Ayah 53:41آیت 41: ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى ( پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا) پھر بندے کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے گا۔ عرب کہتے جزاہ اللہ عملہ وجزاء علی عملہ، حذف جار کے ساتھ فعل کے ساتھ ملا کر، معنی دونوں طرح یکساں ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ ضمیر جزا کی طرف راجع ہو، پھر اس کی تفسیر فرمائی الجزاء الاوفی پوری جزاء یا اس کے بدلے میں دے گا۔
Ayah 53:42آیت 42: وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى (اور یہ کہ سب آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے) یہ تمام باتیں صحف اولی کی ہیں، المنتھی یہ مصدر ہے جس کا معنی انتہا ہے، مخلوق اسی تک پہنچے گی اور اس کی بارگاہ میں لوٹے گی، جیسا کہ فرمایا : والی اللہ المصیر (آل عمران : 28)
Ayah 53:43آیت 43: وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى ( اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے) یعنی ہنسنے اور رونے کو اسی نے پیدا کیا ہے۔
ایک قول : نمبر 1 اس نے حزن و مزاح کو پیدا کیا، نمبر 2، وہ مومن کو عطیات دیکر آخرت میں ہنسائے گا اور دنیا میں نوائب و مصائب سے رلائے گا۔
Ayah 53:44آیت 44: وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْيَا (اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے) ایک قول یہ ہے : اس نے باء کو موت دی اور بیٹوں کو زندہ کیا۔ نمبر 2 کفر سے موت اور ایمان سے زندگی۔ نمبر 3 یہاں موت دی اور وہاں زندہ کردیا۔
Ayah 53:45آیت 45: وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى (اور یہ کہ وہی دونوں قسم نر اور مادہ کو نطفہ سے بناتا ہے)
Ayah 53:46آیت 46: مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (جب نطفہ رحم میں ڈالا جاتا ہے) جبکہ رحم میں ٹپکایا جائے عرب کہتے ہیں منی وامنی۔
Ayah 53:47آیت 47: وَاَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى (اور یہ کہ دوبارہ پیدا کرنا اسی کے ذمہ ہے) موت کے بعد زندہ کرنا۔
Ayah 53:48آیت 48: وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى (اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور سرمایہ دے کر باقی رکھتا ہے) اقنی کا معنی القنیہ یعنی مال دیتا ہے۔ قنیہ وہ مال جس کو محفوظ کر کے پکا ارادہ ہو کہ اس کو اپنے ہاتھ سے نہ نکالے گا۔
Ayah 53:49آیت 49: وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى (اور یہ کہ وہی رب ہے شعری کا) شعری ستارہ ہے جو جوزاء کے بعد طلوع ہوتا ہے۔ جبکہ موسم شدید گرمی کا ہوتا ہے، بنو خزاعہ اس کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے بنائے ہوئے معبود کا رب ہے۔
Ayah 53:50آیت 50: وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى (اور یہ کہ اس نے قوم عاد کو ہلاک کیا) یہ ہود (علیہ السلام) کی قوم ہے، عاد اخری قوم ثمود کا لقب ہے۔
قرات : مدنی، بصری نے سوائے سہل کے تنوین کو لام میں مدغم کر کے پڑھا، عاد الولی اور ہمزہ اولی کو گرایا، اور اس کا ضمہ لام تعریف کی طرف منتقل کردیا۔
Ayah 53:51آیت 51: وَثَمُوْدَا۟ فَمَآ اَبْقٰى (اور ثمود کو بھی کہ ان میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا) حمزہ، عاصم نے ثمودا پڑھا، باقی قراء نے وثمودا پڑھا۔
نحو : اس کا عطف عادا پر ہے یہ فما ابقی کی وجہ سے منصوب نہیں ہے، کیونکہ فا کا مابعد ما قبل پر عامل نہیں بن سکتا، تم اس طرح نہیں کہہ سکتے۔ زیدا فضربت اسی طرح نفی کے مابعد کا حال ہے کہ وہ بھی ماقبل میں عمل نہیں کرتا، معنی یہ ہے اھلک ثمود فما ابقاھم، اس نے ثمود کو ہلاک کیا پس ان کو باقی نہ چھوڑا۔
