Ayah 40:1قول ابن عباس : حوامیم سبعہ مکیہ ہیں :
حم، تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ، غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ۙ ذِي الطَّوْلِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ، حم یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو زبردست ہے۔ ہر چیز کا جاننے والا، گناہ کا بخشنے والا ہے اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے۔ سخت سزا دینے والا ہے۔ قدرت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اسی کے پاس جانا ہے۔
حٰم، اس کا مابعد امالہ سے حمزہ، علی، خلف، یحیی، حماد رحمہم اللہ نے پڑھا ہے۔ اور مدنی نے فتحہ و کسرہ کے مابین پڑھا۔ جبکہ دیگر قراء نے تفخیم سے پڑھا ہے۔ قول ابن عباس ؓ کا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔
Ayah 40:2تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ ، اس کتاب کا اتارا جانا۔ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ ، وہ اپنے دبدبے کی وجہ سے اس بات سے محفوط ہے کہ کوئی اس کے بارے میں بات کرے کوئی الزام لگانے والا۔ العلیم، وہ اس کو جاننے والا ہے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اور تکذیب کی اس میں مشرکین کو ڈرایا گیا ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
Ayah 40:3غَافِرِ الذَّنْۢبِ ، وہ گناہ کا بخشنے والا ہے۔ گناہ گاروں کے تمام گناہ بخشنے والا ہے۔ وَقَابِلِ التَّوْبِ ، اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے، رجوع کرنے والوں کی توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ، سخت سزا دینے والا ہے، ان کو جو مخالفت کرنے والے ہیں۔ ذِي الطَّوْلِ ، قدرت والا ہے، مغفرت والوں پر فضل برسانے والا ہے یا ہر ایک سے بےپرواہ ہے۔
قول ابن عباس ؓ : گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا تو مومنوں کیلئے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا، شدید العقاب ان کے حق میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کو قبول نہیں کیا۔ اور التوب، الثوب، الاوب یہ تینوں الفاظ ہم معنی ہیں ان سب کا معنی رجوع ہے اور الطول کا مغنی غناء و فضل آتا ہے۔
سوال : جب یہ صفات ایک ہی ذات کی ہیں تو پھر تعریف و تنکیر میں مختلف کیوں ہیں۔
جواب : غافر الذنب اور قابل التوب یہ دنوں معرفہ ہیں کیونکہ ان سے حدوث فعل مراد نہیں۔ یہاں تک کہ یہ تقدیر انفصال میں ہوگئے پس ان کی اضافت غیر حقیق بنی۔ مقصد اس سے دوام و ثبوت ہے۔ باقی رہا شدید العقاب اس کی تقدیر عبارت یہ ہے شدید عقابہ، پس نکرہ ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ بدل ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ جب یہ نکرہ ان معارف کے درمیان آگیا تو اس سے یہ اعلان ہوگیا کہ یہ سارے بدل ہیں۔ وصف نہیں اور واؤ کو وقابل التوب میں داخل کرنا ایک نکتہ کی وجہ سے ہے۔ نکتہ : یہ ہے کہ مذنب و تائب کے لیے دو رحمتوں کو جمع کردیا گیا ہے کہ یا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور طاعات میں سے ایک طاعت لکھی جائے گی۔ یا پھر گناہ مٹا دیے جائیں گے گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں گویا اس طرح فرمایا وہ مغفرت و قبولیت کو جمع کرنے والا ہے۔ روایت میں ہے کہ عمر فاروق ؓ نے شام کے ایک بہادر کے متعلق جانچ پڑتال کی تو آپ کو بتلایا گیا کہ وہ تو مسلسل شراب میں مبتلا ہوگیا ہے۔ عمر فاروق ؓ نے اپنے کاتب کو بلایا اور فرمایا اس کے نام اس طرح خط لکھو ! من عمر الی فلان۔ سلام علیک، میں تیرے سامنے اس اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حم، الی قولہ الیہ المصیر تک لکھوایا۔ اور خط پر مہر لگا کر فرمایا اس کو اس کے ایسے وقت میں حوالے کرو جب کہ وہ نشے وغیرہ سے بالکل خالی ہو۔ پھر آپ نے اپنے قریب تمام حضرات سے فرمایا۔ اس کیلئے توبہ کی دعا کرو۔ جب اس آدمی کے پاس خط پہنچا تو وہ اس کو پڑھنے لگا۔ اور کہتا جا رہا تھا۔ میرے اللہ نے مجھ سے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور اپنے عقاب سے ڈرایا ہے۔ پھر ان الفاظ کو دہراتا رہا یہاں تک کہ اس پر گریہ طاری ہوگیا پھر توبہ کی اور اس کی توبہ خوب رہی، پختہ رہی۔ جب عمر ؓ کو یہ اطلاع ملی تو فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جبکہ تم اپنے کسی بھائی کو پھسلتا ہوا دیکھو اس کو درست راستہ بتلاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے توبہ کی دعا بھی کرو اور اس کے خلاف شیاطین مغویین کے معاون مت بنو۔ ابو نعیم فی الحلیۃ۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی، یہ ذی الطول کی طرح صفت ہے اور جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ، اسی کے پاس جانا ہے، المصیر، مرجع کو کہتے ہیں۔
Ayah 40:4مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، اللہ تعالیٰ کی آیات میں وہی لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو منکر ہیں۔
دو جدال (باطل و حق):
