Ayah 41:41اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ (جو لوگ قرآن مجید کا جبکہ وہ ان کے پاس پہنچتا ہے انکار کرتے ہیں) ۔ الذکر سے قرآن مجید مراد ہے کیونکہ انہوں نے اپنے کفر کی وجہ سے قرآن مجید مراد ہے کیونکہ انہوں نے اپنے کفر کی وجہ سے قرآن مجید کے متعلق طعن وتشنیع کی اور اس کی تاویل میں تحریف سے کام لیا۔ لَمَّا جَاۗءَهُمْ (جب وہ ان کے پاس پہنچا)
نحو : ان کی خبر محذوف ہے ای یعذبون یا ھالکون یا اولئک ینادون من مکان بعید۔ اور درمیان میں جملے معترضہ ہیں۔ وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ (اور بیشک وہ بڑی باوقعت کتاب ہے) محفوظ ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔
Ayah 41:42قرآن منافقین سے بری :
لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ (اس میں غیر واقعی بات نہیں آسکتی) ۔ باطل سے تبدیلی یا تناقض مراد ہے۔ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ (نہ اس کے آگے کی طرف سے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے) یعنی کسی بھی وجہ سے۔ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ (یہ اللہ تعالیٰ جو حکیم وحمید ہیں ان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے) حمید وہ ذات ہے جو حمد کی مستحق ہو۔
Ayah 41:43تسلی رسول ﷺ : مَا يُقَالُ لَكَ (اور آپ کو وہی باتیں کہی جاتی ہیں) جو کہ آپ کو آپ کی قوم کے کافر لوگ کہتے ہیں۔
اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ (جو آپ سے پہلے رسولوں کو کہی گئی ہیں) اسی طرح کی باتیں ہیں جو رسولوں کو ان کی کافر اقوام نے ایذاء دینے کے لیے کہیں اور آسمانوں سے نازل شدہ کتابوں پر طعن وتشنیع کی۔ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ (بیشک آپ کا رب بڑی مغفرت والا ہے) اور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرنے والا ہے۔ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ (اور دردناک سزا دینے والا ہے) ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے دشمنوں کو اور یہ بھی درست ہے کہ اس طرح مطلب لیا جائے آپ کو اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتے ہیں جیسا آپ سے پہلے رسولوں کو کہا گیا اور اس مقولہ سے یہ ارشاد مراد ہے۔ ان ربک لذو مغفرۃ و ذو عقاب الیم۔
Ayah 41:44کفار کے قرآن پر اعتراض کا جواب :
وَلَوْ جَعَلْنٰهُ (اور اگر ہم اس کو بناتے) اس ذکر کو۔ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا (عجمی قرآن) یعنی اس کی لغت عجمی ہوتی اس وقت ضد کی وجہ سے اس طرح کہتے ہیں کہ یہ قرآن عجمی لغت میں کیوں نہ اترا۔ تو جواب دیا گیا۔ اگر اسی طرح ہوتا جیسا تم تجویز کرتے ہو۔ لَّـقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ (تو یوں کہتے اس کی آیات صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) فصلت کا معنی بینت ہے یعنی بیان کی گئیں عربی زبان میں تاکہ ہم اس کو سمجھ لیتے اور یہ بات ضد کے طور پر کہتے۔ ءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ (یہ کیا بات ہے کہ عجمی کتاب اور عربی رسول)
قراءت : کوفی قراء نے حفص کے علاوہ دو ہمزہ سے پڑھا۔ ایک ہمزہ انکار، یعنی لانکروا وقالوا قرآن عجمی و رسول عربی۔ تاکہ وہ انکار کریں اور کہیں کیا قرآن عجمی اور رسول عربی ہے یا جن کی طرف رسول بھیجا گیا وہ عربی اور قرآن عجمی۔ باقی قراء نے ایک ہمزہ مدودہ استفہامیہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الاعجمی جو غیر فصیح ہو اس کا کلام سمجھ نہ آتا ہو خواہ وہ عجمی ہو یا عربی۔ العجمی جو عجم کا رہنے والا ہو۔ خواہ وہ فصیح ہو یا غیر فصیح۔ مطلب یہ ہے کہ آیات جس طریقہ پر بھی اتاری جائیں وہ ضد کی وجہ سے اعتراض کرتے کیونکہ ان میں طلب حق تو ہے نہیں۔ بس خواہشات پرستی میں مبتلا ہیں۔ اس میں اشارہ کردیا کہ اگر قرآن مجید کو عجمی زبان میں اتارا جاتا تو بھی قرآن ہوتا۔ پس اس صورت میں ابوحنیفہ (رح) کی یہ دلیل بن جائے گی کہ اگر فارسی میں قراءت کرلی تو نماز جائز ہوگی۔ (مگر اس قول کی نسبت خود قابل دلیل ہے، انظر شروح الہدایۃ)
