Ayahs 44:1–2حٰمٓ۔ وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۔
(حم۔ قسم ہے اس واضح کتاب کی۔ کہ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے۔ ہم آگاہ کرنے والے تھے)
آیت 1 : حٰمٓ۔ (2) وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ یعنی قرآن مجید۔ : وائو قسمیہ ہے اگر حم کو حروف مقطعات میں سے بنائو۔ یا سورت کا نام قرار دیں تو خبر ہے اور اس کا مبتداء محذوف ہے اور وائو عاطفہ ہے۔ جب حم کو مقسم بہٖ بنائیں اور جواب قسم انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ ہے۔
Ayah 44:3آیت 3 : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ لیلہ مبارک سے لیلۃ القدر کی رات مراد ہے۔ یا پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔
ایک قول یہ ہے :
اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتیں ہیں۔
قول جمہور :
اس سے لیلۃ القدر مراد ہے۔ اس لئے کہ دوسری آیت میں فرمایا انا انزلناہ فی لیلۃ القدر۔ (القدر) ۔ 1۔ اور دوسرا یہ ارشاد شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ ] البقرۃ۔ 185[
اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک میں ہے۔ پھر علماء نے فرمایا۔ مکمل قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف لیلۃ القدر کی رات میں اتارا گیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) ضرورت کے وقت حضرت محمد ﷺ پر لے کر اترتے تھے۔
ایک قول یہ ہے :
ابتدائے نزول لیلۃ القدر میں ہوا۔ المبارکہ کا معنی خیر کثیر اور اس لئے بھی کہ اس میں خیر و برکت اترتی ہے۔ اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں اگر ان میں سے کوئی چیز نہ بھی ہوتی تب بھی اس کی برکت کے لئے نزول قرآن ہی کافی ہے۔ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ (ہم ہی آگاہ کرنے والے تھے)
Ayah 44:4قرآن خود امر حکیم سے ہے :
آیت 4 : فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ (اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے) یہ اکٹھے دو جملے مستانفے ہیں۔ جن سے جواب قسم کی تفسیر کی گئی ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ہم نے اس کو اتارا کیونکہ ہماری شان انذار اور عقاب سے خبردار کرنا ہے۔ اور ہمارا قرآن مجید کو خصوصًا اس رات میں اتارنا کیونکہ انزال قرآن امور حکیمہ میں سے ہے۔ اور یہ رات ہر امر حکیمی کو جدا کرنے والی ہے اور یفرق کا معنی جدا کرنا اور لکھنا ہے۔ کل امر۔ سے بندوں کے ارزاق ٗ ان کی مدت عمر اور اس رات سے لے کر آئندہ رات پیش آنے والے معاملات مراد ہیں۔ حکیم۔ حکمت والے۔ اس طرح کئے جاتے ہیں جن کا حکمت تقاضا کرتی ہے۔ امور کو حکیم کہنا یہ اسناد مجازی ہے۔ کیونکہ یہ تو دراصل صاحب امر کی صفت ہے۔ مجازاً امر کو بھی حکیم کہہ دیا۔
Ayah 44:5آیت 5 : اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا (ہمارے پاس سے حکم ہو کر) امراً یہ منصوب بوجہ اختصاص ہے۔ ہر امر کو بڑا عظیم الشان قرار دیا کیونکہ وہ حکیم کی صفت رکھتا ہے۔ پھر اس کی عظمت و شان کو یہ کہہ کر چار چاند لگا دیئے کہ فرمایا یہ امر تو ہمارے پاس سے صادر ہونے والا ہے۔ جیسا ہمارا علم اور تدبیر اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ (ہم ہی آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے) : یہ انا کنا منذرین [ الدخان : 3] سے بدل ہے۔ رحمۃً من ربک اس کا مفعول لہ ہے۔
