Ayah 44:41آیت 41 : یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی (جس دن کوئی تعلق والا دوسرے تعلق والے کے کام نہ آئے گا) مولی یہاں ولیٌ کے معنی میں ہے کوئی دوستی وتعلق والا کسی کے بھی کام نہ آئے گا۔ شَیْئًا (ذرا بھر) ذرا بھر کام آنا یعنی بہت معمولی سا۔ وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ (اور نہ ان کی مدد کی جائے گی) : ہم کی ضمیر موالی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کیونکہ وہ کثیر کے معنی میں ہے۔ اس لئے کہ لفظ میں ابہام ہے۔ اور ہر تعلق کو شامل ہے۔
Ayah 44:42آیت 42 : اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ اللّٰہُ (ہاں مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے) : یہ محل رفع ہے۔ ینصرون کی ضمیر وائو سے بدل ہے۔ یعنی عذاب سے نہ بچے گا مگر وہ جس پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہوا۔ اِنَّہٗٗٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ (بےشک وہ زبردست ہے) اپنے دشمنوں پر غالب ہے۔ الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) اپنے اولیاء پر۔
Ayah 44:43آیت 43 : اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ (بیشک زقوم کا درخت) وہ دنیا کے درخت کی صورت میں ہے مگر وہ آگ میں پیدا ہونے والا درخت ہے۔ اور زقوم اس کا پھل ہے۔ اور ہر ثقیل کھانے کو عرب زقوم کہتے ہیں۔
Ayah 44:44آیت 44 : طَعَامُ الْاَثِیْمِ (بڑے مجرم کا کھانا ہوگا) اثیم۔ بہت جرم کرنے والا گناہ گار۔
حضرت ابودرداء ؓ :
سے روایت ہے کہ وہ ایک شخص کو پڑھا رہے تھے۔ طعام الاثیم اور وہ طعام الیتیم پڑھ رہا تھا۔ تو آپ نے فرمایا۔ طعام الفاجر کہو۔ اے میاں ! اسی روایت کو لے کر استدلال کیا جاتا ہے۔ کہ کلمہ کی جگہ کلمہ کو بدلنا جائز ہے۔ جبکہ معنی وہی ہو۔ اور ابوحنیفہ (رح) نے فارسی میں قراءت کا جواز مانا ہے۔ بشرطیکہ کہ قاری تمام معانی کو ان کے کمال پر ادا کرنے والا ہو بغیر اس کے کہ اس میں سے کوئی چیز کم ہو۔
علماء نے فرمایا :
یہ شرط اس بات کی شہادت ہے کہ اجازت ہے تو سب زبانوں کے لئے اجازت ہے۔ کیونکہ کلام عرب۔ اور خاص طور پر قرآن مجید جو کہ اپنی فصاحت و بلاغت ٗ غرابت نظم ٗ اسلوب کلام میں ایسے لطیف ودقیق معانی سمیٹے ہوئے ہے۔ جن کی ادائیگی سے فارسی تو کیا ہر زبان قاصر ہے۔ (جب شرط نہ پائی گئی تو مشروط مفقود ہوا) باقی امام ابوحنیفہ (رح) کا رجوع اس قول سے مروی ہے۔ اور یہی قابل اعتماد ہے۔ (پس کسی دوسری زبان میں قراءت والا مسئلہ بنیاد کے ختم ہونے کی وجہ سے کالعدم ہوگیا)
Ayah 44:45آیت 45 : کَالْمُہْلِ (جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا) مہل۔ زیتون کے تیل کی میل کو کہا جاتا ہے۔ : کاف مرفوع ہے اور یہ دوسری خبر ہے۔ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِ (وہ پیٹ میں کھولتا ہے) قراءت : مکی حفص نے یاء سے پڑھا اور مراد طعام ہوگا اور دیگر قراء نافع ‘ ابن عامر نے تغلی پڑھا اور الشجرہ مراد لیا۔
Ayah 44:46آیت 46 : کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ (جیسا تیز گرم پانی کھولتا ہے) الحمیم۔ سخت گرم پانی۔ اس کا معنی ہے : غلیًا کغلی الحمیم۔ اس کا کھولنا گرم پانی کے کھولنے جیسا ہوگا۔ : کاف منصوب المحل ہے۔
پھر جہنم کے داروغہ فرشتوں کو کہا جائے گا۔
Ayah 44:47آیت 47 : خُذُوْہُ (اس کو پکڑو) اس گناہگار کو فَاعْتِلُوْہُ (پھر اس کو گھسیٹتے ہوئے لے جائو) اس کو زبردستی دھکے دے کر سختی سے چلائو۔
قراءت : مکی ٗ نافع ٗ شامی ٗ سہل و یعقوب نے فاعتُلوہ پڑھا ہے۔
اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ (جہنم کے وسط تک) اس کے درمیان اور بڑے حصہ میں۔
Ayah 44:48آیت 48 : ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ (پھر اس کے سر کے اوپر تکلیف دینے والا گرم پانی چھوڑ دو ) بہایا جانے والا گرم کھولتا ہوا پانی نہ کہ اس کا عذاب۔ البتہ جب گرم پانی اس پر ڈالا جائے گا تو گویا اس پر عذاب اور اس کی شدت ڈال دی گئی۔ صب العذاب یہ استعارہ ہے۔
Ayah 44:49آیت 49 : ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ (لے چکھ ! تو بڑا معزز و مکرم ہے) یہ بطور استہزاء اور تہکم کے کہا جائے گا۔ انک سے قبل لام تعلیلیہ محذوف ہے۔ ای لانک۔ کیونکہ تو بلند ہے۔
