Ayahs 46:1–3آیت 1 : حٰمٓ (2) تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (3) مَا خَلْقَنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ (حٰمٓ۔ یہ کتاب ہے اتاری ہوئی اللہ کی طرف سے جو عزیز ہے حکیم ہے ‘ ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو مگر حق کے ساتھ اور ایک میعاد معین کے لئے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ اس چیز سے اعراض کئے ہوئے ہیں جس سے ڈرائے گئے) حکمت کے ساتھ ملا ہوا۔ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مقرر مدت) جس پر منتہی ہونگے وہ قیامت کا دن ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا (اس دن کی ہولناکی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے) ۔ جس تک ہر مخلوق کی انتہاء ہے۔ مُعْرِضُوْنَ (اعراض کرنے والے ہیں) یعنی اس پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی اس کی تیاری کا کچھ اہتمام کرتے ہیں۔
غیر اللہ کی عبادت کا درست ہونا کسی ایک آسمانی کتاب سے ثابت کردو :
اور یہ بھی درست ہے کہ ما مصدر یہ ہو۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ عن انذارھم ذالک الیوم۔ اس دن کے ڈراوے سے۔
Ayah 46:4آیت 4 : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (آپ کہیے کہ یہ تو بتلائو) مجھے خبر دو ! مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (جن چیزوں کی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو) جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو۔ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ (مجھے یہ دکھلائو انہوں نے کونسی زمین پیدا کی) اگر وہ معبود ہیں تو انہوں نے زمین میں جو چیزیں ہیں ان میں سے کونسی چیز پیدا کی ہے۔ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ (یا ان کا آسمانوں میں ساجھا اور حصہ داری ہے) کیا آسمانوں کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شراکت ہے ؟ اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ (میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے کی ہولائو) یعنی اس کتاب قرآن مجید سے پہلے کی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب توحید کا بول بلند کرنے اور شرک کا ابطال کرنے والی ہے اور جتنی کتابیں اللہ تعالیٰ کی اس سے پہلے اتریں وہ بھی اسی طرح توحید کا بول بولنے والی ہیں۔ کوئی ایک نازل شدہ کتاب ایسی پیش کرو جو غیر اللہ کی عبادت کی درستی کو ثابت کر دے۔ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْْمٍ (یا کوئی اور مضمون منقول لائو) اولین کے علوم میں سے نقل شدہ صحیح حصہ جو تمہارے پاس باقی رہ گیا ہو۔ اِنْ کُنتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتوں کی عبادت کا حکم دیا ہے۔
Ayah 46:5سب سے بڑ اگمراہ بت پرست :
آیت 5 : وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ لَہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُونَ (اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کا کہنا نہ مانے اور ان کو ان کے پکارنے کی بھی خبر نہ ہو) الی یوم القیامۃ سے ہمیشہ مراد ہے۔
Ayah 46:6آیت 6 : وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَآئً (جب سب آدمی جمع کیے جائیں تو وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے) بت اپنے عابدوں کے وَّکَانُوْا (اور وہ) یعنی بتبِعِبَادَتِہِمْ (اپنے عابدوں کی عبادت سے) کٰفِرِیْنَ (انکار کردیں گے) وہ کہیں گے ہم نے ان کو اپنی عبادت کی طرف نہیں بلایا۔
نحو : من اضل میں استفہام کا معنی یہ ہے۔ اس بات سے انکار ہے کہ بت کی عبادت کرنے والوں سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے سمیع ٗ مجیب ٗ قادر مطلق ہستی کو چھوڑ کر ان کو پکارا جو خود جماد لا یعقل ہیں اور کسی کی بات کو قبول کرنے کی قدرت بھی ان میں پائی نہیں جاتی۔ خواہ پوری دنیا کی عمر سے قیامت تک پکارتے رہیں اور قیامت برپا ہوجائے گی اور تمام لوگ جمع ہوجائیں گے تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کے مخالف ہونگے۔ پس یہ عابدین دونوں جہاں میں نقصان و گھاٹے میں رہیں گے۔
آخرت کا نقصان ‘ عابد و معبود میں دشمنی :
دنیا میں ان کی فریاد قبول کر کے دوستی نہ دکھائی اور آخرت میں دشمنی ظاہر کی۔ اور ان کی عبادت کا سرے سے انکار کردیا۔ جب ان کی طرف اولی العلم کی طرف اسناد کی جانے والی چیز کا اسناد کیا تو من اور ہم کے صیغے لائے اور بطور تہکم ان کے لئے ترک استجابت و غفلت کو ثابت کیا۔ تاکہ ان کی اور عابدین کی تذلیل ہو۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ ان تدعوہم لا یسمعوا دعاء کم ولو سمعواما استجابوا لکم ویوم القیامۃ یکفرون بشر ککم۔ ] فاطر۔ 14[
Ayah 46:7آیت 7 : وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ (اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں) بینات جمع بینۃ کی ہے اور وہ دلیل و شاہد دونوں کے لئے بولتے ہیں۔ یا واضح وکھلی آیات۔ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ (تو منکرلوگ اس سچی بات کی نسبت کہتے ہیں) حق سے مراد آیات اور الذین کفروا سے وہ مخاطبین جن پر پڑھا جا رہا تھا۔
نکتہ : دونوں ضمیروں کی جگہ اسم ظاہر لانے کا فائدہ یہ ہے۔ کہ ان کا کفر پختہ اور ظاہر ہوجائے اور آیات کا حق ہونا ثابت ہو۔ لَمَّا جَآئَ ہُمْ (جبکہ وہ اس کے پاس پہنچتی ہیں) آنے کے وقت ہی فی البدیہ انکار کردیا۔ اور فکر کو دوڑانے کے پہلے ہی مرحلے میں انکاری ہوگئے۔ اور باردیگر نظر ثانی کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (یہ کھلا جادو ہے) باطل ہونے میں اس کا معاملہ واضح ہے کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔
Ayah 46:8آیت 8 : اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ (کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے) آیات کو کفار سحر کہتے تھے۔ اس کے تذکرے سے اعراض کرتے ہوئے۔ ان کی اس بات کو ذکر کیا کہ محمد ﷺ نے اس کو خود بنا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ موٹ نسبت کردی ہے۔ ضمیر حق کی طرف راجع ہے اس لئے مذکر ہے اور مراد آیات ہیں۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَـلَا تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا (کہہ دیجئے اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو پھر تم مجھے اللہ تعالیٰ سے ذرا بھر بچا نہیں سکتے) یعنی بالفرض اگر میں نے افتراء کیا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ جلد افتراء کی سزا دیں گے۔ تم مجھ پر اس جلد آنے والی سزا کو روک نہ سکو گے۔ اور اس کے عذاب و عقاب میں سے کسی چیز کے دور کرنے کی تم میں طاقت نہ ہوگی۔ پھر کیونکر میں گھڑ سکتا ہوں اور اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے سامنے پیش کرسکتا ہوں ؟
ہُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ (وہ خوب جانتا ہے جو باتیں تم قرآن میں بنا رہے ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کی وحی میں رد و قدح اور طعن وتشنیع کرتے اور کبھی ان کو سحر اور دوسری مرتبہ مفتر ٰی کہتے ہو۔ کَفٰی بِہٖ شَہِیْدًام بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ (وہ میرے اور تمہارے درمیان میں گواہ کافی ہے) وہ میری سچائی کی گواہی دیتا اور اس کا حکم پہنچا دینے کا گواہ ہے جبکہ تمہارے متعلق انکار وضد بازی کی گواہی دے رہا ہے۔
ایک نکتہ :
علم و شہادت کے تذکرہ سے مقصود کفار کو جزاء کی وعید سنانا ہے۔
وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (وہ بڑی مغفرت والا اور بڑی رحمت والا ہے) اگر تم کفر سے توبہ کر کے ایمان لائو تو اس کی طرف سے مغفرت و رحمت کا وعدہ ہے۔
Ayah 46:9آیت 9 : قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ (کہہ دیں میں کوئی انوکھا رسول نہیں) بدعاً یہ بدیع کے معنی میں ہے جیسا خف بمعنی خفیف آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں کہ تم میری نبوت کو انوکھا قرار دے رہے ہو۔
وَمَآ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَابِکُمْ (اور مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا) یعنی میرے اور تمہارے ساتھ زمانہ مستقبل میں کیا کرنے والے ہیں۔
قولِ کلبی m :
کفار و مشرکین کی ایذائوں سے تنگ آ کر آپ کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا۔ ہم اس حالت میں کب تک رہیں گے ؟ تو فرمایا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ آیا مکہ کو چھوڑوں گا یا کسی ایسی زمین کی طرف نکلنے کا مجھے حکم ہوگا خواب میں جو مجھے دکھائی گئی ہے وہ جگہ کثرت سے کھجور کے درختوں والی ہے۔
(ذکرہ الواحدی فی اسباب النزول)
فائدہ : نمبر 1۔ مایفعل کا ما موصولہ و منصوبہ ہوسکتا ہے۔ اور استفہامیہ مرفوعہ ہے۔ نمبر 2۔ اور لا بکم میں لا کو داخل کیا گیا ہے۔ باوجودیکہ یفعل مثبت ہے منفی نہیں ہے۔ تاکہ ما ادری کی نفی ما اور جو اس کے حِیَزْ میں واقع ہے سب کو شامل ہوجائے۔ اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ وَمَآ اَنَا اِلاَّ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میں صرف اس کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی کے ذریعہ آتا ہے اور میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والا ہوں)
Ayah 46:10آیت 10 : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (آپ کہہ دیجئے) تم مجھ کو یہ بتلائو۔ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْم بَنِیْ
اِسْرَآئِ یْلَ (کہ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کے منکر ہو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ گواہی دے کر ایمان لے آئے)
شاہد سے مراد :
یہ شاہد ِبنی اسرائیل عبداللہ بن سلام ہیں جمہور کا یہی مسلک ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے۔ کہ یہ آیت مدنی ہے۔ کیونکہ عبداللہ بن سلام کا زمانہ اسلام مدینہ منورہ کا ہے۔
روایت ِبخاری :
روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ تو آپ کے چہرے کو دیکھتے ہی پہچان گئے۔ کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ پھر عرض کیا میں آپ سے تین سوال کرنا چاہتا ہوں۔ جن کا جواب پیغمبر ہی دے سکتا ہے۔ نمبر 1۔ قیامت کی پہلی نشانی کیا ہوگی۔ نمبر 2۔ اہل جنت کا پہلا کھانا کیا ہوگا۔ نمبر 3۔ کیا وجہ ہے کہ لڑکا یا والد پر ہوتا ہے یا والدہ پر۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ نمبر 1۔ قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف دھکیل لے جائے گی۔ نمبر 2۔ اہل جنت کا اولین کھانا مچھلی کے کباب ہونگے۔ نمبر 3۔ لڑکے کی ماں باپ سے مشابہت کی وجہ یہ ہے کہ اگر آدمی کا پانی پہل کر جائے تو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی سبقت کر جائے تو وہ اپنی طرف لے جاتا ہے۔ یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں۔ ] بخاری۔ 3329۔ احمد 3/108۔ ابن حبان۔ 7161[
عَلٰی مِثْلِہٖ (اس جیسی کتاب پر) ہٗ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ جو اس کی مثل ہو معنی میں اور نمبر 1 : اس سے مراد وہ مضامین جو تورات کے قرآن کے مطابق ہیں۔ مثلاً توحید ٗ وعدہ ٗ وعید وغیرہ۔ نمبر 1۔ اور یہ بھی درست ہے کہ معنی اس طرح لیا جائے۔ اگر بالفرض یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کے انکاری ہو اور ایک گواہی دینے والے نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی گواہی دی ہو اور وہ شاہد ایمان لے آیا اور تم نے ایمان سے بڑائی اختیار کی۔ تو کیا تم پھر ظالم نہیں ہو ؟
فَاٰمَنَ (تم ایمان لے آئے) وَاسْتَکْبَرْتُمْ (اور تم نے تکبر کیا) ایمان سے۔ جو اب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ان کان القرآن من عنداللّٰہ وکفرتم بہٖ ألستم ظالمین ؟ اور محذوف پر دلالت کے لئے آیت کا حصہ کافی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا)
