48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے محمد) ﷺ ہم نے تم کو فتح دی فتح بھی صریح و صاف

فتح مبین کی خوشخبری : آیت 1 : اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا الفتح۔ کسی شہر پر زبردستی کامیابی نمبر 2۔ لڑائی کے ساتھ صلح۔ نمبر 3۔ صلح بغیر لڑائی کیونکہ وہ بند ہوتی ہے جب تک کامیابی نہ پائی جائے جب کامیابی پالی تو گویا اس نے اس کو کھول لیا۔ پھر ایک قول یہ ہے : کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ : یہ سورت اس وقت اتری جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے حدیبیہ والے سال مدینہ منورہ کی طرف لوٹ رہے تھے۔ آپ سے فتح کا وعدہ کیا گیا اور اس میں لفظ ماضی کا لایا گیا کیونکہ وہ اپنے یقینی وقوع میں ہوچکی ہوئی بات کی طرح تھی۔ اس سے خبر دینے والے کی عظمت و شان ٹپک رہی ہے۔ کہ زمانہ کی لگام کے قبضہ قدرت میں ٹھیک اسی طرح ہے جیسا ماضی کی زنجیر اس کے ہاتھ میں ہے۔ ایک قول : اس سے فتح حدیبیہ مراد ہے۔ اس میں شدید لڑائی تو پیش نہ آئی البتہ باہمی تھوڑا بہت تیروں اور پتھروں کا تبادلہ ضرور ہوا۔ مسلمانوں نے تیر اندازی سے کفار کو واپس گھروں کی طرف لوٹا دیا۔ کفار نے صلح کا مطالبہ پیش کیا۔ پس یہ کھلی فتح تھی۔ قولِ زجاج (رح) : حدیبیہ کے موقعہ پر ایک عظیم معجزہ ظاہر ہوا۔ حدیبیہ کے کنوئیں کا تمام پانی ختم ہوگیا۔ ایک قطرہ تک باقی نہ رہا۔ آپ ﷺ نے کلی کر کے اس کو کنوئیں میں ڈال دیا۔ پانی کے سوتے پھوٹ پڑے اور تمام لشکر سیراب ہوگیا۔ ایک قول : اس سے فتح خیبر مراد ہے۔ ایک اور قول ہے : کہ فتح کا لفظ الفتاحۃ سے لیا گیا جس کا معنی فیصلہ کرنا ہے۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوگا۔ ہم نے آپ کے لئے اہل مکہ کے خلاف واضح فیصلہ دیا۔ کہ تم اور تمہارے اصحاب مکہ میں آئندہ سال داخل ہو تاکہ تم بیت اللہ کا طواف کرو۔
Ayah 48:2

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے راستے چلائے

جہاد سبب ِمغفرت : آیت 2 : لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ فتح سبب مغفرت نہیں ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ انا فتحنالک فتحا مبینا فاستغفر لیغفرلک اللّٰہ۔ اور اس کی مثل یہ آیت ہے اذا جاء نصراللّٰہ والفتح الی قولہ واستغفرہ۔ ] النصر۔ 1 تا 3[ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو۔ اس حیثیت سے کہ یہ دشمن کے خلاف جہاد ہے تو یہ سبب مغفرت ہے۔ اتمام نعمت (ایک قول ): فتح سبب مغفرت نہیں بلکہ اتمام نعمت اور زبردست نصرت کی تکمیل کے لئے تھی۔ لیکن جب ان نعمتوں کو شمار کیا تو ان نعمتوں کے ساتھ ملایا جو کہ ان سے بھی عظیم ترین نعمتیں تھیں۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ہم نے فتح مکہ کو آپ کے لئے آسان کردیا۔ یا اسی طرح کی نعمتیں تاکہ آپ کے لئے دارین کی عزتیں جمع کردیں اور آجل وعاجل کے اغراض جمع کردیں۔ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْچبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ (تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرمادے) مراد وہ تمام جو آپ سے ہوچکیں۔ یا ما تقدم سے واقعہ ماریہ قبطیہ اور ما تأخر زید کی بیوی والاواقعہ مراد ہو۔ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ (اور آپ پر اپنے احسانات کی تکمیل کردے) آپ کے دین کو غلبہ دے کر اور آپ کے ہاتھوں شہروں کو فتح کرا کر۔ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا ( اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے) پسندیدہ دین پر آپ کو ثابت قدمی عنایت فرمائے۔
Ayah 48:3

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے

آیت 3 : وَّ یَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو) طاقتور ٗ محفوظ کہ کبھی بھی اس کے بعد عاجزی و جھکائو نہ ہو۔
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

صلح کے سبب سکون اتارا : آیت 4 : ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ (وہی اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو) السکینہ کا لفظ سکون مصدر سے اسی طرح ہے جیسا البہتان سے البہیتۃ ہے مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں صلح کے سبب سکون و اطمینان اتارا۔ تاکہ ان کا یقین مزید بڑھ جائے۔ ایک قول یہ ہے : السکینۃ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین و اعتماد اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم کا نام ہے۔ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (اور زمین کا سب لشکر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا اور حکمت والا ہے)
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے انکے گناہوں کو دور کر دے اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

آیت 5 : لِّیُدْ خِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَیُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًا (تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی جس میں وہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ اور تاکہ ان کے گناہوں کو دور کر دے اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے)
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

