42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں

بغی پر انتقام : 39: وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمْ الْبَغْیُ (اور ان لوگوں پر جب ظلم واقع ہوتا ہے) ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ (وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں) وہ اس ظالم سے انتقام لیتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بدلہ اس کا مقرر فرمایا ہے۔ اس پر وہ اکتفاء کرتے ہیں۔ اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ وہ اپنے آپ کو اس میں ملوث کرنے کو تیار نہ تھے مگر فساق نے ان پر جرأت کی تو وہ بدلہ پر آمادہ ہوئے۔ ایک نکتہ : یہاں ان کی بدلہ لینے پر تعریف کی گئی ہے کیونکہ جس نے بدلہ لیا اور حق لیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز نہ کیا اگر وہ ولی دم تھا تو اس نے قتل میں اسراف نہ کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہے اور ہر مطیع قابل تعریف ہے ھمؔ ینفقون کے تحت لکھے ہوئے کا دوبارہ مطالعہ کرلیں۔
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

بدلہ کی حدود : 40: پھر بدلہ کی حد کو بیان فرمایا وَجَزٰٓ ؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا (اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے) پہلا لفظ سیئہ تو اپنے حقیقی معنی میں ہے اور دوسرا حقیقی معنی میں نہیں۔ بلکہ جزاء سیئہ کو سئیہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ وہ برائی و زیادتی کرتا ہے اور اس شخص پر جس پر وہ اترتی ہے اس لئے اس کو سیئہ کہہ دیا اور اس وجہ سے بھی کہ اگر پہلی زیادتی نہ ہوتی تو دوسری سیئہ بنتی اس صورت میں وہ ایذاء دینا شمارہوتا۔ وہ غیر کی وجہ سے حسنہ بنی ہے تو اصل کا لحاظ کر کے اس کو سیئہ کہہ د یا۔ نمبر 3۔ دوسری کو سیئہ کا نام اس لئے دیا گیا کہ عفو اولیٰ (وان تعفوا اقرب للتقویٰ ) مطلب یہ ہے جب زیادتی کی جائے تو ضروری ہے کہ اس کا سامنا اتنی ہی زیادتی سے کیا جائے البتہ حد سے تجاوز نہ ہو۔ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ (پھر جو شخص معاف کردے اور اصلاح کرے) اس کے اور اس کے مخالف کے درمیان عفو و چشم پوشی سے کام لے۔ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (پس اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) مبہم وعدہ ہے بڑائی اور شان میں ناقابل قیاس ہے۔ (سبحان اللہ) اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا) جو ظلم سے ابتداء کرتے ہیں یا جو لوگ بدلہ میں حد سے آگے گزر جاتے ہیں۔ حدیث میں فرمایا قیامت کے دن ایک منادی آواز دے گا۔ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو وہ کھڑا ہوجائے پس اس وقت صرف معاف کرنے والا کھڑا ہوگا۔ (رواہ العقیلی فی الضعفاء 3/447)
Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں

41: وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ (اور جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لے لے) اس نے ظلم کیے جانے کے بعد اپنا حق لیا۔ فائدہ : یہاں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ فَاُولٰٓپکَ مَا عَلَیْھِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ (تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں) اولئک کا اشارہ من ؔ کے معنی کی طرف مشیر ہے نہ کہ لفظ کی طرف بدلہ لینے والے پر کوئی الزام نہیں اور نہ ہی معاتب و معایب پر کیوں کہ ان سے اس کا بدلہ چکا لیا گیا ہے۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا

42: اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ (الزام صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں) ظلم کرنے میں ابتداء کرتے ہیں۔ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ (اور دنیا میں سرکشی کرتے ہیں) تکبر و بڑائی کرتے اور فساد مچاتے ہیں۔ بِغَیْرِ الْحَقِّ اُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (ناحق ان کے لئے دردناک عذاب ہے) سبیل کی تفسیر حجت اور پیچھا کرنا۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں

43: وَلَمَنْ صَبَرَ (اور جو شخص صبر کرے) ظلم و ایذاء پر وَغَفَرَ (اور بخش دے) بدلہ نہ لے۔ اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ) یعنی صبر اور اس سے درگزر کرنا لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے) یعنی ایسے امور میں سے ہیں جن کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یا یہ ایسے امور میں سے ہے جن کے لئے مناسب ہے کہ عقل مندان کو اپنے اوپر لازم کرے اور اس کے چھوڑنے کی رخصت اختیارنہ کرے۔ یہاں منہؔ ضمیر کو حذف کیا گیا ہے کیونکہ وہ درمیان کلام سے سمجھ آرہی ہے جیسا کہ عرب اس قول میں قرینہ کی وجہ سے حذف کرتے ہیں۔ السمن منوان بدرھم۔ قولِ ابو سعید القرشی (رح) : بیداری کی علامت یہ ہے کہ مکارہ پر صبر کرے جس نے کسی ناپسند بات پر صبر کیا اور جزع کا اظہار نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو رضا کی حالت میسر فرمائیں گے اور یہ رضا والاحال سب سے اعلیٰ ہے۔ اور جس نے مصائب پر جزع فزع کی اور شکوہ کیا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالہ کردیتے ہیں۔ پھر اس کا شکوہ کسی کام نہیں آتا۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟

44: وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ وَّ لِیٍّ مِّنْم بَعْدِہٖ (اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو اس کے بعد اس شخص کا کوئی کارساز نہیں) کوئی اس کو ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ کے اضلال کے بعد اور کوئی اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔ وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ (اور تم ظالموں کو دیکھو گے) قیامت کے دن لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ (جبکہ وہ عذاب کو سامنے دیکھیں گے) جب عذاب سامنے نظر آجائے گا۔ اس بات کے قطعی واقع ہونے کی وجہ سے ماضی کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍ (اور وہ کہیں گے لوٹنے کی کوئی راہ ہے) وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کریں گے کہ ان کو ایمان لانے کیلئے دنیا میں واپس لوٹا دے۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے اور مومن لوگ کہیں گے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا دیکھو ! کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے

45: وَتَرٰھُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا (اور آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں گے کہ ان کو آگ کے سامنے لایا جائے گا) ۔ ھاؔ کی ضمیر نار کی طرف راجع ہے اس لئے کہ عذاب اس پر دلالت کررہا ہے۔ خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ (وہ ذلت کی وجہ سے جھکنے والے ہونگے) ذلت کے حاصل ہونے کی وجہ سے بتکلف چھوٹے بنیں گے اور اپنے کو بتکلف حقیر بنائیں گے۔ یَنْظُرُوْنَ (وہ آگ کی طرف دیکھیں گے) مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ (سست نگاہ سے) آنکھیں چرا کر ذرا سی نظر سے دیکھیں گے جیسا کہ قتل گاہ میں موجود شخص تلوار کو دیکھتا ہے۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ ٰامنُوْا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ وَ اَھْلِیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (اور ایمان والے کہیں گے کہ مکمل خسارہ والے وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں سے اور اپنے متعلقین سے قیامت کے روزخسارہ میں مبتلا ہوئے) یوم کا لفظ خَسِرُوْا کے متعلق ہے اور ایمان والوں کا قول دنیا میں واقع ہونے والا ہے یا قال کے متعلق ہے یعنی یقولون یوم القیامۃ اذا رأوھم علی تلک الصفۃ وہ کہیں گے قیامت کے دن جب ان کو اس حالت میں دیکھیں گے۔ اَ لَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ (خبردار ! بیشک ظالم لوگ عذاب دائمی میں رہیں گے) مقیم کا معنی دائمی۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں

46: وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنْ اَوْلِیَآ ئَ یَنْصُرُوْنَھُمْ (اور ان کے کوئی مددگار نہ ہونگے جو ان کی مدد کریں گے) مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ سے الگ) اس کے عذاب سے بچانے کیلئے مدد کریں۔ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ (اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کے لئے کوئی راستہ ہی نہیں) نجات کی طرف۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

(ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آموجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا

قیامت سے پہلے اس کی بات مان لو : 47: اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ (تم اپنے رب کا حکم مان لو) اس کو قبول کرلو جس کی طرف اس نے تمہیں بلایا ہے۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ (اس سے پہلے کہ ایسا دن آن پہنچے) یوم ؔ سے پہلے قیامت کا دن مراد ہے۔ لَّا مَرَدَّلَہٗ مِنَ اللّٰہِ (جس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹنانہ ہوگا) مِنْ یہ لامرد سے متصل ہے ای لایردہ اللہ بعد ماحکم بہٖ اللہ تعالیٰ اس کا حکم کرنے کے بعد واپس نہیں لوٹائے گا۔ نمبر 2۔ یاتی سے تعلق ہے ای من قبل ان یاتی من اللہ یوم لا یقدر احدٌ علی ردّہٖ ۔ اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا دن آجائے کہ جس دن کوئی شخص اس کے لوٹانے کی طاقت نہ رکھتا ہوگا۔ مَا لَکُمْ مِّنْ مَّلْجَأٍ یَّوْمَپذٍ وَّمَا لَکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ (نہ تم کو اس روز کوئی پناہ ملے گی اور نہ تمہارے بارے میں کوئی روک ٹوک کرنے والا ہوگا) یعنی تمہیں کوئی عذاب سے چھوڑانے والا نہ ہوگا۔ اور نہ ہی تمہیں طاقت ہے کہ تم کسی بھی چیز کا انکار کرو جس کا تم نے پہلے ارتکاب کیا ہے وہ تمہارے صحائف اعمال میں درج کردیا گیا۔ النکیرؔ : انکار۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے

48: فَاِنْ اَعْرَضُوْا (پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں) ایمان سے فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا (تو ہم نے آپ کو ان پر نگران کر کے نہیں بھیجا) حفیظ، نگران کو کہتے ہیں۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلٰغُ (آپ کے ذمہ پیغام رسالت کو ان تک پہنچا دینا ہے) اور وہ آپ نے کردیا۔ وَاِنَّآ اِذَآ اَذَ قْنَا الْاِنْسَانَ (اور ہم جب آدمی کو کچھ اپنی عنایت کا مزہ چکھاتے ہیں) الانسان بول کر جمع مراد ہے۔ مِنَّا رَحْمَۃً یعنی نعمت، وسعت، امن، صحت فَرِحَ بِھَا (وہ خوش ہوجاتا ہے) اترا نے لگتا ہے۔ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌم (اور اگر ان کو مصیبت آپڑتی ہے مثلاً مرض، تنگدستی وغیرہ اور انہی کی قسم سے۔ فرح کے لفظ کو واحد لایا گیا لفظ کا لحاظ کر کے اور اِنْ تُصِبْھُمْ میں ضمیر جمع لائے۔ معنی کے لحاظ سے۔ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ (بسبب ان کے گناہوں کے جو انہوں نے آگے بھیجے) انسان نہایت ناشکرا ہے : فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ (پس بلاشبہ انسان ناشکرا ہے) یہاں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر لائے اس طرح نہیں کہا فانہ کفورٌ تاکہ یہ بات لکھی جائے کہ یہ جنس کفر ان نعمت کے ساتھ موصوف ہے جیسا کہ فرمایا ان الانسان لظلوم کفار۔ بیشک انسان ظالم ہے نا شکرا ہے ] ابراہیم : 34[ الکفور ؔ بہت شدید کفر کرنے والا۔ مطلب یہ ہے کہ مصائب کو تو یاد رکھتا ہے مگر نعمتوں کو بھلا دیتا ہے اور ان کو حقیر قرار دیتا ہے۔ ایک قول یہ ہے اس سے کفران نعمت مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کفر باللہ ہے۔
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

تمام بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخش دیتا ہے

قدرت باری تعالیٰ : 49: لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی) یَخْلُقُ مَایَشَآ ئُ یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا (وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے) وَّ یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآ ئُ الذُّکُوْرَ (اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطاء فرماتا ہے) ۔
Ayah 42:50

