43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 43:1–2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

آیت 1: حٰمٓ (2) وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی ہے اور کتاب مبین سے قرآن مجید مراد ہے۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

آیت 3: اِنَّا جَعَلْنٰـہُ یہاں جعل صیر کے معنی میں ہے۔ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا یہ جواب قسم ہے۔ یہ بڑی خوبصورت اور شاندار قسم ہے کیونکہ قسم اور مقسم علیہ میں مناسبت پائی جاتی ہے۔ المبین نمبر 1۔ ان کے لئے واضح ہے جن پر اتاری گئی۔ کیونکہ یہ کتاب ان کی لغت و اسلوب کے مطابق ہے۔ نمبر 2۔ یا مدبرین کے لئے واضح ہے۔ نمبر 3۔ یا اس کتاب نے ہدایت کی راہ کو گمراہی سے بالکل الگ کردیا دین کے سلسلہ میں جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ سب واضح کردیں۔ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (تاکہ تم اسکے معانی کو سمجھو) ۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

صفات ِقرآن : آیت 4: وَاِنَّہٗ فِیْ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا (قرآن مجید لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے) ۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ البروج۔ 21۔ 22۔ لوح محفوظ کو ام الکتاب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام کتابوں کی اصل ہے۔ تمام کتابیں اسی میں مندرج اور اسی سے نقل کی جاتی اور نسخ کی جاتی ہیں۔ قراءت : ام الکتاب۔ الف کے کسرہ سے علی و حمزہ نے پڑھا ہے۔ لَعَلِیٌّ نمبر 1۔ وہ بلاغت کے اعلی ترین درجہ میں ہے۔ یا کتابوں میں وہ رفیع الشان ہے۔ کیونکہ ان تمام کتابوں کے مابین یہ معجز ہے۔ حَکِیْمٌ (کامل حکمت والی ہے) ۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

یہ حد پھاندنے والے ہیں ہم قرآن کو آپ سے نہ ہٹائیں گے : آیت 5: اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا (کیا ہم اس نصیحت کو تم سے ہٹا لیں گے) نصیحت کو دور کردیں گے اور ہٹا لیں گے۔ مجاز کے طور پر یہ عرب کے قول : ضرب الغرائب عن الحوض۔ (اس نے حوض سے دوسروں کے اونٹوں کو ہٹا دیا) ۔ سے لیا گیا ہے۔ : فاء عاطفہ ہے۔ اور عطف فعل محذوف پر ہے۔ أنہملکم فنضرب عنکم الذکر۔ اس میں انکار اس بات سے ہے کہ جب وہ آپ پر پہلے کتاب اتار چکا تو اس کا الٹ نہیں ہوسکتا۔ اور قرآن مجید کو قرآن عربی اس لئے بنایا تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں۔ اور اس کے مطابق عمل پیرا ہوں۔ صَفْحًا (دور کرنا۔ ہٹانا) یہ مصدر ہے۔ صفح عنہ جبکہ وہ اعراض کرے۔ یہ مفعول لہ ہے۔ معنی اس طرح ہے کیا ہم قرآن مجید کا اتارنا تم سے ہٹا لیں گے اور حجت کا اس سے لازم کرنا تم سے اعراض کرتے ہوئے دور کردیں گے ؟ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ مفعول و مطلق علی غیر لفظہ بن جائے کیونکہ اہل عرب کہتے ہیں ضربت عنہ یعنی میں نے اس سے اعراض کیا اس کو چھوڑ دیا۔ فراء (رح) کا یہی قول ہے۔ اَنْ کُنْتُمْ (کیونکہ تم حد سے گزرنے والے ہو) ان کنتم یہ لان کنتم کے معنی میں ہے۔ قراءت : مدنی ٗ حمزہ وعلی نے ان کنتم پڑھا ہے۔ اور یہ اس شرط میں سے ہے جو دلالت کرنے والے کی طرف سے ثابت ہونے والے امر کی صحت پر ثبوت امر کی خاطر صادر ہوتی ہے۔ جیسا کہ تم مزدور کو کہو۔ ان کنت علمت لک فوفنی حقی۔ اگر میں تیرے متعلق جانتا ہوں تو تو میرا حق پورا پورا ادا کر۔ حالانکہ وہ اس کو جانتا ہے۔ مگر پھر شرط کے انداز میں بات کہی ہے اور مزدور بھی اس کا حق پورا ہی دے کیونکہ اس کو مزدوری پر اسی لئے لگایا کہ کام پورا کرے۔ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ (کہ تم حد سے گزرنے والے ہو) جہالت میں افراط کرنے والے ہو۔ گمراہی کی حد کو پھاندنے والے ہو۔
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

آیت 6: وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ (اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں) آپ سے پہلے لوگ گزرے ہم نے ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔
Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

آیت 7: وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو) یہ زمانہ ماضیہ مستمرہ کی حکایت حال ہے۔ یعنی وہ اسی بات پر تھے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اس سلسلہ میں کہ آپ کی قوم کا آپ سے استہزاء نئی بات نہیں۔
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

