Ayah 54:1معجزہ شق قمر :
آیت 1: اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ قیامت قریب آگئی۔ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ قراءت : وقد انشق پڑھا گیا مطلب یہ ہوگا۔ قیامت قریب آگئی اور اس کے قرب کے نشانات بھی ظاہر ہوگئے۔ کہ چاند پھٹ گیا ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسا محاورہ میں کہتے ہیں۔ اقبل الامیر وقد جاء البشر بقدومہ۔ امیر آرہا ہے اور اس کی آمد کی اطلاع کرنے والا آچکا ہے۔
قول ابن مسعود ؓ :
میں نے خود حراء کو چاند کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔ ایک قول یہ ہے : اس کا معنی یہ ہے۔ قیامت کے دن پھٹ جائے گا۔
قول جمہور :
کہ یہ معجزئہ رسول ﷺ ظاہر ہوا۔ یہ بخاری ومسلم میں مروی ہے۔
سوال : اگر چاند پھٹتا تو اطراف کے لوگوں پر مخفی نہ رہتا۔ اور اگر کفار کے ہاں ظاہر ہوا ہوتا تو وہ اس کو نقل کرتے اور نقل متواتر سے نقل کرتے۔ کیونکہ طبائع عجیب اشیاء کو پھیلانے کی عادی ہیں۔
جواب کن ہے بادل کی وجہ سے ان کے سامنے نہ آیا ہو۔ (جب واقعہ رات کا ہے تو کونسا ہر وقت لوگ رات کو آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں)
Ayah 54:2آیت 2: وَاِنْ یَّرَوْا (اگر اہل مکہ دیکھتے ہیں۔ ) ٰایَۃً (ایسی نشانی) جو حضرت محمد ﷺ کی سچائی پر دلالت کرتی ہو۔ یُعْرِضُوْا وہ اس پر ایمان لانے سے اعراض کر رہے ہیں۔ وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ مضبوط و طاقتور جادو۔ یہ المرۃ سے بنا ہے جس کا معنی قوت ہے۔ نمبر 2۔ ہر وقت چھا دینے والا۔ نمبر 3۔ گزر کر ختم ہوجانے والا۔ زائل اور نابود ہونے والا۔
Ayah 54:3آیت 3: وَکَذَّبُوْا اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو جھٹلایا۔ وَاتَّبَعُوْا اَہْوَآئَ ہُمْ اہواء جو شیطان نے ان کے سامنے پیش کیا کہ ظاہر ہونے کے بعد بھی حق کو روکا۔ وَکُلُّ اَمْرٍ امر سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ مراد ہے۔ مُسْتَقِرٌّ اپنے وقت میں ہو کر رہے گا۔ ایک قول یہ ہے : کل ہر مقدرہ پر واقع ہوگی اور ایک قول : ہر کام ان کے کاموں میں عنقریب ثابت اور ثواب و عقاب کے ظہور کے وقت قائم ہوجائے گا۔
Ayah 54:4آیت 4: وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ (اور ان لوگوں کے پاس آچکی ہیں) ۔ ہم سے اہل مکہ مراد ہیں۔ مِنَ الْاَنْبَآئِ (اتنی خبریں) ۔ قرآن مجید میں جو قرون گزشتہ کی خبریں دی گئی ہیں۔ یا آخرت کے حالات اور خبریں اور کفار کو ہونے والے عذاب کی تفصیلات جو بیان کردی گئی ہیں۔ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ (کہ ان میں کافی عبرت ہے) ۔ کفر سے روک ٗ تنبیہ و ممانعت ہے جیسا تم کہو۔ زجرتہ و ازدجرتہ ٗ یعنی میں نے اس کو روکا۔
نحو : ازدجر اصل میں ازتجر ہے۔ تاء کو دال سے بدل دیا کیونکہ تاء حرف مہموس ہے۔ اور راء مجھور ہے۔ تاء کو حرف مجھور سے بدل لیا۔ تاکہ مناسب ہوجائیں یہ کتاب سیبویہ کے آخر میں مذکور ہے۔
Ayah 54:5آیت 5: حِکْمَۃٌ (وہ دانشمندی ہے) ۔ نحو : یہ ما سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ ہو حکمۃ۔ بَالِغَۃٌ (اعلیٰ درجہ کی) ۔ انتہائی درست یا نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تک پہنچنے والی ہے۔ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ لیکن خوف دلانے والی چیز ان کو کچھ فائدہ ہی نہیں دیتی ہے۔
: ما نفی کیلئے ہے اور النذر مصدر بمعنی انذار ہے۔
Ayah 54:6قیامت کا ہولناک منظر :
