Ayah 51:1آیت 1 : وَالذّٰرِیٰتِ ہوائیں کیونکہ وہ مٹی وغیرہ کو اڑاتی ہیں۔
قراءت : حمزہ ٗ ابوعمرو نے تاء کو ذال میں ادغام کے ساتھ پڑھا ہے۔
ذَرْوًا یہ مصدر ہے۔ اس میں اسم فاعل عامل ہے۔
Ayah 51:2آیت 2 : فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا اس سے مراد بادل ہیں کیونکہ وہ بارش کو اٹھاتے ہیں۔ وِقْرًا یہ حاملات کا مفعول ہے۔
Ayah 51:3آیت 3 : فَالْجٰرِیٰتِ کشتیاں۔ یُسْرًا چلنا آسانی سے سہولت سے۔
Ayah 51:4مختلف کاموں پر مقرر فرشتے :
آیت 4 : فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا اس سے ملائکہ مراد ہیں۔ کیونکہ وہ مختلف کام بارش ‘ ارزاق وغیرہ کی تقسیم پر مقرر ہیں۔ نمبر 2۔ وہ تقسیم کا فعل کرتے ہیں اس حال میں کہ ان کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔ نمبر 3۔ بندوں کے معاملات کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں مثلاً جبرئیل سختی کیلئے۔ نمبر 2۔ میکائیل رحمت کیلئے۔ نمبر 3۔ ملک الموت قبض ارواح کیلئے نمبر 4۔ اسرافیل نفخ صور کیلئے۔
ایک اور تفسیر :
اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے صرف ہوائیں مراد ہوں کیونکہ وہ بادلوں کو بناتی اور ان کو اٹھاتی اور تقسیم کرتی اور فضائوں میں نرمی سے چلتی ہیں۔ اور بادلوں کو موڑ کر بارش کو تقسیم کرتی ہیں۔
فائکا معنی نمبر 1۔ معنی صورت اول میں یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اول ہوائوں کی قسم کھائی پھر ان بادلوں کی جس کو وہ چلاتی اور ہنکاتی ہیں پھر ان کشتیوں کی جو ہوائوں کے چلنے سے چلتی ہیں پھر ان ملائکہ کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ارزاق کو تقسیم کرتے ہیں وہ ارزاق بارشیں ہوں تجارات بحار اور ان کے فوائد ہوں۔ نمبر 2۔ صورت ثانی میں وہ ہوائیں چلنے سے شروع ہوئیں پھر مٹی اور کنکریاں اڑاتی پھر بادلوں کو اٹھا کر فضا میں پھیلائے چلتی اور پھر بارش کو تقسیم کرتی ہیں۔
Ayah 51:5آیت 5 : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ یہ جواب قسم ہے۔ اور ما موصولہ یا مصدر یہ ہے اور موعودہ چیز بعث ہے۔ لَصَادِقٌ یعنی وہ سچائی والا وعدہ ہے یہ ترکیب عیشۃ راضیۃ کی طرح ہے۔ ای ذات رضا۔
Ayah 51:6آیت 6 : وَّ اِنَّ الدِّیْنَ (اور جزائے اعمال) لَوَاقِعٌ (ضرور ہونے والی ہے)
Ayah 51:7آیت 7 : وَالسَّمَآئِ (قسم ہے آسمان کی) یہ دوسری قسم ہے۔ ذَاتِ الْحُبُکِ (جس میں راستے ہیں) عمدہ راستے۔ جیسا کہ پانی پر ہوا چلنے سے ظاہر ہوتے ہیں یعنی لہریں اور اسی طرح حبک الشعر۔ ایسے آثار جو ان کو دوہرا کریں اور توڑیں۔ یعنی گھونگریالے بال۔ حبک جمع حبیکۃ جیسے طرق جمع طریقہ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آسمان کی خلقت اسی طرح ہے۔ قولِ حسن (رح) : حبک السماء سے آسمان کے ستارے مراد ہیں اور یہ جمع حباک ہے۔
Ayah 51:8رسول اللہ ﷺ سے متعلق کفار کے قول :
آیت 8 : اِنَّکُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ (کہ تم لوگ مختلف گفتگو میں ہو) اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے متعلق ان کا قول ساحر ٗ شاعر ٗ مجنون اور قرآن مجید کے متعلق شعر ٗ سحر ٗ اساطیر الاولین وغیرہ۔
