45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

آیت 1 : حٰمٓ : اگر اس کو سورت کا نام قرار دو تو پھر یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ یہ خبر ہے۔ من اللہ یہ تنزیل کا صلہ ہے۔ نمبر 2۔ اگر یہ حروف مقطعات سے شمار ہو۔ تو پھر تنزیل الکتاب مبتدأ اور ظرف خبر ہے۔ الْعَزِیْزِ (وہ زبردست ہے) اپنے انتقام میں الْحَکِیْمِ (حکمت والا ہے) ۔ اپنی تدبیر میں۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

آیت 3 : اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ (آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل کثیرہ موجود ہیں) اور نمبر 2۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ بلاشبہ آسمان و زمین کی پیدائش میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت وفی خلقکم ہے۔ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (مؤمنین کیلئے)
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

آیت 4 : وَفِیْ خَلْقِکُمْ (اور تمہاری پیدائش میں) وَمَایَبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ (اور ان حیوانات کے پیدا کرنے میں جن کو پھیلا رکھا ہے) نحو : اس کا عطف خلق جو مضاف ہے اس پر ہے۔ کیونکہ مضاف الیہ ضمیرمجرور متصل ہے اس پر عطف قبیح ہے۔ ٰایٰتٌ (دلائل ہیں) قراءت : حمزہ ٗ علی نے نصب سے پڑھا ہے باقی قراء نے رفع سے۔ جیسے تم کہو ٗ ان زیدًا فی الدار وعمروًا فی السوق یا عمرٌو فی السوق۔ اسم پر عطف کی صورت میں منصوب ہے اور مبتدأ ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں)
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

آیاتِ قدرت : آیت 5 : وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ (اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں اور اس رزق میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا) رزق سے مراد بارش ہے اور رزق بوجہ سبب رزق ہونے کے کہا گیا ہے۔ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ (اور اس سے زمین کو ترو تازہ کردیا۔ اس کے خشک ہوجانے کے بعد اور ہوائوں کے بدلنے میں) قراءت : حمزہ و علی نے الریح پڑھا ہے۔ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (عقل والوں کے لئے دلائل ہیں) قراءت و نحو : آیات کو علی و حمزہ نے حالت نصب سے پڑھا اور دیگر قراء نے رفع سے۔ یہ دو عاملوں کا عطف ہے اس میں رفع و نصب برابر ہیں۔ دو عامل نمبر 1۔ اِنّ اور فی ہیں۔ وائو ان دونوں کی جگہ لائے پس واختلاف اللیل والنہار میں جر کا عمل کیا اور آیات میں نصب کا اور جب تم رفع دو تو پھر دو عامل ابتداء اور فی ہیں۔ وائو آیات میں رفع کا عمل کرے گا اور اختلاف میں جر دے گا۔ یہ اخفش کا مذہب ہے۔ کیونکہ وہ عاملین کے عطف کو جائز قرار دیتے ہیں۔ باقی سیبویہ وہ اس کے سرے سے انکاری ہیں۔ پس آیت ان کے ہاں فی کو مضمر ماننے کے ساتھ ہوگی۔ اور جو بات اس کی تحسین کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان دو آیتوں میں فی کا تذکرہ موجود ہے اور ابن مسعود ؓ کی قراءت بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ وفی اختلاف اللیل والنہار۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ آیات کو خصوصًا منصوب مان لیں اور مجرور کو ماقبل پر معطوف مان کر کلام کو ختم کردیں یا آیات جو پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے اس کی تکریر تاکید کے طور پر منصوب مان لیں۔ گویا اس طرح کہا گیا آیاتٍ آیاتٍ ۔ اور رفع کی صورت میں ہِیَ کو مضمر مانیں گے۔ فائدہ مہمّہ : ایمان کو ایقان سے پہلے اور پھر درمیان میں لانے اور آخر میں ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انصاف پسند بندے جب آسمانوں اور زمین پر صحیح نگاہ ڈالتے ہیں تو وہ یقین کرلیتے ہیں کہ یہ کسی کا بنایا ہوا ہے اور اس کا صانع اور بنانے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی ہو نہیں سکتا۔ پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے ہیں۔ پھر جب اپنے نفوس کی تخلیق کو دیکھتے ہیں اور اس میں آئے روز کے تغیرات دیکھتے ہیں اور زمین میں جو ظاہری اشیاء ہیں ان کی تخلیق پر نگاہ ڈالتے ہیں کہ اس میں قسم قسم کے حیوانات ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ اور ان کو یقین ہوجاتا ہے پھر جب تمام حوادث پر ان کی نگاہ پڑتی ہے۔ جو ہر وقت نئے سے نئے پیش آرہے ہیں۔ مثلاً دن رات کا آنا جانا۔ بارشوں کا اترنا ٗ زمین کا بنجر ہونے کے بعد دوبارہ درست ہوجانا ‘ ہوائوں کا مختلف اطراف و کیفیات جنوب ٗ شمال ٗ قبول ٗ دبور سے چلنا وغیرہ تو سمجھ جاتے ہیں اور ان کا علم اس کے متعلق پختہ ہو کر یقین خالص بن جاتا ہے۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

