49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو ! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سنتا جانتا ہے

آیت 1 : یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا قدمہ و اقدمہ یہ حشو و ہمزہ کے ثقیل ہونے کی وجہ سے قدمہ سے منقول ہیں جبکہ وہ آگے بڑھے سبقت کرلے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے۔ یقدم قومہ۔ [ ہود : 98] مفعول کو یہاں حذف کیا گیا۔ تاکہ قول و فعل جس میں سبقت کی جاتی ہے۔ ان سب کو شامل ہو اور یہ بھی درست ہے کہ مفعول کا قصد نہ کیا جائے۔ اور نفس تقدم کی طرف متوجہ ہو۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ وہوالذی یحییٰ ویمیت۔ ] المؤمنون۔ 80[ نمبر 2۔ یا یہ قدم بمعنی تقدم سے لیا جائے۔ جیسا کہ وجہ بمعنی توجہ آتا ہے اور اسی سے مقدمۃ الجیش ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کو لشکر سے آگے بھیجا جائے۔ اس کی تاکید قراءت ِیعقوب سے ہوتی ہے۔ قراءت : لا تقدَّموا تتقدموا کی ایک تاء کو حذف کر کے یعقوب نے پڑھا۔ تعظیم رسول کا حکم : بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ عرب کہتے ہیں جلست بین یدی فلان۔ جبکہ تم یمین و شمال کو چھوڑ کر اس کے قریب بیٹھو۔ دونوں جہتوں کو یدین سے تعبیر کیا گیا۔ کیونکہ وہ دونوں ہاتھوں کی سمتوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان اطراف سے قرب کے باوجود توسعاً ایسا کیا گیا ہے۔ جیسا کہ کسی چیز کو مجاورت کی وجہ سے کسی اور نام سے پکار لیتے ہیں۔ اس عبارت میں مجاز کی قسم تمثیل پائی جاتی ہے اور اس میں ایک عظیم الشان فائدہ ہے۔ فائدہ جلیلہ : یہ اس شناعت اور برائی کی تصویر ہے جو اس صورت میں پائی جاتی ہے۔ جبکہ وہ کتاب و سنت کی امثلہ کی اتباع کی بجائے امور منہیہ میں سے کسی امر کا ارتکاب کرے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ تمہارے اس قول کی طرح ہو۔ سَرّنی زیدٌ و حُسنُ حالہ۔ یعنی سرنی حسن حال زید۔ اسی طرح یہاں معنی بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے۔ اس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اختصاص اور قوی تر ہوجاتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مرتبہ ومقام ہے۔ اسی لئے اس انداز کو اختیار کیا گیا۔ اس میں اس ناراضگی والی بات کی تمہید ہے جو ان سے ہوئی یعنی رسول اللہ ﷺ کی آواز سے ان کی آواز بلند ہوئی۔ کیونکہ جس ہستی کا یہ مرتبہ اور عظمت ہو اور ایسی خصوصیت عنایت فرمائی ہو اور ان کے ادب کا سب سے کم درجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے آواز پست رکھی جائے اور ان کے ساتھ انتہائی تأدب و تعظیم سے پیش آئیں۔ قولِ حسن (رح) : بعض لوگوں نے عید الاضحی کے دن نماز عید سے قبل جانور ذبح کر ڈالے۔ پس یہ آیت اتری۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قربانی کے اعادہ کا حکم فرمایا۔ (رواہ عبدالرزاق) قولِ عائشہ ؓ : اس میں یوم شک کے روزے سے منع کیا گیا ہے اسی سلسلہ میں یہ آیت اتری ہے۔ (ذکرہ دارقطنی) وَاتَّقُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! ) اگر اس سے ڈرو گے تو تقویٰ تمہیں مناہی کے ارتکاب سے محفوظ کر دے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (بیشک اللہ سننے والے ہیں) ان سب باتوں کو جو تم کہتے ہو۔ عَلِیْمٌ (اور جاننے والے ہیں) جو تم کرتے ہو۔ اور ایسی سمیع وبصیر وعلیم ہستی کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

آیت 2 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اے ایمان والو) اس نداء کو دوبارہ تاکید کیلئے لائے تاکہ ہر خطاب جدید کے وقت اپنی بصیرت کی تجدید کرلیں اور غور و فکر سے بالکل غفلت نہ برتیں۔ آواز کو آپ کی مجلس میں پست رکھیں : لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو) یعنی جب آپ گفتگو فرما رہے ہوں اور تم بھی گفتگو کرو تو تم اپنی آواز کو بلندی میں اس حد تک نہ پہنچائو۔ جس حد تک آپ پہنچانے والے ہوں۔ اپنی آواز اس طرح ہلکی رکھو کہ آپ کا کلام تمہارے کلام سے بلند تر نظر آئے۔ اور آپ کا جہر تمہارے جہر پر نمایاں ہو یہاں تک کہ آپ کا مقام اس سے چمکنے والا ہو۔ آپ کی سابقیت واضح تر ہو۔ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ (اور نہ ان سے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو) جب تم آپ سے اس حالت میں گفتگو کرو کہ آپ خاموشی اختیار فرمانے والے ہوں تو آواز کو بلند کرنے کی جو ممانعت کی گئی ہے۔ اس سے مت پھرو بلکہ وہ ملحوظ خاطر رہے اور مزید یہ کہ جہر میں اس مقام پر بھی نہ پہنچو جو تم باہمی ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کرتے ہو۔ اور ایسا مت کرو کہ جان بوجھ کر آپ سے ایسا نرم اور سرگوشی کے قریب کلام کرو جس سے دوبارہ سوال کر کے جہر میں اضافہ ہو۔ یا آپ کو یا محمد اور یا احمد نام لے کر مت آواز دو ۔ بلکہ آپ سے نبوت کے لقب سے اور وقارو تعظیم سے خطاب کرو۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ابوبکر ؓ و عمر ؓ آپ سے اس طرح کلام فرماتے جیسے کوئی صاحب راز سے کلام کرتا ہے۔ (رواہ البخاری : 4845) روایت ابن عباس ؓ : یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے متعلق اتری۔ ان کو اونچا سنتا تھا۔ اور ان کی آواز بھی زور دار تھی۔ کلام کرتے وقت وہ اپنی آواز کو بلند کرتے۔ بسا اوقات وہ آپ سے بات کرتے ہوتے تو ان کی آواز سے آپ کو تکلیف پہنچتی۔ کجھر کی کاف تشبیہ محل نصب میں واقع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے لا تجھروا لہ جھرًا مثل جھر بعضکم لبعضٍ ۔ مخصوص جہر کی ممانعت : اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ کہ مطلقاً جہر سے نہیں روکا گیا کہ کسی صورت میں ان کو سوائے آہستہ کلام کے اجازت ہی نہ ہو۔ بلکہ مخصوص جہر کی ممانعت کی گئی ہے۔ میری مراد یہ ہے۔ کہ ایسا جہر جو اس انداز کا ہو جس کی ان کے ہاں باہمی گفتگو میں عادت تھی اور وہ جہر عظمت نبوت ٗ شان ذات نبوت کے لحاظ کے بغیر ہو۔ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ (کبھی تمہارے اعمال برباد ہوجائیں) نحو : یہ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور نہی کے معنی سے متعلق ہے۔ معنی اس طرح ہے انتہوا عما نہیتم عنہ لحبوط اعمالکم ای بخشیۃ حبوطہا۔ تم باز رہو اس سے جس سے تمہیں اعمال کے حبط ہونے کے خطرہ کے پیش نظر روکا گیا ہے۔ حبوط کا مضاف محذوف مانا گیا ہے۔ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (اور تم کو خبر بھی نہ ہو)
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقوے کے لئے آزما لیے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

