41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 41:1
حم، اگر اس کو سورت کا نام قرار دیں تو مبتدا ہے۔ اور تنزیل اس کی خبر ہے۔ نمبر 2 ۔ اور اگر اس کو حروف مقطعات میں شمار کرو تو پھر تنزیل یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور کتاب یہ تنزیل کا بدل ہے یا خبر بعد خبر ہے۔ یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ یا تنزیل مبتدا من الرحمن الرحیم اس کی صفت اور کتاب اس کی خبر ہے۔
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

حم، تنزیل من الرحمن (حم یہ کلام رحمان رحیم کی طرف سے اتارا) ۔
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ (یہ ایک کتاب ہے جس کی آیات صاف صاف) قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (بیان کی گئی ہیں۔ یعنی ایسا قرآن ہے جو عربی ہے ایسے لوگوں کیلئے ہے جو دانشمند ہیں) ۔ تفصیل کا معنی : کتب فصلت ایتہ، الگ الگ کی گئی ہیں اور تفاصیل مختلف معانی میں دی گئی ہے جیسے احکام، امثال، مواعظ، وعدہ، وعید وغیرہ ذلک۔ قرانا عربیا اختصاص و مدح کی بناء پر یہ منصوب ہیں۔ ای ارید بھذا الکتاب المفصل قرانا من صفتہ کیت و کیت۔ میری مراد اس کتاب مفصل سے قرآن ہے جس کی صفت یہ یہ ہے۔ نمبر 2 ۔ حال کی بناء پر منصوب ہے۔ ای فصلت آیاتہ فی حال کونہ قرانا عربیا، اس کی آیت مفصل ہیں۔ اس حال میں کہ وہ قرآن عربی ہے۔ لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ یعنی تم قوم عرب کیلئے وہ ان آیات مفصلہ کو جو ان کی طرف اتاری گئیں ان کی زبان عربی سے ان آیات کی تفصیل کردی گئی ہے۔ نحو : لقوم یہ تنزیل سے متعلق ہے۔ یا تنذیل من اللہ لاجلہم یا فصلت ایاتہ لہم۔ نمبر 1 ۔ یہ جاننے والی قوم کیلئے اتارا گیا۔ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی خاطر اتارا گیا۔ نمبر 3 ۔ اس کی آیات کی تفصیل ان کی خاطر کی گئی۔ مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ ماقبل اور مابعد کی طرح صفت ہو۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ قرانا عربیا کائنا لقوم عرب۔ قرآن میں عربی واقع ہونے والا ہے قوم عرب کیلئے۔
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا (بشارت دینے والا ہے اور ڈرانے والا ہے) نحو : یہ دونوں قرآن کی صفات ہیں۔ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ (پس اکثر لوگوں نے روگردانی کی پھر وہ سنتے ہی نہیں) یعنی آپ کی بات کو قبول ہی نہیں کرتے۔ عرب کہتے ہیں تشفعت الی فلان فلم یسمع قولی ولقد سمعہ ولکنہ لما لم یقبلہ ولم یعمل بمقتضاہ۔ میں نے فلاں کے ہاں سفارش کی پس اس نے میری بات نہیں سنی حالانکہ اس نے بات تو سنی ہوتی ہے لیکن قبول نہیں کی ہوتی اور نہ ہی اس کے مقتضی پر عمل کیا ہوتا ہے۔ پس گویا اس نے سنا ہی نہیں۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

انکار کفار کی تمثیل : وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل اس سے پردوں میں ہیں) اکنہ جمع کنان کی ہے : پردے۔ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ (جس بات کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں) یعنی توحید۔ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ (اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے) حجاب کا معنی پردہ۔ در اصل قبول حق سے ان کے دلوں کے انکار کی یہ تمثیل ہے اور اعتقاد حق کے انکار کو اس تمثیل سے ظاہر کیا گیا گویا ان کے دل پردے اور غلاف سے ڈھنپے ہوئے جو کہ نفوذ حق سے رکاوٹ بن گئے ہیں اور ان کے کان سننے سے انکاری ہیں۔ گویا کہ وہ حق سے بہرے ہوچکے ہیں۔ اور حق و باطل کے راستوں میں کیونکہ بہت بڑا فاصلہ ہے گویا ان کے اور رسول ﷺ کے درمیان ایک روکنے والے پردہ اور پہاڑ سے زیادہ محفوظ رکاوٹ پڑی ہوئی ہے۔ یا اسی طرح کی روکیں پس اس وجہ سے نہ ملاقات ہے اور نہ ایک دوسرے کو دیکھنا پایا جاتا ہے۔ فَاعْمَلْ (پس آپ اپنا کام کیے جائیے) اپنے دین کے مطابق چلتے رہیے۔ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ (ہم اپنا کام کر رہے ہیں) ۔ ہم اپنے دین پر عمل کرنے والے ہیں۔ یا تو ہمارے معاملے کو ختم کرنے کے لیے کوشش کرلو۔ ہم تیرے سلسلہ کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ فائدہ مِن : من کے اضافہ کا فائدہ یہ ہے کہ حجاب کی ابتداء ہم سے اور ابتداء تم سے ہے۔ اور درمیان والی مسافت پردے سے گھری ہوئی ہے جس میں کوئی خالی جگہ نہیں۔ اگر اس کے بغیر لایا جاتا تو کلام کا معنی اس طرح ہوتا کہ ایک پردہ دو جہتوں کے درمیان میں پڑنے والا ہے۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

بشر ہونے کی حالت میں وحی کی بناء پر میری نبوت درست ہے : قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ (آپ فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں۔ مجھ پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے) ۔ یہ کفار کے قول قلوبنا فی اکنۃ کا جواب ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے ان کو فرمایا میں رشتہ نہیں ہوں۔ میں تو تمہارے جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی ہوتی ہے تم پر نہیں۔ بشر ہونے کی حالت میں وحی ہونے کی بناء پر میری نبوت صحیح ہے۔ جب میری نبوت درست ہے تو تم پر میری اتباع ان تمام باتوں میں لازم ہے جو میری طرف وحی کی جاتی ہیں۔ وہ بات یہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہے۔ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْهِ (پس اسی کی طرف سیدھ باندھ لو) توحید و اخلاص عبادت کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہو۔ دائیں بائیں مت جاؤ۔ اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دو جو شیطان تمہارے سامنے مزین پیش کر کے پیش کرتا ہے کہ دوسروں کو شفعاء اور کارساز بنا لو۔ وَاسْتَغْفِرُوْهُ (اور اس سے معافی مانگو) شرک سے وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ (اور ایسے مشرکین کیلئے بڑی خرابی ہے)
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