آیت 6 : تِلْکَ (یہ) اس سے آیات سابقہ متقدمہ کی طرف اشارہ کیا ہے ای تلک الایات۔ (آیات) اٰیٰتُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں) نَتْلُوْہَا (ہم ان کو پڑھ کر سناتے ہیں) یہ محل حال میں ہے۔ ای متلوۃ۔ اس حال میں کہ پڑھی جانے والی ہیں۔ عَلَیْکَ بِالْحَقِّ (آپ کو صحیح طور پر) اور عامل پر تلک کا اشارہ والا معنی دلالت کر رہا ہے۔ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ (تو پھر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد اور کونسی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے) بعداللہ کا معنی بعد آیات اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بعد یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں اعجبنی زیدٌ وکرمہ۔ اس سے ان کا مقصد اعجبنی کرم زیدٍ ۔ مجھے زید کی سخاوت نے تعجب میں ڈال دیا ہے۔ قراءت : حجازی، ابوعمرو، سہل اور حفص نے یؤمنون یاء سے پڑھا دیگر قراء نے تاء سے پڑھا اور تقدیر عبارت یہ قرار دی۔ قل یا محمد۔ الٰی آخر تومنون۔
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

آیت 7 : وَیْلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ (بڑی خرابی ہوگی ہر ایسے شخص کے لئے جو جھوٹا ہونا فرمان ہو) افاک۔ کذاب۔ اثیم۔ جو پہ درپہ گناہ کرنے والا ہو۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

آیت 8 : یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے) : یہ موضع جر میں صفت ہے۔ تُتْلٰی عَلَیْہِ (جبکہ وہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں) ۔ یہ آیات اللہ سے حال ہے۔ ثُمَّ یُصِرُّ (پھر بھی وہ تکبر کرتا ہے) اپنے کفر کی طرف متوجہ اور قائم رہتا ہے۔ مُسْتَکْبِرًا (آیات حقہ پر ایمان لانے اور یقین کرنے سے تکبر کرتا ہے) ان آیات میں عیب نکالتا اور اپنے ہاں جو کچھ ہے اس کو بہت کچھ خیال کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ یہ نضر بن حارث کے متعلق اتریں وہ عجم سے قصے خرید کر لاتا اور اس میں لوگوں کو مصروف کر کے قرآن سننے سے رکاوٹ بنتا۔ آیات اپنے عموم میں تمام اعدائے دین کو شامل ہیں۔ نکتہ ٔ ثم : ثم یہاں لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ گمراہی پر اصرار اور ایمان سے تکبر کی راہ اختیار کرنا قرآن جیسی معجز کتاب کے بعد تو بہت ہی بعید ہے۔ صحیح عقل اس کے خلاف فیصلہ دے گی۔ کَاَنْ میں تخفیف ہے اصل کانّہٗ ہے۔ لَمْ یَسْمَعْہَا (جیسے ان کو سنا ہی نہیں) ہا کی ضمیر ضمیر شان ہے اور یہ جملہ حال کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ یصر مثل غیر السامع۔ فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (پس اس کو ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے) یعنی اس کو ایسی خبر دے دو جس کا اثر اس کی ظاہری پیشانی پر نظر آئے۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

کفار کا قرآن سے استہزاء : آیت 9 : وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا (اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے) جب اس کو ہماری آیات میں سے کوئی چیز پہنچتی ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ یہ ان آیات میں سے ہے۔ اڑتَّخَذَہَا (تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے) وہ ان آیات کو بناتا ہے۔ ہُزُوًا (مذاق) ۔ ایک نکتہ : یہاں اتخذہٗ نہیں فرمایا۔ تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ جب وہ کلام کا کوئی سا حصہ پاتا ہے تو اس کو تمام آیات سے مذاق سوجھتی ہے اور تمام قرآن کا مذاق اڑاتا ہے۔ صرف قرآن کے اسی حصے کے استہزاء پر اکتفاء نہیں کرتا۔ نمبر 2۔ ضمیر ہا کا مرجع شیٔ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ آیت کے معنی میں ہے۔ جیسا ابو العتاہیہ نے کہا۔ نفسی بشیٔ من الدنیا معلقۃ۔ اللّٰہ والقائم المہدی یکفیہا۔ شیٔ سے مراد یہاں مہدی کی محبوبہ لونڈیوں میں سے عتبہ نامی لونڈی مراد ہے اسی لئے ضمیر مؤنث کی ہا اس کی طرف لوٹائی گئی ہے۔ ابو العتاہیہ اس کے عشق میں مبتلا تھا۔ اُولٰٓپکَ سے ہر جھوٹے مفتری کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ وہ تمام افتراء پر دازوں کو شامل ہے۔ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ (ان کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے)
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