قُلْ هُوَ (آپ کہہ دیجیے کہ وہ) یعنی قرآن لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى (ایمان والوں کیلئے راہنما ہے) حق کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔ وَّشِفَاۗءٌ (اور شفاء ہے) اس شک کے لیے جو سینوں میں ہے اس لیے کہ شک مرض ہے۔ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ (اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے) ۔ یہ موضع جر میں واقع ہے کیونکہ اس کا عطف للذین امنوا پر ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ھو للذین امنوا ھدی و شفاء وھو للذین لایومنون فی اذانہم وقر۔ (اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے) یہ موضع جر میں واقع ہے کیومن کہ اس کا عطف للذین امنوا پر ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ھو للذین امنوا ھدی و شفاء وھو للذین لایومنون فی اذانہم وقر۔ وقر بہرہ پن۔ البتہ اس میں ایک بات ہے کہ اس میں دو عاملوں پر عطف ہے۔ اور اخفش نحوی کے ہاں وہ جائز ہے۔ نمبر 2 ۔ رفعی حالت ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ والذین لایومنون ھو فی اذانہم وقر۔ مبتدا محذوف ہے یا فی اذانہم منہ وقر۔ وقرہ مبتدا موخر ہے۔ وَّهُوَ (اور وہ) یعنی قرآن۔ عَلَيْهِمْ عَمًى (ان کے حق میں اندھا پن ہے) یعنی اندھیرا اور شبہات ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ (یہ لوگ کسی دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں) یعنی قرآن کو قبول نہ کرنے اور اس سے فائدہ نہ اٹھانے کی بناء پر گویا ان کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت کسی دور جگہ سے دی جارہی ہے۔ اور یہ فاصلہ کی دوری کی وجہ سے سن نہیں پاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کو قیامت کے دن دور جگہ سے پکارا جائے گا اور ان کے قبیح ترین نام لے کر بلایا جائے گا۔
Ayah 41:45تورات میں اختلاف کیا گیا :
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ (اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی۔ پس اس میں بھی اختلاف ہوگیا) بعض نے کہا وہ برحق ہے۔ اور بعض نے کہا وہ باطل ہے۔ جیسا کہ تمہاری قوم اس کتاب کے متعلق اختلاف کر رہی ہے۔ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ (اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے مقرر ہوچکی ہے) کہ ان سے عذاب کو مؤخر کردیا گیا۔ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ (تو اس کا فیصلہ ہوچکا ہوتا) تو ان کا ضرور استیصال کردیا جاتا۔
ایک قول : یہ ہے کہ کلمہ سابقہ سے قیامت والا وعدہ مراد ہے۔ اور تمام جھگڑوں کا حقیقی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو دنیا میں ہی ان کا فیصلہ کیا جا چکا ہوتا۔ وَاِنَّهُمْ (اور بیشک وہ) کفار۔ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ (اس کی طرف سے ایسے شک میں ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے) مُرِيْبٍ ۔ شک میں ڈالنے والا۔
Ayah 41:46مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ (جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے نفع کیلئے) اس کے نفس کو اس کا فائدہ ہوگا۔ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا (اور جو شخص برا عمل کرتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑیگا) اس کے نفس کو اس کا ضرر پہنچے گا۔ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ (اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں) کہ غیر مجرم کو عذاب دے۔
