Ayah 52:1آیت 1 : وَالطُّوْرِ یہ وہ پہاڑ ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف کلام بخشا گیا۔ یہ مدین میں ہے۔
Ayah 52:2آیت 2 : وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ قرآن مجید ہے۔ نکرہ لائے کیونکہ یہ تمام کتابوں میں مخصوص شان والی کتاب ہے۔ یا نمبر 2۔ لوح محفوظ نمبر 3۔ تورات۔
Ayah 52:3آیت 3 : فِیْ رَقٍّ اس سے صحیفہ مراد ہے یا نمبر 2۔ وہ چمڑہ جس پر لکھا جائے۔ مَّنْشُوْرٍ کھلا ہوا جس پر مہراختتام نہ ہو۔ یا چمکدار۔
Ayah 52:4فرشتوں کا کعبہ :
آیت 4 : وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ وہ عبادت خانہ جو آسمان میں بیت اللہ کے سیدھ (برابری) میں ہے جس کا فرشتے طواف کرتے ہیں۔ کثرت زوّار کی وجہ سے اس کو آباد گھر فرمایا۔ روایت میں ہے کہ ہر روز اس میں سے جو ستّر ہزار ملائکہ طواف کر کے نکلتے ہیں۔ ان کی دوبارہ باری نہ آئے گی۔ ایک قول : کعبہ کا ہی نام ہے۔ حجاج و عمار کی وجہ سے وہ ہر وقت آباد ہے۔
Ayah 52:5آیت 5 : وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ آسمان مراد ہے عرش الٰہی مراد ہے۔
Ayah 52:6آیت 6 : وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ بھرا ہوا سمندر یا گرم کیا ہوا۔
نحو : اول وائو قسم کے لئے ہے اور باقی عاطفہ ہیں اور جواب قسم ان عذاب ربک ہے۔
Ayah 52:7آیت 7 : اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ (بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور اترنے والا ہے) وہ عذاب جس سے کفار کو ڈرایا گیا ہے۔ واقع۔ اترنے کو کہتے ہیں۔
قولِ جبیر بن مطعم۔ :
میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اساریٔ بدر کے سلسلہ میں بات چیت کے لئے حاضر ہوا۔ نماز فجر کے وقت میں پہنچا آپ سورة طور تلاوت فرما رہے تھے جب آپ اس آیت پر پہنچے ان عذاب ربک لواقع تو میں اس خوف سے مسلمان ہوگیا کہ کہیں عذاب اتر نہ پڑے۔ صحیح کے اندر جو روایت آئی ہے اس میں صلاۃ المغرب کا ذکر ہے اور آیت ام خلقوا من غیر شیٔ ام ہم الخالقون۔ سنی تو میرا دل خوف سے اڑنے لگا۔ ] بحوالہ حاشیہ کشاف 4/409[
Ayah 52:8آیت 8 : مَّالَہٗ مِنْ دَافِعٍ (کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا) اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ نحو : جملہ واقعٌ کی صفت ہے۔ ای واقع غیر مدفوع اور لواقع یہ یوم کا عامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ای یقع فی ذلک الیوم یا اذ کر یوم۔
Ayah 52:9منظر قیامت :
آیت 9 : یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآئُ مَوْرًا (جس روز آسمان تھرتھرانے لگے گا) چلنے والی چکی کی طرح گھومے گا۔
Ayah 52:10آیت 10 : وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا (اور پہاڑ ہٹ جائیں گے) ہوا میں بادلوں کی طرح چلیں گے۔ کیونکہ وہ بکھرے ہوئے ریت کے ذرات بن جائیں گے۔
Ayah 52:11کافروں کی کمبختی کا دن :
آیت 11 : فَوَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (تو اس روز جو لوگ جھٹلانے والے ہیں۔ ان کی بڑی کم بختی آئے گی)
Ayah 52:12آیت 12 : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ (جو مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگ رہے ہیں) باطل و کذب کی مشغولیت میں داخل ہونا ان کا وطیرہ بن گیا۔ دوسرے مقام پر فرمایا کنا نخوض مع الخائضین۔ ] المدثر۔ 45[