آیت 10 : مِنْ وَّرَآئِ ِہمْ (ان کے آگے) الوراء : ہر اس جہت کو کہتے ہیں جو آدمی کو چھپائے خواہ آگے ہو یا پیچھے۔ جَہَنَّمُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ مَّا کَسَبُوْا (جہنم ہے اور نہ تو ان کو وہ چیزیں ذرا کام آئیں گی جو وہ کما کر گئے تھے) ماکسبوا سے اموال مراد ہیں۔ شَیْئًا (ذرا بھر) اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے ذرا بھر وَلَا مَا اتَّخَذُوْا (اور نہ وہ جن کو انہوں نے بنایا تھا) نحو : مَا۔ دونوں میں مصدریہ ہے۔ یا موصولہ ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّّٰہِ اَوْلِیَآئَ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (کار ساز اللہ تعالیٰ کے سوا) یعنی بت۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے جہنم میں۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

آیت 11 : ہٰذَا ہُدًی (یہ قرآن مکمل ہدایت ہے) ہذا کا مشارالیہ قرآن ہے۔ اس پر یہ آیت دلالت کر رہی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ (اور جو لوگ اپنے رب کی آیات کو نہیں مانتے) آیات رب تو قرآن مجید ہے۔ یعنی یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔ جیسا کہتے ہیں زیدٌ رجل ای کامل فی الرجولیۃ۔ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ (ان کے لئے سختی کا درد ناک عذاب ہوگا) رجز سخت ترین عذاب کو کہتے ہیں۔ قراءت : الیمٌ کو رفع کے ساتھ مکی ٗ یعقوب وحفص نے پڑھا ہے۔ یہ عذاب کی صفت ہے اور دیگر قراء نے رجزٍ کی صفت قرار دے کر مجرور پڑھا ہے۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

تسخیر بحر کی نشانی : آیت 12 : اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا اپنے حکم سے تاکہ اس میں کشتیاں چلیں) بامرہ کا معنی باذنہٖ ہے۔ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (تاکہ تم اس کی روزی تلاش کرو) ۔ تجارت کے ذریعہ یا غوطہ خوری کر کے لو لو ٔ اور مرجان نکالو۔ اور تازہ گوشت مچھلی کی صورت میں اس سے نکالووَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (تاکہ تم شکر ادا کرو)
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

تمام کائنات کی تسخیر : آیت 13 : وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ (اور جتنی چیزیں آسمانوں میں جتنی چیزیں زمین میں ہیں۔ ان سب کو اپنی طرف سے مسخر کیا) : جمیعًایہ مافی السمٰوٰت کی تاکید ہے اور سخرکا مفعول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مِنْہُ : یہ حال ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ سخر ہذہ الاشیاء کائنۃ منہ وحاصلۃ من عندہٖ ۔ ان اشیاء کو مسخر کیا اس حال میں کہ وہ اس کی طرف سے ہونے والی اور اس کے ہاں سے وجود میں آنے والی ہیں۔ یا مصدر محذوف کی صفت ہے ای تسخیرًا منہ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل ہیں جو غور کرتے رہتے ہیں)
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