فائدہ : نمبر 1۔ وائو اول عاطفہ ہے۔ اور کفرتم کا عطف فعل شرط پر ہے۔ اسی طرح۔ نمبر 2۔ واستکبرتم کی وائو عاطفہ ہے۔ اور اس کا عطف شہد شاہد پر ہے۔ نمبر 3۔ باقی وشہد کی وائو۔ اس پورے جملے کا عطف کان من عنداللّٰہ وکفرتم بہٖ کے جملہ پر ہے۔
قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہوگیا اور تم انکاری ہو تو تم سب سے بڑے ظالم ہو :
معنی اس طرح ہے۔ کہہ دیجئے۔ مجھے تم بتلائو ! اگر قرآن کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا اور تمہارا اس کے ساتھ انکار کرنا دو نوں اکٹھے ہوجائیں اور بنی اسرائیل کے بڑے علم والے کی شہادت بھی اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر جمع ہوجائے پھر اس کا ایمان تمہارے قرآن سے استکبار اور اس پر ایمان سے استکبار کے باوجود ثابت ہوجائے تو کیا تم لوگوں میں سب سے بڑھ کر گمراہ اور ظالم نہ ٹھہرو گے ؟
Ayah 46:11آیت 11 : وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اور کافر لوگ ایمان والوں کو یوں کہتے ہیں) ایمان والوں کے لئے۔ یہ کفار مکہ کا کلام ہے۔ وہ کہنے لگے۔ محمد ﷺ کے عام پیرو کم درجہ لوگ ہیں۔ ان کی مراد فقراء صحابہ ؓ مثلاً عمار ٗ صہیب ٗ ابن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَیْہِ (اگر یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے) یعنی اگر محمدا جو چیز لائے ہیں خیر ہوتی تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کو قبول نہ کرتے۔ وَاِذْ لَمْ یَہْتَدُوْا بِہٖ (اور جب ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی) : اذ میں عامل محذوف ہے۔ کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ اذ لم یہتدوا بہٖ ظہر عنادہم۔ فَسَیَقُوْلُوْنَ ہٰذَآ اِفْکٌ قَدِیْمٌ (تو یہی کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے) یہ مسبب عنہ ہے۔ اور افک قدیم کا معنی پرانا جھوٹ ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ اساطیر الاولین۔ ] الانعام۔ 25[
Ayah 46:12آیت 12 : وَمِنْ قَبْلِہٖ (اور اس سے پہلے) یعنی قرآن مجید سے کِتٰبُ مُوْسٰی (موسیٰ کی کتاب ہے) تورات۔ : یہ مبتدأ اور من قبلہ ظرف مقدم خبر ہے اور اس کی وجہ سے امامامنصوب بوجہ حال ہے جیسا کہتے ہیں فی الدار زیدٌ قائمًا۔ اِمَامًا (نمونہ) دین و شریعت میں جس کی اقتداء کی جائے جیسا امام کی کی جاتی ہے۔ وَّرَحْمَۃً (اور رحمت ہے) ان کے لئے جو اس پر ایمان لائے اور اس پر عمل کیا۔ وَہٰذَا (یہ) یعنی قرآن کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ (ایک کتاب ہے جو اس کو سچا کرتی ہے) یعنی کتاب ِموسیٰ کو یا ان تمام کتابوں کو جو اس سے پہلے گزریں۔ لِّسَانًا عَرَبِیًّا (عربی زبان میں) مصدق میں کتاب کی طرف جو ضمیر ہے اس سے یہ حال ہے اور اس میں عامل مصدق ہے یا کتاب عامل ہے کیونکہ وہ صفت کی وجہ سے خاص ہے اور اس میں ہذا اشارہ کا معنی عامل ہے۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ مصدق سے ان کو مفعول بنائیں۔ تقدیر کلام اس طرح ہے یصدق ذالسان عربی وہو الرسول۔ (وہ عربی زبان والے رسول کی مصدق ہے) لِّیُنْذِرَ (تاکہ وہ ڈرائے) وہ کتاب۔ قراءت : حجازی و شامی نے لتنذر پڑھا ہے۔ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا) ظلم سے یہاں کفر مراد ہے۔ وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ (اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کیلئے)
نحو : بشری یہ محل نصب میں ینذر کے محل پر معطوف ہے۔ کیونکہ یہ مفعول لہ ہے۔ محسنین فرمانبردار مومن مراد ہیں۔
Ayah 46:13آیت 13 : اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر مستقیم رہے) اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسکے نبی ﷺ کی شریعت پر۔ فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ (ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں) قیامت کے دن وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ (اور نہ وہ غمگین ہونگے) موت کے وقت۔
Ayah 46:14آیت 14 : اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا (یہ لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے) : یہ اصحاب جنت سے حال ہے۔ اور اس میں اشارہ کا معنی عامل ہے۔ جس پر اولئک دلالت کر رہا ہے۔ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کاموں کے بدلے جو وہ کرتے تھے) : جزاء یہ مصدر ہے۔ اس فعل کا جس پر کلام دلالت کر رہا ہے۔ ای جو زوا جزائً
Ayah 46:15والدین کے ساتھ احسان کا حکم :
آیت 15 : وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا (اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا) قراءت : کوفی نے اسی طرح پڑھا۔ مطلب یہ ہے ہم نے اس کو حکم دیا کہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرے احسان کرنا۔ دیگر قراء نے حُسنًاپڑھا یعنی ہم نے اس کو والدین کے ساتھ حسن والی بات کا حکم دیا۔ یا بامرٍ ذی حسن۔ یہ بوالدیہ سے بدل کی جگہ میں ہے اور وہ بدل اشتمال ہے۔
حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْہًا (اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ جنا) قراءت : حجازی اور ابوعمرو نے کَرہًا پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جو مشقت کے معنی میں آتی ہیں یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای ذات کرہٍ یا نمبر 2۔ مصدر کی یہ صفت ہے۔ ای حملاً ذاکرہٍ ۔
وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗٗ (اور اس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑانا) یعنی مدت ِحمل و فطام (دودھ چھڑانا) ثَلٰثُوْنَ شَہْرًا (تیس ماہ ہے)
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اقل مدت حمل چھ ماہ ہے۔ کیونکہ مدت رضاعت جب دوسری آیت کے مطابق حولین کاملین (البقرہ۔ 233) ہے تو باقی حمل کے لئے چھ ماہ بچے۔ امام ابویوسف ومحمد رحمہما اللہ کا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس سے مراد ہاتھوں پر اٹھانا ہے۔
