42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمدارک التنزیل

Ayahs 42:1–2
حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْ اِلَیْکَ وَاِلَی (حم۔ عسق۔ اسی طرح آپ پر اور جو آپ سے پہلے ہوچکے ہیں) الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے۔ وحی بھیجتا رہا ہے) ۔ 1، 2: حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ حمؔ کو عسق سے الگ کر کے لکھا گیا ہے۔ کھیعص کو اکٹھا لکھا گیا۔ کیونکہ حم، عسق دو آیات ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حروف مقطعات تمام جدا لکھے جاتے ہیں ان کے ساتھ ملانے کیلئے اس طرح لکھا۔
Ayah 42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

تمام کتابوں میں بار بار یہ مضمون اتارے : 3: کَذٰلِکَ یُوْحِیْ اِلَیْکَ (اس وحی کی طرح یا اس کتاب کی طرح جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے قبل ہوئے۔ اللّٰہُ یعنی اس سورت میں جو مضامین اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجے ہیں۔ اس جیسے مضامین اللہ تعالیٰ نے دوسری سورتوں میں آپ کی طرف وحی کیے ہیں اور ان لوگوں پر جو آپ سے پہلے ہوئے یعنی ان کے رسولوں کی طرف۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان معانی کو باربار تمام آسمانی کتابوں میں اتارا کیونکہ اس میں بندوں کے لیے شدید تنبیہ اور بڑی مہربانی ہے۔ قول ابن عباس ؓ : جو پیغمبرصاحب کتاب ہوئے ان سب پر حم، عسق کو اتارا۔ قراءت : مکی نے یُوَحٰی کو مفتوح پڑھا اور لفظ اللہ کو مرفوع اس قراءت کے مطابق جس پر یُوحٰی دلالت کررہا ہے۔ گویا کہنے والا کہہ رہا ہے۔ کہ وحی کرنے والا کون ؟ تو جواب دیا گیا۔ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ (وہ اپنے زور سے غالب ہیں) الْحَکِیْمُ (اپنے قول و فعل میں درستی پر قائم ہیں)
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

4: لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اس کا ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے) مُلک و ملک کے لحاظ سے۔ وَھُوَ الْعَلِیُّ (اور وہ برتر ہے) الْعَظِیْمُ (عظیم الشان ہے)
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اولاد قبیح ترین کلمہ ہے : 5: تَکَادُ السَّمٰوٰتُ (کچھ بعید نہیں کہ آسمان) قراءت : نافع اور علی نے یکاد پڑھا ہے۔ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِھِنَّ (اوپر سے پھٹ جائیں) قراءت : بصری اور ابوبکر نے ینفطرن پڑھا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے قریب ہے کہ آسمان اللہ تعالیٰ کی عظمت و بلند شان کی وجہ سے پھٹ پڑیں۔ اور اس پر العلی العظیم کے بعد اسکا لے آنا دلالت کر رہا ہے۔ ایک قول : اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنے کے قبیح ترین قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں جیسا دوسرے مقام پر فرمایا تکاد السموت یتفطرن منہ ] مریم : 90[ من فوقھن ؔ کا مطلب یہ ہے پھٹنے کی ابتداء آسمانوں کی بالائی جانب سے شروع ہو۔ قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا یتفطرن من تحتھن یعنی وہ جانب جس سے کلمہ کفر آیا۔ کیونکہ جو لوگ یہ کلمہ کہنے والے ہیں وہ آسمانوں کے نیچے ہیں۔ مگر اس میں مبالغہ کر کے اس کو اوپر والی جانب سے اثر انداز ہونے والا قرار دیا گویا اس طرح کہا گیا یکدن ینفطرن من الجھۃ التی فوقھن۔ دع الجھۃ التی تحتھن قریب ہے کہ وہ اس بالائی جانب سے پھٹ پڑیں نیچے والی جانب کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ من فوقھن ؔ سے من فوق الارض مراد ہے۔ پس کنایہ زمین کی طرف راجع ہے کیونکہ ارض اسم جنس بمعنی ارضین ہے۔ اور ایک قول یہ ہے ملائکہ کے ہجوم کی وجہ سے پھٹنے کے قریب ہیں۔حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے آسمان چر چر کرتا ہے اور اس کو ایسا کرنے کا حق ہے کیونکہ اس میں ایک قدم کے برابر ایسی جگہ نہیں جس پر کوئی فرشتہ قیام، رکوع یا سجدہ کی حالت میں نہ ہو۔ ] احمد 5/173، والترمذی 2312، ابن ماجہ 4190[ وَالْمَلٰٓپکَۃُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ (اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی عظمت کو دیکھ کر خشوع و خضوع سے۔ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ (اور اہل زمین کیلئے معافی مانگتے ہیں) اہل زمین میں سے ایمان والوں کیلئے۔ فرشتوں کا استغفار : جیسا کہ دوسرے اشاد میں فرمایا : و یستغفرون للذین اٰمنوا ] غافر : 7[ ان پر اللہ تعالیٰ کے دبدبے سے ڈر کی بناء پر یا اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک قرار دیتے اور ان صفات سے اس کو پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی ذات کے مناسب و لائق نہیں۔ وہ اپنے اوپر کی جانے والی مہر بانیوں کی بناء پر ثناء خوان ہیں۔ اور اہل زمین کا اللہ تعالیٰ کی ناراضگیوں میں مشغول ہونا دیکھ کر متعجب ہوتے ہیں۔ اور زمین پر تمام ایمان والوں کیلئے استغفار کرتے ہیں۔ یا رب العالمین کی بارگاہ سے طلب گار ہیں کہ وہ اہل ارض سے حلم کا معاملہ فرمائے اور ان کو جلد سزا نہ دے۔ اَ لَآ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف کرنے والا رحمت کرنے والا ہے) ان پر۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

6: وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا رکھا ہے) اس کے شریک اور حصہ دار بنا رکھے ہیں۔ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ (اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ بھال رہا ہے) ان کے اموال و اعمال پر نگہبان ہے۔ ان میں سے کوئی چیز اس کے علم سے رہ جانے والی نہیں۔ پس وہ ان کو ان اعمال پر سزا دے گا۔ وَمَآ اَنْتَ (اور نہیں ہے آپ کو) اے محمد ﷺ ۔ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ (ان پر اختیار) نہ ان پر نگران اور نہ ہی آپ کو ان کا معاملہ سونپا گیا آپ صرف ڈرانے والے ہیں۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

