Ayah 43:41ہم ان سے انتقام لیں گے :
آیت 41: فَاِمَّا۔ ماکو ان پر تاکید شرط کے لئے لائے۔ اسی طرح نذہبن میں نون ثقیلہ بھی اس غرض کے لئے ہے۔ نَذْہَبَنَّ بِکَ (ان کے خلاف تمہاری مدد سے پہلے آپ کو وفات دے دیں) اور اس سے مؤمنوں کے دلوں کو ٹھنڈک حاصل ہو۔ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ (بیشک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں) آخرت کا سخت انتقام لیں گے۔
Ayah 43:42آیت 42: اَوْ نُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰہُمْ (یا اگر ان سے ہم نے عذاب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ وہ آپ کو دکھلا دیں) آپ کی وفات سے قبل یعنی بدرکا دن۔ فَاِنَّا عَلَیْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ (ہمیں ان پر قدرت حاصل ہے)
فائدہ : کفر و گمراہی پر ان کی سخت روی افانت تسمع الصم سے ذکر کی پھر دنیا و آخرت کے عذاب سے ان کو ڈرایا۔ فاما نذہبن بک الایتین۔
Ayah 43:43قرآن صراط مستقیم ہے آپ اس پر عمل پیرا رہیں :
آیت 43: فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ (آپ اس قرآن پر قائم رہیں جو آپ پر وحی کے ذریعہ سے نازل کیا گیا ہے) استمسک یہ تمسک کے معنی میں ہے اور وحی سے قرآن مراد ہے۔ مضبوطی سے تھامنا اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (بیشک آپ سیدھے راستے پر ہیں) صراط مستقیم سے مراد وہ دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔
Ayah 43:44آیت 44: وَاِنَّہٗٗ (اور وہ قرآن) وہ جو آپ کی طرف وحی سے بھیجا گیا۔ لَذِکْرٌ لَّکَ (وہ آپ کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے) وَلِقَوْمِکَ (اور آپ کی قوم کے لئے) اور آپ کی امت کے لئے۔ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ (اور عنقریب تم سب سے پوچھا جائے گا) قیامت کے دن اس قرآن کے متعلق کہ کیا تم نے اس کا حق ادا کیا اور کس قدر اس کی عظمت مانی اور اس عظیم نعمت پر کتنا شکریہ ادا کیا۔
Ayah 43:45ادیانِ وملل کی پڑتال ظاہر کرتی ہے کہ بت پرست باطل پر ہیں :
آیت 45: وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِہَۃً یُّعْبَدُوْنَ (اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے۔ پوچھ لیں کہ کیا ہم نے رب رحمان کے سوا دوسرے معبود ٹھہرا دیئے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے) اس مقام پر رسل سے سوال مقصود نہیں ہے اور نہ ہی حقیقی سوال مراد ہے۔ بلکہ یہ ان کے ادیان و ملل میں جانچ پڑتال سے مجاز ہے۔ کیا کسی بھی ملت و دین آسمانی میں کبھی بتوں کی عبادت کی اجازت ملی ؟ اور ہر ایسے متلاشی کو کتاب اللہ میں نظر کرنا کفایت کر جائے گا۔ کیونکہ قرآن پہلی کتابوں کا مصدق ہے اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ویعبدون من دون اللّٰہ مالم ینزل بہٖ سلطانًا۔ ] الحج۔ 71[
یہ آیت فی نفسہٖ ا اس بات کی دلیل کے لئے کافی ہے کسی اور کی حاجت ہی نہیں۔
ایک قول یہ ہے :
اللہ تعالیٰ نے لیلۃ المعراج میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کو جمع کیا۔ آپ نے ان کی امامت کروائی۔ آپ سے کہا گیا۔ ان سے سوال کریں۔ پس آپ نے اس بات میں نہ شک کیا اور نہ ان سے سوال کیا۔
ایک قول یہ بھی ہے :
اس کا معنی یہ ہے۔ ان انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں سے پوچھ لیں۔ جن کی طرف ہم نے نبوت و رسالت کا پیغام دیا۔ اور وہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہیں۔ وہ رسولوں کی کتابوں سے اس کی اطلاع دیں گے جب ان سے پوچھ لیا تو گویا انبیاء سے پوچھ لیا۔ اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ یہ بات پختہ طور پر ثابت ہے کہ اہل اوثان باطل پر ہیں۔
قراءت : وسَلْ بلا ہمزہ مکی وعلی نے پڑھا ہے۔ رُسْلِنَا۔ ابوعمرو نے پڑھا۔