قراءت : یعقوب نے فصلہ پڑھا ہے۔ الفصل اور الفصال کے الفاظ الفطم اور الفطام کی طرح ہیں۔ معنی و بناوٹ ہر دو لحاظ سے۔
حَتّٰی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ (یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے) اَشُد کا لفظ جمع ہے اس کا واحد اس کے لفظ سے نہیں آتا۔
قولِ سیبویہ :
اس کا واحد شِدّۃٌ ہے۔ بلوغ الاشد۔ ادھیڑ عمر۔ اس عمر کو پورا کرنا جس میں عمر ٗ عقل مکمل ہوجاتی ہے اور یہ تیس سے زیادہ اور چالیس تک کا زمانہ ہے۔
قولِ قتادہ :
33 تینتیس سال اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جوانی کا پہلا حصہ ہے اور منتہی چالیس سال ہے۔
جوانی اور چالیس سال کی عمر زندگی کا کامل حصہ ہے :
وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ اَوْ زِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ (اور وہ چالیس سال کو پہنچتا ہے۔ تو کہتا ہے اے میرے پروردگار تو مجھ کو اس پر مداومت عنایت فرما کہ میں آپ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔ جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عنایت فرمائی ہیں) اوزعنی کا معنی مجھے الہام فرما۔ شکر نعمت سے مراد نعمت توحید و اسلام ہے۔
مسئلہ : اپنے اور والدین پر نعمت کے شکریے کو جمع کیا کیونکہ دونوں پر کی جانے والی نعمت خود اس پر نعمت ہے۔
وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ (اور میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں) ایک قول : اس سے مراد پانچوں نمازیں ہیں۔ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ (اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا فرما) یعنی میری اولاد میں بھلائی کا موقعہ اور مقام پیدا فرما۔ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ (میں آپ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں) ہر گناہ سے وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں) یعنی اخلاص برتنے والوں میں سے۔
Ayah 46:16آیت 16 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِہِمْ (یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے نیک کاموں کو قبول کریں گے اور انکے گناہوں سے درگزر کردیں گے) قراءت : حمزہ ٗ علی اور حفص کی قراءت میں نتقبل ونتجاوز ہے اور دیگر قراء نے یُتقَبل اور یتجاوز ٗ احسنُ پڑھا ہے۔ فِیْ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ (یہ اہل جنت میں سے ہونگے) یہ اس طرح ہے جیسا کہتے ہیں اکرمنی الامیر فی ناس من اصحابہٖ ۔ مراد یہ ہے اس نے ان میں سے جن لوگوں کا اکرام کیا مجھے ان لوگوں میں سے شمار کیا۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ معنی یہ ہوگا وہ جنت والوں میں ہونگے۔ اور ان میں ان کا شمار ہوگا۔
وَعْدَ الصِّدْقِ (اس وعدئہ صادقہ کی وجہ سے) ۔ : یہ مصدر مؤکد ہے کیونکہ یتقبل اور یتجاوز یہ اللہ تعالیٰ کی طرف تجاوز و قبولیت کے وعدے ہیں۔
ایک قول :
یہ ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے والد ابوقحافہ اور ان کی والدہ ام الخیر اور اولاد کے متعلق اتری۔ اور ابوبکر صدیق ؓ کی دعا کی قبولیت ان میں ظاہر ہوئی وہ جب ایمان لائے تو 38 اڑتیس سال کی عمر تھی اور ان کے لئے چالیس سال کی عمر میں دعا کی۔ صحابہ کرام میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جو خود اسلام لایا اور اس کے والدین اور بیٹے اور بیٹیاں تمام مسلمان صحابی بنے یہ اعزاز ابوبکر صدیق ؓ کو حاصل رہا۔ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ (جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا) دنیا کی زندگی میں۔
Ayah 46:17آیت 17 : وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ (اور جس نے اپنے والدین سے کہا) : یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبراولئک الذین حق علیہم القول ہے۔ اور مراد اس سے ان کی جنس ہے جنہوں نے یہ بات کہی۔ اس قول کی قائل جنس ہے اس لئے خبر جمع آئی ہے۔
قول حسن (رح) :
یہ اس کافر کے متعلق ہے جو ماں باپ کا نافرمان موت کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب کرنے والاہو۔
ایک قول یہ ہے :
کہ یہ عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ کے متعلق اتری۔ ان کے اسلام لانے سے قبل۔ مگر اس بات کے باطل ہونے کے لئے حضرت معاویہ کا خط دلیل ہے جو مروان کی طرف لکھا تھا کہ لوگوں کو یزید کی بیعت کا حکم دو ۔ تو اس پر عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ نے کہا کیا تم اس سے ہر قلیت لائو گے۔ کیا تم اپنے بیٹوں کے لئے بیعت لینے لگے ہو۔ اس پر مروان نے کہا۔ اے لوگو ! یہ تو وہ شخص ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ والذی قال لوالدیہ اف لکما۔ اس بات کو عائشہ صدیقہ ؓ نے سنا تو وہ اس پر ناراض ہوئیں اور فرمانے لگیں۔ اللہ کی قسم وہ اس کے متعلق نہیں ہے۔ اگر میں چاہوں تو میں اس کا نام لے سکتی ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تیرے باپ پر لعنت کی جب کہ تو اس کی پشت میں تھا۔ پھر تو اس کا حصہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی۔
(رواہ النسائی فی السنن الکبریٰ ‘ 11491)