جدال باطل : ان آیات میں تکذیب و انکار کے ساتھ مخاصمہ کیا جاتا ہے۔ اور اگلی آیت اس پر دلالت کر رہی ہے۔ وجادلوا بالباطل لیدحضوا بہ الحق (غافر :5) ۔ یہ جھگڑا وجدال ناجائز ہے۔
جدال حق : باقی وہ مجادلہ جو اس کے ملتبس مقامات کی وضاحت اور مشکلات کے حل اور معانی کے استنباط اور ان آیات کے متعلق ٹیڑھا پن اختیار کرنے کو درست کرنے کیلئے کیا جائے وہ تو اضل ترین جہاد ہے۔
فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ ، ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو اشتباہ میں نہ ڈالے۔ جو کہ وہ نفع بخش تجارات اور فائدہ مند کاروبار کے ساتھ ایک سے دوسرے شہر آتے جاتے اور صحت و سلامتی سے لوٹتے ہیں۔ ان کا انجام کار عذاب ہے۔ پھر یہ بیان کیا کہ کس طرح ہوگا پس جتلا دیا کہ سابقہ مکذب امتوں کا حال دیکھ لو۔
Ayah 40:5نمونہ جدال :
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ ، ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا، نوح (علیہ السلام) کو، وَّالْاَحْزَابُ ، اور دوسرے گروہوں نے، جنہوں نے رسولوں کی مخالفت میں جتھہ بندی اختیار کی اور ان کو دکھ پہنچائے وہ عاد، ثمود، قوم لوط، وغیرہ ہیں۔ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ، ان کے بعد، قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد، وَهَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍ ، اور ہر امت نے ارادہ کیا، ان امتوں میں سے جو قوم نوح اور احزاب ہیں۔ بِرَسُوْلِهِمْ لِيَاْخُذُوْهُ ، اپنے رسول کے متعلق کہ اس کو گرفتار کرلیں، کہ اس کو پکڑ کر قتل کردیں۔ الاخیذ، قیدی۔ وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ ، اور انہوں نے ناحق جھگڑے پیدا کیے، باطل سے کفر مراد ہے۔ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ ، تاکہ وہ اس سے حق کو مٹا دیں، تاکہ ایمان کو باطل کردیں۔ فَاَخَذْتُهُمْ ، پس میں نے ان کو پکڑ لیا، تاء اور ذل مدغم نہیں ہوئے جیسا مکی وحفص کی قراءت ہے مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر کو پکڑنا چاہا۔ میں نے ان کے ارادہ اخذ پر سزا مقرر کردی کہ ان کو پکڑ لیا اور سزا دے ڈالی۔ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ، پس میری طرف سے کیسی سزا ہوئی۔
قراءت یعقوب نے عقابی پڑھا ہے مطلب یہ ہے کہ تم ان کے علاقوں میں سے اپنے سفروں میں گزرتے اور اس کا معائنہ کرتے ہو اس تقریر میں تعجب کا معنی ہے کہ بڑی تعجب کی بات ہے معائنہ کے باوجود وہ عبرت نہیں پکڑتے۔
Ayah 40:6وَكَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ا، اور اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے رب کا یہ قول ثابت ہوچکا۔
قراءت : مدنی و شامی نے کلمات ربک پڑھا ہے۔ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ، کہ وہ لوگ دوزخی ہوں گے، یہ محل رفع میں کلمۃ ربک سے بدل ہے۔ یعنی جیسے وہ لوگ قطعاً دوزخی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی دوزخی یقیناً ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کو استیصال والے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح ان کو عذاب نار کے ساتھ آخرت میں ہلاک کیا جائے گا۔ یا محل نصب میں ہے اور لام تعلیل محذوف ہے اور ایصال فعل والذین کفروا سے قریش مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسا ان امتوں کی ہلاکت لازم ہوئی اسی طرح ان کی ہلاکت بھی لازم ہے کیونکہ دونوں کی ایک ہی علت ہے کہ وہ آگ والے ہیں۔ النار کے لفظ پر وقف لازم ہے کیونکہ اگر وصل کریں تو یہ عبارت اس طرح بن جائے۔
Ayah 40:7اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ ، جو فرشتے کہ عرش اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے اس کے گردا گرد ہیں، یعنی حملۃ العرش اور عرش کے گردا گرد فرشتے حالانکہ وہ کروبی ہیں جو کہ فرشتوں کے سردار ہیں۔ یہ اس صورت وصل میں اصحاب نار کی صفت بن جائے گی اور اس کا فساد و غلط ہونا ظاہر و باہر ہے اس لیے وقف النار پر لازم ہے۔ روایت میں ہے کہ حملۃ العرش کے پاؤں سب سے نچلی زمین پر ہیں۔ اور ان کے سر عرش کو پہنچنے والے ہیں وہ خشوع اختیار کرنے والے ہیں کہ اپنی نگاہ اوپر کو نہیں اٹھاتے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دے رکھا ہے صبح و شام کو وہ حملۃ العرش کو سلام کریں کیونکہ وہ تمام ملائکہ سے اٖفضل ہیں۔ ایک قول یہ ہے عرش کے گرد ستر ہزار صفوف فرشتوں کی قیام میں ہیں۔ اور وہ تکبیر و تہلیل کہتے ہوئے عرش کا طواف کرتے ہیں۔ پھر ان کے پیچھے ستر ہزار صفوف ملائکہ کی قیام میں ہیں۔ وہ بھی تہلیل و تکبیر میں مصروف ہیں۔ اور ان کے پیچھے ایک لاکھ صفوف ایسی ہیں جنہوں نے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھا ہے اور ہر ایک وہ تسبیح زبان سے کر رہا ہے جو اس سے دوسرا نہیں کر رہا۔ يُسَبِّحُوْنَ ، وہ تسبیح کرتے ہیں، یہ مبتداء کی خبر ہے اور مبتدا الذین یحملون العرش ہے۔ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ، اپنے رب کی حمد کے ساتھ، اس کی حمد کے ساتھ یا باء اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ ہے، وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں ایمان کا شرف و مرتبہ اور اس کی فضیلت بتلائی اور ایمان کی ترغیب دی گئی۔ جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی صفت صلاح کو ذکر کیا جائے۔ (حالانکہ حملۃ العرش اور حول العرش فرشتے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرنے والے اور ایمان لانے والے ہیں) ، یہ ایسے ہی ہے جیسے اعمال خیر کو اس ارشاد کے بعد لایا گیا ہے۔ ثم کان من الذین امنوا۔ (البلد :17) ۔ حالانکہ وہ تمام صفات ایمان کے بعد آئیں مگر ایمان کو لا کر اس کی اہمیت و عظمت ظاہر فرمائی۔ اس سے ایمان کی فضیلت ظاہر ہوگئی اور تناسب کی رعایت بھی ویومنون بہ و یستغفرون میں فرما دی گئی۔ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا، اور وہ ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو حالت میں انہی جیسے ہیں۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ جب وہ ایمان میں مشترک ہیں تو ضروری ہے کہ وہ نصیحت و خیر خواہی اور شفقت کا ایک دوسرے سے اظہار کریں۔ اگرچہ ان کی اجناس اور مقامات و مساکن کتنے ہی بعید ہوں، ربنا، اے ہمارے پروردگار، یہ محذوف سے حال ہے، رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا، آپ کی رحمت و علم ہر چیز کو شامل ہے، پس رحمت اور علم وہ ایسی چیزیں ہیں۔ جو ہر چیز کو معنی کے اعتبار سے شامل ہیں۔ اصل کلام اس طرح ہے وسع کل شیء رحمتک و علمک، لیکن کلام کو اصل سے پھیرا گیا کیونکہ فعل کا استناد یہاں خود صاحب رحمت و علم کی طرف ہے۔ اور دونوں یہاں منصوب لائے گئے۔ کیونکہ تمیر واقع ہیں اور اس طرح لانے سے صفت علم و رحمت میں مبالغہ ظاہر کرنا بھی مقصود ہے۔
دعائے اول : فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا، پس آپ ان لوگوں کو بخش دیں جنہوں نے توبہ کرلی ہے، یعنی ان لوگوں کو جن کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ وہ توبہ کرچکے تاکہ رحمت و علم کے ذکر کے مناسب ہوجائیں۔ وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ ، اور انہوں نے تیرے راستہ کی اتباع کی، یعنی وہی ہدایت والی راہ جس کی طرف آپ نے ان کو بلایا۔
دوسری دعا، وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ ، اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لیجیے۔
Ayah 40:8تیسری دعا : رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ ، اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں جن کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے داخل فرما دیجیے۔ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ ، اور جو لائق ہوں ان کے ماں باپ میں سے، من یہ موضع نصب میں واقع ہے۔ کیونکہ اس کا عطف ادخلہم کے ھم پر ہے، یا وعدتہم کے ہم پر ہے اور معنی یہ ہوگا تو نے ان سے وعدہ کیا اور ان سے وعدہ کیا جو نیک ہوئے ان کے ماں باپ میں سے۔ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ، اور ان کی بیویوں اور اولاد میں سے جو لائق ہوں ان کو بھی داخل کر بیشک آپ زبردس حکمت ولاے ہیں، یعنی ایسے بادشاہ ہیں جو کسی سے مغلوب نہیں ہوتا اور آپ اپنی ملک و عظمت کے باوجود کوئی کام حکمت سے خالی نہیں کرتے۔ اور تیری حکمت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے وعدہ کو پورا فرما دیجیے۔
Ayah 40:9چوتھی دعا : وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ، اور آپ کو ان تکالیف سے بچائیے۔ السیئات سے جزائے سیئات مراد ہے جو عذاب نار ہے۔ وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭ وَذٰلِكَ ، اور آپ جس کو اس دن کی تکالیف سے بچائیں گے تو اس پر آپ مہربانی فرمائی اور یہ ذلک کا مشار الیہ دفع عذاب ہے یعنی یہ دفع عذاب هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ، وہی بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 40:10کافر کو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہمیں تم سے نفرت ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ ، بیشک جو لوگ کافر ہوئے ان کو پکارا جائے گا۔ قیامت کے دن جبکہ وہ آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے نفسوں پر ناراضگی کا اظہار کریں گے تو آگ کے داروغہ ان کو آواز دے کر کہیں گے لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ ، اللہ تعالیٰ کو تم سے زیادہ نفرت ہے اس کی بنسبت جتنی تمہیں اپنے نفسوں سے نفرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تم سے تمہارے نفسوں کی نسبت زیادہ نفرت ہے پس انفس کا ذکر ایک مرتبہ کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ المقت، شدید بغض و نفرت، اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ ، جبکہ تم ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا۔ یہ پہلے مقت سے متعلق ہے زمخشری نے اسی طرح کہا معنی اس طرح بنے گا کہ ان کو قیامت کے دن کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے برائی اور کفر کی طرف مائل ہونے والے نفسوں سے نفرت فرماتے تھے۔ جبکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تمہیں ایمان کی طرف دعوت دیتے اور تم اس کو قبول کرنے سے انکار کرتے اور کفر کو اس پر ترجیح دیتے۔ اس سے کہیں بڑھ کر جتنا آج تم اپنے نفسوں سے نفرت کا اظہار کر رہے اس حالت میں کہ تم آگ میں پڑے ہو۔ ہم نے تمہیں آگ میں تمہاری خواہش پرستی کی بناء پر ڈالا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے اب اللہ تعالیٰ کا تم سے نفرت کرنا اس سے بڑھ کر جتنا تم ایک دوسرے سے نفرت کر رہے ہو۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا ثم یوم القیامۃ یکفر بعضکم بعض و یلعن بعضکم بعضا (العنکبوت : 25) ، اور اذ تدعون یہ جملہ تعلیلیہ ہے۔