زکوۃ کو کفر کے ساتھ جمع کرنے کی وجہ : الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ (جو زکوۃ نہیں دیتے) ان کا وجوب زکوۃ پر ایمان نہیں اور نہ ہی اس کو ادا کرتے ہیں یا وہ افعال نہیں کرتے جس سے وہ پاک ہوجائیں اور وہ فعل ایمان ہے اور وہ فعل ایمان ہے۔ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ (اور وہ آخرت کے منکر ہیں) یعنی بعث وثواب اور عقاب کے هُمْ كٰفِرُوْنَ (اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں) یہاں کفر کے ساتھ ملا کر زکوۃ کو کفر بالآخرت کے ساتھ جمع کردیا کیونکہ انسان کی محبوب ترین چیز اس کا مالک ہے اور یہ مال انسانی روح کا ہم جو لی ہے جب مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردیتا ہے تو یہی اس کی استقامت کی پختہ دلیل ہوتی ہے اور اس کے صدق نیت کو ظاہر کرتی اور خالص فرمانبرداری کو نمایاں کرتی ہے مؤلفۃ القلوب کو دنیا کی چسک نے دامن اسلام میں پرودیا۔ اس مال سے ان کی عصبیت محبت میں اور اندرونی کینہ خلوص نیت میں بدل گیا بنو حنیفہ نے زکوۃ روک کر ارتداد کی راہ اختیار کرلی۔ غرضیکہ اس آیت میں ایمان والوں کو ادائیگی زکوۃ پر آماد کیا گیا اور عدم ادائیگی سے سخت ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

غیر منقطع اجر : اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں) ۔ ممنون منقطع کو کہتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جو اپاہج، بیمار، انتہائی بوڑھے ہیں کہ جب وہ عجز کی عمر تک پہنچ جائیں تو ان کے صحت و جوانی میں کیے جانے والے اعمال کا بدلہ اسی طرح لکھا جاتا ہے (احادیث میں یہ مضمون کثرت سے وارد ہے۔ مترجم)
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

نمونہ ہائے قدرت، نہ آسمان و زمین کی تخلیق : قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ (کہہ دیجیے کیا تم ایسے اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو روز میں پیدا کردیا) یومین سے اتوار اور سوموار مراد ہیں۔ مخلوق کو حوصلہ و ترتیب کی تعلیم دینے کیلئے اور اگر ان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنا چاہتا تو کرسکتا ہے۔ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادًا (اور تم اس کے شریک بناتے ہو) شریک اور مشابہ۔ ذٰلِكَ (یہ) جس نے ما سبق مخلوق بنائی۔ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (سارے جہاں کا رب ہے) ۔ تمام موجودات کا خالق ہے اور انکا مالک و مربی ہے۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

پہاڑوں کو گاڑ دیا : وَجَعَلَ فِيْهَا (اور اس نے زمین میں بنا دئیے) رَوَاسِيَ (قائم رہنے والے پہاڑ) مِنْ فَوْقِهَا (اس کے اوپر) اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اوپر گاڑا تاکہ پہاڑوں کے منافع طلب گاروں کے لیے ظاہر ہوں اور تاکہ یہ بھی انسان دیکھ لے کہ یہ پہاڑ بوجھ پر بوجھ ہے اور ہر ایک ان میں سے ایک ایسی ذات کا محتاج ہے جو ان کو تھامے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ ہے۔ وَبٰرَكَ فِيْهَا (اور فائدے کی چیزیں رکھ دیں) ، یعنی پانی، کھیتی اور درخت و ثمر سے برکت دی۔ وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا (اور اس میں اس کی غذائیں تجویز کردیں) ۔ اقوات سے مراد اہل زمین کے رزق اور جن چیزوں پر ان کی معیشت اور درستی کا دار و مدار ہے۔ تقسیم اقوات، قول ابن مسعود۔ فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ (چار دنوں میں) دونوں کے تتمہ کے طور پر عرب کہتے ہیں سرت من البصرۃ الی بغداد فی عشرۃ والی الکوفۃ فی خمسۃ عشر۔ مطلب یہ ہوتا ہے یہ پندرہ دن کا تتمہ ہے گویا کل پندرہ ہوئے اور یہ فرض کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر اس کو تسلیم نہ کریں اور ظاہر پر جاری کریں تو یہ آٹھ دن بن جائیں گے کیونکہ پہلے فرمایا خلق الارض فی یومین۔ پھر فرمایا وقد فیہا اقواتہا فی اربعۃ ایام۔ پھر فرمایا۔ قضاھن سبع سموات فی یومین۔ پس یہ فی ستۃ ایام کے مخالف ہوجائے گا۔ اور حدیث جس کو مسند احمد 2:327 اور مسلم 2789 نے نقل کیا ہے ان اللہ تعالیٰ خلق الارض یوم الاحد والاثنین وخلق الجبال یوم الثلثاء وخلق یوم الاربعاء الشجر والماء والعمران والخراب وذلک اربعۃ ایام و خلق یوم الخمیس السماء و خلق یوم الجمعۃ النجوم والشمس والقمر والملائکۃ وخلق آدم (علیہ السلام) فی آخر ساعۃ من یوم الجمعۃ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں قیامت قائم ہوگی۔ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ (پوچھنے والوں کیلئے یہ پورے ہیں) قراءت : یعقوب نے ایام کی صفت قرار دے کر سواء پڑھا۔ یعنی پورے چار دنوں میں۔ یزید نے سواء پڑھا ایھی سواء وہ برابر ہیں۔ دیگر قراء نے سواء کو نصب کے ساتھ استوت کا مصدر پڑھا ہے۔ ای استواء یا حال کی بناء پر منصوب پڑھا ہے۔ للسائلین نمبر 1 ۔ یہ قدر کے متعلق ہے مطلب یہ ہے کہ اس نے طالبین محتاجین کیلئے اقوات کو مقدر کردیا۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک قوت کو طلب کرتا ہے اور مانگتا ہے یا نمبر 2 ۔ محذوف کے متعلق ہے گویا اس طرح فرمایا یہ شمار و گنتی اس شخص کیلئے ہے جو یہ سوال کرے کہ زمین کتنے عرصہ میں بنی اور اس میں جو کچھ ہے وہ کتنے دنوں میں تیار ہوا۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