آیت 14 : قُلْ لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا یَغْفِرُوْا (آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے۔ کہ ان لوگوں سے در گزر کریں) یعنی ان کو کہہ دیں تم در گزر کرو وہ در گزر کریں گے۔ قال کا مقولہ حذف کردیا۔ کیونکہ جواب اس پر دلالت کر رہا تھا۔ یغفروا کا معنی معاف اور در گزر کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ لام مضمرہ کی وجہ سے مجزوم ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ لیغفروا۔ پس اس صورت میں یہ امر ہے اور جملہ مستانفہ ہے۔ اور امر پر دلالت کی وجہ سے حذف لام جائز ہے۔ لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) وہ توقع نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ کے ان معاملات کی جو وہ اپنے دشمنوں سے فرماتا ہے۔ اہل عرب ایام العرب وقائع عرب کو بولتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے : وہ ان اوقات میں تامل نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ثواب دینے کے لئے مقرر فرمائے ان میں ان سے کامیابی کا وعدہ فرمایا۔ ایک قول یہ ہے کہ عمر ؓ کے متعلق اتری : جب ان کو بنی غفار کے ایک مشرک نے گالیاں دیں۔ آپ نے اس کی مرمت کا ارادہ کیا۔ لِیَجْزِیَ (تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے) یہ امر بالمغفرت کی علت بیان فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان کو حکم ملا کہ وہ بخش دیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو پورا بدلہ مغفرت کی صورت میں قیامت کے دن عنایت فرمائے۔ قَوْمًا (ایک قوم کو) اس کو نکرہ مدح کی وجہ سے لائے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ لیجزی ایما قوم وقومًا مخصوصین بصبرہم علی اذی اعدائہم۔ تاکہ وہ جس قوم کو چاہے بدلہ دے خصوصًا وہ لوگ جو دشمن کی ایذائوں پر صبر کرنے والے تھے۔ قراءت : شامی ٗ حمزہ ٗ علی نے لنُجٰزی پڑھا ہے۔ یزیدنے لیجزی قومًا پڑھا۔ ای لیجزی الخیر قومًا۔ تاکہ ان لوگوں کو خیر کا بدلہ دیا جائے۔ خیر کے لفظ کو مضمر مانا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کر رہا ہے جیسا کہ الشمس کا لفظ مضمر ہے اس آیت میں حتی توارت بالحجاب۔ ] ص 32[ کیونکہ ارشاد اذ عرض علیہ بالعشی۔ ] ص۔ 31[ سورج کے غروب ہونے کی دلیل ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح نہیں ہے لیجزی الجزاء قومًا۔ کیونکہ مصدر فاعل کا قائم مقام نہیں ہوتا۔ اور معک صحیح مفعول ہے۔ مفعول ثانی کا فاعل کی جگہ رکھنا جائز ہے۔ جیسا تم کہتے ہو جزاک اللّٰہ خیرًا 0۔ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (ان کے عمل کا صلہ دے) احسان کے ساتھ اپنی طرف سے۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

آیت 15 : مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَا (جو شخص نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ذاتی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو شخص برا کام کرتا ہے تو اس کا و بال اسی پر پڑتا ہے) ۔ نیک کام والے کو اپنا ثواب ملے گا اور برے کام والے کو اپنا عذاب ہوگا۔ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ (پھر تم اپنے رب کی بارگاہ میں لوٹائے جائو گے) الی ربکم سے اپنے رب کی جزاء کی طرف
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

آیت 16 : وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ الْکِتٰبَ (ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب دی) الکتاب سے تورات مراد ہے۔ وَالْحُکْمَ (اور حکم) حکمت اور فقہ یا لوگوں کے مابین فیصلے چکانا کیونکہ بادشاہت انہی میں تھی۔ وَالنُّبُوَّۃَ (پیغمبری دی) نبوت کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا کیونکہ بنی اسرائیل میں کثرت سے انبیاء (علیہم السلام) ہوئے۔ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ (اور ہم نے ان کو نفیس نفیس چیزیں کھانے کو دی) جو حلال رزق اللہ تعالیٰ ان کو میسر فرماتے تھے۔ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (اور ہم نے ان کو دنیا جہان والوں پر فضیلت دی) جو ان کے زمانہ میں لوگ تھے۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

اللہ تعالیٰ نے علم نبوت اختلاف کے ازالہ کے لئے اتارا ‘ انہوں نے حد سے انکار کردیا : آیت 17 : وَ ٰاتَیْنٰہُمْ بَیِّنٰتٍ (اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں واضح دلیلیں دیں) بینات سے آیات اور معجزات مراد ہیں۔ مِّنَ الْاَمْرِ (یعنی دین کے معاملہ میں) فَمَا اخْتَلَفُوْا (پس انہوں نے اختلاف نہیں کیا) ان کے مابین دین میں اختلاف واقع نہ ہوا۔ اِلاَّ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ (مگر علم آجانے کے بعد آپس کی ضد کی وجہ سے) یعنی اس وقت اختلاف ڈالا جب اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز اتاری جو مخالفت کو زائل کرنے والی تھی۔ اور وہ علم نبوت ہے۔ انہوں نے اختلاف کو حسد و عداوت کی بناء پر قائم کیا اور رکھا۔ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا) فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (جن باتوں میں یہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے) ایک قول : اس سے مراد وہ اختلاف ہے جو ان کے درمیان طلب ریاست میں اوامرو نواہی کے سلسلہ میں محض حسد کی وجہ سے پیدا ہوا۔ جہالت کی بناء پر نہیں تھا کہ جس میں انسان کسی قدر معذور شمار ہوتا ہے۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