Ayah 51:9قرآن سے پھرنے والا بدنصیب ہوگیا :
آیت 9 : یُّؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ (اس سے وہی پھرتا ہے جسے پھرنا ہوتا ہے) نمبر 1۔ ہ ضمیر کا مرجع قرآن مجید ہے یا نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی یعنی اس قرآن سے وہ پھرتا ہے جو ایسا پھرا ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی پھرنا خطرناک نہیں ہے۔ نمبر 3۔ اس سے وہی پھرتا ہے۔ جو علم الٰہی میں پھرنے والوں میں لکھا جا چکا یعنی علم ازلی میں حق کی طرف نہ آنا جس کا معلوم ہے۔
نمبر 2۔ یہ ضمیر ما توعدون کی طرف یا الدین کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے۔ ذاریات کی اولاً قسم اٹھائی کہ قیامت کی آمد برحق ہے پھر آسمان کی قسم اٹھائی کہ یہ لوگ قیامت کے متعلق اختلاف کا شکار ہیں بعض تو شک کرنے والے ہیں جبکہ دوسرے منکر ہیں۔ پھر فرمایا کہ اقرار قیامت سے وہ شخص پھرنے والا ہے۔ جو کہ پھرا ہوا ہے۔
Ayah 51:10بےدلیل باتوں والوں کی ہلاکت :
آیت 10 : قُتِلَ (غارت ہوجائیں) ملعون ہوئے دراصل یہ قتل و ہلاکت کی بددعا ہے۔ پھر لعنت کی جگہ استعمال ہونے لگی۔ الْخَرّٰصُوْنَ (بےسند باتیں کرنے والے) جھوٹے ٗ غلط اندازے کرنے والے وہ مختلف باتیں کرنے والے تھے۔ لام سے انہی کی طرف اشارہ ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے۔ قتل ہؤلاء الخراصون۔ یہ بےسند باتیں کرنے والے ہلاک ہوں۔
Ayah 51:11آیت 11 : الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ (جو کہ جہالت میں بھولے ہوئے ہیں) ایسی جہالت میں مبتلا ہیں جو ان کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ سَاہُوْنَ (جو ان کو حکم ملا ہے اس سے غافل ہیں)
Ayah 51:12آیت 12 : یَسْئَلُوْنَ (پوچھتے ہیں یہ کہتے ہوئے) اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ (کہ روز جزاء کب ہوگا) کہ جزاء کا دن کب ہے۔ اس کی تقدیر کلام یہ ہے۔ ایان وقوع یوم الدین۔ (قیامت کا وقوع کب ہے) کیونکہ احیان حوادث کیلئے ظرف بنتے ہیں۔
Ayah 51:13آیت 13 : یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ (جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے) یوم کا لفظ صرف فعل مضمر کہ جس پر سوال دلالت کر رہا ہے کی وجہ سے منصوب ہے ای یقع یوم۔ نمبر 2۔ غیر متمکن کی طرف اضافت کی وجہ سے اس کا مفتوح ہونا بھی درست ہے۔ اور وہ غیر متمکن جملہ اسمیہ ہے۔ اور فعل مضمر یقع کی وجہ سے وہ محلاً منصوب ہے یا نمبر 2۔ مرفوع ہو مقدر کی وجہ سے ہے ای ہو یوم ہم علی النار یفتنون۔ یفتنون کا معنی : جلائے جائیں گے۔
Ayah 51:14آیت 14 : ذُوْقُوْا فِتْنَتَکُمْ (اپنی اس سزا کا مزہ چکھو) یعنی ان کو جہنم کے داروغہ کہیں گے۔ تم اپنا عذاب اور آگ سے جلنا چکھو۔
ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ (یہی ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے) ہذا مبتدأ اور الذی صلہ سے مل کر خبر ہے۔ یعنی یہ وہی عذاب تو ہے جس کو تم دنیا میں یہ کہہ کر جلدی طلب کرتے تھے۔ فأتنا بما تعدنا۔ ] الاعراف۔ 70[