آیت 6: فَتَوَلَّ عَنْہُمْ (پس آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے) ۔ اس لئے کہ آپ جانتے ہیں کہ ڈرانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ (جس دن ایک بلانے والا فرشتہ بلائے گا) ۔ نحو ٗ قراءت : یہ یخرجون کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اذکر کا ظرف ہونے کی وجہ۔ الداعی الی الداعی۔ میں سہل ‘ یعقوب و مکی نے دونوں میں یاء پڑھے۔ اور مدنی نے ان کی موافقت کی۔ ابوعمرو نے وصل میں جنہوں نے یاء کو ساکت کیا اور کسرہ پر اکتفاء کیا۔ اور یدع سے وائو کو حذف کیا کتابت میں اتباع لفظی کی وجہ سے۔ الداعی۔ یہ اسرافیل (علیہ السلام) ہونگے۔ اِلٰی شَیْئٌ نُّکُرٍ (ناگوار چیز کی طرف) ناگوار سوا کن ہونے کی وجہ سے لوگ اس کو جاننا بھی گوارہ نہ کریں گے۔ کیونکہ اس جیسی چیز کا آج تک سامنا نہیں ہوا۔ اور وہ قیامت کا ہولناک منظر ہے۔
قراءت : نُکْر۔ مکی نے کاف کو تخفیف سے پڑھا ہے۔
Ayah 54:7آیت 7: خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ (ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی) قراءت : عراقی قراء نے سوائے عاصم کے خاشعًا پڑھا ہے۔
: یہ خارجین سے حال ہے۔ اور یہ آنکھوں کا فعل ہے۔ اور مذکر لایا گیا ہے جیسا کہتے ہیں یخشع ابصارہم دیگر قراء نے خُشعًا پڑھا اور یخشعن ابصارہم مؤنث کا معنی لیا۔ یہ ان کی لغت ہے جو کہتے ہیں اکلونی البراغیث۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ خُشعًا میں ہم ضمیر ہو اور ابصارہم اس سے بدل ہو۔ اور خشوع ابصار یہ ذلت سے کنایہ ہو کیونکہ قیامت کے روز ذلیل کی ذلت اور عزیز کی عزت آنکھوں میں ظاہر ہو رہی ہوگی۔ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ (قبروں سے نکل رہے ہوں گے) ۔ کَاَنَّہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ (ایسے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے) ۔ کثرت تعداد اور ہر جانب منتشر ہونے سے تشبیہ دی۔ کہ انسان بھی کثرت و موجیں مارنے میں مکڑی کی طرح ہونگے۔ کثیر اور موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارنے والے لشکر کو کہتے ہیں۔ جاؤ وا کالجراد وہ لشکر آیا مکڑی کی طرح کثرت میں ایک دوسرے میں گھسا چاہتا ہے۔
Ayah 54:8آیت 8: مُہْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ (بلانے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہونگے) ۔ اپنی گردنوں کو اٹھائے تیزی سے جا رہے ہونگے۔ یَقُوْلُ الْکٰفِرُوْنَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ (اور کافر کہتے ہونگے یہ دن بڑا سخت ہے) ۔
Ayah 54:9تکذیب رسل کا مرض :
آیت 9: کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ (ان سے پہلے جھوٹا قرار دیا۔ ) اہل مکہ سے پہلے قَوْمْ نُوْحٍ فَکَذَّبُوْاعَبْدَنَا (قوم نوح نے اور ہمارے بندے کی تکذیب کی) ۔ عبدنا سے نوح (علیہ السلام) مراد ہیں۔
تکذیب کو دوبارہ لائے۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ انہوں نے تکذیب کے بعد تکذیب کی۔ جب ان میں سے ایک جھٹلانے والی قرن چلی گئی اس کے بعد ایک قرن اور تکذیب کرنے والی آگئی۔ نمبر 2۔ قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا پھر انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی۔ مطلب یہ ہے جب وہ شدت سے رسولوں کے انکاری تھے اور سرے سے نبوت کے ہی قائل نہ تھے آخر میں نوح کو بھی جھٹلا دیا کیونکہ وہ بھی من جملہ رسولوں میں سے تھے۔
وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ (اور کہا یہ دیوانہ ہے) ۔ (ای ہو مجنون) وہ دیوانہ ہے۔ وَازْدُجِرَ (اور اس کو دھمکی دی گئی) ۔ انہوں نے گالی گلوچ اور قتل کی دھمکی دی تاکہ ادائے رسالت سے باز رہیں۔ نمبر 2۔ ان کے منجملہ اقوال میں سے یہ بات تھی۔ کہ وہ کہنے لگے وہ مجنون اور اس کو جنات نے مخبوط الحواس کردیا اور بےعقل بنادیا کذاقال مجاہد۔
Ayah 54:10آیت 10: فَدَعَا رَبَّہٗ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ (تو نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں در ماندہ ہوں) ۔ تو ان سے انتقام لے۔ انی سے پہلے باء سببیہ محذوف ہے۔ اس لئے کہ میں مغلوب ہوں میری قوم نے مجھ پر غلبہ کیا اور میری بات نہ سنی اور ان کے جواب سے مایوسی پختہ ہوگئی۔ فَانْتَصِرْ (تو میرا ان سے انتقام لے) اس عذاب کے ذریعہ جو آپ ان پر بھیجیں گے۔
Ayah 54:11آیت 11: فَفَتَحْنَا اَبْوَابَ السَّمَآئِ (پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے) ۔
قراءت : شامی ٗ یزید ٗ سہل ٗ یعقوب نے ففتَّحْنَا پڑھا ہے۔
بِمَآئٍ مُّنْہَمِرٍ (کثرت سے برسنے والے پانی سے) ۔ جو پے درپے اور کثرت سے بہنے والا ہو۔ وہ پانی چالیس دن تک منقطع نہ ہوا۔
Ayah 54:12آیت 12: وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا (اور زمین سے چشمے جاری کردیئے) ۔ ہم نے تمام زمین کو ایسا کردیا گویا اس سے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔
بلاغت : یہ جملہ اس سے زیادہ بلیغ ہے۔ و فجرنا عیون الارض۔ فَالْتَقَی الْمَآئُ (پھر پانی مل گیا۔ ) یعنی آسمان و زمین کا۔
قراءت : الماء ان بھی پڑھا گیا یعنی دو قسم کا پانی ارضی و سماوی۔
عَلٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ (اس کام کے پورا ہونے کے لئے جو تجویز ہوچکا تھا۔ ) تاکہ اسی حالت میں پورا ہو جس کے مطابق اس نے جیسا چاہاطے کیا۔ نمبر 2۔ اس کے مطابق جیسا لوح محفوظ میں مقدور ومندرج تھا کہ ایسا ہوگا۔ اور وہ قوم نوح کی طوفان سے ہلاکت مراد ہے۔
Ayah 54:13آیت 13: وَحَمَلْنٰہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وُّدُسُرٍ (اور ہم نے لوح کو ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا۔ ) اس سے مراد کشتی ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جو موصوف کے قائم مقام ہیں اور آسکتی ہیں۔ اور اس کا نائب بن سکتی ہیں کہ اس میں اور اس میں کوئی بھی فاصلہ نہیں جیسے شاعر کا قول ہے۔ ولکن قمیصی مسرودۃ من حدید۔ مراد شاعر کی یہ ہے لکن قمیصی درع۔
آیت میں غور کرو کہ اگر تم کشتی اور الواح وکیل جمع کرو تو یہ صحیح نہیں۔ (اصل و نائب جمع نہیں ہوتے) یہ فصیح وبدیع کلام ہے۔ الدسر جمع دسار کی ہے اور وہ کیل کو کہتے ہیں۔ مسمار بروزن فعال۔ یہ دسرہٗ سے لیا گیا جس کا معنی دھکیلنا ہے۔ کیونکہ کیل سے اس کے سوراخوں کو پاٹا جاتا ہے۔
Ayah 54:14آیت 14: تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا (وہ ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ ) نمبر 1۔ ہماری نگرانی میں۔ نمبر 2۔ ہماری حفاظت میں۔ نحو : باعیننا یہ تجری کی ضمیر سے حال ہے۔ ای محفوظۃً بنا۔ اس حال میں کہ وہ ہماری حفاظت میں تھی۔ جَزَآئً (بدلہ لینے کیلئے۔ ) نحو : یہ ماقبل فتح ابواب السماء وغیرہ کیلئے مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ بدلہ لینے کیلئے کیا۔ لِمَنْ کَانَ کُفِرَ (جس کی ناقدری کی گئی تھی) ۔ من سے نوح (علیہ السلام) مراد ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کو مکفور قرار دیا کیونکہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی نعمت و رحمت ہے۔ ارشاد فرمایا۔ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ] الانبیاء۔ 107[ پس نوح (علیہ السلام) وہ نعمت ہوئے جس کی ناقدری کی گئی۔