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

50: اَوْیُزَوِّجُھُمْ (یا ان کو جمع کر کے دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی) ذُکْرَانًا وَّ اِنَا ثًا وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآ ئُ عَقِیْمًا (مذکر اور مؤنث اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے) جب انسان کو رحمت چکھانے کا تذکرہ فرمایا گیا۔ اور انسان کو اس کی ضد کے پہنچ جانے کا تذکرہ ہوچکا تو اس کے بعد توحید کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ بادشاہ مطلق ہیں۔ وہی نعمتیں اور نقمتیں تقسیم کرتا ہے جس طرح وہ ارادہ فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے اولاد نصیب کردیتا ہے بعض کو صرف بیٹیاں اور بعض کو صرف بیٹے اور بعض کو دونوں قسمیں اور بعض کو بےاولاد رکھتا ہے۔ ( یہ سارے اس کی قدرت کے کرشمے ہیں) العقیم جو اولاد جننے کے قابل نہ ہو۔ رجل عقیم وہ مرد جو اولاد کے لائق نہ ہو۔ یہاں مؤنثات کو مذکروں پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ سیاق کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں نہ وہ کچھ جو انسان چاہے پس ان بیٹیوں کا تذکرہ کہ جن کو انسان نہیں چاہتا کہ پیدا ہوں۔ تو ان کا تذکرہ زیادہ اہم تھا۔ اس لئے مقدم کردیا اور تاکہ وہ جنس قریب ہو جس کو ذکر کرنا عرب کے لوگ مصیبت سمجھتے تھے۔ بلاء کا ذکر بلاء کے قریب ہوجائے۔ جب مذکروں کو مؤخر کیا حالانکہ وہ مقدم کرنے کے لائق ہیں۔ تو ان کی تاخیر ذکری کا تدارک ان کی تعریف سے فرما دیا۔ کیونکہ معرفہ لانے میں تشہیر اور شان کو بڑھانا ہے۔ پھر ہر دو جنس کو تقدیم و تاخیر کا حق دیا جاتا رہا۔ اور یہ بتلا دیا کہ عورتوں کا پہلے ذکر کرنا ان کے تقدیم مرتبہ کی علامت نہیں بلکہ اور وجہ سے ہے پس فرمایا ذکرانا واناثًا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق نازل ہوئی۔ اس لئے کہ لوط (علیہ السلام) کو فقط بیٹیاں دیں اور شعیب کو بھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو فقط بیٹے اور محمد ﷺ کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیں۔ یحییٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو بےاولاد رکھا۔ (مگر عیسیٰ (علیہ السلام) تو آخری زمانہ میں اتریں گے ان کے ہاں اولاد ہوگی جیسا کہ احادیث میں مصرح ہے،۔ مترجم) اِنَّہٗ عَلِیْمٌ (بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے) قَدِیْرٌ (وہ ہر چیز پر قادر ہے)
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے

طرقِ وحی کی تفصیل : 1 5: وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ (اور کسی بشر کی یہ شان نہیں) کسی بھی انسان کیلئے یہ درست نہیں۔ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا (کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے) الہام کے طور پر جیسا کہ مروی ہے نفث فی روعی کہ دل میں یہ بات ڈالی گئی ] رواہ احمد : 3/50[ یا نیند میں خواب کے ذریعہ جیسا کہ نبی (علیہ السلام) کا قول ہے۔ رؤیا الانبیاء وحی۔] رواہ البخاری : 859[ وہ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کے ذبح کا حکم خواب میں ملا۔ اَوْمِنْ وَّرَآ یِٔ حِجَابٍ (یا حجاب کے باہر سے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کلام براہ راست سنتا ہے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا بغیر اس کے کہ کوئی سامع کلام کرنے والے کو دیکھے اور اس حجاب سے مراد حجاب اللہ نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے وہ لفظ استعمال کرنے جائز نہیں جو اجسام کیلئے جائز ہیں۔ مثلاً حجاب وغیرہ۔ لیکن اس سے مراد یہ ہے سامع کو دنیا میں ْنظر آنے سے وہ محجوب ہے۔ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا (یا کسی رسول کو بھیجے) یعنی فرشتے کو بھیجے فَیُوْحِیَ (پس وہ پیغام پہنچا دیتا ہے) ۔ وہ فرشتہ اس کی طرف پیغام پہنچا دیتا ہے۔ ایک قول : یہ ہے۔ وحیاً جیسا کہ رسولوں پر ملائکہ کے واسطہ سے وحی کی گئی۔ اویرسل رسولاً یعنی نبی کو بھیجے جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اقوام سے ان کی زبانوں کے مطابق کلام کیا گیا۔ وحیًا اور ان یرسل یہ دونوں مصدر ہیں اور یہ حال بن رہے ہیں۔ کیونکہ ان یرسل ارسالا کے معنی میں ہے اور من وارء حجابؔ یہ ظرف ہے جو حال کی جگہ آیا ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں وعلی جنوبھم ] آل عمران : 191[ تقدیر کلام اس طرح ہے اور صحیح نہیں کہ وہ کسی سے کلام کرے مگر یہ کہ وہ وحی کرنے والے ہوں یا مسمعًا من وارء حجاب پردے کے پیچھے سے سنانے والے ہوں۔ یا مرسل بھیج کر پہنچا نے والے ہوں۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ معنی اس طرح کرلیں کسی انسان کے لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کریں مگر اس طرح کہ وحی کی جائے یا وہ پردے کے پیچھے سے سنتا ہے یا وہ کوئی قاصد بھیجتا ہے خلیل نحوی نے اس کو اختیار کیا ہے اور اویرسل رسولا فیوحِی رفع کے ساتھ نافع نے پڑھا تقدیر عبارت : اوھو یرسل رسولا فیوحی (وہ رسول بھیجتا ہے پس وہ ان کے ذریعہ وحی کرتا ہے) نافع اور علی نے مرفوع پڑھا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے او ھو یرسل فیوحی (یا وہ کئی رسول بھیج کر پس وہ وحی کرے) ۔ بِاِذْنِہٖ (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) مَا یَشَآ ئُ (جو وہ چاہے) وحی سے اِنَّہٗ عَلِیٌّ (بیشک وہ غالب ہے) اسے روکا نہیں جاسکتا۔ حَکِیْمٌ (وہ اپنے اقوال و افعال میں درستی والا ہے) پس اس کے افعال و اقوال میں معارضہ نہیں۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے (سے قرآن) بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک (اے محمد ﷺ تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو

52: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) یعنی جیسا ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کی طرف وحی بھیجی یا جیسا کہ ہم نے آپ کو بیان کردیا۔ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (ہم نے آپ کی طرف وحی کی) وحی کرنا اسی طرح ہوتا ہے۔ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا (یعنی اپنا حکم بھیجا) مراد یہ ہے کہ جو آپ کی طرف بھیجی گئی کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے اپنے دین میں زندہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ جسم روح سے زندہ ہوجاتا ہے۔ مَا کُنْتَ تَدْرِیْ (آپ کو نہ یہ خبر تھی) : الیک کے کاف سے یہ حال ہے۔ مَا الْکِتٰبُ (کتاب کیا چیز ہے) وَلَا الْاِیْمَانُ (اور نہ ایمان کیا چیز ہے) یعنی اس کے احکامات، اور نہ ایمان بالکتاب کیونکہ جب وہ یہ نہیں جانتے کہ کتاب نازل ہوگی تو وہ اس کتاب کے جاننے والے نہ بنے۔ ایک قول یہ ہے : کہ ایمان کئی چیزوں کو شامل ہے۔ بعض کی طرف راہ تو عقل ہے اور بعض کی طرف راہ کان ہیں۔ پس یہاں وہ مراد ہیں جن کا تعلق سمع سے ہے نہ کہ عقل سے اور وہ آپ کو علم نہ تھا یہاں تک کہ وحی سے اس کو حاصل کرلیا۔ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰـہُ ( لیکن ہم نے اس کو بنادیا) یعنی کتاب کو نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ( ایک نور جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ایک سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کر رہے ہیں) تھدیؔ دعوت دینے کے معنی میں ہے اور۔ قراءت : ایک قراءت میں تھدی بہٖ بھی پڑھا گیا ہے۔ صراط مستقیم سے اسلام مراد ہے۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

(یعنی) خدا کا راستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)

53: صِرَاطِ اللّٰہِ (یعنی اس اللہ تعالیٰ کے راستہ کی) ۔ نحو : یہ بدل ہے۔ الَّذِیْ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (کہ اس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے) ملکیت وملوکیت کے لحاظ سے اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ (خبردار سب امور اسی ہی کی طرف لوٹیں گے) اس میں جہنم کی وعید اور جنت کا وعدہ ہے۔