50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قرآن مجید کی قسم کہ محمد پیغمبر خدا ہے

(قٓ۔ قسم ہے قرآن مجید کی۔ بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آگیا۔ پس کافر کہنے لگے کہ یہ عجیب بات ہے) آیت 1 : قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ اس کے متعلق کلام اسی طرح ہے جو ہم صٓ والقرآن ذی الذکر بل الذین کفروا۔ ] ص۔ 1[ میں کر آئے ہیں۔ کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں کا اسلوب ایک جیسا ہے۔ البتہ مختلف لفظ المجید کی تفسیر کئے دیتے ہیں۔ المجید : دیگر کتب پر مجدو شرف والا۔ اور جو شخص اس کے معانی کا علم حاصل کر کے پھر اس کی مراد پر عمل کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے ہاں اور بارگاہ الٰہی میں شرف و عزت والا ہوجاتا ہے۔ بل عجبوا۔ یہ تعجب کرنے والے کفار مکہ ہیں۔
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان ہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا انکے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے

سب سے زیادہ خطرناک چیز سے ڈرانے والے پر تعجب : اَنْ جَآئَ ہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ منذر سے محمد ﷺ مراد ہیں اس میں ان کے اس تعجب کا انکار ہے جو انہوں نے ایسی چیز پر کیا جو تعجب انگیز نہیں اور وہ یہی بات ہے کہ انہی میں سے ایک شخص کو ان کی طرف منذر بنا کر بھیجا گیا۔ جس کی عدالت و امانت کے وہ خود شاہد ہیں۔ تو جو ایسا امین ہو وہ اپنی قوم کا خیر خواہ نہیں ہوگا۔ تو اور کون ہوگا۔ وہ اس بات سے خائف ہے کہ کہیں میری قوم کو کوئی خطرناک چیز نہ آلے۔ جب اس کو یہ معلوم ہے کہ خطرہ ان کے سر پر منڈلا رہا ہے تو اس کو لازم ہے کہ وہ ان کو ڈرائے۔ پھر وہ ایسے خطرے سے ان کو متنبہ کیوں نہ کرے جو سب سے زیادہ ڈرانے کی چیز ہے ؟ کفار کے تعجب پر انکار کیا گیا۔ جو تعجب ان کو بعث بعدالموت پر ہے۔ حالانکہ وہ جانتے اور مانتے ہیں کہ قدرت الٰہی آسمان و زمین اور ان کے مابین سب کچھ پر اور ہر چیز کے اختراع پر اب بھی اسی طرح ہے جیسا کہ نشا ٔۃ اولیٰ جس کے وہ قائل ہیں۔ اس وقت تھی بلکہ اقرار جزاء پر مزید عقلی شہادت بھی پائی جاتی ہے۔ پھر دونوں ان کاروں میں سے ایک پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا۔ فَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ہٰذَا شَیْئٌ عَجِیْبٌ آیت نمبر 3 : ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا (جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہونگے) اس میں اس بات پر تعجب کیا گیا کہ بعث بعدالموت سے ان کا تعجب خود استبعاد میں پہلے داخل ہے اور اس کا مستحق ہے کہ اس کا انکار کیا جائے۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہونگے ؟ ) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

لطائف آیت : آیت میں ضمیر کی بجائے الکافرون کا لفظ صراحت کے ساتھ لا کر اس بات کی گواہی دینا مقصود ہے کہ اپنی اس بات میں انہوں نے اپنے آپ کو کفر عظیم کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ہٰذَا کا مشارالیہ الرجع ہے۔ اور اذا مضمر فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ معنی یہ ہوگا : کیا جب ہم مرجائیں گے اور بوسیدہ ہوجائیں گے کیا ہم لوٹائے جائیں گے ؟ قراءت : متنا نافع ٗ حمزہ ٗ علی ٗ حفص نے اسی طرح پڑھا۔ ذٰلِکَ رَجْعٌم بَعِیْدٌ (یہ دوبارہ زندہ ہونا بہت ہی بعید بات ہے) نمبر 1۔ انتہائی انوکھی اور بعید ہے جیسا کہتے ہیں۔ ہذا قول بعید۔ یعنی وہم و عادت سے بعید ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ الرجع بمعنی الرجوع ہو یعنی یہ لوٹایا جانا۔ اس صورت میں یہ جواب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے انکار بعث کے استبعاد کا دیا گیا۔ اس وقت ترابا پر وقف خوب ہے۔ اس صورت میں ظرف کا ناصب بعث ہے جس پر منذر اور منذر بہٖ دلالت کرتے ہیں۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

