Ayah 47:1آیت 1 : اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی انہوں نے اعراض کیا اور دخول اسلام سے باز رہے۔ نمبر 2۔ دوسروں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا۔
قول الجوہری :
صد عنہ یصد صدودًا۔ کا معنی اعراض کرنا۔ اور صدہ عن الامر صدًا کا معنی منع کرنا اور اس سے پھیر دینا آتا ہے۔ کفار قریش بدر کے دن کھانا کھلانے والے تھے۔ یا کفروا سے اہل کتاب مراد ہیں۔ نمبر 3۔ ہر کافر مراد ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والا ہو۔ اَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل و حبط کردیا اور اس کی حقیقت اس طرح ہے۔ کہ ان کے اعمال کو گم شدہ اور ضائع قرار دے دیا۔ ان میں قبولیت وثواب نہیں۔ جیسا کہ گم شدہ اونٹ بےفائدہ ہوتا ہے۔ اعمال سے مراد وہ اعمال جو حالت کفر میں وہ صلہ رحمی ٗ اطعام مسافرین ‘ عمارۃِمسجد حرام ٗ یا وہ جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف تدابیر اختیار کیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔
Ayah 47:2امَنُوْا کی مراد :
آیت 2 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے۔ اس سے قریش کے کچھ لوگ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ انصار کے کچھ حضرات۔ نمبر 3۔ اہل کتاب کے کچھ افراد۔ نمبر 4۔ عام ہے۔ وَ ٰامَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ اور وہ اس سب پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ مانزل سے قرآن مجید مراد ہے۔
پھر جملہ معترضہ لا کر اس کی تاکید کردی اور وہ جملہ یہ ارشاد ہے۔
وَّہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ یعنی قرآن ایک قول یہ ہے : کہ دین محمد ﷺ وہی حق ہے۔ اس لئے کہ وہ منسوخ نہ ہوگا۔ وہ دیگر تمام ادیان کا ناسخ ہے۔ کَفَّرَ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ (اللہ تعالیٰ ان کے گناہ ان پر سے اتار دے گا) کفر سے رجوع اور توبہ کرلینے کی وجہ سے ان کے کفر و معاصی کو ایمان و عمل صالح کی چادر سے ڈھانپ دیا جائے گا۔ وَاَصْلَحَ بَالَہُمْ (اور ان کی حالت درست رکھے گا) دین کے معاملات میں توفیق کے ذریعہ ان کی حالت کو درست رکھا جائے گا۔ اور اپنی نصرت و تائید سے ان کو دنیا پر غلبہ دے گا۔
Ayah 47:3مؤمنوں اور کافروں کے عمل کی مثال :
آیت 3 : ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ (یہ اس وجہ سے ہے کہ کافر تو غلط راستہ پر چلے اور اہل ایمان صحیح راستہ پر چلے جو ان کے رب کی طرف سے ہے) : ذلک مبتدأ اور مابعد اس کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہیذلک الامر یہ بات یعنی ایک فریق کے اعمال بیکار کیے اور دوسرے فریق کی سیئات کو مٹا دیا گیا اور اصلاح و درستی اس لئے کی گئی کہ ایک فریق نے شیطان کی اتباع اختیار کی اور دوسرے نے قرآن کی اتباع کی۔ کَذٰلِکَ (اس بیان کرنے کی طرح) یَضْرِبُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ کھول کر بیان کرتے ہیں) لِلنَّاسِ اَمْثَالَہُمْ (لوگوں کے لئے ان کے حالات) ہم کی ضمیر الناس کی طرف راجع ہے۔ نمبر 2۔ دو فریق جن کا اوپر ذکر ہوا مطلب یہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مؤمنوں اور کافروں کے حالات بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اتباع باطل کو کافروں کے عمل کی مثال کے طور پر ذکر فرمایا اور اتباع حق کو مؤمنوں کے عمل کی مثال کے طور پر ذکر فرمایا۔ نمبر 2۔ اضلال کو کفار کی ناکامی بیان کرنے کے لئے مثال بنایا اور ابرار کی کامیابی کے لئے تکفیر سیئات کو نمونہ بنایا۔
Ayah 47:4قتال میں کفار کو خوب قتل کرو :
آیت 4 : فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پس جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو) اللقاء لڑائی کو کہتے ہیں۔ فَضَرْبَ الرِّقَابِ (تو ان کی گردنیں مارو) اصل اس طرح ہے۔ فاضربوا الرقاب ضربًا۔ پس تم گردنوں کو مارو مارنا۔ فعل کو حذف کردیا اور مصدر کو شروع میں لائے۔ پس وہ اس کے قائم مقام ہوگیا۔ اور اس کی اضافت مفعول کی طرف ہے۔ تاکید کے ساتھ ساتھ اس میں اختیار بھی ملحوظ ہے۔ اس لئے کہ تم مصدر کا تذکرہ کرتے ہو اور وہ اس نصب والی حالت کے ساتھ ساتھ فعل پر دلالت کرتا ہے۔ ضرب الرقاب۔ یہ قتل کی تعبیر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ قتل ہی کیا جائے دوسرے اعضاء نہ کاٹے جائیں۔ اور تعبیر کی وجہ یہ ہے کہ قتل انسانی عموماً گردن مارنے سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہ تعبیر قتل کے طور پر استعمال ہوا۔ خواہ گردن کے علاوہ کسی دوسرے عضو پر کافر کو مارا جائے۔ حَتّٰی اِذَا اَثْخَنْتُمُوْہُمْ (یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کرچکو) خوب قتل کرچکو۔ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ (تو خوب مضبوط باندھ لو) پس ان کو قید کرلو۔ الوثاقیہ وائو کے فتحہ و کسرہ دونوں سے مستعمل ہے۔ اس رسی وغیرہ کو کہتے ہیں جس سے قیدی کو باندھا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے بندھن خوب مضبوط باندھو تاکہ وہ کھسک نہ جائیں۔ فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ (پھر اس کے بعد یا تو بلا معاوضہ چھوڑ دو ) ان کے قید کرلینے کے بعد وَاِمَّا فِدَآئً (یا معاوضہ لے کر چھوڑ دینا)
نحو : منًّا اور فدائً یہ دو مضمر فعلوں کی وجہ سے منصوب ہیں تقدیر کلام یہ ہے اما تمنون منا و تفدون فداء۔ مطلب یہ ہے کہ کفار کو قید کرنے کے بعد تمہیں ان پر احسان کر کے چھوڑ دینا اور فدیہ لے کر چھوڑنے کا اختیار ہے۔
عند الاحناف :
اساریٔ مشرکین کا حکم قتل یا غلام بنانا ہے۔ یہ فداء و مَنّ کا حکم اس آیت سے منسوخ ہے فاقتلوا المشرکین۔ [ التوبہ۔ 5] کیونکہ سورة براءت آخر میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔
قولِ مجاہد (رح) :
آج کل من و فداء نہیں۔ اب اسلام قبول کرنا یاضرب الرقاب ہے۔
نمبر 2۔ من کا مطلب قتل نہ کرنا بلکہ غلام بنا لینا۔ نمبر 3۔ ان پر احسان کرنا یہ ہے کہ جزیہ قبول کرنے کے لئے ان کو موقعہ دیا جائے گا۔
اور الفداء کا معنی قیدیوں سے تبادلہ ہے۔ امام طحاوی (رح) نے امام صاحب کا یہ مسلک نقل کیا۔ اور صاحبین کا قول بھی یہی ہے۔ مگر آپ کی طرف منسوب مشہور قول اول ہے کہ مال وغیر مال کسی چیز سے فدیہ نہ ہوگا۔ تاکہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف نبرد آزما نہ ہوں۔
عند الشافعی (رح) :
امام المسلمین کو اختیار ہے کہ چار میں سے کسی ایک کو بموقعہ اختیار کرے۔ نمبر 1۔ قتل۔ نمبر 2۔ غلام بنانا۔ نمبر 3۔ فداء با ساری المسلمین۔ نمبر 4۔ احسان سے چھوڑنا۔
حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا (جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں) اوزار : بوجھ ‘ آلات ضروریہ تلوار وغیرہ۔ ایک قول : اوزار سے گناہ مراد ہیں مطلب یہ ہوا یہاں تک کہ اہل حرب حرب کو چھوڑ دیں۔ وہ اپنا شرک چھوڑ کر اسلام لے آئیں۔ نمبر 2۔ یہاں تک کہ وہ ضرب و حرب سے لاتعلق نہ ہوجائیں۔ یہاں تک کہ وہ خالی نہ رہیں اس سے کہ ان کا تعلق ضرب وحرب یا من وفداء سے ہو۔ پس دونوں متعلقوں کے ساتھ شافعی (رح) کے ہاں معنی یہ ہے وہ اس بات پر ہمیشہ رہیں گے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے نہ بنیں اور اس کی شکل یہی ہے کہ ان کی شوکت ختم ہوجائے۔
ایک قول :
یہ حکم ہے جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہونگے۔
عند ابی حنیفہ (رح) :
جب ضرب و شد سے معلق کریں تو معنی یہ ہوگا۔ کہ ان سے قتال کیا جائے گا اور قید کیا جائے گا یہاں تک کہ جنس حرب بند ہوجائے۔ اور یہ اس وقت ہے جبکہ مشرکین کی شوکت ٹوٹ جائے۔
اور جب من وفداء سے معلق کریں تو مطلب اس طرح ہے ان پر احسان کیا جائے گا کہ وہ فدیہ ادا کریں یہاں تک کہ غزوئہ بدر ختم ہو۔ البتہ جو تاویل من و فداء کی ہم ذکر کرچکے وہ تاویل کی جائے۔
انتقامِ کفار کی صورتیں :
ذٰلِکَ (یہ) یعنی معاملہ اس طرح ہے یہ مبتدأ اور خبر ہے۔ یا یہ محل نصب میں افعلوا فعل محذوف کا مفعول ہے۔ وَلَوْ یَشَآئُ اللّٰہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ضرور ان سے انتقام لیتا) لڑائی کے بغیر بعض اسباب ہلاکت کے ساتھ ان سے انتقام لے لیتا۔ جیسے دھنسانے ٗ زلزلے یا ایسی ہی کسی اور صورت سے۔ وَلٰـکِنْ (لیکن) اس نے تمہیں قتال کا حکم دیا۔ لِّیَبْلُوَا بَعْضَکُمْ بِبََعْضٍ (تاکہ وہ تم میں ایک دوسرے کا امتحان کرلے) یعنی مؤمنین کا کفار کے ذریعہ امتحان لے تاکہ مخلص الگ ہوں اور کفار کو مؤمنوں کے ذریعہ مٹائے۔ وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جاتے ہیں)
قراءت : بصری و حفص نے اسی طرح پڑھا جبکہ دیگر قراء نے قاتلوا پڑھا۔ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَہُمْ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کریگا)
Ayah 47:5آیت 5 : سَیَہْدِیْہِمْ (اللہ تعالیٰ ان کو مقصود تک پہنچائے گا) جنت کے راستہ کی طرف یا منکر نکیر کے درست جواب میں وَیُصْلِحُ بَالَہُمْ (اور ان کی حالت درست رکھے گا) ان کے خصماء کو راضی کر دے گا اور ان کے اعمال کو قبول کرے گا۔
Ayah 47:6اللہ کے دین کی مدد :