Ayah 43:46آیت 46: پھر رسول اللہ ﷺ کو اس قول سے تسلی دی۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَائِہٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اور ہم نے موسیٰ کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا۔ پس انہوں نے فرمایا میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں) انہوں نے اس پیغام پر جواب دیا اس پر ارشاد باری تعالیٰ جو اگلی آیت میں ہے دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 43:47کفار کی ریت :
آیت 47: فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَا (جب وہ ان کے پاس ہماری آیات لے کر آئے) اس سے مراد ان کا وہ مطالبہ ہے جو اپنے دعویٰ پر دلیل لانے اور نشانی ظاہر کرنے کے متعلق فرعونیوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اِذَا ہُمْ مِّنْہَا یَضْحَکُوْنَ (تو وہ یکایک ان پر ہنسنے لگے) مذاق اڑانے لگے اور استہزاء کرتے ہوئے اس کا نام سحردھر دیا۔ اذا۔ مفاجات کے لئے ہے اور یہ فلما کا جواب ہے۔ کیونکہ مفاجات کا فعل اس کے ساتھ مقدر ہے اور وہ اذا کے محل میں نصب کا عمل کر رہا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ فلما جاء ہم بٰایاتنا فاجرأوا وقت ضحکھم۔
Ayah 43:48ہر نشانی بڑی ہے مگر یہ باز آنے والے نہیں :
آیت 48: وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ اِلاَّ ہِیَ اَکْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا (اور ہم ان کو جو نشانی دکھلاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) اختہا سے مراد پہلی نشانی کی ہم مثل جو عادت کو توڑنے کے لئے ظاہر کی جاتی۔ الفاظ کا انداز یہ ظاہر کر رہا ہے کہ بعد والی نشانی پہلی سے بڑھ کر ہوئی حالانکہ یہ مطلب نہیں بلکہ مراد اس کلام سے ہے۔ کہ یہ تمام نشانیاں ہی بڑی ہیں۔ ان میں ذرہ بھر فرق نہیں۔ عام محاورہ میں اسی طرح کہا جاتا ہے۔ ہما اخوان کل واحد منہما اکرم من الاٰخر۔ وہ دونوں بھائی ہیں ہر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ وَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا) اور وہی جو اس آیت میں ہے۔ ولقد اخذنا اٰل فرعون بالسنین ونقص من الثمرات۔ [ الاعراف۔ 130] ۔ فارسلنا علیہم الطوفان…[ الاعراف۔ 33]
لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (تاکہ وہ باز آجائیں) کفر سے ایمان کی طرف۔
Ayah 43:49آیت 49: وَقَالُوْْا یٰٓـاَیـُّہَ السّٰحِرُ (اور انہوں نے کہا اے جادوگر) وہ عالم کو جادوگر کہتے تھے۔ کیونکہ وہ علم سحر کو بڑا معزز خیال کرتے تھے۔ قراءت : یٰٓایہا الساحرکو ہاء کے ضمہ اور بلا الف شامی نے پڑھا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مفتوحہ تھا الف سے قبل واقع ہونے کی وجہ سے۔ جب الف التقائے ساکنین سے گرگیا تو اس کی حرکت ماقبل کے تابع ہوگئی۔ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ (آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دیجئے۔ جس کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے) بما عہد عندک کا مطلب یہ ہے۔ اس عہد کے مطابق جو اس نے نبوت والا آپ سے لے رکھا ہے۔ یا جو آپ سے عذاب دور کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس شخص کے متعلق جو ہدایت پائے۔ اِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ (بیشک ہم راہ پر آجائیں گے) ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 43:50آیت 50: فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِذَا ہُمْ یَنْکُثُوْنَ (جب ہم نے ان سے عذاب ہٹا دیا اسی وقت انہوں نے وعدہ توڑ دیا) قسموں کے ساتھ پختہ کیا وعدہ وہ توڑ دیتے ہیں اس کو پورا نہیں کرتے۔
Ayah 43:51فرعون کی منادی :