Ayah 44:6آیت 6 : رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ (بوجہ رحمت کے جو آپ کے رب کی طرف سے ہوتی ہے) نمبر 1۔ اس کو مفعول لہ بنائیں تو معنی اس طرح ہوگا۔ ہم نے قرآن مجید اتارا ہے۔ کیونکہ ہماری شان یہ ہے کہ رسولوں کو کتابیں دے کر اپنے بندوں کی طرف بھیجتے ہیں۔ ان بندوں پر رحمت کرنے کے لئے۔ نمبر 2۔ امرًا من عندنا کی یہ علت ہے۔ اور رحمۃً مفعول بہٖ ہے۔
ایک نکتہ :
رحمت کی صفت ارسال کے ساتھ لائی گئی ہے۔ جیسا کہ اس کی صفت اس ارشاد میں بھی اسی طرح ہے۔ وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہٖ ۔ [ فاطر : 2] اصل عبارت اس طرح ہے۔ انا کنا مرسلین رحمۃً منا۔ پس منّا ضمیر کی بجائے من ربک کو لایا گیا تاکہ بتلا دیا جائے ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ مربوبین پر رحمت کی جائے۔ اِنَّہٗٗ ہُوَ السَّمِیْعُ (بیشک وہی سننے والا) ان کے اقوال کا الْعَلِیْمُ (جاننے والا) ان کے احوال کا۔
Ayah 44:7اگر دل سے اللہ کو خالق مانتے ہو تو محمد ﷺ کو اس کا رسول مان لو :
آیت 7 : رَبِّ قراءت و نحو : یہ من ربک سے بدل ہے۔ کوفی نے اس کو مکسور پڑھا ہے اور دیگر قراء نے رفع سے پڑھا ہے ای ہو ربُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ (جو کہ مالک ہے آسمان و زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اس کا بھی اگر تم یقین لانا چاہو) اور شرط کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اقرار تھا کہ آسمانوں اور زمین کا ایک رب اور خالق ہے۔ پس ان کو کہا گیا۔ کہ ارسال رسل اور انزال کتب یہ رب العالمین کی محض رحمت ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ یہ رب ہی تو ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔ جس کے تم خود اقراری ہو اور یہ مانتے ہو کہ وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور ان کے مابین کا بھی رب ہے۔ اگر تمہارا یہ اقرار علم اور یقین کی بنیاد پر ہے۔ جیسا تم کہتے ہو۔ ان ہذا انعام زید الذی تسامع الناس بکرمہ۔ اگر تمہیں اس کے متعلق بات پہنچی ہو۔ اور اس کا واقعہ بیان کیا گیا ہو۔ اگر یہ چوپائے اس زید کے ہیں جس کے متعلق لوگ سخاوت کی باتیں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ جانور اسی سے متعلق ہیں تو سنی جانے والی بات بالکل درست ہے۔ ان اظہار شک کے لئے نہیں ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کا خالق دل سے کہتے ہو تو دل سے اس کو مانو اور یقین کرو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
Ayah 44:8آیت 8 : لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ رَبُّکُمْ (اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں) وہی جان ڈالتا ہے اور جان نکالتا ہے۔ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے۔ یعنی وہ تمہارا بھی پروردگار ہے۔ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ (اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے) اس پر عطف کیا۔ پھر اگلی آیت میں ان کے دعویٰ یقین کی تردید کی۔
Ayah 44:9آیت 9 : بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ (بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں) ان کا اقرار علم و یقین کی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ کھیل اور استہزاء کا ملغوبہ ہے۔
Ayah 44:10قیامت کے قریب والا دھواں :
آیت 10 : فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ (پس آپ اس دن کا انتظار کریں کہ آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہو) فارتقب کا معنی پس آپ انتظار کریں۔ : فارتقب کا مفعول یوم تأتی ہے۔
