43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 43:81

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں

آیت 81: قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ (آپ کہیے۔ اگر رب رحمان کے اولاد ہو) اور یہ بات دلیل صحیح سے ثابت ہوجائے۔ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ (تو سب سے اول اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں) میں سب سے پہلا ہونگا جو اس لڑکے کی تعظیم کروں گا اور تم سے بڑھ کر اس کی اطاعت کروں گا۔ اور اس کی فرمانبرداری بجالائوں گا جیسا کہ آدمی بادشاہ کے بیٹے کی تعظیم اس کے باپ کی وجہ سے کرتا ہے یہ کلام بطریق فرض لایا گیا ہے۔ اس سے مراد ولد کی نفی ہے اور وہ اس طرح کہ عبادت کو لڑکا ہونے سے معلق کیا گیا اور یہ لڑکا ہونا تو اس کی ذات کے لئے ذاتی اعتبار سے بھی محال ہے۔ پس جو محال سے معلق ہے وہ بھی محال ہے۔ اس کی مثال سعیدبن جبیر کا یہ قول ہے جو انہوں نے حجاج کو فرمایا۔ جب اس نے کہا۔ واللّٰہ لا بدلنّک بالدنیا نارًاتلظٰی۔ میں تمہاری دنیا کو بڑھکتی آگ بنا دوں گا۔ تو سعید کہنے لگا۔ لو عرفت ان ذلک الیک ما عبدت الٰـہًا غیرک۔ اگر میں جانتا کہ یہ تیرے اختیار میں ہے تو میں پھر تیرے سوا اور کسی کو معبود نہ مانتا۔ ایک قول یہ ہے : ان کان للرحمٰن ولدٌ فی زعمکم۔ کہ اگر تمہارے خیال کے مطابق رحمان کا کوئی لڑکا ہے تو میں سب سے پہلا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والا اور تمہارے قول کی تکذیب کرنے والا ہوں۔ جو کہ تم ولد کی نسبت اس کی ذات کی طرف کرنے والے ہو۔ ایک قول یہ ہے : اگر تمہارے خیال میں رحمان کا بیٹا ہے۔ تو میں سب سے پہلا اس بات کا انکاری ہوں کہ اس کا بیٹا ہو۔ عابدین۔ یہ عبد یَعْبَدُ سے ہوگا۔ جبکہ وہ اس سے سخت نفرت کرنے والا ہو۔ اسم فاعل عبد و عابدٌ آتا ہے۔ قراءت : ایک قراءت میں العبدین ہے۔ ایک قول اور بھی ہے : کہ اِنْ نافیہ ہے۔ یعنی رحمان کا کوئی بیٹا نہیں میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اس بات کو کہنے والا ہوں ان میں سے جو یہ کہتے ہیں اور اس کی عبادت اور اس کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں۔ ایک روایت ہے : کہ نضر بن حارث قریشی نے کہا کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس پر نضر کہنے لگا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تو میری تصدیق کردی۔ ولید نے اس کو کہا۔ اس نے تمہاری تصدیق نہیں کی۔ بلکہ یہ کہا ما کان للرحمان ولد فانا اول الموحدین من اہل مکۃ ان لا ولد لہ۔ کہ رحمان کا کوئی بیٹا نہیں۔ پس میں اہل مکہ میں سے پہلا موحد ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔ (اگر یہ روایت درست ہو تو یہ مکالمہ بڑا لذیذ ہے) قراءت : وُلْد۔ حمزہ ٗ علی نے پڑھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ذات کو بیٹا بنانے سے منزہ اور پاک قرار دیا اور فرمایا۔
Ayah 43:82

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے

آیت 82: سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (آسمان اور زمین کا مالک جو کہ عرش کا بھی مالک ہے۔ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں) یعنی وہ آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب ہے۔ وہ نہ جسم ہے۔ کیونکہ اگر وہ جسم ہوتا تو اس کے بنانے پر قدرت نہ ہوتی۔ اور جب جسم نہیں تو اس کی اولاد نہیں کیونکہ پیدا ئش و تولد یہ جسم کی صفات میں سے ہے۔
Ayah 43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

آیت 83: فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا (تو آپ ان کو اس شغل میں چھوڑ دیجئے) ان کی باطل پرستی میں۔ وَیَلْعَبُوْا (اور تفریح میں) دنیا کی مشغولیت میں حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) یوم سے قیامت کا دن مراد ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ محض جہالت ‘ دنیا پرستی اور تفریح کا نتیجہ ہے۔
Ayah 43:84

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے اور وہ دانا (اور) علم والا ہے