Ayah 52:13آیت 13 : یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا (جس روز ان کو جہنم کی آگ کی طرف دھکے دے دے کر لائیں گے) یہ یوم تمور سے بدل ہے۔ الدع : زور سے دھکا دینا اور وہ اس طرح ہوگا۔ کہ آگ کے مقررہ فرشتے ان کے ہاتھ گردنوں سے باندھ دیں گے اور
پیشانیوں اور قدموں کو جکڑ کر اکٹھا کردیں گے۔ پھر چہروں کے بل ان کو جہنم کی طرف دھکیل کرلے جائیں گے۔ پس ان کو کہا جائے گا۔
Ayah 52:14آیت 14 : ہٰذِہِ النَّارُ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ (یہ وہی دوزخ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) دنیا میں۔
Ayah 52:15آیت 15 : اَفَسِحْرٌ ہٰذَآ (کیا یہ سحر ہے) نحو : ہٰذَا مبتدأ۔ أسحر اس کی خبر ہے۔ یعنی تم وحی کو سحر کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟ مراد یہ ہے کیا یہ مصداق بھی جادو ہے ؟ اسی وجہ سے فاء کو اس پر داخل کیا۔ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ (یا یہ کہ تم کو نظر نہیں آتا) جیسا کہ تم دنیا میں نہ دیکھتے تھے۔ یعنی کیا تم جس کے متعلق خبر دی گئی ہے اس سے اندھے ہو جیسا کہ خبر سے اندھے تھے ؟ یہ توبیخ و ڈانٹ ہے۔ أفسحر کا استفہام انکاری ہے۔
Ayah 52:16عذاب پر صبر تو سزا ہے :
آیت 16 : اِصْلَوْہَا فَاصْبِرُوْا اَوْلَا تَصْبِرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ (اس میں داخل ہو پھر سہار کرنا یا نہ کرنا تمہارے حق میں برابر ہے) سواء کی خبر محذوف ہے ای علیکم الامران الصبرو عدمہ۔ بعض نے اس کا عکس کہا ہے۔ اور استواء الصبرو عدمہ کی اس قول سے تعلیل بیان کی کہ اعمال کی سزا تو ضرور ملنی ہی ہے۔ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تمہیں انہی اعمال کی جزاء دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے) یہ تعلیل ہے۔ کیونکہ صبر کو جزع فزع پر یہ مرتبہ حاصل ہے کہ صبر کا بدلہ یہ ہے کہ صابر کو بہتر بدلہ ملتا ہے۔ باقی عذاب پر صبر جو کہ سزا ہے اس کا کوئی انجام نہیں اور نہ فائدہ ہے۔ اور جزع میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ فائدہ۔
Ayah 52:17متقین کا بدلہ :
آیت 17 : اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ (متقی لوگ بلاشبہ بہشت کے باغوں اور سامان عیش میں ہونگے) جنات کی تنوین تعظیم کیلئے ہے کیا خوب باغات میں ونعیم۔ کیا خوب نعمتوں میں ہونگے جو اپنی صفات میں کامل ہیں۔ یا ایسے باغات اور نعمتیں جو متقین کے ساتھ مخصوص ہونگی۔ جو انہی کیلئے پیدا کی گئیں ہیں۔
Ayah 52:18آیت 18 : فٰکِہِیْنَ (وہ خوش دل ہونگے) نحو : یہ ظرف کی ضمیر سے حال ہے اور ظرف خبر ہے۔ ای متلذذین اس حال میں کہ وہ لذت حاصل کرنے والے ہونگے۔ بِمَآ ٰاتٰہُمْ رَبُّہُمْ (جو چیزیں ان کو ان کے رب نے دی ہونگی) وَوَقٰہُمْ رَبُّہُمْ (اور ان کا رب ان کو محفوظ رکھے گا) نحو : اس کا عطف فی جناتٍ پر ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ان المتقین استقروا فی جنات و وقاہم ربہم۔ نمبر 2۔ آتاہم ربہم پر اس کا عطف ہے۔ اس صورت میں ما مصدریہ ہے۔ معنی یہ ہوگا۔ وہ لذت اندوز ہونے والے ہونگے۔ اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دی ہیں اور اس سبب سے کہ ان کو جہنم کے عذاب سے بچایا ہے۔ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ( دوزخ کا عذاب) نمبر 3۔ وائو حالیہ قرار دیں اور اس کے بعد قد مضمر ہے۔