آیت 6 : وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (اور ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ جس کی ان کو پہچان کرائے گا)
قولِ مجاہد (رح) :
ان کو ان کی رہائش گاہوں کا اس طرح تعارف کرائے گا کہ کسی سے وہ پوچھنے کے محتاج نہ ہونگے۔ نمبر 2۔ ان کو عرف نامی خوشبو سے خوشبو والا بنائے گا۔
Ayah 47:7آیت 7 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ (اے ایمان والو اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کرو گے) اللہ تعالیٰ کی مدد کا مطلب اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کی مدد۔ یَنْصُرْکُمْ (وہ تمہاری مدد کرے گا) تمہارے دشمنوں کے خلاف اور تمہیں فتح دے گا۔ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (اور تمہارے قدم جما دے گا) لڑائی کے مواقع پر یا اسلام کی راہ پر۔
Ayah 47:8آیت 8 : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور جو لوگ کافر ہیں) : یہ ابتداء کی وجہ سے موضع رفع میں ہے۔ اور خبر فَتَعْسًا لَّہُمْ (ان کے لئے تباہی ہے) وَاَضَلَّ اَعْمَالَہُمْ ( اور اللہ ان کے اعمال کو ضائع کر دے گا) اس کا عطف اسی فعل پر ہے جس نے تعسًا کو نصب دیا ہے کیونکہ معنی اس طرح ہے۔ پس فرمایا ان کے لئے ہلاکت ہے۔ التعس۔ ٹھوکر کھانا۔
قول ابن عباس ؓ :
دنیا میں اس سے مراد قتل اور آخرت میں آگ میں گرنا۔
Ayah 47:9آیت 9 : ذٰلِکَ (یہ) یعنی گمراہی و تباہی بِاَنَّہُمْ کَرِہُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا) ما انزل اللّٰہ سے قرآن مراد ہے۔ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا )
Ayah 47:10آیت 10 : اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ (کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں) یعنی آپ کی امت کے کافر فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ (اور انہوں نے دیکھا نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان کا انجام کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی تباہی ڈالی) کہ ان کو استیصال والا عذاب بھیج کر ہلاک کردیا۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ ( اور ان کافروں کے لئے بھی) مشرکین قریش کے لیے اَمْثَالُہَا (اس جیسے معاملات ہونے کو ہیں) ان ہلاک شدہ لوگوں کی مثل کیونکہ تہس نہس کرنا اس پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 47:11کارسازی کی جہتیں :
آیت 11 : ذٰلِکَ (یہ) یعنی مؤمنوں کی مدد اور کفار کی بد انجامی بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا کار ساز ہے) کارساز و مددگار وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ (اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں) ان کا کوئی مددگار نہیں اللہ تعالیٰ موجد ہونے کی وجہ سے بندے کا کارساز ہے۔ اس کو بندے میں تصرف کا پورا اختیار ہے۔ اور مدد کا مالک ہے پس موجد و متصرف ہونے کی جہت سے تو وہ مؤمنوں اور کافروں کا کارساز ہے اور جہت نصرت کے لحاظ سے صرف مؤمنوں کا خاص طور پر کارساز ہے۔
Ayah 47:12ایمان والوں اور کفار کے انجام کا تقابل :
آیت 12 : اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو لوگ کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں) اور دنیا کی زندگی کے سامان سے چند دنوں نفع اٹھا رہے ہیں۔ وَیَاْکُلُوْنَ (اور وہ اس طرح کھاتے ہیں) جو بلا سوچ و فکر انجام محض غفلت سے ہے۔ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (جیسے چوپائے کھاتے ہیں) اپنی چراگاہوں اور علف زاروں میں بغیر اس بات کو سوچے و سمجھے کہ ان کو اس کے بعد نحرو ذبح ہونا ہوگا۔ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ (اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے) منزل و مقام ہے۔
Ayah 47:13آیت 13 : وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ (اور بہت سی بستیاں ایسی تھیں) کم من قریۃ یہ کثرت کو بیان کرنے کیلئے ہے۔ قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں اسی لئے فرمایا : اَہْلَکْنَاہُمْ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْ اَخْرَجَتْکَ (ہم نے ان کو ہلاک کردیا جو قوت میں اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں۔ جس کے رہنے والوں نے آپ کو گھر سے بےگھر کیا) مطلب یہ ہے بہت سی بستیاں تیری قوم سے جنہوں نے آپ کو نکالا زیادہ طاقتور تھیں۔ اخرجوک کا مطلب آپ کے مکہ سے نکلنے کا سبب بنے۔ اَہْلَکْنٰہُمْ فَـلَا نَاصِرَ لَہُمْ (ہم نے ان کو ہلاک کردیا ان کا کوئی مددگار نہ ہوا) ان کے لئے کوئی ایسا نہ ہوا جو ان سے عذاب کو روک لیتا اور ان کی مدد کرتا۔