آیت 51: وَنَادٰی فِرْعَوْنُ (فرعون نے منادی کرائی) اس نے بذات خود قبطی قوم کے رؤساء کو بلایا یا اس سے منادی کرنے والے کو کہا۔ پس اس نے آواز دی۔ جیسا کہتے ہیں۔ قطع الامیر اللص۔ جب کہ وہ اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے۔ فِیْ قَوْمِہٖ (اپنی قوم میں) ۔ یعنی ان کو اپنی نداء کا موقعہ و محل بنایا۔ قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَ ہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ (کہا اے میری قوم کیا مصر کی سلطنت میری نہیں ہے اور یہ نہریں) یعنی نیل کی نہریں۔ ان میں سے چار بڑی نہریں تھیں۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ (میرے نیچے بہہ رہی ہیں) میرے محل کے نیچے سے۔ ایک قول : میرے سامنے میرے باغات میں۔
نحو : وائوعاطفہ ہے ملک مصر پر عطف ہے اور تجری الانہار سے حال ہے۔ یا واؤ حالیہ اور اسم اشارہ مبتدأ اور الانہار یہ اسم اشارہ کی صفت ہے۔ اور تجری مبتدأ کی خبر ہے۔
لطیفہ : نمبر 1۔ ہارون الرشید نے جب اس آیت کو پڑھا تو کہنے لگا۔ کہ میں مصر کی حکومت اپنے سب سے حقیر غلام کو دونگا۔ خضیب نامی غلام جو اس کے وضوء کا نگران تھا۔ اس کو مصر کی حکمرانی دے دی۔
نمبر 2۔ عبداللہ بن طاہر کو مصر کی حکومت ملی۔ تو وہ روانہ ہو کر اس کے اسقدر قریب پہنچ گئے۔ کہ اس کے مکانات نظر آنے لگے۔ تو کہنے لگے یہی وہ بستی ہے جس پر فخر کرتے ہوئے فرعون نے کہا تھا۔ الیس لی ملک مصر الاٰیۃ اللہ تعالیٰ کی قسم یہ بہت ہی معمولی اور حقیر ہے۔ میں اس میں داخل ہونا ہی نہیں چاہتا اور وہیں سے اپنے گھوڑے کی لگام پھیرلی۔ اَفَـلَا تُبْصِرُوْنَ (کیا تم دیکھتے نہیں ہو) میری قوت اور موسیٰ کی کمزوری کو اور میری مالداری اور اس کا فقر۔
Ayah 43:52میں اس حقیر سے بہتر ہوں :
آیت 52: اَمْ اَنَا خَیْرٌ (بلکہ میں افضل ہوں) ام منقطعہ بل کے معنی میں ہے۔ گویا اس طرح کہا۔ اثبت عندکم واستقر یہ تمہارے ہاں ثابت اور پختہ ہوچکا کہ میں بہت بہتر ہوں اور یہ میرا حال ہے ؟
مِّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ (اس شخص سے جو کم قدر ہے) مہین۔ کمزور ٗ حقیر۔ وَّلَایَکَادُ یُبِیْنُ (اور وہ قوت بیانیہ بھی نہیں رکھتا) اس لئے کہ اس کے کلام میں عجمیت ہے۔
Ayah 43:53آیت 53: فَلَوْلَا یہ ہلاَّ کے معنی میں ہے۔ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ (کیوں نہیں ڈالے گئے اس کو سونے کے کنگن) قراءت : حفص ‘ یعقوب وسہل نے اسورۃٌ پڑھا۔ یہ سوار کی جمع ہے۔ دیگر قراء نے اس اورۃ پڑھا جو کہ جمع اسوار کی ہے اساویر کی یاء کو حذف کر کے آخر میں تاء لائے۔ معنی کنگن ہی ہے۔ مِّنْ ذَہَبٍ (سونے کے) القائے ا سورة بول کر القائے مفاتیح مراد لی گئی ہیں۔ ان کے ہاں رواج یہ تھا کہ جب وہ کسی شخص کو سردار بناتے تو اس کو کنگن پہناتے اور اس کے گلے میں سونے کا طوق ڈالتے۔ اَوْ جَآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓپکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ (یا فرشتے اس کے ساتھ پے درپے کیوں نہیں آتے) مقترنین۔ ساتھ مل کر چلنا۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں تاکہ وہ ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوں۔
Ayah 43:54فرعون نے قوم کو ذلیل بنایا :
آیت 54: فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ (غرض اس نے اپنی قوم کو مغلوب کردیا) زبان سے ان کو مضطرب کردیا اور ان کو ہلکا اور ذلیل قرار دیا۔ اس کی بات ان میں اثر کرگئی۔
ایک قول یہ ہے :
کہ ان کو جلد اس نے اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔
فَاَطَاعُوْہُ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (وہ لوگ اس کے کہنے میں آگئے وہ لوگ شرارت سے بھرے ہوئے تھے) وہ اللہ تعالیٰ کے دین سے نکلنے والے تھے۔
Ayah 43:55انتقام الٰہی پچھلوں کے لئے نمونہ :