امّ القریٰ کا نام : 7: وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (اور اسی طرح ہم نے وحی کی آپ کی طرف) اس سے گزشتہ آیت کے معنی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر نگہبان ہیں آپ نہیں بلکہ آپ منذر ہیں کیونکہ اس معنی کو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ نحو : کذلک کا کاف یہ اوحیناؔ کا مفعول بہ ہے۔ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (قرآن عربی زبان میں ) نحو : یہ مفعول بہٖ سے حال ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ اوحینا الیک وھو قرآن عربی مبین ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور وہ قرآن عربی مبین ہے۔ لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی (تاکہ آپ مکہ والوں کو ڈرائیں) ام القریٰ یہ مکہ کا نام ہے کیونکہ زمین اس کے نیچے سے پھیلائی گئی یا اس لئے کہ وہ زمین کے حصوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور مراد اہل ام القریٰ یعنی مکہ والے ہیں۔ وَمَنْ حَوْلَھَا (اور جو اس کے آس پاس عرب ہیں) وَتُنْذِرَیَوْمَ الْجَمْعِ (اور ان کو جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں) یوم الجمع سے قیامت کا دن مراد ہے کیونکہ مخلوق اس میں اکٹھی ہوگی۔ لَارَیْبَ فِیْہِ (جس میں ذرا شک نہیں) یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس کا محل اعراب نہیں۔ عرب کہتے ہیں انذرتہ کذا و انذرتہ بکذا۔ فائدہ : اور کبھی لتنذرام القریٰ کو مفعول اول کی طرف متعدی کیا گیا ہے۔ اور تنذر یوم الجمع کو مفعول ثانی کی طرف۔ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ (ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں ہوگا) ان میں سے ایک گروہ جنت میں اور ان میں کا ایک گروہ دوزخ میں جائے گا۔ مسئلہ : ضمیر دونوں مجموعوں کی طرف راجع ہے کیونکہ معنی یہ ہے : یوم جمع للخلائق۔ مخلوق کو جمع کرنے کا دن۔ اضافت لامی ہے۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

8: وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَھُمْ اُمَّۃً وَّ احِدَۃً (اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا) یعنی تمام مومن ہوتے وَّ لٰکِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآ ئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ (مگر وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے) اسلام کی سعادت سے جس کو چاہتا ہے فیض یاب کردیتا ہے۔ وَالظّٰلِمُوْنَ (اور ظالموں کا) یعنی کافروں کا مَا لَھُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ (کوئی حامی نہیں) یعنی شفاعت کرنے والا وَّ لَا نَصِیْرٍ (اور نہ مددگار) مدافعت کرنے والا۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہے : 9: اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ فَاللّٰہُ ھُوَ الْوَلِیُّ (کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز قرار دے رکھے ہیں پس اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے) نحو : فاء فاللہ کی شرط مقدر کا جواب ہے۔ گویا اس کے سواہر ایک کی کارسازی سے انکار کے بعد فرمایا کہ اگر وہ حقیقی کارساز کے طالب ہیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی وہی حقیقی کارساز ہے۔ اور ضروری ہے کہ اسی کی دوستی اختیار کی جائے کوئی اور کارساز اس کے سوا ہے ہی نہیں۔ وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے) پس وہی اس لائق ہے کہ اس کو کارساز بنایا جائے۔ نہ کہ وہ جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

مختلف فیہ امر کا فیصلہ اللہ کے سپرد : 10: وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْ ئٍ (اور جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو) یہ قول رسول اللہ ﷺ ہے جو مؤمنین کیلئے بطور حکایت نقل کیا۔ کہ اے مسلمانو ! جس بات میں کفار تمہاری مخالفت کریں تم اور وہ امور دین میں سے کسی امر کے سلسلہ میں اختلاف کرو۔ فَحُکْمُہٗ (اس کا فیصلہ) اس مختلف فیہ امر کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ اِلَی اللّٰہِ (اللہ کے سپرد ہے) وہی اس میں حق پرستوں کو ثواب دینے والے اور باطل پرستوں کو سزا دینے والے ہیں۔ ذٰلِکُمُ ( یہ) اللہ تمہارے مابین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ (میرا رب ہے میں اسی پر توکل رکھتا ہوں) اس میں اعدائے دین کے مکرو فریب کی تردید ہے۔ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ (اور اس کی طرف میں رجوع کرتا ہوں) ان کے شر کی کفایت کیلئے میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ ایک قول : جو تمہارے مابین علوم کا اختلاف واقع ہو جو تمہارے دائرئہ اختیار میں نہ ہو۔ اور اس کے جاننے کا کوئی راستہ بھی نہ ہو تو اس کے متعلق کہو۔ اللّٰہ اعلم جیسا کہ روح کی معرفت وغیرہ مسائل۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے

1 1: فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے) : ذلکم کی خبر ہونے کی وجہ سے یہ مرفوع ہے یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ (اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے) تمہارے لئے تمہاری جنس میں سے لوگ پیدا کردیئے۔ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا (اور مواشی کے جوڑے بنائے) اور چوپایوں کیلئے بھی انہی کی جنس میں سے جوڑے بنائے۔ یَذْرَؤُکُمْ (وہ تمہاری نسل چلاتا ہے) تمہیں بڑھاتا ہے۔ کہا جاتا ہے ذرأ اللّٰہ الخلق اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو بڑھایا۔ پھیلایا۔ فِیْہِ (اس تدبیر سے) وہ یہ ہے کہ انسانوں اور چوپایوں کے جوڑے بنا کر افزائش نسل کا ذریعہ بنادیا۔ لطیفہ : یہاں لفظ فیہؔ کو منتخب کیا گیا۔ بہٖؔ نہیں لائے کیونکہ اس تدبیر کو آباد کاری اور کثرت کیلئے منبع اور معدن قرار دیا گیا۔ نمبر 2۔ یذرؤکم کی ضمیر مخاطبین اور انعام کی طرف راجع ہے اس میں عقلاء کو غیر عاقل پر تغلیب دی گئی ہے۔ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ئٌ (کوئی چیز اس کی مثل نہیں) ایک قول یہ ہے کلمہ تشبیہ کو مماثلت کی نفی میں تاکید کرنے کیلئے دوبارہ لایا گیا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے لیس مثلہ شیٔ۔ مقصود مثلیت کی نفی : مثل ؔ کا لفظ زائد ہے تقدیر کلام اس طرح ہے لیس کھو شیٔ جیسا کہ اس آیت میں فان ٰامنوا بمثل مااٰمنتم بہٖ ] البقرۃ : 137[ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مقصود مثلیت کی نفی ہے جب کاف یا مثل کو زائد نہ مانیں گے تو اسی سے اثبات مثل لازم آئے گی۔ ایک قول : اور ہے کہ مراد اس کی ذات جیسی کوئی شئی نہیں کیونکہ وہ کہا کرتے تھے۔ مثلک لا یبخل۔ اس سے ان کا مقصد اس کی ذات سے بخل کی نفی کرنا ہوتا تھا۔ پس کنایہ کے راستہ کو اختیار کر کے وہ اس میں مبالغہ پیدا کرتے کیونکہ جب وہ اس کی ایسے شخص سے نفی کرتے جو اس کے قائم مقام ہو تو وہ اس سے بالکل نفی کرتے۔ پس جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ باب الکنایات میں سے ہے تو ان اقوال میں فرق نہ رہا۔ لیس کاللّٰہ شیٔ اور لیس کمثلہ شیٔ البتہ کنایہ کا فائدہ تو اپنا ہے ہی گویا یہ دونوں عبارتیں ایک معنی کو ادا کرر ہی ہیں اور وہ معنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے مماثل کی نفی ہے۔ اور اسی طرح بل یداہ مبسوطتان۔] المائدہ : 64[ اس کا معنی یہ ہے بلکہ وہ سخی ہے بغیر ہاتھ اور بسط کے تصور کے کیونکہ یہ جود ؔ کی تعبیر ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کو اس کے متعلق استعمال کرتے ہیں جس کے ہاتھ نہیں۔ پس اسی طرح اس کا استعمال ان کے لئے بھی ہے جن کی مثل ہے اور ان کے لئے جس کی کوئی مثل نہیں۔ وَھُوَ السَّمِیْعُ (اور وہ ہر بات کو سننے والا) تمام مسموعات بغیر کان کے سننے والا ہے۔ الْبَصِیْرُ (دیکھنے والا ہے) تمام مرئیات کا بغیر آنکھ کی پتلی کے گویا ان دونوں کو ذکر کیا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ اس کی کوئی صفت نہیں جیسا کہ اس کی کوئی مثل نہیں۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