Ayah 47:14آیت 14 : اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (تو جو لوگ اپنے رب کے واضح راستہ پر ہوں) کیا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت وبرہان پر ہو۔ اور وہ برہان قرآن معجز اور دیگر معجزات رسول ہے۔ مَنْ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗٗ سُوْئُ عَمَلِہٖ (کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے۔ جس کی بدعملی اس کو مستحسن معلوم ہو) اس سے مراد اہل مکہ ہیں جن کے لئے شیطان نے ان کے شرک اور اللہ اور اس کے رسول کی عداوت کو مزین کردیا تھا۔ سوء عملہ کی ضمیر واحد مَن کے لفظ کا لحاظ کر کے لائے اور وَاتَّبَعُوْا اَہْوَآئَ ہُمْ کی ضمائر جمع من کے معنی کا لحاظ کر کے لائے۔
Ayah 47:15جنت کا حال :
آیت 15 : مَثَلُ الْجَنَّۃِ (جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے) الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ (اس کی کیفیت یعنی عجیب شان یہ ہے کہ) متقی سے مراد شرک سے بچنے والا ہے۔ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ (اس جنت میں نہریں تو ایسے پانی کی ہیں) : نمبر 1۔ یہ صلہ کے حکم میں داخل ہے اور اس کے لئے تکریر کی مانند ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم کہتے ہو التی فیہا انہار۔ یہ کہنا صحیح ہے۔ اسی طرح بلا صلہ اس کے معا عد لانا یہی حکم رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ حال ہے مستقرۃ فیہا انہار۔ اس حال میں کہ نہریں اس میں قرار پکڑنے والی ہیں۔ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ (ایسے پانی کی جن میں ذرا تغیر نہ ہوگا) نہ رنگ بدلے نہ بونہ ذائقہ۔ عرب کہتے ہیں اسن الماء۔ جبکہ اس کا ذائقہ اور بو بدلے۔
قراءت : مکی نے أسِنْ پڑھا۔
وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ (اور بہت سی نہریں دودھ کی جن کا ذائقہ نہ تبدیل ہو) جیسا کہ دنیا کے دودھ کھٹے ہوجاتے ہیں۔
وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ (اور بہت سی نہریں شراب کی جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں) لذۃ یہ لَذٌّ کی مؤنث ہے اور وہ لذیذ کو کہتے ہیں۔ للشاربین بڑھا کر بتلایا کہ وہ خالص لذت ہی ہے۔ اس شراب میں نہ خمار ٗ نہ سرگرانی ٗ نہ عقل کا اڑنا اور نہ ہی شراب دنیا کی شراب والی کوئی خرابی۔ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی (اور بہت سی نہریں شہد کی جو بالکل صاف ہوگا) وہ شہد مکھی کے پیٹ سے نکل کر آنے والا نہ ہوگا کہ اس میں موم کی ملاوٹ ہو اور اسی طرح کی دیگر ملاوٹیں نہ ہونگی۔ وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ (اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے پھل ہونگے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش ہوگی)
نحو : مثل مبتدأ اور اس کی خبر کمن ہو خالدٌ … ہے۔
کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَآئً حَمِیْمًا (کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو دیا جائے گا) حمیمًا انتہائی گرم۔ فَقَطَّعَ اَمْعآئَ ہُمْ (پس وہ ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا) تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ أمثل الجنۃ کمثل جزاء من ہو خالد فی النار ؟ یہ کلام اثبات کی صورت میں ہے۔ اور اس کا معنی نفی ہے۔ کیونکہ یہ ایسے کلام کے حکم پر مشتمل ہے جو صرف انکار پر مشتمل ہو اور اس کی جگہ میں داخل ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن زین لہ سوء عملہ ] محمد۔ 14[
حرف انکار کے حذف کا فائدہ :
یہ ہے کہ اس شخص کے مجادلہ اور مکابرہ کی تصویر کھینچی گئی جو دلیل حق کے پیرو اور خواہش پرست میں برابری پر اصرار کرنے والا ہے وہ گویا اس شخص کی طرح ہے جو جاری نہروں والی جنت اور گرم پانیوں والی جہنم میں برابری کا مدعی ہو۔
Ayah 47:16آیت 16 : وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ حَتّٰی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ (اور بعض آدمی ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب) عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا (وہ لوگ آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں۔ تو دوسرے اہل علم سے کہتے ہیں۔ کہ حضرت نے ابھی کیا بات فرمائی تھی) یہ منافقین تھے جو مجلس رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر آپ کا کلام تو سنتے مگر اس کی طرف پوری توجہ نہ کرتے تھے۔ اور سستی کرتے ہوئے اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے۔ جب آپ کی مجلس سے نکل جاتے تو اہل علم صحابہ سے مل کر کہتے۔ کہ آپ نے اس وقت کیا فرمایا۔ اور یہ بات بطور استہزاء کہتے تھے۔ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ (یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے۔ اور یہ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں)
