53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 53:41

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا

آیت 41: ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى ( پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا) پھر بندے کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے گا۔ عرب کہتے جزاہ اللہ عملہ وجزاء علی عملہ، حذف جار کے ساتھ فعل کے ساتھ ملا کر، معنی دونوں طرح یکساں ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ ضمیر جزا کی طرف راجع ہو، پھر اس کی تفسیر فرمائی الجزاء الاوفی پوری جزاء یا اس کے بدلے میں دے گا۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے

آیت 42: وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى (اور یہ کہ سب آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے) یہ تمام باتیں صحف اولی کی ہیں، المنتھی یہ مصدر ہے جس کا معنی انتہا ہے، مخلوق اسی تک پہنچے گی اور اس کی بارگاہ میں لوٹے گی، جیسا کہ فرمایا : والی اللہ المصیر (آل عمران : 28)
Ayah 53:43

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے

آیت 43: وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى ( اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے) یعنی ہنسنے اور رونے کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ ایک قول : نمبر 1 اس نے حزن و مزاح کو پیدا کیا، نمبر 2، وہ مومن کو عطیات دیکر آخرت میں ہنسائے گا اور دنیا میں نوائب و مصائب سے رلائے گا۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

آیت 44: وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْيَا (اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے) ایک قول یہ ہے : اس نے باء کو موت دی اور بیٹوں کو زندہ کیا۔ نمبر 2 کفر سے موت اور ایمان سے زندگی۔ نمبر 3 یہاں موت دی اور وہاں زندہ کردیا۔
Ayah 53:45

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے

آیت 45: وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى (اور یہ کہ وہی دونوں قسم نر اور مادہ کو نطفہ سے بناتا ہے)
Ayah 53:46

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

(یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے

آیت 46: مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (جب نطفہ رحم میں ڈالا جاتا ہے) جبکہ رحم میں ٹپکایا جائے عرب کہتے ہیں منی وامنی۔
Ayah 53:47

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے

آیت 47: وَاَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى (اور یہ کہ دوبارہ پیدا کرنا اسی کے ذمہ ہے) موت کے بعد زندہ کرنا۔
Ayah 53:48

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے

آیت 48: وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى (اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور سرمایہ دے کر باقی رکھتا ہے) اقنی کا معنی القنیہ یعنی مال دیتا ہے۔ قنیہ وہ مال جس کو محفوظ کر کے پکا ارادہ ہو کہ اس کو اپنے ہاتھ سے نہ نکالے گا۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی شعرٰی کا مالک ہے

آیت 49: وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى (اور یہ کہ وہی رب ہے شعری کا) شعری ستارہ ہے جو جوزاء کے بعد طلوع ہوتا ہے۔ جبکہ موسم شدید گرمی کا ہوتا ہے، بنو خزاعہ اس کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے بنائے ہوئے معبود کا رب ہے۔
Ayah 53:50

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا

آیت 50: وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى (اور یہ کہ اس نے قوم عاد کو ہلاک کیا) یہ ہود (علیہ السلام) کی قوم ہے، عاد اخری قوم ثمود کا لقب ہے۔ قرات : مدنی، بصری نے سوائے سہل کے تنوین کو لام میں مدغم کر کے پڑھا، عاد الولی اور ہمزہ اولی کو گرایا، اور اس کا ضمہ لام تعریف کی طرف منتقل کردیا۔
Ayah 53:51

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا

آیت 51: وَثَمُوْدَا۟ فَمَآ اَبْقٰى (اور ثمود کو بھی کہ ان میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا) حمزہ، عاصم نے ثمودا پڑھا، باقی قراء نے وثمودا پڑھا۔ نحو : اس کا عطف عادا پر ہے یہ فما ابقی کی وجہ سے منصوب نہیں ہے، کیونکہ فا کا مابعد ما قبل پر عامل نہیں بن سکتا، تم اس طرح نہیں کہہ سکتے۔ زیدا فضربت اسی طرح نفی کے مابعد کا حال ہے کہ وہ بھی ماقبل میں عمل نہیں کرتا، معنی یہ ہے اھلک ثمود فما ابقاھم، اس نے ثمود کو ہلاک کیا پس ان کو باقی نہ چھوڑا۔
Ayah 53:52

