53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

آیت 1: والنجم نمبر 1۔ ثریا ستاروں کی قسم اٹھائی۔ نمبر 1، جنس نجوم کی، اذا ھوی جب غروہ ہو، نمبر 2، جب قیامت کے دن ٹوٹ کر بکھر جائے۔
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

وہ سیدھی راہ پر نہ کہ ضلالت میں : آیت 2: ما ضل اور میانہ روی سے نہیں بھٹکے یہ جواب قسم ہے، صاحبکم یعنی محمد ﷺ ۔ کم سے قریش مکہ سے مراد وما غوی اور باطل کی اتباع میں وہ غلط راستے پر نہیں چلے۔ الضلال یہ الہدی کی ضد ہے، اور الغی یہ الرشد کی۔ مطلب یہ ہوا وہ سیدھا راہ پانے والے ہیں وہ اس طرح نہیں جیسا کہ تم اپنے خیال کے مطابق ان کی نسبت ضلالت وغوایت کی طرف کر رہے ہو۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

آیت 3: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى(وہ اپنی خواہش سے نہیں کلام کرتے)
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

آیت 4: اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى (ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی گئی ہے) جو تمہیں وہ قرآن میں سے دیں وہ ایسی بات نہیں جو اپنی رائے اور خواہش سے صادر ہونے والی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔ ایک دلیل : اس آیت سے ان لوگوں نے حجت بنائی ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق اجتہاد کو جائز نہیں رکھتے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد میسر فرمایا اور اس پر ان کو باقی رکھا تو وہ وحی کی طرح ہے، اور اپنی خواہش کی گفتگو نہیں۔
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

طاقتور فرشتہ جبرئیل : آیت 5: عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى (ان کو ایک بڑے طاقتور نے تعلیم دی) علمہ یعنی محمد ﷺ کو سکھایا، شدید القوی، طاقتور فرشتہ اس میں اضافت غیر حقیقی ہے، کیونکہ وہ صفت مشبہ کی اضافت فاعل کی طرف ہے، اور مراد اس سے جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جمہور کا قول یہی ہے اور اس کی قوت کا حال یہ ہے کہ انہوں نے ماء اسود سے قوم لوط کی بستیوں کو اکھاڑ کر اپنے ایک پر کے کنارے پر اٹھا کر پلٹ دیا اور ایک چیخ ماری جس سے قوم ثمود اوندھے منہ گر کر ہلاک ہوگئے۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

جبرئیل کا اصلی صورت میں ظاہر ہونا : آیت 6: ذُوْ مِرَّةٍ (جو پیدائشی طاقتور ہے) خوبصورت ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے۔ فَاسْتَوٰى(نمودار ہوا) وہ اپنی حقیقی صورت میں نمودار ہوا، صورت مثالیہ میں نہیں جبکہ وہ وحی لے کر آتے تھے تو حضرت دحیہ کلبی کی صورت میں آتے، اور اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ نے پسند فرمایا کہ جبرئیل کو اس کی اصلی صورت میں دیکھیں۔ پس جبرئیل (علیہ السلام) آسمان کے بلند کنارے میں نمودار ہوئے اور وہ مشرقی کنارہ تھا پس افق کو بھر دیا۔ ایک قول یہ ہے : کسی بھی پیغمبر نے ان کو اصلی صورت میں نہیں دیکھا سوائے محمد ﷺ کے، آپ نے بھی دو مرتبہ ان کو اصلی صورت میں دیکھا، ایک مرتبہ زمین پر اور دوسری مرتبہ آسمانوں پر۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

آیت 7: وھو (اور وہ) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى (اس وقت آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا) مشرقی کنارہ۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

آیت 8: ثُمَّ دَنَا (پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب آیا) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوا۔ فَتَدَلّٰى (پھر اور قریب ہوا) قرب و نزدیکی میں بڑھ گیا۔ التدلی، کسی چیز کے قریب اترنا۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