Ayah 47:17آیت 17 : وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا (اور وہ لوگ جو ہدایت پر ہیں) ایمان لا کر اور قرآن مجید سن کر۔ زَادَہُمْ (اللہ تعالیٰ نے بڑھا دیا) ہُدًی (ان کی ہدایت کو) ۔ علم و بصیرت یا شرح صدر کو۔ وَّاٰتٰہُمْ تَقْوٰہُمْ (اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق دیتا ہے) تقویٰ پر ان کی اعانت فرمائی یا ان کو ان کے تقویٰ کا بدلہ دیا یا ان کے سامنے تقویٰ کی حقیقت کھول دی جس سے تقویٰ پر ان کا چلنا آسان ہوگیا۔
Ayah 47:18آیت 18 : فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ (پس یہ لوگ تو قیامت کے منتظر ہیں) وہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اَنْ تَاْتِیَہُمْ (کہ وہ ان کے اوپر آپڑے) یہ مصدر معنیٔ اتیان میں ہے۔ یہ ساعت سے بدل الاشتمال ہے۔ بَغْتَۃً (اچانک)
علاماتِ قیامت :
فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُہَا (پس اس کی علامات تو آچکی ہیں) شرط علامت کو کہتے ہیں اور وہ محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ ہے۔ اور اسی طرح چاند کا پھٹنا ٗ دھوئیں کا ظہور۔
ایک قول یہ بھی ہے :
قطع رحمی ٗ شرفاء کی کمی ٗ کمینوں کی بھیڑ۔
فَاَنّٰی لَہُمْ اِذَا جَآئَ تْہُمْ ذِکْرٰہُمْ (پس جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی تو اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر آئے گا) ۔
قولِ اخفش :
تقدیر عبارت یہ ہے۔ فانی لہم ذکرا ہم اذا جاء تہم۔ ان کے یاد آنے کا فائدہ کیا ہوگا جبکہ وہ ان کے پاس آن پہنچے گی۔
علم وحدانیت پر قائم رہیں :
Ayah 47:19آیت 19 : فَاعْلَمْ اَنَّہٗ (تو آپ اس کا یقین رکھیے تحقیق شان یہ ہے) لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْچبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں اور آپ اپنی خطا ٔ کی معافی مانگتے رہیے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کے لئے بھی) معنی یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا جو علم آپ کو دیا گیا اس پر قائم رہیں اور تواضع پر ثابت قدمی دکھائیں اور استغفار کے ساتھ اپنے ذنب اور جو آپ کے دین پر ہوں ان کے ذنوب کو مٹاتے رہیے۔
شرح التاویلات :
جائز ہے کہ آپ کا ذنب ہو اس لئے استغفار کا حکم دیا گیا لیکن ہم نہیں جانتے سوائے اس بات کے کہ انبیاء کا ذنب ترک افضل ہے۔ نہ کہ کسی قبیح کا ارتکاب اور ہمارے گناہ تو قبائح کے ارتکاب سے ہیں خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ۔
فاء کا فائدہ :
ان آیات میں فا ئوں کا آنا اس لئے ہے کہ عطف جملہ علی الجملہ ہو جن کے مابین اتصال ہے۔
اللہ تمہاری تمام حالتوں سے واقف ہے :
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے کی خبر رکھتا ہے) تمہارے معیشت اور تجارت کے سلسلے میں ادھر ادھر جانے کو جانتا ہے۔ وَمَثْوٰکُمْ (اور تمہارے رہنے سہنے کو) اپنے مکانات میں جہاں تم ٹھہرتے ہو۔ نمبر 2۔ یا زندگی میں مختلف حالتوں میں پلٹنا (بچپن سے بڑھاپا) اور مثوکم سے قبور میں رہائش پذیر ہونا۔
نمبر 3۔ اعمال کرنے میں تگ و دو کرنا (یہ تقلب فی الاعمال ہے) اور مثواکم سے جنت یا دوزخ میں قیام۔ اور ایسی ذات اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس سے مغفرت مانگی جائے۔
سفیان بن عیینہ کا قول :
سفیان سے کسی نے علم کی فضیلت دریافت کی تو کہنے لگے۔ کیا تم نے ارشاد الٰہی نہیں سنا۔ فاعلم انہ لا الٰہ الا اللّٰہ واستغفر لذنبک۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں علم کے بعد عمل کا حکم دیا۔
Ayah 47:20آیت 20 : وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ (اور جو ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہ نازل ہوئی) جس میں جہاد کا ذکر ہوتا۔ فَاِذَٓا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ (پس جس وقت کوئی سورت اتاری جاتی ہے۔ جو جہاد کو بیان کرتی ہے۔ مُّحْکَمَۃٌ (صاف صاف) واضح جس میں کسی اور وجہ کا احتمال نہیں بلکہ صرف جہاد کا وجوب ظاہر ہوتا ہے۔
قولِ قتادہ (رح) !