آیت 55: فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ اَجْمَعِیْنَ (جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور ان سب کو ڈبو دیا) آسف یہ اسف اسفًا سے نقل ہو کر آیا ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی کا غصہ زیادہ تیز ہوجائے۔ معنی یہ ہے انہوں نے گناہوں میں افراط سے کام لیا اور اپنے کو جلد عذاب کا حقدار اور اس بات کا مستحق بنادیا کہ ہم ان کے متعلق حلم سے کام نہ لیں۔
Ayah 43:56آیت 56: فَجَعَلْنٰہُمْ سَلَفًا (ہم نے ان کو خاص قسم کے متقدمین میں سے بنادیا) سلف یہ سالف کی جمع ہے۔ جیسے خادم جمع ہے خدم کی۔
قراءت : سُلُفًا حمزہ ٗ علی نے یہ پڑھا اور سلیف کی جمع قرار دیا۔ یعنی ایک جماعت جو گزر چکی۔ وَّمَثَلاً (اور عجیب شان والی بات) اور مثل کی طرح چلنے والی بات جس سے مثالیں بیان کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے۔ تمہاری حالت تو قوم فرعون کی حالت جیسی ہے۔
لِّلْاٰخِرِیْنَ (آئندہ آنے والوں کے لئے نمونہ بنادیا) ان کے لئے جو ان کے بعد آئیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے۔ ہم نے ان کو پچھلے کفار کے لئے نمونہ بنادیا۔ جو ان جیسے عذاب اور سزا کے استحقاق کے لئے انہی کے نقش پا پر چلتے ہیں۔ اور ان کو ایک مشہور مثال بنادیا جس کو لوگ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 43:57عیسیٰ ( علیہ السلام) کی مثال :
آیت 57: وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً (جب ابن مریم کے متعلق ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا) جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سامنے انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ حصب جہنم۔] الانبیاء۔ 98[ تلاوت فرمائی تو۔
قریش غصے کے مارے لال پیلے ہوگئے۔ ابن الزبعری کہنے لگا اے محمد ﷺ ! کیا یہ بات خاص ہمارے لئے اور ہمارے معبودوں کے لئے ہے۔ یا تمام امتوں کے لئے آپ نے فرمایا۔ یہ تمہارے لئے اور تمہارے معبودوں اور تمام امتوں کے لئے ہے۔ اس پر وہ کہنے لگا۔ کیا تمہارا یہ اعتقاد نہیں عیسیٰ بن مریم نبی ہیں۔ اور تم عیسیٰ اور اس کی امت کی تعریف کرتے ہو۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ نصاریٰ تو عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اور عزیر اور ملائکہ کو پوجا جاتا ہے۔ اگر یہ سب آگ میں جائیں گے۔ تو ہم راضی ہیں کہ ہم اور ہمارے معبود ان کے ساتھ ساتھ رہیں۔ اس کی یہ باتیں سن کر آپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ تو قریش بڑے خوش ہوئے خوب ہنسی اڑائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ان الذین سبقت لہم منا الحسنٰی… (الانبیاء۔ 101)
ابن زبعری کا جھگڑا :
پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ (رواہ الثعلبی والبغوی) مطلب یہ ہے۔ جب ابن زبعری نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو اپنے معبودوں کے لئے بطور مثال بیان کیا اور عبادت نصاری کو دلیل بنا کر آپ سے مجادلہ کرنے لگا۔ اِذَا قَوْمُکَ (تو اچانک آپ کی قوم کے لوگ) یعنی قریش مِنْہُ (اس مثال سے) یَصِدُّوْنَ (چلانے لگے) ابن زبعری کی بات پر جب آپ کی خاموشی دیکھی تو خوشی سے مچلنے لگے اور ٹھٹھہ سے ہنسنے لگے۔
قراءت : یصُدّون مدنی ٗ علی ٗ شامی ٗ اعشی نے پڑھا اور اس کو الصدود سے لیا ہے۔ یعنی اس مثال کی وجہ سے وہ حق سے رکتے اور اعراض کرتے ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
یہ الصدید سے ہے۔ جس کا معنی غل غپاڑا کرنا ہے۔ اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ جیسا یَعْکِفُ ٗ یَعْکُفُ ۔