Ayah 54:15کشتی ٔ نوح جو دہ پر :
آیت 15: وَلَقَدْ تَّرَکْنٰہَا (اور ہم نے اس واقعہ کو عبرت کیلئے رہنے دیا۔ ) ہا سے مراد کشتی یا ان کا وہ واقعہ جس کو نشانی بنادیا جس سے عبرت حاصل کی جاتی ہے۔ قول قتادہ (رح) : اس کشتی کو ارض جزیرہ میں باقی رکھا۔
ایک قول :
جودی پر باقی رکھا اور اس امت کے پہلے لوگوں نے وہ کشتی دیکھی۔
فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ (کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ ) مد کر نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا۔ یہ اصل میں مذتکر ہے۔ تا کو دال سے بدل دیا اور دال۔ ذال کا ایک مقام ہے۔ ایک دوسرے میں ادغام کردیئے گئے۔
Ayah 54:16آیت 16: فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ (پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا) ۔ نذر جمع نذیر ہے اور وہ انذار مصدر کے معنی میں ہے۔ قراءت : و نذری ٗ یعقوب نے دونوں جگہ پڑھا۔ وصل میں سہل سے اس کے موافق اور دیگر قراء نے بغیریاء کے بڑھا اور آخر سورت تک قراء کا یہی اختلاف ملحوظ رہے۔
Ayah 54:17آیت 17: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان کردیا ہے) ۔ نصیحت اور یاد کرنے کیلئے آسان کردیا۔ اس طرح کہ کافی شافی مواعظ اس میں رکھ دیئے اور وعدے اور وعیدیں بار بار بیان کردیں۔ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ مد کر بمعنی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ایک قول یہ ہے : حفظ کیلئے اس کو آسان کردیا۔ اور جو اس کو یاد کرنے کا ارادہ کرے اس کی مدد و اعانت کردی۔ کیا کوئی حفظ کا طالب ہے کہ اس کی اعانت کی جائے ؟
روایت میں ہے کہا اہل ادیان کی کتب یعنی تورات ٗ انجیل ٗ ان کو دیکھ کر ہی پڑھ سکتے تھے۔ ان کو حفظ نہ کرسکتے تھے۔ جیسا کہ قرآن کو کرسکتے ہیں۔
Ayah 54:18آیت 18: کَذَّبَتْ عَادٌ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ (قوم عاد نے جھٹلایا پس میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ ) عذاب کے اترنے سے پہلے جو ڈراوے ان کی طرف بھیجے۔ نمبر 2۔ ان کو سزا دینے میں بعد والوں کیلئے جو ڈراوے تھے۔
Ayah 54:19آیت 19: اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا (ہم نے ان پر ایک تند ہوا چھوڑ دی) ۔ صر صر : ٹھنڈی یا نمبر 2۔ سخت آواز والی۔
فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ (نحوست کے دنوں میں) ۔ مُسْتَمِرٍّ (دوامی شر والے) ۔ وہ عذاب ان پر مسلط رہا یہاں تک کہ ان کو ہلاک کردیا۔ یہ مہینہ کی آخری تاریخ بدھ کا دن تھا۔
Ayah 54:20ہوا نے اس کے مقامات سے اکھاڑ پھینکا :
آیت 20: تَنْزِعُ النَّاسَ (وہ ہوا لوگوں کو اکھاڑاکھاڑ کر پھینک رہی تھی) ۔ ان کے مقامات سے اکھاڑتی تھی۔ وہ صف باندھے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر کھڑے ہوجاتے۔ گھاٹیوں میں داخل ہوگئے اور گڑھے کھود کر ان میں گھس گئے ہوا نے ان کو وہاں سے کھینچ لیا اور اوندھے منہ گرا کر ان کی گردنیں توڑ ڈالیں۔ کَانَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ (گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیں) ۔ کھجور کا تنا جس کو زمین سے اکھیڑ لیا جائے۔ ان کو کھجور کے تنوں سے مشابہت دی کیونکہ ہوا ان کے سروں کو کاٹ ڈالتی وہ جسدبلا سر رہ جاتے اور زمین پر مردہ ہو کر گرپڑتے ان کے جسم لمبے لمبے تھے۔
ایک نکتہ :