آیت 3 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (بےشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ کے سامنے پست رکھتے ہیں) نحو : ان کا اسم رسول اللہ پر مکمل ہوا۔ اولئک الذینالخ یہ ان کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی آوازوں کو آپ کی تعظیم کیلئے پست رکھتے ہیں۔ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی (یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خاص کردیا ہے) نحو : اولئک مبتدأ اور الذین یہ جملہ اس کی خبر ہے۔ الذین کا صلہ للتقویٰ تک پورا ہوا۔ یہ اپنے مبتدأ سے مل کر خبر اِنَّ بن گئی۔ امتحن کا معنی تقویٰ کیلئے خالص کرنا۔ عرب کہتے ہیں امتحن الذہب وفتنہ۔ جبکہ پگھلایا جائے اور اس سے میل کو نکالدیا جائے اور صاف کردیا جائے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے دل کے ساتھ مختبر کا سا معاملہ کیا گیا تو اس کو خالص پایا گیا۔ قولِ عمر ؓ : امتحن کا معنی شہوات کا اس سے دور کرنا۔ الامتحان یہ باب افتعال ہے۔ محنہ : زبردست آزمائش ٗ تھکا دینے والی پرکھ۔ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (ان لوگوں کیلئے بخشش اور عظیم اجر ہے) یہ دوسرا جملہ ہے۔ یہ شیخین ؓ کے متعلق اتری کیونکہ وہ دونوں آواز کو ہلکا کرنے والے تھے۔ آیت کے لطائف : آواز پست کرنے والوں کو ان مؤکدہ کا اسم بنایا اور اس کی خبر ایسے مبتدأ و خبر سے لائے جو دونوں معرفہ ہیں۔ مبتدأ اسم اشارہ اولئک ہے۔ ان کے عمل کی جزاء جس جملہ میں ذکر کی اس کو دوبارہ لوٹایا۔ اور جزاء کو نکرہ مبہمہ لائے۔ اس معاملے سے معلوم ہوتا ہے کہ آواز پست کرنے پر انتہائی راضی ہیں اور ایسے لوگ کمال کے انتہائی درجہ پر فائز المرام ہیں اور آواز بلند کرنے والوں پر تعریض کردی کہ اس کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند ہے۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

وفد بنو تمیم کی نادانی : آیت 4 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ (بیشک جو لوگ حجروں کے باہر آپ کو پکارتے ہیں) یہ آیت وفد بنو تمیم کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ خدمت نبوی میں دوپہر کے وقت پہنچے جبکہ آپ آرام فرما تھے۔ ان میں اقرع بن حابس ٗ عیینہ بن حصن بھی تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو حجرات کے باہر سے آوازیں دیں اور کہنے لگے۔ اے محمد ! آپ باہر نکل کر آئیں ! ہماری مدح زینت اور ہماری مذمت عیب دار بنا دیتی ہے۔ پس آپ بیدار ہو کر باہر تشریف لائے۔ (ابن اسحاق فی السیرۃ) الوراء : ہر وہ جانب جو تم سے کسی شخص کو اس کے سایے کے ساتھ چھپالے خواہ وہ آگے ہو یا پیچھے۔ من۔ یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔ کہ آواز اس مقام سے شروع ہوئی اور دی گئی۔ الحجرۃ۔ زمین کا ایسا ٹکڑا جس کو چاروں طرف دیوار کھینچ کر روکا گیا ہو۔ یہ فُعلۃ کا وزن بمعنی مفعولہ استعمال ہوتا ہے جیسے قُبضۃ بمعنی مقبوض۔ اس کی جمع حُجُرات دو ضموں سے ہے۔ یزید نے حَجُرات پڑھا ہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے حجرات مراد ہیں۔ ہر زوجہ محترمہ کے لئے ایک حجرہ تھا۔ ان کے آواز دینے کا واقعہ ان تمام حجرات کے پیچھے سے تھا شاید وہ آپ کی تلاش میں تمام حجرات پر پھیل گئے تھے۔ یا انہوں نے آپ کو اس حجرہ کے پیچھے سے آواز دی جس میں آپ آرام فرما رہے تھے۔ مگر آپ کی عظمت شان کے لئے جمع کا صیغہ لایا گیا۔ اگرچہ اس کا ارتکاب تو بعض نے کیا مگر نسبت ان تمام کی طرف کردی گئی۔ اور چونکہ تمام وفد کی صورت میں تھے اور باقی بھی اس پر راضی تھے اس لئے گویا تمام نے یہ فعل کیا۔ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُونَ (ان میں سے اکثروں کو عقل نہیں ہے) نمبر 1۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں وہ بھی ہوں جن کو مستثنیٰ کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ مراد نفی عام ہو۔ کیونکہ قلت نفی کے موقع پر ہی شمار کی جاتی ہے۔ لطائف ِآیت : اس میں آنحضرت ﷺ کی بڑی عظمت و شان کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ نمبر 1۔ چیخ کر آواز دینے والوں کے لئے بیوقوفی و جہالت لکھ دی۔ نمبر 2۔ آپ کے قیلولہ اور مقام خلوت کو کنایۃً حجرات سے تعبیر فرمایا۔ نمبر 3۔ الف لام سے معرفہ ذکر کیا۔ اضافت سے نہیں۔ اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو اول سورت سے اس آیت تک اسی طرح الف لام سے معارف کو ذکر کیا۔ دیکھو اللہ اور رسول کی طرف جن امور کی نسبت ہے وہ دوسرے امور پر بلا تقیید مقدم ہیں۔ پھر اس نہی کے بعد تقدیم کی جنس جیسے رفع صوت اور جہر کو پہلے لائے۔ گویا پہلا دوسرے کیلئے تمہید کی مانند ہے۔ پھر آواز آہستہ کرنے والوں کی تعریف فرمائی تاکہ اس سے یہ ظاہر ہو کہ اللہ کی بارگاہ میں اس کی بڑی قدر ہے۔ پھر اس کے بعد وہ لائے جو کہ اس سے بھی زیادہ ناپسندیدگی میں بڑھ کر ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے حجرہ میں آرام فرمانے کی صورت میں دیوار کے پیچھے سے چیخ چیخ کر آواز دینا۔ چیخ چیخ کر اس طرح آواز دینا جیسا کہ عام آدمی کو آواز دی جاتی ہے۔ یہ اس ترتیب سے اس لئے لائے تاکہ اس بدترین جسارت پر متنبہ کردیا جائے۔ کیونکہ جن کے مرتبے کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر بلند کیا ہو تو ان کے متعلق یہ جسارت انتہائی سخت ترین جسارت ہے۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