حکمت کے تقاضے : آیت 6 : وَّیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ (اور تاکہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہیں آسمان و زمین کے تمام لشکر۔ ان کو ایک دوسرے پر اپنے علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق جب چاہتے ہیں مسلط کردیتے ہیں اور اس کے تقاضہائے حکمت میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر ایمان والوں کے دلوں میں سکون پیدا کیا اور ان سے فتوح کا وعدہ فرمایا اور یہ وعدہ صرف اس لئے فرمایا تاکہ مومن اللہ تعالیٰ کے انعام کو معلوم کر کے شکر گذار ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کو اس پر ثواب سے نوازیں اور کفار و منافقین کو اس سے ناراض ہونے اور ناپسند کرنے کی بنا پر سزا دے۔ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْئِ (جو کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق برے برے گمان رکھتے ہیں) السوء کسی چیز کا ردی پن اور بگاڑ۔ عرب کہتے ہیں۔ فعلُ سوئٍ ۔ بگڑا ہوا قابل نفرت فعل۔ یہاں مراد ان کا یہ گمان کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور مؤمنوں کی مدد نہ فرمائے گا اور نہ ہی ان کو کامیاب و کامران بنا کر مکہ لوٹائے گا۔ کہ وہ مکہ زبردستی اور غلبہ سے فتح کرنے والے ہونگے۔ عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ (ان پر برا وقت پڑنے والا ہے) قراءت : مکی اور ابو عمرو کے ہاں السُوْئِ ہے یعنی جو وہ ایمان والوں کے متعلق گمان کرنے والے اور انتظار کرنے والے ہیں۔ وہ انہی کو گھیرنے والا اور ان پر گھومنے والا ہے۔ السُوْئُ کا معنی ہلاکت و تباہی ہے۔ دیگر قراء نے السَوئِ فتحہ سے پڑھا یعنی وہ دائرہ جس کی وہ مذمت کرتے ہیں اور اس پر ناراض ہیں۔ السَوء السُوء دونوں لفظ الکرہ الکُرہ اور الضعفُ والضُعفُ کی طرح ہیں۔ البتہ مفتوح کا استعمال غالب ہے اس کی طرف اس چیز کی اضافت کر کے استعمال کرتے ہیں۔ جس کی مذمت ہر چیز میں مقصود ہو۔ اور باقی السوء یہ شر کے قائم مقام استعمال ہوتا ہے۔ جو کہ خیر کی ضد ہے۔ وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَلَعَنَہُمْ وَاَعَدَّلَہُمْ جَہَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوگا اور ان کو رحمت سے دور کر دے گا اور ان کے لئے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے) برے ٹھکانے سے جہنم مراد ہے۔
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

آیت 7 : وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور آسمان و زمین کا سب لشکر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے) پس وہ ان لوگوں کے مکر و فریب کو دور کرے گا جو اس کے پیغمبر ﷺ اور ایمان والوں سے مکر و فریب کر رہے ہیں۔ جس قدر وہ چاہے گا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ زبردست) غالب ہیں ان کی پکڑ کو لوٹایا نہیں جاسکتا۔ حَکِیْمًا (حکمت والا ہے) اپنی تدابیر و انتظامات میں۔
Ayah 48:8

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اور ہم نے (اے محمد) ﷺ تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے

آیت 8 : اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا (ہم نے آپ کو گواہی دینے والا) قیامت کے دن اپنی امت پر گواہی دیں گے۔ : شاہدًا یہ حال مقدرہ ہے۔ وَّمُبَشِّرًا (اور بشارت دینے والا) ایمان والوں کو جنت کی۔ وَّنَذِیْرًا (اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے) آگ سے کافروں کو ڈرانے والا۔
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (مسلمانو ! ) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

آیت 9 : لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (تاکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو) اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو خطاب ہے۔ وَتُعَزِّرُوْہُ (اور اس کی مدد کرو) نصرت سے ان کو قوت پہنچائو۔ وَتُوَقِّرُوْہُ (اور اس کی تعظیم کرو) وَتُسَبِّحُوْہُ (اور اس کی تسبیح میں لگے رہو) : یہ التسبیح سے ماخوذ ہے۔ یا السبحۃ سے ہے۔ اور ضمائر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ اور اللہ کی تعزیر سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کی معاونت ہے۔ ضمیر کا مرجع : جن لوگوں نے ضمائر کو مختلف قرار دیا انہوں نے پہلی دو ضمیریں نبی اکرم ﷺ کی طرف لوٹائیں ہیں انہوں نے بہت بعید بات کہی ہے۔ قراءت : مکی ٗ ابوعمرونے لیؤمنوا پڑھا ہے۔ اور ضمیر لوگوں کی طرف لوٹائی اور آخری تینوں الفاظ بھی انہوں نے یاء کے ساتھ پڑھے ہیں۔ بُکْرَۃً (صبح سویرے) مراد صلاۃ الفجر ہے۔ وَاَصیْلاَ (شام) چاروں نمازیں مراد ہیں۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

بیعت ِرضوان کا تذکرہ : آیت 10 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ (جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں) بیعت سے یہاں بیعت رضوان مراد ہے۔ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ (وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں) جب فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے ہیں۔ تو بطریقہ تخییل اس کو اور مؤکد کرتے ہوئے فرمایا۔ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ (اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے) مراد یہ ہے کہ وہ دست ِرسول اللہ ﷺ جو کہ بیعت کیلئے بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر بلند ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہاتھ ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کی ذات جوارح اور صفاتِ اجسام سے پاک ہیں۔ معنی یہ ہے۔ اس بات کو خوب پختہ کرنا مقصود ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دست اقدس پر بیعت وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عقد و معاہدہ باندھنے کی طرح ہے۔ ان کے مابین کوئی تفاوت وفرق نہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ۔ ] النساء۔ 80[ نحو : انما یبایعون اللّٰہ۔ یہ اِنّ کی خبر ہے۔ فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ (پھر جو شخص عہد توڑے گا۔ پس اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا) جس نے عہد توڑا اور بیعت کو پورا نہ کیا۔ تو اس کے توڑنے کا نقصان و ضرر اسی پر پڑے گا۔ قولِ جابر بن عبداللہ ؓ : ہم نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کی بیعت موت پر کی اور اس بات پر کہ ہم میدان سے نہ بھاگیں گے۔ اس بیعت کو جد بن قیس منافق نے توڑ دیا۔ وہ اپنے اونٹ کی بغل میں چھپ گیا اور صحابہ کے ساتھ نہ چلا۔ اس کا بعض حصہ مسلم 1856 الترمذی۔ 1591 میں پایا جاتا ہے۔ وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ (اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس پر اس نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا) عرب کہتے ہیں وفیت بالعہد واوفیت بہٖ پورا کرنا اور اس ارشاد کا بھی یہی مطلب ہے۔ اوفُوا بالعقود۔ [ المائدہ : 1] والموفون بعہدہم۔ [ البقرہ : 177] قراءت : حفص نے اسی طرح پڑھا ہے۔ فَسَیُؤْتِیْہِ (تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو دے گا) قراءت : حجازی و شامی نے نون سے پڑھا ہے۔ اَجْرًا عَظِیْمًا (بڑا اَجر) وہ جنت ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