اُفٍّ لَّکُمَآ (تم پر افسوس ہے) قراءت : یہ مدنی ٗ حفص کی قراءت ہے۔ مکی اور شامی نے اُفَّ پڑھا ہے اور دیگر قراء نے اُفِّ پڑھا ہے۔ یہ ایک آواز ہے جب یہ نکالی جاتی ہے اس سے ضجر کرنا ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ جب کوئی حَسِّ کہے تو معلوم ہوتا ہے وہ دکھی ہے اور لکما کی لام یہ بیان کے لئے ہے۔ کہ تافیف تم دونوں کے ساتھ خاص ہے اور کوئی اس سے متعلق نہیں۔ اَتَعِدٰنِنِیْ اَنْ اُخْرَجَ (کیا تم یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا) بعث بعدالموت سے میں اٹھوں گا اور زمین سے نکالا جائوں گا۔ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ (حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزریں) اور ان میں سے کوئی نہیں اٹھا۔ وَہُمَا (اور وہ دونوں والدین) یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ (اللہ تعالیٰ سے فریاد کر رہے ہیں) وہ کہنے لگے ہم تیرے اس قول کے متعلق اللہ تعالیٰ سے فریاد کے طالب ہیں۔ اس میں در حقیقت اس کے قول کو بہت سخت قرار دیا گیا۔ وہ دونوں کہہ رہے تھے۔ وَیْلَکَ (تیرا ناس ہو) یہ دعا ہلاکت حقیقت میں نہیں بلکہ اس ایمان پر برانگیختہ کرنا اور ابھارنا مقصود ہے۔ ٰامِنْ (تو ایمان لے آ) بعث بعدالموت پر اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (اللہ تعالیٰ کا بعث والا وعدہ سچا ہے) فَیَقُوْلُ (پس وہ انہیں کہنے لگا) مَاہٰذَٓا (بس یہ تمہاری) اِلاَّ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (بےسند باتیں ہیں) ۔
Ayah 46:18آیت 18 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ (اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا قول پورا ہو کر رہا) وہ قول لاملاَن جہنم ہے۔ ] اعراف۔ 18[ فِیْ اُمَمٍ (ان لوگوں کے ساتھ) یعنی من جملہ ان جماعتوں میں قَدْ خَلَتْ (جو ہو گزریں) مِّنْ قَبْلِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ (ان سے پہلے جن وانس میں سے کہ وہ نقصان اٹھانے والے تھے)
Ayah 46:19آیت 19 : وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا (اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کی وجہ سے الگ الگ درجے ملیں گے) کل سے دونوں جنس ابرار و اشرار مراد ہیں اور درجات سے منازل و مراتب۔ نحو : مِن بیانیہ ہے یعنی بدلہ ماعملوا جو عمل خیر و شر میں سے کیا۔ من اجلیہ ہے۔ ان کے عملوں کی وجہ سے درجات ہونگے۔
ایک قول :
درجات۔ جنت کے تو درجات ہیں۔ اور آگ کے درکات ہیں۔ تغلیبًا درجات کہہ دیا۔
وَلِیُوَفِّیَہُمْ اَعْمَالَہُمْ (تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے) قراءت : مکی ٗ بصری ٗ عاصم نے یاء سے پڑھا ہے۔ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (اور ان پر ظلم نہ ہوگا) تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور ان کے حقوق میں کمی نہ کرے۔ اس نے ان کی جزاء ان کے اعمال کے مطابق اندازہ کر رکھی ہے۔ پس ثواب کو درجات کی صورت اور سزا کو درکات کی حالت دے دی۔ لام محذوف سے متعلق ہے۔
Ayah 46:20کفار کی آگ پر پیشی سزا کے لئے :
آیت 20 : وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ (اور جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے) ان کو آگ پر پیش کرنا تعذیب و سزا کے لئے ہوگا۔ عرب کہتے ہیں۔ عرض بنو فلان علی السیف۔ فلان قتل کردیئے گئے۔ ایک قول یہ ہے کہ عرض النار کا قول اس سے لیا گیا جیسے کہتے ہیں۔ عرضت الناقۃ علی الحوض اس سے مقصد حوض کو اس کے سامنے کرنا مراد ہوتا ہے۔ پس ان کو پلٹا جائے گا۔ اَذْہَبْتُمْ (کیا تم حاصل کرچکے) ان کو کہا جائے گا کیا تم حاصل کرچکے۔ یہ ناصب ظرف ہے۔
طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا (لذت کی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں) یعنی جو تمہارے لئے طیبات میں سے حصہ لکھا گیا تھا۔ وہ تم نے دنیاہی میں پا لیا اور اس کو ضائع کردیا اس کو لے لیا۔ اب حصہ پورا کرلینے کے بعد کوئی چیز باقی رہی ہی نہیں جو تمہیں ملے۔
قولِ عمر ؓ :
اگر میں چاہوں تو میں تم سے زیادہ بہتر کھائوں اور تم سے خوبصورت پہنوں۔ لیکن میں تو اپنی آخرت کے لئے اپنے طیبات باقی چھوڑ رہا ہوں۔
وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا (اور تم نے ان طیبات سے خوب فائدہ اٹھایا) فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ (آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا) الہون کا معنی ذلت ہے اور ایک قراءت میں بھی ایسا پڑھا گیا ہے۔ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ (اس وجہ سے کہ تم ناحق تکبر کیا کرتے تھے) تستکبرون بمعنی تتکبرون ہے۔ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ (اور اس وجہ سے کہ تم نے نافرمانیاں کیں) تمہارے تکبر و فسق کی وجہ سے۔
Ayah 46:21قوم عاد کا تذکرہ :
آیت 21 : وَاذْکُرْ اَخَاعَادٍ (اور تم قوم عاد کے بھائی کا ذکر کرو) اخاعاد سے ہود (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗٗ بِالْاَحْقَافِ (جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو ریت کے مستطیل گول ٹیلوں کے پاس ڈرایا) احقاف یہ جمع حقف کی ہے بمعنی ریت کا طویل کچھ ٹیڑھا ٹیلہ۔ یہ احقوقف الشیٔ سے لیا گیا ہے۔ جبکہ وہ ٹیڑھی ہوجائے۔
قولِ ابن عباس ؓ :
یہ احقاف عمان و مہرہ کے درمیان وادی کا نام ہے۔
وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ (اور ڈرانے والے ہو گزرے) النذر جمع نذیر کی ہے جو بمعنی منذر ہے۔ یا النذر بمعنی انذار یعنی ڈرانا ہے۔ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ (ان سے پہلے اور ان سے پیچھے) یہ جملہ معترضہ وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ جو انذر قومہ اور الاتعبدوا کے مابین آیا ہے۔ بین یدیہ سے ہود سے پہلے اور خلفہ سے مراد ہود ( علیہ السلام) کے بعد۔
شرک کی سزا :
اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اللّٰہُ اِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ تعالیٰ ہی کی۔ مجھ کو تمہارے متعلق بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے) مطلب یہ ہے۔ قوم ہود کو جو ہود (علیہ السلام) کا انذار ہوا وہ تم ذکر کرو اور شرک کا انجام اور بڑا عذاب جو ان کو پیش آیا ان سے پہلے اور بعد بھی رسولوں نے اسی طرح امتوں کو ڈرایا۔
Ayah 46:22آیت 22 : قَالُوْا (قوم ہود کے لوگ کہنے لگے) اَجِئْتَنَا لِتَاْفِکَنَا (کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے تاکہ تو ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو ) تأفکنا اے تصرفنا پس الافک پھیرنے کو کہتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں اف کہ عن رأیہٖ ۔ عَنْ اٰلِہَتِنَا (ہمارے معبودوں سے) یعنی ان کی عبادت سے۔ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ (تو ہمارے پاس لے آجس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) کہ شرک پر ایسا عذاب ہوگا۔ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچا ہے) اپنے اس وعدے میں۔