Ayah 51:15ایمان والوں کا تذکرہ :
آیت 15 : پھر ایمان والوں کا حال بیان فرمایا۔ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ (بیشک متقی لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہونگے) یعنی چشمے ہونگے وہ جاری نہریں ہونگی اس طرح کہ ان کو وہ آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ان کی نگاہیں ان پر پڑیں گی۔ یہ نہیں کہ وہ چشموں کے اندر ہونگے۔
Ayah 51:16اٰخِذِیْنَ مَآ اٰتٰہُمْ رَبُّہُمْ (ان کے رب نے جو کچھ ان کو عطاء کیا اس کو وہ لے رہے ہونگے) اس سب کو وہ قبول کرنے والے ہونگے۔ جو اللہ تعالیٰ ان کو ثواب میں سے عطاء فرمائیں گے اور اس پر وہ راضی ہونگے۔
نحو : آخذین یہ ظرف کی ضمیر سے حال ہے۔ اور وہ اِنّ کی خبر ہے۔ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ (وہ لوگ اس سے قبل) دنیا میں داخلہ جنت سے پہلے مُحْسِنِیْنَ (نیکوکار تھے) انہوں نے خوب نیک اعمال کیے۔ ان کے احسان کی تفسیر بعد میں آرہی ہے۔
Ayah 51:17آیت 17 : کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ (وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے) یھجعون۔ سونے کے معنی میں آتا ہے۔
نحو : نمبر 1۔ ما تاکید کے لئے زائدہ ہے۔ یھجعون یہ کان کی خبر ہے۔ معنی یہ ہے وہ رات کے تھوڑے سے حصہ میں سوتے تھے۔ یا نمبر 2۔ ما مصدریہ ہے تقدیر کلام یہ ہے۔ کانوا قلیلاً من اللیل ہجوعہم۔ اور ان کا سونا بہت تھوڑا رات میں تھا۔ ہجوعہم یہ مرفوع ہے کانوا کی وائو سے بدل ہے۔ قلیلاً سے بدل نہیں ہے۔ چونکہ جب قلیل کی صفت من اللیل آگئی تو وہ شبہ فعل سے نکل گیا۔ اور اس کا عمل مشابہت ہی کی وجہ سے ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوئی کان ہجوعہم قلیلاً من اللیل۔
نمبر 3۔ ما نافیہ نہیں بن سکتا کہ اس کا یہ معنی کریں کہ وہ رات کا تھوڑا سا حصہ بھی نہ سوتے تھے بلکہ ساری رات بیدار رہتے کیونکہ ما نافیہ کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔ اس طرح نہیں کہہ سکتے۔ زیدًا ماضربت۔
Ayah 51:18آیت 18 : وَبِالْاَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (اور وہ اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے) اس میں ان کی یہ تعریف فرمائی کہ وہ تہجد کی ادائیگی میں رات کو زندہ کرتے ہیں۔ جب سحر کا وقت ہوجاتا ہے تو استغفار کرنے لگتے ہیں گویا انہوں نے رات میں گناہ کئے ہیں۔ السحر : رات کا آخری چھٹا حصہ۔
Ayah 51:19آیت 19 : وَفِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ (اور ان کے اموال سوالی کا حق ہیں) السائل : جو اپنی حاجت طلب کرے۔ وَالْمَحْرُوْمِ (اور غیر سوالی) جو سامنے آئے مگر حیاء کی وجہ سے سوال نہ کرے۔
Ayah 51:20عظیم قدرت کے نمونے :
آیت 20 : وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ (اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں) جو پیدا کرنے والے اور اس کی قدرت و تدبیر پر دلالت کرتی ہیں۔ زمین کو دیکھو بستر کی طرح بچھی ہوئی ہے۔ اس میں راستے اور وادیاں آنے جانے والوں کیلئے ہیں اور اس کے مختلف حصے ہیں۔ نچان زمین کے حصے ٗ پہاڑ ٗ نرم ٗ سخت اور شور والے اور اس میں پھوٹنے والے چشمے اور مختلف انواع کی کانیں اور مختلف صورتوں اور شکلوں کے پھیلے ہوئے جانور ٗ متضاد ہیئات و افعال والے جانور پائے جاتے ہیں۔ لِّلْمُوْقِنِیْنَ (یقین لانے والوں کیلئے) ایسے توحید پرستوں کیلئے جو درست دلیل والے راستہ پر چلیں جو راستہ ان کو معرفت تک پہنچانے والا ہے ٗ وہ کھلی بصیرت والی آنکھوں اور صحیح فہم و فراست سے دیکھنے والے ہیں۔ جب بھی وہ کسی نشانی کو دیکھتے ہیں تو اس پر غور کا راستہ پا کر ان کا یقین پہلے سے بہت بڑھ جاتا ہے۔
Ayah 51:21انسان میں نمونہ قدرت :
آیت 21 : وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ (اور تمہاری ذات میں بھی) ان کی ابتدائی حالت اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے اور نفوس کے ظواہر و بواطن میں عجائبات فطرت ٗ اور تخلیق کے وہ عمدہ نمونے ہیں جن پر ذہن حیران ہوجاتے ہیں۔ یہ دلوں کو دیکھ لو اور جو اس میں عقل رکھ دی۔ زبانوں کو دیکھو اور ان کا بولنا ٗ مخارج حروف اور ان کی ترکیب و ترتیب اور اس کے لطائف میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر ٗ صنعت کی قطعی اور روشن دلیلیں ہیں۔ کانوں ٗ آنکھوں اور اطراف اور تمام جوارح پر توجہ کرو اور جس کیلئے انکو بنایا گیا انکی ادائیگی دیکھو۔ اللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں دوہرے ہونے اور مڑنے کا کتنا شاندار انداز بنایا جب ان میں سے کوئی جوڑ سخت ہوجائے تو انسان عاجز ہوجاتا ہے اور جب کوئی جوڑ ڈھیلا پڑجائے عاجزی انسان کو بیٹھا دیتی ہے۔ فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین۔
بعض کا قول :
جنہوں نے تقدیر عبارت اس طرح قرار دی افلا تبصرون فی انفسکم یہ کمزور قول ہے۔ کیونکہ اس سے استفہام کے دورانیہ میں آنے والے کو حرف استفہام سے مقدم کرنا لازم آتا ہے جو کہ نا درست ہے۔
اَفلاَ تُبْصِرُوْنَ (کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا) عبرت حاصل کرنے والے کی نگاہ سے دیکھو۔
Ayah 51:22آیت 22 : وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ (اور تمہارا رزق آسمان میں ہے) رزق سے بارش مراد ہے کیونکہ وہ سبب اقوات ہے۔
قولِ حسن۔ :
جب آپ بادل کو دیکھتے تو اپنے اصحاب کو فرماتے۔ اس میں اللہ کی قسم تمہارا رزق ہے۔ لیکن تم اپنی خطائوں سے اس سے محروم کردیئے جاتے ہو۔
وَمَا تُوْعَدُوْنَ (اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) یعنی جنت وہ آسمان سابع کی چھت اور عرش کے نیچے ہے۔ یا مراد وہ ارزاق ہیں جو دنیا میں ملتے ہیں اور وعدہ جو آخرت میں رزق ملنے کا کیا جاتا ہے۔ یہ سب مقدر اور آسمان میں لکھا ہے۔