بہتر قریب تر : آیت 9: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ (پس دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم) یعنی عربی کمانوں کی مقدار۔ یہاں اندازے کمانوں سے اور نیزے اور کوڑے، بازو اور دونوں کھلے بازوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ جیسا حدیث میں فرمایا : لا صلاۃ الی ان ترتفع الشمس مقدار رمحین اور دوسری روایت میں ہے لقاب قوس احدکم من الجنۃ و موضع قدہ خیر من الدنیا وما فیھا۔ راہ البخاری، 2793۔ القد کوڑا، تقدیر کلام یہ ہے۔ فکان مقدار مسافۃ قربہ مثل قاب قوسین۔ پس قرب کا مقدار فاصلہ دو کمانوں کی مقدار تھا، پس ان مضافات کو حذف کردیا۔ اَوْ اَدْنٰى (یا اس سے بھی زیادہ قریب) یعنی تمہارے اندازے کے مطابق جیسا کہ فرمایا یزیدون۔ الصافات 147۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو خطاب ان کی لغت اور ان کی مقدار فہم کے مطابق کیا گیا، عرب کہا کرتے ہیں ھذا قدری محین او انقص۔ ایک اور قول یہ ہے : بل ادنی او بل کے معنی میں ہے بلکہ زیادہ قریب۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

آیت 10: فَاَوْحٰٓى (پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی) پس وحی لائے جبرئیل (علیہ السلام) اِلٰى عَبْدِهٖ (اللہ تعالیٰ کے بندے پر) گرچہ اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی کا تذکرہ ہوا مگر ضمیر لوٹانے میں التباس نہیں ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ ماترک علی ظھرھا (فاطر : 45) آپ کی امت پہلے جنت میں : مَآ اَوْحٰى (جو کچھ نازل فرمائی) اس میں وحی کی عظمت شان کو ذکر کیا جو آپ کی طرف بھیجی گئی۔ ایک قول یہ ہے : آپ کی طرف وحی کی گئی، کہ جنت اس وقت تک انبیاء (علیہم السلام) کے لیے حرام ہے جب تک آپ ﷺ داخل نہ ہوں گے اور تمام امتوں پر جنت حرام ہے یہاں تک کہ آپ کی امت اس میں داخل ہو۔ (زمخشری فی الکشاف)
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

جبرئیل (علیہ السلام) کو سر کی آنکھوں سے دیکھا : آیت 11: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ (قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی) الفواد سے محمد ﷺ کا فواد مراد ہے۔ مَا رَاٰى (اس میں غلطی نہیں کی) جو آپ نے صورت جبرئیل اپنی آنکھ سے دیکھی تھی یعنی آپ کے دل نے یہ نہیں کہا جبکہ جبرئیل کو دیکھا کہ میں نے تمہیں نہیں پہچانا۔ اور اگر ایسا کہتے تو غلط ہوتا کیونکہ آپ نے اس کو پہچانا تھا، یعنی آپ نے اس کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور دل سے پہچانا۔ اور اس میں قطعا شک نہ کیا کہ جو آپ نے دیکھا وہ برحق ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جو قیل سے نقل کیا : جن کو دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے آپ نے اپنے سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور دوسرا قول یہ ہے کہ دل سے دیکھا۔
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

آیت 12: اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰى (کیا تم ان سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو) کیا تم جھگڑتے ہو، یہ المراء سے مشتق ہے۔ جس کا معنی جھگڑنا ہے اور المراء یہ مری الناقۃ سے لیا گیا۔ گویا جھگڑنے والوں میں سے ہر ایک اس کو کہلواتا ہے اور نکلواتا ہے جو اس کے ساتھی کے پاس ہوتا ہے، مری یمری، اونٹنی کے تھن کو دودھ کے لیے سہلانا تاکہ دودھ نکلے۔ قرات : اَفَتُمٰرُوْنَهٗ حمزہ علی خلف یعقوب نے پڑھا ہے، اس کا معنی یہ ہے کیا تم جھگڑے میں اس پر غالب آنا چاہتے ہو۔ یہ ماریتہ فمریتہ سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں غلبہ کا معنی پایا جاتا ہے، اس لیے علی سے متعدی کیا گیا ہے۔ علی ما یری علی سے متعدی کیا گیا، جیسا تم کہو۔ غلبتہ علی کذا۔ ایک قول یہ ہے : افتمرونہ ای افتجحدونہ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو، عرب کہتے ہیں مریتہ حقہ اذا جحدتہ جبکہ حق کا انکار کردیا جائے، علی سے اس کا متعدی ہونا اسی وقت صحیح ہے جبکہ اس میں تضمین کو تسلیم کریں۔
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