پیچھے رہنے والے دیہاتی قبائل کا معاملہ : آیت 11 : سَیَقُوْلُ لَکَ (عنقریب آپ سے کہیں گے) جب آپ حدیبیہ سے لوٹ کر جائیں گے۔ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ (جو دیہاتی آپ سے پیچھے رہ گئے) حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے دیہاتی ان قبائل سے تھے۔ غفار ٗ مزینہ ٗ جہینہ ٗ اسلم ٗ اشجع ٗ الدیل۔ وغیرہ اور اس کا سبب یہ ہوا۔ کہ جب آپ ﷺ نے عام الحدیبیہ عمرہ کی غرض سے مکہ جانے کا عزم فرمایا۔ تو آپ نے مدینہ کے اردگرد دیہاتی اور اہل بادیہ سے ساتھ چلنے کو کہا تاکہ قریش کی طرف سے اگر لڑائی پیش آئے یا وہ آپ کو بیت اللہ سے رکاوٹ پیدا کریں تو یہ معاونت کریں۔ آپ ﷺ نے احرام باندھ لیا اور ہدایا اپنے سامنے چلائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ آپ کی غرض لڑائی کی نہیں۔ مگر اس وقت بہت سے اعراب نے بوجھ محسوس کیا۔ اور کہنے لگے۔ آپ ایسی قوم کی طرف جا رہے ہیں جنہوں نے آپ سے مدینہ کی دہلیز پر جنگ کی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا۔ پس یہ ان سے لڑیں گے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ ہلاک ہوجائیں گے واپس بچ کر مدینہ نہ لوٹیں گے۔ شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَہْلُوْنَا (ہمارے اموال و عیال نے ہمیں فرصت نہ لینے دی) اہلون یہ جمع اہل کی ہے۔ انہوں نے اہل و عیال اور اموال میں مشغولیت کو علت کے طور پر ذکر کیا۔ کہ ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ فَاسْتَغْفِرْلَنَا (پس آپ ہمارے لئے معافی کی دعا کیجئے) تاکہ ہمیں اللہ تعالیٰ آپ سے پیچھے رہنا معاف فرما دے۔ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ (یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں۔ جو ان کے دل میں نہیں ہیں) اس میں ان کے عذر کی تکذیب کی گئی۔ اور پیچھے رہنے کا اصل یہ سبب نہیں جو وہ بیان کر رہے ہیں۔ بلکہ اصل سبب تو اللہ تعالیٰ کے متعلق شک اور منافقت ہے۔ اور استغفار کا طلب کرنا بھی حقیقت سے تعلق نہیں رکھتا۔ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا (آپ کہہ دیجئے۔ پس وہ کون ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو) اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قضاء سے تمہیں کون بچائے گا۔ اِنْ اَرَادَ بِکُمْ ضَرًّا (اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان) جو نقصان تمہیں قتل یا شکست کا پیش آئے۔ قراءت : حمزہ ٗ علی نے ضُرّا پڑھا ہے۔ اَوْ اَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا (یا کوئی نفع پہنچانا چاہے) نفع سے مراد غنیمت و کامیابی ہے۔ بَلْ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال پر مطلع ہیں)
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے

ان کے گمان کا پردہ چاک : آیت 12 : بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓی اَہْلِیْہِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِکَ فِیْ قُلُوْبِکُمْ (بلکہ تم نے یہ سمجھا کہ رسول اور مؤمنین اپنے گھروں میں کبھی لوٹ کر نہ آویں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوئی تھی) یعنی شیطان نے دلوں میں مزین کیا۔ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئِ (اور تم نے برے برے گمان کیے) کہ کفر غالب آجائے گا اور فساد ظاہر ہوگا۔ وَکُنْتُمْ قَومًام بُوْرًا (اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے) بور جمع بائر کی ہے۔ جیسا عائذو عوذ۔ یہ بار الشیٔ سے لیا گیا جس کا معنی ہلاک ہونا اور بگڑنا آتا ہے۔ اور تم لوگ خراب دل ٗ بگڑے نفس اور بری نیتوں والے ہو۔ کوئی بھلائی وخیر کا نشان بھی تم میں نہیں۔ نمبر 2۔ تم اللہ تعالیٰ کے ہاں ہلاک ہونے والے اور اس کے عذاب اور ناراضگی کا شکار ہونے والے ہو۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے

ایمان باللہ اور ایمان بالرسل نہ ہو تو کافر : آیت 13 : وَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَاِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا ( اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا پس ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے) یہاں کافرین فرما دیا۔ ضمیر کے بجائے اسم ظاہر لایا گیا۔ تاکہ یہ کھول دیا جائے کہ جس کا ان دو چیزوں پر ایمان نہیں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول وہ کافر ہے۔ سَعِیْرًا کو نکرہ لائے کیونکہ وہ مخصوص آگ ہے جیسا کہ اس آیت میں نکرہ ہے۔ نارًا تلظّٰی۔ ] اللیل۔ 14[
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 14 : وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور تمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے) ان کو ایک قادر حکیم کی طرح چلا رہے ہیں۔ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے بخش دے) وہ عذاب و مغفرت اپنی مشیئت و حکمت سے کرتے ہیں۔ مغفرت ایمان والوں کی اور عذاب کفار کو۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے) اس کی رحمت اس کے غضب سے سبقت کرنے والی ہے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے تو فرما دیا ہے پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