Ayah 51:23آیت 23 : فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ (تو قسم ہے آسمان و زمین کے پروردگار کی کہ وہ برحق ہے) نحو : ضمیر رزق کی طرف عائد ہے یا ماتوعدون کی طرف مِّثْلَ مَآ اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ (جیسا کہ تم باتیں کر رہے ہو) قراءت : مثلُ کو رفع کے ساتھ کوفی قراء ‘ حمزہ ‘ کسائی نے سوائے حفص کے پڑھا۔ اور حق کی صفت بنایا۔ ای حقا مثل نطقکم۔ تمہارے بولنے کی طرح حق ہے۔ دیگر قراء نے مثل پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ انہ لحق حقا مثل نطقکم اور غیر متمکن کی طرف اضافت کی وجہ سے بھی فتحہ درست ہے اور ما زائدہ ہے۔
قولِ اصمعی (رح) :
کہ میں جامع بصرہ سے آرہا تھا۔ کہ ایک اعرابی بیٹھا سامنے آیا۔ کہنے لگا تم کون ہو ؟ میں نے کہا بنی اصمع میں سے ہوں اس نے کہا کہاں سے تشریف لا رہے ہیں ؟ میں نے کہا میں ایسی جگہ سے آرہا ہوں جہاں رحمان کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ اس نے کہا مجھے تلاوت کر کے سنائو۔ پس میں نے سورة والذاریات پڑھ کر سنانا شروع کی۔ جب میں اس آیت وفی السماء رزقکم ! پر پہنچا تو کہنے لگا۔ بس کافی ہے۔ وہاں سے اٹھ کر اپنی اونٹنی کو ذبح کرڈالا۔ اور اس کا گوشت آگے پیچھے ادھر ادھر تقسیم کردیا اور اپنا تیر اور کمان لے کر اس کو توڑ ڈالا۔ جب میں ہارون الرشید کے ساتھ حج کرنے گیا تو میں طواف میں مصروف تھا۔ تو اچانک ایک نرم آواز مجھے سنائی دی۔ میں متوجہ ہوا تو وہی اعرابی تھا۔ کمزور زرد پڑچکا تھا۔ اس نے بڑھ کر سلام کیا اور کہا مجھے سورة الذاریات پڑھ کر سنائو۔ جب میں اس آیت پر پہنچا تو اس نے زور سے چیخ ماری اور کہہ رہا تھا۔ قدوجدنا ماوعدنا ربنا حقا۔ پھر کہنے لگا۔ کیا اور بھی حصہ سورت کا باقی ہے تو میں نے آیت پڑھی۔ فورب السماء والارض انہ لحق۔ اس نے پھر چیخ ماری اور کہا سبحان اللہ ! جس نے اس جلیل ذات کو ناراض کیا یہاں تک کہ اس نے قسم اٹھائی اور اس کی بات کو سچا نہ جانا یہاں تک کہ اس نے قسم کھائی۔ یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے اور تیسری بار روح بھی ساتھ ہی پرواز کرگئی۔
Ayah 51:24آیت قدرت :
آیت 24 : ہَلْ اَتٰکَ (کیا آپ تک پہنچی ہے) بات کی عظمت شان کو ظاہر کرنے اور اس بات پر متنبہ کرنے کے لئے کہ یہ علم رسول اللہ ﷺ سے نہیں۔ بلاشبہ اس کو وحی سے جانا اور آیت کا ماقبل سے ربط اس طرح ہے کہ پہلے نے فرمایا۔ وفی الارض آیات۔ اور اس قصہ کے آخر میں فرمایا۔ وترکنا فیہا آیۃً ۔ تو گویا یہ بھی من جملہ آیات قدرت سے ہے۔ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰہِیْمَ (بات ابراہیم کے معزز مہمانوں کی) الضیف ایک اور جماعت کے لئے بولا جاتا ہے جیسا الصوم ٗ الزور۔ کیونکہ یہ اصل میں مصدر ہے۔ جس کو مضاف کیا گیا۔ یہ بارہ فرشتے تھے۔
ایک اور قول :
نو فرشتے تھے دسویں جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔ ان کو آیت ضیف قرار دیا۔ کیونکہ وہ صورۃً ضیف تھے۔ اس لئے ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف مضاف کیا یا ابراہیم (علیہ السلام) کے گمان میں وہ مہمان تھے۔
الْمُکْرَمِیْنَ (اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والے) جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ بل عباد مکرمون۔ ایک قول یہ ہے : ابراہیم (علیہ السلام) نے خود ان کی خدمت کی اور ان کی زوجہ محترمہ نے ان کی خدمت کی۔ اور جلد مہمانی ان کیلئے تیار کردی۔