ہر سورت جس میں جہاد کا ذکر ہے وہ سورة محکمہ ہے اس لئے کہ اس پر نسخ وارد نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے نزول سے پہلے جو صلح اور ملاپ کا حکم دیا گیا تھا وہ سب حکم جہاد سے منسوخ ہونے والا ہے حکم جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
منافقین کی آنکھیں بزدلی سے پتھرانے والی ہیں :
وَّذُکِرَ فِیْہَا الْقِتَالُ (اور اس میں جہاد کا بھی ذکر ہوتا ہے) جہاد کا حکم دیا جاتا ہے۔ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ (تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں) مرضٌسے منافقت مراد ہے۔ منافقین کو دیکھیں گے کہ وہ اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ (کہ وہ آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو) ان کی آنکھیں بزدلی اور گھبراہٹ سے پتھرائیں گی جیسا سکرات موت کا مبتلا ہوتا ہے۔ فَاَوْلٰی لَہُمْ (پس عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے) یہ وعید ہے۔ اس کا معنی یہ ہے ان کے لئے ہلاکت ہو۔ یہ الوَلِی سے اسم تفضیل ہے۔ اور ولی قریب کو کہتے ہیں اس میں ان کو بددعا دی گئی کہ ان کی بدبختی ان کے سر پر کھڑی ہے۔
Ayah 47:21آیت 21 : طَاعَۃٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ (ان کی اطاعت اور بات چیت معلوم ہے) : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ طاعۃ و قول معروف خیرٌ لہم۔ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ (پھر جب سارا کام تیار ہی ہوجاتا ہے) جب معاملہ حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے اور لڑائی ان پر لازم ہوجاتی ہے۔ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰہَ (تو اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے سچے رہتے) ایمان اور اطاعت میں۔ لَکَانَ (تو یہ سچ) خَیْرًالَّہُمْ (ان کے لئے بہت بہتر رہتا) جہاد سے نفرت کی بنسبت۔
Ayah 47:22آیت 22 : پھر انداز غائب سے خطاب کی طرف پھیر دیا تاکہ اس سے توبیخ و ترہیب ہو۔ فرمایا فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْ حَامَکُمْ (پس اگر تم کنارہ کش رہو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد مچا دو ۔ اور آپس میں قطع قرابت کرو) شاید کہ اگر تم دین رسول اللہ ﷺ اور آپ کی سنت سے منہ موڑ لو تو تم اسی جاہلیت کی طرف لوٹ جائو گے جس میں لوٹ مار اور زمین میں فساد پھیلانا اور قطع ارحام جبکہ اپنے ہی بعض اقارب سے لڑ پڑو اور بچیوں کو زندہ در گور کرنے کی طرف لوٹو گے۔
نحو : ان تفسدوا یہ عسٰی کی خبر ہے۔ اور شرط اسم و خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے فہل عسیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم، ان تولیتم۔
Ayah 47:23آیت 23 : اُولٰٓپکَ (یہ) اس میں مذکورہ بالا لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ (وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے) لعنت۔ رحمت سے ان کو دور کردیا ہے۔ فَاَصَمَّہُمْ (پھر ان کو بہرا کردیا) نصیحت کو غور سے سننے سے۔ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَہُمْ (اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا) کہ ہدایت کا راستہ دیکھیں۔
Ayah 47:24کفار کے قلوب پر قفل لگ چکے :
آیت 24 : اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ (تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے) تاکہ یہ اس کے مواعظ و نصائح اور زو اجر کو پہچانتے۔ اس میں نافرمانوں کے لئے وعید ہے تاکہ وہ معاصی کی طرف جسارت سے باز رہیں۔ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا (یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں) ام۔ یہ بل کے معنی میں ہے اور ہمزہ تقریری ہے۔ ان کے بارے میں یہ ثابت کرنے کے لئے لائے کہ ان کے دل مقفل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ان تک نہیں پہنچتا۔ قلوب نکرہ لائے کیونکہ مراد یہ ہے۔ ایسے سخت دلوں پر جن کا معاملہ مبہم ہے۔ مراد بعض دل ہیں۔ اور وہ قلوب ِمنافقین ہیں۔ اقفال کی اضافت و نسبت قلوب کی طرف کی گئی ہے کیونکہ اس سے وہ قفل مراد ہیں جو دلوں کے ساتھ خاص ہیں اور وہ کفر کے قفل ہیں جو بند ہوچکے وہ کھلتے نہیں جیسا رین ‘ ختم اور طبع ہیں۔
Ayah 47:25آیت 25 : اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی (جو لوگ پشت پھیر کر ہٹ گئے۔ بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) ۔ یعنی منافقین حق کے واضح ہوجانے کے باوجود خفیہ طور پر کفر کی طرف پھرگئے۔ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ وَ اَمْلٰی لَہُمْ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا اور ان کو دور کی امید دلائی) سوّل۔ زین اور املی۔ امیدیں اور لمبی تمنائیں کرنا۔
قراءت : ابو عمرو نے و اُملیَ پڑھا ہے یعنی ان کو مہلت دی گئی اور ان کی عمر دراز کی گئی۔
Ayah 47:26آیت 26 : ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ (یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام ناپسند کرتے تھے۔ یہ کہا) منافقین نے یہود کو جا کر کہا۔ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ (بعض باتوں میں ہم تمہارا کہنا مان لیں گے) مثلاً یعنی محمد ﷺ کی عداوت اور ان کی معاونت سے گریز۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ (اللہ تعالیٰ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے) اسرار۔ یہ اسرّ کا مصدر ہے۔