معراج میں دوبارہ دیکھنا : آیت 13: وَلَقَدْ رَاٰهُ (اور انہوں نے اس کو ایک اور مرتبہ بھی دیکھا) محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو نَزْلَةً اُخْرٰى (ایک اور نزول کے وقت) نزلۃ کو مرۃ کی طرح منصوب پڑھیں گے، کیونکہ فعلہ کا وزن کسی بھی فعل کے ایک مرتبہ کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے اسی کے حکم میں ہوتا ہے۔ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ آپ پر اپنی اسلی شکل میں نمودار ہوئے اور آپ نے اس کو اسی صورت میں دیکھا، اور یہ معراج کی رات کا واقعہ ہے۔
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

یہ بیری کا درخت ہے : آیت 14: عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى (سدرۃ المنتہی کے پاس) جمہور کا قول یہ ہے کہ یہ بیری کا درخت ہے جو ساتوں آسمانوں سے اوپر عرش کے دائیں جانب ہے۔ المنتھی انتہا کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یا نمبر 2، انتہا کرنا، گویا وہ جنت کی انتہا اور اس کے آخر میں ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے کوئی تجاوز نہیں کرتا۔ اس تک فرشتوں کا علم ختم ہوجاتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے مابعد کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے : ارواح شہداء اس تک پہنچتی ہیں اس لیے اس کو سدرۃ المنتہی کہتے ہیں۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

آیت 15: عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى (اس کے قریب جنت الماوی ہے) یعنی وہ جنت جس میں متقی لوگ پہنچیں گے، ایک قول : اس میں شہدا کی ارواح قیام کرتی ہیں اس لیے اس کا نام جنت الماوی ہے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

آیت 16: اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى (جب سدرۃ المنتہی کو لپیٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) یعنی اس کو دیکھا اس وقت جبکہ سدرہ کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں۔ ما یغشی کہہ کر ان چیزوں کی عظمت و کثرت کو ذکر کیا۔ مسئلہ : اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جو مخلوق اس کو ڈھانپے ہوئے تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے جو بیان میں آ نہیں سکتی۔ ایک قول یہ ہے : اس کو فرشتوں کی بہت بڑی جماعت گھیرنے والی تھی جو اس کے قریب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف تھے۔ ایک اور قول یہ ہے : سونے کے پروانے اس کو گھیرے میں لینے والے تھے۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

کمال شان : آیت 17: مَا زَاغَ الْبَصَرُ (نگاہ ہٹی) رسول اللہ ﷺ کے بصر مبارک ان عجائب کے دیکھنے سے جن کے دیکھنے کا حکم ہوا مڑی نہیں بلکہ ان میں مصروف و مگن رہی۔ وَمَا طَغٰى (اور نہ بڑھی) جس چیز کو دیکھنے کا حکم ہوا اسی کو دیکھا اس سے تجاوز نہیں کیا۔ (اس میں کمال شان محمد ﷺ کا تذکرہ فرمایا)
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

آیت 18: لَقَدْ رَاٰى (انہوں نے دیکھے) اللہ تعالیٰ کی قسم آپ نے دیکھے۔ مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى (اپنے پروردگار کے بڑے بڑے عجائبات) یعنی جب آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا تو آپ نے عالم ملکوت کے عجائبات دیکھے۔
Ayahs 53:19–20

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟ )

جاہلیت کے بت : آیت 19: اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى (20) وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى (بھلا کیا تم نے لات و عزی ایک اور منات کی حالت پر غور بھی کیا) یعنی تم بتلاؤ ان چیزوں کے متعلق جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ کیا ان میں وہ قدرت و عظمت پائی جاتی ہے جو رب العزت کی صفات میں سے ہے ؟ اللات، العزی، مناۃ، یہ تینوں بتوں کے نام ہیں یہ تینوں مونث ہیں، لات یہ ثقیف کا بت تھا جس کو اہل طائف پوجتے تھے۔ ایک قول یہ ہے : یہ مقام نخلہ میں تھا اس کی پوجا قریش کرتے تھے، لات یہ لوی سے فعلۃ کا وزن ہے، لات کہنے کی وجہ سے یہ ہے لوی یلوی وہ اس کی طرف مڑتے اور متوجہ ہوتے اور عبادت کے لیے اعتکاف کرتے تھے اور ان کے پاس پڑے رہتے، العزی یہ غطفان والوں کا بت تھا، یہ کیکر کا درخت تھا، اس کی اصل الاعز ہے، اس کو خالد بن ولید نے تباہ کیا۔ مناۃ یہ ایک پتھر تھا جس کی ہذیل اور خزاعہ پوجا کرتے تھے، ایک قول یہ ہے کہ ثقیف پوجتے تھے، اس کو منات کہنے کی وجہ یہ تھی کہ قربانیوں کے خون اس کے پاس بہائے جاتے تھے۔ قرات : ومناۃ مکی نے مفعلۃ کے وزن پر النوء سے پڑھا ہے، گویا کفار ان کے پاس انواء ستاروں سے بارش طلب کرتے اس سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ الاخری یہ منات کی صفت ہے جو مذمت کے لیے لائے، سب سے پچھلا نکمی حیثیت والا جیسا کہ اس آیت میں قالت اخراھم لاولھم (الاعفا :38) (یعنی ان کے کم درجہ اپنے شرفاء و روسا کو کہیں گے) اور یہ بھی درست ہے کہ ان کے ہاں درجات میں لات و عزی کو اولیت و تقدم حاصل ہو۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