وعدئہ نصرت اور وعید : آیت 8: فَاَہْلَکْنَآ اَشَدَّ مِنْہُمْ بَطْشًا (پھر ہم نے ان لوگوں کو جو ان سے زیادہ طاقت ور تھے ہلاک کر ڈالا) بطشًا یہ تمیز ہے۔ اور ہم کی ضمیر مسرفین کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ خطاب کو ان سے پھیر کر رسول اللہ ﷺ کی طرف کردیا ان کے متعلق اطلاع دے رہے ہیں۔ وَّمَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ (اور پہلے لوگوں کی یہ حالت ہوچکی ہے) ان کے واقعات قرآن مجید میں کئی مرتبہ گزر چکے ہیں اور ان کی عجیب حالت اسی قابل ہے کہ بطور مثل مشہور ہو۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ (نصرت) اور ان کو وعید (عذاب) ہے۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

آیت 9: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ (اور اگر آپ ان سے پوچھیں) یعنی مشرکین سے۔ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ (کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ ان کو زبردست جاننے والے نے پیدا کیا ہے)
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

آیت 10: الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا (جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) قراءت : کو فی نے مہدًا اور دیگر نے مہادا پڑھا ہے۔ معنی ہر دو کا جائے قرار ہے۔ وَّجَعَلَ لَکُمْ فِیْہَا سُبُلاً (اور اس نے تمہارے لئے رستے بنا دیئے) سبلاً ۔ راستے۔ لَّعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ (تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو) تاکہ تم اپنے سفروں میں ان کے لئے راستہ منزل معلوم کرو۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا اسی طرح تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

آیت 11: وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئًم بِقَدَرٍ (اور وہ جس نے آسمان سے پانی ایک اندازہ سے برسایا) اتنی مقدار جس سے انسان صحیح سالم رہ سکیں اور ملکوں کو جتنی ضرورت ہو وہ پوری ہوجائے۔ فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا (پھر اس سے ہم نے خشک زمین کو زندہ کیا) انشرنا۔ زندہ کرنے کے معنی میں ہے۔ غائب سے مخاطب کی طرف عدول کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ یہ خطاب سے مراد کو پالیں۔ قراءت : یزید نے میتًا کو میّتًا پڑھا ہے۔ کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ (اسی طرح تم نکالے جائو گے) اپنی قبور سے زندہ کر کے۔ قراءت : حمزہ ٗ علی نے تَخْرُجون پڑھا۔ العلیم پر وقف نہیں۔ کیونکہ الذی اس کی صفت ہے۔ ابو حاتم نے اس پر وقف کیا۔ تقدیر کلام یہ ہے ہو الذی۔ کیونکہ یہ اوصاف کفار کا مقولہ نہیں۔ کیونکہ وہ قبور سے نکلنے کے منکر ہیں۔ تو وہ کیسے کہتے کذلک تخرجون۔ بلکہ یہ آیت تو انکار بعث کرنے والوں کے خلاف حجت ہے۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کیے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

آیت 12: وَالَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ (اور جس نے تمام اقسام بنائیں) الازواج۔ اصناف کے معنی میں ہے۔ کُلَّہَا وَجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْکَبُوْنَ (اور تمہاری وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے۔ جن پر تم سوار ہوتے ہو) یعنی تم ان پر سوار ہوتے ہو۔ صرف کہا جاتا ہے۔ رکبوا فی الفلک ورکبوا الانعام۔ بلاواسطہ متعدی ہونا غالب آیا۔ کیونکہ وہ زیادہ قوی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ترکبونہ۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب ان پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

آیت 13 : لِتَسْتَوٗٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ (تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو) ان کی پشت پر جن پر تم سواری کرتے ہو اور وہ کشتیاں اور چوپائے ہیں۔ ثُمَّ تَذْکُرُوْا (پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو) اپنے دلوں میں نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا (جب ان پر بیٹھ چکو اور اس طرح کہو اپنی زبانوں سے) سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ہٰذَا (اس کی ذات پاک ہے جس نے ان کو ہمارے قابو میں دے دیا) اس سواری کو ہمارا مطیع بنایا۔ وَمَا کُنَّا لَہٗٗ مُقْرِنِیْنَ (ہم تو ایسے نہ تھے کہ جو ان کو قابو میں کرلیتے) مقرنین طاقت رکھنے والے۔ عرب کہتے ہیں۔ اقرن الشیٔ اذا اطاقہٗ ۔ اقرن کی حقیقت اس کو اپنا قرین پانا۔ کیونکہ سخت و طاقتور کمزور کا قرین نہیں ہوتا۔ ساتھی اس کو بنایا جاتا ہے جو سرکش نہ ہو قابو میں آجائے۔
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