اہل حدیبیہ کے ساتھ غنائم کا عوض رہنے کا وعدہ : آیت 15 : سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ (عنقریب پیچھے رہنے والے کہیں گے) وہ لوگ جو حدیبیہ میں ساتھ نہ گئے تھے۔ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ (جب تم غنیمتیں لینے چلو گے) مغانم سے غنائم خیبر مراد ہیں۔ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ (ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں وہ لوگ یوں چاہتے ہیں۔ کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں) قراءت : حمزہ ٗ علی نے کَلِمَ اللّٰہ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو تبدیل کردیں جو اس نے اہل حدیبیہ کے ساتھ فرمایا۔ اور وہ وعدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو مکہ کے غنائم کا عوض عنایت فرمائیں گے اور وہ خیبر کے غنائم ہونگے۔ جب وہ ان کو چھوڑ کر لوٹیں گے اور ان میں سے کوئی چیز نہ پائیں گے۔ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا (آپ کہہ دیجئے تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے) یعنی خیبر کی جانب۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع دی گئی وہ تمہارے ساتھ نہ ہونگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بات بدلی نہیں جاسکتی۔ کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ (اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اسی طرح فرما دیا ہے) مدینہ کی طرف اہل حدیبیہ کی واپسی اور خیبر کی غنیمت کے وہ مستحق ہونگے جو حدیبیہ میں شریک ہوئے نہ اور کوئی۔ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا۔ (تو وہ لوگ کہیں گے تم ہم سے حسد کرتے ہو) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ تم ہم پر حسد کرتے ہو۔ کہ کہیں ہم مال غنیمت میں تمہارے ساتھ شریک نہ ہوجائیں۔ بَلْ کَانُوْا لاَیَفْقَہُوْنَ (بلکہ خود یہ لوگ بہت کم بات سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کلام میں سے نہیں سمجھتے) اِلاَّ قَلِیْلًا (مگر بہت معمولی) یعنی فقط بات کی حد تک۔ دو بل : اول بل اس بات کی تردید کے لئے لائے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ نہ جائیں اور ان کے حسد کو ثابت کیا گیا ہے۔ دوسرے بل میں ان کے اس بیان کی تردید جو وہ مسلمانوں کو حسد کی طرف منسوب کرتے تھے اور ان کا اس سے بڑا وصف جہالت اور قلت ِفہم بیان کیا گیا۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلا دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

بنو حنیفہ یا اہل فارس : آیت 16 : قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ (آپ ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے) جو حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے۔ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ (عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں کی طرف بلائے جائو گے جو سخت لڑنے والے ہونگے) یعنی بنو حنیفہ جو مسیلمہ کی قوم تھی اور مرتدین جن سے ابوبکر ؓ نے جہاد کیا۔ کیونکہ مشرکین عرب اور مرتدین سے دو میں سے ایک بات ہی قبول کی جاتی تھی اسلام یا تلوار۔ ایک قول یہ بھی ہے : یہ اہل فارس ہیں۔ فاروق اعظم ؓ نے ان قبائل کو ان سے لڑنے کے لئے بلایا۔ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ (یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع ہوجائیں) یعنی دو میں سے ایک بات ہو۔ نمبر 1۔ مقاتلہ۔ نمبر 2۔ اسلام۔ یسلمون۔ کا معنی اس تاویل کے مطابق مطیع ہونا ہوگا۔ کیونکہ اہل فارس مجوس تھے ان سے جزیہ بھی قبول کیا گیا۔ درست استنباط : اس آیت میں شیخین کی خلافت کی حقانیت پر دلالت واضحہ ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بلانے والے کی اطاعت اختیار کرنے پر فان تطیعوا سے بدلے کا وعدہ فرمایا ہے۔ فَاِنْ تُطِیْعُوْا (اگر تم اطاعت کرو گے) اس کی جو تمہیں اس قتال کی طرف بلائے گا۔ یُؤْتِکُمُ اللّٰہُ اَجْرًا حَسَنًا (تو تم کو اللہ تعالیٰ نیک عوض عنایت فرمائے گا) پس اس سے لازم آیا کہ وہ داعی ایسا ہوگا جس کی اطاعت فرض ہے۔ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ (اور اگر تم اس وقت بھی روگردانی کرو گے جیسا اس سے قبل روگردانی کرچکے ہو) حدیبیہ کے موقعہ پر یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (تو وہ درد ناک عذاب کی سزا دے گا) آخرت میں۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

آیت 17 : لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ (نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے) اس میں غزوہ سے پیچھے رہنے والے معذورین حقیقیہ کو مستثنیٰ فرمایا گیا۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٗ ( اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا) جہاد وغیرہ دیگر امور میں۔ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَنْ یَّتَوَلَّ (اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور جو شخص روگردانی کرے گا) طاعت سے منہ موڑے گا۔ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًا (اس کو درد ناک عذاب کی سزا دے گا) قراءت : مدنی اور شامی نے ندخلہٗ اور نعذبہ پڑھا ہے۔
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

آیت بیعت ِرضوان : آیت 18 : لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ (تحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا۔ جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے) اسی آیت کی وجہ سے اس بیعت کا نام بیعت رضوان رکھا گیا۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ کہ نبی اکرم ﷺ جب حدیبیہ میں نزول فرما ہوئے تو آپ نے حواس بن امیہ الخزاعی کو اہل مکہ کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اس پر حملہ کا ارادہ کیا۔ تو احابیش اس میں رکاوٹ بن گئے۔ جب وہ واپس لوٹے تو رسول اکرم ﷺ نے عمر ؓ کو بلایا تاکہ ان کو قاصد بنا کر بھیجیں۔ آپ نے عرض کیا مجھے ان کی طرف سے خطرہ ہے کیونکہ ان کے ساتھ میری دشمنی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پھر آپ نے عثمان بن عفان ؓ کو بھیجا۔ انہوں نے ان کو اطلاع دی آپ لڑائی کی غرض سے نہیں آئے۔ بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئے ہیں۔ انہوں نے آپ پر دبائو ڈالا اور اپنے ہاں بند کرلیا۔ افواہ گرم ہوگئی کہ ان کو قتل کردیا گیا ہے۔ آپ ﷺ تک اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا۔ ہم اس وقت تک یہاں سے نہ ٹلیں گے جب تک ان لوگوں سے بدلہ نہ لے لیں۔ اور آپ نے لوگوں کو بیعت کی طرف بلایا کہ وہ قریش سے بدلہ لیں گے اور فرار اختیار نہ کریں گے۔ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ (درخت کے نیچے) یہ کیکر کا درخت تھا اور بیعت کرنے والوں کی تعداد چودہ سو تھی۔ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوْبِہِمْ (ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا) اخلاص اور جس پر بیعت کی تھی اس کو دل کی گہرائیوں سے کرنے والے ہیں۔ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ (پس اللہ تعالیٰ نے ان میں اطمینان پیدا کردیا) دلوں کی درستی کی وجہ سے دلوں میں امن و اطمینان پیدا کردیا۔ وَاَثَابَہُمْ (اور ان کو دے دی) بدلہ دیا۔ فَتْحًا قَرِیْبًا (قریبی فتح) وہ فتح خیبر ہے جو مکہ سے واپسی کے فوراً بعد عنایت فرمائی۔
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