Ayah 46:23آیت 23 : قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ (انہوں نے فرمایا۔ بیشک علم پورا تو) کہ عذاب کس وقت آئے گا۔ عِنْدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے) مجھے اس وقت کا کچھ علم نہیں۔ جس میں تمہیں عذاب ہوگا۔ وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ (مجھ کو جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ تم کو پہنچائے دیتا ہوں) قراءت : ابوعمرونے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ وہ جو کہ میری شان ہے۔ کہ میں تمہیں وہ پیغام پہنچائوں۔ جو انذار و تخویف میں سے مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔ وَلٰکِنِّیْ اَرٰکُمْ قَوْمًا تَجْہَلُوْنَ (لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نری جہالت کی باتیں کر رہے ہو) یعنی تم جاہل ہو اور جانتے نہیں ہو۔ کہ رسول تو منذر بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ وہ ایجاد کرنے والے اور ان چیزوں کا سوال کرنے والے نہیں ہوتے جس کی ان کو اجازت نہ ہو۔
Ayah 46:24آیت 24 : فَلَمَّا رَاَوْہُ (جب انہوں نے دیکھا اس بادل کو) اس کی ضمیر ماتعدنا کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یا وہ ضمیر مبہم ہے جس کو عارضًا سے واضح کیا گیا ہے۔ عَارِضًا یہ تمیز یا حال ہے۔ العارض اس بادل کو کہتے ہیں۔ جو سامنے والے افق سماء پر ظاہر ہو۔ مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا (اپنی وادیوں کے مقابل آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا) روایت میں ہے کہ بارش ان کے ہاں عرصہ سے نہ ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی وادیوں کی جانب آتا ہوا بادل دیکھا تو کہنے لگے۔ یہ بادل ہم پر بارش لائے گا اور خوشی سے یہ بات کھل کر کہی۔
لطیفہ اضافت :
مستقبل اور ممطر کی اضافت مجازی اضافت ہے۔ معرفہ بنانے والی نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ دونوں مضاف تو معرفوں کی طرف ہیں مگر صفت نکرہ عارض کی بن رہے ہیں۔
بَلْ ہُوَ (نہیں نہیں بلکہ وہی) یعنی ہود (علیہ السلام) نے فرمایا۔ بلکہ وہ اور اس پر وہ قراءت بھی دلالت کرتی ہیں جنہوں نے قال ہود بل ہو پڑھا ہے۔ مَااسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ (ہے جس کو تم جلدی مچاتے تھے) یعنی عذاب پھر تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔ رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ (ایک آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ہے)
Ayah 46:25آیت 25 : تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْئٍم (جو ہر چیز کو ہلاک کر دے گی) وہ عاد کے لوگوں اور کثیر مالوں کو تہس نہس کر دے گی۔ کثرت کو کل کے لفظ سے تعبیر کیا۔ بِاَمْرِرَبِّہَا (اپنے رب کے حکم سے) جو ریح کا رب ہے۔ فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلاَّ مَسٰکِنُہُمْ (چنانچہ وہ ایسے ہوگئے کہ سوائے ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا) ۔ قراءت : عاصم و حمزہ و خلف میں ہے ای لا یری شیٔ الامساکنہ مکہ ان کے مکانات کے سوا اور کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔ دیگر قراء نے مجہول و غائب کی بجائے لاتری الاَّ مساکنہم پڑھا۔ اس میں خطاب کا صیغہ ہر دیکھنے والا کو مخاطب کر کے لایا گیا۔ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ (ہم مجرموں کو یونہی سزا دیا کرتے ہیں) یعنی اس جیسی ہم سزا دیتے ہیں جو ان جیسے جرم کا مرتکب ہو۔ اس میں مشرکین مکہ کو ڈرایا گیا ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
حضرت ہود (علیہ السلام) اور مومن ایک مقام میں جمع ہوگئے۔ ان کو اتنی ہوا لگ رہی تھی۔ جو نفوس کو سکون پہنچا رہی تھی۔ اور وہ قوم عاد کو آسمان و زمین کے مابین گھما گھما کر پٹخ رہی تھی اور پتھروں سے ان کے سروں کو کچل رہی تھی۔
Ayah 46:26آیت 26 : وَلَقَدْ مَکَّنّٰہُمْ فِیْمَآ اِنْ مَّکَّنّٰکُمْ فِیْہِ (ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تم کو ان باتوں میں قدرت نہیں دی) نحو : اِن نافیہ ہے۔ ان باتوں میں مامکنا کم ہم نے تم کو قدرت نہیں دی۔ البتہ
ان کا مزہ :
اِنْ لفظ کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اور ما کو جمع کرنے میں بےمزہ تکرار واقع ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ مہما اصل میں ما ما ہے۔ اس بدمزگی کی وجہ سے الف کو ہا سے بدل ڈالا مہما بنا لیا۔ نمبر 2۔ ان کو وصلیہ زائدہ بنائیں اور اس کا مطلب ہوگا۔ اس لئے کہ ہم نے ان کو قدرت دی ان چیزوں میں جن میں تم کو قدرت دے رکھی ہے۔ مگر سب سے درست وجہ ان کو نافیہ بنانا ہے۔ اس لئے کہ ارشاد الٰہی ہے۔ ہم احسن اثاثا ورء یًا۔ ] مریم۔ 74[ اس میں ان کی طاقت و سامان کی کثرت کا ذکر ہے۔ اسی طرح آیت کا نوا اکثرہم منہم واشد قوۃ وأثارًا۔] غافر۔ 82[ : ما الذی کے معنی میں ہے۔ یا نکرہ موصوفہ ہے۔ وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَۃً (اور ہم نے ان کو کان ‘ آنکھیں اور دل دیئے تھے) یعنی آلات ِادراک و فہم فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَلَآ اَبْصَارُہُمْ وَلَآ اَفْئِدَتُہُمْ مِّنْ شَیْئٍ (مگر ان کو ان کے کان ٗ آنکھیں اور دل ذرا بھر کام نہ آئے) من شیٔ من الاغناء۔ فائدہ میں سے ذرا بھر فائدہ قلیل ترین فائدہ مراد ہے۔ اِذْ کَانُوْا یَجْحَدُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (اس لئے کہ وہ لوگ آیات الٰہیہ کا انکار کرتے تھے)
نحوی نکتہ :