Ayah 41:47قیام قیامت کا علم اللہ عزوجل ہی کو ہے :
47: اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ (اور قیامت کے علم کا حوالہ خدا ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے) قیامت کے قیام کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ مسئول پر لازم ہے کہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوا کہے۔ اللّٰہ یعلم ذلک۔ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰاتٍ (اور کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا)
قراءت : مدنی، شامی، حفص نے ثمرات اور دیگر قراء نے بغیرالف پڑھا ہے۔
مِّنْ اَکْمَا مِہَا (اپنے خولوں سے) جمع کُمٌ کی ہے معنی خول جس میں پھل ہوتا ہے اس سے قبل کہ وہ پھٹے۔ وَ مَاتَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی (اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے) یعنی اس کا حمل وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ (اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے) یعنی جو چیز بھی نئی پیدا ہوتی ہے خواہ وہ کوئی نیا پھل نکلے اور کسی حاملہ کے پیٹ میں حمل ٹھہرے اور کوئی حاملہ اپنے پیٹ سے بچہ جنم دے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ ایام حمل کی گنتی اور ساعات اور تمام احوال، ناقص، کامل، مذکر، مؤنث، خوبصورت، قبیح وغیرہ سب سے واقف ومطلع ہے۔ وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکآ ئِ یْ (اور جس روز اللہ تعالیٰ ان کو پکارے گا۔ کہ میرے شریک کہاں ہیں) اس میں اللہ تعالیٰ نے شرکاءی فرما کر شرکاء کی اضافت اپنی طرف فرمائی دراصل مخاطبین کے زعم و خیال کے مطابق اور اس کی وضاحت خود دوسرے ارشاد میں اسی طرح موجود ہے۔ این شرکاءی الذین زعمتم اس میں ان کو خبردار کیا گیا اور شرمندہ کیا گیا ہے۔ قَالُوْا اٰذَنّٰکَ (وہ کہیں گے ہم آپ سے یہی عرض کرتے ہیں) آپ کو بتلا دیا۔ ایک قول یہ ہے آپ کو خبر دے دی اور یہ معنی زیادہ ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو پہلے سے ہی جاننے والے ہیں۔ اور جاننے والے کو بتلانا یہ محال ہے البتہ عالم کو کسی چیز کی اطلاع دینا تاکہ جو چیز اس کے علم میں ہے وہ پختہ ہوجائے۔ ورنہ معنی یہ ہے۔ آپ ہمارے دلوں کو اب جانتے ہیں ہم وہ باطل اور غلط گواہی نہیں دیتے۔ کیونکہ جب ان کے نفوس سے یہ بات معلوم ہوئی تو گویا انہوں نے اس کو بتلائی۔ مَا مِنَّا مِنْ شَھِیْدٍ (ہم میں سے کوئی بھی مدعی نہیں ہے) ہم سے کوئی بھی نہیں جو یہ گواہی دے کہ تیرا کوئی شریک ہے۔ ہم میں سے ہر ایک آپ کو وحدہ لاشریک ماننے والا ہے۔ یا ہم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے شرکاء کو دیکھ سکے۔ کیونکہ وہ ان سے گم ہوگئے ہونگے اور ان کے الٰہ ان سے گم ہوگئے ہونگے اس توبیخ کی گھڑی میں وہ ان کو دیکھ نہ سکیں گے۔ ایک قول یہ ہے یہ کلام شرکاء کا ہے ہم میں سے کوئی بھی نہیں جو اس بات کو مانے جو انہوں نے ہماری طرف نسبت کی ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرکت حاصل ہے۔
Ayah 41:4848: وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّاکَانُوْا یَدْعُوْنَ (اور سب غائب ہوجائیں گے جن کو یہ لوگ پہلے سے پوجا کرتے تھے) یدعونؔ کا معنی عبادت کرنا۔ مِں ْ قَبْلُ (اس سے پہلے) دنیا کی زندگی میں وَظَنُّوْا (اور وہ یقین کرلیں گے) مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ (کہ ان کے لئے کہیں بچائو کی صورت نہیں) محیصؔ بھاگ کر پناہ لینے کا ٹھکانہ۔
Ayah 41:49انسان مال و نعمت میں ترقی کا خواہاں ہے :