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے

آیت 52: وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ (اور ان سے پہلے قوم نوح کو) یعنی قوم نوح کو عاد وثمود سے پہلے ہلاک کیا۔ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰى (بیشک وہ سب سے زیادہ ظالم اور شریر تھے) عاد وثمود سے بڑھ کر، کیونکہ وہ نوح (علیہ السلام) کو اتنا مارتے یہاں تک کہ ان میں حرکت نہ رہتی۔ اور ان سے دوسروں کو نفرت دلاتے یہاں تک کہ اپنے بچوں کو ان کی بات سننے سے ڈراتے۔
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا

آیت 53: وَالْمُؤْتَفِكَةَ (اور الٹی ہوئی بستیاں) وہ بستیاں جن کو ان کے رہنے والوں سمیت پلٹ دیا، وہ قوم لوط (علیہ السلام) ہے، عرب کہتے ہیں۔ اف کہ فانتفک اس کو الٹا تو وہ الٹ گیا۔ اَهْوٰى (پھینک مارا) ان کو آسمان کی طرف بلند کیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے کنارہ پر زمین سمیت اٹھایا، پھر زمین پردے مارا۔ نحو : الموتفکۃ یہ اہوی کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر ان پر چھایا جو چھایا

آیت 54: فَغَشّٰـىهَا (پھر ان بستیوں کو گھیر لیا) مَا غَشّٰى (جس چیز نے گھیر لیا) ما کا ابہام اس عذاب کی خوفناکی اور بڑائی کو ظاہر کر رہا ہے۔ جو ان پر برسایا گیا۔ ان پر تہہ بہ تہہ پتھر برسائے۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

(اے انسان ! ) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا ؟

کسی نعمت میں شک ہے ؟ آیت 55: فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى (پس تو اپنے رب کی کونسی نعمت میں شک کرتا ہے) اے مخاطب تتماری (شک کرنا) کیا ان نعمتوں کے ساتھ جن سے تمہیں انعامات کا والی بنایا۔ نمبر 2 یا وہ نعمتیں جو ناراضگی کی طرف سے تیرے لیے کفایت کرتی ہیں۔ نمبر 3 کونسی نعمتوں کے سبب سے جو تیرے رب کی ربوبیت و وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں ان میں سے کس میں تو شک کرتا ہے۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ (محمد ﷺ بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں

آیت 56: ھٰذَا نَذِيْرٌ (یہ ایک ڈرانے والا ہے) یہ من جملہ ان پہلے آئی ہوئی تنبیہات کے ایک تنبیہ ہے نذیر سے محمد ﷺ مراد ہیں، مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى (پہلے ڈرانے والوں میں سے) اولی جماعت کا لحاظ کر کے کہا، یا ہذا القرآن یہ قرآن پہلے نذیروں میں سے ایک نذیر ہے، یعنی یہ انذار کوئی نیا نہیں بلکہ پہلے انذارات کی جنس سے ہے وہ انذارات جن سے تم سے پہلے لوگوں کو ڈرایا گیا۔
Ayah 53:57

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

آنے والی (یعنی قیامت) قریب آپہنچی

آیت 57: اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ (وہ جلدی آنے والی قریب آپہنچی) جس کی قرب سے صفت کی گئی ہے جیسا اس ارشاد میں ہے اقتربت الساعۃ (القمر : 1)
Ayah 53:58

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا

آیت 58: لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ (اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں) اس کو کوئی نفس دور نہیں کرسکتا وہ واضح ہے کہ کب قائم ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا لا یجلیھا لوقتھا الا ھو (الاعراف : 187) یا اس کو کوئی نفس دور نہیں کرسکتا یعنی جو دور کرنے پر قادر ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کو برپا کردیں گے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
Ayah 53:59

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

(اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو

آیت 59: اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ (کیا تم اس کلام خداوندی سے تعجب کرتے ہو) الحدیث سے قرآن مراد ہے، تم انکار کرتے ہو تعجب کرتے ہو۔
Ayah 53:60

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں

آیت 60: وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ (اور تم ہنستے ہو، اور روتے نہیں ہو) تم مذاق کے طور پر ہنستے ہو اور ڈرتے ہوئے روتے نہیں ہو۔
Ayah 53:61

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو ؟

آیت 61: وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (اور تم تکبر کرتے ہو) اس سے غافل ہو اور تم کھیل کود کرنے والے ہو۔ کفار جب قرآن سنتے غناء سے اس کا مقابلہ کرتے، تاکہ لوگوں کو اس کے سننے سے مشغول کریں۔
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی) کی عبادت کرو

آیت 62: فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا (پس تم اللہ ہی کے لیے سجدہ کرو اور اسی ہی کی عبادت کرو) اور اس کے سوا غیر اللہ کی عبادت مت کرو۔