آیت 14: وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ (اور ہم کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے) منقلبون۔ لوٹنے والے ہیں۔ ایک قول : وہ دنیا میں سوار ہوتے وقت اس کو اپنی آخری سواری خیال کرتے ہیں اور وہ آخری سواری جنازہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے متعلق وارد ہے کہ جب آپ رکاب میں قدم مبارک رکھتے تو بسم اللہ پڑھتے۔ جب سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے تو الحمد للّٰہ علی کل حال سبحان الذی سخرلنا ہذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون پڑھتے اور تین مرتبہ اللہ اکبر ٗ اللہ اکبر ٗ اللہ اکبر اور لا الٰہ الا اللہ تین مرتبہ پڑھتے۔ رواہ ابو دائود۔ 2602۔ ] الترمذی 3446[ علماء نے کہا جب کشتی پر سواری کرے تو کہے : بسم اللّٰہ مجریہا و مرسٰہا ان ربی لغفور رحیم۔ ] ہود۔ 41[ ایک واقعہ : کچھ لوگ سفر کے لئے سوار ہوئے اور انہوں نے پڑھا سبحان الذی سخرلنا الایۃ۔ ان میں ایک شخص ایسا تھا جس کی اونٹنی کمزوری کی وجہ سے حرکت نہ کرتی تھی۔ اس کے منہ سے نکلا انی مقرن لہذہ۔ میں تو اس کا مطیع ہوں۔ اونٹنی کود پڑی اور یہ شخص اس سے نیچے جا گرا اور گردن ٹوٹ گئی۔ اس کے استہزاء اور ناشکری کا یہ نتیجہ نکلا۔ مناسب یہ ہے کہ عقل مند تفریح و تلذذ کی بجائے عبرت کی نگاہ رکھتے ہوئے سوار ہو اور یہ غور کرے کہ وہ بہرحال مرنے والا اور اپنے رب کی طرف لوٹنے والا ہے۔ تقدیر سے اس کو مفر نہیں۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

آیت 15: وَجَعَلُوْا لَہٗٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا (اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کا جزو قرار دیا) یہ ولئن سالتہم سے متصل ہے۔ یعنی ولئن سالتہم عن خالق السمٰوٰت والارض لیعترفن بہٖ وقد جعلوا لہ مع ذلک الاعتراف من عبادہ جزئً ا۔ اگر آپ ان سے آسمان و زمین کے بنانے والے کے متعلق سوال کریں تو وہ ضرور اس کا اعتراف کریں گے حالانکہ انہوں نے اس اعتراف کے باوجود اس کے بندوں میں سے جزو قرار دے لئے ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے ان فرشتوں کو اس کا جزو بعض حصہ بنایا جیسا کہ لڑکا والد کا جزو ہوتا ہے۔ قراءت : جُزؤًا ابوبکر و حماد نے پڑھا ہے۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ (بیشک انسان صریح ناشکرا ہے) نعمتوں کے انکار کی وجہ سے اس کا انکار کھلا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت کفر ہے اور تمام ناشکری کی جڑ کفر ہے۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دے دئیے

جہالت کفار : آیت 16: اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰکُمْ بِالْبَنِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا) ام بل کے معنی میں ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ اور اس سے ان کی جہالت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ اس لئے کہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے حقیر کو چن لیا اور ان کے لئے اعلی۔
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

آیت 17: وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَـلًا (حالانکہ جب تم میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جاتی جس کو اس نے رب رحمان کا نمونہ بنا رکھا ہے) اس جنس کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ اللہ تعالیٰ کی مثل قرار دیتا ہے۔ مثلاً بمعنی مشابہ۔ کیونکہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کا جزء بنادیا تو گویا اس کی جنس بنادیا اور اس کا مماثل بنادیا۔ کیونکہ لڑکا والد کی جنس سے ہوتا ہے۔ ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ (تو سارا دن اس کا چہرہ بےرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے) ۔ انہوں نے اس جنس ملائکہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی۔ حالانکہ ان کی حالت یہ ہے۔ کہ جب ان میں سے کسی ایک کو کہا جاتا ہے۔ تیرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ تو وہ غم زدہ ہوجاتا ہے اور اس کے چہرے کی غصہ سے ہوائیاں اڑ جاتی ہیں اور وہ افسردہ اور دکھ سے بھرا ہوتا ہے۔ الظلولکا معنی ہوجانا ہے۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے ؟

