55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 55:1–3

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

(خدا جو) نہایت مہربان

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اسی نے انسان کو پیدا کیا

1 : الرَّحْمٰنُ ۔ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ انسان سے یہاں جنس انسان مراد ہے۔ نمبر 2۔ آدم (علیہ السلام) نمبر 3۔ محمد ﷺ
Ayah 55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

سب سے بلند نعمت : 4 : عَلَّمَہُ الْبَیَانَ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا شمار فرمایا تو چاہا کہ ان میں سے سب سے مقدم، سابق اور اقسام نعم میں عمدہ ترین کو پہلے ذکر کیا جائے چناچہ دین والی نعمت کو سب سے مقدم ذکر کیا۔ اور پھر دینی نعمتوں میں سب سے زیادہ فائق اور بلند مرتبہ والی نعمت قرآن کو شمار فرمایا۔ قرآن کا اتارنا، تعلیم قرآن یہ سب نعمتیں ہیں۔ کیونکہ قرآن تمام وحی کے ذریعہ نازل کردہ کتابوں سے مرتبہ و مقام میں اعلیٰ ترین اور اثر پذیری میں بھی سب سے بڑھ کر موثر ہے یہ آسمانی کتابوں کی چوٹی اور سب کی مصدق اور ٹھپہ ہے۔ پہلے قرآن کا ذکر کیا پھر تخلیق انسانی کا ذکر کیا اس سے یہ بتلا دیا کہ انسان کی پیدائش دین کیلئے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی وحی اور کتب کے علم سے اپنے کو گھیر لینا چاہے اور انسان کی پیدائش جس مقصد کی خاطر کی گئی اس کو مقدم کیا پھر بیان کی صفت ذکر کی جس کی وجہ سے اس کو حیوانات سے امتیازحاصل ہے وہ فصیح وبلیغ گفتگو اور اپنے مافی الضمیر کی وضاحت ہے۔ نحو : الرحمان مبتدأ ہے اور یہ تمام افعال اپنی ضمائر سمیت اس کی مترادف خبریں ہیں۔ رہا سوال عاطف سے خالی ہونے کا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خبریں گنتی کے انداز سے لائی گئی ہیں۔ جیسا محاورہ میں کہتے ہیں زید اغناک بعد فقر، اعزک بعد ذلٍ کثرک بعد قلۃ۔ فعل بک مالم یفعل احد باحدٍ فما تنکرمن احسانہ ؟ تو ان تمام اخبار میں باہمی عاطف کی حاجت نہیں ہے۔
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

5 : اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (سورج و چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں) ایک مقررہ حساب اور درست اندازے کے مطابق چلتے ہیں۔ ان کا چلنا اپنے بروج و منازل میں ہے اور اس کے چلنے میں مخلوق کے فوائد ہیں۔ ان میں سے ایک سالوں اور حساب کا علم ہے۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

6 : وَّ النَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ (بےتنے درخت اور تنے دار درخت اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں) النجمؔ ایسی نباتات جو زمین سے پھوٹ کر نکلے اس کا تنا نہ ہو مثلاً سبزیاں، الشجرؔ تنا والا درخت۔ ایک قول یہ ہے : النجمؔ آسمان کا ستارہ۔ یسجدانؔ جس مقصد کیلئے ان کو بنایا اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ ان کو مکلفین منقادو مطیع لوگوں سے بطورمشابہت کے ساجد کہہ دیا۔ یہ دونوں جملے الرحمانؔ کے ساتھ معنوی ربط رکھتے ہیں اس لئے کہ یہ بات تو جانی پہچانی ہے کہ محاسبہ کا اختیار اسی کے پاس اور سجدہ کے لائق اس کی ذات ہے۔ گویا اس طرح فرمایا گیا سورج و چاند اس کے مقرر کرنے سے ہیں اور پودے اور درخت اس کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ پہلے جملوں میں عاطف نہیں لائے اور اس میں لے آئے کیونکہ پہلا جملہ بطور گنتی و شمار کے واقع ہے تاکہ ناشکرے لوگوں کو رلایا جائے جیسا کہ منعم کے احسانات کے منکرین کو شرمندہ کیا گیا ہے جیسا کہ مثال مذکور میں ہے۔ پھر تبکیت کے بعد کلام کو دوبارہ اس کے انذار کی طرف لوٹایا گیا تاکہ مناسبت کیلئے جن کو لانا ہے ان کو ملایا جائے اور عاطف کے قریب کیا جائے۔ مناسبت : سورج و چاند آسمانی و آفاقی ہیں اور نجم و شجرارضی و زمینی ہیں۔ گویا ان میں تقابل کا تناسب ہے آسمان و زمین کو ہمیشہ ملا کر ذکر کرتے ہیں سورج اور چاند کا حساب سے چلنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنے آپ کو ڈال دینے کی جنس میں سے ہے پس یہ نجم و شجر کے سجدہ سے بہت قریب مناسبت ہوگئی۔
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی

آسمان مسکن ملائکہ : 7 : وَالسَّمَآ ئَ رَفَعَھَا (اور اسی نے آسمان کو اونچا کیا) بلند بنایا اور اونچا کیا اس انداز سے کہ اپنے احکامات کے بنانے کی جگہ اور اپنے فیصلوں کے صادر ہونے کا مقام اور ان ملائکہ کا مسکن بنادیا جو انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لانے والے ہیں۔ اس سے اپنی شان کی کبریائی اور ملک و سلطنت کی عظمت کو لوگوں پر ظاہر کیا۔ وَوَ ضَعَ الْمِیْزَانَ (اور اسی نے دنیا میں ترازو رکھ دی) المیزانؔ ہر وہ چیزجس سے اشیاء کا وزن کیا جاتا ہے اور ان کی مقداریں مقرر کی جاتی ہیں مثلاً میزان، قرسطون، مکیال، مقیاس وغیرہ۔ مطلب یہ ہے میزان کو زمین پر رکھا ہوا اس نے پیدا کیا کہ اس کے ساتھ بندوں کے مابین برابری اور لین دین میں اعتدال کے احکامات کو اس سے معلق کردیا۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

8 : اَلَّا تَطْغَوْ ا فِی الْمِیْزَانِ (تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو) اس سے پہلے لام محذوف ہے لالاَّ تطغوا تاکہ تم سرکشی نہ کرو۔ نمبر 2۔ اَن مفسرہ ہے۔ گویا میزان کی تفسیر ہوئی۔
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو

9 : وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالقِسْطِ (اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک ٹھیک رکھو) عدل کے ساتھ اپنے وزن کو درست رکھو۔ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ (اور تول کو نہ گھٹائو) تول میں کمی نہ کرو۔ برابری کا حکم دیا اور اعتداء و زیادتی جو سرکشی کا نتیجہ ہے اس سے باز رکھا اور ایسے نقصان سے جو تطفیف تک لے جائے منع کردیا۔ اور لفظ میزان کو دوبارہ لائے تاکہ نصیحت پختہ ہو اور اس کے استعمال کا حکم مضبوط ہو اور دلی آمادگی سے اس کو استعمال میں لائے۔
Ayah 55:10

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی

10 : وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا (اور زمین کو رکھ دیا) پست کر کے پانی پر بچھا دیا لِلْاَنَامِ (مخلوق کیلئے) سطح زمین پر رینگنے والے کو کہتے ہیں۔ قولِ حسن (رح) : الانام ؔ سے جن و انس مراد ہیں۔ یہ ان کے لئے بچھونے کی طرح ہے اپنی مرضی سے اس پر چلتے پھرتے ہیں۔
Ayah 55:11

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں

11 : فِیْھَا فٰـکِھَۃٌ (اس میں میوے ہیں) بہت سی اقسام جس کو لوگ بطور لذت کے استعمال کرتے ہیں۔ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ (اور کھجور کے درخت ہیں جس کے پھلوں پر غلاف ہوتا ہے) اکمامؔ پھل کا برتن اس کا واحد کِمٌّ ہے یا ہر وہ چیز جو چھپائے جیسے چھلکا، چھڑیاں پتے تمام سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جیسا اس کے چھپے ہوئے پھل اور گابھے اور تنے سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے
Ayah 55:12