تخلیق سماء : ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهًا ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ (پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ دھواں سا تھا۔ پس اس نے زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی سے دونوں نے عرض کیا ہم خوشی سے حاضر ہیں) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے آسمان کو بنانے اور جیسا چاہا اس طرح ایجاد کرنے کو مجاز کے اندازے سے بیان فرمایا جیسا محاورہ عرب ہے۔ فعل فلان کذا ثم استوی الی اعمل کذا۔ اس سے انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس نے اول کو مکمل کیا اور دوسرے کی ابتداء کی۔ نکتہ نمبر 1: اس آیت سے یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے بعد ہے اور عبداللہ بن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ اور انہی کا قول ہے کہ اول اللہ تعالیٰ نے ایک جوہر پیدا فرمایا جس کا طول و عرض ایک لاکھ سال کی مسافت کے برابر تھا۔ پھر اس کی طرف رعب کی نگاہ سے دیکھا تو وہ پگھل گیا اور حرکت بےقراری میں آگیا پھر اس میں سے کچھ دھواں اڑا جب اس پر آگ کو مسلط کیا۔ پس وہ بلند ہوا اور جمع ہو کر پانی پر جھاگ سا بن گیا۔ اس جھاگ سے زمین اور دھوئیں سے آسمان بن گیا۔ نکتہ نمبر 2: آسمان و زمین کو اتیان کا حکم دینے اور ان دونوں کے امتثال کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو بنانے کا ارادہ فرمایا۔ دونوں نے اس میں ذرا رکاوٹ نہ ڈالی اور وہ اسی طرح پائے گئے جیسے ارادہ فرمایا تھا۔ وہ دونوں اس سلسلہ میں مطیع خادم کی طرح تھے جبکہ اس کو کسی قابل اطاعت بات کے کرنے کا حکم ملے۔ نکتہ نمبر 3: آیت میں آسمان کے ساتھ زمین کو بھی امر اتیان میں ذکر کیا گیا حالانکہ زمین تو دو دن آسمانوں سے پہلے بنی۔ اس کی وجہ سیہ ہے کہ وجودِ ارض کی پیدائش تو پہلے ہی ہے البتہ زمین کو بچھایا نہیں گیا تھا۔ آسمان کی پیدائش و تکمیل کے بعد زمین کو بچھایا گیا ہے جیسا کہ فرمایا والارض بعد ذلک دحہا (النازعات :30) ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ تم دونوں اسی طرح آؤ جیسا مناسب شکل وصف کے ساتھ تمہارا آنا ہے اے زمین تم بچھ کر اپنے رہنے والوں کے لیے قرار اور بچھونا بن جاؤ اور اے آسمان تم جھک کر ان کے لیے چھت بن جاؤ۔ الاتیان کا معنی اصول وقوع ہے جیسا تم کہو گے اتی عملہ مرضیا اس نے اپنا کام خوش اسلوبی سے کردیا۔ تاثیر قدرت : طوعا او کرھا سے آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی تاثیر کو بیان کرنا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ قدرت کی تاثیر سے ان کا بچے رہنا ناممکن ہے جیسا کہ تم اپنے ماتحت کو کہو۔ لتفعلن ھذا شئت او ابیت و لتفعلنہ طوعا او کرھا کہ تمہیں چار و ناچار یہ ضرور کرنا پڑے گا۔ نحو : یہ دونوں حال کی وجہ سے منصوب ہیں۔ اس وقت یہ دونوں طائعین کے معنی میں یا مکرھتین کے معنی میں ہوں گے۔ نکتہ : یہاں لفظ کا لحاظ کر کے طائعتین نہیں کہا اور نہ ہی معنی کا لحاظ کر کے طائعات کہا کیونکہ وہ دونوں سموات اور ارضون تھے (جمع مونث سالم اور جمع مذکر سالم) کیونکہ جب ان کو مخاطب اور مجیب بنایا گیا تو اس کا لحاظ کر کے طوعا اور کرھا ان کی صفت ذکر کی گئی۔ ایک قول یہ ہے طائعین یہ طائعات کی جگہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں سجدین کا لفظ سورة یوسف آیت نمبر 4
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

سات آسمان بنائے : فَقَضٰهُنَّ (پس ان کو بنادیا) ان کی تخلیق کو پختہ کیا جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔ وعلیہما مسرودتان قضاھما۔ اس میں قضی پختہ کرنے کے معنی میں ہے۔ ان دونوں پر دوزر ہیں ہیں پختہ کی ہوئی۔ نحو : ھن ضمیر آسمان کی طرف راجع ہے کیونکہ سماء جنس ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر مبہم ہو اور اس کی تفسیر سَبْعَ سَمٰوَاتٍ ہو دونوں حالتوں میں منصوب ہے مگر نصب کی وجہ اول صورت میں حال بننا ہے اور دوسری صورت میں تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ فِيْ يَوْمَيْنِ (دونوں میں) جمعرات اور جمعہ۔ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَهَا (اور ہر آسمان میں اس کے مناسب اپنا حکم بھیج دیا) امرھا سے مراد جو حکم اس میں چلانا مناسب تھا۔ اور اس کا ملائکہ اور آگ وغیرہ کی تخلیق کی تدبیر فرمانا ہے۔ وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا (اور ہم نے آسمانِ دنیا کی کواکب کے ذریعہ استرقاقِ شیاطین سے حفاظت کی) ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ (یہ تجویز ہے زبردست واقف الکل کی) جو غالب ہے مغلوب نہیں۔ العلیم (امور کے مواقع سے واقف ہے)
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

فَاِنْ اَعْرَضُوْا (پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں) یعنی اس وضاحت کے بعد ایمان سے اعراض کریں۔ فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ (تو آپ کہہ دیجیے میں تم کو ڈراتا ہوں) صٰعِقَةً (ایسی آفت سے) سخت واقع ہونے والا عذاب گویا کہ وہ صاعقہ ہے۔ صاعقہ وہ گرج جس کے ساتھ آگ ہو۔ مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ (جیسی آفت عاد وثمود پر آئی تھی)
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