Ayah 43:58آیت 58: وَقَالُوْٓائَ اٰلِہَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ہُوَ (اور کہنے لگے کیا ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں یا وہ) ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے معبود تیرے ہاں عیسیٰ سے اچھے نہیں ہیں۔ تو جب عیسیٰ سے اچھے نہیں ہیں۔ تو جب عیسیٰ جہنم کا ایندھن ہے۔ تو پھر ہمارے معبودوں کا مسئلہ معمولی ہے۔ مَاضَرَبُوْہُ لَکَ (انہوں نے یہ مثال آپ سے بیان نہیں کی) اِلاَّ جَدَلًا (مگر صرف اس لئے تاکہ وہ مجادلہ کر کے غلبہ پائیں) ان کا مقصد حق و باطل میں امتیاز و فرق کرنا نہیں ہے۔ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (بلکہ یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں) خصم اور لد کا معنی سخت جھگڑالو۔ قریش کا مزاج شدید جھگڑے والا تھا۔ اور یہ اس سے بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ کہ ارشاد الٰہی انکم وما تعبدون سے مراد بت تھے۔ کیونکہ ما کا استعمال غیر عقلاء کے لئے ہوتا ہے۔ مگر ابن زبعری نے جب دیکھا کہ کلام اللہ کے لفظوں میں عموم کی گنجائش ہے۔ تو باوجود مراد کو جانتے ہوئے اس نے دھوکا سے حیلہ بازی کرتے ہوئے لفظ کو شمول کی طرف موڑ لیا۔ کہ اس سے تو تمام غیر اللہ جن کو بطور معبود مانا گیا ہے وہ سب مراد ہیں اور یہ فقط جھگڑا بازی اور غلبہ پانے کی غرض اور مکابرہ کی خاطر کیا اور اس میں وہ بےحیائی پر اتر آیا مگر رسول اکرم ﷺ اپنے وقار پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دیا۔
Ayah 43:59آیت 59: اِنْ ہُوَ (اور وہ عیسیٰ تو محض) اِلاَّ عَبْدٌ (ایک بندے ہیں) دوسرے بندوں کی طرح اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ (جن پر ہم نے فضل کیا تھا) کہ نبوت عنایت فرمائی وَجَعَلْنٰـہُ مَثَلاً لِّبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (اور ہم نے ان کو بنی اسرائیل کے لئے ایک عمدہ نمونہ بنایا) یعنی ایک عجیب عبرت جیسا کہ مشہور مثال ہوتی ہے۔
Ayah 43:60آیت 60: وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰٓپکَۃً فِی الْاَرْضِ (اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کردیتے زمین میں) تمہاری بجائے زمین پر۔ زجاج احمد کا قول یہی ہے۔
قول صاحب جامع العلوم :
جعلنا منکم ای جعلنا بدلکم تمہارے بدلے اور مِن بدل کے معنی میں ہے۔
یَخْلُفُوْنَ (وہ یکے بعد دیگرے رہتے) وہ تمہارے بعد زمین پر رہتے یا وہ ایک دوسرے کے بعد رہتے۔
ایک قول یہ ہے :
اگر ہم چاہتے تو عجائبات پر چونکہ ہم قادر ہیں۔ تو ہم تمہیں میں سے اے مردو ! فرشتے پیدا کردیتے۔ جو زمین میں تمہارے نائب بنتے جیسا کہ تمہاری اولاد تمہاری نائب بنتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو صرف عورت سے غیر مرد کے پیدا فرما دیا۔ تاکہ تم ہماری قدرت ظاہرہ و باہرہ کا اعتراف کرو اور تاکہ تمہیں یہ بھی معلوم ہوجائے کہ ملائکہ اجسام ہیں جو اجسام سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اور ذات باری تعالیٰ قدیم ہے وہ جسمیت سے پاک ہے۔
Ayah 43:61عیسیٰ ( علیہ السلام) قیامت کی علامت :
آیت 61: وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ (اور وہ قیامت کے یقین کا ذریعہ ہے) عیسیٰ (علیہ السلام) وہ ہیں کہ جن سے قیامت کی آمد کا ثبوت ملتا ہے۔ قراءت : ابن عباس ؓ نے لَعَلَمُ ۔ عین کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی علامت ہے۔ مطلب یہ ہے نزول عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک علامت ہے۔
فَـلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا (تو تم لوگ اس میں شک مت کرو) تم اس بارے میں شک مت کرو۔ المریۃ سے لیا گیا اس کا معنی شک ہے۔ وَاتَّبِعُوْنِ (اور تم لوگ میرا اتباع کرو)
قراءت : سہل و یعقوب نے دونوں میں یاء سے پڑھا ہے۔ یعنی میری ہدایت و شریعت کی اتباع کرو یا میرے رسول کی اتباع کرو۔ یا یہ رسول اللہ ﷺ کو حکم ہے۔ کہ وہ یہ فرما دیں۔ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (یہ سیدھا راستہ ہے) جس کی طرف وہ تمہیں دعوت دے رہا ہے۔