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول

12 : وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ (اور اناج ہے جس میں بھوسہ اور غذائی چیزیں ہوتی ہیں) العصفؔ کھیتی ‘ پتے یا بھوسہ الریحانؔ رزق اور مغز کو کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ کچھ غذائیں تو ایسی ہیں جو فقط تلذذ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور بعض غذا و تلذذ ہر دو کی جامع ہیں اور وہ تمر ہے اور غذا فقط اناج میں ہے۔ نحو، قرات : الریحان کو جر کے ساتھ حمزہ، علی نے پڑھا ہے یعنی والحب ذوالعصف الذی ھو علف الانعام والریحان الذی ھو مطعم الانسان۔ اور اناج بھوسے والا وہ بھوسہ جو چوپایوں کی خوراک ہے اور ریحان یہ انسانوں کا کھانا ہے۔ نمبر 2۔ رفع سے اگر پڑھیں تو ذوالریحان ہوگا اور مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام بنایا۔ ایک قول یہ ہے : کہ اس کا معنی اس طرح ہے وفیھا الریحان الذی یشم والحب ذا العصف والریحان شامی نے نصب سے پڑھا۔ ای خلق الحبَّ و الریحانَ یا اخصّ الحبَّ والریحانَ ۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو (اے گروہ جن وانس ! ) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

13 : فَبِاَ یِّ اٰلآ ئِ (پس تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں) ٰ الا ءؔ وہ انعامات جن کو ابتدائے سورت سے شمار شروع فرمایا گیا ہے یہ اَلِیٌ، واِلْیٌ کی جمع ہے۔ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (کے منکر ہوجائو گے) یہ (ثقلین) جن و انس کو خطاب ہے۔ انامؔ کا لفظ اس پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 55:14

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا

14 : خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ (اسی نے انسان کو پیدا کیا بجتی مٹی سے) صلصالؔ خشک مٹی جس سے آواز آئے۔ کَالْفَخَّارِ (جو ٹھیکرے کی طرح تھی) فخارؔ آگ سے پکی ہوئی مٹی اور اسی کو ٹھیکری کہتے ہیں۔ ازالۃ الشک : اس ارشاد اور دوسری آیات میں من حمأ منسون ] الحجر : 26[ اور من طین لازب ] الصافات : 11[ اور نمبر 3۔ من تراب ] آل عمران : 59[ میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ سب معنی کے لحاظ سے متفق ہیں۔ کیونکہ ان کا حاصل یہ ہے اس نے مٹی سے پیدا کیا اولاً طیناً پھر حماً مسنون پھر صلصال کی حالتوں سے گزارا۔
Ayah 55:15

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

15 : وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (اور جنات کو خاص آگ سے پیدا کیا) الجانؔ جنات کا باپ مراد ہے۔ ایک قول ضعیف یہ ہے وہ ابلیس ہے من مارجؔ وہ صاف شعلہ جس میں دھوئیں کی ملاوٹ نہ ہو۔ ایک قول یہ ہے وہ شعلہ جس میں آگ کی سیاہی ملی ہوئی ہو۔ یہ مرج الشیٔ سے بنا ہے جس کا معنی مضطرب ہونا اور ملنا ہے۔ من نارؔ یہ مارجٌ کا بیان ہے گویا اس طرح کہا گیا من صاف من نار او مختلط من نار۔ صاف آگ یا ملی جلی آگ سے یا من نارؔ سے مرادمخصوص آگ ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فانذرتکم نارا تلظٰی ] اللیل : 14[
Ayah 55:16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

16 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:17

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)

17 : رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ (وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک ہے) دو مشرق، مغرب سے گرمیوں اور سردیوں کے مشرق و مغرب مراد ہیں۔
Ayah 55:18