دین قریش اہواء کا مجموعہ ہے : آیت 18 : ثُمَّ جَعَلْنٰـکَ (پھر ہم نے آپ کو کردیا ) ۔ اہل کتاب کے اختلاف کے بعد عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ (دین کے ایک خاص طریقہ پر) فَاتَّبِعْہَا (پس آپ اسی طریقہ پر چلتے جایئے) آپ اپنی اس شریعت کی اتباع کرتے رہیں جو دلائل و شواہد سے ثابت شدہ ہے۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (اور ان جہلاء کی خواہشات پر مت چلیں) جہال کی خواہشات پر مت چلیں اس لئے کہ ان کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور دین قریش بدعات واہواء پر ہی مشتمل تھا یہ اس مطالبے کا جواب ہے جو رؤسائے قریش کی طرف سے سامنے آیا اور بار بار سامنے آیا کہ اپنے آبائو اجداد کے دین پر لوٹ آئیں۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

آیت 19 : اِنَّہُمْ (بیشک یہ کافر لوگ) لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ (اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ذرہ بھر آپ کے کام نہیں آسکتے۔ اور ظالم ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کا دوست ہے) متقین ہی اللہ تعالیٰ سے موالات کرنے والے ہیں۔ دونوں موالاتوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

آیت 20 : ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ (یہ قرآن عام لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا ذریعہ ہے) ہذا کا مشارالیہ قرآن ہے۔ بصائر : یعنی اس میں دین و شریعت کے جو نشانات بتلائے گئے وہ دلوں میں بصیرت کی جگہ ہیں جیسا کہ ان کو روح وحیات قلوب بنایا گیا ہے۔ وَہُدًی (اور ہدایت ہے گمراہی سے) وَّرَحْمَۃٌ (اور رحمت ہے عذاب سے) لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (یقین لانے والوں کے لئے) جو ایمان لائے اور بعث بعدالموت پر یقین کیا۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

گنہگار اور نیک برابر نہیں : آیت 21 : اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ (کیا یہ خیال کرتے ہیں جو) اممنقطعہ ہے اور ہمزہ کا معنی انکار گمان ہے۔ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ (برے برے کام کرتے ہیں) کفر و معاصی کماتے ہیں۔ اجترح سے ہی جوارح ہے۔ وفلان جارحۃ اہلہ۔ یعنی اس کا کام کرنے والا ہے۔ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ (کہ ہم ان کو رکھیں گے) بنادیں گے۔ : یہ جعل متعدی الی المفعولین ہے۔ پہلا مفعول ضمیر اور دوسرا کاف ہے جو کہ کالذین میں ہے کَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (برابر ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کیے) اور جملہ سواء محیاہم ومماتہم یہ کاف کا بدل ہے۔ کیونکہ جملہ مفعول ثانی ہے۔ اور حکم مفرد میں ہے۔ سَوَآئً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ (سب کا جینا مرنا برابر ہوجائے) قراءت : علی ٗ حمزہ وحفص نے نصب سے سوائً پڑھا ہے۔ فجعلہم کی ضمیر سے حال قرار دیا ہے۔ اور محیاہم ومماتہم سواء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اعمش نے ومماتہم نصب سے پڑھا ہے اور محیاہم ومماتَھم کو ظرف قرار دیا جیسا مقدم الحاج۔ مطلب یہ ہوگا سواء فی محیاہم وفی مماتہم۔ اپنی زندگی اور اپنی موت میں برابر ہوں۔ معنی آیت کا یہ ہے۔ گناہگار اور نیک زندگی میں برابر نہیں اور موت میں برابر نہیں۔ کیونکہ زندگی میں ان کے حالات مختلف ہیں۔ اس لئے کہ یہ نیک لوگ زندگی میں طاعات پر قائم رہے اور کافر برائیوں کا ارتکاب کرتے رہے اور موت میں بھی برابر نہیں کیونکہ ایمان والوں کو رحمت و کرامت کی بشارت ملی اور کفار کو رحمت سے مایوسی اور ندامت سامنے آئی۔ ایک قول یہ ہے : اس میں اس بات سے انکار ہے کہ موت میں وہ برابر ہوں۔ جیسا کہ زندگی میں رزق و صحت میں برابر تھے۔ حضرت تمیم داری ؓ : سے روایت ہے کہ ایک دن وہ مقام کے پاس نماز پڑھے رہے تھے۔ جب اس آیت پر تلاوت پہنچی تو رونے لگے اور صبح تک اسی کو دہراتے رہے۔ فضیل (رح) : وہ تلاوت میں جب اس آیت تک پہنچے تو دہرانے لگے۔ اور کہنے لگے۔ اے فضیل کاش مجھے معلوم ہوجاتا کہ تو کونسے فریق میں سے ہے ؟ سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ (یہ برا حکم لگاتے ہیں) یہ بہت برا فیصلہ کر رہے ہیں۔ جبکہ انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ وہ ایمان والوں کی طرح ہونگے۔ اس لئے کہ جو موافقت کے قالین پر بٹھایا ہوا ہو وہ اس جیسا نہیں جو مقام مخالفت میں بٹھایا گیا ہو۔ بلکہ ہم ان میں فرق کریں گے۔ اور اہل ایمان کو بلند کریں گے اور کفار کو رسوا کریں گے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت 22 : وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا) تاکہ یہ اس کی قدرت پر دلالت کریں۔ وَلِتُجْزٰی (اور تاکہ بدلہ دیا جائے) اس کا عطف اس معلل محذوف پر ہے۔ کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (ہر نفس کو اس کے کیے ہوئے عمل کا اور ان پر ذرا ظلم نہ کیا جائے گا)
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