اِذْ جَاۗءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ (جب ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی رسول آئے) یعنی ہر طرف سے آئے اور انہوں نے ان کے ایمان کے سلسلہ میں ہر حیلہ اختیار کیا۔ مگر ان کی طرف سے اعراض ہی نظر آیا۔ قول حسن (رح) : انبیاء (علیہم السلام) نے ان کو پہلی امتوں میں پیش آنے والے واقعات اور عذاب آخرت سے ڈرایا۔ نحو : ان بمعنی ای ہے۔ یا مخخہ من المثقلہ ہے اس کی اصل بانہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ قَالُوْا (کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے تم اور کسی کو مت پوجو۔ انہوں نے جواب دیا) یعنی قوم نے لَوْ شَاۗءَ رَبُّنَا (اگر ہمارے پروردگار کو منظور ہوتا) کہ وہ رسول بھیجے۔ نحو : شاء کا مفعول محذوف ہے۔ کیونکہ تم فرشتے نہیں پس ہم ایمان لاتے۔ لَاَنْزَلَ مَلٰۗىِٕكَةً فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ (تو فرشتوں کو بھیجتا۔ پس ہم اس سے بھی منکر ہیں جس کو دے کر تم بھیجے گئے ہو) اس کا معنی یہ ہے کہ پس جبکہ تم بشر ہو اور ملائکہ نہیں ہو۔ تو ہم تم پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس پر جو وحی تم دے کر بھیجے گئے ہو۔ بما ارسلتم بہ یہ اقرار رسالت نہیں۔ بلکہ یہ کلام رسولوں کے کلام پر بطور تمسخر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرعون نے کہا تھا ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (الشعراء : 27) اور یہ ہود و صالح اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے زمانہ والے کفار نے جن کو ایمان کی دعوت دی گئی تھی یہ جواب دیا نمائندہ قریش عتبہ بن ربیعہ : روایت میں ہے کہ قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو روانہ کیا تاکہ وہحضور ﷺ سے بات کرے یہ ان میں عمدہ بات کرنے والا تھا۔ وہ اس وقت آپ کو ملا جب آپ حطیم میں تشریف فرما تھے۔ اس کے ہر سوال کا آپ ﷺ نے جواب دیا۔ پھر آپ نے ان کے سامنے سورة فصلت کی آیات مثل صاعقۃ عاد وثمود تک تلاوت فرمائیں تو عتبہ نے قرآن سن کر آپ کو رحم کا واسطہ دیا۔ اور آپ کے منہ پر خوف زدہ ہو کر ہاتھ رکھ لیا کہ کہیں اس پر ابھی عذاب کا کوڑا نہ برس پڑے۔ عتبہ نے واپس آ کر کقریش کو کہا میں سحر، شعر سب کو جانتا ہوں۔ اللہ کی قسم وہ نہ سحر ہے نہ شعر۔ قریش نے کہا تو بھی صابی ہوگیا۔ کیا تو نے اس کی کوئی بات سمجھی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ اور نہ ہی مجھے اس کے جواب کی کوئی صورت نظر آئی۔ پس وثمان بن مظعون ؓ کہنے لگے یہ کیفیت اس لیے طاری ہوئی تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ کلام رب العالمین ہے۔ ربط : پھر عاد وثمود پر صاعقہ آسمانی کی وضاحت کی۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

عاد کا قوت پر گھمنڈ : فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (پھر وہ جو عاد کے لوگ تھے وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے) انہوں نے ایسی چیزوں سے انی بڑائی دوسروں پر جتلائی جس کے وہ حقدار نہ تھے۔ اور طاقت اور جسامت اور حکومت پر بلا استحقاق زبردستی قابض ہوگئے۔ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً (اور کہا وہ کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہے) ان کے اجسام بڑے بڑے اور ڈیل ڈول بڑے تھے۔ ان کی قوت یہاں تک پہنچی تھی کہ آدمی پہاڑ سے چٹان اکھاڑ لیتا۔ اَوَلَمْ يَرَوْا (کیا ان کو یہ نظر نہ آیا) کیا ان کو اس طرح کا علم نہ ہوا جو آنکھوں دیکھے کی طرح ہو۔ اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً (کہ جس اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے) ان سے زیادہ قدرت والا ہے۔ کیونکہ اس کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے۔ اور ان لوگوں کو بعض چیزوں پر اس کے طاقت دینے سے قابو ملا ہے۔ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْــحَدُوْنَ (وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے) اس کا فاستکبروا پر عطف ہے۔ یعنی وہ جانتے تھے کہ وہ حق ہے لیکن انہوں نے اس کا انکار کردیا جیسا وہ شخص جس کے پاس امانت رکھی جائے امانت کا انکار کرتا ہے۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

باد صر صر سے ہلاکت : فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا (پس ہم نے ان پر ایک ہوائے تند بھیجی) تیز آندھی جس سے صرصراہٹ کی آواز تھی۔ یا ٹھنڈی ہوا جو اپنی سردی کی شدت سے ہر چیز کو جلاتی تھی۔ الصر، ٹھنڈک، پالا۔ اسی کو رباعی پر لے جایا گیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ پچھم ہے۔ فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ (ایسے دنوں میں جو منحوس تھے) ان کے لیے منحوص تھے۔ قراءت : مکی، بصری، نافع نے نَحْسات پڑھا ہے۔ یہ نُحِس نَحَسا سعد سعداً کی نقیض و عکس ہے اور ھو نَحِسٌ کہا جاتا ہے۔ البتہ نَحْس یا نَحِس کو تخفیف سے پڑھتے ہیں یا یہ مستقل فِعلٌ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے یا مصدر کو صفت کے معنی میں استعمال کرلیا یہ آخر شوال میں بدھ سے اگلے بدھ تک تھے۔ جتنی اقوام کو عذاب دیا گیا وہ بدھ ہی کا دن تھا۔ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (تاکہ ہم ان کو اس دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں) عذاب کی نسبت خزی کی طرف کی گئی ہے۔ اور الخزی، ذلت کو کہتے ہیں اور یہاں عذاب کی صفت کے طور پر لائے ہیں۔ گویا اس طرح کہا عذاب خزیٌ، جیسا کہ تم برے کام کو کہتے ہو۔ فعل السوء مراد اس سے الفعل السیئ ہوتا ہے اس پر آیت کا اگلا حصہ دلالت کر رہا ہے۔ ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى (اور آخرت کا عذاب اور زیادہ رسوائی کا سبب ہے) یہ اسناد مجازی ہے اور عذاب کی صفت الخزی لانا یہ ان کی صفت الخزی بیان کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ تمہارے ان دو اقوال میں بڑا فاصلہ ہے ھو شاعر۔ نمبر 2 ۔ ولہ شعر شاعر۔ وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ (اور ان کو مدد نہ پہنچے گی) ان بتوں کی طرف سے جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ اسی امید پر کہ وہ ان کی امداد کریں گے۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