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

18 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:19

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں

19 : مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ (اس نے دو دریائوں کو ملایا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں) نمکین اور میٹھے دریائوں کو چلا دیا اس طرح کہ ایک دوسرے کے پڑوس میں ملے چل رہے ہیں آنکھوں کے دیکھنے میں دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے۔
Ayah 55:20

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے

20 : بَیْنَھُمَا بَرْزَخٌ (ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے) اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایک روک ہے۔ لَّا یَبْغِیٰنِ (دونوں اپنی حد سے بڑھ نہیں سکتے) ۔ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے میں سرکشی نہیں کرتا۔
Ayah 55:21

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

21 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:22

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

22 : یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ (ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمدہوتے ہیں) قراءت : مدنی و بصری نے یخرج پڑھا ہے۔ اللُّؤْلُؤ قراءت : ابوبکر و یزید نے بلا ہمزہ پڑھا ہے۔ بڑے موتی کو کہتے ہیں۔ وَالْمَرْجَانُ چھوٹے موتی۔ آیت میں منھماؔ فرمایا جس سے متبادر ہوتا ہے۔ کہ دونوں سمندروں سے نکلتے ہیں حالانکہ یہ صرف نمکین سے نکلتے ہیں کیونکہ دونوں مل گئے اور ایک شی ٔ کی طرح ہوگئے تو پھر یہ کہنا درست ہوگیا کہ دونوں سے نکلتے ہیں۔ جیسا کہتے ہیں یخرجان من البحر۔ حالانکہ وہ تمام بحر سے نہیں نکلتے بلکہ بعض حصے سے نکلتے ہیں۔ اور تم محاورے میں بولتے ہو۔ خرجت من البلد۔ حالانکہ تم شہر کے کسی ایک محلے سے نکلے ہو۔ ایک قول یہ ہے : یہ اس مقام سے نکلتے ہیں جہاں میٹھے اور نمکین پانی آپس میں مل جاتے ہیں۔
Ayah 55:23

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

23 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:24

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں

24 : وَلَہُ الْجَوَارِ (اور اسی کے ہیں جہاز) اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ الجوارؔ جمع جاریہ کشتیاں۔ قراءت : اس پر وقف یاء کے ساتھ ہوگا اور وصل میں اختیار ہے اگر بغیر یاء کوئی وقف کرے تو جائز ہے بعد کی بناء پر لیکن راء میں کسرہ مناسب ہوگا تاکہ حذف یاء ؔ پر دلالت ہو۔ الْمُنْشَئٰتُ (اونچے کھڑے نظر آتے ہیں) ان کے بادبان بلند ہیں۔ (اب تو بادبان کی تاویل کی حاجت نہیں خود بحری جہاز کئی کئی گویا شہر کے شہر آباد ہیں) قراءت : المنشات، شین کے کسرہ سے حمزہ ویحییٰ نے پڑھا ہے۔ بادبان بلند ہیں یا جن کے چلنے سے سمندر میں موجیں پیدا ہوتی ہیں۔ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ (سمندر میں پہاڑوں کی طرح) اعلام جمع علم۔ لمبے پہاڑ کو کہا جاتا ہے۔
Ayah 55:25

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

25 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayahs 55:26–27

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

26، 27 : کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ۔ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ (جتنے روئے زمین پر ہیں۔ سب فنا ہوجائیں گے اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و شان والی ہے۔ باقی رہ جائے گی) علیھا یعنی زمین پر وجہ ربکؔ تیرے رب کی ذات۔ ذوالجلال۔ عظمت و سلطنت والی۔ یہ الوجہ کی صفت ہے۔ الاکرامؔ احسان والی ذات ہے سیئات سے تجاوز کے ساتھ۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات میں سے ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا الظّوا بیا ذالجلال والاکرم۔ ( راوہ الترمذی 3527‘ رواہ احمد 5/236) روایت میں ہے کہ رسول الٰہ ﷺ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو نماز پڑھ رہا تھا۔ اور کہہ رہا تھا : یا ذالجلال والا کرام آپ نے فرمایا تیری دعا قبول کرلی گئی۔ (رواہ الترمذی 3527 رواہ احمد 5/236)
Ayah 55:28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