قیامت سے پہلے آسمان کی طرف سے ایک دھواں چھا جائے گا۔ وہ کفار کے کانوں میں گھس کر اس طرح کر دے گا کہ ہر ایک کا سر بکری کے بھونے ہوئے سر کی طرح ہوگا۔ مومن کو اس سے صرف زکام پیش آئے گا اور پوری زمین پر یہ حال ہوگا۔ جیسا کہ وہ ایک گھر ہے جس میں آگ جلائی گئی ہے اور دھواں اٹھ رہا ہے گھر کی دیواروں میں کوئی روشن دان دھواں خارج کرنے والا نہیں۔
ایک قول یہ ہے :
جب قریش نے رسول اللہ ﷺ کو بہت تنگ کیا آپ نے دعا فرمائی۔ اللہم اشدد وطأتک علی مضر و اجعلہا علیہم سنین کسنی یوسف۔ اے اللہ قریش پر اپنے بندھن کو سخت کر دے اور یوسف کے قحط والے سالوں کی طرح قحط کے سال مسلط فرما۔ قریش کو کافی مشقتیں آئیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ مردار اور خون اور اونٹ کی اون کا بنا ہوا کھانا کھانے پر مجبور ہوگئے۔ آدمی آسمان کی طرف نگاہ دوڑاتا تو دھواں چھایا ہوا نظر آتا۔ اور آدمی بات کرتا دھوئیں سے نظر نہ آتا تھا۔ (رواہ احمد ٗ 1/441 والبخاری۔ 4824 وسلم۔ 2798) ۔ مبینٌ جس کا حال ظاہر ہو۔ اور اس کے دھواں ہونے میں کوئی شک نہ کرے گا۔
Ayah 44:11آیت 11 : یَغْشَی النَّاسَ (وہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا) ان کو ہر طرف سے آ گھیرے گا۔ اور لباس کی طرح ڈھانپ لے گا۔ یہ محلاً مجرور ہے اور دخان کی صفت ہے۔ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ (یہ درد ناک عذاب ہے)
Ayah 44:12آیت 12 : رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ (اے ہمارے رب ہم سے اس مصیبت کو دور کر دے۔ ہم ضرور ایمان لے آئیں گے) یعنی اگر عذاب ہم سے ہٹا لیا جائے تو ابھی ہم ایمان لے آئیں گے۔
نحو : یہ فعل مضمر کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور وہ یقولون ہے۔ اور پھر یقولون خود حال ہونے کی وجہ سے منصوب المحل ہے۔ ای قائلین ذلک۔
Ayah 44:13آیت 13 : اَنّٰی لَہُمُ الذِّکْرٰی (ان کو کب نصیحت ہوتی ہے) یہ کیسے وعظ و نصیحت کو قبول کریں گے اور عذاب کے کھل جانے پر وعدہ وفائی کیا کریں گے۔ وَقَدْ جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ (حالانکہ ان کے پاس ظاہر شان کا پیغمبر آیا)
Ayah 44:14کفار کا الٹا الزام یہ مجنون ہے :
آیت 14 : ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ (پھر بھی یہ لوگ اس سے منہ پھیرے رہے اور کہتے رہے سکھایا ہوا دیوانہ ہے) یعنی حالانکہ اس کے پاس سے عظیم تر نشان آچکا۔ اور اس کو نصیحت پالینے میں دھوئیں کے کھل جانے کی بنسبت زیادہ دخل ہے اور وہ واضح معجزات ہیں جو آیات بینات کی صورت میں ان کے سامنے ظاہر ہوئے۔ مگر انہوں نے نصیحت قبول نہ کی بلکہ اس سے منہ موڑا اور رسول اللہ ﷺ پر بہتان لگایا کہ عداس نامی غلام نے اس کو سکھا دیا اور آپ کی نسبت جنون کی طرف کی۔
Ayah 44:15آیت 15 : اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلاً (ہم کچھ وقت کے لئے عذاب کو ان سے ہٹا دیں گے) قلیلاً سے پہلے موصوف زمانًا محذوف ہے یا کشفًا قلیلاً ۔
اِنَّکُمْ عَآپدُوْنَ (بیشک تم اپنی اسی حالت پر آجائو گے) اسی کفر کی طرف جس میں تم پہلے مبتلا تھے یا عذاب کی طرف لوٹنے والے ہو۔
Ayah 44:16آیت 16 : یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی (جس روز ہم بڑی سخت پکڑ کریں گے) اس سے مراد قیامت کا دن یا یوم بدر کا دن ہے۔ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ (ہم بدلہ لیں گے) اس دن ہم ان سے بدلہ لیں گے۔ : اذکر کی وجہ سے یوم منصوب ہے۔ یا انا منتقمون جس پر دلالت کر رہا ہے۔ ای ننتقم۔ منتقمون نہیں۔ کیونکہ انا کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔
Ayah 44:17تذکرئہ موسیٰ d:
آیت 17 : وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَہُمْ (ہم نے ان سے پہلے آزمایا) ان مشرکین سے یعنی ان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کیا جو مختبر مختبر کے ساتھ کرتا ہے۔ تاکہ ان کا باطن سامنے آجائے۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ (قوم فرعون کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے) جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والے اور اس کے مومن بندوں پر مہربانی کرنے والے یا ذاتی اعتبار سے کریم ٗ حسب و نسب والے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوم کے سردار اور شرفاء کو ہی نبوت سے نوازا ہے۔
Ayah 44:18آیت 18 : اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ (کہ میرے حوالے کردو) : یہ ان مفسرہ ہے۔ کیونکہ رسول کی آمد ان کی طرف جن کی طرف ان کی بعثت ہوتی ہے اس میں قول کا معنی خود پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ پیغمبر ان کے ہاں مبشر ٗ نذیر اور داعی الی اللہ بن کر آتے ہیں۔ یا نمبر 2۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہے۔ وجاء ہم بان الشان والحدیث ادوا ای سلموا الی۔ اور وہ رسول ان کے پاس آئے اس لئے کہ شان اور بات یہ ہے تم میرے سپرد کردو۔
عِبَادَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے بندوں کو) اور مراد بنو اسرائیل ہیں۔ عرب کہتے ہیں ادوہم الی وارسلوھم معی جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ فارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبہم۔ ] طہ۔ 47[ یہ مفعول بہٖ ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ منادی ہو۔ ای ادوا الی یا عباداللّٰہ۔ اے اللہ کے بندوں مجھے ادا کرو جو میرا حق تم پر لازم ہے۔ کہ مجھ پر ایمان لائو۔ اور میری دعوت کو قبول کر کے میری راہ پر چلو۔ اور اس کی تعلیل اس قول سے فرمائی۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ (میں تمہاری طرف فرستادہ ہوں) اپنی رسالت کے متعلق امانتدار ہوں مجھ پر بددیانتی کی تہمت نہیں۔
Ayah 44:19آیت 19 : وَ اَنْ لاَّ تَعْلُوْا عَلَی اللّٰہِ (اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے سرکشی مت کرو) یہ ان ادوا کی طرح دو صورتیں رکھتا ہے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کی وحی کی توہین کر کے تکبر مت کرو۔ نمبر 2۔ اور پیغمبر رب العالمین کے ماننے میں تکبر سے مت کام لو۔
اِنِّیْ اٰتِیْکُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (میں تمہارے سامنے ایک واضح دلیل پیش کرتا ہوں) واضح دلیل جو میری نبوت کو ثابت کرے۔
Ayah 44:20قتل کی دھمکی پر استعاذئہ ربّ :
آیت 20 : وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں کہ تم لوگ مجھے پتھروں سے قتل کرو) قراءت : عُذت کو عت ادغام کے ساتھ ابوعمرو ‘ حمزہ اور علی نے پڑھا۔ ترجمون کا معنی مجھے رجم سے قتل کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی پناہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے پکڑی ان کے تمام فریبوں سے۔ اس میں پیغمبر ان کی رجم وقتل کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہیں۔