صبر کا مفہوم : آیت 5 : وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا (اور اگر یہ لوگ صبر کرتے) یعنی اگر ان کا صبر قائم رہتا۔ یہ محل رفع میں فاعلیت کی بناء پر واقع ہے۔ الصبر : نفس کی خواہش کو روک کر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم۔ ] الکہف : 28[ اور عرب کا قول صبر عن کذا۔ اس سے نفس کو جو کہ مفعول ہے حذف کیا گیا ہے۔ مشہور محاورہ ہے۔ الصبر مرّ لا یتجرّعہ الاحرٌ۔ صبر تلخ است مگر بر شیریں دارد۔ حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْہِمْ (یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس باہر آجاتے) لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ (تو ان کے لئے بہتر تھا) اس سے یہ فائدہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ اگر آپ باہر تشریف لاتے اور آپ کا نکلنا ان کی طرف اور ان کی خاطر نہ ہوتا تو پھر بھی لازم تھا کہ وہ اس وقت تک صبر کرتے یہاں تک کہ ان کو علم ہوجاتا کہ آپ کا نکلنا ان کی طرف ہے۔ تو صبر ان کے لئے دینی لحاظ سے بہتر ہوا۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے) اللہ تعالیٰ بہت وسیع مغفرت و رحمت والا ہے۔ ان لوگوں سے بھی وہ اپنی رحمت کو ہرگز تنگ نہ کریں گے اگر یہ توبہ وانابت سے کام لیں گے۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

ولید بن عقبہ کی بدگمانی : آیت 6 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا (اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح تحقیق کرو) اس بات پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ ولید بن عقبہ کے متعلق نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ کی وصولیابی کیلئے عامل مقرر فرمایا۔ ان کے اور بنو مصطلق کے درمیان زمانہ جاہلیت میں چپقلش تھی۔ پس جب وہ ان کے گھروں کے قریب پہنچا تو وہ ان کا استقبال کرنے نکلے۔ اس نے گمان کیا کہ وہ اس سے لڑنے نکلے ہیں۔ وہاں سے واپس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لوٹ کر کہہ دیا۔ وہ تو مرتد ہوگئے اور انہوں نے زکوٰۃ سے انکار کردیا ہے۔ پس آپ نے خالد بن ولید کو تحقیق حال کیلئے بھیجا تو ان کو نماز پڑھتے پایا۔ بنو مصطلق نے ان کو اپنے تمام اموال صدقات سپرد کردیئے جنہیں لے کر وہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے۔ آیت میں فاسق اور نبأ دونوں کو نکرہ لاکر عام کرنا مقصود ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ جونسا فاسق اور جو خبر لائے۔ فَتَبَیَّنُوْا : (تو خوب تحقیق کرلیا کرو) پس اس میں توقف کرو اور معاملے کی وضاحت اور حقیقت کا انکشاف تلاش کرو۔ فاسق کی بات پر اعتماد مت کرو کیونکہ جو فسق سے نہیں بچتا وہ کذب سے کیونکر محفوظ ہوگا جو اسی کی قسم ہے۔ دلالت ِآیت : اس آیت میں دلالت پائی جاتی ہے کہ ایک عادل کی خبر قبول کرلی جائے گی کیونکہ اگر ہم اس کی خبر پر بھی توقف کریں گے تو ہم فاسق و عادل کو برابر ٹھہرانے والے بن جائیں گے اور یہاں فاسق کی تخصیص بلا فائدہ ہوجائے گی۔ الفسوق : کسی چیز سے نکلنا۔ عرب کہتے ہیں : فسقت الرطبۃ عن قشرہا۔ اس کا مقلوب فقست البیضۃ۔ جبکہ تم انڈے کو توڑ کر اس کے اندرون کو نکال لو۔ اور اس کا مقلوب۔ قفست الشیٔ۔ جب کہ تم غضب کے ذریعہ کسی چیز کو اس کے مالک کے ہاتھ سے نکال لو۔ پھر یہ لفظ کبائر کے ارتکاب کے ساتھ میانہ روی سے نکلنے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ قراءت : علی ٗ حمزہ نے فتثبتوا پڑھا ہے۔ التثبت اور التبیین یہ دونوں لفظ قریب قریب ہیں۔ دونوں پختگی ‘ وضاحت اور پہچان طلب کرنے کے لئے آتے ہیں۔ اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًام (کبھی کسی قوم کو ضرر نہ پہنچا دو ) بِجَہَالَۃٍ (نادانی سے) نحو : یہ حال ہے۔ اس حال میں کہ تمہیں حقیقت حال و واقعہ کا علم نہ ہو۔ فَتُصْبِحُوْا یہ تصیر کے معنی میں ہے۔ عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ (پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے) الندم : یہ غم کی ایک قسم ہے۔ کہ آدمی اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ اور تمنا کرے کہ وہ کام اس سے سرزد نہ ہوتا۔ یہ ایسا غم ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

بنو مصطلق اور ولید کے واقعہ میں مبالغہ نہ کرنے والوں کی تعریف : آیت 7 : وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ (اور تم جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ہیں) پس ان سے جھوٹ مت کہو۔ اللہ تعالیٰ ان کو اطلاع دے دیں گے پھر جھوٹے کا پردہ چاک ہوجائے گا۔ نمبر 2۔ ان کی طرف رجوع کرو اور ان کی رائے طلب کرو۔ پھر جملہ مستانفہ لائے اور فرمایا۔ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ (بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے) تو تم مشقت و ہلاکت میں پڑ جائو۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بعض مسلمانوں نے واقعہ بنو مصطلق کے مبتلا ہونے اور ولید کے قول کو مزین کر کے پیش کیا اور بعض اس سے بچنے والے تھے اور ایسی جسارت کو ان کے تقویٰ کے خلاف خیال کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا اور فرمایا۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ (لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی) ایک قول یہ ہے : کہ یہ وہی لوگ ہیں الذین امتحن اللّٰہ قلوبہم للتقوٰی میں جن کا ذکر فرمایا۔ جب کہ حبب اللّٰہ والی صفت اس حالت سے مغایرت رکھتی تھی جس کا تذکرہ اس سے پہلے ہے تو لکن بطور استدراک کے لایا گیا وہ موقعہ استدارک یہ ہے کہ نفی و اثبات دونوں کے لحاظ سے یہ ماقبل کے مخالف ہے۔ وَزَیَّنَہٗٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ (اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا۔ اور نفرت دے دی کفر) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چھپانا اور تکبر سے ان کا انکار کرنا۔ وَالْفُسُوْقَ (اور فسق) ایمان کی راہ سے کبائر کے ارتکاب کے ساتھ نکلنا۔ وَالْعِصْیَانَ (اور عصیان سے) عصیان : شارع نے جس بات کا حکم دیا اس کی اطاعت چھوڑنا۔ اُولٰٓپکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ (ایسے لوگ راہ راست پر ہیں۔ ) یعنی یہ لوگ جن کو مستثنیٰ کیا گیا وہی راہ راست پر ہیں۔ انہوں نے حق کی راہ کو پا لیا ہے اور استقامت سے ادھر ادھر مائل نہیں ہوتے۔ الرشد : راہ حق پر پختگی سے قائم رہنا۔ یہ الرشادۃ سے لیا گیا جس کا معنی چٹان آتا ہے۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