Ayah 43:62آیت 62: وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ (اور تم کو شیطان روکنے نہ پائے) قیامت پر ایمان لانے یا اتباع رسول ﷺ سے اِنَّہٗٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے) اس کی عداوت ظاہر ہے کہ اس نے تمہارے باپ کو جنت سے نکلوایا۔ اور ان سے نور کا لباس اتروا دیا۔
Ayah 43:63آیت 63: وَلَمَّا جَآئَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ (اور جب عیسیٰ معجزے لے کر آئے) بینات سے مراد یہاں معجزات یا انجیل کی آیات اور واضح احکامات قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ (کہا میں تمہارے پاس سمجھ کی باتیں لے کر آیا ہوں) حکمت سے مراد انجیل اور احکامات وَلِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ (تاکہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم سے وہ بیان کر دوں) وہ دینی معاملہ نہ کہ امر دنیا فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو)
Ayah 43:64آیت 64: اِنَّ اللّٰہَ ہُوَرَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (بےشک اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے) یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا تکملہ ہے۔
Ayah 43:65آیت 65: فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ (پس مختلف گروہوں نے باہم اختلاف ڈال لیا) اس سے وہ گروہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنے وہ مراد ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ یعقوبیہ۔ نسطوریہ۔ ملکانیہ۔ شمعونیہ۔ مِنْم بَیْنِہِمْ (نصاری کے مابین) فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس ظالموں کے لئے خرابی ہے) اس طرح کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق وہ بات کہی جس نے ان کا انکار کردیا۔ مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ (ایک پُر درد دن کے عذاب سے) اور وہ قیامت کا دن ہے۔
Ayah 43:66آیت 66: ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ (وہ لوگ قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں) ہم کی ضمیر کا مرجع قوم عیسیٰ (علیہ السلام) یا کفار اَنْ تَاْتِیَہُمْ (کہ وہ قیامت ان پر آپڑے) : یہ الساعہ سے بدل ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ ہل ینظرون الا اتیان الساعۃ۔ وہ صرف قیامت کی آمد کے منتظر بیٹھے ہیں۔ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اچانک اور ان کو خبر بھی نہ ہو) یعنی وہ اپنے امور دنیا میں مشغولیت کی وجہ سے غافل ہوں اور قیامت آجائے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی میں ہے۔ تاخذہم وہم یخصمون۔ ] یسٰین : 49[
Ayah 43:67مؤمنین کے علاوہ پر دوستی منقطع :
آیت 67: اَ لْاَخِلَّآئُ یہ جمع خلیل کی ہے۔ یَوْمَئِذٍم (قیامت کے دن) بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہونگے سوائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے) المتقین سے مؤمنین مراد ہیں۔ : یومئذ کا نصب یہ عدوٌ کی وجہ سے ہے۔ تقدیر کلام تنقطع فی ذلک الیوم کل خلۃ بین المتخالین فی غیر ذات اللّٰہ۔ اس دن تمام دوستیاں جو دوستوں کے مابین ہونگی وہ سب منقطع ہوجائینگی وہ دوستیاں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ اور کسی غرض سے ہونگی۔ اور غصے اور ناراضگی میں بدل جائیں گی۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی کرنے والوں کی دوستی باقی رہے گی۔ یہ باقی رہنے والی دوستی ہے۔
Ayah 43:68آیت 68: یٰعِبَادِ (اے میرے بندو ! ) قراءت : وصل و وقف دونوں صورتوں میں یاء کے ساتھ مدنی ٗ شامی ٗ ابوعمرونے پڑھا ہے اور ابوبکر نے یاء کے فتحہ کے ساتھ جبکہ دیگر تمام قراء نے یاء کو حذف کر کے پڑھا ہے۔