Ayah 44:21آیت 21 : وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْالِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ (اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو تم مجھ سے الگ رہو) اگر تم میرے اوپر ایمان نہیں لاتے تو میرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پھر کوئی دوستی نہیں۔ پس تم مجھ سے دور ہوجائو یا تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو نہ میری موافقت کرو اور نہ مخالفت اور اپنے شرو ایذاء سے میرا سامنا مت کرو۔ پس ایسے شخص کا سنگ سار کرنا نہیں جو تمہیں فلاح و بھلائی کی طرف بلاتا ہو۔
قراءت : فاعتزلونی۔ دونوں حالتوں میں یعقوب نے پڑھا ہے۔
Ayah 44:22آیت 22 : فَدَعَا رَبَّہٗ (تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی) اپنی قوم کی شکایت کرتے ہوئے۔ اَنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ (بیشک یہ سخت مجرم لوگ ہیں) ان یہ اصل میں بان ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے رب سے اس طرح دعا کی ہؤلاء قوم مجرمون۔
ایک قول یہ ہے :
ان کی دعا اس طرح تھی۔ اللہم عجل لہم مایستحقونہ باجرامہم۔
ایک اور قول ہے :
دعا کا مصداق یہ قول ہے۔ ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین۔ ] یونس۔ 85[
قراءت : اِن ہؤلاء کسرہ سے بھی پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں قول ظاہر ہوگا۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی فدعا ربہ فقال ان ہؤلاء۔
Ayah 44:23بنی اسرائیل کا خروج اور فرعون کا تعاقب :
آیت 23 : فَاَسْرِ (تم راتوں رات میرے بندوں کو لے جائو) یہ اسری سے ہے۔ قراءت : فاسر۔ وصل کی صورت میں حجازی نے پڑھا۔ اور سری سے لیا ہے۔ اور فائ کے بعد قول مضمر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ فقال اسر۔ بِعِبَادِیْ (اے میرے بندو ! ) مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لَیْلًا اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ (رات کو بیشک تمہارا تعاقب ہوگا) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ تم آگے اور فرعون اور اس کا لشکر تمہارے تعاقب میں نکلیں۔ پھر آگے جانے والوں کو اللہ تعالیٰ بچا لے اور پیچھا کرنے والوں کو ہلاک کر دے۔
Ayah 44:24آیت 24 : وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَہْوًا (اور تم سمندر کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا) رہوًا ساکن۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر عبور کر کے بعد میں سمندر پر لاٹھی مارنا چاہی تاکہ وہ راستہ فرعونیوں پر بند ہوجائے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا۔ کہ سمندر کو اس کی اسی حالت میں برقرار رہنے دیں۔ راستے خشک ٗ پانی ان کے کناروں پر دیواروں کی شکل میں موجود رہے۔ اس کو لاٹھی نہ ماریں اور اس میں کوئی چیز نہ بدلیں تاکہ قبطی لوگ اس میں داخل ہوجائیں جب وہ اس میں پورے طور پر پہنچ جائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان پر بند کردیں گے۔
ایک قول :
الرہو۔ وسیع میدان۔ یعنی اس کو کھلا ہوا رہنے دیں۔ اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ (بیشک ان کا تمام لشکر ڈبویا جائے گا) اس کے بعد کہ تم سمندر سے نکل جائو گے۔
قراءت : اَنَّہُمْ فتحہ سے بھی پڑھا گیا۔ اس صورت میں لام محذوف ہے۔
Ayah 44:25دیارِ فراعنہ :
آیت 25 : کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ (ان لوگوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے)
Ayah 44:26آیت 26 : وَزُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیْمٍ (اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات) مقام سے خوبصورت مکانات ایک قول : منبر۔