12: لَہٗ مَقَا لِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اس کے اختیار میں ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں) یہ سورة الزمر میں گزر چکی ہے۔ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ وَیَقْدِرُ (وہ جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور کم کردیتا ہے) یقدرؔ تنگ کردیتا ہے۔ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے)
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے

13: شَرَعَ (اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا) لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْ اَوْ حَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَآ بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی (تم لوگوں کیلئے وہی دین جس کا اس نے حکم دیا تھا نوح کو اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا) یعنی تمہارے لئے دین میں مقرر کیا دین نوح اور دین محمد اور ان انبیاء (علیہم السلام) کا دین جو ان کے درمیان ہوئے۔ پھر دین کی اس مشترک قدر کی تفسیر ذکر کی جو ان انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان رہا ہے فرمایا : دین کی مشترک قدریں : اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ (کہ تم اس دین کو قائم رکھنا) مراد اس سے دین اسلام کو قائم کرنا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت اور ایمان برسل اللہ اور اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور یوم جزاء پر ایمان و دیگرتمام ضروریات دین جن کے قائم کرنے سے آدمی مسلمان ہوتا ہے کا نام ہے اس سے مراد احکامات نہیں کیونکہ وہ مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھا جًا ] المائدہ : 48[ نحونمبر 1: ان اقیموا محل نصب میں شرعؔ کے مفعول اور اس کے دونوں معطوف علیہ کا بدل ہے۔ نمبر 2۔ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے گویا اس طرح کہا گیا وہ مشروع کیا ہے ؟ تو جواب دیا وہ اقامت دین ہے۔ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ (اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا) دین میں اختلاف نہ کرنا۔ قول علی ؓ تفرقہ مت ڈالو۔ جماعت رحمت ہے اور تفرقہ عذاب ہے۔ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ (مشرکین کو وہ بات بڑی بھاری ہے) ان پر گراں گزرتی ہے اور شاق گزرتی ہے۔ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ (جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور توحید کی اقامت اَللّٰہُ یَجْتَبِیْ (اللہ تعالیٰ کھینچ لیتا ہے) جمع کرتا اور کھینچ لیتا ہے۔ اِلَیْہِ (اپنی طرف) دین کی طرف اپنی توفیق اور تسدید کے ساتھ۔ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ (جس کو چاہتا ہے اور جو شخص رجوع کرے اس کو اپنے تک رسائی دے د یتا ہے) یعنی اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

14: وَمَا تَفَرَّقُوْا (اور وہ متفرق نہیں ہوئے) انبیاء (علیہم السلام) کے بعد اہل کتاب اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ (مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم پہنچ چکا تھا) مگر اس بات کے جان لینے کے بعد کہ تفرقہ بازی گمراہی ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے جس کے متعلق انبیاء (علیہم السلام) کی زبان پر بار بار وعیدیں اتر چکیں ہیں۔ بَغْیًام بَیْنَھُمْ (آ پس کی ضدا ضدی کی وجہ سے) حسد اور ریاست طلبی اور بلا استحقاقِ حق جتانے کی وجہ سے۔ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف ایک وقت معین تک ایک بات پہلے طے نہ پاچکی ہوتی) اور وہ یہ ہے بل الساعۃ موعد ھم ] القمر : 46[ لَّقُضِیَ بَیْنَھُمْ (تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا) تو وہ اس عظیم بہتان کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہوتے۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوْا الْکِتٰبَ مِنْم بَعْدِھِمْ (اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے) اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو زمانہ نبوت ﷺ میں پائے جاتے تھے۔ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ (وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں) اپنی کتاب کے متعلق شک میں پڑے ہیں۔ اور اس پر ہی ان کا سچا ایمان نہیں ہے۔ مُرِیْبٍ (جو ان کو تردد میں ڈالنے والا ہے) ان کو شک میں داخل کرنے والا ہے۔ ایک قول : یہ ہے کہ اہل کتاب نے اختلاف نہیں ڈالا مگر اس وقت جب ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا صحیح علم آچکا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وما تفرق الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاء تھم البینۃ ] البینہ : 4[ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْکِتٰبَ مِنْ 0 بَعْدِہِمْ ( اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے) اس سے مراد مشرکین ہیں جن کو اہل تورات و انجیل کے بعد قرآن مجید ملا۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

15: فَلِذٰلِکَ فَادْعُ (پس آپ اسی طرف بلاتے جائیں) لذلک لام اجلیہ ہے اس تفرق کی بناء پر اور اس بناء پر جو کہ پیش آیا کہ کفر مختلف گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔ آپ ان کو اتفاق و الفت کی طرف ملت حنیفیہ کے مطابق دعوت دیتے رہیں۔ وَاسْتَقِمْ (اور مستقیم رہیں) اس پر اور اس کی طرف دعوت دینے پر کَمَآ اُمِرْتَ (جس طرح آپ کو حکم ہوا) جیسا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآ ئَ ھُمْ (اور ان کی خواہشات پر نہ چلیں) جو کہ مختلف اور باطل ہیں۔ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ (اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں) یعنی وہ کتابیں جن کے متعلق پختہ یقین ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ یعنی تمام کتب منزلہ پر ان کا ایمان ہے کیونکہ تفرقہ بازوں کا بعض پر ایمان تھا اور بعض سے انکار تھا جیسے کہ ارشاد الٰہی ہے و یقولون نومن ببعض ونکفر ببعض الی قولہ… اولئک ھم الکافرون حقًا ] النساء : 150، 151[ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ (اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل کروں) جبکہ تم اپنا جھگڑا چکانے کیلئے میرے ہاں فیصلہ لائو۔ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ (اور اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا پروردگار ہے) یعنی ہم تمام اس کے غلام و بندے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیان دلیل بازی نہیں : لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ (ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال) یہ اسی طرح ہے جیسا فرمایا لکم دینکم ولی دین۔ ] الکافرون : 6[ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کا معنی یہ لیا جائے ہم سے تمہارے اعمال کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔ اور تم سے ہمارے اعمال کا نہ ہوگا۔ لَا حُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ( ہمارا تمہارا کوئی جھگڑ انہیں) کوئی جھگڑا نہیں کیونکہ حق ظاہر ہوچکا اور تم پر حجت پوری ہوچکی۔ اسلئے اب تبادلہ حجت کی ضرورت نہیں۔ حاصل مطلب یہ ہے ہم اور تمہارے درمیان دلیل و حجت بازی نہیں کیونکہ دونوں فریق اس سے اپنی دلیل لاتے ہیں کہ یہ اس کی دلیل ہے دوسرا کہتا ہے یہ اس کی دلیل ہے۔ اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا (اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا) قیامت کے دن وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ (اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) فیصلوں کیلئے وہاں واپسی ہے۔ پس ان کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ ہمارے لئے تم سے انتقام لے گا۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