آیت 23 : اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰہُ (کیا آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا الٰہ اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے) یعنی وہ خواہش نفس کا مطیع ہے۔ جس طرف خواہش اس کو لے جاتی ہے۔ گویا وہ خواہش کی اسی طرح عبادت کرتا ہے جیسا معبود کی عبادت کرتے ہیں۔ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ (اور اللہ تعالیٰ نے اس کو باوجود سمجھ بوجھ کے گمراہ کردیا) اس نے خود ضلال کو اختیار کیا یا ضلال کا فعل اس میں پیدا فرما دیا۔ علی علمٍ اس کے باوجود کہ اس کو اس کا علم ہے۔ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ ( اور اس کے کان پر مہر لگا دی) وہ وعظ و نصیحت کو قبول نہیں کرتا۔ وَقَلْبِہٖ (اور دل پر) وہ حق کا معتقد نہیں ہوتا۔ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً (اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے) وہ عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ قراءت : حمزہ وعلی نے غشوَۃ پڑھا ہے۔ فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اللّٰہِ (پس ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کے بعد کون ہدایت دے گا) یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کردینے کے بعد اَفَـلَا تَذَکَّرُوْنَ (کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے) قراءت : حمزہ و علی ٗ حفص نے تذکرون کو تخفیف سے پڑھا اور دیگر قراء نے تشدید سے۔ شروخیر : شر کی اصل اتباع خواہشات ہے اور مخالفت خواہشات میں مکمل خیر ہے۔ کسی نے خوب کہا ؎ اذا طلبتک النفس یوما بشہوۃ کان الیہا للخلاف طریق فدعہا وخالف ماہویت فانما ہواک عدو والخلاف صدیق نمبر 1۔ جب تم سے کسی دن تمہارا نفس کسی نفسانی خواہش کا طالب ہو اور اس خواہش کی مخالفت کا تمہارے پاس راستہ بھی ہو۔ نمبر 2۔ تو اس خواہش کو چھوڑ دے اور خواہش کی مخالفت کر کیونکہ خواہش تیرا دشمن اور اس کی مخالفت تیرا دوست ہے۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

آیت 24 : وَقَالُوْا مَاہِیَ (اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ سوائے اس حیات کے) یعنی کوئی زندگی نہیں کیونکہ ان سے موت کے بعد والی زندگی کا وعدہ کیا گیا۔ اِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا (جو ہماری دنیا کی زندگی ہے۔ اور کوئی حیات نہیں) جس میں ہم ہیں اور اس کو گزار رہے ہیں۔ نَمُوْتُ وَنَحْیَا (ہم مرتے اور جیتے ہیں) نمبر 1۔ ہم مرتے ہیں اور ہماری اولادیں پیدا ہوتی ہیں۔ یا نمبر 2۔ بعض مرتے اور بعض زندہ رہتے ہیں۔ نمبر 3۔ یا ہم نطفہ کی شکل میں مردہ تھے اور اس کے بعد پیدا ہوئے۔ نمبر 4۔ یا ہمیں دونوں باتیں پیش آتی ہیں موت و زندگی۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ حیات تو یہ دنیا کی زندگی ہے اور موت اسکے بعد ہے۔ اسکے بعد کوئی زندگی نام کی چیز نہیں۔ ایک قول یہ ہے : کہ یہ اہل تناسخ کا مقولہ ہے۔ کہ آدمی مرجاتا ہے۔ پھر اس کی روح مختلف مردہ چیزوں میں ڈال دی جاتی ہے وہ اس سے زندہ ہوجاتی ہیں۔ کفار کا قول : زمانہ قوت دیتا ہے : وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلاَّ الدَّہْرُ (اور ہم کو زمانہ سے موت آتی ہے) ان کا خیال یہ تھا کہ دن رات کی آمدو جامد یہ موت میں موثر ہے۔ وہ موت کے فرشتہ اور قبض ارواح باذن اللہ کے قائل نہ تھے۔ وہ ہر پیش آنے والے حادثہ کو دھر و زمانہ کی طرف منسوب کردیا کرتے تھے۔ ان کے اشعار میں کثرت سے زمانے کا شکوہ پایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے اسی سلسلہ میں ارشاد فرمایا۔ لاتسبوا الدھر۔ زمانہ کو گالیاں نہ دو بیشک زمانہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ (بخاری 6181‘ مسلم 2246) یعنی حوداث اللہ تعالیٰ لاتے ہیں زمانہ نہیں۔ وَمَالَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلاَّ یَظُنُّوْنَ (ان لوگوں کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے محض اٹکل سے ہانک رہے ہیں) وہ یہ بات کسی علم و یقین کی بنیاد پر نہیں کہتے بلکہ محض ظن وتخمین کا شاخسانہ ہے) ۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