آیت 21: کفار کہا کرتے تھے کہ ملائکہ اور یہ اصنام اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، وہ ان کی عبادت کرتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہیں ان کے سفارشی ہوں گے، اگرچہ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں، ان کو کہا گیا۔ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

آیت 22: تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى ( کیا تمہارے لیے بیٹے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں، یہ تو بہت بےڈھنگی تقسیم ہوئی) یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے تمہارا یٹیاں مقرر کرنا اور اپنے لیے بیٹے یہ بھونڈی یعنی ظالمانہ تقسیم ہے۔ ضیزی یہ ضازہ یضیزہ جبکہ اس کی حق تلفی کرے، ضیزی یہ فعلی کا وزن ہے، اس لیے کہ صفت میں فعلی بکسر الفاء نہیں آتا۔ یاء کی مناسبت سے فا کر کسرہ دیا گیا ہے، جیسا کہا جاتا ہے بیض حالانکہ وہ بوض ہے جیسا کہ حمر سود ہے۔ ضئزی ہمزہ سے مکی نے پڑھا اور اس کو ضازہ یہ ضازہ ہی کی طرح ہے معنی میں فرق نہیں ہے۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

آیت 23: انھی (یہ صرف) یعنی اصنام نہیں ہیں۔ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ (نام ہی نام ہیں) جن کے ماتحت مسمیات نہیں کیونکہ تم ان کے لیے مبعودیت کے قائل ہو حالانکہ وہ اس سے بہت ہی دور ہیں۔ اور اس سے انتہائی منافات رکھتے ہیں۔ سَمَّيْتُمُوْهَآ (جو تم نے ٹھرا لیے ہیں) یعنی تم نے ان کا وہ نام رکھ دیا ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ سمیتہ زیدا اے اسیتہ بزید۔ میں نے اس کا نام زید تجویز کیا۔ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ (اور تمہارے آباواجداد نے اللہ تعالیٰ نے تو ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل بھیجی نہیں یہ صرف بےاصل خیالات ہیں) سلطان، حجت و دلیل، ظن سے مراد ان کا یہ وہم کہ وہ حق پر ہیں۔ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ (اور اپنے نفس کی خواہش جس پر وہ چل رہے ہیں) جو ان کے نفوس پسند کرتے ہیں وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى (حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے بواسطہ رسول ہدایت آچکی ہے) وہ ہدایت اللہ کا رسول اور اس کی کتاب ہے انہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور اس پر عمل نہیں کیا۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

آیت 24: اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَــنّٰى (کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے) یہ ام منقطعہ بمعنی بل ہے، اور ہمزہ استفہام انکاری کا ہے، مطلب یہ ہے کہ انسان یعنی کافر کو اس کی ہر تمنا نہیں ملتی جو وہ شفاعت اصنام کی لگائے بیٹھا ہے یا یہ تمنا ولئن رجعت الی ابی ان لی عندہ للحسنی۔ (صافات : 50) ایک قول یہ بھی ہے : اس سے مراد وہ تمنا ہے جو بعض نے کی کہ وہ نبی بن جاتے۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

آیت 25: فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَالْاُوْلٰى (پس اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، آخرت اور دنیا) یعنی وہی دونوں کا مالک ہے اور اس کی دونوں میں حکمرانی ہے، جس کو چاہے نبوت و شفاعت دے جس کو وہ پسند کرے نہ کہ جو کوئی تمنا کرے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