مخاصمت یہود و نصاریٰ : 16: وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰہِ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑے نکالتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے متعلق مخاصمت کرتے ہیں۔ مِنْم بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ (اس کے بعد کہ اس کو مان لیا گیا ہے) لوگوں نے قبول کرلیا اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو دین جاہلیت کی طرف واپس کردیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے ود کثیر من اھل الکتاب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارًا ] البقرۃ : 109[ یہود و نصاری مسلمانوں کو کہا کرتے تھے۔ ہماری کتابیں تمہاری کتاب سے پہلے کی ہیں۔ اور ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے ہوا ہے پس ہم تم سے بہتر ہیں۔ اور حق کے زیادہ حقدار ہیں۔ ایک قول یہ ہے اس کے بعد کہ آپ ﷺ کی دعا کفار کے حق میں قبول ہوچکی۔ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ (ان کی دلیل باطل ہے) ان کی دلیل کو حجت کے نام سے ذکر کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقول ان کے وہ حجت تھی۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ (ان کے رب کے ہاں اور ان پر غضب ہے) ان کے کفر کی وجہ سے وَّ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ (اور ان کے لئے سخت عذاب ہے) جو آخرت میں پیش آئے گا۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو

حق و میزان اللہ تعالیٰ نے اتارے ہیں : 17: اَللّٰہُ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ (اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے کتاب کو اتارا) الکتاب سے جنس کتاب مراد ہے۔ بِالْحَقِّ (حق کے ساتھ) سچائی کے ساتھ یعنی اس حال میں کہ وہ حق سے ملنے والی ہے۔ وَالْمِیْزَانَ (اور انصاف کو نازل فرمایا) عدل اور برابری کو اور انزال عدل کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے عدل کو اپنی کتب منزلہ میں نازل فرمایا۔ ایک قول یہ ہے وہ بعینہٖ میزان ہے۔ اس کو نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں اتارا گیا۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ (اور آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو) شاید قیامت تمہارے قریب ہو۔ اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ مراد یہ ہے قیامت کی آمد اور الساعۃ کا معنی تاویلاً بعث ہے۔ قیامت کے قرب اور انزال کتاب اور میزان میں وجہ مناسبت یہ ہے کہ قیامت حساب کا دن ہے اور میزان کا قائم کرنا بھی انصاف کیلئے ہے گویا اس طرح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عدل و برابری اور شرائع و احکامات پر عمل کا حکم دیا۔ پس تم کتاب اور عدل پر عمل پیرا رہو اس سے قبل کہ اچانک تمہارے حساب و کتاب اور وزن اعمال کا دن آن پہنچے۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

قیامت کی حقانیت پر صحیح قول کی گمراہی : 18: یَسْتَعْجِلُ بِھَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِھَا (جو لوگ اس کا یقین نہیں رکھتے وہ اس کا تقاضا کرتے ہیں) وہ بھی بطور استہزاء وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا (اور جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں) قیامت کے ہول و ڈر سے لرزاں و ترساں ہیں۔ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّھَا الْحَقُّ (اور وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہے) ہر صورت میں آنے والی ہے۔ اَ لَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ (یاد رکھو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں) المما راتؔ اونٹنی کے تھنوں کو زور سے دبانا۔ کیونکہ ہر فریق دوسرے فریق کو اپنی بات سے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ لَفِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ (وہ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں) حق سے دور کیونکہ قیامت کا لانا قدرت باری تعالیٰ کیلئے کوئی بعید بات نہیں۔ کتاب وسنت قیامت کے وقوع پر دلالت کرتے ہیں اور عقول صحیحہ اس بات پر گواہ ہیں کہ ایک بدلے کا دن لازماً ایسا ہونا چاہیے جس میں حقداروں کو حق ملے۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

رزق مصلحت سے : 19: اَللّٰہُ لَطِیْفٌم بِعِبَادِہٖ (اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے) وہ بڑے لطیف انداز سے اپنے بندوں کو منافع پہنچاتا اور بلائوں کو ان سے ہٹاتا ہے۔ یا ان پر بڑا مہربان ہے اس کی مہربانی تمام کو پہنچنے والی ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ اس کا علم غوامض سے بھی لطیف تر ہے۔ اور اس کا حلم جرائم سے وسیع تر ہے۔ یا وہ مناقب کو پھیلاتا اور گناہوں کو چھپاتا ہے۔ یا وہ اس کو معاف کرنے والا ہے جو لغزشوں کا مرتکب ہے۔ یا وہ بندے کو کفایت سے بڑھ کردیتا ہے اور طاقت سے کم تر طاعت کا ذمہ دار بناتا ہے۔ قولِ جنید (رح) ہے اولیاء پر لطف و کرم کیا تو ان میں پہچان آگئی اگر وہ اپنے اعداء پر بھی نگاہ لطف ڈال دیتا وہ اس کا کبھی انکار نہ کرتے۔ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآ ئُ (وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے) وہ جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے جب وہ اس کی مصلحت اس میں دیکھتا ہے۔ ارشاد ِنبوت : میرے کچھ مومن بندے ایسے ہیں۔ جن کا ایمان مالداری سے ہی درست رہ سکتا ہے۔ اگر میں ان کو فقیر بنا دوں تو وہ فقر ان کے ایمان کو خراب کر دے۔ (رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس۔ 8098) وَھُوَ الْقَوِیُّ (اور وہ قوت والا ہے) ہر چیز پر غالب زبردست قدرت والا۔ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) ایسا محفوظ کہ مغلوب نہیں ہوسکتا۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

دو طلبگار : 20: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ (جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو) وہ عمل جس سے عمل کرنے والا فائدہ کا خواہشمند ہے۔ اس کو مجازاً حرث سے تعبیر کیا۔ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ (ہم اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے) اس کے عمل میں توفیق شامل فرما کر یا اس کی نیکیوں کو دوگنا کردیں گے یا اس سے دنیا وآخرت پائے گا۔ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا (اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو) یعنی جس کا عمل دنیا کیلئے ہوا اور آخرت پر ایمان نہ لایا۔ نُؤْتِہٖ مِنْھَا (تو ہم اس کو کچھ دنیا دے دیں گے) منھاؔ یعنی کچھ اس دنیا میں سے۔ کیونکہ مِنْ تبعیض کیلئے ہے اور اس سے مراد اس کا وہ رزق ہے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا وہ نہیں جس کا وہ ارادہ رکھتا اور خواہش مند ہے۔ وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ (اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں) آخرت میں قطعاً اس کا حصہ نہیں ہے۔ ایک نکتہ : آخرت کے عوامل میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس کو رزق مقسوم پہنچے گا۔ کیونکہ عمل کی پاکیزگی اور انجام کی کامیابی اس کو میسر ہونے والی ہے۔ اس کے بالمقابل یہ انتہائی حقیر چیز ہے۔ (جو اس مومن بندے کے مرتبہ کے مناسب نہیں)
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