انکے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے

جب اجزائے موت معلوم ہو تو اس کو لوٹانے پر کیوں قدرت نہیں : آیت 4 : قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ (ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں۔ جن کو مٹی کم کرتی ہے) اس میں ان کے دوبارہ لوٹانے کو بعید خیال کرنے کی تردید ہے۔ کیونکہ جس ذات کا علم اس قدر لطیف ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ مردوں کے اجسام میں سے زمین کیا کچھ کم کرتی اور ان کے گوشت ٗ پوست اور ہڈیوں کو کھاتی ہے۔ وہ ان مردوں کو اسی طرح زندہ کر کے لوٹانے کی بھی قدرت رکھتے ہیں جیسا وہ پہلے تھے۔ وَ عِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ (اور ہمارے پاس کتاب محفوظ ہے) شیاطین کی دست برد اور تغیر سے محفوظ ہے اور وہ لوح محفوظ ہے۔ نمبر 2۔ حفیظ بمعنی حافظ ہے وہ کتاب اس کی حفاظت کرنے والی ہے جو اس میں لکھ دیا گیا۔ اور درج کردیا گیا۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب انکے پاس (دین) حق آپہنچا تو انہوں نے اسکو جھوٹ سمجھا تو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں

انہوں نے نبوت کا انکار کردیا : آیت 5 : بَلْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ (بلکہ سچی بات کو جب ان کے پاس پہنچتی ہے جھٹلاتے ہیں) یہ بل اضرابیہ کے بعد پھر دوسرا بل لائے تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ انہوں نے تعجب سے بھی زیادہ حیرت انگیز حرکت کی ہے کہ ایسی نبوت جو معجزات سے بلا غور و فکر سمجھ آتی ہے اس کا انکار کردیا۔ حالانکہ وہ واضح حق ہے۔ فَہُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ (غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں) مریج مضطرب کے معنی میں آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں مرج الخاتم فی اصبعہ۔ جبکہ وہ کھلی ہونے کی وجہ سے انگلی میں چلتی پھرے۔ اسی بناء پر تو کبھی کہتے ہیں شاعر ٗ کبھی ساحر اور کبھی کاہن۔ وہ ایک بات پر قائم نہیں۔ ایک قول یہ ہے : الحق سے قرآن مجید مراد ہے۔ ایک اور قول : کہ بعث بعدالموت کے متعلق جو خبریں دی گئیں وہ حق سے مراد ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

بیانِ قدرت کا ایک انداز : آیت 6 : پھر بعث بعدالموت پر اپنی قدرت کو بیان فرمایا۔ اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا (کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا) جب انہوں نے بعث کا انکار کیا۔ اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَہُمْ (اپنے اوپر کی طرف آسمان کو) جہان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار کو کَیْفَ بَنَیْنٰـہَا (ہم نے اس کو کیسابنایا) بلا ستون بلند کیا۔ وَزَیَّنّٰہَا ( اور اس کو نیرات سے آراستہ کیا) وَمَالَہَا مِنْ فُرُوْجٍ (اور اس میں کوئی رخنہ تک نہیں) چرنے اور پھٹنے سے یعنی وہ عیوب سے صحیح سالم ہے۔ نہ دراڑ نہ چیر نہ خرابی۔
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دئیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

آیت 7 : وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰہَا (اور زمین کو ہم نے پھیلایا) وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ (اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا) قائم رہنے والے پہاڑ اگر نہ ہوتے تو زمین جھک جاتی۔ وَاَنْچبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ (اور اس میں ہر قسم کی چیزیں اگائیں) بَہِیْجٍ (خوش نما) جن سے سرور حاصل کیا جاتا ہے ان کے حسن کی وجہ سے۔
Ayah 50:8

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

آیت 8 : تَبْصِرَۃً وَّ ذِکْرٰی (جو ذریعہ دانائی اور بینائی ہے) تاکہ ہم اس کے ذریعہ بصارت دیں اور ہم نصیحت کریں ہر ایک کو۔ لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ (ہر رجوع ہونے والے بندے کیلئے) جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کی مخلوقات کے عجائبات میں سوچ و بچار کرنے والا ہو۔
Ayah 50:9

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ و بستان اگائے اور کھیتی کا اناج

تیسرا انداز : آیت 9 : وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰرَکًا (اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا) مبارک یعنی بیشمار منافع والا۔ فَاَنْچبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ (پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ) یعنی کھیتی کا غلہ جس کی شان کا تقاضا ہے کہ اس کو کاٹا جائے۔ مثلاً گندم ٗ جو وغیرہ
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گھابہ تہ بہ تہ ہوتا ہے

چوتھا انداز : آیت 10 : وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ (اور لمبی لمبی کھجور کے درخت) آسمان میں بلند۔ لَّہَا طَلْعٌ (اس کے گچھے) طلع : کھجور کے پھل میں سے جو نمودار ہو۔ نَّضِیْدٌ (تہ بہ تہ ہوتے ہیں) ایک دوسرے پر گھچے اور گندھے ہوتے ہیں۔ پھلوں کے بہت دور تہ بہ تہ ہونے کی وجہ سے یا پھلوں کی کثرت کی بناء پر جن کو نضید کہا گیا۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے

آیت 11 : رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ (بندوں کو رزق دینے کے لئے) ہم نے ان کو اگایا رزق کے طور پر۔ انبات رزق کے معنی میں ہے اس سے رزقًا اس کا مصدر من غیر لفظہٖ ہوا۔ اور یہ مفعول لہ ہے۔ ای انبتناھا لنرزقہم۔ ان کو رزق دینے کے لئے اسے اگایا۔ وَاَحْیَیْنَا بِہٖ (اور ہم نے اس کے ذریعہ زندہ کردیا) اس پانی کے ذریعہ بَلْدَۃً مَّیْتًا (مردہ زمین کو) جس کی نباتات خشک ہوچکی تھی۔ کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ (اسی طرح زمین سے نکلنا ہوگا) جس طرح یہ مردہ زمین آباد کردی گئی اسی طرح تم زندہ کر کے موت کے بعد نکالے جائو گے کیونکہ بنجر کی آبادی مردوں کو زندہ کرنے کی طرح ہے۔ کا فمحل رفع میں مبتدأ ہونے کی وجہ سے واقع ہے۔
Ayah 50:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

فرد کا زمین سے نکالنا نباتات کی طرح ہے : آیت 12 : کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ (ان سے پہلے جھٹلایا) ہم کا مرجع قریش مکہ ہیں قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ (قوم نوح اور رس والے) الرس وہ کنواں جس کی منڈیر نہ ہو۔ یہ یمامہ کے رہنے والے لوگ تھے۔ ایک قول یہ ہے : یہ اصحاب اخدود ہیں۔ وَثَمُوْدُ ۔
Ayahs 50:13–14

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید (عذاب) بھی پوری ہو کر رہی

احوال تکذیب ِاقوام : آیت 13 : وَعَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ (اور ثمود اور عاد اور فرعون نے) نمبر 1۔ فرعون سے قوم فرعون مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا من فرعون وملائہم۔ ] یونس : 83[ نمبر 2۔ کیونکہ معطوف علیہ قوم نوح ہے اور معطوفات جماعتیں ہیں۔ وَاِخْوَانُ لُوطٍ وَّاَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ (اور قوم لوط اور بن والے) اخوان لوط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ لوط ( علیہ السلام) اور ان کے درمیان قرابت نسبی پائی جاتی تھی۔ وَقَوْمُ تُبَّعٍ (اور تبع کی قوم) یہ یمن کا مسلمان بادشاہ گزرا۔ اس نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا۔ انہوں نے جھٹلا دیا۔ اسکو تُبَّع کثرت پیروکاروں کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ کُلٌّ (ان میں سے ہر ایک نے) کَذَّبَ الرُّسُلَ (رسولوں کو جھٹلایا) کیونکہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا پس اس نے گویا تمام کو جھٹلا دیا۔ فَحَقَّ وَعِیْدِ (پس میری وعید ان پر واقع ہوگئی) میری وعید ان پر لازم ہو کر اتر پڑی اس میں رسول اللہ ﷺ کیلئے تسلی اور کفار مکہ کو تہدید کی گئی ہے۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ از سر نو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں

آیت 15 : اَفَعَیِیْنَا (کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کرنے میں تھک گئے ہیں) اعیٰی بالامر اس وقت بولتے ہیں جب اپنے مقصد کو پانے کے لئے راہ نہ پائے۔ نحو : ہمزہ انکار کے لئے ہے فاء عاطفہ تعقیبیہ ہے۔ بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ (یعنی ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے تھک نہیں گئے) پھر دوسری سے ہم کیسے عاجز ہونگے۔ اور خلق اول کا اعتراف تو خود اعادہ کا اعتراف ہے۔ بعثت کے متعلق یہ شک میں پڑے ہیں : بَلْ ہُمْ فِیْ لَبْسٍ (بلکہ یہ لوگ شبہ میں پڑے ہیں) یہ لوگ خلط ملط اور اشتباہ میں ہیں شیطان نے ان کو التباس و حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ان کے لئے تسویل شیطانی یہ ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا عادت کے خلاف ہے۔ پس اس بات کی وجہ سے انہوں نے صحیح دلیل کو ترک کردیا۔ وہ یہ ہے کہ جو ذات اولین مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اعادہ پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ (از سر نو پیدا کرنے کی طرف سے) موت کے بعد۔ یہاں خلق کو نکرہ لائے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان پر دلالت کرے اور جو اس کو سنے اسے ڈرنا اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے انسان پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم انکو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