اذ۔ یہ فما اغنٰی کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ تعلیل کے قائم مقام آیا ہے۔ کیونکہ تعلیل و ظرف کا کام تعلیل میں برابر ہے۔ جیسا اس قول میں ملاحظہ ہو۔ ضربتہ لاساء تہٖ ۔ ضربتہٗ اذا ساء۔ کیونکہ تم نے اس کو بےادبی کے وقت مارا تو تم نے اس کو اس لئے مارا کہ اس نے بےادبی کی۔ البتہ اذ، حیث یہ دونوں تمام ظروف پر اس سلسلہ میں استعمال میں غالب آگئے ہیں۔
وَحَاقَ بِہِمْ (اور اسی نے ان کو آگھیرا) اور وہ ان پر اتر پڑا۔ مَّاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے) انکے استہزاء کی سزا کے طور پر۔ اس میں کفار مکہ کو تہدید ہے۔ پھر اگلی آیت میں مزید تہدید کی گئی ہے۔
Ayah 46:27آیت 27 : وَلَقَدْ اَہْلَکْنَا مَا حَوْلَکُمْ (اور ہم نے تمہارے آس پاس کی اور اور بستیاں بھی ہلاک کی ہیں) کم سے مراد اہل مکہ ہیں۔
مِّنَ الْقُرٰی (جیسے قوم ثمود کی بستیاں جو مقام حجر میں واقع تھیں) قوم لوط کے شہر ٗ القری بول کر اہل القریٰ مراد ہیں۔ اسی لئے فرمایا۔ وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (اور ہم نے بار بار اپنی نشانیاں بتلا دی تھیں کہ وہ باز آجائیں) ہم نے ان پر قسم قسم کی عبرتیں اور دلائل بار بار بیان کردیئے تاکہ وہ سرکشی سے لوٹ کر ایمان کی طرف آجائیں مگر وہ نہ لوٹے۔
Ayah 46:28ان کے معبودوں کی سفارش کہاں گئی :
آیت 28 : فَلَوْلَا (پس کیوں نہ) نَصَرَہُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُرْبَانًا اٰلِہَۃً (ان کی مدد کی جن جن چیزوں کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا ہے) القربان سے وہ چیز مراد ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔ یعنی ان کو ایسا سفارشی قرار دیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ جبکہ وہ کہا کرتے تھے۔ ہؤلاء شفعاؤنا عنداللّٰہ۔
نحو : اتخذ کا ایک مفعول الذین محذوف کی طرف لوٹنے والا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ اتخذوہم اور دوسرا مفعول اٰلہۃًہے اور قربانًا حال ہے۔ بَلْ ضَلُّوْا عَنْہُمْ (بلکہ وہ ان سے گم ہوگئے) وہ ان کی مدد سے غائب رہے۔ وَذٰلِکَ اِفْکُہُمْ وَمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (اور وہ ان کی تراشی ہوئی اور گھڑی ہوئی بات ہے) ذلٰک کا اشارہ اٰلہہ کے ان کی مدد نہ کرنے کی طرف ہے۔ اور مدد سے غائب رہنے کی طرف ہے۔ یعنی یہ ان کا مدد نہ کرنا اور مدد سے غائب رہنا۔ یہ اثر و نحوست ان کے اس افتراء کی ہے کہ انہوں نے ان کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کے شرک اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنے کا نتیجہ ہے۔
Ayah 46:29جنات کی آمد اور ایمان قبول کرنا :
آیت 29 : وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا (جب کہ ہم جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف لے آئے) ہم نے ان کو مائل کیا اور آپ کی جانب متوجہ کیا۔ النفر دس سے کم تعداد پر بولا جاتا ہے۔ مِّنَ الْجِنِّ ( جنات کی ایک جماعت) یہ نصیبین مقام کے جنات تھے۔ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْٰانَ (جو قرآن سننے لگے تھے) آپ ﷺ سے۔ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ (جب وہ لوگ قرآن کے پاس آپہنچے) ہٗ کی ضمیر قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ آپ سے اتنے فاصلہ پر پہنچے کہ وہاں سے قرآن سن سکتے تھے۔ قَالُوْٓا (وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے) اَنْصِتُوْا (خاموشی سے سنو)
روایت : میں ہے کہ جنات خبریں چرانے کے لئے آسمان کی طرف پرواز کرتے جب آسمان کی حفاظت کردی گئی اور ان کو شہاب پڑنے لگے۔ تو کہنے لگے۔ یہ بات کسی خاص حادثہ کا نتیجہ ہے۔ سات جنات کا ٹولہ یا نو سرداران نصیبین یا نینوی جن میں ایک کا نام زوبعہ تھا۔ ادھر ادھر چلتے پھرتے رہے یہاں تک کہ وہ تہامہ میں پہنچے پھر ان کا گزر وادی نخلہ سے ہوا۔ وہاں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پایا جبکہ آپ رات کے دوران نماز ادا فرما رہے تھے یا نماز فجر میں مصروف تھے۔ انہوں نے آپ کی قراءت کو غور سے سنا۔
قولِ سعید بن جبیر :
کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ تو جنات کے سامنے پڑھا اور نہ ان کو دیکھا۔ بلکہ آپ تو نماز میں تلاوت فرما رہے تھے۔ ادھر سے جنات کا گزر ہوا۔ تو ان کو قرآن سننے کی توفیق مل گئی۔ آپ کو اس کی خبر بھی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے قرآن سننے کی آپ کو خبر دی ہے۔
ایک قول یہ ہے :
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو جنات کو انذار کرنے کا حکم دیا اور ان کو پڑھ کر سنانے کا حکم ہوا۔ تو ان میں ایک گروہ آپ کی طرف پھر کر آیا۔ پس آپ نے فرمایا۔ مجھے حکم ملا ہے کہ آج رات میں جنات کے سامنے قرآن پڑھوں پس کون میرے ساتھ چلے گا۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔ تمام نے سر جھکا لیے صرف عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ میں لیلۃ الجن میں صرف حاضر تھا میرے سوا اور کوئی موجود نہ تھا۔ ہم چلتے گئے یہاں تک کہ ہم مکہ کی بالائی جانب شعب حجون میں پہنچ گئے۔ آپ نے میرے لئے ایک خط کھینچ دیا۔ اور فرمایا۔ تم اس سے مت نکلنا جب تک میں واپس نہ آئوں۔ پھر قرآن کو شروع فرمایا۔ میں نے سخت شور و شغب سنا۔ (واپس آکر مجھے فرمایا کیا تم نے کچھ دیکھا۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ کالے سیاہ مرد۔ آپ نے فرمایا۔ وہ نصیبین مقام کے جنات تھے۔ یہ بارہ ہزار کی تعداد میں آئے تھے۔ اور جو سورت ان پر پڑھی وہ اقرء باسم ربک تھی۔ (حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ لم اجدہ بتمامہ فی سیاق واحدٍ ۔ حاشیہ کشاف)
فَلَمَّا قُضِیَ (پھر جب قرآن پڑھا جا چکا) یعنی نبی اکرم ﷺ قراءت سے فارغ ہوچکے۔ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ (تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس خبر پہنچانے کے لئے واپس آگئے) تاکہ وہ ان کو ڈرائیں۔