Ayah 52:19آیت 19 : کہا جائے گا۔ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِیْئًآم بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (خوب کھائو اور پیو مزہ کے ساتھ اپنے اعمال کے بدلہ میں) کھائو و پیو کھانا اور پینا خوشگوار۔ نمبر 2۔ کلوا طعامًا واشربوا شرابا ہنیئا۔ کھانے والی اور پینے والی چیزیں مزے سے کھائو۔ ہنیئا اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں ناگواری نہ ہو۔
Ayah 52:20آیت 20 : مُتَّکِئِیْنَ (وہ تکیہ لگائے ہوئے) نحو : یہ کلوا واشربوا کی ضمیر سے حال ہے۔ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍ (برابر برابر بچھائے ہوئے تختوں پر ہونگے) سرر جمع سریرٌ کی ہے۔ مصفوفۃ : ایک دوسرے سے متصل۔ وَزَوَّجْنٰہُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ (اور ہم کشادہ چشم گوریوں یعنی حوروں سے ان کا جوڑ لگا دیں گے) زوجنا کا معنی جوڑ لگانا۔ حور جمع حوراء کی ہے۔ عین : بڑی آنکھوں والی ہونا یہ ان کا حسن ہے۔
Ayah 52:21اولاد کا آباء سے ملنا :
آیت 21 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اور جو لوگ ایمان لائے) نحو : یہ مبتدأ ہے اور الحقنا بہم اس کی خبر ہے۔ وَاتَّبَعَتْہُمْ (اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا)
قراءت : ابوعمرو نے واتبعناہم پڑھا ہے۔ ذُرِّیَّتُہُمْ (ان کی اولادنے) بِاِیْمَانٍ ۔ نحو : یہ فاعل سے حال ہے۔
اَلْحَقْنَابِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ (ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ شامل کردیں گے) یعنی اولاد کو اس کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے ان کے آباء کے ساتھ درجات میں ملا دیں گے۔ خواہ اولاد کے اعمال اپنے آباء سے کم ہوں۔
ایک قول یہ ہے :
اولاد اگرچہ وہ کسی مقام پر نہ پہنچے ہوں۔ کہ ان کا ایمان استدلالی ہو۔ انہوں نے وہ ایمان تقلیدی اختیار کیا ہو وہ بھی اپنے آباء کے ساتھ مل جائیں گے۔
قراءت : مدنی نے ذریاتہم اور ذریَتُہم پڑھا۔ ابوعمرو نے ذریاتِہم و ذرّیّاتِہم پڑھا۔ شامی نے ذرّیاتُہم ذریّاتِہم پڑھا۔
وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ (اور ہم ان کے عمل میں سے بھی کچھ کم نہ کریں گے) یعنی ان کے ثواب اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔
قراءت : مکی نے ألِتناہم پڑھا یہ ألَت یألِتُ اور ألِتَ یَالَتُ دونوں لغات ہیں۔
نحو : پہلا مِنْ یہ التناہم کے متعلق ہے اور دوسرا زائدہ ہے۔
کُلُّ امْرِیٍٔم بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ (ہر شخص اپنے اعمال میں محبوس ہوگا) رہین یہ مرہون کے معنی میں ہے۔ پس مومن کا نفس اپنے اعمال کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے پس اس کو بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 52:22نظار ہائے جنت :
آیت 22 : وَ اَمْدَدْنٰہُمْ بِفَاکِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ (اور ہم ان کو میوہ اور گوشت جس قسم کا مرعوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے) امددنا کا معنی وقتا فوقتاً بڑھانا ہے۔ مما یشتہوں۔ اگرچہ وہ اپنی طرف سے تجویز نہ بھی کریں۔
Ayah 52:23آیت 23 : یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا (اور وہ شراب بھرے پیالوں کی چھینا جھپٹی بھی کریں گے) کاسًا خمرا : ام شراب۔ وہ اپنے مجلس والوں اور اقرباء کے ساتھ ایک دوسرے کے ہاتھ سے سرور میں چھین جھپٹ کریں گے۔ لاَّ لَغْوٌ فِیْہَا (اس میں نہ بک بک ہوگی) اس شراب کے پینے میں۔ وَلَا تَاْثِیْمٌ (اور نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی) ان کے مابین لغو بات نہ چلے گی باطل بات وہاں نہ ہوگی اور نہ ایسی بات ہوگی جس میں گناہ ہو۔ اگر ایسا کام کہ اگر وہ دارالتکلیف میں کرتا تو گناہ ہوتا جیسے جھوٹ۔ گالم گلوچ جیسے شرابی کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی عقلیں قائم ہونگی اور وہ حکمت اور عمدہ کلام کرنے والے ہونگے۔