آیت 18: اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ (کیا جو آرائش میں نشونما پائے اور وہ مباحثہ میں قوت بیانیہ نہ رکھتی ہو) یعنی کیا رحمان کے لئے ایسی اولاد ثابت کرتے ہو جس میں یہ صفت مذمومہ پائی جاتی ہو۔ اور وہ صفت اس کا آرائش وزینت میں پرورش پانا ہے۔ جب اس کو مخالف کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مقابلے کا موقعہ آئے اور مردوں سے دوبدو گفتگو کا موقعہ ہو تو وہ اپنی بات کو پورے طور پر بیان نہیں کرسکتی۔ اس کے پاس طاقت بیان نہیں اور نہ وہ کوئی دلیل پیش کرسکتی ہے اور اس کی وجہ عقل کی کمزوری ہے۔ قولِ مقاتل (رح) : عورت جب بھی گفتگو کرتی ہے تو اس کی دلیل اپنے خلاف نکلتی ہے۔ آیت میں زیب وزینت کو محل مذمت میں استعمال کیا گیا۔ پس آدمی کو چاہیے کہ وہ خوش عیشی سے گریزاں رہے۔ اور لباس تقویٰ کو زینت بنائے۔ اور منْ محلاً منصوب ہے اور معنی یہ ہے۔ اوجعلوا من ینشؤا فی الحلیۃ یعنی البنات للّٰہ عزوجل۔ کیا انہوں نے قرار دیا ان کو جو زیور میں پلتی ہیں۔ بیٹیاں اللہ تعالیٰ کے لئے۔ قراءت : یُنْشَأُ ۔ حمزہ ٗ علی ٗ حفص نے پڑھا یعنی تربیت کی جائے۔ ایک کفر میں تین کفر : انہوں نے ایک کفر میں تین کفر جمع کردیئے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکے کی نسبت کی۔ نمبر 2۔ اور دونوں میں سے خسیس قسم کو اس کے لئے مقرر کیا اور نمبر 3۔ اس کو ملائکہ مکرمین میں سے قرار دیا جس سے ان کی توہین کی۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی

آیت 19: وَجَعَلُوا الْمَلٰٓپکَۃَ الَّذِیْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا (اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ رحمان کے بندے ہیں۔ عورت قرار دے رکھا ہے) یعنی انہوں نے ان کا نام تجویز کیا اور کہا کہ وہ عورتیں ہیں۔ قراءت : مکی ٗ مدنی و شامی نے عند الرحمان پڑھا۔ یعنی عندیت سے مرتبہ و مقام مراد ہے نہ کہ منزل و مکان والی۔ اور العباد جمع عبد کی ہے۔ اور یہ جھگڑالو لوگوں کے خلاف مضبوط دلیل ہے۔ اس لئے کہ غلامی اور خود رائی میں تضاد ہے۔ اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ (کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے) یہ ان سے تہکم کیا گیا ہے۔ یعنی وہ یہ بات ایسے ہی کہہ رہے ہیں۔ ان کی بات میں کوئی علمی وزن نہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کے جاننے کی طرف مجبور نہیں کیا۔ اور نہ کسی استدلال سے انہوں نے اس کو معلوم کیا ہے۔ اور نہ ہی اسے کسی ایسی خبر سے معلوم کیا ہے جو علم کو لازم کر دے۔ اور نہ ہی انہوں نے ان کی تخلیق کا مشاہدہ کیا ہے کہ یہ اپنے مشاہدے کی بنیاد پر خبر دے رہے ہیں۔ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُہُمْ (ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جاتا ہے) جو انہوں نے ملائکہ کے متعلق ان کے مؤنث ہونے کے بارے میں کیا ہے۔ وَیُسْئَلُوْنَ (اور ان سے باز پرس کی جائے گی) اس کے متعلق یہ وعید ہے۔
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

کافروں کی بات جھوٹ ہے : آیت 20: وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰـہُمْ (اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے) یعنی ملائکہ کی۔ اس آیت کے ظاہر سے معتزلہ نے استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر سے کفر نہیں چاہا۔ ایمان چاہا۔ اس لئے کہ کفار نے دعویٰ یہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کفر چاہا ہے اور ان سے عبادت اصنام کو چھڑوانا نہ چاہا۔ اس لئے تو انہوں نے کہا لوشاء الرحمان ماعبدناہم۔ اگر وہ ہم سے چاہتا تو ہم بتوں کی عبادت چھوڑ دیں تو ہمیں ان کی عبادت سے منع کردیتا لیکن اس نے بتوں کی عبادت ہم سے چاہی اس لئے ہمیں روکا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول و اعتقاد کی تردید میں فرمایا۔ مَاَلَہُمْ بِذٰلِکَ (ان کو اس کی کچھ تحقیق نہیں) مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ (وہ محض بےتحقیق بات کر رہے ہیں) یعنی جھوٹ بولتے ہیں۔ آیت کا معنی : انہوں نے مشیئت سے رضا مراد لی اور کہا کہ اگر اس بات پر وہ راضی نہ ہوتا تو ہمیں جلد سزا دے دیتا یا ہمیں زبردستی ان کی عبادت سے روک دیا جاتا اور مجبور کر کے لوٹا دیا جاتا۔ جب اس نے ایسا نہ کیا تو گویا وہ اس پر راضی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد سے تردید فرمائی مالہم بذالک من علمٍ الایۃ یا انہوں نے یہ قول استہزاء ً کہا۔ اعتقاد و وقار سے نہیں کہا پس اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کی تکذیب فرمائی۔ اور ان کو جاہل قرار دیا اس طور پر کہ انہوں نے اعتقاداً نہیں کہی۔ جیسا کہ ان کے متعلق خبر دیتے ہوئے فرمایا۔ انطعم من لویشاء اللّٰہ اطعمہٗ [ یسٓ: 47] اصل میں اتنی بات تو درست ہے مگر جب اس کو بطور استہزاء ًکہا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب فرمائی۔ ان انتم الافی ضلالٍ مبین [ یسٓ: 47] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ قالوا نشہد انک لرسول اللّٰہ [ المنافقون : 1] پھر فرمایا : واللّٰہ یشہد ان المنافقین لکاذبون [ المنافقون : 1] کیونکہ انہوں نے اعتقاد سے یہ بات نہ کہی تھی۔ اسی طرح اس آیت میں مشیئت کو انہوں نے اپنے لئے اس بات میں حجت بنایا جو وہ اپنے اختیار سے کرتے تھے۔ اور گمان یہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی بھی فعل پر سزا نہیں دینگے جو انہوں نے اس کی مشیئت سے کئے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو اس میں بریٔ الذمہ قرار دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں فرمایا۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