Ayah 44:27آیت 27 : وَنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْہَا فٰکِہِیْنَ (اور آرام کے سامان چھوڑ دیئے جن میں وہ خوش رہا کرتے تھے) خوش عیشی اختیار کرنے والے تھے۔
Ayah 44:28آیت 28 : کَذٰلِکَ (اسی طرح ہوا) معاملہ اسی طرح ہے۔ : کاف رفع کے مقام پر مبتداء مضمر کی خبر ہے۔ وَ اَوْرَثْنٰہَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ (ہم نے ایک دوسری قوم کو ان کا وارث بنادیا) جو قرابت ٗ دین ٗ دوستی کے اعتبار سے نہ ہونے کے برابر تھے اور وہ بنی اسرائیل تھے۔
Ayah 44:29آیت 29 : فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ (پس نہ تو ان پر آسمان و زمین کو رونا آیا) کیونکہ وہ کفر پر مرے اور مومن جب مرتا ہے تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ مومن پر اس کے نماز پڑھنے کی جگہ روتی ہے۔ اور آسمان کا وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے اس کے اعمال چڑھتے ہیں۔
قولِ حسن (رح) :
اہل السماء والارض یہاں مضاف محذوف ہے یعنی اہل آسمان و اہل زمین روتے ہیں۔
وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ (اور نہ ان کو مہلت دی گئی) ان کو دوسرے وقت تک مہلت نہ دی گئی اور نہ چھوڑا گیا۔
Ayah 44:30آیت 30 : وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی) عذاب مہین سے مراد غلامی و عورتوں سے خدمتگاری اور قتل اولاد۔
Ayah 44:31آیت 31 : مِنْ فِرْعَوْنَ (فرعون سے) : یہ العذاب المہین سے بدل ہے۔ جار کو دو بار لوٹایا گیا۔ گویا فرعون بذات خود ایک ذلت والا عذاب تھا۔ کیونکہ وہ ان کو سزا دینے میں حد سے نکلا ہوا تھا۔ اور توہین کی انتہاء کو پہنچا تھا۔ نمبر 2۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ ای ذلک من فرعون۔ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ (واقعی وہ سرکش اور حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا) عالیا : متکبر کو کہتے ہیں۔ : کان کی اول خبر عالیا اور من المسرفین دوسری خبر ہے۔ ای کان متکبرًا مسرفًا۔
Ayah 44:32آیت 32 : وَلَقَدِ اخْتَرْنٰہُمْ (اور ہم نے ان کو فوقیت دی) یعنی بنی اسرائیل کو عَلٰی عِلْمٍ (علم کی رو سے) ضمیر فاعلی سے حال ہے۔ ای عالمین بمکان الخیرۃ وبانہم احقاء ان یختاروا۔ چنائو کے مقام کو جانتے ہوئے اور اس لئے کہ وہ چنائو کے حقدار تھے۔ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں پر) ان کے زمانہ کے جتنے لوگ تھے۔
Ayah 44:33آیت 33 : وَاٰتَیْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ (اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں) مثلاً سمندر کا پھٹنا ٗ بادلوں کا سائبانوں کی طرح سایہ کرنا من وسلویٰ کا نزول وغیر ذلک۔ مَافِیْہِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ (جن میں صریح انعام تھا) بلاء مبینٌ ظاہری نعمت یا ظاہر اختبارو امتحان تاکہ ان کی عملی حالت کو جانچا جاسکے۔
Ayah 44:34آیت 34 : اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ (بیشک یہ لوگ) کفار قریشلَیَقُوْلُوْنَ (کہتے ہیں)
Ayah 44:35آیت 35 : اِنْ ہِیَ (کہ بس یہی) ہماری موت تو اِلاَّ مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی ( ہماری پہلی موت ہے) ایک اشکال : بات تو حیات ثانیہ کی ہے نہ کہ موت کی تو اس طرح کیوں نہ کہہ دیا گیا۔ ان ہی الاحیاتنا الاولی نیز موت کے ساتھ اولیٰ کی قید کا کیا مطلب ہے۔ گویا اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ ان سے دوسری موت کا وعدہ کیا گیا جس کا انہوں نے انکار کر کے پہلی کو ثابت کیا۔