اللہ ہی زمین و آسمان میں قابل عبادت ہے : آیت 84: وَہُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ (اور وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی قابل عبادت ہے اور زمین میں بھی قابل عبادت ہے) اللہ تعالیٰ کا اسم الٰہ یہ وصف کا معنی لئے ہوئے ہے۔ اس لئے ظرف کو فی السماء اور فی الارض میں اس کے ساتھ معلق کیا ہے۔ جیسا کہ تم کہو ہو حاتم فی الطی و حاتم فی تغلب۔ اس میں جواد کا معنی متضمن ہے جس کی وجہ سے وہ ہر دو قبیلوں میں معروف ہے۔ گویا تم نے اس طرح کہا ہو جواد فی طیّ و جواد فی تغلب۔ کہ وہ قبیلہ طے میں بھی سخی اور قبیلہ تغلب میں بھی سخی ہے۔ اسی طرح یہاں وہ آسمان کا بھی الٰہ اور زمین میں بھی قابل عبادت وہی ہے۔ قراءت : وہو الذی فی السماء اللّٰہ وفی الارض اللّٰہ۔ اور اس کی مثال وہ ارشاد ہے۔ وہو اللّٰہ فی السمٰوٰت وفی الارض [ الانعام : 3] گویا معبود ہونے کا معنی صفت میں متضمن ہے۔ اور موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر طوالت کلام کی وجہ سے حذف کردی گئی ہے۔ جیسا کہتے ہیں ماانا بالذی قائل لک شیئًا۔ میں ایسا نہیں کہ تمہیں کچھ کہوں۔ تقدیر کلام : اس طرح ہے۔ وہوا لذی ہو فی السماء الٰہ۔ وہ وہی ذات ہے جو کہ آسمان میں معبود ہے۔ نحو : الہٌ یہ مرفوع ہے۔ کیونکہ مبتدأ مضمر کی خبر ہے۔ اور الہٌ یہ ابتداء کی وجہ سے مرفوع نہیں ہے۔ اور فی السماء۔ یہ خبر ہے۔ کیونکہ اس صورت میں صلہ ضمیر عائد سے خالی ہے جو موصول کی طرف لوٹے۔ وَہُوَ الْحَکِیْمُ (وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے) الْعَلِیْمُ (وہ جو کچھ ہوا اور جو ہونے والا ہے تمام کا علم رکھتا ہے)
Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے

آیت 85: وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَہٗٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَعِنْدَہٗٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ (اور وہ ذات بڑی عالی شان ہے۔ جس کے لئے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو ان کے درمیان میں ہے۔ ان کی سلطنت ثابت ہے۔ اور اس کو قیامت کی خبر ہے) یعنی اس کے قائم ہونے کی خبر ہے۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جائو گے) قراءت : مکی ٗ حمزہ ٗ علی نے یُرجعون پڑھا ہے۔
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے ہاں جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

شفاعت کا اختیار مسلمانوں کو : آیت 86: وَلَا یَمْلِکُ (اور اختیار نہ رکھیں گے) یعنی ان کے معبود الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ (جن کو یہ پکارتے ہیں) یعنی جن کو پکارتے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖ (اس کے سوا) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا الشَّفَاعَۃَ (سفارش کے) جیسا کہ ان کا خیال ہے۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہونگے۔ اِلاَّ مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ (مگر جس سے حق کا اقرار کیا تھا) یعنی لیکن جس نے حق کا اقرار کلمہ توحید کے ساتھ کیا۔ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ (اور وہ تصدیق بھی کیا کرتے تھے) کہ اللہ تعالیٰ ان کا سچا رب ہے اور اس کا دلوں سے اعتقاد رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہونگے جن کو شفاعت کا اختیار دیا جائے گا۔ نحو : یہ استثناء منقطع ہے یا متصل ہے۔ کیونکہ جملہ الذین یدعون من دون اللّٰہ میں ملائکہ بھی ہیں۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

آیت 87: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ (اور اگر آپ ان سے پوچھیں) یعنی مشرکین مکہ سے۔ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے) بتوں اور ملائکہ نے نہیں۔ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ (پھر یہ لوگ کدھر الٹے چلے جا رہے ہیں) نحو : یہاں انّی کیف کے معنی میں ہے۔ یا من این۔ پھر کیوں یہ توحید سے پھرتے ہیں جبکہ یہ اقرار بھی کرتے ہیں ؟
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور (بسا اوقات پیغمبر) کہا کرتے ہیں کہ اے میرے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے

عظمت و شان پیغمبر ﷺ : آیت 88: وَقِیْلِہٖ (اور اس کو رسول کے اس کہنے کی بھی خبر ہے) قراءت : عاصم ٗ حمزہ ٗ نے جرّسے پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے وعندہ علم الساعۃ و علم قیلہ۔ اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور اس کے پاس اس قول کی خبر ہے۔ یٰرَبِّ (اے میرے رب ! ) قیلہٖ کی ہٗ ضمیر حضرت محمد ﷺ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ آپ کا تذکرہ پہلے ہوا۔ اس ارشاد میں۔ قل ان کان للرحمان ولد فانا اول العابدین۔ ] الزخرف۔ 81[ باقی قراء نے نصب سے پڑھا ہے۔ اور اس کو الساعۃ کے محل پر معطوف کیا ہے۔ ای یعلم الساعۃ یعلم قیلہ۔ ای قیل محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا رب وہ قیامت کو جانتا اور محمد ﷺ کے قول کو جانتا ہے۔ القیل۔ القول ٗ القال المقال یہ تمام ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ حرف قسم کو مضمر مانکر جر اور نصب مان لیا جائے۔ اور حرف کو حذف کردیا گیا ہے اور جواب قسم ان ہؤلاء قوم لا یؤمنون ہے۔ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ لاَّ یُؤْمِنُوْنَ (کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے) گویا آپ نے بات فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم اٹھائی اور قول یا رب ان ہؤلاء قوم لا یؤمنون۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بات کی قسم اٹھانا یہ آپ کی عظمت و بلندی شان کو ظاہر کرتا ہے۔ اور آپ کی دعا والتجاء کی قبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

آپ کو تسلی اور کفار کو وعید : آیت 89: فَاصْفَحْ عَنْہُمْ (تو آپ ان سے بےرخ رہیے) ان کی دعوت سے اعراض فرمائیں۔ کیونکہ ان کے ایمان کی امید نہیں۔ اور ان کو چھوڑیں اور ان کے حال پر رہنے دیں۔ وَقُلْ (اور ان کو کہہ دیں) سَلٰمٌ (کہ میں تم کو سلام کرتا ہوں) یہ سلام متارکت ہے۔ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (پس ان کو بھی معلوم ہوجائے گا) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار کو وعید ہے اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے۔ قراءت : مدنی ٗ شامی نے تعلمون پڑھا ہے۔