Ayah 44:50آیت 50 : اِنَّ ہٰذَا (یہ وہی چیز ہے) عذاب یا یہ معاملہ وہی ہے۔ مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ (جس میں تم شک کیا کرتے تھے) تمترون کا معنی تم شک کرتے تھے۔
Ayah 44:51متقین کا ٹھکانہ :
آیت 51 : اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ (بیشک متقی امن کی جگہ میں ہوں گے) مقام۔ فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی کھڑے ہونے کی جگہ۔ اور مراد مکان اور یہ ان خاص الفاظ میں سے ہے جو اپنے عمومی معنی میں مستعمل ہوئے۔ مُقَام ضمہ میم ہو تو معنی ہوگا اقامت کی جگہ۔
قراءت : مدنی و شامی نے ضمہ میم سے پڑھا ہے۔
اَمِیْنٍ یہ امن الرجل امانۃ فہوامین سے لیا گیا ہے۔ یہ خائن کی ضد ہے۔ مکان کو امین بطور استعارہ کہا گیا ہے۔ گویا خوف والا مقام اس طرح ہے کہ اپنے ساتھی کو تکالیف پہنچا کر اس کی خیانت کرتا ہے۔
Ayah 44:52آیت 52 : فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ (وہ باغات اور چشموں میں ہونگے) نحو : یہ مقام امین سے بدل ہے۔
Ayah 44:53آیت 53 : یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ (وہ لباس پہنیں گے باریک ریشم) سندس : باریک ریشم۔ وَّاِسْتَبْرَقٍ (دبیز موٹا ریشم)
معرب : یہ لفظ استبر سے معرب ہے۔ جب کوئی لفظ معرب ہوجائے تو پھر عجمی نہیں رہتا۔ کیونکہ تعریب کا معنی ہی یہ ہے کہ اس کو تصرف کر کے عربی بنا لیا جائے۔ صحیح رخ سے تبدیلی اور اعراب وجوہ پر اس کا جاری ہونا قرآن عربی بنائے جانے کے لائق ہے۔ مُّتَقٰبِلِیْنَ (آمنے سامنے بیٹھے ہونگے) اپنی مجالس میں۔ یہ کمال انس ہے۔
Ayah 44:54آیت 54 : کَذٰلِکَ (یہ بات اسی طرح ہے) کاف مرفوع ہے۔ ای الامرکذلک۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔
وَزَوَّجْنٰہُمْ (ہم بیاہ کر دینگے) جوڑا بنادیں گے۔ اسی لئے باء سے متعدی کیا گیا ہے۔ بحور : (گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں سے) حور جمع حوراء کی ہے۔ وہ آنکھ کی انتہاء سیاہی اور انتہائی سفیدی والی کو کہتے ہیں۔ عِیْنٍ جمع عیناء کی ہے بمعنی وسیع اور بڑی آنکھ والی۔
Ayah 44:55آیت 55 : یَدْعُوْنَ فِیْہَا (وہ منگاتے ہونگے) جنت میں طلب کریں گے۔ بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیْنَ (ہر قسم کے میوے اطمینان سے) وہ میوے زوال و انقطاع اور کثرت کی وجہ سے ضرر کے پیدا ہونے سے محفوظ ہونگے۔
Ayah 44:56دوزخیوں کا حال :
آیت 56 : لَایَذُوْقُوْنَ فِیْہَا (وہ نہ چکھیں گے وہاں) یعنی جنت میں الْمَوْتَ (موت کو) قطعی طور پر اِلاَّ الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی (مگر وہی موت جو دنیا میں آچکی) یعنی سوائے اس موت کے جو دنیا میں چکھ چکے۔ ایک قول یہ ہے : الا یہ لکن کے معنی میں ہے۔ لیکن پہلی موت اس کو دنیا میں چکھ چکے۔ وَوَقٰہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ (اور اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ سے بچا لے گا)
Ayah 44:57آیت 57 : فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکَ (یہ سب کچھ آپ کے رب کے فضل سے ہوگا) فضلاً ۔ یہ مفعول لہ ہے۔ نمبر 2۔ ماقبل کا مصدر مؤکد ہے۔ کیونکہ ووقاہم عذاب الجحیم۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہی ہے۔ کیونکہ بندہ کا اللہ تعالیٰ پر کوئی استحقاق نہیں ہے۔
داخلہ جنت :
ذٰلِکَ (یہ) عذاب کا پھرجانا اور جنت میں داخلہ مل جانا۔ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (یہی بڑی کامیابی ہے)
Ayah 44:58آیت 58 : فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ (پس ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے) ہٗ سے مراد کتاب ہے۔ اور اس کا تذکرہ ابتدائے سورت میں ہوا ہے۔ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تاکہ یہ نصیحت قبول کریں) یتذکرون۔ نصیحت قبول کرنے کے معنی میں ہے۔
Ayah 44:59بڑی کامیابی :
آیت 59 : فَارْتَقِبْ (پس آپ منتظر رہیے) آپ ان پر اترنے والے عذاب کے منتظر رہیں۔ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ (یہ لوگ بھی منتظر ہیں) یہ ان دنیوی حوادث کے منتظر ہیں جو آپ پر اتریں گے۔