21: اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا (کیا ان کے کچھ شریک ہیں) ایک قول یہ ہے کہ یہ ام منقطعہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے بل ألھم شرکاء (بلکہ کیا ان کے کچھ شریک ہیں) ۔ اور ایک قول یہ ہے یہ ام الف استفہام کا معادل آیا ہے۔ کلام میں اضمار ہے تقدیر کلام اس طرح ہے أیقبلون ماشرع اللہ فی الدین (کیا وہ قبول کرتے ہیں اس دین کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کیا) یا ان کے معبود ہیں۔ شَرَعُوْا لَھُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ 0 بِہِ اللّٰہُ (جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کو اجازت نہیں دی) یعنی انہوں نے اس کا حکم نہیں دیا۔ وَلَوْلَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ (اور اگر فیصلہ کن بات نہ ہوتی) جلدی سزا کے متعلق جو تقدیر کا فیصلہ ہوچکا یا اگر یہ وعدہ نہ ہوتا کہ فیصلے قیامت کے روز ہونگے۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ (تو ان کے مابین فیصلہ ہوچکا ہوتا) کفارو مؤمنین کے مابین یا ان کو جلد سزا مل جاتی۔ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان ظالموں کو ضرور درد ناک عذاب ہوگا) اگرچہ مشرکین سے عذاب دنیا میں تو مؤخر کردیا گیا ہے مگر آخرت میں ان کو شدید قسم کا عذاب ہوگا۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے

ظالمین اور صالحین کا انجام : 22: تَرَی الظّٰلِمِیْنَ (آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے) آخرت میں مشرکین کو مُشْفِقِیْنَ (وہ ڈر رہے ہونگے) مِمَّا کَسَبُوْا (اپنے اعمال سے) یعنی اپنے کفر کی سزا سے وَھُوَ وَاقِعٌ0 بِھِمْ ( اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا) وہ عذاب ان پر بہر صورت نازل ہوگا۔ خواہ وہ ڈریں یا نہ ڈریں۔ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ ( اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے وہ بہشتوں کے باغوں میں ہونگے) گویا مومن کی جنت کا عمدہ ترین حصہ اور سب سے زیادہ نزہت والا حصہ روضہ ہوگا۔ لَھُمْ مَّا یَشَآ ئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّھِمْ (اور وہ جس چیز کو چاہیں ان کو ان کے رب کے پاس ملے گی) نحو : عِنْدَ یہ ظرف یشاؤون کی وجہ سے منصوب ہے۔ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ (یہی بڑا انعام ہے) قلیل عمل پر۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے

23: ذٰلِکَ (یہی ہے) مشارالیہ فضل کبیر ہے۔ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ (جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے) قراءت :ـ مکی، ابو عمرو، حمزہ، علی نے یَبْشُر پڑھا ہے۔ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے) یعنی اس کی بشارت دیتا ہے۔ بہٖ جار کو حذف کردیا جیسا کہ اس ارشاد میں واختارموسٰی قومہ سبعین ] الاعراف : 155[ پھر وہ ضمیر بھی حذف کردی جو اسم موصول کی طرف لوٹنے والی تھی۔ جیسا کہ اس ارشاد میں أھذا الذی بعث اللّٰہ رسولا ] الفرقان : 41[ ای بعثہ۔ مشرکین کے قول کی تردید : مشرکین نے جب یہ واو یلا کیا کہ کیا محمد (ﷺ) یہ چاہتے ہیں کہ رسالت کا دعویٰ کر کے کچھ مال کمائے ؟ تو یہ آیت اتری۔ قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ (آپ اس طرح کہہ دیں کہ میں تم سے اور کچھ نہیں مانگتا) تبلیغ پر اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّ ۃَ فِی القُرْبٰی (مگر صرف رشتہ داری کی محبت) جائز ہے کہ مستثنیٰ متصل ہو یعنی میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا مگر یہ کہ تم میرے اہل قرابت سے محبت کرو۔ اور یہ بھی درست ہے کہ مستثنیٰ منقطع ہو۔ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ تم محبت کرو میرے ان قرابت داروں سے جو کہ تمہارے بھی قرابت دار ہیں اور ان کو ایذاء مت دو ۔ آیت میں الامودۃ القربٰی یا المودۃ للقربٰی نہیں فرمایا کیونکہ ان کو مودت کا مکان اور مودت کا ٹھکانہ قرار دیا گیا۔ جیسا کہتے ہیں لی فی آل فلان مودۃ ولی فیھم حب شدید اس کا مقصد یہ ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں اور وہ میری محبت کا مقام و مکان ہیں۔ فی مودۃ کا صلہ نہیں جیسا کہ لامؔ جب تم کہو : الا المودۃ للقربٰی تو یہ جار مجرور محذوف کے متعلق ہوگا۔ جیسا ظرف متعلق ہوتا ہے اس جملہ میں المال فی الکیس تقدیر کلام یہ ہوگی الا المودۃ ثابتۃ فی القربٰی ومتمکنۃ فیھا۔ مگر وہ مودت ثابت و متمکن ہونے والی ہے قرابتداروں میں۔ القربیٰ یہ زلفیٰ کی طرح مصدر ہے۔ اسی طرح بشرٰی اس کا معنی قرابت ہے۔ اور مراد فی اھل القربٰی ہے یعنی قرابت والوں میں روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ سے دریافت کیا گیا یارسول اللہ ! یہ آپ کے اہل قرابت کون ہیں جن کی مودت ہم پر لازم ہے۔ تو فرمایا علی ؓ اور فاطمہ ؓ اور ان کے دونوں بیٹے۔ ( یہ روایت ابن مردویہ نے نقل کی ہے مگر اس کی سند ناقابل اعتبار ہے اس لئے کہ اس میں حسین اشعری راوی کذاب شیعہ ہے) ایک قول : یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مجھ سے محبت کرو اس لئے کہ میری قرابت تم میں پائی جاتی ہے اور تم مجھے ایذاء نہ دو اور نہ میرے خلاف لوگوں کو بھڑکائو۔ اس لئے کہ بطون قریش میں کوئی بطن ایسا نہیں تھا جس میں آپ کی قرابت نہ ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ القربیٰ سے التقرب الی اللّٰہ مراد ہے مطلب یہ ہوگا تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرو اور اپنے اطاعت اور عمل صالح کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کرنے میں۔ وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً (جو شخص کوئی نیکی کریگا) وہ طاعت انجام دیتا ہے۔ سری سقطی (رح) کا قول ہے کہ حسنہ سے مراد آل رسول اللہ ﷺ کی مودت ہے یہ ابوبکر ؓ کے متعلق نازل ہوئی اور ان کی رشتہ داری ان میں تھی۔ مگر ظاہر کلام متقاضی ہے کہ عام مراد ہو خواہ کوئی بھی حسنہ ہو البتہ مودت کو یہ اولین درجہ میں شامل ہوگی کیونکہ مودت قربیٰ کے بعد اس کا تذکرہ ہے۔ نَّزِدْ لَہٗ فِیْھَا حُسْنًا (ہم اس میں اور خوبی زیادہ کریں گے) یعنی اس کو کئی گنا بڑھا دیں گے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ اضعافا کثیرۃ ] البقرہ : 245[ قراءت : حُسنٰی بھی پڑھا گیا اس صورت میں یہ بشریٰ کی طرح مصدر ہے اور ضمیر الحسنہ یا الجنت کی طرف راجع ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے) اس کو اپنی وسعت سے جو گناہ گار ہے۔ شَکُوْرٌ (بڑا قدر دان ہے) اپنے فضل سے جو اس کی اطاعت کرے۔ ایک قول یہ ہے وہ توبہ کو قبول کرنے والا اور برداشت کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں الشکورؔ ہے جس کا مطلب ہے طاعت پر اعتماد کرنے والا اور اس کا پورا ثواب دینے والا اور عنایت کرنے میں فضل کرنے والا۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے

تسلی ٔ رسول ﷺ : 24: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (کیا یہ لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ و بہتان باندھ رکھا ہے) ام منقطعہ ہے ہمزہ تو بیخ کیلئے ہے گویا اس طرح فرمایا : ایتمالکون ان ینسبوا مثلہ الی الا فتراء ثم الی الافتراء علی اللہ الذی ھو اعظم الفری وافحشہا ؟ کیا وہ قابو نہیں رکھتے کہ اس جیسی شخصیت کی طرف افتراء کی نسبت کریں پھر اس اللہ تعالیٰ پر افتراء کا الزام جو سب سے بڑا اور سب سے قبیح بہتان ہے۔ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ (پس اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر ُ مہر لگا دے) قولِ مجاہد۔ : یختم کا معنی یربط ہے۔ آپ کے دل پر صبر کا بند لگا دے اور ان تکالیف کے سلسلہ میں جو وہ پہنچاتے ہیں۔ اور ان کے اس قول پر کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے۔ یہ اس لئے فرمایا تاکہ ان کی تکذیب پر آپ کو تکلیف نہ ہو۔ وَیَمْحُ اللّٰہُ الْبَاطِلَ (اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا یا کرتا ہے) ۔ باطل ؔ سے شرک مراد ہے یہ کلام ابتدائی ہے یختم پر اس کا عطف نہیں ہے کیونکہ محو باطل شرط سے معلق نہیں ہے۔ بلکہ وہ مطلق وعدہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ لفظ اللہ کو تکرار سے لایا گیا ہے۔ وَ یُحِقُّ (اور ثابت کرتا ہے) یہ مرفوع ہے اور وائو اس طرح ساقط ہے جیسا اس آیت میں ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر ] الاسراء : 11[ اور آیت وسندع الزبانیۃ ] العلق : 18[ اس کے باوجود کہ یہ مصحف نافع میں قائم ہے۔ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ (اور وہ اسلام کو غالب کریگا۔ اور اسکو مضبوط کر دے گا) ۔ بِکَلِمٰتِہٖ (اپنے احکام سے) اپنے پیغمبر ﷺ کی زبان پر جو کتاب اس نے اتاری اس کے ذریعہ اور اللہ تعالیٰ نے ایسا کردیا۔ ان کے باطل کو مٹا دیا اور اسلام کو غالب کردیا۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌ 0 بِذَاتِ الصُّدُورِ (وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے) یعنی وہ اس کو بھی جانتا ہے جو تمہارے اور ان کے دلوں میں ہے پس وہ معاملے کو اس کے مطابق جاری فرمائے گا۔
Ayah 42:25

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

25: وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ (اور وہ ایسا ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے) عرب کہتے ہیں قبلت منہ الشیٔ جبکہ وہ اس سے لے اور سب سے پہلے لے۔ کہتے ہیں : قبلتہ عنہ یعنی میں نے اس سے اعراض کیا اور جدائی اختیار کی۔ التوبۃؔ برائی اور خلل واجب سے ان پر اظہار ندامت کرتے ہوے لوٹنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا، اور اگر کسی بندے کا حق ہو تو اس کے طریقے پر پڑتال میں بھی کوئی حرج نہیں۔ قولِ علی ؓ : التوبہ کا لفظ چھ معنوں میں استعمال ہوتا ہے : فرائض کے ضائع کرنے پر پشیمانی۔ فرائض کو دوبارہ ادا کرنا۔ حقوق لوٹا کر دے دینا۔ جس طرح نفس کو گناہوں میں گھلایا ہو اسی طرح نفس کو طاعت میں پگھلانا۔ جس طرح پہلے نفس کو گناہوں کی لذت چکھائی ہو اسی طرح نفس کو طاعت کی تلخی چکھانا۔ 1 جیسے پہلے ہنستا رہا تھا۔ اسی طرح اب رونا۔ قول سِرّی سقطی : گناہوں کے چھوڑنے کا سچا ارادہ، علام الغیوب کی طرف دل سے رجوع کرنا۔ دیگر کا قول یہ ہے : جب گناہ کا تذکرہ ہو تو اس کی حلاوت کا کوئی اثر دل میں نہ ہو۔ قولِ سہل : مذموم حالات سے محمود حالات کی طرف منتقل ہونا۔ قولِ جنید : غیر اللہ سے اعراض کرے۔ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ ( اور تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے) سیِّئات سے مراد شرک سے کم گناہ وہ جس کو چاہتا ہے بلاتوبہ معاف کردیتا ہے۔ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ (اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو) قراءت : ابوبکر کے علاوہ تاء کے ساتھ یعنی توبہ اور معصیت میں سے۔ اس پر وقف نہیں اس پر عطف کی وجہ اور اتصال معنی کی وجہ سے۔
Ayah 42:26

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کی (دعا) قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے

26: وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (اور ان لوگوں کی عبادت قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ دیتا ہے) یعنی جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعائوں کو قبول کرتا اور جو وہ طلب کریں وہ ان کو عنایت فرماتا ہے اور ان کے مطلوب سے ان کو بڑھا کردیتا ہے۔ استجاب اور اجاب کا ایک ہی معنی ہے ایسے مواقع پر سین فعل کی تاکید کیلئے لائی جاتی ہے جیسے تم کہو تعظم واستعظم۔ تقدیر کلام یہ ہے ویجیب اللّٰہ الذین امنوا (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی دعائوں کو قبول کرے گا) ۔ ایک قول : یہ ہے کہ ویستجیب للذین اور قبول کرتا ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے لام ؔ کو حذف کردیا۔ اور ان پر اس طرح احسان فرمایا کہ جب وہ توبہ کریں تو وہ ان کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کی سیئات سے درگزر کرتا ہے۔ اور جب وہ دعا کرتے ہیں تو قبول کرتا ہے اور ان کے سوال سے زیادہ دیتا ہے۔ قولِ ابراہیم بن ادہم۔ : ابراہیم بن ادہم سے کسی نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے تم کو طاعت کی طرف بلایا تم نے اس کی دعوت قبول نہیں کی۔ وَالْکٰفِرُوْنَ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ (اور کافروں کیلئے سخت عذاب ہے) آخرت میں۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے

مالداری سرکشی کا سبب ہے : 27: وَلَوْبَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ ( اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کیلئے روزی فراخ کردیتا) یعنی اگر تمام کو مالدار بنا دیتا لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ (تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے) بغواؔ یہ بغی سے ہے جس کا معنی ظلم ہے یعنی ایک دوسرے پر سرکشی کرنا کیونکہ مالداری تکبر اور سرکشی میں ڈال دیتی ہے۔ اس میں عبرت کیلئے فرعون کا حال کافی ہے۔ یا بغی بمعنی تکبر سے ہے ضرور زمین میں بڑائی کرتے وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ (لیکن وہ اتارتا ہے ) قراءت : مکی، ابو عمرو نے یَنْزِلُ تخفیف سے پڑھا ہے۔ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآ ئُ (اندازہ سے جتنا چاہتا ہے) عرب کہتے ہیں قدرہ قَدْرًا وقَدَرًا اندازہ کرنا۔ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌم بَصِیْرٌ (وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے) وہ بندوں کے احوال سے واقف ہے اس لئے بتقاضائے حکمت ان کے لئے اندازہ کرتا ہے پھر فقیر وغنی بناتا ہے۔ اور رزق روکتا اور عطاء کرتا تنگ کرتا اور کھولتا ہے اور اگر وہ تمام کو مالدار بنا دے تو وہ سرکش ہوجائیں اور سب کو فقیر محتاج بنا دے تو ہلاک ہوجائیں۔ باقی بعض سرکشوں پر وسعت رزق ہے اور بعض سرکش تنگ دست ہیں مگر وہ قلیل ہیں۔ فقر کی حالت میں سرکشی بنسبت مالداری کی حالت میں سرکشی سے کم ہے۔ مالداروں کی اغلب اکثریت نافرمان ہے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے

مایوسی کے بعد بارش : 28: وَھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ (اور وہ ایسا ہے جو بارش نازل کرتا ہے) ۔ قراءت : یُنَزّلکو مدنی، شامی و عاصم نے پڑھا۔ مِنْم بَعْدِ مَاقَنَطُوْا (اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوجاتے ہیں) قراءت : قَنِطُوا پڑھا گیا ہے۔ وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ (وہ اپنی رحمت پھیلاتا ہے) رحمت سے مراد بارش کی برکات اور منافع اور اس سے جو سرسبزی حاصل ہوتی ہے۔ مقولہ فاروقی ؓ : عمرفاروق ؓ سے کہا گیا۔ قحط زیادہ ہوگیا ہے اور لوگ مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا اب بارش ملے گی انہوں نے اس آیت کی طرف اشارہ کیا یا انہوں نے ہر شئی میں اللہ تعالیٰ کی جو رحمت ہے اس کا ارادہ کیا۔ وَھُوَ الْوَلِیُّ (اور وہ کارساز ہے) جو کہ اپنے بندوں کا احسانات کے ساتھ ذ مہ دار ہے۔ الْحَمِیدُ (وہ قابل تعریف ہے) اس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اہل طاعت اس کی تعریف کرتے ہیں۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے

چلنے والے جاندار آسمان و زمین میں : 29: وَمِنْ ٰایٰتِہٖ (من جملہ اور اس کی نشانیوں میں سے) یعنی علامات قدرت میں سے خَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمان و زمین کا پیدا کرنا ہے) ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود۔ وَمَا بَثَّ (اور وہ جاندار جو اس نے پھیلا دیے) ما جائز ہے کہ مرفوع ہو اور مجرور ہو مضاف پر محمول کر کے یا مضاف الیہ پر فِیْھِمَا ( آسمانوں اور زمین میں) مِنْ دَآ بَّۃٍ دواب تو صرف زمین کے اندر ہیں مگر کسی چیز کو مجموعہ کی طرف منسوب کرنا جائز ہے اگرچہ وہ بعض سے متعلق ہو۔ جیسا کہا جاتا ہے بنو تمیم فیھم شاعر مجید انما ھو فخذ من افخاذ ھم۔ بنو تمیم میں شاعر وہ ایک قبیلہ ہے ان کے قبائل میں سے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان ] الرحمان : 22[ حالانکہ موتی نمکین سمندر سے نکلتے ہیں۔ البتہ یہ بھی کوئی بعید بات نہیں کہ وہ آسمانوں میں ایسے جاندار پیدا کر دے جو انسانوں کی طرح زمین پر چلتے ہوں یا فرشتے اڑنے کے ساتھ چلتے ہوں۔ پس آہستہ چال جو انسانوں کی ہے ان کی تعریف بیان کی گئی۔ وَھُوَ عَلٰی جَمْعِھِمْ (اور ان کو جمع کرنے پر) قیامت کے دن اِذَا یَشَآ ئُ قَدِیْرٌ (جب وہ چاہے قدرت رکھتا ہے) نحو : اذا ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے ارشاد الٰہی ہے۔ والیل اذا یغشٰی ] الیل : 1[
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے

30: وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ (اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے) غم، دکھ، ناپسند بات فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے ہے) یعنی وہ اس گناہ کے باعث ہے جو تم نے کیے ہیں تاکہ سزا دی جائے۔ قراءت : مدنی، شامی اور علی نے بما کسبت پڑھا ہے۔ نحو : ما ؔ مبتدا اور بماکسبت اس کی خبر بغیر اس کے کہ اس میں شرط کا معنی پایا جائے اور جنہوں نے فاء ؔ کو قائم رکھا انہوں نے شرط کے معنی کو خبر میں متضمن تسلیم کیا ہے۔ اہل تناسخ کا استدلال : اگر بچوں کی اس حالت سے قبل اور کسی شکل میں حالت نہ ہوتی تو ان کو تکالیف نہ آتیں۔ جواب : آیت اپنے سیاق وسباق سے بتلا رہی ہے کہ یہ مکلفین سے متعلق ہے اور سیاق ملاحظہ ہو ویعفوعن کثیر وہ بہت سے گناہوں کو ان گناہوں میں سے معاف فرماتے ہیں۔ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (اور وہ بہت سے تو درگزر کردیتا ہے) پس وہ ان پر سزا نہیں دیتے یا بہت سے لوگوں کے گناہ معاف کردیتے ہیں ان کو جلد سزا نہیں دیتے۔ قول ِابن عطاء m : جو شخص نہیں جانتا کہ جو مصائب وفتن اس کو پیش آرہے ہیں یہ اپنے کیے ہوئے اعمال کے باعث ہیں اور جو اس کے آقا نے اس کو معاف کردیئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں وہ شخص اپنے رب کے احسانات کی زیادہ قدر نہیں کرتا۔ قولِ محمد بن حامد (رح) : بندہ تو ہر گھڑی گناہ کرنے والا ہے۔ طاعات میں اس کی جنایات معاصی کی جنایات سے بڑھ کر ہیں کیونکہ معصیت والی جنایت تو ایک اعتبار سے ہے اور طاعات والا گناہ کئی اعتبار سے گناہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو قسم قسم کے مصائب کے ذریعہ جنایات سے پاک کرتا ہے تاکہ قیامت کے دن اس کا بوجھ ہلکا ہو اگر اللہ تعالیٰ کی معافیاں اور رحمتیں نہ ہوں تو یہ پہلے قدم پر ہی ہلاک ہوجائے۔ قول علی ؓ : قرآن مجید میں ایمان والوں کیلئے یہ آیت سب سے زیادہ امید بندھانے والی ہے۔ کیونکہ کریم جب ایک مرتبہ سز ادے دیتا ہے تو دوسری مرتبہ سز انہیں دیتا اور جب معاف کرتا ہے تو پھر دوبارہ ان پر باز پرس نہیں کرتا۔
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