قراءت : حمزہ ٗ علی ٗ حفص نے اسی طرح پڑھا۔ دیگر قراء نے اَسْرَارَہُمْ جمع سِرٌّ پڑھا ہے۔
Ayah 47:27آیت 27 : فَکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ (پس ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہونگے) یعنی وہ اس وقت کیا کریں گے ؟ ان کا کیا حیلہ ہوگا ؟ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ (اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے جاتے ہونگے)
قول ابن عباس ؓ :
جو شخص معصیت پر مرتا ہے تو فرشتے اس کے چہرے اور پشت پر مارتے ہیں۔
Ayah 47:28آیت 28 : ذٰلِکَ (یہ) اس سے توفی موصوف کی طرف اشارہ ہے۔ بِاَنَّہُمُ باء سببیہ ہے۔ (اس وجہ سے کہ انہوں نے) اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَطَ اللّٰہُ (اس چیز کی اتباع کی جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو لازم کرنے والی تھی) یعنی کفار کی معاونت۔ وَکَرِہُوْا رِضْوَانَہٗ (اور اسکی رضا مندی سے نفرت کی) یعنی ایمان والوں کی امداد و معاونت۔ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ (اسلئے اللہ تعالیٰ نے انکے اعمال کو کالعدم کردیا )
Ayah 47:29آیت 29 : اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَہُمْ (جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے۔ کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کے دلوں کی عداوتوں کو ظاہر نہ کریں گے) اضغان : کینے۔ مطلب یہ ہے منافقین نے یہ گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بغض و عداوت کو مؤمنین کے سامنے ظاہرنہ کریں گے۔
Ayah 47:30آیت 30 : وَلَوْنَشَآئُ لَاَرَیْنٰـکَہُمْ (اگر ہم چاہتے تو ہم آپ کو ان کا پورا پتہ بتا دیتے) ہم ان کے بارے میں آپ کی راہنمائی کردیتے اور آپ کو ان کی پہچان کرا دیتے۔ فَلَعَرَفْتَہُمْ بِسِیْمٰہُمْ (پس آپ ان کو ان کے حلیہ سے پہچان لیتے) سیما : علامت۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ایسی علامت ذکر کرتے جس سے وہ معلوم ہوجاتے۔
قولِ انس ؓ :
رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس آیت کے بعد کوئی منافق مخفی نہ رہا۔ آپ ان کو ان کی علامات سے پہچانتے تھے۔
وَلَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ (آپ ان کو طرز کلام سے ضرور پہچان لیں گے) کلام کے اندر خوبصورت انداز و طرز سے۔ کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر کی بات کو چھپانے کی قدرت نہ رکھتے تھے۔
جب اس آیت کو پڑھتے تو رو دیتے اور کہتے : اللہم لا تبلنا۔ اے اللہ تو ہمیں نہ آزما اگر تو نے ہمیں آزمایا تو تو نے ہمیں رسوا کردیا اور ہماری عزتوں پر پڑے پردوں کو چاک کردیا اور ہمیں سزا میں ڈال دیا۔
اور فلعرفتہم کی لام یہ لو کے جواب میں آئی ہے۔ جیسا کہ لا رینٰـکھم میں ہے معطوف میں دوبارہ لائے۔ البتہ ولتعرفنَّہم کی لام یہ قسم محذوف کے جواب میں نون ثقیلہ کے ساتھ مل کر آرہی ہے۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَعْمَالَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال کو جانتا ہے) پس وہ اعمال میں سے خیر و شر کو الگ کرتا اور کرتا رہے گا۔
Ayah 47:31آزمائش برائے ظہور :
آیت 31 : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ (اور ضرور تمہاری آزمائش کریں گے) قتال کے ذریعہ تمہارے سامنے ظاہر کرنے کے لئے نہ کہ تمہارے متعلق معلومات لینے کیلئے (کیونکہ ہم تو علام الغیوب ہیں) نمبر 2۔ ہم تم سے ایسا معاملہ کریں گے۔ جیسا امتحان لینے والا معاملہ کرتا ہے تاکہ اظہار عدل میں بلیغ تر ہو۔ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ (تاکہ ہم ان لوگوں کو معلوم کرلیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور جو ثابت قدم رہنے والے ہیں) یعنی جہاد پر ثابت قدم یعنی اس کا ہونا جان لیں جس کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ وہ عنقریب پیش آئے گا۔ وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ (اور تمہاری حالتوں کی جانچ کرلیں) اخبار سے مراد یہاں مخفی حالات ہیں۔
قراءت : ابوبکر نے لیبلونکم حتی یعلم اور یبلو پڑھا ہے۔
Ayah 47:32آپ کو پہچاننے کے باوجود کفار کی معاونت کی :
آیت 32 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ (بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی) اور اس سے دشمنی اختیار کی یعنی بدر کے دن کھانا کھلانے والے تھے۔ اور یہ گزر چکا ہے۔ مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدٰی (اس کے بعد کہ ان کو رستہ نظر آچکا تھا) اس کے بعد کہ ان کے سامنے آپ کی حقانیت ظاہر ہوگئی تھی اور آپ کا رسول اللہ ہونا پہچان چکے تھے۔ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَکُمْ (یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو مٹا دے گا) جو اعمال انہوں نے مخالفت رسول میں کیے۔ ان کو اس طرح مٹایا جائے گا کہ اس سے ان کی اغراض پوری نہ ہوسکیں گی۔
Ayah 47:33آیت 33 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل مت کرو) منافقت یا ریاکاری سے۔
Ayah 47:34آیت 34 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ (بیشک جو لوگ کافر ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رستہ سے روکا پھر وہ کافر ہی رہ کر مرگئے پس اللہ تعالیٰ ان کو کبھی نہ بخشے گا)