آیت 25 : وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ ٰایٰتُنَا (اور جس وقت ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں) آیات سے قرآن مراد ہے وہ آیات جن میں بعث بعدالموت کا تذکرہ ہے۔ بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمْ (کھلی کھلی تو انکا جواب یہی ہوتا ہے) ان کی بات کو حجت فرمایا اگرچہ وہ واقعہ میں حجت نہ تھی۔ کیونکہ ان کے خیال میں تو حجت تھی گویا بقول انکے انکی دلیل اِلاَّ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِٰابَآپنَا (کہ ہمارے باپ دادوں کو سامنے لے آئو) یعنی انکو زندہ کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اپنے بعث بعدالموت کے دعویٰ میں۔ نحو : کان کا اسم ان قالوا ہے اور حجتہم اس کی خبر ہے۔ معنی یہ ہے۔ انکی حجت آجاکر یہ بات ہے کہ ہمارے باپ دادوں کو لے آئو۔ قراءت : ایک قراءت میں حجتُہم رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں یہ اسم کان ہے اور ان قالوا خبر ہے۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

آیت 26 : قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ (کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو زندہ رکھتا ہے) دنیا کی زندگی میں۔ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ (پھر وہ تم کو موت دے گا) جبکہ تمہاری عمروں کا اختتام ہوگا۔ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (پھر وہ قیامت کے دن میں تم کو جمع کرے گا) تم سب کو قیامت کے دن اٹھائے گا۔ اور جو ذات اس پر قادر ہے۔ وہ تمہارے آباء کو بھی لانے کی قدرت رکھتی ہے اگر ضرورت ہو۔ لَارَیْبَ فِیْہِ (اس میں شبہ نہیں) جمع ہونے میں وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) کہ اللہ تعالیٰ کو بعث پر قدرت ہے۔ کیونکہ وہ دلائل پر غور و فکر سے منہ موڑنے والے ہیں۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

آیت 27 : وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَپذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز اہل باطل خسارہ میں پڑیں گے) نحو : یخسر۔ یہ قوم پر نصب دے رہا ہے اور یومئذٍ یہ یوم تقوم کا بدل ہے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

قیامت کے دن زانو کے بل گرنا : آیت 28 : وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً (اور آپ ہر فرقہ کو دیکھیں گے کہ زانو کے بل گرپڑیں گے) جاثیہ : زانو کے بل بیٹھنا۔ کہا جاتا ہے۔ جثا فلان یجثو۔ جبکہ وہ زانو کے بل بیٹھے۔ ایک قول یہ ہے : اس کا معنی اکٹھے ہونے والی ہے۔ نحو : کلُ اُمۃ۔ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ قراءت : کلکو کل امۃ کا بدل مان کر یعقوب نے نصب پڑھا ہے۔ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی کِتٰبِہَا (ہر فرقہ اپنے نامہ عمل کی طرف بلایا جائے گا) کتاب سے اعمال کے صحائف مراد ہیں۔ اسم جنس پر اکتفاء کیا گیا۔ پھر ان کو کہا جائے گا۔ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (آج تم کو تمہارے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا) جو دنیا میں کیے ہیں۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

اعمالنامے کا پیش ہونا آیت 29 : ہٰذَا کِتٰبـُنَا (یہ ہمارا دفتر ہے) کتاب کی نسبت اپنی طرف ملابست کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ان کے اعمال اس میں درج ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت اس لئے ہے کہ وہ مالک ہے۔ فرشتوں کو اسی نے حکم دیا کہ وہ اس کے ندوں کے اعمال اس میں درج کریں۔ یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ (جو تمہارے مقابلے میں بول رہا ہے) جو تم نے عمل کیے ان کی گواہی دے رہا ہے۔ بِالْحَقِّ (ٹھیک ٹھیک) بلاکم وکاست۔ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (ہم تمہارے اعمال کو لکھواتے جاتے تھے) تمہارے اعمال ملائکہ سے لکھواتے تھے۔ ایک قول یہ ہے : نسخت اور استنسخت دونوں ایک معنی میں ہیں۔ یہ کتاب سے نقل کرنے سے نہیں بلکہ اس کا معنی رجسٹر میں لکھنا ٗ درج کرنا ہے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