آیت 21: اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ (کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے) ہٗ یعنی قرآن سے پہلے یا ان کی اس بات سے پہلے فَہُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ (پس وہ اس سے استدلال کرنے والے ہیں) اس پر عمل کرنے والے اور اسی کے حکم کو پکڑنے والے ہیں۔ ایک قول یہ ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ أشہدوا خلقہم ام اتیناہم کتابا فیہ ان الملائکۃ اناث۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے۔ یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ ملائکہ عورتیں ہیں۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

کفار کے پاس کوئی دلیل نہیں : آیت 22: بَلْ قَالُوْا (بلکہ انہوں نے کہا) بلکہ ان کے پاس کوئی قابل استدلال دلیل نہیں ہے جس سے وہ دلیل لے سکیں نہ تو ظاہر کے اعتبار سے اور نہ ہی عقلی لحاظ سے اور نہ سمعی اعتبار سے بس ان کی تو ایک ہی بات ہے۔ اِنَّا وَجَدْنَا اٰبَآئَ نَاعَلٰٓی اُمَّۃٍ (کہ ہم نے تو اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے) امۃ۔ دین کے معنی میں ہے۔ پس ہم نے ان کی تقلید کی ہے۔ یہ امّ سے ہے۔ جس کا معنی قصد ہے۔ پس اُمۃ اس طریقے کو کہا جاتا ہے جس کی اقتداء کی جائے۔ جس کا قصد کیا جائے۔ وَاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ (اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے راستہ چل رہے ہیں) علی ٰاثارہم یہ مہتدون کا صلہ ہو کر خبر ہے۔ نمبر 2۔ دونوں خبریں ہیں۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

تقلید آباء پرانی بیماری ہے : آیت 23: وَکَذٰلِکَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ (اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا) نذیر سے پیغمبر مراد ہیں۔ اِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوْہَآ (مگر کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا) مترف سے مالدار مراد ہیں اور وہ وہی لوگ ہیں جن کو مال تکبر میں مبتلا کر دے۔ وہ شہوات و ملاھی ہی کو پسند کریں اور دین کی مشقتوں اور تکالیف کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ (ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے ہیں) اس میں نبی اکرم ﷺ کے لئے تسلی اور اس بات کی وضاحت ہے۔ کہ تقلید آباء بڑی پرانی بیماری ہے۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

آیت 24: قٰلَ اَوَلَوْ جِئْتُکُمْ بِاَہْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْہِ اٰبَآ ئَ کُمْ (ان کے پیغمبروں نے کہا کہ کیا اگرچہ میں اس سے اچھا مقصود پر پہنچا دینے والا طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں۔ کہ جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہو) قراءت : شامی اور حفص نے قال پڑھا اور اس کا فاعل النذیر کی ضمیر ہے۔ دیگر قراء نے قل پڑھا۔ کہ پیغمبر منذر کو کہا گیا کہہ دیجئے۔ وجدتم علیہ اباء کم کا مطلب یہ ہے۔ کیا تم پھر بھی اپنے آباء کی اتباع کرو گے اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت والا دین لے آئوں جس پر تمہارے آباء تھے۔ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ (وہ کہنے لگے ہم تو اس کو مانتے ہی نہیں جس کو تم دے کر بھیجے گئے ہو) یعنی دین آباء پر ہم تو قائم رہیں گے خواہ تم اس سے کتنا زیادہ ہدایت یافتہ دین لے کر آجائو۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