Ayah 53:52آیت 52: وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ (اور ان سے پہلے قوم نوح کو) یعنی قوم نوح کو عاد وثمود سے پہلے ہلاک کیا۔ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰى (بیشک وہ سب سے زیادہ ظالم اور شریر تھے) عاد وثمود سے بڑھ کر، کیونکہ وہ نوح (علیہ السلام) کو اتنا مارتے یہاں تک کہ ان میں حرکت نہ رہتی۔ اور ان سے دوسروں کو نفرت دلاتے یہاں تک کہ اپنے بچوں کو ان کی بات سننے سے ڈراتے۔
Ayah 53:53آیت 53: وَالْمُؤْتَفِكَةَ (اور الٹی ہوئی بستیاں) وہ بستیاں جن کو ان کے رہنے والوں سمیت پلٹ دیا، وہ قوم لوط (علیہ السلام) ہے، عرب کہتے ہیں۔ اف کہ فانتفک اس کو الٹا تو وہ الٹ گیا۔
اَهْوٰى (پھینک مارا) ان کو آسمان کی طرف بلند کیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کے کنارہ پر زمین سمیت اٹھایا، پھر زمین پردے مارا۔
نحو : الموتفکۃ یہ اہوی کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 53:54آیت 54: فَغَشّٰـىهَا (پھر ان بستیوں کو گھیر لیا) مَا غَشّٰى (جس چیز نے گھیر لیا) ما کا ابہام اس عذاب کی خوفناکی اور بڑائی کو ظاہر کر رہا ہے۔ جو ان پر برسایا گیا۔ ان پر تہہ بہ تہہ پتھر برسائے۔
Ayah 53:55کسی نعمت میں شک ہے ؟
آیت 55: فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى (پس تو اپنے رب کی کونسی نعمت میں شک کرتا ہے) اے مخاطب تتماری (شک کرنا) کیا ان نعمتوں کے ساتھ جن سے تمہیں انعامات کا والی بنایا۔ نمبر 2 یا وہ نعمتیں جو ناراضگی کی طرف سے تیرے لیے کفایت کرتی ہیں۔ نمبر 3 کونسی نعمتوں کے سبب سے جو تیرے رب کی ربوبیت و وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں ان میں سے کس میں تو شک کرتا ہے۔
Ayah 53:56آیت 56: ھٰذَا نَذِيْرٌ (یہ ایک ڈرانے والا ہے) یہ من جملہ ان پہلے آئی ہوئی تنبیہات کے ایک تنبیہ ہے نذیر سے محمد ﷺ مراد ہیں، مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى (پہلے ڈرانے والوں میں سے) اولی جماعت کا لحاظ کر کے کہا، یا ہذا القرآن یہ قرآن پہلے نذیروں میں سے ایک نذیر ہے، یعنی یہ انذار کوئی نیا نہیں بلکہ پہلے انذارات کی جنس سے ہے وہ انذارات جن سے تم سے پہلے لوگوں کو ڈرایا گیا۔
Ayah 53:57آیت 57: اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ (وہ جلدی آنے والی قریب آپہنچی) جس کی قرب سے صفت کی گئی ہے جیسا اس ارشاد میں ہے اقتربت الساعۃ (القمر : 1)
Ayah 53:58آیت 58: لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ (اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں) اس کو کوئی نفس دور نہیں کرسکتا وہ واضح ہے کہ کب قائم ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا لا یجلیھا لوقتھا الا ھو (الاعراف : 187)
یا اس کو کوئی نفس دور نہیں کرسکتا یعنی جو دور کرنے پر قادر ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کو برپا کردیں گے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
Ayah 53:59آیت 59: اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ (کیا تم اس کلام خداوندی سے تعجب کرتے ہو) الحدیث سے قرآن مراد ہے، تم انکار کرتے ہو تعجب کرتے ہو۔
Ayah 53:60آیت 60: وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ (اور تم ہنستے ہو، اور روتے نہیں ہو) تم مذاق کے طور پر ہنستے ہو اور ڈرتے ہوئے روتے نہیں ہو۔
Ayah 53:61آیت 61: وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (اور تم تکبر کرتے ہو) اس سے غافل ہو اور تم کھیل کود کرنے والے ہو۔ کفار جب قرآن سنتے غناء سے اس کا مقابلہ کرتے، تاکہ لوگوں کو اس کے سننے سے مشغول کریں۔
Ayah 53:62آیت 62: فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا (پس تم اللہ ہی کے لیے سجدہ کرو اور اسی ہی کی عبادت کرو) اور اس کے سوا غیر اللہ کی عبادت مت کرو۔