صاحب جامع العلوم کا قول : اذ اس فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ جس پر لمقت اللہ دلالت کر رہا ہے یعنی یمقتہم اللہ حین دعوا الی الایمان فکفروا۔ اللہ تعالیٰ ان سے نفرت فرماتے ہیں جب سے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی تو انہوں نے انکار کردیا۔ اذ مقت اول کی وجہ سے منصوب نہیں ہے۔ کیونکہ لمقت اللہ مبتداء ہے اور یہ مصدر ہے۔ اور اس کی خبر اکبر من مقتکم ہے۔ پس یہ اذ تدعون میں عامل نہیں کیونکہ جب مصدر کی خبر آجائے تو پھر کسی چیز کا اس سے متعلق کرنا جائز نہیں جو اس کا صلہ ہوسکے۔ کیونکہ اس کی خبر کا آجانا یہ اس کے تمام ہونے کی علامت ہے۔ اور اس کا متعلق مان لینا اس کے نقص کی نشانی ہے۔ اسی طرح دوسرے مقت سے بھی متعلق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ زمانے مختلف ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نفوس سے داخلہ نار کے بعد حالانکہ ایمان کی دعوت تو دنیا میں دی گئی۔ تو دنیا و عقبی کا زمانہ مختلف ہوا۔ فتکفرون، پس تم کفر کرتے تھے، کفر پر اصرار کرتے تھے۔
Ayah 40:11آگ والوں کا قول جو کہ مایوس کن ہے۔ قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ ، وہ لوگت کہیں گے اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمیں دوبارہ مردہ رکھا اور دوبارہ زندگی دی۔ یعنی دو موتیں اور دو زندگیاں۔ یا دو موتیں اور دو حیاتیں۔ دو موتوں سے مراد ان کا پہلی مرتبہ ان کی مردہ و بےجان اشیاء سے پیدا کرنا اور ان کو اجل مقررہ کے پورے ہونے پر موت دینا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ بےجان اشیاء سے پیدائش کو اماتت کہا جاتا ہے جیسا کہ یہ درست ہے کہ کہا جائے۔ سبحان من صغر جسم البعوضۃ و کبر جسم الفیل، اس جگہ بڑے سے چھوٹے کی طرف منتقل ہونا نہیں پایا جاتا ہے۔ اور نہ چھوٹے سے بڑے کی طرف اور اس کا سبب یہ ہے کہ چھوٹا اور بڑا دونوں کا اطلاق ایک مصنوعہ چیز پر ہوسکتا ہے۔ جب صانع نے دو جائز میں سے ایک پر کردیا تو گویا صانع نے اس کو دوسرے جائز کی طرف پھیر دیا۔ پس اس کا اس حالت سے پھیر دینا اس سے منتقل کرنے کی طرح ہے۔ الاحیائتین سے۔ پہلی مرتبہ کی پیدائش اور پھر احیائے بعث مراد ہے اور یہ ارشاد اس پر دلالت کر رہا ہے، وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتم ثم یحییکم، البقرۃ : 28 ۔ ایک قول یہ ہے کہ پہلی موت دنیا میں اور دوسری موت سوال کیلئے قبر میں زندہ کرنے کے بعد اور احیائے اول قبر میں موت کے سوال کیلئے زندہ کرنا اور دوسری بعث کے لیے احیاء، فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا، پس ہم اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں، جب انہوں نے و بارہ موت اور دوبارہ احیاء کو اپنے اوپر طاری و جاری دیکھ لیا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کو اعادہ پر قدرت حاصل ہے جیسا کہ وہ انشاء پر قادر ہے۔ اسی لئے انہوں نے اپنے ان گناہوں کا اعتراف کرلیا جن کا ارتکاب انہوں نے کیا تھا جیسے انکار بعث اور جو اس کے پیچھے گناہ کیے تھے۔ فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ ، تو کیا نکلنے کی کوئی صورت ہے، یعنی آگ سے نکلنے کی مطلب یہ ہے کہ جلدی سے نکلنے کی کوئی قسم ہو یا یا آہستگی سے چھٹکارا پانے کا کوئی راہ ہوتا کہ ہم چھوٹ جائیں۔ مِّنْ سَبِيْلٍ ، کبھی کوئی صورت، یا بالکل مایوسی ہے کہ نہ تو نکلنا اور نہ اس کے لیے کوئی صورت۔ یہ گفتگو ایسے لوگوں کی ہے جن پر مایوسی کے بادل چھا چکے ہوں گے اور یہ بات وہ حیرانی کی وجہ سے کہیں گے۔ اسی لیے جواب اس کے مطابق لایا گیا جو اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 40:12سرمدی عذاب کا فیصلہ تمہارے کفر کی وجہ سے ہوا : ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗٓ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ ، وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا تھا، تو تم انکار کیا کرتے تھے۔ وَاِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا، اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے، یہ وہ چیز ہے جس میں تم مبتلا تھے۔ تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں اس وجہ سے کہ تم نے توحید کا انکار کیا اور شرک پر تمہارا ایمان تھا۔ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ ، پس یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہے، کہ اس نے ہی تمہارے لیے سرمدی عذاب کا فیصلہ فرمایا۔ الْعَلِيِّ ، بلندو برتر ہے، شان اس کی پس اس کے فیصلوں کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ الْكَبِيْرِ ، عظمت والے ہیں۔ ان کی سلطنت عظیم ہے پس اس کی سزا کی کوئی حد بندی نہیں۔