نخل کے لفظ کا لحاظ کر کے صفت لائی گئی اگر اس کے معنی کا لحاظ کریں تو مؤنث ہوگا۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ اعجاز نخل خاویۃٍ ۔
Ayah 54:21آیت 21: فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرٍ (پس دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا) ۔
Ayah 54:22آیت 22: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنِ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت کیلئے آسان کردیا تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ )
Ayah 54:23آیت 23: کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ (ثمود نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ )
Ayah 54:24پیغمبر کی بات کو غلطی اور جنون کہا :
آیت 24: فَقَالُوْا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا (کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں گے۔ جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے) بشرًا منصوب ہے اس فعل کی بنا پر نتبعہ جس کی تفسیر کر رہا ہے۔ تقدیر عبارت ہے۔ أنتبع بشرًا منا واحدًا۔ اِنَّآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ اگر ہم نے ایسا کیا تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے۔ وہ کہا کرتے تھے۔ کہ اگر تم میری بات نہ مانو گے تو حق سے ہٹ جائو گے۔ اور آگ میں پڑو گے۔ سعر جمع سعیر : آگ۔ کفار نے اس بات کا الٹ کر کے کہا۔ اگر ہم تمہاری اتباع کرلیں گے تو ہم اس طرح ہوجائیں جیسا تو ہمیں کہتا ہے۔
ایک قول :
الضلال : غلطی ٗ درستی سے دور ہونا۔ السعر : جنون۔ تمہاری اتباع سے ہم غلطی کا شکار ہو کر جنون میں مبتلا ہوجائیں گے۔ کفا کا قول۔ أبشرًا۔ یہ انکار ہے اس بات سے کہ وہ اپنے ہم جنس کی اتباع کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ملائکہ میں سے ہونا چاہیئے۔ اور کہنے لگے۔ منّا۔ کہا تاکہ مماثلت قویہ تامہ ثابت کی جاسکے۔ انہوں نے واحدًا کہا۔ اس بات سے انکار ہے کہ جماعت ایک فرد واحد کی پیروی کرے یا واحد ًا سے مراد عامۃ الناس میں سے ہے ان کے اشراف و افضل میں سے نہیں اس مفہوم پر اگلی آیت دلالت کر رہی ہے۔
Ayah 54:25آیت 25: ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا (کیا ہم سب میں سے اس پر وحی نازل ہوئی۔ ) مطلب یہ ہے کیا اس پر وحی اتری حالانکہ ہم میں ایسے بھی ہیں جو نبوت کے چنائو کے لئے اس سے زیادہ مستحق ہیں۔ بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ (بلکہ وہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ ) أشر : شیخی باز ٗ متکبراس کو اس کی شیخی نے آمادہ کیا ہے کہ یہ دعویٰ کر کے ہم پر بڑائی حاصل کرے۔
Ayah 54:26آیت 26: سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْکَذَّابُ الْاَشِرُ (ان کو عنقریب کل ہی کو معلوم ہوجائے گا۔ کہ جھوٹا شیخی باز کون تھا۔ ) جب ان پر عذاب اترے گا۔ نمبر 2۔ قیامت کے دن کہ جھوٹا شیخی باز کون ہے۔ کیا میں صالح یا مجھے جھٹلانے والے ؟
قراءت : شامی و حمزہ نے ستعلمون پڑھا ہے۔ اس کو نقل کرتے ہوئے جو ان کو صالح (علیہ السلام) نے بطور جواب فرمایا۔ نمبر 2۔ بطور التفات یہ ادخال الٰہی ہے۔
Ayah 54:27آیت 27: اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ (ہم اونٹنی کو نکالنے والے ہیں۔ ) مقرر کرنے اور ان کے مطالبہ پر پہاڑ سے نکالنے والے ہیں۔ فِتْنَۃً لَّہُمْ (ان کی آزمائش کیلئے) ان کے ابتلاء و امتحان کے لئے۔ نحو : یہ مفعول لہ ہے۔ نمبر 2۔ حال ہے۔ فَارْتَقِبْہُمْ (پس ان کو دیکھتے رہو) انتظار کرو اور دیکھتے رہو وہ کیا کرنے والے ہیں۔ وَاصْطَبِرْ (اور صبر رکھو۔ ) ان کی ایذائوں پر اور جلدی مت کرنا یہاں تک کہ میرا حکم تمہارے پاس آئے۔