آیت 8 : فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً (اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے) فضل و نعمت۔ افضال و انعام کے معنی میں ہیں۔ نحو : یہ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ حبب و کرہ للفضل والنعمۃ اس افضال و انعام کے لئے ایمان محبوب بنایا اور کفر و فسق و عصیان کو مبغوض بنایا ہے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے) ایمان والوں کے حالات اور ان کے باہمی تفاضل و امتیاز کو جانتا ہے۔ حَکِیْمٌ (حکمت والا ہے) جبکہ وہ افاضل پر اپنی توفیق سے فضل و انعام کرتا ہے۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اوس و خزرج کی باہمی لے دَے : آیت 9 : وَاِنْ طَآپفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا (اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں) رسول اللہ ﷺ ایک مجلس کے پاس رکے جس میں بعض انصار بھی تھے۔ آپ ﷺ گدھے پر سوار تھے۔ گدھے نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن ابی اپنی ناک بند کر کے کہنے لگا۔ اپنے گدھے کو جانے دو اس کی بدبو نے ہمیں تکلیف پہنچائی ہے۔ اس پر عبداللہ بن رواحہ نے کہا رسول اللہ ﷺ کے گدھے کا پیشاب تیری کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور ان کے درمیان بات لمبی ہوگئی۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو سخت سست اور قمچیاں بھرنے کی پہنچ گئی۔ دونوں کے حمایتی آئے اور وہ اوس و خزرج تھے۔ ان کی باہمی لاٹھی ڈنڈوں سے لے دے ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ مکوں اور گھونسوں اور جوتوں اور کھجور کی چھڑیوں سے۔ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف دوبارہ لوٹے اور ان کے مابین صلح کرائی۔ اور یہ آیت اتری۔ (رواہ البخاری۔ 2691۔ مسلم 1799) فوائد لفظ : اقتتلوا کو معنی کا لحاظ کر کے جمع لائے۔ کیونکہ الطائفتین قوم و ناس کے معنی میں ہے اور فاصلحوا بینہما میں ضمیر تثنیہ لفظ کے لحاظ سے لائی گئی ہے۔ فَاِنْم بَغَتْ اِحْدٰہُمَا عَلَی الْاُخْرٰی (پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے) البغی : ظلم و زیادتی اور صلح سے انکار۔ فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓئَ (تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع ہوجائے) تفییٔ : رجوع کرنا ‘ لوٹنا۔ سائے کو بھی فیٔ اور غنیمت کو بھی فیٔ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ غروب آفتاب کے بعد سایہ اصل کی طرف لوٹ آتا ہے اور کفار کا جو مال مسلمانوں کی طرف لوٹ آئے وہ مال فیٔ ہے۔ باغی گروہ سے لڑنے کا حکم : الفئۃ الباغیۃ کا حکم یہ ہے کہ جب تک وہ لڑیں ان سے قتال کیا جائے۔ جب وہ رک جائیں اور لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیں تو ان سے ہاتھ روک لیا جائے۔ اِلٰٓی اَمْرِ اللّٰہِ (یعنی صلح کی جو بات کتاب اللہ میں مذکور ہے) اور بغض کو زائل کرنے کا جو حکم ہے۔ فَاِنْ فَآئَ تْ (پھر اگر رجوع ہوجائے) یعنی بغاوت سے امر اللہ کی طرف فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا (تو ان کے مابین اصلاح کرو اور انصاف کا خیال رکھو) اقسطوا کا معنی عدل کرو۔ بطور عموم قسط کا لفظ استعمال کر کے انصاف کا حکم دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے اصلاح ذات البین کا حکم دیا جا چکا۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ انصاف والوں کو پسند کرتے ہیں) مقسط : عادل کو کہتے ہیں۔ القُسط ظلم کو اور القِسْط العدل کو کہتے ہیں۔ اقسط یہ اسم تفضیل ہے۔ اس کی ہمزہ سلب کیلئے ہے۔ ای از ال القسط اس نے ظلم کو زائل کیا۔ (اور انصاف ازالہ ظلم ہی کو کہتے ہیں)
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

مسلمانوں میں باہمی مخاصمت کی تاکید : آیت 10 : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ (مسلمان تو سب بھائی ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو) یہ آیت اس اصلاح کی ذمہ داری کے مضمون کو پختہ کرنے کے لئے لائے۔ کہ اگر ان کے مابین مخالفت پھوٹ پڑے تو درستگی کرو۔ اور اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ایمان نے مسلمانوں کے اندر ایک قریبی تعلق اور چمٹی رہنے والی مناسبت پیدا کردی ہے۔ اگر بھائی فضیلت نہ دیں تو اس میں کمی نہ آئے گی۔ پھر یہ عامہ مستمرہ ہے کہ جب دو بھائیوں میں ایسی چیز پھوٹ پڑے تو سب پر لازم ہے کہ اس کے دور کرنے کے لئے اٹھیں اور صلح سے اس کو ختم کریں پھر دینی بھائی تو اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ قراءت : یعقوب نے اخوتکم پڑھا ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے) یعنی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تقویٰ تمہیں الفت و میل ملاپ پر آمادہ کرے گا۔ تمہارے ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی مطلوبہ رحمت تمہیں حاصل ہوجائے گی۔ فائدہ : یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ بغاوت ایمان کو زائل نہیں کرتی۔ کیونکہ بغاوت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو مومن قرار دیا۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

