Ayah 50:41آیت 41 : وَاسْتَمِعْ (اور سن رکھ) اس کو جو آپ کو قیامت کا حال سنایا گیا۔ اس میں قیامت کی ہولناکی اور بڑائی کو بیان کیا ہے۔
قراءت : یعقوب نے اس پر وقف کیا۔ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ یوم یہاں اس فعل سے منصوب ہے۔ جس پر ذٰلک یوم الخروج دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے یوم ینادی المنادی یخرجون من القبور۔ بعض نے کہا اس کی تقدیر یہ ہے۔ واستمع حدیث یوم ینادی المنادی۔ اور غور سے سن رکھو اس دن کی بات جس دن منادی آواز دے گا۔
قراءت : المنادی دونوں حالتوں میں مکی ٗ سہل اور یعقوب نے پڑھا ہے اور مدنی اور ابوعمرو نے وصل میں پڑھا اور دیگر قراء نے دونوں حالتوں میں یاء کے بغیر پڑھا ہے۔
اسرافیل کی نداء :
المنادی سے مراد اسرافیل (علیہ السلام) ہیں۔ وہ صور پھونکیں گے۔ اور آواز اس طرح دیں گے۔ ایتہا العظام البالیۃ والاوصال المنقطعۃ واللحوم المتمزقۃ والشعور المتفرقۃ ! ان اللّٰہ یأمرکن ان تجتمعن لفصل القضاء۔
اے بوسیدہ ہڈیو ! اے الگ الگ کیے ہوئے جوڑو ! اے پارہ پارہ گوشت ! اے پراگندہ بالو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے۔ فیصلہ الٰہی کے لئے باہم اکٹھے ہوجائو۔ (یہ قول مقاتل ہے)
ایک قول یہ ہے :
اسرافیل صور پھونکیں گے۔ اور جبرائیل حشر کی منادی کریں گے۔
مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ (جس دن پکارنے والا پاس ہی سے پکارے گا) صخرئہ بیت المقدس سے اور یہ آسمان کے لئے زمین کا قریب ترین حصہ ہے۔ جو دوسرے حصوں کی بنسبت بارہ میل زیادہ قریب ہے۔ اور وہ وسط زمین ہے۔ (یہ کلبی کا قول ہے)
Ayah 50:42مردوں کا نکلنا :
آیت 42 : یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ (جس دن اس چیخنے کو سب سن لیں گے) نحو : یہ یوم ینادی سے بدل ہے۔ الصیحۃ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ بِالْحَقِّ (بالیقین) یہ صیحۃ سے متعلق ہے۔ اور اس سے مراد بعث وحشر جزاء و سزا کیلئے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ (یہ دن نکلنے کا ہوگا) قبور سے۔
Ayah 50:43آیت 43 : اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ (بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں) مخلوقات کو وَنُمِیْتُ (اور ہم ہی مارتے ہیں) یعنی دنیا میں مارتے ہیں۔ وَاِلَیْنَا الْمَصِیْرُ (اور ہماری طرف ہی پھر لوٹ کر آنا ہے) یعنی ان سب نے لوٹنا ہے۔
Ayah 50:44آیت 44 : یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ (جس دن زمین ان پر سے کھل جائے گی) قراءت : کوفی ٗ ابوعمرو نے تخفیف کے ساتھ اور باقی نے تشدید سے پڑھا ہے۔ زمین پھٹ جائے گی اور مردے اس سے نکل کھڑے ہونگے۔ سِرَاعًا (جبکہ وہ دوڑتے ہونگے) یہ مجرور سے حال ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ تیزی کرنے والے ہونگے۔ ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ (یہ ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے) یسیر : آسان۔ یہاں ظرف کو مقدم کیا۔ تاکہ تخصیص کو ظاہر کرے۔ یعنی اس جیسا بڑا کام آسان نہیں مگر اس قادر مطلق ذات کو جس کو ایک حالت دوسری سے مشغول نہیں کرسکتی۔
Ayah 50:45آپ مدعی ہیں نصیحت کرتے جائیں :
آیت 45 : نَحنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ (جو جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں) ۔ آپ کے اور ہمارے متعلق ہم وہ خوب جانتے ہیں اس میں کفار مکہ کو ڈرایا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیہِمْ بِجَبَّارٍ (آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں) یہ اسی طرح ہے جیسا فرمایا۔ لست علیہم بمصیطر ] الغاشیہ : 22[ یعنی آپ ان پر مسلط نہیں۔ آپ تو داعی ہیں۔ اور ان کو آمادہ کرنے والے ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
یہ جبرہ علی الامر سے لیا گیا ہے۔ اس کا معنی اجبرہ ہے مطلب یہ ہے۔ آپ ان پر والی نہیں کہ ایمان پر جبر کر کے آمادہ کریں۔ فَذَکِّرْ بِالْقُرْٰانِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (تو آپ قرآن کے ذریعہ ایسے شخص کو نصیحت کیجئے جو میری وعید سے ڈرتا ہے) یہ اس طرح ہے جیسا فرمایا۔ انما انت منذر من یخشٰہا۔ ] النازعات : 45[ کیونکہ نصیحت کا فائدہ اسی کو ملے گا۔