Ayah 54:28آیت 28: وَنَبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌ بَیْنَہُمْ (اور ان لوگوں کو بتادینا کہ پانی ان میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ) ان کے مابین تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک دن اونٹنی کا اور دوسرا دن ان کا۔ بینہم۔ عقلاء کو تغلیب دے کر ذکر کیا۔ ورنہ باری تو ان کے جانوروں اور اونٹنی کے مابین تھی۔ کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ (ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا۔ ) محتضر بمعنی محضور ٗ باری مقرر کیا ہوا۔ ایک دن قوم گھاٹ پر آموجود ہو اور ایک دن اونٹنی حاضر ہو۔
Ayah 54:29قدار بن سالف :
آیت 29: فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ (انہوں نے اپنے رفیق کو بلایا۔ ) صاحبہم۔ قدار بن سالف ثمود کا چھوٹو سر خا۔ فَتَعَاطٰی (پس اس
نے اوٹنی پر وار کیا۔ ) یعنی عظیم جرم کے ارتکاب کی جرأت کی اور اسکی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَعَقَرَ (پس اسکی کونچیں کاٹ دیں) ۔ یعنی اونٹنی کی۔ نمبر 2۔ اس نے تلوار لے کر اونٹنی کو آلیا اور قتل کردیا۔ نمبر 3۔ اس نے تلوار کو لیا۔ دوسرے مقام پر فرمایا فعقروا الناقۃ۔
] الاعراف 77[
ایک نکتہ :
گویا اس آیت میں مفرد لائے اور دوسری آیت میں جمع لائے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس قتل پر سب راضی تھے اس لئے سب گویا شریک تھے۔ نمبر 2۔ تمام اونٹنی کے قتل میں اس کے معاون تھے۔ تلوار و تیر سے وار والا وہی تھا۔
Ayah 54:30آیت 30: فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ (پس دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا) ۔
Ayah 54:31آیت 31: اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ (ہم نے ان پر مسلط کیا) ۔ اونٹنی کے ذبح کے چوتھے دن بعد صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً (ایک نعرہ۔ ) جبرئیل (علیہ السلام) نے ان پر چیخ ماری۔ فَکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (پس وہ ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا۔ ) الہشیم : خشک درخت جس کا بھوسہ بنایا جاتا ہے۔ والمحتظر : باڑ لگانے والا اور جس پر باڑ لگائیں اور زیادہ وقت گزرنے پر وہ خشک ہوجائے اور حیوانات کے پے درپے گزرنے سے وہ روندی جائے اور ٹوٹ کر چورا چور ہوجائے۔
قراءت : حسن (رح) نے مُحْتَظَر پڑھا اور وہ باڑ لگانے کی جگہ ہے۔
Ayah 54:32آیت 32: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (اور ہم نے قرآن نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے آسان کردیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ )
Ayah 54:33آیت 33: کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ بِالنُّذُرِ (قوم لوط نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ )
Ayah 54:34آیت 34: اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا (ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ ) ایسی ہوا بھیجی جو ان پر پتھر پھینکتی تھی۔ اِلاَّ ٓ اٰلَ لُوْطٍ (مگر لوط (علیہ السلام) کے متعلقین۔ ) آپ کی دونوں بیٹیاں اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے۔ نَجَّیْنٰہُمْ بِسَحَرٍ (ان کو اخیر شب میں ہم نے بچا لیا۔ ) سحر یعنی اسحار اسی لئے اس کو منصرف لائے۔ عرب کہتے ہیں۔ لقیتہ بسحرٍ ۔ جبکہ اسی دن کی سحر کو تم ملو۔