لَاخَوْفٌ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ وَلَا اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ (نہ تم پر خوف ہوگا آج کے دن اور نہ تم غمگین ہوگے) یہ حکایۃً اس بات کو بیان فرمایا جو اس دن اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کرنے والوں اور متقین کے لئے کہی جائے گی۔
Ayah 43:69آیت 69: اَلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاٰیٰتِنَا (یعنی وہ بندے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے) : الذین یہ محلاً منصوب ہے۔ کیونکہ عبادی کی صفت ہے۔ اور وہ منادی مضاف ہے جو منصوب ہوا کرتا ہے۔
ٰامنوا بٰایاتنا کا مطلب ہماری آیات میں تصدیق کی۔ وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ (اور وہ فرمانبردار تھے) یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے تھے۔
Ayah 43:70جنت کے نظارے :
آیت 70: اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُکُمْ (تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائو) ازواج سے مراد وہ بیویاں جو دنیا میں تھیں۔ تُحْبَرُوْنَ (تمہیں خوش کیا جائے گا) تمہیں ایسا خوش کیا جائے گا۔ جس سرور کا اثر تمہارے چہروں پر ظاہر ہوگا۔
Ayah 43:71آیت 71: یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَکْوَابٍ (اور ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے) صحاف جمع صحیفہ۔ چوڑا پیالہ۔ من ذہب کہہ کر بتلایا کہ وہ سونے کے بھی ہونگے۔ الکوب۔ وہ پیالہ جس کے ساتھ دستہ نہ ہو۔ وَفِیْہَا (اور اس جنت میں) مَاتَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ (وہ چیزیں ملیں گی۔ جن کو جی چاہے گا جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی) قراءت : مدنی ٗ شامی ٗ حفص نے تشتہیہ کو اثبات ہاء سے پڑھا ہے۔ اور یہ ضمیر موصول کی طرف راجع ہے اور دیگر قراء نے اس کو حذف کیا کیونکہ فعل ٗ فاعل و مفعول کے سلسلہ میں موصول کے متعلق وسعت ہے۔ تلذ الاعین کہہ کر نعمتوں کی اقسام کو محصور کیا۔ کہ وہ دو قسم کی ہونگی۔ نمبر 1۔ دل چاہی نمبر 2۔ آنکھوں کی ٹھنڈک۔ وَاَنْتُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ (اور تم یہاں ہمیشہ رہو گے)
Ayah 43:72آیت 72: وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے اپنے اعمال کے بدلے) : تلک وہ جنت جس کا ذکر ہوا۔ اس کی طرف اشارہ ہے اور یہ مبتدأ ہے۔ الجنۃ خبر ہے اور
الَّتِیْ اُوْرِثْتُمُوْہَا یہ جنت کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ التی اور ثتموہا یہ صفت ہے۔ اور بما کنتم تعملون یہ خبر ہے اور باء یہ محذوف سے متعلق ہے۔ ای حاصلۃ یا کائنۃ جیسا کہ خبر واقع ہونے والے ظروف میں ہوتا ہے۔ اور پہلی صورت میں اس کا تعلق اور ثتموہا فعل سے ہے۔
فائدہ : جنت کو میراث سے تشبیہ دی یہ بھی اسی طرح باقی رہنے والی ہے جیسا کہ میراث و رثہ کے لئے باقی رہتی ہے۔
Ayah 43:73آیت 73: لَکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ (اور تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں سے تم کھا رہے ہو) من بعض کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ تم ان میں سے بعض کو کھائو گے۔ اور اس کے پیچھے باقی درخت پر رہیں گے۔ وہ درخت جنت کے پھلوں سے ہمیشہ مزین رہے گا۔ حدیث میں ہے۔ کہ جنت کے جس درخت کا پھل توڑا جائے گا۔ اس کی جگہ فوراً دوسرا لگ جائے گا۔ ] البزاز۔ 3530[
Ayah 43:74کفار و مجرمین کی سزا :
آیت 74: اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ (بیشک مجرم عذاب جہنم میں ہمیشہ رہیں گے)
نحو : خالدون یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔
Ayah 43:75آیت 75: لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ (وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا)