Ayah 52:24قراءت : لا لغوا فیہا ولا تأثِیْمَ ۔ مکی و بصری نے پڑھا ہے۔
آیت 24 : وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ غِلْمَانٌ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آتے جاتے ہونگے) غلام۔ لَّہُمْ (جو انہی کے ساتھ مخصوص ہونگے) کَاَنَّہُمْ (گویا کہ وہ) اپنی سفیدی اور صفائی کی وجہ سے۔ لُؤْلُوٌ مَّکْنُوْنٌ (حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں) نمبر 1۔ سیپ میں کیونکہ جب یہ موتی تر ہوتا ہے تو زیادہ خوبصورت اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ مکنونٌ مخزون کے معنی میں خزانہ میں جمع شدہ۔ کیونکہ انتہائی قیمتی چیز کو خزانہ میں رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا۔ ان ادنی اہل الجنۃ الحدیث سب سے کم درجہ جنتی خدام کو آواز دے گا تو ایک آواز پر ایک ہزار لبیک لبیک کہتے ہوئے اس کے دروازے پر حاضر ہوجائیں گے۔ (الثعلبی۔ حاشیہ کشاف)
Ayah 52:25آیت 25 : وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ (وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے۔ ایک دوسرے سے حالات دریافت کریں گے اور وہ اعمال پوچھیں گے جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ درجات پانے کا مستحق بنا)
Ayah 52:26دنیا میں رحمت کے چھن جانے کا خطرہ تھا :
آیت 26 : قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ (وہ کہیں گے۔ ہم اس سے پہلے) دنیا کی زندگی میں۔ فِیْ اَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ (اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) نمبر 1۔ مشفقین۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت سے ہمارے دل نرم تھے۔ یا نمبر 2۔ ایمان کے کھینچ اور فوت ہوجانے اور رحمت کے چھن جانے کا ڈر رکھتے تھے۔ نمبر 3۔ نیکیوں کے مسترد ہوجانے اور گناہوں کے بدلے پکڑ لیے جانے سے ڈرتے تھے۔
Ayah 52:27آیت 27 : فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا (پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا) مغفرت و رحمت کے ساتھ۔ وَوَقٰنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) السموم : ایسی گرم ہوا جو مسامات میں داخل ہوجائے۔ جہنم کی آگ کو یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ بھی مسامات میں داخل ہوجائے گی۔
Ayah 52:28آیت 28 : اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ (ہم اس سے پہلے) اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کی بارگاہ میں پہنچنے سے پہلے یعنی دنیا میں۔ نَدْعُوْہُ (اسی سے دعائیں مانگا کرتے تھے) اسی کی عبادت کرتے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے تھے اور اسی سے جہنم سے بچنے کا سوال کرتے تھے۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ (وہ بڑا محسن و مہربان ہے) البر : محسن الرحیم : ایسی عظیم رحمت والا کہ جب اس کی عبادت کی جائے تو وہ بدلہ دیتا ہے۔ جب اس سے سوال کیا جائے تو قبولیت بخشتا ہے۔
قراءت : اَنَّہٗ فتحہ کے ساتھ مدنی ٗ علی نے پڑھا ہے۔ باء کو محذوف یا لام کو محذوف مانا ہے۔ بانہٗ او لاَنَّہ۔
Ayah 52:29آیت 29 : فَذَکِّرْ (پس آپ سمجھاتے رہیں) لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہیے۔