تمسخر کی ممانعت : آیت 11 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ (اے ایمان والو ! نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے۔ کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے۔ کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں) قوم سے خاص کر مردمراد ہیں کیونکہ وہ عورتوں کے امور کے ذمہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ الرجال قوامون علی [ النساء : 34] قواموناصل میں قائم کی جمع ہے جیسا صوم جمع صائم کی ہے اور زور جمع زائر کی ہے۔ اور قوم سے مردوں کا مراد ہونا ظاہر ہے کیونکہ اگر عورتیں اس میں داخل ہوتیں۔ تو ولا نساء نہ فرمایا جاتا۔ اور زہیر شاعر نے اپنے قول میں اس کو پیش کیا ہے۔ وما ادری ولست اخال ادری۔ أقوم آل حصنٍ ام نساء ؟ باقی قوم فرعون اور قوم عاد کا لفظ جو قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ وہاں مذکرو مؤنث ہر دو مراد ہیں۔ قوم کا لفظ فریقین کو شامل کرنے والا نہیں۔ لیکن مذکر کا قصد کر کے اناث کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ مردوں کے تابع ہیں۔ قوم اور نساء کے لفظ دونوں نکرہ لائے گئے اس میں دو معنی کا احتمال ہے۔ نمبر 1۔ بعض مؤمنین و مؤمنات ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں۔ فائدہ کے عام ہونے اور ہر جماعت کے لئے تمسخر کو ممنوع قرار دیا۔ یہاں رجل من رجل اور لا امرأۃ من امرأۃ مفرد استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ بتلانے کیلئے کہ بہت سے آدمی اور بہت سی عورتیں اس فعل کا اقدام کرتی ہیں۔ اور اسی طرح بہت سی عورتیں اس کو کرنے والی ہیں۔ اور اس حالت کی برائی کو ظاہر کیا۔ اور عسٰی ان یکونوا خیرًا منہم جملہ مستانفہ ہے۔ اور یہ جملہ نہی کی علت دریافت کرنے والے کے جواب کی جگہ لایا گیا ہے۔ ورنہ تو اس کا حق یہ تھا کہ فاء کے ذریعہ یہ ماقبل سے ملا ہوا ہوتا۔ معنی یہ ہے کہ ہر ایک کو یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ جس کا مذاق اڑایا گیا وہ بسا اوقات تمسخر اڑانے والے سے بہت بہتر ہوتا ہے۔ اس لئے کہ لوگوں کو تو صرف ظواہر کا علم ہے۔ دلوں کے رازوں سے وہ واقف نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جس چیز کا وزن ہے۔ وہ خلوص قلب ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہے کہ کوئی اس شخص کے ساتھ استہزاء کی جرأت نہ کرے۔ جس کو اس کی آنکھ حقیر قرار دیتی ہے۔ اس لئے کہ اس کو پراگندہ حالت میں دیکھا یا بدن میں عیب والا پایا یا گفتگو طرار نہ پایا۔ شاید کہ وہ ضمیر کے لحاظ سے مخلص ترین اور دل کے اعتبار سے پاکیزہ تر ہو جو کہ اس حالت کا عکس ہے جس میں اس کو دیکھا۔ پس جس کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی اس کو حقیر قرار دے کر یہ اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ قول ابن مسعود ؓ : مصیبت کا دارو مدار بات پر ہے۔ اگر تو کتے سے کہے کہ میں تم سے تمسخر کروں گا تو مجھے خطرہ ہوگا کہ بدل کر کتا نہ بنادیا جائوں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ) طعنہ زنی کی ممانعت : وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ (اور نہ طعنہ دو ایک دوسرے کو) اپنے اہل دین کو طعنہ زنی نہ کرو۔ اللمز : طعنہ مارنا اور زبان استعمال کرنا۔ قراءت : تُلَمَّزوا یعقوب ٗ سہل نے پڑھا ہے۔ مومن ایک جان کی طرح ہیں۔ جب ایک مومن نے دوسرے کا عیب نکالا تو گویا اپنا عیب نکالا۔ ایک قول یہ ہے : اس کا معنی اس طرح ہے۔ ایسا کام نہ کرو جس سے طعنہ زنی کی جائے۔ کیونکہ جس نے طعنہ زنی والا کام کیا گویا اس نے اپنے پر خود طعنہ زنی کی۔ وَلَا تَنَا بَزُوْا بِالْاَلْقَابِ (اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو) تنابز بالالقاب کا معنی القاب سے یاد کرنا۔ النبز : برا لقب اور التلقیب : وہ لقب ممنوع ہے جس سے ملقب بہٖ کو ناپسندیدگی ہو اور اس سے اس کی مذمت و قدح نکلتی ہو۔ جس لقب کو وہ پسند کرے اس میں کوئی حرج نہیں۔ روایت میں ہے کہ بنو تمیم کے کچھ لوگوں نے بلالو خباب ٗ عمار و صہیب ؓ کا مذاق اڑایا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ روایت عائشہ ؓ میں ہے کہ میں زینب بنت خزیمہ سے مذاق کیا کرتی تھی ان کا قد چھوٹا تھا۔ حضرت انس ؓ کی روایت میں ہے کہ ازواج مطہرات ؓ نے ام سلمہ کو چھوٹے قد کی عار دلائی۔ (ترمذی۔ 3894۔ احمد 3/135۔ نسائی 33 فی عشرۃ النساء) ایک روایت ہے کہ یہ ثابت بن قیس کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کو اونچا سنتا تھا۔ صحابہ کرام ان کے لئے مجلس رسول میں گنجائش کردیتے تاکہ بات کو سن سکیں۔ ایک دن وہ آئے اور زبان سے کہہ رہے تھے۔ کھل جائو کھل جائو۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جا پہنچے۔ اور ایک آدمی کو کہا۔ ذرا ہٹ جائو۔ اس نے ایسا نہ کیا تو ثابت کہنے لگے یہ کون ہے ؟ اس نے کہا میں فلاں ہوں۔ تو ثابت نے کہا تو تو فلانی عورت کا بیٹا ہے۔ اس سے مراد اس کی ماں تھی۔ جس کی وجہ سے جاہلیت میں اس کو عار دلاتے تھے۔ وہ آدمی شرمندہ ہوا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تو ثابت نے سن کر کہا میں آئندہ کبھی کسی پر نسب سے فخر نہ کرونگا۔ (ثعلبی بغیر سند) بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ (ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے) الاسم یہاں تذکرہ کے معنی میں ہے۔ عرب کا قول ہے۔ طار اسمہ فی الناس بالکرم یا باللؤم لوگوں میں اس کا نام سخاوت یا ملامت میں مشہور ہوا۔ اس کی حقیقت اس کا تذکرہ جو لوگوں میں بلند وبالا ہوا۔ گویا تقدیر کلام اس طرح ہے۔ بئس الذکر المرتفع للمؤمنین بسبب ارتکاب ہذہ الجرائر ان یذکروا بالفسق۔ ایمان والوں کے لئے ایسا تذکرہ بلند ہونا بہت ہی برا ہے جو ان جرائم کی وجہ سے ہو کہ ان کا تذکرہ فسق سے کیا جائے۔ بعد الایمانکہہ کر بتلایا کہ ایمان اور فسق کا جمع کرنا جو ایمان کیلئے خطرہ ہے بہت ہی برا ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ بئس الشان بعدالکبرۃ الصبوۃ۔ عشق اور بڑھاپے کو جمع کرنا بڑا خطرناک ہے۔ ایک قول یہ ہے : ان کے ہاں جو یہود میں سے مسلمان ہوتا تو اس کو اس طرح برا کہتے یا یہودی یا فاسق وغیرہ پس اس بات کی ممانعت کردی گئی۔ اور انہیں کہا گیا۔ کہ آدمی کے مسلمان ہونے کے بعد اس کا تذکرہ یہودیت و فسق کے الفاظ سے کرنا یہ بدترین تذکرہ ہے۔ بدگمانی سے گریز کا حکم : وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ (جو باز نہ آویں گے) اس سے جس سے اس کو روکا گیا ہے۔ فَاُولٰٓپکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ (وہ ظلم کرنے والے ہیں) منکے لفظ کا لحاظ اور معنی کا لحاظ کر کے واحدو جمع صیغے وارد ہوئے ہیں۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