آیت 30 : فَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْ خِلُہُمْ رَبُّہُمْ فِیْ رَحْمَتِہٖ (پس جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کیے تھے۔ تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا) رحمت سے جنت مراد ہے۔ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (اور یہ صریح کامیابی ہے)
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

آیت 31 : وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور وہ لوگ جو کافر تھے) پس ان کو کہا جائے گا۔ اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ (کیا میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں) مطلب یہ ہے۔ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے۔ پس میری آیات تم پر نہیں پڑھی جاتیں تھیں۔ تو معطوف علیہ کو حذف کردیا۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ألم یاتکم رسلی فلم تکن آیاتی تتلٰی علیکم۔ فَاسْتَکْبَرْتُمْ (پس تم نے ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا تھا) وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (اور تم بڑے مجرم لوگ تھے) یعنی کافر۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

آیت 32 : وَاِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے) جو جزاء کے متعلق فرمایا۔ نحو : ان اور اس کے اسم کے محل پر عطف کی صورت میں مرفوع ہے۔ قراءت : حمزہ نے الساعۃَ پڑھا ہے۔ اور اس کو وعداللّٰہ۔ پر عطف کیا ہے۔ وَّالسَّاعَۃُ لَا رَیْبَ فِیْہَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ (اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ تو تم کہا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے) وہ کہتے قیامت کیا چیز ہے۔ اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّ ظَنًّا (محض ایک خیال تھا) اس کا اصل اس طرح ہے۔ نظن ظنًا اور اس کا معنی صرف گمان کا ثابت کرنا ہے۔ پھر حرف نفی اور استثناء کو داخل کیا گیا۔ تاکہ اثبات ظن کا فائدہ نفی ماسوا کے ساتھ دے۔ اور ماسوی الظن کی نفی کا اضافہ تاکید کے لئے کیا گیا ہے۔ وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ (اور ہم کو یقین نہیں)
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

آیت 33 : وَبَدَالَہُمْ (اور ان کو ظاہر ہوجائیں گے) یعنی ان کفار کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے۔ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا (تمام برے اعمال) ان کے اعمال کی قباحتیں یا ان کے برے اعمال کی سزائیں۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا۔ ] الشوری۔ 40[ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (اور وہ ان کو آ گھیرے گا جس کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے) ان کے استہزاء کی سزا ان پر اتر پڑے گی۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

عذاب میں پڑے چھوڑ دیا جائے گا : آیت 34 : وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا (اور کہا جائے گا۔ آج ہم تم کو بھلائے دیتے ہیں یسا تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا) ننساکم ہم تمہیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ جیسا تم نے اس دن کی ملاقات کا وعدہ چھوڑے رکھا اور اس کا حاصل اطاعت ہے۔ لقاء کی اضافت یوم کی طرف اس طرح ہے جیسا مکر کی اضافت لیل و نہار کی طرف اس آیت میں آئی ہے۔ بل مکر اللیل والنہار ] سبا۔ 33[ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو بھلا دیا اپنے اس دن میں اور اس کی جزاء کے ملنے کو بھلا دیا۔ وَمَاْوٰکُمُ النَّارُ (تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے) تمہاری منزل وَمَالَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (اور کوئی تمہارا مددگار نہیں)
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

آیت 35 : ذٰلِکُمْ (یہ) اس وجہ سے ہے یعنی عذاب بِاَنَّکُمُ (اس سبب سے کہ تم) اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی ہنسی اڑائی تھی اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ پس آج یہ لوگ نہ تو دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا تدارک طلب کیا جائے گا) یعنی ان سے یہ نہ طلب کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب سے معافی مانگیں یعنی اس کو راضی کریں۔
Ayah 45:36

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

آیت 36 : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (پس تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ جو آسمانوں کا پروردگار اور زمین کا پروردگار ہے تمام عالم کا) اس اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرو جو کہ تمہارا رب اور ہر چیز کا رب ہے خواہ وہ آسمانوں و زمین کی چیز ہو یا اور جہانوں کی۔ پس ایسی ربوبیت عامہ حمد وثناء کو ہر مربوب پر لازم کرتی ہے۔
Ayah 45:37

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہ غالب اور دانا ہے

تمام حمد و بڑائی کے لائق وہی ہے : آیت 37 : وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اسی کے لئے بڑائی ہے۔ آسمان و زمین میں) اس کی بڑائی بیان کرو اس کی کبریائی کے آثار ظاہر و باہر ہیں اور اس کی عظمت آسمانوں اور زمین میں۔ وَہُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہی زبردست ہے) اپنے انتقام میں۔ الْحَکِیْمُ (حکمت والا ہے) اپنے احکام میں۔