Ayah 51:25آیت 25 : اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ (جبکہ وہ ان کے پاس آئے) نحو : مکرمین کی وجہ سے منصوب ہے۔ جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اکرام سے تفسیر کی جائے۔ ورنہ اذکر فعل مضمر کا مفعول ہے۔ فَقَالُوْا سَلٰمًا (پھر ان کو سلام کیا) نحو : سلامًا مصدر ہے۔ اس کو فعل کے قائم مقام لائے اور فعل سے استغناء اختیار کیا۔ اصل کلام یہ ہے۔ نسلم علیکم سلامًا۔ قَالَ سَلٰمٌ (ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا سلام) یعنی تم پر سلام ہو۔ نحو : یہ مبتدأ کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور رفع کی طرف عدول تو اثبات سلام کیلئے ہے۔ گویا انہوں نے یہ قصد فرمایا کہ وہ ان کو اس سے بہتر انداز سے سلام کریں۔ جس طرح سے انہوں نے کیا۔ اور یہ بھی مہمانوں کا اکرام تھا۔
قراءت : حمزہ ٗ علی نے سِلْمٌ پڑھا ہے۔ اس کا معنی بھی سلام ہے۔ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ (انجان لوگ ہیں) یعنی تم انجان لوگ ہو پس مجھے تعارف کرائو تم کون ہو۔
Ayah 51:26آیت 26 : فَرَاغَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ (پھر اپنے گھر کی طرف چلے) اپنے مہمانوں سے خفیہ طور پر گھر کی طرف گئے۔ اور میزبانی کا ادب یہ ہے کہ اس کا معاملہ مخفی ہو۔ اور مہمانی شروع کر دے بغیر اس کے کہ مہمان کو معلوم ہو۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ انکار نہ کر دے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گائیں کثرت سے تھیں۔ فَجَآئَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ (اور ایک موٹا بچھڑا لائے)
Ayah 51:27آیت 27 : فَقَرَّ بَہٗ اِلَیْہِمْ (اور اس کو ان کے پاس لا کر رکھا) تاکہ وہ اس میں سے کھائیں مگر انہوں نے نہ کھایا۔ قَالَ اَ لَا تَاْکُلُوْنَ (کہنے لگے آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں) ان کا نہ کھانا ان کو اوپرا معلوم ہوا یا آپ نے ان کو اس پر آمادہ کیا۔
Ayah 51:28آیت 28 : فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً (ان سے دل میں خوف محسوس کیا) کیونکہ جو تیرا کھانا نہیں کھاتا وہ تیری ذمہ داری کا لحاظ بھی نہ کرے گا۔
قول ابن عباس ؓ :
ان کے دل میں آیا کہ یہ فرشتے ہیں جن کو عذاب کیلئے بھیجا گیا ہے۔ قَالُوْا لَا تَخَفْ (انہوں نے کہا تم ڈرومت) ہم تو اللہ تعالیٰ کے قاصد ہیں۔ ایک قول یہ ہے : جبرائیل (علیہ السلام) نے بچھڑے پر ہاتھ پھیرا تو اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی ماں کے ساتھ جا ملا۔ وَبَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ (اور ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا) یعنی تبلیغ کرے گا اور تعلیم دے گا۔
قولِ جمہور :
یہ ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) تھے۔
Ayah 51:29آیت 29 : فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗٗ فِیْ صَرَّۃٍ (اتنے میں ان کی بی بی بولتی پکارتی آئیں) صرّۃ : زور سے بولنا۔ یہ صرالقلم والباب سے ہے۔