جواب نمبر 1۔ ان کو یہ کہا گیا ہے۔ کہ تم ایسی موت مرو گے جس کے بعد ایک زندگی آئے گی جیسا کہ تمہاری ایک موت گزری جس کے بعد زندگی ملی۔ اور یہ اس آیت میں مذکور ہے۔ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم۔] البقرۃ۔ 28[ اس پر کفار کہنے لگے ان ہی الا موتتنا الاولٰیمراد ان کی یہ تھی۔ کہ پہلی موت ہی ایسی تھی کہ جس کی حالت یہ تھی کہ اس کے بعد زندگی آئے اور وہ ہوچکی (یہ موت ایسی نہیں کہ جس کے بعد زندگی آئے) اس کے مطابق اس آیت اور اس آیت کا مفہوم ایک ہوجاتا ہے۔ الاحیاتنا الدنیا۔ ] الجاثیہ۔ 24[ نمبر 2۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس بات کا انکار ہو۔ جو اس ارشاد میں ہے۔ ربنا امتنا اثنتین و احییتنا اثنتین۔ ] غافر۔ 11[
وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ (اور ہم دوبارہ زندہ نہ ہونگے) اٹھائے نہ جائیں گے۔ عرب کہتے ہیں۔ انشر اللّٰہ الموتٰی ونشرہم اذا بعثہم۔ جبکہ وہ ان کو اٹھائے گا۔
Ayah 44:36جھوٹا بہانہ :
آیت 36 : فَاْتُوْا بِٰابَآئِنَآ (پس تم ہمارے باپ دادوں کو لا موجود کرو) یہ کفار کا خطاب رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو ہے جو ان کو اٹھائے جانے کا وعدہ کرتے تھے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو جلدی سے اپنے رب سے سوال کر کے ہمارے آباء کو زندہ کردو۔ تاکہ یہ تمہارے وعدئہ قیامت اور دوبارہ اٹھائے جانے کی حقانیت پر دلیل بن جائے۔
Ayah 44:37آیت 37 : اَہُمْ خَیْرٌ (یہ لوگ زیادہ بڑے ہوتے ہیں) طاقت و حفاظت میں اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ (یا قوم تبع) یہ تبع حمیری ہے۔ یہ خود مومن تھا اور اس کی قوم کافر تھی۔ ایک قول یہ ہے : یہ پیغمبر تھا۔ حدیث میں وارد ہے ما ادری اکان تبع نبیا او غیر نبی۔ مجھے معلوم نہیں آیا تبع نبی تھا یا غیر نبی (اخرجہ الثعلبی۔ کذا قال ابن حجر رحمہ اللّٰہ) ۔ وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے) : یہ قوم تبع پر عطف کی وجہ سے حالت رفعی میں ہے۔ اَہْلَکْنٰہُمْ اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ (ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا وہ نافرمان تھے) وہ کافر اور منکرین بعث تھے۔
Ayah 44:38آیت 38 : وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا (اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے اس کو اسطور پر نہیں بنایا) بینہما سے جو ان دونوں جنسوں کے درمیان ہے۔ لٰعِبِیْنَ (کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں) نحو : یہ حال ہے۔ اگر بعث و حساب اور ثواب و عذاب نہ ہو تو مخلوق کی پیدائش فناء کے لئے ماننی پڑے جس کے گھاٹ مخلوق اتر رہی ہے۔ پس یہ فعل عبث ٹھہرے گا۔ (جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے)
Ayah 44:39آیت 39 : مَا خَلَقْنٰہُمَا اِلاَّ بِالْحَقِّ (ہم نے ان دونوں کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے) حق کا معنی مقصد ہے جو کہ عبث کی ضد ہے۔
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) کہ انسان اس خاطر پیدا کیا گیا ہے۔
Ayah 44:40آیت 40 : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ (بیشک فیصلہ کا دن) باطل پرست اور حق پرور کے درمیان وہ قیامت ہی کا دن ہے۔ مِیْقَاتُہُمْ اَجْمَعِیْنَ (ان سب کا وقت مقرر ہے) ان تمام کے وعدہ کا وقت ہے۔