فائدہ : یہ تیسری خبر ہے۔ یعنی وہ عذاب ان سے کم نہ کیا جائے گا اور نہ اس میں تخفیف ہوگی۔ وَہُمْ فِیْہِ (اور وہ اسی میں) عذاب میں۔ مُبْلِسُوْنَ (مایوس پڑے رہیں گے) وہ کشادگی سے مایوس اور حیران ہونگے۔
Ayah 43:76آیت 76: وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا) ان کو عذاب دے کروَلٰکِنْ کَانُوْا ہُمُ الظّٰلِمِیْنَ (لیکن وہ خود ہی ظالم تھے) : ہم یہ ضمیر فصل ہے۔
Ayah 43:77آیت 77: وَنَا دَوْا یٰمٰلِکُ (اور وہ آواز دیں گے اے مالک) یہ آواز اس وقت دیں گے جب عذاب کی کمی سے مایوس ہوجائیں گے۔ تو کہیں گے اے مالک یہ خازن جہنم ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
ان سے کسی نے کہا کہ ابن مسعود ؓ نے یا مال پڑھا ہے۔ تو عبداللہ فرمانے لگے انہوں نے اہل نار کو ترخیم سے مشغول نہیں کردیا۔ یعنی انہوں نے ترخیم ہی کی ہے۔
لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ (کہ تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے) ہمیں موت دے دے۔ یہ قضٰی علیہ سے لیا گیا۔ جس کا معنی موت دینا ہے جیسا اس آیت میں ہے فوکٰزہ موسٰی فقضٰی علیہ ] القصص : 15[
مطلب یہ ہے کہ اپنے رب سے کہو کہ ہم پر موت طاری کر دے۔ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ (وہ کہے گا تم ہمیشہ اس حال میں رہو گے) عذاب میں مبتلا رہو گے۔ موت اور کمی کے ساتھ تم چھوٹ نہیں سکتے۔
Ayah 43:78آیت 78: لَقَدْ جِئْنٰکُمْ بِالْحَقِّ (ہم نے سچا دین تمہارے پاس پہنچایا) حق سے کلام اللہ مراد ہے۔
نحو : قال میں ضمیر کا ہونا ضروری ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو۔ اس لئے کہ جب انہوں نے مالک سے موت کا سوال کرنے کو کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا۔
ایک قول یہ ہے :
یہ کلام مالک کے ساتھ متصل ہے۔ اور مراد جئناکم سے الملائکہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قاصد وہی ہیں اور وہ بھی من جملہ فرشتوں میں سے ایک ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ (لیکن تمہاری اکثریت سچے دین سے نفرت کرتی تھی) اور تم اس کو قبول نہ کرتے تھے اور اس سے بھاگتے تھے کیونکہ آرام باطل کی سنگت میں اور تھکاوٹ و تکلیف حق کی معیت میں ہے۔
Ayah 43:79کفار کی منصوبہ بندیاں :
آیت 79: اَمْ اَبْرَمُوْا اَمْرًا (ہاں تو کیا انہوں نے کوئی انتظام درست کیا ہے) کیا مشرکین مکہ نے اپنی تدابیر سے کسی بات کا فیصلہ کیا ہے۔ جو وہ محمد ﷺ کے متعلق کرتے رہتے ہیں۔ فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَ (پس ہم نے بھی ایک انتظام درست کیا ہے) اپنی تدابیر (معاونت حق کی) جیسے انہوں نے تدابیر کی ہیں۔
Ayah 43:80آیت 80: وہ منادی کر کے دارالندوہ میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق آئے روز فیصلے کرتے پس یہ آیت اتری۔ اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ (کیا ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں کو نہیں سنتے) سِرّہم سے ان کے دلوں میں آنے والی باتیں مراد ہیں۔ وَنَجْوٰہُمْ (اور ان کے مشورے) جو اپنی باتیں طے کرتے ہیں۔ اور دوسروں سے چھپاتے ہیں۔ بَلٰی (کیوں نہیں) ہم ان کو سنتے اور ان پر اطلاع رکھتے ہیں۔ وَرُسُلُنَا (اور ہمارے فرشتے) کرامًا کاتبین۔ لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ (ان کے پاس ہیں وہ بھی لکھتے ہیں) ان کے پاس ہی وہ ان باتوں کو لکھتے ہیں۔
یحییٰ بن معاذ (رح) کا قول :
جس نے لوگوں سے اپنے گناہ کو چھپا کر کیا اور اس کو اس کے سامنے ظاہر کردیا جس پر کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ تو گویا اس نے دیکھنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے ہلکا قرار دیا۔ اور یہ منافقت کی نشانیوں میں سے ہے۔