آیت 12 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ (اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچا کرو) عرب کہتے ہیں جنبہ الشر : جبکہ وہ اس سے دور رہے۔ اور حقیقت میں اس کا معنی اس کو ایک جانب کردیا۔ پس اس کو دو مفعول کی طرف متعدی کیا جاوے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا۔ واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام [ ابراہیم : 35] اور اس کا مطاوع اجتنب الشر ہے پس ایک مفعول کم ہوگیا۔ آیت میں ہر گمان سے نہیں بلکہ بعض گمانوں سے اجتناب کا حکم دیا اور اس بعض کو پھر کثرت سے موصوف کیا۔ کیا تم نے اس ارشاد پر غور نہیں کیا جو آگے آتا ہے۔ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں) قولِ زجاج : جو گمان گناہ ہے وہ اہل خیر کے متعلق بدگمان ہونا ہے۔ باقی اہل فسق کے متعلق تو ہمارا گمان اسی طرح ہے جیسا ان کے ظاہر حال سے نمایاں ہیں۔ نمبر 2۔ آیت کا معنی اس طرح ہے۔ اجتنبوا اجتنابًا کثیرا۔ تم بچو بہت بچنا۔ نمبر 3۔ کثیر گمانوں سے احتراز کرو تاکہ بعض سے بچ جائو۔ الاثم : وہ گناہ جس کا مرتکب سزا کا حقدار ہو۔ اسی لئے ان کی سزائوں کو اثام کہا جاتا ہے۔ اس سے نَکَالٌ اور عَذَابٌ کی طرح فَعَالٌ کا وزن ہے۔ وَّلَا تَجَسَّسَُوْا (اور سراغ مت لگایا کرو) مسلمانوں کے عیوب اور مستور کا پیچھا مت کرو۔ عرب کہتے ہیں : تجسس الامر : جبکہ اس کو خوب تلاش کرے اور ڈھونڈلے۔ یہ تفعُّل کا وزن الجس مصدر سے ہے۔ قولِ مجاہد۔ : ظاہر کو اختیار کرو جو اللہ تعالیٰ نے مستور کیا اس کو چھوڑ دو ۔ قولِ سہل۔ : اپنے بندوں کے جو عیوب اللہ تعالیٰ نے چھپا دیئے تم ان کی تلاش کے پیچھے مت پڑو۔ وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا (اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے) الغیبۃ : غیر موجودگی میں عیب سے کسی کا تذکرہ کرنا۔ یہ الاغتیاب مصدر سے ہے جیسا الغیلۃ : اغتیال سے ہے۔ حدیث میں فرمایا تم اپنے بھائی کا ایسی صفت سے تذکرہ کرو جو وہ ناپسند کرتا ہو۔ اگر وہ اس میں پائی جاتی ہو تو غیبت ورنہ بہتان ہے۔ (احمد 2/384۔ مسلم 2589۔ ابودائود 2874۔ ترمذی۔ 1934) قول ابن عباس ؓ : الغیبۃ : ہمیشہ لوگوں کو کاٹنا (ادام کلاب الناس) اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا (کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے) قراءت : مدنی نے میّتا پڑھا ہے۔ اس آیت میں تمثیل کے انداز میں غیبت کرنے والے کی انتہائی بری تصویر کھینچی گئی ہے۔ بلاغی مبالغات : اس آیت میں کئی مبالغات ہیں۔ نمبر 1۔ استفہام تقریری نمبر 2۔ انتہائی ناپسند چیز کو محبت سے متصل کیا۔ نمبر 3۔ احدکم کی طرف فعل کا اسناد کیا گیا ہے اور اس سے یہ بتلایا کہ افراد میں سے کسی بھی فرد کیلئے یہ مناسب نہیں۔ نمبر 4۔ غیبت کی تمثیل میں صرف انسانی گوشت کھانے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ انسان کو بھائی قرار دیا۔ نمبر 5۔ بھائی کے گوشت پر اکتفاء کیا جاتا تو کافی تھا مگر یہاں اس کو مردہ قرار دے کر اس کا گوشت کھانے کا ذکر کیا۔ قولِ قتادہ (رح) : اگر کیڑے پڑا مردار تم پائو تو اس میں سے کھانا تم جیسے ناپسند کرتے ہو اسی طرح زندہ بھائی کے گوشت کو بھی ناپسند کرو۔ نحو : میتًا یہ لحم سے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یا اخیہ سے جب یہ بات پختہ طور پر ثابت کردی گئی کہ کوئی شخص بھی مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند نہیں کرتا تو اس کے بعد فرمایا فَکَرِہْتُمُوْہُ (اس کو تو تم ناگوار سمجھتے ہو) یعنی اس کے متعلق ناپسندیدگی جب تمہارے ہاں ثابت ہوچکی اور صحیح عقل کا فیصلہ اسی طرح ہے۔ تو استقامت دین کے ساتھ ساتھ یہ کراہت بھی پختہ طور پر تمہارے ہاں ثابت ہوجانی چاہیے۔ جو کہ اس کی مثل ہے یعنی جیسے غیبت۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوََّابٌ رَّحِیْمٌ (اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے) التواب : جو قبولیت توبہ میں انتہاء کو پہنچنے والا ہو۔ معنی یہ ہے جس چیز سے بچنے کا حکم دیا اس کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اور جو غلطی پائی جائے اس پر شرمندہ ہو۔ پس اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمائیں گے۔ اور متقی توبہ کرنے والوں کے ثواب کا تم پر انعام فرمائے گا۔ غیبت کا اثر : روایت میں ہے کہ سلمان فارسی ؓ دو صحابہ کی خدمت کرتے تھے ان کے لئے کھانا درست کرتے ایک دن وہ نیند کی وجہ سے یہ کام انجام نہ دے سکے۔ پھر ان دونوں نے سلمان کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سالن کے لئے بھیجا۔ اسامہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے کھانے کے نگران تھے۔ انہوں نے کہا میرے پاس تو کچھ نہیں۔ سلمان نے ان دونوں کو آ کر اطلاع دی۔ تو دونوں کہنے لگے۔ اگر ہم اس کو سخی کنوئیں کی طرف بھیجتے تو اس کا پانی بھی خشک ہوجاتا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دونوں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا۔ میں تمہارے مونہوں میں گوشت کی سرخی پاتا ہوں۔ ان دونوں نے کہا۔ ہم نے تو گوشت کھایا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا۔ تم دونوں نے اس کی غیبت کی ہے۔ جس نے کسی مسلمان کی غیبت کی اس نے گویا اس کا گوشت کھایا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ثعلبی بغیر سند) ایک قول : مخلوق کی غیبت وہ حق سے غیبت کی بناء پر ہوتی ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