اللہ کے ذن کے بغیر کسی کی سفارش کام نہیں دیتی : آیت 26: وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى ( اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں، ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے اجازت دے اور پسند کرے) شفاعت کا معاملہ بڑا مشکل ہے، ملائکہ قرب و کثرت کے باوجود اگر تمام کے تمام کسی ایک کی سفارش کریں تو ان کی شفاعت ذرہ بھر کام نہ دے گی اور نہ فائدہ پہنچائے گی۔ مگر جبکہ اللہ تعالیٰ اس سفارش کی اجازت دیں اور جس کے حق میں شفاعت کی اجازت دیں اور ان کی شفاعت کو اس کے حق میں پسند کریں اور ان کو شفاعت کا مستحق پائیں کہ اس کے لیے کوئی سفارش کرے، تو تب جاکر سفارش قبول ہوگی، ان بتوں کی سفارش کی اپنے عابدین کے متعلق کیا حیثیت ہے ؟
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

آیت 27: اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى (جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کے نام سے نامزد کرتے ہیں) یسمون یعنی ان میں سے ہر ایک فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتا ہے، تسمیۃ الانثی اس لیے کہا وہ ملائکہ کو بنات اللہ کہتے تھے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتا ہے۔ تسمیۃ الانثی اس لیے کہا کہ وہ ملائکہ کو بنات اللہ کہتے تھے، ان میں سے ہر ایک کو بیٹیاں کہتے تھے۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

آیت 28: وَمَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ (حالانکہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں ہے) اپنے اس قول کی۔ قرات : بھا بھی پڑھا گیا، ملائکہ یا تسمیہ کی طرف ضمیر لوٹتی ہے۔ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا (صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور بیشک اصل خیالات امر حق میں ذرہ بھی مفید نہیں ہوتے) الظن سے ان کی تقلید آباء مراد ہے۔ لا یغنی کا مطلب یہ ہے کہ حق کی پہچان علم و یقین سے ہوتی ہے ظن و توہمات سے نہیں ہوتی۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

آیت 29: فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ڏ عَنْ ذِكْرِنَا (تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجیے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے) پس آپ ایسے شخص سے منہ موڑ لیجیے جو ہماری یاد سے منہ موڑنے والا ہو۔ ذکرنا سے قرآن مجید مراد ہے۔ وَلَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا (اور سوائے دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو)
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

آیت 30: ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ( یہ ان کے علم کی حد ہے) ذلک کا مشار الیہ ان کا دنیا پر خوش ہوجانا اور اس کو پسند کرنا ہے۔ مبلغ سے انتہا و مقصود علم ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۙ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى (تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون راہ راست پر ہے) یعنی اللہ تعالیٰ گمراہ و ہدایت یافتہ کو خوب جانتے ہیں وہی ان کو بدلہ دیں گے۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

آیت 31: وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۙ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا بِمَا عَمِلُوْا (اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، انجام کار یہ ہے کہ برے کام کرنے والوں کو ان کے کیے کی سزا دے گا) جو برے کام کیے ان کی سزا یا اس وجہ سے کہ انہوں نے برے کام کیے وہ ان کو سزا دے گا۔ وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى (اور نیک کام کرنے والوں کو ان کے نیک کاموں کے بدلہ میں اچھی جزا دے گا) الحسنی : اچھا ثواب و بدلہ اور وہ جنت ہے یا اعمال حسنی کے سبب سے ان کو بدلہ دے گا۔ مطلب اس طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے جہان کو پیدا فرمایا اور کارخانہ کو درست کیا تاکہ مکلفین میں سے نیکو کار کو اور ان میں سے بدکار کو بدلہ عنایت فرمائے، اس لیے کہ بادشاہ ہی اولیا کی نصرت اور دشمنوں پر غلبہ دے سکتا ہے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