علمی قرب کو حبل الورید کی مثال ذکر کیا : آیت 16 : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ (ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے جی میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں) الوسوسۃ : مخفی آواز اور وسوسۃ النفس جو انسان کے دل میں پیدا ہو اور حدیث نفس میں سے جو خیال اس کے ضمیر میں آئے۔ اس میں باء کا معنی وہی ہے جو صوّت بکذا میں ہے۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (اور ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ) قرب سے قرب علمی مراد ہے۔ حبل الورید یہ انتہائی قرب کی مثال ہے۔ الورید : گردن کے اندر کی رگ۔ الحبل : رگ ٗ رسی۔ یہ اضافت ورید کی طرف اضافت بیانیہ ہے۔ جیسے کہتے ہیں بعیر سانیۃ ‘ یوم الجمعۃ وغیرہ۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں

آیت 17 : اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ (جب (قول وعمل کو) لینے والے فرشتے لیتے رہتے ہیں) متلقیان سے محافظ فرشتے مراد ہیں۔ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ (جو کہ دا ہنی اور بائیں طرف بیٹھے رہتے ہیں) التلقی : حفظ و کتابت سے اس کو اخذ کرنا۔ القعید اور المقاعد یہ الجلیس بمعنی مجالس کے آتا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ عن الیمین قعید وعن الشمال قعید من المتلقیٰن۔ تو ایک کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ دوسرے کی دلالت اس پر موجود ہے۔ جیسا شاعر کے اس قول میں۔ رمانی بامرکنت منہ و والدی۔ بریئًا ومن اجل الطوی رمانی۔ تو اصل کلام میں رمانی بامر کنت منہ بریئًا وکان والدی بریئًا مگر بری کا لفظ ایک مرتبہ لائے کیونکہ دوسرے پر اس میں دلالت موجود ہے۔ اذ۔ اقرب کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ اس میں یقرب کا معنی پایا جاتا ہے۔ علم الٰہی خطرات نفس سے بھی مخفی ترکو جاننے والا ہے : مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات لطیف خبیر ہے اس کا علم خطرات نفس تک پہنچنے والا ہے اور اس تک بھی پہنچنے والا ہے جو اس سے بھی مخفی تر ہو۔ وہ ہر قریب سے زیادہ انسان کے لئے اقرب ہے۔ جبکہ دو محافظ فرشتے انسان کے بول کو اخذ کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ اس بات کو بتلانے کیلئے فرمایا کہ وہ فرشتوں کے ذریعہ ان اعمال کے محفوظ کرنے سے بےنیاز ہے۔ (یہ خفیہ دستاویز معلومات حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ انسان کے لئے قریبی گواہی پیش کرنے کیلئے ہے) وہ اس سے کیونکر مستغنی نہ ہو جبکہ وہ عالم السرو الاخفی ہے۔ اور یہ نظام حکمت کے تحت بنا رکھا ہے اور وہ جو دونوں فرشتوں کے رجسٹروں اور ان کی حفاظت میں ہے۔ اور صحائف اعمال کا قیامت کے دن پیش کیا جانا ہے۔ یہ سیئات سے باز آنے اور حسنات کی طرف رغبت دلانے کی لطیف تدبیر ہے۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

کرامًا کاتبین کا اعمال لکھنا : آیت 18 : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ (وہ کوئی لفظ منہ سے نکالنے نہیں پاتا) جو وہ بولتا اور منہ سے نکالتا ہے۔ اِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (مگر اس کے پاس ایک حافظ تیار ہے) عتید : حاضر۔ پھر یہ کہا گیا کہ وہ ہر چیز لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرض کی انین بھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ بات لکھتے ہیں جس میں اجر یا گناہ ہوتا ہے۔ ایک تیسرا قول ہے۔ فرشتے اس سے الگ نہیں ہوتے سوائے دو حالتوں۔ (1) پاخانہ ( 2) جماع کے۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

علم وقدرت کے بعد مقدمہ قیامت کو ذکر کیا : آیت 19 : جب ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہوچکا۔ تو اپنے علم وقدرت سے ان پر حجت قائم کی۔ اور ان کو خبردار کیا کہ وہ جس کا انکار کر رہے ہیں عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ موت اور قیام ساعت کے وقت ان کے پاس کچھ بھی طاقت نہ ہوگی۔ ایسے وقت کے قریب آجانے پر ان کو متنبہ کرتے ہوئے لفظ ماضی سے تعبیر فرمائی۔ وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ (اور موت کی سختی آپہنچی) سکرت سے ایسی شدت مراد ہے جو عقل کو ہو ّا کر دے۔ بِالْحَقِّ (حقیقۃً ) واقع میں یا حکمت کے ساتھ۔ باء تعدیہ ہے یہ مفعول ہے۔ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ (یہ وہ ہے جس سے تو بدکتا تھا) ذلک کا مشارٌ الیہ موت ہے اور خطاب انسان کو کیا گیا ہے۔ لقد خلقنا الانسان میں بطریق التفات ہے۔ تحید نفرت کرنے اور بھاگنے کو کہتے ہیں۔ (اس سے پہلے یقال محذوف ہے)
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے

تذکرئہ قیامت : آیت 20 : وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ (اور صور پھونکا جائے گا) اس سے مراد نفخہ بعث مراد ہے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ (یہ دن ہوگا وعید کا) یعنی اس وعید کا وقت۔ گویا مضاف محذوف ہے اور ذلک کا اشارہ نَفَخَ کے مصدر کی طرف ہے۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اسکے عملوں کی) گواہی دینے والا

آیت 21 : وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّشَہِیْدٌ (اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک اس کو اپنے ہمراہ لائے گا اور ایک گواہ ہوگا) یعنی دو فرشتے ہونگے۔ ایک اس کو حشر کی طرف ہنکا کر لائے گا۔ اور دوسرا اس کے عمل کا گواہ ہوگا۔ نحو : معہا سائق محلًا منصوب ہے۔ یہ کلٌ سے حال ہے۔ کیونکہ وہ جو حکم معرفہ میں ہے اس کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ بن گیا۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے

غفلت کا پردہ چاک ہوا : آیت 22 : لَقَدْ کُنْتَ (تو تھا) یعنی اس کو کہا جائے گا۔ لقد کنت۔ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا (اس دن سے بیخبر ) یہ دن جو تجھ پر اتر پڑا ہے۔ فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَ کَ (پس اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا) پس تیری غفلت کو اس سے دور کردیا جس کا تو مشاہدہ کر رہا ہے۔ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (پس آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے) آیت میں غفلت کو پردہ کی طرح قرار دیا۔ گویا وہ پردہ ہے جس نے اس کے سارے جسم کو ڈھانپ رکھا ہے۔ یا وہ ایسا پردہ ہے جو اس کی آنکھوں کو ڈھانپنے والا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ کچھ بھی دیکھنے نہیں پاتا۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور غفلت و غطاء ہر چیز زائل ہو کر چھٹ جائے گی تو وہ حق بھی اس کو نظر آجائے گا۔ جو وہ نہ دیکھتا تھا۔ اور اس کی غفلت کے سبب تھکی ہوئی نگاہ بیداری کی وجہ سے بہت تیز ہوجائے گی۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اسکا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہے

قرین کی مراد : آیت 23 : وَقَالَ قَرِیْنُہٗٗ (اور اس کا ساتھی کہے گا) قول جمہور : یہ ہے۔ وہ فرشتہ ہے جو اس کے اعمال لکھنے پر مقرر ہے وہ اس پر گواہ ہوگا۔ ہٰذَا کا اشارہ دیوان عمل کی طرف ہے۔ قول مجاہد : اس سے اس کا وہ شیطان مراد ہے جو اس پر مقرر کیا گیا۔ جو ارشاد الٰہی میں ہے۔ نقیض لہ شیطانا فہو لہ قرین۔ ] الزخرف۔ 36[ ہٰذَا یعنی یہ وہ شخص ہے جس پر مجھے مقرر کیا گیا۔ مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ (یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے) نحو : ہذا مبتدأ اور ما نکرہ ہے جو شیٔ کا معنی دے رہا ہے۔ بعد والا ظرف ما کی صفت ہے۔ اسی طرح عتید بھی صفت ہے۔ ما اپنی صفت سے مل کر خبر اور ہذا مبتدأ۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ ہذا شیٔ ثابت لدیَّ عتید۔
Ayah 50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

آیت 24 : پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اَلْقِیَا نمبر 1۔ یہ سائق و شہید کو خطاب ہے۔ نمبر 2۔ مالک فرشتے کو خطاب ہے۔ اصل میں الق۔ الق ہے۔ اس کی جگہ القیا لایا گیا ہے۔ کیونکہ فاعل فعل کے جزو کی طرح ہوتا ہے۔ فاعل کا تثنیہ آنا تکرار فعل کا نائب ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس کی اصل اَلْقِیَنْہے۔ اور الف نون سے بدل دیا گیا وصل کو وقف کے قائم مقام کرتے ہوئے۔ اس کی دلیل حسن کی یہ قراءت ہے۔ القیَن۔ فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ (ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا) نعمتوں اور منعم کا۔ عَنِیْدٍ (ضد کرنے والا) حق سے پہلوتہی اختیار کرنے والا اہل حق کا دشمن۔
Ayah 50:25