آیت 25: فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ (پس ہم نے ان سے انتقام لیا) پس ہم نے ان کو وہ سزا دی جس کے وہ اصرار علی الکفر کی وجہ سے مستحق ہوچکے تھے۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (پس دیکھئے تکذیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا) ۔
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کی قوم اور والد : آیت 26: وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ (اور جب کہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا) : اذ سے پہلے اذکر محذوف ہے۔ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ (میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو) : براء یہ مصدر ہے۔ اس میں واحد و تثنیہ و جمع برابر ہیں۔ اسی طرح تذکیر و تانیث بھی۔ جیسا تم کہو۔ رجلٌُ عدلٌ و امراۃ عدلٌ و قوم عدل اور اس کا معنی ذو عدل و ذات عدل لیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بریْئٌ کے معنی میں ہے۔
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

آیت 27: اِلاَّ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ (مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا) : یہ استثناء منقطع ہے۔ گویا اس طرح فرمایا لکن الذی فطرنی۔ فَاِنَّہٗ سَیَہْدِیْنِ (پھر وہی میری راہنمائی کرتا ہے) یعنی ہدایت پر ثابت قدمی بخشتا ہے۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع رہیں

آیت 28: وَجَعَلَہَا (اور وہ اس کو کر گئے) ابراہیم (علیہ السلام) نے کلمہ توحید جو زبان سے نکالا تھا کہ اننی براء مما تعبدون الا الذی فطرنی۔ اس کو کردیا۔ کَلِمَۃً بَاقِیَۃًم فِیْ عَقِبِہٖ (باقی رہنے والی بات اپنی اولاد میں) یعنی ہمیشہ سے ان کی اولاد میں ایسے لوگ چلے آرہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانتے رہے ہیں اور اس کی توحید کی طرف بلاتے رہے۔ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (تاکہ لوگ باز آتے رہیں) شاید کہ جو ان میں سے شرک کرنے والے ہیں۔ ان کی دعائوں سے جو توحید پر ہیں واپس لوٹ آئیں۔ ترجی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

ان کو مہلت ملی تو انہوں نے انکار کیا : آیت 29: بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَآئَ ہُمْ (بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا ہے) ہؤلاء سے مراد اہل مکہ میں سے وہ لوگ جو ابراہیم (علیہ السلام) کے پیچھے آئے۔ متعت۔ کا مطلب عمر میں درازی اور مال میں اضافہ۔ پس وہ مہلت کی وجہ سے دھوکے میں پڑگئے اور خوش عیشی اور اتباع شہوات اور کلمہ توحید سے اعراض کر کے اطاعت شیطان میں مبتلا ہوگئے۔ حَتّٰی جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ (یہاں تک کہ حق ان کے پاس آچکا) حق سے قرآن مراد ہے۔ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ (اور واضح رسول) یعنی حضرت محمد ﷺ جو واضح معجزات نبوت لے کر آئے۔
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

آیت 30: وَلَمَّا جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ (اور جب ان کے پاس حق آپہنچا) الحق سے قرآن مراد ہے۔ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِہٖ کٰفِرُوْنَ (تو کہنے لگے۔ کہ یہ جادو ہے ہم اس کو نہیں مانتے) ۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

نبوت کے لئے کفار کا تحکمانہ فیصلہ : آیت 31: وَقَالُوْا (اور کہنے لگے) باطل استدلال اور ضد بازی کرتے ہوئے۔ لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ (کہ یہ قرآن کیوں نہیں نازل کیا گیا) اس میں آپ کی تحقیر کرنا ان کی غرض ہے۔ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (کسی بڑے آدمی پر ان دو بستیوں میں سے) یعنی ان دو بستیوں میں کسی بستی کے بڑے مالدار آدمی پر جیسا کہ فرمایا۔ یخرج منہما اللؤلؤ۔ ] الرحمن۔ 22[ ان دونوں میں سے کسی ایک سے۔ القریتان سے مکہ وطائف اور عظیم مکہ سے ولید بن المغیرہ اور عظیم طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی مراد لیا۔ ان کے نزدیک عظیم وہ تھا جو مال و جاہ والا ہو۔ انہوں نے اس بات کو نہیں پہچانا کہ عظیم وہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم ہو۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

کفار کے جاہلانہ فیصلے کا انکار : آیت 32: اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ (کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں) رحمت سے نبوت مراد ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ جس سے ان کے نبوت کے لئے چنائو کے تحکمانہ فیصلے پر تعجب و جہالت کا مستقل طور پر انکار مقصود ہے۔ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ (ہم نے ان کی روزی ان میں تقسیم کر رکھی ہے) معیشت۔ سے مراد رزق جس پر ان کا گزارہ ہو۔ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیوی زندگی میں) ہم نے کم درجہ چیز رزق کی تقسیم بھی ان کے ذمہ نہیں کی پھر نبوت کی تقسیم ان کے ذمہ کیسے ہوسکتی ہے۔ نمبر 2۔ جس رزق میں ایک دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ اسی طرح نبوت کے لئے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے۔ وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ (اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت و بلندی دے رکھی ہے) بعض کو طاقتور ‘ مالدار اور آقا اور دوسروں کو کمزور ٗ فقراء اور خدام بنایا۔ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا (تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیتے رہیں) تاکہ اپنی ضروریات میں دوسروں کو استعمال کریں اور اپنی محنتوں میں اس سے مدد لیں اور اپنے کام کاج میں ان کو مطیع بنائیں۔ تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اور اپنے منافع پالیں۔ ایک مال سے اور دوسرا مزدوری سے۔ وَرَحْمَتُ رَبِّکَ (اور آپ کے رب کی رحمت) یعنی نبوت یا دین اللہ اور جو اس کے نتیجہ میں آخرت کی کامیابی ملے گی۔ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے جس کو یہ لوگ سمیٹتے رہتے ہیں) جو ساز و سامان دنیا میں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں اس سے وہ بہت ہی بہتر ہے۔
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