28 : فَبِاَیِّ ٰالَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے) سوال اور جواب : فناء میں کونسی نعمت ہے کہ اس کے بعد بھی یہ آیت لائی گئی۔ فناء نعمت اس لئے ہے کہ مؤمنین موت کے ذریعہ سرمدی قائم رہنے والی زندگی میں پہنچ گئے۔ قولِ یحییٰ بن معاذ (رح) : وہ موت کیا خوب ہے جو دوست کو دوست سے قریب کرتی ہے۔
Ayah 55:29

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

29 : یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اسی سے سب آسمان و زمین والے مانگتے ہیں) قراءت : نافع نے اس پر وقف کیا ہے۔ سب سائل ہیں : تمام اہل ارض و سماء اسی کے محتاج ہیں۔ آسمان والے وہ چیزیں اس سے مانگتے ہیں جو ان کے دین سے متعلق ہیں۔ اور اہل ارض وہ چیزیں مانگتے ہیں جو دین و دنیا دونوں سے متعلق ہے۔ نحو : کُلَّ یَوْمٍ (ہر دن) یہ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس پر ھو فی شان دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : کل وقت و حین یحدث امورًا و یجدد احوالا۔ ایک بلند ایک کو پست کرتا ہے : ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (وہ ایک نئی شان میں ہے) یعنی ہر وقت و گھڑی وہ کچھ امور کو پیدا کرتا اور حالات کی تجدید کرتا ہے۔ جیسا کہ مروی ہے۔ کہ آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی آپ سے عرض کیا گیا وہ شان کیا ہے ؟ تو ارشاد فرمایا اس کی ایک شان یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو معاف کرتا ہے تو کسی کے دکھ کا ازالہ اور ایک قوم کو بلند اور دوسروں کو پست کرتا ہے۔ ] رواہ ابن ماجہ : 202[ ابن حبان فی صحیحہٖ 689۔ قول ابن عیینہ (رح) : ہے کہ زمانہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دو دن ہے۔ ان میں سے ایک وہ دن ہے جس کو مدت دنیا کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان اس دن میں امرو نہی ‘ احیاء اماتت، عطاء و منع، ہے اور دوسرا دن یوم آخرت ہے۔ اس دن میں اس کی شان جزاء و حساب ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ یہ یہود کے متعلق اتری جبکہ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے دن کسی شان کا اظہار نہیں کرتے ( بلکہ آرام کرتے ہیں) نکتہ : کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے متعلق سوال کیا تو وزیر نے اگلے روز تک مہلت طلب کی۔ اور پریشان ہو کر اس آیت کے متعلق سوچتا ہوا گیا وزیر کے ایک سیاہ غلام نے اسے کہا اے میرے آقا مجھے بتلائو آپ کو کیا پریشانی ہے۔ شاید میری وجہ سے اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرما دے۔ پس اس نے اطلاع دی۔ تو غلام کہنے لگا۔ میں بادشاہ کے سامنے اس کی تفسیر بیان کردونگا وزیر نے بادشاہ کو اس کی اطلاع دی۔ تو غلام نے حاضرہو کر کہا اے بادشاہ ! اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ بیمار کو تندرست اور تندرست کو بیمار کردیتا ہے۔ مبتلٰی کو معافی دیتا اور معافی والے کو ابتلاء میں ڈال دیتا ہے۔ ذلیل کو معزز اور معززکو ذلیل کردیتا ہے۔ مالدار کو فقیر و محتاج اور محتاج کو غنی و مالدار بنا دیتا ہے۔ اس پر بادشاہ کہنے لگا۔ تو نے بہت خوب بیان کیا۔ اور وزیر کو حکم دیا کہ وہ اس کو وزارت کا خلعت پہنائے اس پر غلام کہنے لگا۔ اے میرے آقا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ ایک قول یہ ہے تقدیر کو ان کے اوقات تک چلا کرلے جاتا ہے۔ (اس کو شان سے تعبیر فرمایا) ایک نکتہ : عبد اللہ بن طاہر نے حسین بن الفضل کو بلا کر کہا کہ تین آیات کے سمجھنے میں مجھے مشکل پیش آئی ہے۔ میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے تاکہ تو ان کی وضاحت کرے۔ نمبر 1۔ فاصبح من النادمین ] المائدہ : 31[ اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ شرمندگی توبہ ہے (مگر وہ سزا کا شکار ہوا) نمبر 2۔ کل یوم ھو فی شان۔ (الرحمان۔ 39) اور یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کے متعلق تقدیر کا قلم لکھ چکا اور خشک ہوگیا۔ نمبر 3۔ ان لیس للانسان الاماسعٰی ] النجم : 39[ تو پھر بڑھا کر کئی گنا کا کیا مطلب ہے۔ حسین نے جواب دیا ممکن ہے کہ اس امت میں ندامت محضہ توبہ کیلئے کافی نہ ہوتی ہو اور اس امت میں ندامت حقیقیہ کو توبہ شمار کیا گیا ہے۔ اور قول یہ ہے کہ قابیل کی شرمندگی قتل ہابیل نہ تھی۔ بلکہ اس کو اٹھائے اٹھائے پھرنے کی پریشانی پر تھی۔ نمبر 2۔ لیس والی آیت قوم ابراہیم و موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہے۔ نمبر 3۔ کل یوم والی آیت تو یہ شانیں وہ ظاہر فرماتے ہیں۔ ان کو نئے سرے سے نہیں بناتے۔ اس پر عبد اللہ اٹھا اور حسین کا سر چوم لیا۔
Ayah 55:30