آیت 19 : وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَہَا (اور اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے) یہ غنائم خیبر ہیں۔ سرزمین خیبر کھیتیوں اور اموال والی زمین ہے۔ اس کو آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں تقسیم فرما دیا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست) وہ حفاظتوں والا ہے کہ اس پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔ حَکِیْمًا (بڑا حکمت والا ہے) جس میں وہ فیصلہ کرتا ہے اس کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

آیت 20 : وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیْرَۃً تَاْخُذُوْنَہَا (اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لوگے) وہ غنائم انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھی پائیں اور آپ کے بعد قیامت تک پائیں گے۔ فَعَجَّلَ لَکُمْ ہٰذِہٖ (پس سردست تم کو یہ دے دی ہیں) المغانم جمع مغنم اس سے خیبر کے غنائم مراد ہیں۔ وَکَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ (اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے) یعنی اہل خیبر اور ان کے حلفاء بنوا سد و بنو غطفان وغیرہ جبکہ وہ ان کی مدد کے لئے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس سے وہ واپس لوٹ گئے۔ ایک قول یہ ہے : اہل مکہ کے ہاتھ صلح کی وجہ سے روک دیئے۔ وَلِتَکُوْنَ (تاکہ یہ روکنا ہوجائے) ٰایَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (ایمان والوں کے لئے ایک نمونہ) اور عبرت ناک نشان جس سے وہ پہچان لیں کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک مقام ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہی خود ان کی نصرت کا ضامن اور ان پر فتح دینے والا ہے اور اسی نے یہ کیا ہے۔ وَیَہْدِیْکُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (اور تاکہ تم کو ایک سیدھی سڑک پر ڈال دے) تمہاری بصیرت و یقین میں اضافہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل پر اعتماد کو اور زیادہ کر دے۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

دیگر غنائم : آیت 21 : وَّاُخْرٰی (اور ایک اور فتح) اس کا عطف ہذہ پر ہے ای فجعل لکم ہذہ المغانم ومغانم اخرٰی وہی مغانم ہوازن فی غزوۃ حنین۔ پس اس نے یہ غنائم تمہیں جلد دے دیں اور دوسری غنائم جو ہوازن کی غنائم ہیں جو غزوئہ حنین میں میسر آئیں۔ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا (جو تمہارے قابو میں نہیں آئی) کیونکہ اس میں بڑا حملہ تھا۔ قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا (اللہ تعالیٰ اس کو احاطہ میں لیے ہوئے ہیں) یعنی اس پر قدرت رکھنے اور غلبہ پانے والے ہیں اور تمہیں ان پر غلبہ دینے والے ہیں۔ فائدہ : نمبر 1۔ اخری میں نصب بھی جائز ہے۔ اور فعل مضمر ماننا ہوگا جس کی تفسیر قد احاط اللّٰہ بہا کر رہا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ و قضی اللّٰہ اخرٰی قد احاط اللّٰہ بہا (اور اللہ نے دوسری کا فیصلہ کیا جس کا اللہ تعالیٰ احاطہ کرنے والے ہیں۔ لم تقدروا علیہا یہ اخری کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ اور رفع ابتداء کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ اس کی صفت لم تقدروا سے آرہی ہے اور قد احاط اللّٰہ بہا یہ مبتدأ کی خبر ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں) قدیر بمعنی قادر ہے۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

آیت 22 : وَلَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور اگر کافر تم سے لڑتے) اہل مکہ اور وہ صلح پر آمادہ نہ ہوتے یا اہل خیبر کے حلیف قبائل۔ لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ (تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے) مغلوب ہوتے اور شکست کھا جاتے۔ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا (پھر نہ ان کو کوئی یار ملتا) جو ان کے معاملے کا ذمہ دار بنتا۔ وَّلَا نَصِیْرًا (اور نہ مددگار) جو ان کی مدد کرتا۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

آیت 23 : سُنَّۃَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے یہی دستور کر رکھا ہے) نحو : یہ مصدر مؤکد کی جگہ ہے۔ ای سن اللّٰہ غلبۃ انبیاء ہٖ سنۃ اور وہ اس آیت میں مذکور ہے لا غلبن انا ورسلی۔ ] المجادلہ۔ 21[ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا (جو پہلے سے چلا آتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے دستور میں آپ ردو بدل نہ پائیں گے) تبدیل تغیر کے معنی میں ہے۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

قریش مکہ کی شرارت : آیت 24 : وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ (اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے) اہل مکہ کے ہاتھ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ (اور تمہارے ہاتھ ان سے) اہل مکہ سے یعنی اس نے تمہارے اور ان کے مابین روک پیدا کردی اس کے بعد کہ تمہیں ان پر کامیابی اور غلبہ عنایت فرمایا اور یہی فتح کا دن ہے۔ استدلالِ امام ابوحنیفہ (رح) : کہ مکہ قوت سے فتح ہوا نہ کہ صلح سے۔ ایک قول : یہ غزوئہ حدیبیہ میں پیش آیا اس لئے کہ روایت میں ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل پانچ سو سواروں کے ساتھ نکلا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھیجا جنہوں نے اس کو شکست دے کر مکہ کے اندر گھسنے پر مجبور کردیا۔ (اخرجہ الطبرانی) قول ابن عباس ؓ : اللہ نے مسلمانوں کو ان پر غلبہ دیا یہاں تک کہ ان کو مسلمانوں نے پتھر مار مار کر گھروں میں داخل کردیا۔ بِبَطْنِ مَکَّۃَ (عین مکہ میں) مکہ مکرمہ میں یا حدیبیہ میں کیونکہ اس کا بعض حصہ حرم کی طرف منسوب ہے۔ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ (اس کے بعد کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا) تمہیں ان پر تسلط وقدرت دے دی۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا تھا) قراءت : ابوعمرو نے یاء سے یعملون پڑھا ہے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا (تو ابھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