کبیرہ و صغیرہ میں فرق : آیت 32: اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ (یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں) نحو : الذین یہ بدل ہے یا مدح کی وجہ سے موضع رفع میں ہے ای ھم الذین الکبائر، گناہ دو قسم پر ہیں۔ نمبر 1 کبائر، نمبر 2 صغائر۔ وہ گناہ جن کی سزا بڑی ہے وہ کبیرہ ہیں، اور جو ایسے نہیں وہ صغائر ہیں۔ قرات : حمزہ علی نے کبیر پڑھا ہے، یعنی ان میں سے وہ قسم جو بڑی ہے۔ وَالْفَوَاحِشَ (جو کبیرہ میں سے حد سے بڑھے ہیں) گویا اس طرح فرمایا اس میں سے فواحش خاص کر گویا یہ عطف تفسیری ہے۔ ایک قول : کبیرہ جس پر عذاب کی دھمکی گئی گئی ہو۔ اور فواحش وہ ہیں جن پر حد لگتی ہو۔ اِلَّا اللَّمَمَ (مگر جو ہلکے ہلکے گناہ ہوں) یعنی صغائر۔ یہ استثناء منقطع ہے، کیونکہ یہ جنس کبائر و فواحش میں سے نہیں ہے، جیسے نگاہ محرم، بوسہ، لمس، آنکھ سے اشارہ۔ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ (بیشک آپ کا رب وسیع مغفرت والا ہے) وہ بلا توبہ جو چاہتا ہے گناہ معاف کردیتا ہے۔ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ (اور وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے، جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا تھا) کم سے مراد یہاں آباء و اجداد ہیں۔ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ۚ فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۔ اپنے تزکیہ پر فخر مت کرو : (اور جب تم ماؤ کے پیٹ میں بچے تھے، پس تم اپنے کو مقدس مت سمجھا کرو) اجنۃ جمع جنین ماں کے پیٹ کا بچہ۔ فلا تزکوا، اپنے عمل کو پاکیزگی اور زیادہ خیر اور اطاعات کی طرف منسوب مت کرو (کہ اس پر فخر کرنے لگ جاؤ) یا نمبر 2 اپنے کو گناہوں سے پاک مت قرار دو ، اور نہ اس پر اپنی تعریف کرتے پھر، اپنے نفوس کو مٹا کر رکھو، ان میں سے پاکیزہ کو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ ابتدا انتہا میں متقی بھی اس کے علم میں ہے، اس سے پہلے کہ صلب آدم سے تمہیں نکالا اور اس سے پہلے بھی وہ جانتے ہیں کہ ماؤں کے پیٹوں سے تم نکلے۔ ایک قول یہ ہے : بعض لوگ اچھے اعمال کر کے کہتے پھرتے تھے، ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارا حج، تو یہ آیت اتری، مگر یہ اس صورت میں ہے جبکہ خود پسندی کے طور پر کرے یا ریا کاری کے طور پر کرے، البتہ اعتراف نعمت کے طور پر جائز ہے، کیونکہ تو طاعت پر اظہار مسرت ہے اور اس کا تذکرہ تو شکریہ کی قسم ہے۔ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى (تقوی والوں کو وہی خوب جانتا ہے) بس اس کے جاننے پر اکتفا کرو لوگوں کو بتلانے کی حاجت نہیں اور اس کا بدلہ کافی ہے لوگوں کی ثنا کی ضرورت نہیں۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

آیت 33: اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى (کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی) ایمان سے اعراض کیا۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

اسلام کے بعد کفر اختیار کیا : آیت 34: وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى (اور تھوڑا مال دیا اور بند کردیا) اپنا عطیہ دینا بند کردیا اور اس کے دینے سے رک گیا۔ اکدی اصل میں اکداء الحاضر سے لیا گیا۔ وہ یہ ہے کہ کھودنے میں سامنے سخت چٹان آجائے اور وہ اس کو کھودنے سے روک دے۔ قول ابن عباس ؓ : یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کیا۔ ایک قول یہ ہے : ولید بن مغیرہ کے متعلق اتری، اس نے قریب تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع کرلی مگر بعض کفار نے اس کو عار دلائی، اور کہنے لگے تو نے اپنے بڑوں کا دین چھوڑ دیا اور خیال کیا کہ وہ جہنمی ہیں۔ اس نے جواب دیا مجھے خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔ دوسرا کافر کہنے لگا میں اس کا ضامن ہوں اگر وہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ دے اور اپنے شرک کی طرف لوٹ آئے، تو وہ اس کی طرف سے عذاب الہی کو اٹھا لے گا۔ ولید نے ایسا کردیا اور اس مال کا کچھ حصہ اس کو دیا جس نے اس شرط پر ضمانت اٹھا لی پھر بقیہ کے متعلق بخل اختیار کرتے ہوئے رک گیا۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے ؟

آیت 35: اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى (کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ اس کو دیکھ رہا ہے) جس سے وہ جانتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لیے اس کی ضمانت اٹھائی ہے وہ برحق ہے۔
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی ؟