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

30 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:31

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں

نگرانی اور انتظام میں اضافہ : 31 : سَنَفْرُغُ لَکُمْ (ہم عنقریب ہی تمہارے (حساب و کتاب کے) لئے خالی ہوجاتے ہیں) یہ قول بطور استعارہ اس شخص کے قول سے لیا گیا ہے۔ جو اس کو کہے جس کو ڈرائے۔ کہ میں تمہارے لئے فارغ ہوا چاہتا ہوں۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ میں مشغولیت میں ڈالنے والی ہر چیز سے الگ ہو کر تیرے لئے الگ تھلگ ہوجائو نگا۔ اس سے مقصود نگرانی اور انتظام میں اضافہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس سے مراد یہ ہو۔ عنقریب دنیا ختم ہو کر انجام کو پہنچ جائے گی۔ اور مخلوق کے کام بھی ختم ہوجائیں گے وہ جن کا ارادہ اس قول سے فرمایا۔ کل یوم ھو فی شان۔ پس ایک ہی شان رہ جائے گی اور وہ تمہاری جزاء ہے پس اس کو بطور مثل کے فراغت قرار دیا۔ قراءت : سیفرغ، حمزہ، علی نے پڑھا یعنی اللہ تعالیٰ ۔ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ (اے جن و انس) ان دونوں کو زمین کا ثقل و بوجھ قرار دیا۔
Ayah 55:32

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

32 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:33

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس ! اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

33 : یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (اے گروہ جن و انس) یہ ایھا الثقلان کا گویا ترجمہ ہے۔ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا (تم کو اگر یہ قدرت ہے کہ آسمان و زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو۔ تو نکلو) یعنی اگر تم آسمان و زمین کی اطراف و جوانب سے نکل کر میری قضاء سے بھاگ سکتے ہو تو پھر نکل جائو۔ پھر فرمایا۔ لَا تَنْفُذُ وْنَ (تم نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے) اِلَّا بِسُلْطٰنٍ (مگر قوت و غلبہ زور کے ذریعے) اور وہ تمہیں کہاں میسر ہے ؟ ایک قول یہ ہے کہ اس میں آسمان و زمین کی اطراف سے نکلنے کی عاجزی سے مقصود یہ ہے کہ حساب کے لئے تمہاری قوت کا عجز اس سے بھی بڑھ کر ہوگا۔ ایک اور قول یہ ہے کہ ان کو اس وقت کہا جائے گا یہ قیامت کا دن ہے جبکہ فرشتے ان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہوں گے جوں ہی ان کو جنات اور انسان دیکھیں گے تو سامنے آنے سے بھاگ کھڑے ہونگے مگر فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ ان کا احاطہ کرچکے ہیں۔
Ayah 55:34