Ayah 46:30آیت 30 : قَالُوْا یٰـقَوْمَنَآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰـبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی (وہ کہنے لگے اے ہمارے بھائیو ! ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں۔ جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی) انہوں نے من بعد موسٰی کہا۔ کیوں کہ وہ پہلے یہودیت پر تھے۔
قول ابن عباس ؓ :
جنات نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کی اطلاع نہ پائی تھی۔
مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے) یَہْدِیْ اِلَی الْحَقِّ ( حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے) الحق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستہ کی طرف)
Ayah 46:31آیت 31 : یٰـقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ (اے ہماری قوم اللہ تعالیٰ کے داعی کی بات کو قبول کرو) داعی سے مراد محمد ﷺ وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَ یُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (اور اس پر ایمان لے آئو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور درد ناک عذاب سے محفوظ رکھے گا)
قولِ امام ابوحنیفہ (رح) :
جنات کو کوئی ثواب نہیں مگر صرف جہنم سے آزادی۔ اور دلیل یہ آیت ہے۔
قولِ امام مالک ٗ ابن ابی لیلیٰ ٗ ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ :
ان کو ثواب و عقاب دونوں ہونگے۔
قولِ ضحاک :
وہ جنت میں داخل ہونگے اور اس میں سے کھائیں پئیں گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لم یطمثہن انس قبلہم ولا جانٌّ۔] الرحمان۔ 56[
Ayah 46:32آیت 32 : وَمَنْ لاَّ یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا۔ وہ زمین میں ہرا نہیں سکتا) یعنی اس کو عذاب سے نجات پانے کے لئے بھاگنے کی جگہ نہ ملے گی۔ وَلَیْسَ لَہٗٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئُ اُولٰٓپکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی حامی بھی نہ ہوگا۔ ایسے لوگ صریح گمراہی میں ہیں)
Ayah 46:33آیت 33 : اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ (کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا نہیں تھکا) یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ وما مسنا من لغوب۔ ] ق۔ 38[ عرب عییت بالامر اس وقت بولتے ہیں۔ جب اس کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔ بِقٰدِرٍ (وہ اس پر قدرت رکھتا ہے) : یہ محل رفع میں خبر اَنَّ ہے۔ اس پر قراءت عبداللہ بن مسعود قادرٌ دلالت کرتی ہے۔ اور باء کو اس پر داخل کیا گیا کیونکہ ابتدائے آیت نفی پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ اَنّ اور ما اس کے حیز میں ہیں۔
قول الزجاج :
اگر تم اس طرح کہو : ماظننت ان زیدًا بقائم تو یہ جائز ہے۔ گویا یہ اس طرح کہا گیا ہے۔ الیس اللّٰہ بقادرٍ ۔ کیا تم بلٰی کو نہیں دیکھ رہے کہ وہ آرہا ہے۔ وہ اس ہر چیز بعث وغیرہ پر قدرت کو پختہ کر رہا ہے۔ وہ ان کی رؤیت کے لئے نہیں لایا گیا۔
عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ الْمَوْتٰی بَلٰٓی (کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ کیوں نہیں) یہ نفی کے جواب میں کلام لائی گئی۔ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے)
Ayah 46:34آیت 34 : وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَلَی النَّارِ (اور جس روز کافر لوگ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے) ۔ انہیں کہا جائے گا۔ اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّ (کیا یہ دوزخ امر حقیقت نہیں ہے) ظرف کا ناصب قول کا لفظ مضمر ہے۔ اور ہذا کا مشارالیہ عذاب ہے۔ قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ (وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ! ضرور امر واقعی ہے۔ ارشاد ہوگا۔ تو اپنے کفر کے بدلے میں اس کا عذاب چکھو) کیونکہ تم دنیا میں کفر کرتے تھے۔
Ayah 46:35صبر و ثبات کا حکم جلد بازی کی ممانعت :
آیت 35 : فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ (تو آپ صبر کریں جیسا اور ہمت والے) مِنَ الرُّسُلِ (رسولوں نے صبر کیا تھا) اولوا العزم کا معنی کوشش ٗ صبر و ثبات والے۔ : نمبر 1۔ من الرسل کا من تبعیضیہ ہے۔ اس سے مراد اولوالعزم ہیں۔ جن کا تذکرہ احزاب کی اس آیت میں ہے۔ و اذا اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوحٍ و ابراہیم وموسٰی و عیسیٰ ابن مریم۔ ] الاحزاب : 7[
اور یونس (علیہ السلام) ان میں سے نہیں کیونکہ ان کے لئے فرمایا۔ لا تکن کصاحب الحوت۔ ] القلم۔ 48[ اسی آدم علیہ
السلام بھی اس لئے کہ ارشاد الٰہی ہے ولم نجد لہ عزمًا ] طہ۔ 115[
نمبر 2۔ یا مِن بیانیہ ہو تو اولوالعزم یہ صفت تمام رسل کی بنے گی۔ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ (اور ان لوگوں کے لئے جلدی نہ کیجئے) کفار قریش کے لئے جلد عذاب نہ مانگیں۔ یعنی جلد عذاب ملنے کی دعا نہ کریں۔ پس وہ عذاب ضرور اترے گا۔ خواہ کچھ دیر سے۔ کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّ سَاعَۃً مِّنْ نَّہَارٍ (جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے۔ جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ تو گویا یہ لوگ دن بھر میں ایک گھڑی رہے ہیں) یہ اس وقت دنیا میں قیام کی مدت کو بہت قلیل قرار دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ اس کو دن کی ایک گھڑی خیال کریں گے۔ بَلٰغٌ (یہ پہنچا دینا ہے) یہ پوری بات ہے۔ یعنی یہ وعظ جو تمہیں کیا گیا یہ کافی وعظ ہے۔ یا یہ رسول کی طرف سے پہنچا دینا ہوچکا ہے۔ فَہَلْ یُہْلَکُ اِلاَّ الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ (پس وہی برباد ہونگے جو نافرمانی کریں گے) عذاب سے ہلاکت مراد ہے۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہرگز ہلاک نہ کیا جائے گا مگر ان لوگوں کو جو نافرمان ہیں یعنی شرک کرنے والے اور نصیحت سے نکلنے والے اور اس کے موجب پر عمل سے نکلنے والے ہیں۔