ الْمَقَرَّ بِیْنَ (مقرب لوگوں میں سے) ان تینوں اقسام میں سے ہوا جو سبقت کرنے والے ہیں اور جن کا ذکر ابتدائے سورت میں ہوا۔
Ayah 56:8989 : فَرَوْحٌ (تو اس کے لئے راحت ہے) وَّ رَیْحَانٌ (اور رزق) غذائیں ہیں وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ (اور آرام کی جنت ہے)
Ayah 56:9090 : وَاَمَّآ اِنْ کَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ (اور جو شخص دائیں طرف والوں میں سے ہوگا)
Ayah 56:9191 : فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ (تو اس کو کہا جائے گا) تیرے لئے امن وامان ہے کہ تو دائیں طرف والوں میں سے ہے) پس تیرے لئے اے صاحب الیمین۔ دوسرے اصحاب یمین کی طرف سے سلام ہو۔ یعنی وہ تمہیں سلام کہتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : الاَّ قیلا سلامًا سلامًا ] الواقعہ : 26 [
Ayah 56:9292 : وَاَمَّآ اِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ (اور جو شخص تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوگا) یہ تیسری قسم ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اسی سورت میں فرما دیا۔ ثم انکم ایھا الضالون المکذبون ] الواقعہ[
Ayah 56:9393 : فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ (تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی)
Ayah 56:9494 : وَّ تَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ (اور دوزخ میں اس کا داخلہ ہوگا) تصلیۃ : داخلہ۔
اہم مسئلہ :
ان آیات میں اشارہ فرمایا کہ تمام کفر ایک ملت ہے اور گناہ گار لوگ یہ اصحاب یمین میں سے ہیں کیونکہ وہ تکذیب کرنے والے نہیں ہیں۔
Ayah 56:9595 : اِنَّ ھٰذَا (بیشک یہ جو کچھ اس سورت میں مذکور ہوا) لَھُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ (تحقیق یقینی بات ہے) یعنی ایسا حق ہے جو قطعی طور پر ثابت ہونے والا ہے۔
Ayah 56:9696 : فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (پس آپ اپنے عظیم الشان رب کی تسبیح کیجئے)
:
روایت میں ہے کہ عثمان بن عفان ؓ ، عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے۔ جبکہ وہ مرض وفات میں تھے۔ تو انہیں پوچھا کیا تکلیف ہے ؟ انہوں نے کہا میرے گناہ ہیں۔ نمبر 2۔ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ ہم اس کو عطاء کرنے کا حکم کردیتے ہیں ؟ عبد اللہ نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ نمبر 3۔ اپنی بیٹیوں کو دے دینا۔ عبد اللہ کہنے لگے ان کو بھی اس کی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ میں نے ان کو سورة واقعہ پڑھنے کا کہہ رکھا ہے۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ جس نے سورة واقعہ ہر رات پڑھ لی۔ اس کو کبھی فاقہ نہ آئے گا۔ (مسند ابو یعلی ورواہ ابن الضر یس فی فضائل القرآن ] 226[ البیہقی بسند ضعیفٍ فی شعب الایمان۔
عجیب نکتہ :
ان تین سورتوں، القمر، الرحمان، الواقعہ میں لفظ اللہ وارد نہیں ہوا۔ بلکہ صفاتی اسمائے مبارکہ آئے ہیں۔