31: وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ (اور تم زمین میں ہرا نہیں سکتے) یعنی جن مصائب کا تمہارے لئے فیصلہ کردیا گیا ان سے بچ نہیں سکتے۔ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّ لِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ (اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی حامی و مددگار نہیں ہے) جو کہ اس وقت عذاب دور کر دے جب وہ تم پر اتر پڑے۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)

32: وَمِنْ ٰایٰتِہِ الْجَوَارِ (اور اس کی من جملہ نشانیوں میں سے جہاز ہیں) الجوار جمع جاریہ کی ہے بمعنی کشتیاں۔ قراءت : مکی، سہل، یعقوب نے ہر دو حالتوں میں الجواری پڑھا ہے۔ مدنی، ابو عمرو نے وصل میں ان کی موافقت کی ہے۔ فِی الْبَحْرِ کَالْاَ عْلَامِ (سمندر میں جیسے پہاڑ)
Ayah 42:33

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر (خدا) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

صابر و شاکر : 33: اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ (اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے) قراءت : مدنی نے الریاح پڑھا ہے۔ فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ (وہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں) کھڑے رہیں نہ چل سکیں۔ عَلٰی ظَھْرِہٖ (اس کی سطح پر) سمندر کی سطح پر اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ (بیشک اس میں نشانات ہیں ہر صابر) جو مصائب پر صبر کرتا ہے۔ شَکُوْرٍ (شاکر کیلئے) نعمتوں کا قدردان ہے یعنی ہر مخلص ایمان والے کیلئے۔ ایمان کے دو حصے ہیں نمبر 1۔ آدھا صبر 2۔ آدھا شکر یا اطاعتوں پر جم جانے والا اور نعمتوں کی قدردانی کرنے والا۔
Ayah 42:34

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کر دے اور بہت سے قصور معاف کر دے

34: اَوْیُوْ بِقْھُنَّ (یا ان کو ہلاک کر دے) یہ یسکن پر معطوف ہے۔ معنی یہ ہے اگر چاہے تو ہوا کو ٹھہرادے پس وہ رک جائیں یا ان کو تیز چلا دے جس سے وہ غرق ہوجائیں بِمَا کَسَبُوْا (ان کے کمائے ہوئے گناہوں کے باعث) وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ (اور وہ بہت سے آدمیوں سے درگزر کرجاتا ہے) بہت سے گناہوں سے درگزر کر کے ان پر سزا نہیں دیتا۔ اس آیت میں عفو و درگزر کو ایباقؔ کے حکم میں داخل کیا گیا اس لئے کہ وہ تو اس کا پختہ ارادہ کرچکا ہے کیونکہ معنی یہ ہے یا اگر وہ چاہے تو کچھ لوگوں کو ہلاک کر دے اور کچھ لوگوں کو بطریق عفو نجات دے دے۔
Ayah 42:35

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور (انتقام اس لئے لیا جائے کہ) جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لئے خلاصی نہیں

35: وَّ یَعْلَمَ (اور معلوم ہوجائے) یہ منصوب ہے اس کا عطف جملہ تعلیلیہ پر ہے جو کہ محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے لینتقم عنہم ویعلم، الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْ اٰیٰتِنَا (ان لوگوں کو جو ہماری آیات میں جھگڑتے ہیں) ان آیات کو باطل کرنے اور دور کرنے کیلئے۔ قراءت : مدنی اور شامی نے ویعلمُ بطور جملہ مستانفہ پڑھا ہے۔ مَالَھُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ (کہ ان کے لئے کوئی بچائو نہیں) عذاب سے بچ جانے کی جگہ۔
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

(لوگو ! ) جو (مال و متاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

36: فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَاعِنْدَ اللّٰہِ (پس جو کچھ تم کو ملا ہوا ہے وہ صرف دنیوی زندگی کے استعمال کیلئے ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) یعنی ثواب خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے وہ ان لوگوں کیلئے ہے جو ایمان لے آئے اور اپنے رب پر وہ توکل کرتے ہیں) نحو : ماؔ پہلا شرط کے معنی کو متضمن ہے اسی لئے اس کے جواب میں فاء آئی ہے اور دوسرا ماؔ شرط کا معنی نہیں رکھتا اسی لئے اس کے جواب میں فاء نہیں یہ آیت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق نازل ہوئی جب انہوں نے اپنا سارا مال راہ خدا میں صرف کردیا اور بعض لوگوں نے ان کو ملامت کی۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں

37: وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ (اور وہ لوگ جو پرہیز کرتے ہیں) نحو : اس کا عطف الذین ٰامنوا پر ہے اور اسی طرح اس کا مابعد کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ (بڑے گناہوں سے) یعنی بڑے گناہ جو اس جنس سے ہیں۔ قراءت : علی، حمزہ نے کبیر الاثم پڑھا ہے۔ قول ابن عباس ؓ کبیرالاثم سے شرک مراد ہے۔ وَالْفَوَاحِشَ (اور بےحیائی کی باتوں سے) ایک قول یہ ہے جس کی قباحت زیادہ ہو وہ فاحشہ ہے جیسے زنا وَاِذَا مَاغَضِبُوْا (اور جب ان کو غصہ آتا ہے) اپنے کسی دنیاوی معاملے میں ھُمْ یَغْفِرُوْنَ (وہ معاف کردیتے ہیں) وہ غصہ کی حالت میں معاف کرنے کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ نحو : آیت میں ھمؔ اور پھر اس کو بطور مبتدأ لانا۔ اور یغفرون کی اسناد خصوصاً اس کی طرف کرنا۔ اسی خصوصیت کے اظہار کیلئے ہے۔ وھم ینتصرون میں یہی نکتہ پیش نظر رکھیں۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

انصارِ مدینہ کی طاعت شعاری : 38: وَالَّذِیْنَ اسْتَجَا بُوْا لِرَبِّھِمْ (اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا) یہ آیت انصار مدینہ کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی طرف بلایا اور طاعت کی دعوت دی تو انہوں نے اس کو قبول کرلیا۔ ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کا حکم مان لیا۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور وہ نماز کے پابند ہیں) وہ پانچوں نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ وَاَمْرُھُمْ شُورٰی بَیْنَہُمْ (اورا نکا ہر کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے) ای ذو شوری۔ وہ کسی رائے میں انفرادیت اختیار نہیں کرتے جب تک اس پر اتفاق نہ کرلیں۔ قولِ حسن (رح) : جس قوم نے مشورہ سے کام لیا وہ سب سے بہتر کام کی طرف ہدایت پا گئے۔ الشوریؔ یہ الفتیا کی طرح مصدر ہے جو کہ التشاور کے معنی میں ہے۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں) وہ صدقہ کرتے ہیں۔