ایک قول : خارجی حروریہ فرقہ نے اسی آیت سے اپنا قول لا حکم الا للہ لیا، قتادہ کہتے ہیں جب اہل حروراء نے خروج کیا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا۔ یہ کون لوگ ہیں۔ انہیں بتلایا گیا کہ یہ تحکیم کا نعرہ لگانے والے ہیں۔ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں لا حکم الا للہ، علی مرتضی ؓ نے فرمایا کلمہ تو صحیح ہے مگر اس سے مراد غلط لے لی گئی ہے۔ اس سے ان کا میری تکفیر کرنا غلط ہے۔
Ayah 40:13هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ ، وہی ذات ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے، مثلاً ہوائیں، بادل، گرجیں، بجلیاں، کڑکیں، وغیرہ، وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ ، اور وہ تمہارے لیے آسمان سے اتارتا ہے۔
قراءت : ینزل، تخفیف کے ساتھ مکی، بصری نے پڑھا ہے۔ رِزْقًا، رزق، بارش کیونکہ وہ سبب رزق ہے۔ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ ، اور صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے جو رجوع کرتا ہے، آیات اللہ سے عبرت اور نصیحت وہ حاصل کرتا ہے جو شرک سے توبہ کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پس جو شخص ضدی ہے وہ نہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور نہ یاد کرتا ہے۔
Ayah 40:14ربط : پھر رجوع کرنے والوں کو فرمایا : فَادْعُوا اللّٰهَ ، پس تم اللہ تعالیٰ کو پکارو۔ پس اسی کی عبادت کرو۔ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ، اس کا خالص اعتقاد کر کے۔ شرک سے خالص کرنا مراد ہے۔ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو۔ اگرچہ تمہارے وہ دشمن تم پر یہ عیب لگائیں جو تمہارے دین پر نہیں ہیں۔
Ayah 40:15بندوں کے درجات کو بلند کرنے والا اور جس نے عرش کو بنا کر فرشتوں کے طواف کا مقام بنایا : رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ ، وہ رفیع الدرجات ہے، وہ عرش کا مالک ہے۔ يُلْقِي الرُّوْحَ ، وہ وحی بھیجتا ہے۔
نحو : 1، ھُوَ کی تین خبریں ہیں اور یہ الذی یریکم پر مرتب ہوتا ہے۔ یا 2، مبتداء محذوف کی خبریں ہیں۔ رفیع الدرجات کا معنی نمبر 1، وہ آسمانوں میں سے بعض کو بعض پر بلند کرنے والا ہے۔ نمبر 2، وہ اپنے بندوں کے درجات کو مرتبہ دے کر بلند کرتا ہے۔ نمبر 3، جنت میں بندوں کے درجات کو بلند کرے گا۔ ذوالعرش وہ اپنے اس عرش کا مالک ہے جو آسمان سے اوپر ہے۔ اس کو پیدا کر کے فرشتوں کے طواف کا مقام بنادیا۔ اور اس کی تخلیق عظمت باری تعالیٰ کو بھی ظاہر کرنے والی ہے۔ اور اس کی مملکت میں اس کی بےنیازی کو بھی ظاہر کرنے والی ہے۔ الروح سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ نمبر 2 ۔ وہ وحی جس سے دل زندہ کیے جاتے ہیں۔ مِنْ اَمْرِهٖ ، اپنے حکم سے، من یہاں اجلیہ ہے، اپنے حکم کیلئے یا اپنے حکم کے سبب۔ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ ، جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ ڈرائے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ڈرائے یا جس پر وحی بھیجی جا رہی ہے وہ ڈرائے اور وہ نبی اکرم ﷺ ۔ یعقوب کی قراءت اس پر دلالت کرتی ہے۔
قراءت : لتنذر، یعقوب نے پڑھا ہے۔ يَوْمَ التَّلَاقِ ، اجتماع کے دن سے، قیامت کے دن۔ یہ نام اس کا اس لیے ہے کہ اس دن اہل سماء اہل ارض سے ملاقات کریں گے اور اسی طرح اولین و آخرین کی ملاقات ہوگی۔
قراءت : مکی اور یعقوب نے التلاقی پڑھا ہے۔
Ayah 40:16قیامت میں ہر چیز سامنے ہوگی : يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ ، جس دن سب لوگ سامنے آموجود ہوں گے۔ بارز کا معنی ظاہر ہے۔ ان کو کوئی چیز نہ چھپائے گی۔ نہ پہاڑ نہ ٹیلہ نہ عمارت۔ لَا يَخْـفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ، ان کی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے مخفی نہ رہے گی۔ شیء سے مراد یہاں اعمال و احوال ہیں۔ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ، آج کے روز کس کی حکومت ہوگی۔ یہ بات اللہ تعالیٰ اس وقت فرمائیں گے جبکہ کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا۔ بذات خود جواب عنایت فرمائیں گے۔ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، بس اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی جو یکتا غالب ہے، یعنی وہ ذات جس نے موت سے مخلوق کو مغلوب کیا۔
نحو : الیوم منصوب ہے۔ لمن کا مدلول اس پر عامل ہے۔ ای لمن ثبت الملک فی ھذا الیوم۔ آج کے دن بادشاہی کس کے لیے ثابت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ایک منادی آواز دے گا۔ کہے گا۔ لمن الملک الیوم۔ اہل محشر اس کو جواب دیں گے۔ للہ الواحد القہار۔