ایک قول :
قلیب بدر والے لوگ مراد ہیں۔ اور ظاہر آیت عموم کو چاہتی ہے۔
Ayah 47:35آیت 35 : فَـلَا تَہِنُوْا (اور تم ہمت مت ہارو ! ) اور تم کمزوری مت دکھائو اور دشمن کے سامنے جھکو مت۔ وَتَدْعُوْا اِلَی السَّلْمِ (اور صلح کی طرف مت بلائو)
قراءت : حمزہ ٗ ابوبکر ٗ ابوعمرو نے السِلْم پڑھا اور دونوں کا معنی مسالمت ہے مطلب یہ ہے کہ کفار کو صلح کی دعوت مت دو ۔
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ (اور تم ہی غالب ہو گے) ضرور غالب ہو گے۔ تدعوا۔ یہ مجزوم ہے کیونکہ حکم نہی میں داخل ہے۔ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہیں) مدد سے یعنی وہ تمہارا حامی و ناصر ہے۔ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْ (وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کرے گا) یعنی تمہارے اعمال کا بدلہ کم نہ کرے گا۔
Ayah 47:36آیت 36 : اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ (اور یہ دنیوی زندگی تو محض ایک لہو ولعب ہے) بہت قلیل مدت میں منقطع ہوجاتی ہے۔ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا (اور اگر تم ایمان لائو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر۔ وَتَتَّقُوْا (اور تقویٰ اختیار کرو) یعنی شرک سے بچو۔ یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ (تو تم کو تمہارا اجر عطا کریگا) تمہارے ایمان وتقویٰ کا اجر۔ وَلَا یَسْئَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ (وہ تم سے تمہارے مال طلب نہیں کریگا) وہ تمام مال کا مطالبہ نہ کرے گا۔ بلکہ چالیسواں حصہ ہوگا۔ لایسئل کا فاعل اللہ تعالیٰ یارسول اللہ ﷺ ہیں۔
قولِ سفیان بن عیینہ :
بہت میں سے تھوڑا سا (غیضًا من فیض)
Ayah 47:37آیت 37 : اِنْ یَّسْئَلْکُمُوْہَا فَیُحْفِکُمْ (اگر تم سے تمہارے مال طلب کرے پھر انتہاء درجہ تک تم سے طلب کرتا رہے) وہ تم کو مشقت میں ڈال دے اور سارے مال کو طلب کرے۔ الاحفاء : کسی چیز میں مبالغہ اور اس کی غایت تک پہنچنا۔ عرب کہتے ہیں۔ احفاہ فی المسألۃ۔ جبکہ اصرار کا کوئی رخ نہ چھوڑے اور احفی شاربہ۔ جبکہ وہ ان کو جڑ سے منڈوائے۔ تَبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ (تو تم بخل کرنے لگو اور وہ نکال دے) یعنی اللہ تعالیٰ یا بخل۔ اَضْغَانَکُمْ (تمہاری ناگواری کو) جب کہ تم اس دینے سے رک جائو۔ یا وہ تم سے تمام مال کا سوال کرے کیونکہ مال کا مطالبہ کرنے کے وقت عداوت و کینہ ظاہر ہوتا ہے۔
Ayah 47:38آیت 38 : ہٰٓاَنْتُمْ ہائتنبیہ کے لئے ہے۔ ہٰٓؤُلَآئِ یہ موصول الذین کے معنی میں ہے۔ اس کا صلہتدْعَوْنَ ہے یعنی ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو بلایا جاتا ہے۔ یعنی تم ہی وہ لوگ ہو جن کو بلایا جاتا ہے۔ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو) اس سے مراد غزوہ یا زکوٰۃ کے سلسلہ میں خرچ کرنا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ الدلیل علی انہ لو احفاکم لبخلتم وکرہتم العطاء اس بات کی دلیل کہ اگر وہ تمام کے خرچ کا حکم دیتا تو تم بخل کرتے اور عطاء کو ناپسند کرتے۔ تمہیں صرف چالیسواں حصہ دینے کا کہا گیا۔ فَمِنْکُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ (بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں) یَبْخَلُ ۔ یہ ضمہ کے ساتھ ہے کیونکہ یہ مَنْ شرطیہ نہیں ہے۔ یعنی بعض لوگ تم میں سے بخل کریں گے۔ وَمَنْ یَّبْخَلْ (جو شخص بخل کرتا ہے) صدقہ اور ادائے فریضہ میں فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ (تو وہ خود اپنے سے بخل کرتا ہے) یعنی وہ داعیہ نفس سے بخل کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو بخل کا حکم دینے والے نہیں۔
ایک قول یہ ہے :
یبخل علی نفسہ کہا جاتا ہے بخلت علیہ وعنہ۔
اللہ بےنیاز تم حاجت مند ہو :
وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ (اور اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں اور تم سب محتاج ہو) وہ اس بات کا حکم نہیں دیتے کیوں اس کی ضرورت ہے اور خود ذات باری تعالیٰ تو حاجات سے بےنیاز ہے لیکن تمہیں مال کی حاجت اور ثواب کی بھی حاجت۔ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا (اور اگر تم روگردانی کرو گے) اے اہل عرب اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے اعراض کرو گے اور اس کی راہ میں خرچ سے منہ موڑو گے۔ اس کا عطف ان تؤمنوا وتتقوا پر ہے۔
یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کر دے گا) وہ ایسی قوم پیدا کرے گا جو تم سے بہتر اور زیادہ مطیع ہوگی اور وہ اہل فارس ہیں۔
قوم کی مراد :
رسول اللہ ﷺ سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس وقت حضرت سلمان ؓ آپ کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ آپ نے ان کے ران پر ہاتھ مار کر فرمایا۔ یہ اور اس کی قوم۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر ایمان ثریا کے پاس بلند ہوجائے تو فارس کے کچھ لوگ اس کو لے لیں گے۔ (راوہ احمد 2/417۔ بخاری 4898 مسلم۔ 2546)
ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ (پھر وہ تم جیسے نہ ہونگے) پھر وہ اطاعت میں تم جیسے نہ ہونگے بلکہ وہ تم سے زیادہ اطاعت کرنے والے ہونگے۔