ثمود کا اندھا پن : وَاَمَّا ثَمُوْدُ (اور وہ جو ثمود تھے) نحو : ثمود کو مرفوع پڑھنا ابتداء کی وجہ سے زیادہ فصیح ہے اس لیے کہ یہ حرف ابتدء کے بعد واقع ہے۔ فَهَدَيْنٰهُمْ (سو ہم نے انہیں ہدایت دی) اور خبر فھدیناہم ہے اور منصوب پڑھنے کی صورت میں فعل مضمر ہے جس کی تفسیر فہدیناہم کر رہا ہے۔ معنی یہ ہوا ہم نے ہدایت ان کے سامنے کھول کر بیان کردی۔ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى (پس انہوں نے گمراہی کو بمقابلہ ہدایت کے پسند کیا) کفر کو ایمان پر ترجیح دی۔ فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ (پس ان کو عذاب کی آفت نے پکڑ لیا) صاعقہ عذاب کی بڑی مصیبت۔ الْهُوْنِ (سراپا ذلت) ، ذلت کو عذاب کی صفت بطور مبالغہ قرار دیا گیا یا عذاب کو ذلت سے بدل دیا۔ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے) اور وہ کسب ان کا شرک اور معاصی تھے۔ شیخ ابو منصور (رح) کا قول (معنی ہدایت کی وضاحت): ہدایت مذکور کا معنی ممکن ہے کہ یہاں تبیین وضاحت ہو جیسا کہ ہم نے بیان کردیا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد اہتداء کا ان میں پیدا کرنا ہو۔ پس وہ اس کی بناء پر مہتدین ہوئے پھر انہوں نے اس کے بعد کفر کیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت کی اضافت جب خالق کی طرف کی جائے تو وہ توفیق بیان کے معنی میں آتی ہے۔ اور اسی طرح فعل اہتداء کے پیدا کرنے کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ رہی ہدایت کی نسبت جب مخلوق کی طرف ہو تو وہ صرف بیان کے معنی میں ہی ہوتی ہے اور کوئی معنی نہیں ہوتا۔ صاحب کشاف (رح) کا قول : اگر تم کہو کیا تمہارے قول ھدیتہ کا یہ معنی نہیں۔ ای حصلت فیہ الھدی، میں نے اس کو ہدایت کی طرف پھیر دیا۔ اور اس کی دلیل تمہارا یہ قول ہے ہدیتہ فاھتدی اس کا معنی مقصد و مراد کا حصول ہے جیسا کہ تم نے کہا ردعتہ فارتدع، میں نے اس کو ہٹایا وہ ہٹ گیا۔ پھر اس کا استعمال فقط دلالت میں کیسے کرلیا گیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ اس دلالت کی وجہ سے کہ ان کو اختیار وقدرت دی اور اس کے اسباب کو واضح کردیا اور ان کے لیے کوئی عذر نہ چھوڑا گویا مقصد کو لازم کرنے والے اسباب مہیا کرنے کی وجہ سے ہدایت بذاتہ ان کو مہیا کردی۔ اس کے تقاضے پورے کرنے کے بعد گویا ہدایت خود دے دی۔ نکتہ : اس نے اس بات کو خواہ مخواہ لمبا کھینچا۔ کیونکہ اس کو یہ موقعہ نہ مل سکا کہ اس آیت کی تفسیر خلق اہتداء سے کرے کیونکہ وہ اس کے اپنے مذہب اعتزال کے مخالف ہے۔
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

وَنَجَّيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (اور ہم نے ان کو نجات دی جو ایمان لائے) جنہوں نے ہدایت کو گمراہی کے مقابلے میں چن لیا ہم نے ان کو اس صاعقہ سے بچا لیا۔ وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ (اور وہ ڈرتے تھے) ۔ اس بات سے کہ وہ اندھے پن کو ہدایت کے مقابلے میں منتخب کریں۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

تذکرہ حشر : وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَاۗءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ (جس دن اللہ تعالیٰ کے دشمن آگ کی طرف جمع کر کے لائے جائیں گے) اعداء اللہ سے کفار مراد ہیں جو اولین و آخرین میں سے ہوں گے۔ قراءت : نافع اور یعقوب نے نحشُرُ پڑھا ہے۔ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ (پھر وہ روکے جائیں گے) ان کے اول شخص کو پچھلے کی آمد تک روک لیا جائے گا۔ در اصل اس تعبیر سے ان کی کثرت تعداد بیان کرنا مقصود ہے۔ یہ اصل میں وزعتہ ای کففتہ سے ہے یعنی میں اس کو روکا سے لیا گیا۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

اعضاء کی شہادت : حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا (یہاں تک کہ وہ جب اس کے قریب آجائیں گے) اس کے بالکل سامنے پہنچ جائیں گے۔ ما یہ زائدہ ہے جو تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ آگ کی طرف ان کی آمد لازماً ان کی شہادت کے وقت میں ہوگی اس سے خالی ہونے کا مطلب ہی نہیں۔ شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (تو ان کے کان اور آنکھیں اور ان کی کھالیں ان پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گی) ۔ جلود کھالوں کی مس بالحرام کے متعلق گواہی مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے یہ شرمگاہوں سے کنایہ ہے۔
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا (اور وہ لوگ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف میں کیوں گواہی دی) ان کی مخالفت گواہی سے معاملہ ان پر بھاری ہوجائے گا۔ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ (وہ جواب دیں گے کہ ہم کو اس نے گویائی دی جس نے ہر چیز کو گویائی دی) ہر چیز یعنی حیواتنات میں سے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بولنا کوئی عجیب نہیں اس لیے کہ اس کو ہر چیز کے گویائی دینے کی قدرت ہے۔ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (اور اس نے تم کو اول مرتبہ پیدا کیا تھا۔ اور اسی کے پاس پھر لائے جاؤ گے) ۔ یعنی وہ تمہارے پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر جس طرح قدرت رکھتا ہے اسی طرح تمہارے اعادے اور اپنی بارگاہ میں جزاء کیلئے لوٹانے پر قدرت والا ہے۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی : وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ (اور تم اس بات سے تو اپنے کو چھپا ہی نہ سکتے تھے کہ تمہارے کان اور آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں) تم دیواروں سے پردہ کرتے یعنی پردے ڈالتے جب فواحش کا ارتکاب کرتے اور تمہارا یہ چھپنا اس ڈر سے نہ تھا کہ تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ کیونکہ تمہیں اپنے خلاف ان کی شہادت کا علم نہ تھا۔ بلکہ تم تو زور سے بعث بعد الموت کے بھی انکاری تھے۔ اور جزاء کے بالکل قائل ہی نہ تھے۔ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ (لیکن تم اس گمان میں رہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کی خبر بھی نہیں رکھتے) ۔ تم نے ان سے اس وجہ سے پردے ڈالے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال سے واقف ہی نہیں اور وہ وہی مخفی اعمال ہیں۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ (اور تمہارے اس گمان نے جو تم نے اپنے رب کے متعلق کیا تھا تم کو برباد کردیا) یہی تو وہ گمان ہے جس نے تمہیں ہلاک کیا۔ نحو : نمبر 1 ۔ ذلکم مبتداء اور ظنکم اس کی خبر ہے۔ الذی ظننتم یہ خبر کی صفت ہے۔ ارداکم دوسری خبر ہے۔ نمبر 2 ظنکم یہ ذلکم کا بدل ہے اور مبتدا ہوا اور ارداکم خبر ہے۔ فاصبحتم من الخسرین (پھر تم خسارہ میں پڑگئے)
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