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

34 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:35

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے

قیامت کا دھواں : 35 : یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ (اور تم دونوں پر قیامت کے دن آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا) قراءت : شواظ ؔ شین کے کسرہ سے مکی نے پڑھا ہے اور دونوں خالص شعلے کو کہتے ہیں۔ وَّ نُحَاسٌ (یعنی دھواں) قراءت : مکی نے نحاس پڑھا اور ابو عمرو بھی اس کے موافق ہیں۔ رفع کی صورت میں اس کا عطف شواظ پر ہوگا۔ اور جرؔ کی حالت میں عطف نارؔ پر ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنی قبور سے نکلو گے تو تم پر آگ کی خالص لپٹ اور دھواں مسلط کردیا جائے گا جو ہا نک کر محشر کی طرف لے جائے گا۔ فَـلَا تَنْتَصِرٰنِ (پھر تم اس کو ہٹا نہ سکو گے) ان دونوں سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔
Ayah 55:36

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

36 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:37

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا

37 : فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآ ئُ (جب آسمان پھٹ جائے گا) ایک دوسرے سے جدا ہوجائے گا اور یہ قیام قیامت کیلئے ہوگا۔ فَکَانَتْ وَرْدَۃً (پس وہ سرخ ہوجائے گا) اس کا رنگ سرخ گلاب کے پھول کی طرح ہوجائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ آسمان کا اصل رنگ سرخی ہے مگر دور ہونے کی وجہ سے نیلگون نظر آتا ہے۔ کَالدِّھَانِ (جیسے زیتون کے تیل کی طرح) جیسا کہ فرمایا کالمہل ؔ یہ زیتون کے تیل کی تلچھٹ کو کہا جاتا ہے دھان جمع دھن ایک قول یہ ہے کہ سرخ چمڑہ ( اس صورت میں یہ واحد ہے اور اس کی جمع ادھنۃ و دُھُنٌ آتی ہے)
Ayah 55:38

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

38 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Ayah 55:39

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے

39 : فَیَوْمَپذٍ (پس اس روز) یعنی جس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنچْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَآنٌّ (کسی جن و انس سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا) یہاں جانٌ بول کر جو ابوالجن ہے جن مراد لیا ہے جیسا کہتے ہیں ہاشم اور مراد اس کی اولاد لیتے ہیں۔ تقدیر کلام اس طرح ہے لا یسأل انس ولا جانٌ عن ذنبہٖ ۔ ایک ابھرتا ہو اسوال اور اس کا حل : اس آیت میں فرمایا گناہ کے متعلق سوال نہ ہوگا۔ اور دوسری آیت میں فرمایا فو ربک لنسئلنھم اجمعین ] الحجر : 92[ وقفوھم انہم مسئولون ] الصافات : 24[ حل : وہ ایک طویل دن ہے جس میں بہت سے احوال درپیش ہونگے بعض مواقع میں پوچھا جائے گا اور دوسرے مواقع میں پوچھا نہ جائیگا۔ قولِ قتادہ (رح) : پہلے یہ سوال تھا پھر لوگوں کے منہ پر مہر لگا دی گئی اور ان کے ہاتھوں اور دیگر اعضاء نے بول کر گواہی دے دی اور ان کے اعمال ثابت ہوگئے۔ ایک قول یہ ہے گناہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے نہ پوچھا جائے گا جو سوال ہوگا۔ وہ توبیخ کیلئے کیا جائے گا۔
Ayah 55:40

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

40 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)