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ نکالنے والا تھا

آیت 25 : مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ (وہ نیک کام سے روکتا ہو) مال کو اس کے حقوق سے بہت زیادہ روک کر رکھنے والا یا نمبر 2۔ جنس خیر کو اس کے مستحقوں تک پہنچنے سے رکاوٹ بننے والا۔ مُعْتَدٍ (حد سے گزرنے والا) ظالم حق کی حدود کو پھاندنے والا۔ مُّرِیْبِ نِ (شبہ پیدا کرنے والا) اللہ تعالیٰ اور اس کے دین میں شک کرنے والا۔
Ayah 50:26

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو

آیت 26 : الَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ (جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود تجویز کیا ہو) نحو : یہ مبتدأ ہے جو معنی شرط کو متضمن ہے۔ اس کی خبر فَاَلْقِیَاہُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ ہے۔ یا کُلُّ کَفَّارٍ سے بدل ہے اور فالقیا یہ تکریر تاکید ہے۔ مگر یہ جائز نہیں کہ اسے کفار کی صفت بنا کر اسے مجرور قراردیں۔ کیونکہ نکرہ کی صفت اسم موصول سے نہیں آتی۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی راستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

قولِ مجاہد : آیت 27 : قَالَ قَرِیْنُہٗٗ (وہ شیطان جو اس کے ساتھ رہتا تھا وہ کہے گا) وہ ساتھ رہنے والا شیطان اس کے خلاف شاہد ہوگا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں۔ میں نے اس جملہ کو وائو سے خالی کیا۔ پہلے کو نہیں کیونکہ پہلے کا عطف واجب ہے۔ کیونکہ دونوں کا معنی ان کے جمع کرنے پر دلالت کر رہا ہے۔ میری مراد یہ ہے مجیئی کل نفس مع الملکین اور اس کے قرین کا قول جو اس کو کہے گا۔ باقی یہ جملہ مستانفہ ہے۔ جیسا کہ حکایت قول میں مستانفہ جملے آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی گفتگو میں ہے۔ گویا کافر نے کہا۔ رب ہو اطغانیاے میرے رب اس نے مجھے سرکشی پر آمادہ کیا۔ تو اس کے قرین نے جو اب میں کہا ربنا ما اطغیتہٗ ۔ رَبَّنَا مَآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ (اے میرے رب میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ مگر یہ خود دور دراز کی گمراہی میں تھا) یعنی میں نے اس کو سرکشی میں نہیں ڈالا۔ لیکن اس نے سرکشی اختیار کی۔ اور اس نے گمراہی کو ہدایت پر پسند کیا۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

یہ دارالجزاء ہے جھگڑے کی جگہ نہیں : آیت 28 : قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ (ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں مت کرو) یہ جملہ مستانفہ ہے جیسا کہ قال قرینہ ہے۔ گویا کسی کہنے والے نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا۔ تو جواب دیا گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا تختصموا لدی۔ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ (میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا) یہاں موقف حساب اور دارالجزاء میں مت جھگڑو۔ تمہارے جھگڑنے کا فائدہ نہیں اور نہ کچھ حاصل ہے۔ میں تمہیں سرکشی کے متعلق اپنی کتابوں میں عذاب کی وعید کرچکا۔ اور میرے رسول اپنی زبانوں سے وعید سنا چکے۔ اپنے اوپر کوئی عذر میں نے باقی نہیں رہنے دیا۔ بالوعید میں باء اس طرح بڑھائی گئی۔ جیسا ولا تلقوا بایدیکم ] البقرہ۔ 195[ میں زائدہ ہے۔ نمبر 2۔ قدّم بمعنی تقدم ظاہر کرنے کے لئے باء لائے ہیں۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے

میری وعید والی بات کو بشارت میں بدلا نہیں جاسکتا : آیت 29 : مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ (میرے ہاں بات بدلی نہ جائے گی) اس بات کی توقع مت کرو کہ میں اپنے قول اور وعید کو اس طرح بدل دونگا کہ کفار کو جنت میں داخل کر دوں۔ وَمَآ اَنَا بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ (اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں) بغیر گناہ کسی بندے کو عذاب نہ دونگا۔ ظلام۔ مبالغہ لائے۔ کیونکہ یہ اس قول سے ماخوذ ہے۔ ہو ظالم لعبدہ وظلام لعبیدہٖ ۔ وہ اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا ہے۔ نفس ظلم کی نفی مقصود ہے۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟

آیت 30 : یَوْمَ نحو : یہ ظلام کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ مضمر فعل اذکر ٗ انذر وغیرہ کی وجہ سے منصوب ہے۔ جہنم پکارے گی کیا کچھ اور ہے…: نَقُوْلُ ۔ قراءت : ابوبکر و نافع نے یقول پڑھا ہے۔ ای یقول اللّٰہ۔ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ (جس دن کہ ہم دوزخ سے کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے) مزید یہ المجید کی طرح مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے۔ وہ بھر جانے کے بعد کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ یعنی کیا مجھ میں کوئی ایسی جگہ ہے جو بھری نہ ہو ؟ یعنی میں بھر چلی۔ یا جہنم اور طلب کرے گی۔ اور اس میں اضافہ کی گنجائش ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جہنم جب واقعی کلام کرے۔ اور یہ بعید بات نہیں۔ جیسا کہ جوارح انسانی بات کریں گے۔ اور یہ جہنم کا سوال کفار کو توبیخ کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی جانتے ہیں کہ آیا وہ بھر گئی یا کچھ خالی ہے۔
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی

آیت 31 : وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ (جنت متقین کے قریب لائی جائے گی۔ کچھ بھی دور نہ رہے گی) نحو : غیر بعید۔ یہ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای مکانا غیر بعید۔ نمبر 2۔ حال کی بناء پر نصب ہے۔ اور اس کو مذکر لانے کی وجہ یہ ہے۔ کہ یہ مصدر کے وزن پر ہے مثلاً الصلیل اور مصدر کے ذریعہ مؤنث ومذکر کی صفت لاسکتے ہیں۔ نمبر 3۔ موصوف محذوف ہے ای شیئًا غیر بعید۔ اور اس کا معنی تاکید والا ہوگا جیسا تم کہو۔ ہو قریب غیر بعید و عزیز غیر ذلیل۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے

آیت 32 : ہٰذَا۔ نحو : یہ مبتدأ ہے۔ اس کا مشارالیہ الثواب ہے۔ نمبر 2۔ ازلفت کے مصدر کی طرف اشارہ ہے۔ مَا تُوْعَدُوْنَ (جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) نحو : یہ مبتدأ کی صفت ہے۔ قراءت : مکی نے یاء سے یوعدون پڑھا ہے۔ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ (یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) اواب : جو اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ نحو : یہ خبر مبتدأ ہے۔ حفیظ۔ جو حدود اللہ کی حفاظت کرنے والا ہو۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جس نے دن کی ابتداء میں چار رکعات پر مواظبت کی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اواب و حفیظ لکھا جاتا ہے۔
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا

آیت 33 : مَنْ یہ اواب کا بدل ہے اور محلاً مجرور ہے۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی خبر ادخلوہا ہے جبکہ یقال لہم کو مقدر مانیں کیونکہ مَن معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ (جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوگا) الخشیۃ : اپنی غلطی دیکھ کر دل کی بیقراری۔ اللہ تعالیٰ نے خشیت کے ساتھ اپنا وسیع رحمت والا اسم گرامی ملا کر ذکر کیا۔ اس سے خشیت والے کی خوب تعریف کردی کہ یہ بیقرار ہے باوجود اس بات کے جان لینے کے کہ میرا رب وسیع رحمت والا ہے اور وہ ڈر رہا ہے باوجود اس بات کہ جس ذات سے ڈر رہا ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس سے غائب ہے۔ بِالْغَیْبِ (بن دیکھے) نحو : نمبر 1۔ یہ مفعول سے حال ہے۔ یعنی اس سے ڈرا اس حال میں کہ وہ غائب ہے۔ نمبر 2۔ خشی کے مصدر کی صفت ہے۔ خشی خشیۃ ملتبسۃ بالغیب وہ ایسا ڈرا جو ڈرنا بغیر دیکھنے کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ اس طرح کہ اس کے سزا دینے سے ڈرا باوجودیکہ وہ غائب ہے۔ قولِ حسن۔ : جب دروازہ بند کرلیا اور پردہ ڈال لیا پھر بھی وہ اس سے ڈرا۔ وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ (اور رجوع ہونے والا دل لے کر آئے گا) منیب : اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والا۔ ایک قول یہ ہے : صحیح عقیدہ اور پسندیدہ باطن کے ساتھ۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

آیت 34 : ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ (اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو) یعنی اس حال میں کہ تم نعمتوں کے زوال اور ناراضگی کے اترنے سے محفوظ رہو گے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ (اور یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا) یعنی ایسا دن جس کا اندازہ ہمیشگی ہے۔ جیسا فرمایا فادخلوہا خالدین۔ ] الزمر۔ 73[ یعنی تمہارے لئے ہمیشگی طے کردی گئی ہے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں وہ جو چاہیں گے انکے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے

مزید کی مراد : آیت 35 : لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ (ان کو بہشت میں سب کچھ ملے گا) جو جو چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے۔ اس سے جو وہ چاہیں گے۔ قول الجمہور : مزید سے مراد رؤیت باری تعالیٰ کا بلا کیف میسر آنا۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کہ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟

آیت 36 : وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ (اور ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے) آپ کی قوم قریش سے پہلے۔ مِنْ قَرْنٍ (ان زمانہ والوں کو جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلا دیا) ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ (جو قوت میں ان سے زیادہ تھے) ہم قریش مکہ سے بَطْشًا (قوت و دبدبہ) فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ (وہ تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے) وہ ملکوں ملکوں ہر قسم کا تصرف کرنے اور فائدہ اندوزی کے لئے خوب گھومے پھرے۔ التنقیب : سی معاملے میں بحث وکرید اور طلب و تلاش فاء سببیہ اس پر داخل ہے۔ ہم اشد منہم بطشا کا سبب بیان کیا ہے۔ یعنی قوت کی زیادتی اور شدت ان کے کثرت سے گھومنے کا سبب تھی۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اہل مکہ اپنے اسفار اور راستوں میں ان اہل زمانہ کے ملکوں میں گھومے ہیں۔ کیا ان کے لئے بچائو کی جگہ ہوئی۔ یہاں تک کہ یہ بھی اپنے نفسوں کیلئے اسی طرح کی جگہ کے امیدوار ہیں۔ (یہ استفہام انکاری ہے کہ ان کو پناہ گاہ نہ ملی نہ ان کو ملے گی) ان قراء کی قراءت بھی اس پر دلالت کرتی ہے جنہوں نے اس طرح پڑھا ہے فنَقِّبُوْا صیغہ امر کے طور پر۔ ہَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ (کہیں بھاگنے کی جگہ نہ ملی) نمبر 1۔ موت سے بھاگنے کی یا نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ سے بھاگنے کی۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے

آیت 37 : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بلاشبہ اس میں) اس مذکور میں لَذِکْرٰی (بڑی عبرت و نصیحت ہے) لِمَنْ کَانَ لَہٗٗ قَلْبٌ (جس کے پاس دل ہو) سمجھنے والا۔ کیونکہ جس کا دل قبول نہیں کرتا۔ گویا اس کا دل ہی نہیں۔ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ (یا کان لگا دیتا ہو) مواعظ پر کان دھرے۔ وَہُوَ شَہِیْدٌ (متوجہ ہو کر) وہ اپنی فطانت کو حاضر باش کرنے والا ہو۔ کیونکہ جو اپنے ذہن کو حاضر نہیں کرتا وہ غائب کی طرح ہے۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنادیا اور ہم کو ذرا بھی تکان نہیں ہوا

یہود کے عقیدہ کی تردید : آیت 38 : وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ (اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ چھ دن میں پیدا کیا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں) لغوب : تھکن و عجز۔ ایک قول یہ ہے : یہ یہود کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کی اس بات کی تکذیب میں جو انہوں نے کہی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ان میں پہلا یوم الاحد اور آخر یوم الجمعہ تھا۔ اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ اور عرش پر لیٹ گیا۔ علماء نے فرمایا کہ اس امت میں تشبیہ کا عقیدہ یہود سے نقل ہو کر آیا۔ یہود اپنے ہاں آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کو برا خیال کرتے ہیں۔ ان کا زعم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ (نعوذباللہ) ہفتہ کے دن اسی طرح بیٹھا تھا۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

آیت 39 : فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (پس ان کی باتوں پر صبرکیجئے) یعنی یہود کی باتوں پر جو کہ کفریات اور تشبیہ وغیرہ بکتے ہیں۔ نمبر 2۔ بعث کے متعلق جو مشرکین کہتے ہیں۔ پس جو ذات ساری کائنات کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ ان کو اٹھانے اور انتقام لینے پر بلاشبہ قادر ہے۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے) اس حال میں کہ آپ اپنے رب کی حمد وثناء کرنے والے ہوں۔ التسبیح۔ نمبر 1۔ اپنے ظاہری مراد پر ہے۔ نمبر 2۔ نماز مراد ہے۔ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ (طلوع آفتاب سے پہلے) نماز فجر وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ (اور غروب سے پہلے) ظہر و عصر۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہہ کیا کرو

تسبیح سے مراد : آیت 40 : وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ (اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیا کریں) نمبر 1۔ مغرب و عشاء۔ نمبر 2۔ تہجد کی نماز۔ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ (اور نمازوں کے بعد بھی) اور تسبیح نماز کے اعمال میں۔ رکوع اور سجدہ کی تعبیر نماز سے کی گئی۔ ایک قول یہ ہے : فرائض کے بعد نوافل۔ نمبر 2۔ وتر جو نماز عشاء کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔ الاَدْبَار۔ جمع دُبُرکی ہے قراءت : خلف ٗ حجازی اور حمزہ نے ادبار پڑھا ہے۔ یہ ادبرت الصلٰوۃ سے لیا گیا۔ جبکہ اس کو مکمل اور پورا کرو۔ اس کا معنی یہ ہوا۔ وقت انقضاء السجود۔ جیسا کہ کہتے ہیں اٰتیک خفوق النجم ای وقت خفوق النجم۔