ایک قول یہ ہے :
سحر دو ہیں۔ نمبر 1۔ المسحر الاعلی پو پھوٹنے سے پہلے۔ نمبر 2۔ پوپھوٹنے کے وقت۔
Ayah 54:35آیت 35: نِعْمَۃً (اپنی جانب سے فضل کر کے۔ ) یہ مفعول لہ ہے یعنی بطور انعام کے مِنْ عِنْدِنَا کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ جو (شکر کرتا ہے اس کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ ) ایمان اور اپنی اطاعت کی نعمت۔
Ayah 54:36آیت 36: وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ (اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا تھا۔ ) بَطْشَتَنَا (ہماری پکڑ سے۔ ) عذاب مسلط کرنے سے پہلے۔ فَتَمَا رَوْا بِالنُّذُرِ (لیکن انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کیے۔ ) پس انہوں نے ڈرانے والوں میں شک کر کے جھٹلایا۔
Ayah 54:37آنکھوں کو مٹا دیا :
آیت 37: وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ (اور ان لوگوں نے لوط (علیہ السلام) سے ان کے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا۔ ) انکے مہمانوں سے بےحیائی کا مطالبہ کیا۔ فَطَمَسْنَا اَعْیُنَہُمْ (پس ہم نے ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں۔ ) یعنی ان کو اندھا کردیا۔
ایک قول یہ ہے :
ان کی آنکھوں کو مسخ کر کے چہرے کی طرح بنادیا۔ آنکھوں کے شقوق کا نشان نہ تھا۔ روایت میں ہے کہ جب انہوں نے لوط (علیہ السلام) کے دروازے کو مروڑا تاکہ وہ اس میں داخل ہوں تو ملائکہ نے کہا۔ ان کو اندر آنے دیں۔ ہم تو تیرے رب کے قاصد ہیں وہ ہرگز تجھ تک پہنچ نہیں سکتے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کی ایک جھپٹ ماری۔ ان کو ادھر ادھر بھاگتے چھوڑ دیا۔ ان کو دروازہ کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ یہاں تک کہ لوط (علیہ السلام) نے خود ان کو دروازے سے باہر نکالا۔ فَذُوْقُوْا (اور کہا لو چکھو۔ ) یہ ملائکہ کی زبانی کہا۔ عَذَابِیْ وَنُذُرِ (میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ) ۔
Ayah 54:38آیت 38: وَلقَدْ صَبَّحَہُمْ بُکْرَۃً (اور صبح سویرے دن کے اول حصہ میں ان پر آپہنچا۔ ) عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ (دائمی عذاب) قائم رہنے والا جو ان پر اس طرح قائم ہوگیا کہ جو ان کو آخرت کے عذاب تک پہنچا کر چھوڑے گا۔
Ayah 54:39آیت 39: فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ (تو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو۔ ) دوبارہ لانے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر خبر کو سن کر نصیحت تازہ ہوجائے۔
Ayah 54:40آیت 40: وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ )
عظیم فائدہ :
تذکیر و نصیحت کی تازگی کے لئے بار بار ان کلمات کو دہرایا گیا۔ کہ دوبارہ متنبہ ہوں اور اس پر آمادہ کرنے سے بیداری میں تجدید ہوجائے۔ اور سورة رحمان میں بار بار فبای الائِ ربکما تکذبان۔] الرحمان۔ 13[ کو لانے کا بھی یہی مقصد ہے۔ ہر نعمت جس کو شمار کرے۔ اس پر اپنے ذہن کو متنبہ کر کے اپنے دل و دماغ کو نئے سرے سے بیدار کرے اور اسی طرح ویل یومئذ للمکذبین ] المرسلات۔ 15[ میں دوبارہ لانے میں یہی حکمتیں ہیں۔ اور اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے واقعات کو بار بار دہرایا تاکہ وہ عبرتیں دلوں میں مستحضر ہوجائیں اور ذہنوں کے سامنے تصویر بن کر آجائیں۔ اور ہر آن میں وہ نصیحت کو یاد دلانے والے ہوں نہ کہ بھلانے والے۔