دُنیا کی قلت و حقارت پر دلالت : آیت 33: جب دنیا کو حقیر و قلیل قرار دیا تو اس کی تاکید کے لئے ایسی چیزیں لائے جو اس کی قلت و حقارت کو پختہ کردیں۔ وَلَوْلَآ اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقہ کے ہوجائیں گے) اگر ان کے کفر پر جمع ہونے اور مل جانے کا خطرہ نہ ہوتا۔ لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِہِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُوْنَ (تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی جن پر چڑھا کرتے) ہم کردیتے کیونکہ دنیا ہمارے ہاں حقیر ہے۔
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

آیت 34: وَلِبُیُوْتِہِمْ اَبْوَابًا وَّسُرُرًا عَلَیْہَا یَتَّکِئُوْنَ (اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں)
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل و آرائش (کر دیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

آیت 35: وَزُخْرُفًا (اور سونے کے بھی) یعنی ہم کفار کو ایسی چھتیں اور سیڑھیاں ٗ دروازے تمام کے تمام چاندی کے مہیا کردیتے اور ان کے لئے زینت دے دیتے یعنی ہر چیز کی زینت۔ الزخرف۔ سونا اور زینت۔ یہ بھی درست ہے کہ اصل اس طرح ہو۔ چھتیں چاندی اور سونے کی کچھ حصہ چاندی اور کچھ حصہ سونے کا۔ نحو : زخرفا یہ من فضۃٍ کے محل پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لبیوتہم یہ لمن یکفر کا بدل الاشتمال ہے۔ قراءت : سقفًا جنس قرار دے کر مکی ٗ ابوعمرو ٗ یزید نے پڑھا ہے المعارج جمع معرج کی ہے۔ بلندی پر چڑھنے والا زینہ۔ علیہا یظہرون۔ ای علی المعارج یظہرون السطوح۔ سیڑھیوں سے چھتوں پر چڑھتے۔ وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (یہ سب کچھ بھی نہیں صرف دنیاوی زندگی کی کامرانی ہے) اِن نافیہ اور لمّا بمعنی اِلاّ ۔ یہ فقط سامان دنیا ہے : یعنی وما کل ذلک الامتاع الحیاۃ الدنیا۔ اس طرح بھی پڑھا گیا اور لِمَا عاصم اور حمزہ کے علاوہ دوسروں نے پڑھا۔ اس طور پر کہ لام ان مخففہ کو نافیہ سے جدا کرنے والی ہے اور ما صلہ ہے۔ ای ان کل ذلک لمتاع الحیاۃ الدنیا۔ بیشک یہ سب البتہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے۔ وَالْاٰخِرَۃُ (آخرت) یعنی ثواب آخرت عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ (تیرے رب کے ہاں متقین کے لئے ہے) متقی جو شرک سے بچتے ہیں۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔

بتکلف اندھے پر شیطان کا تسلط : آیت 36: وَمَنْ یَّعْشُ (جو اندھا بن جائے) قراءت : یہ من یَعْشَ بھی پڑھا گیا ہے۔ ہر دو میں فرق یہ ہے کہ جب نگاہ میں نقصان پہنچے تو کہا جاتا ہے۔ عشی یعشَی۔ اور جب کوئی اندھوں کی طرح دیکھے اور نگاہ میں نقص نہ ہو تو کہا جاتا ہے۔ عشا یعشو۔ اب فتحہ والی قراءت کا معنی یہ ہے جو اندھا ہوا رحمان کی نصیحت سے۔ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ (رحمان کی نصیحت سے) یعنی قرآن۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ صم بکم عمی۔ ] البقرۃ۔ 18[ اور ضمہ والی قراءت کا معنی جو اللہ تعالیٰ کی نصیحت سے بتکلف اندھا بنا یعنی یہ جانتے ہوئے کہ وہ برحق ہے اور وہ اس سے بتکلف جہالت کا اقرار کر رہا ہے۔ جیسا فرمایا۔ وجحدوا بہاو استیقنتہا انفسہم۔] النمل۔ 14[ نُقَیِّضْ لَہ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗٗ قَرِیْنٌ (ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پس وہ اس کے ساتھ رہتا ہے) ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ ہم اس کو اس پر مسلط کردیتے ہیں۔ وہ دنیا و آخرت میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو ذکر رحمان پر مداومت کرتا ہے۔ شیطان اس کا ساتھی نہیں بنتا۔
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ (شیطان) ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں

آیت 37: وَاِنَّہُمْ (اور وہ شیاطین ان انسانوں کو روکتے ہیں) لَیَصُدُّوْنَہُمْ (وہ ان کو روکتے رہتے ہیں) وہ ان اندھا بننے والوں کو روکتے رہتے ہیں۔ عَنِ السَّبِیْلِ (راستہ سے) یعنی راہ ہدایت سے وَیَحْسَبُوْنَ (اور یہ اندھا پن والے خیال کرتے ہیں) اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ (کہ وہ راہ پر ہیں) نحو : ہم ضمیر جو مَنْ کی طرف راجع ہے اور وہ ضمیر جو شیطان کی طرف راجع ہے وہ جمع لائی گئی ہے۔ کیونکہ مَنْ اندھا پن والے کی مبہم جنس کے لئے ہے۔ اور اس کے لئے اس جنس کا مبہم شیطان مقرر ہے۔ پس ان کی طرف مجموعہ کا لحاظ کر کے ضمیر جمع لانی جائز ہے۔
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ! تو برا ساتھی ہے

اندھے پن کا وبال : آیت 38: حَتّٰی اِذَا جَآئَ نَا (یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آوے گا) یعنی وہ اندھے پن والا۔ ابوبکر کے علاوہ عراقی نے واحد پڑھا اور دیگر نے جاء انا۔ (اور اندھے پن والا اور اس کا ساتھی) ۔ تثنیہ پڑھا۔ قَالَ (تو کہے گا) ، اپنے شیطان کو یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَکَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ (کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا) المشرقین سے مراد مشرق و مغرب ہے ایک کو تغلیب دے کر کہہ دیا۔ جیسا کہتے ہیں۔ العمر ان والقمران۔ اور مراد مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کا فاصلہ ہے۔ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ (کہ تو برا ساتھی تھا)
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

عذاب میں اشتراک کا فائدہ نہ ہوگا : آیت 39: وَلَنْ یَّنْفَعَکُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ (جبکہ تم کفر کرچکے تھے تو آج یہ بات کام نہ آئے گی) اس لئے کہ تمہارا ظلم ثابت ہوچکا۔ ظلم سے کفر مراد ہے اور وہ ظاہر ہوچکا اور تمہیں اور نہ کسی اور کو تمہارے ظالم ہونے میں شبہ نہیں رہا۔ نحو : اذ یہ الیوم سے بدل ہے۔ اَنَّکُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ (کہ تم سب عذاب میں شریک ہو) انکم محل رفع میں واقع ہے فاعلیت کی وجہ سے۔ یعنی تمہیں عذاب میں تمہارا اشتراک ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ یا عذاب میں مشترک ہونا فائدہ مند نہ ہوگا۔ جیسا کہ دنیا میں عمومی ابتلاء سے دل میں خوشی حاصل ہوتی ہے۔ (مرگ انبوہ جشنے دارد) خنساء کا قول ہے۔ اگر میرے اردگرد اپنے بھائیوں پر رونے والوں کی کثرت نہ ہوتی تو میں اپنے آپ کو قتل کر ڈالتی۔ اگرچہ ان کا رونا میرے بھائی جیسے پر نہیں لیکن نفس کو تسلی پیروی سے دی جاتی ہے۔ لیکن ان جہنم والوں کا اشتراک عذاب ان کی تسلی کا باعث نہ ہوگا۔ اور نہ ہی ان کو اس سے راحت حاصل ہوگی کیونکہ جس عذاب میں وہ مبتلا ہونگے وہ بہت بڑا ہے۔ ایک قول : اس کا فاعل مضمر ہے معنی اس طرح ہوگا۔ یہ تمنا ہرگز تمہارے کام نہ آئے گی۔ یا یہ معذرت اس بناء پر کہ تم عذاب میں شریک ہونے والے ہو۔ کیونکہ اس کے سبب میں تم شریک ہو اور وہ کفر ہے۔ اور اس معنی کی تائید ان قراء کی قراءت کرتی ہے جنہوں نے اِنّکم ہمزہ کے کسرہ سے پڑھا۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو ؟ یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہو ؟ اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے (راہ پر لاسکتے ہو) ؟

یہ کفر پر مریں گے : آیت 40: اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ (کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں) یعنی وہ لوگ جن کی عقلوں کے کان غائب ہوچکے۔ اَوْ تَہْدِی الْعُمْیَ (یا تم اندھوں کو راہ پر لاسکتے ہو) یعنی وہ جن کی بصارت نہیں رہی۔ وَمَنْ کَانَ فِی ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اور وہ جو کھلی گمراہی میں ہیں) اور وہ لوگ جن کے متعلق علم الٰہی میں کفر پر موت لکھی ہے۔