49: لَایَسْئَمُ (جی نہیں بھرتا) اکتاتا نہیں الْاِنْسَانُ (انسان کا) انسان سے کافر مراد ہے۔ اس کی دلیل اس ارشاد میں ہے۔ وما اظن الساعۃ قائمۃ ] الکھف : 36[ مِنْ دُعَآ ئِ الْخَیْرِ (ترقی کی خواہش سے) مال اور نعمت میں وسعت مانگتے ہوئے اس کا دل نہیں بھرتا۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ من دعا ئہٖ الخیر۔ فاعل کو حذف کرکے مفعول کی طرف اس کی اضافت کردی اس کے خیر کو مانگنے سے۔ وَاِنْ مَّسَّہُ الشَّرُّ (اور اگر اس کو کچھ تکلیف پہنچتی ہے) الشرؔ سے مراد فقر فَیَئُوْسٌ (وہ ناامید ہوجاتا ہے) بھلائی سے قَنُوْطٌ (ہراساں ہوجاتا ہے) رحمت سے مایوس۔ اس میں دو طریق سے مبالغہ ہے۔ نمبر 1۔ فعول کے وزن پر لائے جو مبالغہ کا وزن ہے نمبر 2۔ اور دو مرتبہ لائے۔ القنوطؔ ناامیدی کا اثرظاہر ہونا جس سے وہ مضمحل اور منکسر ہو کر رہ جائے یعنی ایسی حالت ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے امیدیں منقطع کر بیٹھے اور یہ کافر کی حالت و کیفیت ہے اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے۔ انہٗ لایایئس من روح اللّٰہ الا القوم الکافرون ] یوسف : 87[
Ayah 41:50انسان کی کم عقلی اور سرکشی کی سزا :
50: وَلَپنْ اَذَقْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْم بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِیْ (اور اگر ہم اس سے کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی تھی۔ اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ہونا ہی چاہیے تھا) جب ہم صحت دے کر مرض کے بعد کشادگی کرتے ہیں یا تنگدستی کے بعد وسعت دیتے ہیں تو کہتا ہے ھذا لی کہ یہ میرا حق ہے جو مجھے ملا ہے کیونکہ میرے پاس جو خیر ہے اس کی وجہ سے میں نے اس کو اپنے لئے واجب کرلیا۔ اور اسی طرح میرے جو اعمال صالحہ اور فضیلتیں ہیں ان کی وجہ سے میں اس کا حقدارہوا۔ یا یہ تو میرا ہی رہے گا کبھی مجھ سے زائل نہ ہوگا۔ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآ ئِمَۃً (اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت آنے والی ہے) یعنی میرے گمان میں وہ واقع ہونے والی ہی نہیں ہے۔ وَلَپنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْ (اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا) جیسا کہ مسلمانوں کا اعتقاد ہے۔ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ (تو میرے لئے اس کے پاس بھی بہترہی ہے) اللہ تعالیٰ کے ہاں لَلْحُسْنٰی (بہتری ہی ہے) للحسنٰی سے جنت مراد ہے۔ نمبر 2۔ اچھی حالت جیسے عظمت و نعمت۔ درحقیقت اس نے قیامت کے معاملہ کو دنیا پر قیاس کیا فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا (تو ہم ان منکروں کو ان کے سب کردار ضرور بتلا دیں گے) ہم ان کے ان اعمال کی حقیقت کی اطلاع ضرور ان کو دیں گے وہ اعمال جو ان کو عذاب میں ڈالنے والے ہیں۔ وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ (اور ان کو سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے) غلیظؔ شدید و سخت جو ان سے منقطع نہ ہو۔
Ayah 41:51سرکشی کی دوسری قسم :
51: وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ (اور جب ہم آدمی کو نعمت عطاء کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے) یہ انسان کی سرکشی کی دوسری قسم ہے۔ کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو نعمت عنایت فرماتے ہیں تو وہ نعمت اس کو مغرور کردیتی ہے۔ وہ منعم کو بھول جاتا ہے اور اس کے شکریہ سے اعراض کرلیتا ہے۔ وَنَاٰبِجَانِبِہٖ (اور کروٹ پھیر لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے دوری اختیار کرتا اور اس کے پکارنے سے پہلو تہی کرتا ہے یا وہ اپنے آپ سے نکل کر تکبر کرنے لگتا ہے۔ اور بڑا بنتا ہے۔ حقیقت اس کی یہ ہے کہ اس کے پہلو کو اس انسان کی جگہ رکھا گیا ہے کیونکہ آدمی کا مکان اور اس کی جہت اس کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ کاتب کہا کرتے ہیں کتبت الی جہتہٖ والی جانبہ العزیز۔ مراد اس سے اپنی ذات ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ ونأبنفسہٖ اور اس نے اپنے آپ کو دور کیا۔ وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ (اور جب اس کو پہنچتا ہے شر) نقصان اپنے پاس سے۔ فَذُوْ دُعَآئٍ عَرِیْضٍ (تو وہ خوب لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے)