آیت 25 : ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ (یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور کو) الہدی وہ جانور جو بطور ہدی کعبہ کی طرف بھیجا جائے۔ نحو : اس پر نصب اس لئے ہے کہ صدوکم کے کم پر اس کا عطف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ صدوکم و صدوا الہدی۔ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ (جو رکا ہوا رہ گیا کہ وہ پہنچے) معکوفًا کا معنی رکا ہوا پہنچنے سے۔ : یہ معکوفًا حال ہے۔ آپ ﷺ نے ستر اونٹ چلائے تھے۔ مَحِلَّہٗٗ (اپنے موقع پر) اپنی اس جگہ جہاں اس کا نحر کرنا حلال ہے یعنی واجب ہے۔ نحو : یہ دلیل ہے کہ محصر کے دم احصار کا محل حرم ہے۔ اور مراد محل مقررہ منیٰ ہے۔ قتال کے روکنے میں حکمت : وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مَّؤْمِنٰتٌ (اور اگر بہت سے مسلمان مرد اور بہت سی مسلمان عورتیں نہ ہوتیں) مکہ میں لَّمْ تَعْلَمُوْہُمْ (جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی) یہ مردوں اور عورتوں تمام کی صفت ہے۔ اَنْ تَطَئُوْہُمْ (ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا) نحو : یہ رجال و نساء سے بدل الاشتمال ہے۔ یا تعلموہم کی ضمیر ہم سے بدل ہے۔ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْہُمْ مَّعَرَّۃٌم بِغَیْرِ عِلْمٍ (پس تمہیں بھی بیخبر ی میں ضرر پہنچتا) گناہ اور سختی۔ مَعرَّۃ یہ مَفْعَلَۃ کا وزن ہے۔ یہ عَرَّہٗ سے ہے بمعنی عَرَاہ جب کسی کو وہ چیز پیش آجائے جو وہ ناپسند کرتا ہو۔ اور وہ اس پر گراں ہو۔ یہاں کفارہ مراد ہے جبکہ اس نے خطاء ً قتل کیا ہو اور مشرکین کا برا قول : انہوں نے بلا امتیاز اپنے اہل دین سے بھی وہی کیا جو ہمارے ساتھ کیا تھا اور گناہ جبکہ وہ قصر کر دے۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ یہ ان تطئُوہم سے متعلق ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ ان تطئُووہم غیر عالمین بہم۔ ان کو روند ڈالو اس حال میں کہ تمہیں ان کا علم نہ ہو۔ الوطأ۔ جا پڑنا اور ہلاک کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ مکہ میں کچھ مسلمان ایسے تھے جو مشرکین کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے۔ مجبوراً ایمان کو چھپانے والے تھے۔ ایک قول یہ ہے۔ اگر یہ کراہت نہ ہوتی کہ تم کچھ مومن لوگوں کو ہلاک کر ڈالتے مشرکین کے درمیان اس حال میں کہ تم ان کو نہ جاننے والے تھے پس ان کی ہلاکت سے تمہیں تکلیف و مشقت پہنچتی۔ اسی لئے اس نے تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتَہٖ مَنْ یَّشَآئُ (تاکہ اللہ تعالیٰ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے) یہ اس کے لئے علت ہے جس پر آیت دلالت کر رہی ہے اور جس کیلئے آیت لائی گئی ہے۔ یعنی اہل مکہ سے ہاتھوں کا روکنا اور ان کے ساتھ قتال سے روکنا اس وجہ سے تھا کہ مکہ میں ان کے درمیان خفیہ ایمان والے تھے گویا یہ اس طرح فرمایا۔ کان الکف ومنع التعذیب لیدخل اللّٰہ فی رحمتہ ای فی توفیقہ بزیادۃ الخیر والطاعۃ مؤمنیہم یا لیدخل فی الاسلام من رغب فیہ من مشرکیہم۔ یہ روکنا اور سزا سے منع کرنا اس لئے تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت یعنی توفیق میں اضافہ خیر وطاعت کے لئے ان کے مؤمنین کو داخل فرمائے یا اللہ تعالیٰ مشرکین میں سے اسلام کی طرف رغبت کرنے والوں کو داخل فرمائے۔ لَوْ تَزَیَّلُوْا (اور اگر یہ ٹل گئے ہوتے) اگر وہ متفرق ہوجاتے اور کافر مسلمان سے ممتاز ہوچکے ہوتے۔ لولا کا جواب محذوف ہے۔ لوکا جواب اس سے بےنیاز کرنے والا ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ لو تزیلوا یہ لولا رجال مؤمنون کے لئے تکریر کی طرح ہو۔ کیونکہ دونوں کا معنی آجا کر ایک بنتا ہے اور لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یہ جواب لولا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : ولولا ان تطؤوا رجالًا مؤمنین و نساء مؤمنات ولو کانوا متمیزین لعذبناہم بالسیف۔ اگر تمہارا مومن مردوں اور عورتوں کو روندنا اور اگر وہ کفار سے الگ ہوجاتے تو ہم مشرکین کو تلوار سے سزا دیتے۔ مِنْہُمْ (اہل مکہ سے) عَذَابًا اَلِیْمًا (درد ناک عذاب)
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور انکو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

آیت 26 : اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں) اس کا عامل لعذبنا ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے۔ لعذبناہم فی ذلک الوقت یا اذکر عامل ہے۔ کفروا سے قریش مکہ مراد ہیں۔ مسلمانوں کے لوٹ جانے پر کفار کا اصرار : فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُولِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مؤمنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا فرمایا) کافروں کی حمیت سے مراد جاہلی غیرت۔ سکینۃ المؤمنین سے وقار مراد ہے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حدیبیہ میں اترے تو قریش نے سہیل بن عمرو کو بھیجا۔ اور اس کے ساتھ وفد میں حو یطب بن عبدالعزی ٗ مکر زبن حفص شامل تھے انہوں نے یہ پیش کیا کہ آپ اس سال لوٹ جائیں اور آئندہ سال لوٹ کر آئیں۔ قریش مکہ کو تین دن کے لئے خالی کردیں گے۔ آپ ﷺ نے یہ بات منظور فرمائی اور انہوں نے اپنے درمیان ایک معاہدہ تحریر کیا۔ آپ ﷺ نے علی ؓ کو فرمایا تم لکھو۔ بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ وفد قریش۔ نے کہا ہم اس کو نہیں جانتے۔ بلکہ تم لکھو باسمک اللہم۔ پھر فرمایا لکھو۔ ہذا ما صالح علیہ رسول اللّٰہ اہل مکۃ۔ وفد قریش نے کہا۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانتے تو بیت اللہ سے آپ کو نہ روکتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو یہ چاہتے ہیں لکھو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں محمد بن عبداللہ ہوں۔ مسلمانوں نے اس سے گھٹن محسوس کی اور اسکے مسترد کرنے کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر سکینہ نازل فرمائی پس وہ وقار و حوصلے میں آگئے۔ (بخاری۔ 2732 ٗ بیہقی 4/105) وَاَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی (اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا) قولِ جمہور : یہ ہے کہ یہ کلمہ شہادت ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ فائدئہ اضافت : تقویٰ کی طرف اضافت اس لئے ہے کہ یہ تقویٰ کا سبب ہے اور اس کی اساس و بنیاد ہے۔ ایک قول : تقدیر کلام اس طرح ہے کلمۃ اہل التقوٰی۔ اہل تقویٰ والی بات پر۔ وَکَانُوْا اَحَقَّ بِہَا (اور وہ مومن اس کے دوسروں سے زیادہ حقدار تھے) وَاَہْلَہَا (اور وہ اس کے اہل تھے) اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا اہل بنادیا تھا۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے) پس وہ معاملات کو مصلحتوں کے مطابق چلاتا ہے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی

آیت 27 : لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّئْ یَا (بےشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا ہے) یعنی ان کو ان کے خواب میں سچا کردیا اور ان کو خلاف واقعہ نہیں دکھایا۔ اللہ تعالیٰ کذب سے وراء الوراء ہیں۔ اسی لئے جار کو حذف کر کے فعل کو ملا دیا۔ جیسا کہ اس آیت میں صدقوا ماعاہدوا اللّٰہ علیہ ] الاحزاب۔ 23[ خواب پیغمبر ﷺ : روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے دیکھا گویا کہ آپ اپنے اصحاب سمیت امن و سلامتی کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے حلق و قصر کیا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا خواب صحابہ کرام کے سامنے بیان فرمایا۔ وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسی سال داخل ہونے والے ہیں۔ اور کہنے لگے اللہ کے رسول ﷺ کا خواب سچا ہے۔ جب یہ معاملہ اگلے سال پر پڑگیا۔ تو عبداللہ بن ابی اور اس کی پارٹی کہنے لگی ہم نے نہ تو حلق کیا اور نہ ہی قصر اور نہ ہم نے مسجد حرام دیکھی۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ ] الدرا لمنثور۔ 7/538[ بِالْحَقِّ (جو واقع کے مطابق ہے) نمبر 1۔ یہ صدق کے متعلق ہے۔ انہوں نے جو دیکھا وہ حاصل اور سچ کے ساتھ ملے ہونے میں برحق ہے۔ یعنی حکمت بالغہ پر مبنی ہے اور یہ اس لئے کہ اس میں ابتلاء اور مخلص مومن اور منافق کے درمیان امتیاز ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ بالحق میں باء قسم کے لئے ہو پھر حق سے مراد یا تو وہ ہے جو باطل کی نقیض ہے۔ یا حق سے مراد اللہ تعالیٰ کا نام مبارک ہے اور جو اب قسم لَتَدْ خلن المسجد الحرام ہے۔ اور اول صورت میں قسم محذوف کا جواب ہے۔ مسجد حرام میں داخلہ اور حلق و قصر : لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ (تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ ضرور جائو گے) ان شاء اللّٰہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکایت ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو فرمایا اور ان کے سامنے بیان کیا۔ یا اپنے بندوں کی تعلیم کے لئے فرمایا کہ وہ اس طرح کہیں اپنے وعدوں میں اللہ تعالیٰ کے ادب کو اختیار کریں اور اس طریقے کو اپنائیں۔ اٰمِنِیْنَ (امن وامان کے ساتھ) : یہ حال ہے اور شرط جملہ معترضہ ہے۔ مُحَلِّقِیْنَ (کہ کوئی تم میں سرمنڈواتا ہوگا) : یہ آمنین کی ضمیر سے حال ہے۔ رُئُ وْسَکُمْ حلق تمام سر کے بال منڈوانے کو کہتے ہیں۔ وَمُقَصِّرِیْنَ (اور کوئی بال کتراتا ہوگا) قصر بعض بال لینا۔ لَاتَخَافُوْنَ (کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا) : یہ حال مؤکدہ ہے۔ فَعَلِمَ مَالَمْ تَعْلَمُوْا (پس اللہ تعالیٰ کو وہ باتیں معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں) فتح مکہ کے آئندہ سال تک مؤخر کرنے کی حکمت فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ (پھر اس نے لگے ہاتھ ایک فتح دے دی) فتح مکہ کے علاوہ۔ فَتْحًا قَرِیْبًا (قریبی فتح) اور وہ فتح خیبر ہے۔ تاکہ اس سے ایمان والوں کے دلوں کو راحت حاصل ہو اس فتح موعود کی آمد تک۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

آیت 28 : ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗٗ بِالْہُدٰی (اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے۔ کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت) ہدایت سے یہاں توحید مراد ہے۔ وَ دِیْنِ الْحَقِّ (اور سچا دین دے کر بھیجا) اس سے دین اسلام مراد ہے۔ لِیُظْہِرَہٗٗ (تاکہ وہ اس کو غالب کرے) بلند کرے۔ تفوق عنایت کرے۔ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (تمام دینوں پر) الف لام جنس کا ہے۔ جنس ادیان پر۔ اس سے ادیان مشرکین اور اہل کتاب مراد ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ سچا کردیا۔ کوئی دین ایسا نہیں جس کو اسلام جتنا عزت و غلبہ ملا ہو۔ ایک قول یہ ہے : یہ نزول مسیح (علیہ السلام) کے وقت ہوگا جبکہ سطح زمین پر کوئی کافر نہ رہے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے : یہ دلائل و نشانات سے غلبہ ہے۔ (جو آج بھی حاصل ہے) وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا (اور اللہ تعالیٰ کافی گواہ ہے) اس بات پر کہ جو اس نے وعدہ کیا وہ ہو کر رہے گا۔ قول حسن (رح) : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق گواہی دی کہ میں اپنے اس دین کو غلبہ دوں گا۔ تقدیر کلام اس طرح ہے کفاہ اللّٰہ شہیدًا۔ : شَہِیْدًا : یہ تمیز ہے یا حال ہے۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے) تو انکو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