صبر و عذر سب بےفائدہ : فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ (پس اگر یہ لوگ صبر کریں تب بھی دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے) یعنی اگر یہ صبر کریں تو وہ ذرہ بھر سود مند نہیں۔ اس کی وجہ سے وہ آگ کی قرار گاہ سے آزادی نہیں پاسکتے۔ وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ (اور اگر وہ عذر پیش کرنا چاہیں گے تو بھی مقبول نہ ہوگا) اگر وہ رضا طلب کریں تو ان سے رضا قبول نہ کی جائے گی۔ یا نمبر 2 ۔ اور اگر وہ طلب رضا مندی کا موقعہ چاہیں گے۔ تو وہ بھی ان کو میسر نہ کیا جائے اور ان کی بات اس سلسلہ میں قبول نہ کی جائے گی۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

مکہ والے بھی عذاب کے مستحق ہوچکے۔ وَقَيَّضْنَا لَهُمْ (اور ہم نے ان کے لیے مقرر کردئیے) مشرکین مکہ کیلئے مقرر کردئیے۔ عرب کہتے ہیں ھذان ثوبان قیضان ای مثلان۔ یہ دونوں کپڑے مماچل ہیں۔ المقایضہ معاوضہ کو کہتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے ہم نے ان پر مسلط کردیے۔ قُرَنَاۗءَ (ساتھ دینے والے) شیاطین میں سے دوست۔ قرناء جمع قرین کی ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین (زخرف :36) فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ (پس انہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نظر میں مستحسن کر رکھے تھے) بین ایدیہم سے وہ اعمال جو پہلے کرچکے اور ما خلفہم سے جن کا وہ عزم رکھتے ہیں۔ یا نمبر 2 ۔ ما بین ایدیہم سے دنیا کے امور اور اتباع شہوات اور ماخلفہم سے امر آخرت مراد ہے اور یہ کہ نہ بعث ہے اور نہ حساب۔ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ (اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کا قول پورا ہو کر رہا) ۔ وہ عذاب والی بات ہے۔ فِيْٓ اُمَمٍ (ان لوگوں کے ساتھ) ان من جملہ امتوں میں۔ نحو : علیہم کی ضمیر سے یہ حال ہونے کی وجہ سے محلا منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے حق علیہم القول کائنین فی جملۃ امم ان پر بات پوری ہوگئی اس حال میں کہ وہ بھی ان امتوں سے ہوجانے والے تھے۔ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ (جو ان سے پہلے ہو گزریں) نحو : ھم سے مراد اہل مکہ ہیں۔ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ (جنات و انس میں سے بیشک وہ خسارہ میں رہے) اس میں ان کے استحقاق عذاب کی علت بیان فرمائی۔ نحو : اور ضمیر ان کے اور امم کیلئے ہے۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ (اور کافر یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو) جب یہ پڑھا جا رہا ہو۔ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ (اور اس کے دوران شور مچا دیا کرو۔ شاید تم ہی غالب رہو) اور اس کا مقابلہ ایسے کلام سے کرو جو سمجھ نہ آنے والا ہو۔ تاکہ تم ان کو تشویش میں ڈال سکو اور ان کی قراءت پر تم غالب آؤ۔ اللغو فضول کلام جس کے اندر کچھ نہ ہو۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

فَلَنُذِيْقَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِيْدًا (پس ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے) یہ بھی درست ہے کہ الذین کفروا سے خاص کر یہ شورشی لوگ جو لغو کا حکم دینے والے تھے مراد ہوں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ عام کفار مراد ہوں۔ تاکہ اس کے تحت یہ موجودین بھی آجائیں۔ وَّلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (اور ان کو ان کے برے کاموں کی سزا دیں گے) یعنی ضرور بضرور ہم ان کے بدترین اعمال پر عظیم ترین سزا دیں گے وہ سب سے بدترین عمل کفر ہے۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

ذٰلِكَ جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللّٰهِ (یہ سزا ہے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی) ذلک کا مشارالیہ اسوء ہے اور تقدیر کلام لازما اس طرح ہوگی (اسوا جزاء الذی کانوا یعملون) بدترین بدلہ ان برے عملوں کا جو وہ کرتے تھے) ۔ تاکہ ذلک کا شارہ درست ہوسکے۔ النَّارُ (آگ) نحو : یہ جزاء کا عطف بیان ہے۔ نمبر 2 ۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ کفار کا دار الخلد : لَهُمْ فِيْهَا دَارُ الْخُلْدِ (اور ان کے لیے وہاں ہمیشگی کا مقام ہوگا) یعنی آگ جو کہ بنفس نفیس دار الخلد ہے۔ جیسے تم کہو۔ لک فی ھذہ الدار دار السرور۔ وانت تعنی الدار بعینہا (تیرے لیے یہ گھر دار السرور ہے تمہاری مراد اس سے بعینہ وہی گھر ہے۔ جس کو تم دار السرور کہہ رہے ہو۔ ) جَزَاۗءً (اس بات کے بدلہ میں) ان کو اس سے بدلہ دیا جائے گا بدلہ دیا جانا۔ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ (کہ وہ ہماری ہی آیت کا انکار کرتے تھے)
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

مطالبہ کفار : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا (اور وہ کفار کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو دکھلا دیجیے) قراءت : اَرْنا سکون راء کے ساتھ کیونکہ کسرہ ثقیل ہے۔ جیسا فَخِذٌ میں فَخْذٌ پڑھتے ہیں مکی، شامی ابوبکر نے پڑھا اور اختلاس حرکت سے ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا (وہ جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا) ، دونوں شیطان جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (جن و انس میں سے) کیونکہ شیطان کی دو قسمیں ہیں۔ نمبر 1 ۔ جنی۔ نمبر 2 ۔ انسی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن (الانعام :112) ۔ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ (ہم ان کو پاؤں کے نیچے مل ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں) آگ میں ہمارے گمراہ کرنے کی سزا میں۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