قول الزجاج :
یہاں زور سے چیخنا مراد ہے۔ حال کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ ای جاءت صارۃً فاخذت فی صیاح : لگی زور سے بولنے چیخنے۔ اور اس کی آواز اس کا یہ قول تھا۔ یا ویلتا۔ فَصَکَّتْ وَجْہَہَا (پھر ماتھے پر ہاتھ مارا) پس اس نے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر چہرے پر مارے۔
ایک قول یہ ہے :
اپنی انگلیوں کے اطراف اپنی پیشانی پر مارے جیسے کوئی تعجب والا کرتا ہے۔
وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ (اور کہنے لگیں بڑھیا بانجھ) یعنی انا عجوز میں بانجھ ہوں پس کیسے میں جنوں گی ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایاء الد وانا عجوز وہذا بعلی شیخًا۔] ہود۔ 72[
Ayah 51:30آیت 30 : قَالُوْا کَذٰلِکِ (فرشتوں نے کہا ایسا ہی) اسی کی مثل جو ہم نے کہا اور جس کی ہم نے اطلاع دی۔ قَالَ رَبُّکِ (تمہارے رب نے فرمایا ہے) ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قدرت رکھتے ہیں جس کو تم بعید قرار دیتی ہو۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْحَکِیْمُ (بیشک وہ حکمت والا ہے) اپنے فعل میں۔ الْعَلِیْمُ (وہ علم والا ہے) اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ روایت میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے فرمایا۔ جب اس نے تعجب کا اظہار کیا۔ تو چھت کی طرف دیکھ جونہی اس نے دیکھا تو کھجور کا تنا پتے دار ہوگیا۔ اور پھل لے آیا۔
جب ان کو معلوم ہوگیا۔ کہ یہ فرشتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے قاصد بن کر بعض امور کیلئے اترا کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا۔
Ayah 51:31آیت 31 : قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ (ابراہیم کہنے لگے اچھا تو تم کو بڑی مہم کیا در پیش ہے) یعنی تمہارا کیا مطلوب اور کیا معاملہ ہے۔ کس مقصد کی خاطر تمہیں بھیجا گیا ہے۔ اَیُّہَا الْمُرْسَلُوْنَ (اے فرشتو ! ) تم صرف بشارت کیلئے بھیجے گئے ہو یا کسی دوسرے کام یا دونوں کیلئے ؟
Ayah 51:32آیت 32 : قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ (وہ کہنے لگے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں) یعنی قوم لوط ( علیہ السلام) کی طرف۔
Ayah 51:33آیت 33 : لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ (تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیں) مراد کنکریاں ہیں۔ وہ مٹی ہے جس کو پکایا جاتا ہے جیسا کہ پکی اینٹ پک کر مضبوطی میں پتھر کی طرح ہوجاتی ہے۔
Ayah 51:34آیت 34 : مُّسَوَّمَۃً (جن پر نشان بھی ہے) یہ السومۃ سے لیا گیا ہے۔ اور وہ علامت و نشان کو کہتے ہیں۔ ہر ایک پتھر پر اس کا نام تھا جس نے اس سے ہلاک ہونا تھا۔ عِنْدَ رَبِّکَ (آپ کے رب کے پاس سے) اس کی ملکیت و سلطنت میں۔ لِلْمُسْرِفِیْنَ (حد سے گزرنے والوں کے لئے) ان کو مسرفین فرمایا۔ جیسا کہ ان کو عادین کا لقب دیا۔ کیونکہ وہ اپنے عمل میں حد سے بڑھنے والے اور زیادتی کی انتہاء تک پہنچنے والے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے مباحات پر قناعت نہ کی۔