آیت 29 : مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ (محمد اللہ کے رسول ہیں) نحو : نمبر 1۔ یہ مبتدأ کی خبر ہے اور وہ ہو ہے۔ کیونکہ پہلے ہو الذی ارسل رسولہ گزر چکا۔ نمبر 2۔ مبتدأ ہے اس کی خبر رسول اللّٰہ ہے۔ عظمت ِمقتداء و مقتدیان باصفا : قراءت : نصر نے اس پر وقف کیا ہے۔ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٗ (اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں) یعنی آپ کے اصحاب ؓ نحو : نمبر 1۔ یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبر اشداء علی الکفار ہے۔ نمبر 2۔ محمد مبتدأ اور رسول اللہ عطف بیان ہے اور والذین معہ پر مبتدأ کا معطوف ہے۔ یہ سارا مبتدأ بن گیا۔ اشداء یہ تمام کی خبر ہے۔ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ (وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں) اشداء کا معنی سخت ہے۔ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ (اور آپس میں مہربان ہیں) باہمی مہربانی کرنے والے۔ نحو : یہ دوسری خبر ہے۔ اور ان میں دونوں صفات شدت و رحمت کی پائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین۔ ] المائدہ۔ 54[ کفار پر ان کی شدت اس مقام تک پہنچنے والی تھی کہ وہ ان کے کپڑوں کو ان سے بچاتے کہ ان کے ساتھ نہ لگ جائیں اور اپنے ابدان کو ان کے ابدان کے ساتھ چھونے سے بچاتے تھے اور رحم کا حال یہ تھا۔ کہ جو مومن دوسرے کو دیکھتا وہ اس سے مصافحہ اور معانقہ کرتا تھا۔ تَرٰہُمْ رُکَّعًا (اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا رکوع کی حالت میں) سُجَّدًا (اور کبھی سجدہ کرتے ہوئے) یَّبْتَغُوْنَ (وہ جستجو میں لگے رہتے ہیں) یہ حال ہے۔ جیسا کہ رکعًا اور سجدًا اسی طرح فضلاً من اللّٰہ و رضوانًا۔ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا (اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی) سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (اور ان کے آثار ان کے چہروں پر بوجہ تاثیر سجدہ کے نمایاں ہیں) یعنی وہ تاثیر جو سجود کے اثر سے نمایاں ہوتی ہے۔ قولِ عطاء (رح) : ان کے چہرے رات کو طویل نماز پڑھنے کی وجہ سے روشن ہیں۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ من کثرت صلاتہ باللیل حسن وجہہ بالنہار۔ (ابن ماجہ۔ 1333) جس کی رات کو نماز کثرت سے ہوگی دن کو اس کا چہرہ روشن ہوگا۔ ذٰلِکَ (جس کا ذکر ہوا) مَثَلُہُمْ (ان کی صفت و حالت ہے) فِی التَّوْرٰۃِ (تورات میں) قراءت : اس پر وقف ہے۔ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ (اور ان کی صفت ہے انجیل میں) یہ مبتدأ ہے اس کی خبر کزرعٍ ہے۔ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ (جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی) کونپل۔ عرب کہتے ہیں اشطأ الزرع۔ جب وہ اپنی سوئی نکالے۔ فَاٰزَرَہٗ (پھر اس نے اس کو مضبوط کردیا) قراءت : شامی نے فَأزرہ پڑھا ہے۔ فَاسْتَغْلَظَ (پھر وہ کھیتی اور موٹی ہوئی) وہ نرمی سے سختی تک پہنچی۔ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ (پھر وہ اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہوگئی) اپنی پوری پر سیدھی ہوگئی۔ سُوق جمع ساق کی ہے۔ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ (وہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی) کہ وہ اس کی قوت پر متعجب ہیں۔ ایک قول یہ ہے : انجیل میں لکھا ہے کہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے۔ وہ کھیتی کی طرح اگیں گے وہ بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ قولِ عکرمہ (رح) : اس نے اپنی سوئی نکالی ابوبکر کے ساتھ پس اس کو قوت دی عمر کے ذریعہ اور موٹی ہوگئی عثمان کے ذریعہ اور اپنی پنڈلی پر کھڑی ہوئی علی کے ذریعہ ؓ ۔ یہ ایک مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ابتدائے اسلام اور اس کی ترقی کے سلسلہ میں بیان فرمایا ہے۔ یہاں تک کہ وہ قوی ومستحکم ہوگیا کیونکہ نبی اکرم ﷺ اکیلے کھڑے ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے آپ کو قوت دی۔ جیسا کہ کھیتی کی اولین طاقت کہ جو اس کھیتی کو اطراف سے پیدا ہو کر گھیر لیتی ہے۔ اس کو مضبوط کرتی ہے یہاں تک کہ کسان کو خوبصورت نظر آتی ہے۔ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ (تاکہ ان سے کافروں کے دلوں کو جلادے) کھیتی کی تشبیہ جس نشونما اور قوت میں اضافے پر دلالت کرتی ہے۔ یہ اس کی تعلیل ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اس کو وعداللہ الذین کا معلل قرار دیا جائے۔ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (اللہ تعالیٰ نے ان صاحبوں سے جو کہ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کر رہے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے) اس کی تعلیل اس لئے بن سکتی ہے۔ کیونکہ جب کفار سنیں گے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی عزت کے ساتھ آخرت کے ان انعامات کا وعدہ کر رکھا ہے تو وہ اس سے جلیں گے۔ مِن جو کہ منہم میں ہے یہ بیانیہ ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان۔ [ الحج : 30] ای فاجتنبوا الرجس الذی ہو الاوثان۔ عرب کہتے ہیں انفق من الدراہم ای اجعل نفقتک ہذا الجنس۔ اس جنس کو اپنا خرچہ بنائو۔ (ہم کا مرجع وہی ہے جو بہم میں ہم کا ہے۔ ) ردِ قولِ روافض : یہ آیت روافض کے اس قول کی تردید کر رہی ہے۔ کہ وفات نبی ﷺ کے وقت وہ سب کافر ہوگئے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ اسی صورت میں درست ہوسکتا ہے جبکہ وہ اس پر ثابت قدم رہے ہوں۔ جس پر وہ آپ کی زندگی میں وعدہ کے وقت قائم تھے۔ اے اللہ صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے اور قیامت میں ان کے ساتھ حشر فرما آمین ثم آمین۔