آیت 13 : یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی (اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے) مذکر سے آدم اور انثیٰ سے حواء مراد ہیں۔ نمبر 2۔ ہر ایک تم میں سے ایک ماں باپ سے ہے۔ پس تم میں سے ہر ایک ایک دوسرے کی طرح ڈول ڈالتے ہیں پھر تفاخر و تفاضل فی النسب تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔ شعب و قبیلہ کا فرق : وَجَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ (اور تمہارے مختلف قومیں اور خاندان بنائے) الشعب : عرب جن طبقات پر منقسم ہیں ان میں سے طبقہ اولیٰ ۔ وہ کل یہ ہیں۔ نمبر 1۔ الشعب۔ نمبر 2۔ القبیلۃ۔ نمبر 3۔ العمارۃ۔ نمبر 4۔ البطن۔ نمبر 5۔ الفخذ۔ نمبر 6۔ الفصیلۃ۔ شعب میں کئی قبائل جمع ہوتے ہیں جبکہ قبیلہ کئی عمائر کو جمع کرنے والا ہے۔ اور العمارۃ بطون کو جامع ہے۔ اور بطن بہت سے افخاذ کو جمع کرتا ہے۔ اور الفخذ بہت سے فصائل کو سمیٹنے والا ہوتا ہے۔ مثلاً خزیمہ شعب اور کنانہ قبیلہ ہے اور قریش عمارہ ہے۔ اور قصی بطن ہے اور ہاشم فخذ ہے اور العباس فصیلہ ہے۔ ان کو شعوب اس لئے کہا گیا کیونکہ قبائل اس میں سے پھوٹ نکلے۔ لِتَعَارَفُوْا (تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرسکو) تمہیں قبائل و شعوب پر مرتب کیا تاکہ ایک دوسرے کا نسب جان سکو۔ پس وہ اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف نسبت نہ کرے۔ اس لئے نہیں بنائے کہ تم آباء و اجداد پر فخر کرنے لگو۔ اور نسبوں میں فضیلت گننے لگ جائو۔ پھر اس خصلت کو ذکر کیا جس کی وجہ سے انسان دوسروں سے فضیلت والا بنتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرف و مرتبہ پاتا ہے۔ پس فرمایا۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے) حدیث میں فرمایا گیا۔ جس کو یہ بات بھاتی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑا معزز بن جائے پس وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ (بیہقی ابویعلیٰ ۔ حاکم۔ طبرانی) قول ابن عباس ؓ : دنیا کی عزت مالداری اور آخرت کی عزت تقویٰ ہے۔ روایت میں آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن طواف کعبہ فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان فرمائی۔ پھر فرمایا۔ الحمد للّٰہ الذی الی آخر الخطبۃ۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لائق ہیں۔ جس نے تم سے جاہلیت کی نخوت کو دور کردیا اور اس کے تکبر کو ختم کردیا۔ اے لوگو ! لوگ دوہی قسم کے ہیں۔ نمبر 1۔ مومن متقی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا ہے۔ نمبر 2۔ فاجر بدبخت جو اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقام نہیں رکھتا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ (رواہ احمد 2 / 361۔ ابودائود۔ 5116۔ الترمذی۔ 3950) یزیدبن شجرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا گزر مدینہ کے بازار سے ہوا۔ پس آپ نے ایک سیاہ غلام دیکھا جو یہ کہہ رہا تھا۔ جو شخص مجھے خریدنا چاہے تو اس کی شرط ہے۔ کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے پانچ نمازیں پڑھوں گا۔ کسی نے اس کو خرید لیا۔ پھر وہ بیمار پڑگیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کی عیادت کیلئے تشریف لائے۔ پھر وہ بیمار ہو کر وفات پا گیا۔ آپ تشریف لائے اور اس کی تدفین میں شرکت فرمائی۔ صحابہ کرام نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی تو یہ آیت اتری۔ (ذکر الواحدی فی اسباب النزول۔ صفحہ 265) اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ (اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے) دلوں کے تقویٰ اور شرافت کو۔ خَبِیْرٌ (پورا خبردار ہے) نفوس کی ہمتیں اپنے دعوئوں میں کس قدر پورا اترنے والی ہیں۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ) یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

ایمان لانا کسی پر احسان نہیں : آیت 14 : قَالَتِ الْاَعْرَابُ (یہ گنوار کہتے ہیں) بعض بد و مراد ہیں۔ کیونکہ من الاعراب من یؤمن باللّٰہ والیوم الآخر اس کی تخصیص کرتا ہے۔ اس سے مراد بنو اسد کے بدو ہیں۔ جب وہ مدینہ آئے۔ اس وقت قحط کے حالات تھے۔ انہوں نے ایمان کا اظہار کیا۔ مقصد ان کا صدقہ تھا اور آپ پر اپنے ایمان کا احسان جتلا رہے تھے۔ ٰامَنَّا (ہم ظاہر و باطن سے ایمان لائے ہیں) ۔ قُلْ (ان سے کہہ دیں اے محمد ﷺ لَّمْ تُؤْمِنُوْا (تم ایمان تو نہیں لائے) تم نے دلوں سے تصدیق نہیں کی۔ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا (لیکن یوں کہو ہم مطیع ہوگئے) پس ایمان تصدیق قلبی ہے۔ اسلام : اسلام میں داخل ہونے اور مسلمانوں کی لڑائی سے بچنے کیلئے شہادتین کا اظہار ضروری ہے۔ اس ارشاد خداوندی کو دیکھو۔ وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ (اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا) ایمان کی تعریف : پس یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ فقط زبانی اقرار بلا موافقت قلب اسلام کہلائے گا اور جس میں دل زبان کے موافق ہوجائے وہ ایمان ہے اور یہ معنی لغت کے لحاظ سے ہے۔ شرعی معنی ایمان : ایمان و اسلام ایک چیز ہے۔ لمّا۔ یہ صرف توقع ہے۔ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ان میں سے بعض لوگ بعد میں ایمان لائے۔ آیت میں کر امیہ فرقہ کے عقیدہ کی تردید ہے۔ کہ ایمان دل سے ہوتا ہی نہیں بلکہ زبان سے ہی ہوتا ہے۔ سوال : نظم کلام کا تقاضا یہ ہے۔ کہ اس طرح کہا جائے قل لا تقولوا آمنا ولکن قولوا اسلمنا یا اس طرح عبارت ہو۔ قل لم تؤمنوا ولٰکن اسلمتم۔ جواب : قرآن مجید کے نظم سے اولین فائدہ یہ ہے کہ ان کے دعوی کی تکذیب کی گئی اور فرمایا قل لم تؤمنوا۔ حسن ادب کے تقاضے سے یہ نہیں فرمایا۔ کذبتم۔ کہ صراحت ہوجاتی۔ بلکہ لم تؤمنوا کو اس کی جگہ لایا گیا جو کہ ان کے اس دعویٰ کی نفی ہے جس کو وہ ثابت کرتے تھے۔ پس لم تؤمنوا نے اس بات سے مستغنی کردیا۔ کہ اس طرح کہا جاتا کہ لا تقولوا اٰمنا۔ کیونکہ یہ بات بری معلوم ہوتی ہے کہ ان کو ایسے لفظ سے مخاطب کیا جائے جس سے مقصود ایمان کا لفظ بولنے کی ممانعت نکلتی ہو۔ اور اس طرح بھی نہیں کہا ولکن اسلمتم تاکہ اس سے دعوی اور زعم پیدا ہو جیسا کہ ان کا قول آمنا تھا۔ اسی طرح اگر کہا جاتا۔ ولکن اسلمتم تو اسلام اور شمار ان کے قول سے ہوتا۔ حالانکہ وہ کسی شمار میں نہیں۔ باقی لما یدخل الایمان فی قلوبکم۔ یہ تکرار بھی نہیں کیونکہ لم تؤمنوا تو ان کے دعویٰ کی تکذیب کیلئے لائے ہیں اور لمایدخل الایمان فی قلوبکم۔ جس بات کے کہنے کا ان کو حکم تھا اس کی توقیت اس میں بیان کی گئی ہے۔ گویا ان کو اس طرح کہہ دیا گیا۔ ولکن قولوا اسلمنا۔ اس کے وقت کی توقیت جس کے کہنے کا ان کو حکم ہے۔ گویا ان کو کہا گیا۔ ولکن قولوا اسلمنا۔ جب کہ تمہارے دلوں کی موافقت تمہاری زبانوں کے ساتھ ثابت نہیں ہوسکی۔ کیونکہ یہ کلام قولوا کی ضمیر سے حال واقع ہو رہا ہے۔ وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٗ (اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہنا مان لو اور نفاق کو خیر باد کہہ دو ) لَا یَلِتْکُمْ (وہ کمی نہ کرے گا) قراءت : بصری نے یألتکم پڑھا ہے۔ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا (ذرا سی بھی تمہارے اعمال میں سے) وہ تمہاری نیکیوں کے ثواب میں ذرہ بھر کم نہ کرے گا۔ ألت یألت وألات یلیت ولات یلیت کا ایک معنی ہے۔ اور وہ کم کرنا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفَوْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) گناہوں کو ستاری سے۔ رَّحِیْمٌ (مہربان ہیں) عیوب سے توبہ کرنے کی طرف ہدایت کردی۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں

آیت 15 : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا (پورے مومن وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہیں کیا) ارتاب یہ رابہ کا مطاوع بن کر آتا ہے۔ جبکہ کسی کو تہمت کے ساتھ شک میں ڈالا جائے۔ مطلب یہ ہے وہ ایمان لائے۔ پھر ان کے دلوں میں ایمانیات کے متعلق شک پیدا نہیں ہوا۔ اور نہ جس بات کی انہوں نے تصدیق کی اس میں ان پر تہمت و الزام ہے۔ ایمان اور اس کی تروتازگی : ! اس لئے کہ یقین اور ریب کا زوال یہ ایمان کا نچوڑ ہیں۔ تو ایمان کو مقدم کرنے کے بعد پھر الگ اس کو ذکر کیا تاکہ ایمان میں اس کا مرتبہ معلوم ہوجائے۔ " ثم جو تراخی کیلئے ہے اس کے ساتھ ایمان پر اس کا عطف کیا۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے۔ کہ بعد والے طویل زمانوں میں اس کے ایمان میں اسی طرح کی تروتازگی برقرار ہے۔ وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (پھر اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں محنت اٹھائی) نمبر 1۔ یہ بھی درست ہے کہ مجاہد میں محارب دشمن یا شیطان یا خواہشات مراد ہوں۔ نمبر 2۔ جاہد کو جھد سے مبالغہ قرار دیا جائے اور مجاہدہ بالنفس اور مجاہدہ بالغزو مراد لیا جائے اور تمام عبادات اس میں شامل ہوں اور مجاہدہ بالمال مراد ہو جیسا عثمان غنی ؓ نے غزوہ عسرہ میں کیا۔ اور زکوٰۃ کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے اور اعمال بروخیر میں تمامی اس میں داخل ہوں۔ اور المؤمنون مبتدأ کی خبر اولئک ہم الصادقون ہے۔ اُولٰٓپکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ (یہ لوگ سچے ہیں) یعنی ان لوگوں نے اپنے قول آمنا میں سچ بولا اور جھوٹ نہیں بولا جیسا کہ بنو اسد کے گنواروں نے کیا۔ نمبر 2۔ وہ وہی لوگ ہیں جن کا ایمان سچا پکا ایمان ہے۔ اور الذین اٰمنوا یہ ان کی صفت ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے قسمیں اٹھائیں۔ کہ وہ مخلص ہیں پس یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ؟ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور خدا ہر شے کو جانتا ہے

آیت 16 : قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ (کہہ دیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو) کیا تم اس کو اطلاع دیتے ہو کہ تمہارے دل تصدیق کرنے والے ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (اللہ تعالیٰ کو تو سب آسمان اور سب زمین کی چیزوں کی خبر ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جانتا ہے) نفاق و اخلاص وغیرہ جو کچھ بھی تمہارے دلوں میں ہے۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو

ایمان اللہ کا احسان ہے نہ کہ لانے والے کا : آیت 17 : یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا (یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا احسان آپ پر رکھتے ہیں) اَن سے پہلے باء سببیہ محذوف ہے وہ اپنے اسلام کے سبب آپ پر احسان جتلاتے ہیں۔ المن : شکر کی تعریض کرتے ہوئے اور اس سے روکتے ہوئے احسانات کا تذکرہ کرنا۔ قُلْ لاَّ تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ (آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان مت رکھو ! بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان رکھتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے۔ اَنْ ہَدٰکُمْ (کہ اس نے تم کو ہدایت دی) ان سے پہلے باء محذوف ہے۔ اس سبب سے کہ اس نے تم کو ہدایت دی یا لام محذوف ہے اس لئے کہ اس نے تم کو ہدایت دی۔ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (ایمان کی بشرطیکہ تم سچے ہو) اگر تمہارا گمان درست ہے اور تمہارا دعویٰ سچا ہے۔ ورنہ تم صرف گمان کرتے اور محض دعویٰ رکھتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی مخالفت کو جاننے والے ہیں۔ اور جواب شرط محذوف ہے۔ کیونکہ ماقبل کی دلالت اس پر موجود ہے تقدیر کلام اس طرح ہوگی۔ ان کنتم صادقین فی ادعائکم الایمان فللّٰہ المنۃ علیکم۔ اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے۔ قراءت : اِنْ ہداکم بھی پڑھا گیا ہے۔
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک خدا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے

آیت 18 : اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی سب مخفی باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے) قراءت : مکی نے یعملون پڑھا ہے۔ اس میں وضاحت فرما دی کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز جو جہاں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے واقف ہیں اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے۔ جو تم اپنے سرو علانیہ میں کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ پس اس پر تمہارے ضمائر کی بات کیسے مخفی رہ سکتی ہے۔