Ayah 51:35آیت 35 : فَاَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیْہَا (ہم نے سب کو وہاں سے علیحدہ کردیا) یعنی بستی میں۔ اس کے معروف ہونے کی وجہ سے بستی کا ذکر نہیں کیا۔ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (جتنے ایماندار تھے) یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے۔
Ayah 51:36آیت 36 : فَمَا وَجَدْنَا فِیْہَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ (پھر سوائے مسلمانوں کے ایک گھر کے اور کوئی گھر ہم نے نہیں پایا) یعنی سوائے لوط (علیہ السلام) کے اہل بیت کے۔
نحو : اس میں دلیل ہے کہ ایمان اور اسلام ایک چیز ہے۔ کیونکہ یہاں ملائکہ نے انہی کو مؤمنین اور مسلمین دونوں القاب سے ذکر کیا ہے۔
Ayah 51:37آیت 37 : وَتَرَکْنَا فِیْہَآ (اور ہم نے اس واقعہ میں) ان بستیوں میں ٰایَۃً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (ایسے لوگوں کے لئے عبرت رہنے دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں) ایسی علامت جس سے عبرت حاصل کی جاتی ہے اور وہ اس سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ وہ نہیں کہ جن کے دل سخت ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
بدبودار سیاہ پانی۔
Ayah 51:38نمونہ عبرت :
آیت 38 : وَفِیْ مُوْسٰٓی (اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں عبرت ہے) اس کا عطف وفی الارض آیات پر ہے۔ یا وترکنا فیہا ایۃ پر ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا وجعلنا فی موسٰی ٰایۃ (کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) میں نشانی بنائی) یہ اس مثال کے مطابق ہوگا۔ علفتہا تبنا ومائً باردًا۔ اِذْ اَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا) سلطان مبین سے واضح حجت یعنی یدبیضاء اور عصا مراد ہیں۔
Ayah 51:39آیت 39 : فَتَوَلّٰی (پس اس نے سرتابی کی اور ایمان سے اعراض کیا) بِرُکْنِہٖ (بمع اپنے ارکان سلطنت کے) جن کے ساتھ وہ قوت حاصل کرتا تھا مثلاً لشکر وملک۔ الرکن : جس کی طرف جھکائو ہو خواہ وہ مال و لشکر ہو۔ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ (اور کہنے لگا یہ ساحر یا مجنون ہے)
Ayah 51:40ملامت کا معنی :
آیت 40: فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَنَبَذْنٰـہُمْ فِی الْیَمِّ وَہُو مُلِیْمٌ (پس ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ اور اس نے کام بھی ملامت کا کیا تھا) ملیم یعنی وہ کفر وعناد والا قابل مذمت فعل کرنے والا تھا۔ یہ ملیم ایک مقام پر سورة الصافات آیت 142 میں فالتقمہ الحوت وہو ملیم استعمال ہوا۔ مگر وہاں یہ معنی نہیں کیونکہ ملامت کے لوازم مختلف ہیں اور ان کے مختلف ہونے سے ملامت کی مقدار میں بھی فرق ہوگا۔ کفر کا ارتکاب کرنے والا اپنے فعل کفر کی مقدار کے مطابق قابل ملامت ہے اور کبیرہ کا مرتکب کبیرہ گناہ کے مطابق اور صغیرہ کا صغیرہ کے مطابق اور لغزش کرنے والا اس کے مطابق (فتدبر)
نحو : یہ جملہ وائو کے ساتھ فاخذناہ کی ضمیر سے حال ہے۔