نبوت اور عقل سلیم کا انعام :
فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ (کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے) نعمت رحمت کے معنی میں ہے۔ اور وہ انعام جو نبوت کی صورت اور عقل سلیم کے انداز میں ہے۔ بِکَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ (نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں) جیسا کہ کفار مکہ کا خیال ہے۔
نحو : یہ موضع حال میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ لست کاہنًا ولا مجنونا ملتبسا بنعمۃ ربک۔ آپ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون بلکہ اپنے رب کی نعمت کے ساتھ ملتبس ہیں۔
Ayah 52:30آیت 30 : اَمْ یَقُوْلُوْنَ (کیا وہ یہ کہتے ہیں) شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ (کہ یہ شاعر ہے اور ہم ان پر حادثہ موت کے منتظر ہیں) ریب المنون۔ حوادث زمانہ یعنی ہم اس کے متعلق مصائب زمانہ کے منتظر ہیں جن کا شکار ہو کر یہ ہلاک ہوجائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے شعراء ہلاک ہوئے۔ مثلاً زہیر ٗ نابغہ وغیرہ۔ ام۔ اس آیت کی ابتداء میں منقطعہ ہے اور اس کا معنی بل ہے۔ اور ہمزہ اس پر لائی گئی ہے۔
Ayah 52:31آیت 31 : قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ (آپ کہہ دیجئے۔ تم لوگ انتظار کرتے ہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں) میں تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں جیسا تم میری ہلاکت کے منتظر ہو۔
Ayah 52:32یہ عقل ہے یا شرارت :
آیت 32 : اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ (کیا ان کی عقلیں ان کو اس بات کی تعلیم دیتی ہیں) احلام : عقول۔ بِہٰذَٓا (اس متناقض بات کا) کہ کبھی کاہن ٗ کبھی شاعر اور ایک قول یہ بھی ہے کہ مجنون ہے۔ اور قریش اپنے کو اہل الاحلام والنہٰی۔ صاحبان عقل و دانش کہلواتے تھے۔ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ (یا یہ شریر لوگ ہی ہیں) کہ جو ظہور حق کے باوجود عناد کی حدود کو پھاندنے والے ہیں۔
بلاغت : امر کا اسناد احلام کی طرف اسناد مجازی ہے۔
Ayah 52:33آیت 33 : اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَہٗ (یہ بھی کہتے ہیں کہ اس قرآن کو انہوں نے خود گھڑ لیا ہے) محمد ﷺ نے خود گھڑ کر بنا لیا ہے۔
بَلْ (بلکہ) یعنی معاملہ اس طرح نہیں جیسا انہوں نے خیال کرلیا ہے۔ لاَّیُؤْمِنُوْنَ (یہ لوگ تصدیق نہیں کرتے) اپنے کفر وعناد کی وجہ سے یہ طعن وتشنیع کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے قول کا بطلان ظاہر و باہر ہے اور نہ ہی آپ گھڑنے والے ہیں ٗ اہل عرب کے اس سے عاجز ہونے کی بناء پر۔ حالانکہ محمد تو عرب میں سے ایک ہیں۔
Ayah 52:34آیت 34 : فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ (تو یہ بھی اس جیسا کلام گھڑ کرلے آئیں) مِّثْلِہٖٓ (جو قرآن جیسا ہو) اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ (اگر وہ سچے ہیں) اس بات میں کہ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے اس کو گھڑ لیا۔ لیکن محمدا بھی ان کے اہل زبان ہیں اور وہ فصحائے عرب ہیں (پھر یہ بقول ان کے گھڑ لائے تو وہ کیوں نہیں لاتے)
Ayah 52:35آیت 35 : اَمْ خُلِقُوْا (کیا یہ لوگ پیدا کیے گئے) کیا ان کو پیدا کیا گیا اور ان کا اندازہ اس فطرت کے مطابق لگایا گیا جس پر یہ ہیں۔
بلا مقصد :
مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ (کسی خالق کے بغیر خود بخود) کسی اندازہ کرنے والے کے بغیر اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ (یا یہ خود اپنے خالق ہیں) یا یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے اپنے کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ خالق کی عبادت نہ کریں گے۔
ایک قول یہ ہے کہ بلا خالق بنایا :
کیا ان کو بغیر جزاء وسزا کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کیا گیا۔ کیا وہ خود خالق ہیں کہ حکم پر چلنے کو تیار نہیں۔
Ayah 52:36آیت 36 : اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (یا انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے) پس اس لئے وہ ان کے خالق کی عبادت نہیں کرتے۔ بَلْ لاَّ یُوْقِنُوْنَ (بلکہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے) یعنی آیات میں غور و فکر نہیں کرتے کہ جس سے اپنے خالق کو اور آسمان و زمین کے خالق کو جان لیتے۔
Ayah 52:37یہ تو نہ خزائن کے مالک ‘ نہ مدبر :
آیت 37 : اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ (کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں) یعنی نبوت ٗ رزق وغیرہ۔ پس وہ اس میں جس کو چاہیں جو چاہیں عطا کریں۔ اَمْ ہُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ (یا یہ لوگ حاکم ہیں) غلبہ والے ہیں کہ ربوبیت کے معاملات کی تدبیر جس سے کریں اور معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔
قراءت : مسیطرون۔ شامی و مکی نے پڑھا ہے۔
Ayah 52:38آیت 38 : اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ (کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے) جو گڑی ہوئی ہے کہ جس سے آسمان پر یہ چڑھ جائیں گے۔
یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ (جس پر چڑھ کر باتیں سن لیا کرتے ہیں) ملائکہ کا کلام اور جو علم غیب کی باتیں وحی کے ذریعہ بھیجی جاتی ہے۔ تاکہ ان کو آئندہ ہونے والے حالات کا علم ہوجائے کہ ان کی ہلاکت سے پہلے کس کی ہلاکت ہے۔ اور آخرت میں کامیابی انہوں نے لکھوا رکھی ہیں۔ وہ محمد ﷺ کو میسر نہ ہوگی جیسا کہ ان کا زعم ووہم ہے۔
قول الزجاج۔ :
یستمعون فیہ میں فی علیٰ کے معنی میں ہے۔ وہ اس پر کان لگائیں۔ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُہُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (اگر ایسا ہے تو ان میں جو آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے۔ وہ صاف دلیل پیش کرلے) جو اس کے استماع کے لئے حجت ہو۔
Ayah 52:39آیت 39 : اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَکُمُ الْبَنُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کیلئے بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں) پھر ان کی حماقت ذکر کی کہ وہ کہلاتے تو بڑے عقل مند ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے لئے ایسی چیز کا چنائو کیا جس کو خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں۔
Ayah 52:40آیت 40 : اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ (کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو گراں معلوم ہوتا ہے) اجر سے تبلیغ و انذار پر بدلہ۔ المغرم : چٹی۔ انسان اپنے اوپر ایسی شیٔ لازم کرے جو اس پر لازم نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر بھاری چٹی لازم آگئی جس نے ان کو بوجھل کردیا اور آپ کی اتباع سے ایک جانب لا کھڑا کیا۔