آیت 36: اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى (کیا اس کو اس مضمون کی خبر نہیں جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے) صحف موسیٰ سے تورات مراد ہے۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی جنہوں نے (حق طاعت و رسالت) پورا کیا ؟

پوری وفا والے : آیت 37: وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ( اور ابراہیم کے صحیفوں میں جس نے احکام کی پوری بجا آوری کی) اور ابراہیم سے صحف ابراہیم میں۔ وفی توقیر و تکمیل کی، جیسا دوسرے مقام پر فاتمھن (البقرہ : 124) اور وفی کو مطلقا ذکر کیا، تاکہ ہر وفا کو شامل ہو۔ قرات : یہ تخفیف سے وفی پڑھا گیا ہے، تشدید تو وفا میں مبالغہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ قول حسن (رح) : اللہ تعالیٰ نے جو ان کو حکم دیا انہوں نے اسے پورا کردیا۔ عطاء بن السائب (رح) : انہوں نے عہد کیا کہ وہ مخلوق سے سوال نہ کرے گا۔ جب ان کو آگ میں ڈالا گیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو کہا، کیا کوئی کام میرے ذمہ ہے ؟ انہوں نے کہا حاجت تو ہے مگر تجھ سے نہیں ؟ حضرت نبی اکرم نے فرمایا، انہوں نے ہر روز صدر نہار میں چار رکعت پڑھنے کا عہد کیا تھا اس کو پورا کیا۔ (طبرانی ابی حاتم) اور یہی صلوۃ الضحی ہے روایت میں وارد ہے کہ آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ بتلاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل جس نے وفا کی کیوں فرمایا ؟ اس لئیے کہ آپ صبح اور شام کو یہ کلمات پڑھتے تھے فسبحان اللہ حین تمسون الی حین تظھرون۔ (رواہ احمد 439/3) ایک قول یہ ہے : انہوں نے فرمانبرداری کا حصہ پورا کردیا اور وہ تیس خصائل تین حصے ہیں، نمبر 1، دس توبہ میں التائبون سے مذکور ہیں۔ نمبر 2 اور دس احزاب میں مذکور ہیں ان المسلمین الایۃ، اور نمبر 3 دس المومنون میں قد افلح المومنون۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

آیت 38: پھر موسیٰ و ابراہیم کے صحف کا مضمون بتلایا۔ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى (کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا) تزر یہ وزر یزر سے لیا گیا۔ جبکہ کوئی گناہ کرلے، وزر گناہ کو کہتے ہیں۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے، معنی یہ ہے شان یہ ہے کہ گناہ نہ اٹھائے گا، ہٗ ضمیر شان ہے، اور ان اور ما بعد کا محل مجرور ہے کیونکہ یہ مافی صحف موسیٰ سے بدل ہے۔ نمبر 2 محلا مرفوع ہے، ھو الا تزر ویا کسی کہنے والے نے کہا ابراہیم و موسیٰ کے صحائف میں کیا ہے ؟ تو جواب آیا الا تزر وازرۃ وزر اخری یعنی کوئی نفس دوسرے نفس کا گناہ نہ اٹھائے گا۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

دوسرے کی کوشش کام دے گی : آیت 39: وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (اور انسان کے لیے صرف اپنی ہی کمائی ملے گی) ما سعی یعنی اس کی کوشش اور یہ بھی ابراہیم و موسیٰ (علیہما السلام) کے صحائف کی بات ہے، میت کی طرف سے صحیح روایات میں صدقہ اور حج کرنا مذکور ہے۔ تو اس کے متعلق اقوال ہیں۔ نمبر 1 اس کو دوسرے کی کوشش کام نہ دے گی جب تک اپنی کوشش نہ ہوگی، اور وہ اپنی کوشش ایمان کا پایا جانا ہے۔ اس صورت میں دوسرے کا عمل گویا اس کا اپنا عمل شمار ہوگا۔ کیونکہ وہ ایمان کے تباع اور ایمان کے ساتھ قائم ہے۔ اور اس وجہ سے کہ غیر کی کوشش اس کو کام نہ دے گی، جبکہ وہ اپنی ذات کی خاطر کرے، مگر جب اس نے اس کی نیت کرلی تو وہ اس کام میں اس کا نائب و وکیل اور قائم مقام ہوگیا۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

آیت 40: وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى ( اور یہ کہ انسان کی کوشش بہت جلد دیکھی جائے گی) یعنی وہ اپنی کوشش و کارکردگی قیامت کے دن اپنے میزان میں دیکھے گا۔