استعانت والے : اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ (جن لوگوں نے اقرار کرلیا کہ ہمارا رب اللہ ہے) توحید باری تعالیٰ کا بول بول دیا۔ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا (پھر مستقیم رہے) پھر اس اقرار اور اس کے تقاضوں پر پورے اترے۔ قول ابوبکر ؓ : انہوں نے فعلاً استقامت اختیار کی جس طرح زبان سے استقامت اختیار کی اور پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا انہوں نے کوئی گناہ نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم نے معاملے کو سخت ترین حالت پر محمول کیا۔ انہوں نے کہا آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا انہوں نے شرک نہ کیا اور عبادت اوثان کی طرف لوٹ کر نہ گئے۔ قول عمر ؓ : وہ لومڑی کی طرح ادھر ادھر نہیں پھرے یعنی منافقت اختیار نہیں کی۔ قول عثمان ؓ : انہوں نے مخلصانہ اعمال کیے۔ قول علی : انہوں نے فرائض کی انجام دہی کی۔ قول فضیل (رح) : دنیا میں زہد اختیار کیا۔ اور آخرت کی طرف راغب رہے۔ ایک قول : یہ ہے کہ استقامت اقرار کے بعد اقرار کو کہتے ہیں نہ کہ اقرار کے بعد فرار کو تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ (ان پر فرشتے اتریں گے) موت کے وقت۔ اَلَّا تَخَافُوْا (کہ تم اندیشہ نہ کرو) ان یہ ای کے معنی میں ہے یا مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور اس کی اصل اس طرح بانہ لا تخافوا۔ ہ ضمیر شان ہے ای لا تخافوا ما تقدمون علیہ۔ جس طرف تم جا رہے اس کے متعلق اندیشہ مت کرو۔ وَلَا تَحْزَنُوْا (اور رنج نہ کرو) اس کو جو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ الخوف، وہ غم جو ناپسند چیز کی توقع میں پیش آئے۔ الحزن نفع بخش چیز کے فوت ہونے پر جو غم وارد ہو یا نقصان دہ چیز کے سامنے آنے سے جو طاری ہو۔ مطلب آیت کا یہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ہر غم سے امان لکھ دی پس تم اس کو ہرگز نہ چکھو گے۔ وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (اور تم جنت پر خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) قول ترمذی (رح) ۔ ان پر فرشتوں کا نزول اس وقت ہوتا ہے۔ جب ان کی ارواح ان کے ابدان سے جدا ہوتی ہیں۔ لا تخافوا یعنی ایمان کے سلب ہونے کا خطرہ نہ لاؤ۔ ولا تحزنوا جو گناہ ہوگئے ان پر غمزدہ نہ ہو۔ ابشروا۔ جنت میں داخلے کی تمہیں خوشخبری ہو۔ التی کنتم توعدون جس کا تم سے گزشتہ زمانوں میں وعدہ کیا گیا۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ (ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے) جس طرح کہ شیاطین نافرمانوں کے دوست ہیں اسی طرح ملائکہ متقین کے دوست ہیں۔ اور ان کے رفیق دونوں جہانوں میں ہوں گے۔ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ (اور تمہارے لیے اس میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے) نعمتوں میں سے۔ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو گے موجود ہے) ۔ تدعون تمنا کرنے کے معنی میں ہے۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

نُزُلًا (یہ بطور مہمانی کے ہوگا) وہ مہمان کا توشہ ہے۔ نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ذوالحال ضمیر ھا محذوف ہے۔ یا ما سے حال ہے۔ مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ (غفور و رحیم کی طرف سے) یہ اس کی صفت ہے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ؟

داعی کی بات سب سے اعلی : وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ (اور اس سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے۔ جو خدا کی طرف بلائے) ۔ وہ داعی رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اور جس کی طرف دعوت دی وہ توحید ہے۔ وَعَمِلَ صَالِحًـا (اور وہ نیک عمل کرے) ۔ صالح سے خالص اعمال مراد ہیں۔ وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں) آپ اسلام پر فخر کرنے والے ہیں اور اس کا اعتقاد رکھنے والے ہیں۔ اور آپ کے صحابہ کرام یا موذن یا تمام ہدایت والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

نیکی، بدی برابر نہیں : وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ (اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ آپ نیک برتاؤ سے ٹال دیا کریں) ۔ نیکی اور بدی دونوں ذات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ جب اچھائیاں سامنے ہوں تو اس حسنہ کو اختیار کریں جو دوسری کے مقابلہ میں بہتر ہو۔ پھر اس سے اس برائی کو ہٹائیں جو آپ پر آپ کے دشمنوں کی طرف سے آئے۔ جیسا کہ اگر کوئی آدمی آپ کے ساتھ زیادتی کرے۔ تو اچھائی یہی ہے کہ اس کو معاف کردیں۔ یہ اس کی برائی کی جگہ احسان کرنا ہے۔ جیسے تمہاری کوئی مذمت کرے تو تم اس کی تعریف کردو۔ یا وہ تمہارے لڑکے کو قتل کردے۔ اور تم اس کے لڑکے کا فدیہ دے کر دشمن کے ہاتھ چھڑوا دو ۔ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی ولی دوست ہوتا ہے) جب تم ایسا کروگے تو تمہارا سخت ماہر دشمن گہرے مخلص دوست میں بدل جائے گا۔ پھر فرمایا۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں

وَمَا يُلَقّٰىهَآ (اور یہ بات انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے) برائی کے مقابلہ میں احسان والی خصلت نصیب نہیں ہوتی۔ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا (مگر ان لوگوں کو جو بڑے مستقل مزاج ہیں) یعنی اہل صبر۔ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ (اور یہ بات اسی کو نصیب ہوتی ہے۔ جو بڑا صاحب نصیب ہے) ۔ بہت نیکی والا آدمی جس کو خیر کا بہت بڑا حصہ ملا ہو۔ یہ فادفع بالتی ہی احسن نہیں فرمایا کیونکہ یہ کلام اس کہنے والے کے قول کی طرح ہے جو یہ کہے میں کیا کروں ؟ تو جواب دیا ادفع بالتیھی احسن۔ یعنی فاء نہیں لائی گئی۔ ایک قول : لا تاکید کیلئے زائدہ ہے مطلب یہ ہے حسنہ اور سیئئہ برابر نہیں ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جائے : ادفع بالتیھی حسنۃ مگر یہاں اس کی جگہ التیھی احسن لایا گیا تاکہ حسنہ کے ساتھ بدلہ چکانے میں زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جس نے اعلی اچھائی سے سیئہ کا جواب دیا تو وہ کم درجہ کی برائی کا جواب بڑی آسانی اور خوش اسلوبی سے دے لے گا۔ ابن عباس کا قول : بالتیھی احسن سے مراد غصہ کرنے پر صبر کرنا اور ارتکاب جہالت کے وقت حوصلہ دکھانا اور زیادتی کے وقت معاف کرنا ہے اور الحظ کی تفسیر انہوں نے ثواب سے فرمائی ہے۔ قول حسن (رح) : بڑا نصیب تو جنت ہی ہے۔ ایک قول یہ ہے یہ ابوسفیان بن حرب کے متعلق اتری جو کہ رسول اللہ ﷺ کا سخت ایذاء پہنچانے والا دشمن تھا۔ پھر مخلص دوست و حمایتی بن گیا۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا (اور) جانتا ہے

نزعِ شیطان : وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ (اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے وسوسہ آنے لگے) النزغ یہ نخس کے مشابہ ہے شیطان انسان کے دل میں وساوس ڈالتا ہے۔ گویا کہ وہ شیطان کی چوک سے ہے وہ اس کو نامناسب کاموں پر ابھارتا ہے۔ آیت میں نزغ کو نازغ قرار دیا۔ جیسا کہتے ہیں۔ جد جدہ اس نے پور کوشش کی یا مراد اما ینزغنک نازغ کو کچوکا لگانے والا آپ کو کچوکا لگائے۔ شیطان کی صفت مصدر سے بیان کی یا اس کی تزیین کو بیان کیا۔ مطلب یہ ہے اگر شیطان نے آپ کو پھیر دیا اس نصیحت سے جو آپ کو ادفع بالتیھی احسن کی صورت میں دی گئی ہے تو فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ (تو اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگیں) اور اپنے حلم پر جمے رہیں اور ان کی بات نہ مانیں۔ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ وہی آپ کے استفادہ کو سننے والا اور) الْعَلِيْمُ (نزغ شیطانی کو جاننے والا ہے) ۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

وَمِنْ اٰيٰتِهِ (اور اس کی نشانیوں میں سے) جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں۔ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ (دن اور رات ہے) ۔ یہ معلوم اندازہ کے ساتھ ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں اور مقررہ مقدار کے مطابق باری باری آنے میں۔ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (اور سورج اور چاند ہے) ۔ ایک مقررہ سیر پر چلنے میں یہ دونوں خاص ہیں۔ اور ان کا نور بھی مقرر ہے۔ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ (تم لوگ نہ سورج کو اور نہ چاند کو سجدہ کرو) یہ دونوں مخلوق ہیں اگرچہ ان کے منافع بیشمار ہیں۔ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (اور اس اللہ کو سجدہ کیا کرو جس نے ان کو پیدا کیا) ۔ خلقہن کی ضمیر آیات کی طرف ہے یا لیل و نہار اور شمس و قمر کی طرف ہے۔ کیونکہ غیر عاقل جماعت کا حکم مونث والا ہے۔ یا وہ مونث ہے جیسا کہتے ہیں۔ الاقلام بریتھا وبریتھن۔ شاید ان میں کچھ لوگ سورج چاند و سورج کو سجدہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا ہے۔ پس ان کو اس واسطہ سے روک دیا گیا۔ اور ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے سجدہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی مقصود سمجھیں۔ اگر وہ اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنے والا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا نہیں۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو خدا کو بھی انکی پرواہ نہیں جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں

فَاِنِ اسْـتَكْبَرُوْا فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ (پس اگر وہ تکبر کریں تو جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں) ملائکہ مراد ہیں۔ يُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ (وہ شب و روز اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں ہیں) ۔ لایسئمون کا معنی اکتانا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے پھر اگر یہ لوگ تکبر کریں اور اس کے احکام کی تعمیل نہ کریں اور واسطہ کے بغیر اس کو ماننے سے انکاری ہوں تو ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ عابد و ساجد بالاخلاص کو معدوم نہیں فرماتے۔ اس کے مقرب بندے ایسے بھی ہیں جو دن رات شریکوں سے اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ عند ربک یہ قرب کی تعبیر ہے اور مرتبہ اور عظمت کی تعبیر ہے۔ ہمارے نزدیک سجدہ تلاوت کا مقام لایسئمون ہے۔ اور شافعی (رح) کے ہاں تعبدون ہے۔ اور پہلا قول زیادہ احتیاط والا ہے۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

قدرت و تصرف کی نشانی : وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے۔ دبی دبائی ہے) خاشعۃ کا معنی غبار والی خشک۔ خشوع اصل میں تذلل اور عاجزی کو کہتے ہیں۔ یہاں بطور استعارہ اس زمین کیلئے استعمال ہوا جو بغیر نبات اور بغیر پانی کے ہو۔ فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ (پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں) الماء سے بارش مراد ہے۔ اهْتَزَّتْ (تو وہ ابھرتی ہے) نباتات کے ساتھ حرکت میں آتی ہے۔ وَرَبَتْ (اور پھولتی ہے) پھولتی پھٹتی ہے۔ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۭ اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (جس نے اس زمین کو زندہ کردیا۔ وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے) پس وہ بعث پر لازماً قدرت والا ہوگا۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

حق سے منحرف : اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا (بلاشبہ جو لوگ ہماری آیات میں کجروی اختیار کرتے ہیں) وہ ہمارے دلائل سے منہ موڑ کر حق سے روگردانی اختیار کرتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں الحد الحافر ولحد، جبکہ وہ استقامت سے جھک جائے اور ایک جانب کو کھودے۔ یہ لفظ یہاں بطور استعارہ قرآن مجید کی آیات کی صحیح و درست تاویل سے انحراف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ قراءت : حمزہ نے یَلْحَدُ پڑھا ہے۔ لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا (وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں) اس میں ان کی تحریف پر وعید و ڈراوا سنایا گیا ہے۔ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ (پس بتلاؤ جو شخص آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن امن وامان کے ساتھ آئے) یہ کافر و مومن کی تمثیل پیش کی گئی ہے۔ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ (تم جو جی چاہے کرلو) یہ انتہائی تہدید اور وعید میں مبالغہ ہے۔ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (وہ تمہارا سب کیا ہوا دیکھ رہا ہے) پس وہ اس پر تمہیں بدلہ دے گا۔