عریض کا معنی بہت زیادہ، یعنی ہمیشہ دعائوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور گڑگڑ اتا ہے اور زاری کرتا ہے اور کثرت و دوام دعاء کو بتلانے کیلئے بطور استعارہ عریض کو استعمال فرمایا گیا ہے حالانکہ یہ جسم والی اشیاء کی صفت ہوتی ہے جیسا کہ شدت عذاب کیلئے غلیظ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس ارشاد اور دوسرے ارشاد فیئوس قنوط میں کوئی منافات نہیں۔ کیونکہ فیئوس الگ لوگوں کے متعلق ہے اور دوسرا الگ لوگوں سے متعلق ہے۔ یا خشکی میں ناامیدی اور سمندر میں لمبی لمبی دعائیں۔ یا دل سے ناامید اور زبان سے دعا گو یا بت سے ناامید اور اللہ تعالیٰ کو پکارنے والا۔
Ayah 41:5252: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (کہہ دیں کہ مجھے بتلائو) خبردو اِنْ کاَنَ (کہ اگر وہ) یعنی قرآن مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ (اللہ کی طرف سے پھر تم انکار کرو) مَنْ اَضَلُّ (تو ایسے شخص سے بڑھ کر کون غلطی پر ہوگا۔ یعنی تم سے بڑھ کر) البتہ قول مِمَّنْ ھُوَ فِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ اس کی جگہ لایا گیا تاکہ ان کے حال کو واضح کردیا جائے اور ان کی حالت ظاہر ہوجائے۔
Ayah 41:53قرآن کی حقانیت واضح ہوجائے گی :
53: سَنُرِیْہِمْ ٰایٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ (عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں گردو نواح میں بھی دکھائیں گے) کہ شرقاً اور غرباً ممالک فتح ہوگئے ہیں۔ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ (اور خود ان کے اپنے نفسوں میں) مکہ کی فتح حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (یہاں تک کہ ان کے سامنے واضح ہوجائے گا کہ وہ برحق ہے) یعنی قرآن مجید یا اسلام اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ (کیا آپ کے رب کی یہ بات کافی نہیں)
نحو : بربکؔ رفع کے مقام میں فاعل ہے اور مفعول محذوف ہے۔
اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ (کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے) یہ بربکؔ کا بدل ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ اولم یکفھم ان ربک علی کل شیٔ شھید۔ کیا ان کو یہ بات کافی نہ ہوئی کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے۔ مطلب یہ ہے یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو گردو نواح میں ظاہر کر دے گا اور خود انکی اپنی ذات میں بھی وہ ان آیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور مشاہدہ کرینگے پس اس وقت انکے سامنے یہ بات کھل جائیگی کہ قرآن مجیدعالم الغیب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ وہ عالم الغیب جو کہ ہر چیز پر شاہد اور حاضرو ناظر ہے۔
Ayah 41:5454: اَ لَآ اِنَّھُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ (خبردار وہ لوگ شک میں پڑے ہیں) مِّنْ لِّقَآئِ رَبِّھِمْ اَ لَآ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٌ (اپنے رب کی بارگاہ میں جانے کی طرف سے یاد رکھو وہ ہر چیز کو احاطہ میں لیے ہوئے ہے) وہ اشیاء کے اجمال و تفاصیل اور ظواہرو بواطن کو جاننے والا ہے۔ اس پر کوئی چیز چھپنے والی نہیں ہے پس وہ انکے کفر پر ان کو سزا دیگا اور اس پر بھی سزا دیگا کہ وہ اسکی ملاقات کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