Ayah 40:17ہر خیر و شر کا بدلہ دیا جائے گا : اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۭ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ، آج ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کچھ ظلم نہ ہوگا، بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں۔ جب یہ بات پختہ ہوچکی کہ بادشاہی اس دن اکیلے اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔ تو اب اس کے نتائج گنوائے۔ نمبر 1 ۔ ہر نفس کو جو عمل خیر و شر میں سے اس نے کیا اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ نمبر 2 ۔ ظلم اس کی طرف سے بالکل نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ظلام للعبید نہیں ہے۔ نمبر 3 ۔ حساب میں دیر نہ لگے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک کا حساب دوسرے سے مشغول نہیں کرسکتا۔ پس وہ تمام مخلوق کا حساب ایک ہی وقت میں لے لیں گے۔ اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والے ہیں۔
Ayah 40:18وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ ، اور آپ ان کو قریب آنے والی مصیبت کے دن سے ڈرائیں۔ یوم الازفۃ سے قیامت کا دن مراد ہے۔
وجہ تسمیہ : قیامت کو یوم الازفۃ اس کے قرب کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
قیامت کے دن دل خوف سے بےچین ہوں گے۔ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَـنَاجِرِ ، جبکہ دل منہ کو آجائیں گے۔ الحناجر کا معنی گلے۔ دل اچھل کر اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور ان کے گلے میں پھنس جائیں گے نہ تو وہ باہر نکلیں گے کہ وہ مرجائیں اور نہ اپنے مقام کی طرف لوٹیں گے کہ وہ سانس لے سکیں اور ان کو چین نصیب ہو، كٰظِمِيْنَ ، غم و خوف سے بےچین بھرے ہوں گے، وہ ان کے گلے میں اٹکنے والے ہوں گے۔ یہ کظم القریۃ سے لیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا منہ باندھ دیا جائے اور یہ دلوں کے لیے ناممکن ہے۔ اس لیے اس سے مراد اصحاب قلوب ہوں، الکاظم کو جمع لایا گیا، یہ جمع سالم ہے کیونکہ ان قلوب کا یہ فعل عقلاء والا ہے۔ اس لیے جمع سالم کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ ، اور ظالموں کے لیے نہ ہوگا، ظالم سے یہاں کافر مراد ہیں۔ مِنْ حَمِيْمٍ ، کوئی محب مشفق۔ وَّلَا شَفِيْعٍ يُّــطَاعُ ، اور نہ سفارشی ہوگا جس کا کہا مانا جائے۔ یعنی جو سفارش کرے یہ مجاز ہے کیونکہ اطاعت تو اس کی ہوتی ہے جو تم سے سربلند اور بڑی ہو۔ مراد اس سے اطاعت و شفاعت کی نفی ہے جیسا کہ اس قول میں، ولا تری الضب بھا ینجحر۔ شاعر کی یہاں مراضب اور اس کے بل بنانے کی نفی۔ اگرچہ آیت کے الفاظت میں طاعت کی نفی کا احتمال ہے شفاعت کی نفی کا نہیں۔
قول حسن (رح) ۔ اللہ کی قسم ان کا قیامت کے دن قطعی طور پر کوئی سفارشی نہ ہوگا۔
Ayah 40:19سینہ کی باتیں اس سے مخفی نہیں : يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ ، وہ آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے، کائنۃ یہ مصدر ہے خیانت کے معنوں میں ہے، جیسا کہ عافیت بمعنی معافات ہے۔ مراد اس سے غیر محرم کی طرف نظر چرا کر دیکھنا۔ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ ، اور ان کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔ اور جن کے سینے امانت یا خیانت میں سے چھپاتے ہیں۔ چوری چھپے اجنبی عورت کو شہوت سے دیکھنا پھر اس کے جمال کے متعلق دل میں خیال لانا اور اس کو معلوم نہیں اپنے اس نظر و فکر میں کہ میں کس کے سامنے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس تمام کو جانتے ہٰں۔ یعلم خائنۃ الاعین، یہ ھو کی خبروں میں سے ہے۔ جو اس قول میں ہے ھو الذی یریکم آیاتہ (غافر : 13) ، جیسے یلقی الروح، لیکن یلقی الروح کی تعلیل لینذر یوم التلاق سے فرمائی۔ پھر بطور استطراد یوم التلاق کے احوال، ولا شفیع یطاع تک بیان کیے۔ اس لیے یہ اپنے ہم مثلوں سے دور ہوگیا۔
Ayah 40:20وَاللّٰهُ يَـقْضِيْ بِالْحَقِّ ، اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا، یعنی وہ ذات جس کی یہ صفات ہیں وہ انصاف سے ہی فیصلہ فرمائے گا۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَـقْضُوْنَ بِشَيْءٍ ، اور جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ انکے معبود کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اس میں ان کو شرمایا گیا۔ کیونکہ جس کی قدرت کے ساتھ صفت بیان نہیں کی جاسکتی۔ اس کے متعلق یقضی کا صیٖغہ اس کے لیے بولا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے کہ دوسرے مقام پر فرما دیا۔
ۭ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
Ayah 40:21اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں، ان کا کیا انجام ہوا) ۔ یعنی جنہوں نے ان سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا ان کا انجام کار کیا ہوا۔ۭ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً (وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے)
نحو : ھم ضمیر فصل ہے اور حق تو یہ ہے کہ دو معرفوں کے درمیان لائی جائے۔ البتہ یہاں اشد منہم یہ معرفہ کے مشابہ ہوگیا کیونکہ اس پر الف لام داخل نہیں ہوسکتا۔ پس اس کے قائم مقام شمار کرلیا۔
قراءت، شامی نے منکم پڑھا۔ دیگر نے منہم۔
وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ ، اور ان نشانوں میں جو زمین پر چھوڑ گئے۔ قلعے، محلات وغیرہ۔ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ، اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کے بدلہ میں پکڑا، ان کے گناہوں کے سبب ان کو سزا دی۔ ۭ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ ، ان کو کوئی اللہ تعالیٰ سے بچانے والا نہ ہوا۔ یعنی کوئی چیز ایسی نہ تھی۔ جو ان کو اللہ تالیٰ کے عذاب سے بچا لے۔
Ayah 40:22ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ ، یہ اس سبب سے ہوا کہ، یہ پکڑ اس سبب سے ہوئی کہ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ۭ اِنَّهٗ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ، ان کے پاس ان کے رسول واجح دلیلیں لے کر آتے رہے پھر انہوں نے مانا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مواخذہ فرمایا بیشک وہ بڑی قوت والا سخت سزا دینے والا ہے۔ قوی، ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ شدید العقاب کا مطلب جب وہ سزا دیتاے تو سخت دیتا ہے۔
Ayah 40:23وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا، ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات کے ساتھ، تسع آیات مراد ہیں۔ وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ ، اور کھلی دلیل کے ساتھ، ظاہر دلیل۔
Ayah 40:24اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا، فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا پس انہوں نے کہا، سٰحِرٌ كَذَّابٌ، وہ جھوٹا جادوگر ہے۔ انہوں نے واضح دلیل کو سحر و کذب سے تعبیر کیا۔
Ayah 40:25قانون قتل سے اللہ کا فیصلہ نہ روک سکا۔
فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ بِالْحَقِّ ، پس جب وہ ان لوگوں کے پاس دین حق لے کر آئے۔ الحق سے مراد نبوت ہے۔ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَاۗءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ، ہماری طرف سے تو ان لوگوں نے کہا جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو۔ ان پر اس قتل کے حکم کا اعادہ کرو جو پہلے جاری کیا گیا تھا۔ وَاسْتَحْيُوْا نِسَاۗءَهُمْ ، اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو ، خدمت کیلئے۔ وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ ، اور ان کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی۔ ضلال ضائع ہے انہوں نے اس سے پہلے قتل کا قانون جاری کیا مگر فائدہ نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس کو غالب کر کے رہا جس سے ان کو خطرہ تھا۔ پس یہ قتل دوم بھی کام نہ آئے گا۔
فرعون بچوں کے قتل سے باز آچکا تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تو اس نے محسوس کیا کہ جس چیز کو اس نے روکنا چاہا وہ تو واقع ہوا چاہتی ہے تو اس نے بنی اسرائیل پر دوبارہ غضبناک ہو کر یہ ظالمانہ قانون جاری کردیا۔ اس خیالے پیش نظر کہ وہ لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے روک کر غلبہ موسیٰ (علیہ السلام) نہ ہونے دے گا۔ مگر اس نے نہ جانا کہ دونوں مرتبہ اس کا مکر و فریب ضائع جائے گا۔
Ayah 40:26فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے سے جلد ہلاکت کے خطرہ کی وجہ سے باز رہا :
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ، اور فرعون نے کہا، اپنے سرداروں کو ذَرُوْنِيْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰى، مجھ کو چھوڑو کہ موسیٰ کو میں قتل کر ڈالوں۔ جب فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کا ارادہ کرتا تو سردار اس کو یہ کہہ کر منع کرتے یہ وہ نہیں جس سے تجھے خطرہ ہے یہ اس سے کم درجہ ہے یہ تو ایک ساحر ہے۔ جب تو اس کو قتل کرے گا تو لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کردے گا۔ لوگوں کو یقین ہوجائے گا۔ کہ تو اس کا دلیل سے مقابلہ کرنے سے عاجز آچکا ہے۔ اس سے یہ بات کھل کر معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کو یہ یقین ہوچکا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نبی برحق ہیں۔ اور اس کے سامنے آنے والے نشانات یہ سحر نہیں۔ مگر وہ دغاباز، بہت زیادہ خون بہانے والے اور معمولی چیزوں پر قتل کرنے والے شخص کا مزاج رکھتا تھا۔ پھر وہ اس کے متعلق قتل سے کیوں چوکتا جس کے متعلق وہ محسوس کرچکا تھا کہ وہ اس کی سلطنت کو برباد کردے گا لیکن اس کو خطرہ یہ تھا کہ اگر اس نے قتل کا اقدم کیا تو وہ جلد تر ہلاک کردیا جائے گا۔ اور اس کا یہ قول ولیدع ربہ، اس شدید خوف کے احساس کو خوب ظاہر کرت ہے اور ایک طرف اپنے بارے میں ربوبیت کا دعوے دار تھا اور دوسری طرف اس کا قول ذرونی اقتل موسیٰ کہنا درحقیقت یہ اپنی قوم کو بلیک میل کرنے کیلئے ہے اور اس بت کا وہم دلانے کے لیے ہے کہ وہ روک رہے ہیں میں تو ابھی اس کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔ حالانکہ واقعۃ اس کو دلی گھبراہٹ روکے ہوئی تھی۔ اِنِّىْٓ اَخَافُ ، مجھے ڈر ہے، اگر میں اس کو قتل نہ کروں تو اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ کہ وہ تمہارا دین بدل ڈالے، وہ اس آبائی دین کو بدل دے جس پر تم چلے آرہے ہو۔ وہ فرعون اور دیگر اصنام کی پوجا کرتے تھے۔ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ ، یا وہ پھیلا دے، یعنی موسیٰ ، فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ ، ملک میں کوئی۔ یظہر الفساد، یاء کا ضمہ اور دال کا فتحہ پڑھا ہے۔ مدنی بصر، حفص کا یہ مسلک ہے، اور دیگر قراء نے یاء کا فحہ اور دال کا رفع پڑھا ہے۔ مگر پہلا قول اولی ہے۔ کیونکہ وہ عیبدل کے موافق ہے۔ الفساد فی الارض کا مطلب باہمی لڑائی، ایک دوسرے کو برانگیختہ کرنا جس سے امن تہہ وبالا ہو اور کھیتیاں اور تجارتیں اور ذرائع آمدنی معطل ہو کر رہ جائیں۔ اور لوگ قتل و ضیاع سے ہلاک ہوجائیں۔ گویا وہ انہیں باور کرا رہا تھا۔ کہ مجھے خطرہ یہ ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف دعوت دے کر تمہارے دین سے تمہیں برگشتہ کردے یا اس کی وجہ سے جو فتنے پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس سے تمہاری دنیا تباہ ہوجائے گی۔ اہل کوفہ کے علاوہ دیگر قراء نے وان پڑھا ہے، اس کا معنی یہ ہے مجھے تمہارے دین و دنیا دونوں کے بیک وقت تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
Ayah 40:27موسیٰ نے قتل کی دھمکی سن کر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی۔ وَقَالَ مُوْسٰٓى، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ جب انہوں نے فرعون کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم کو قتل موسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں کہی سن پائی تو کہا۔ اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ، میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیت اہوں ہر ایسے کر دماغ سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا۔ آیت میں ربکم کا لفظ ان کو اس بات پر ابھارنے کیلئے ہے کہ وہ اس کی اقتداء اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی اسی طرح پناہ مانگیں جس طرح میں نے نے پناہ مانگی ہے۔ اور اس پر توکل کرتے ہوئے اس کو مضبوطی سے تھام لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے من کل متکبر فرمایا تاکہ آپ کا استعاذہ فرعون اور دیگر تمام جبارین کو شامل ہوجائے اور آپ کی بات بطریق تعریض ہو جو تصریح کی نسبت زیادہ مؤثر ہے۔ تکبر سے یہاں قبول حق سے بوجہ تکبر انکار کر مراد ہے اور یہ استکبار کی قبیح ترین شکل ہے اور اختیار کرنے والے کی کمینگی کو خوب ثابت کرنے والی ہے اور اس کے شدید کو ظلم کو ظاہر کرنے والی ہے۔ اور کہا لا یومن بیوم الحساب، کیونکہ جب کسی انسان میں طلم، جزاء کا انکار، انجام کی عدم پواء ہی جیسے برائیاں جمع ہوجائیں تو اس میں سنگ دلی، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سلسلہ میں جرات و دلیری کے اسباب مکمل ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ کوئی گناہ کیے بغیر نہیں چھوڑتے۔
قراءت : عذت، لذت یہ دونوں ایک جیسے ہیں۔ عت ادغام کے ساتھ ابو عمرو، حمزہ، علی نے پڑھا ہے۔
Ayah 40:28مومن آل فرعون کی تقریر : وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ڰ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ، اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا کہا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ قبطی تھا، اور فرعون کا چچا زاد بھائی تھا، وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر پوشیدہ طور پر ایمان لے آیا۔
نحو : من ال فرعون یہ رجل کی صفت ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ اسرائیلی تھا۔ اس صورت میں من آل فرعون یہ یکتم کا صلہ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ یکتم ایمانہ من ال فرعون، وہ آل فرعون سے ایمان کو چھپاتا تھا۔ اس کا نام سمعان تھا یا حبیب یا خربیل یا حزبیل مگر قول اول ظاہر سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ (کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے) ان یقول لام مقدر ہے یہ در اصل اس کی طرف سے ان کے فعل پر شدید نکیر ہے۔ گویا اس نے اس طرح کہا۔ کیا تم بد ترین حرکت کا ارتکاب کرتے ہو جو ایک محترم جان کا قتل کردینا ہے۔ حالانکہ تمہارے پاس اس کے قتل کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ کلمہ حق کہتا ہے کہ ربی اللہ، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارا بھی رب ہے فقط اسی کا رب نہیں۔ وَقَدْ جَاۗءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ (حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلائل لے کر آیا) قد جاء کم یہ جملہ حالیہ ہے۔ یعنی اس نے اپنی بات کو درست کرنے کیلئے ایک دلیل بھی پیش نہیں کی بلکہ جس ذات کی طرف ربوبیت کی نسبت کی جاتی ہے اس کی طرف سے دلائل پیش کیے ہیں۔ اور اس کے اعتراف تک ان کو مہلت دی گئی ہے۔ ۭ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ۚ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ (اگر وہ جھوٹا ہی ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو وہ جو کچھ پیشین گوئی کر رہا ہے اس میں سے کچ تو تم پر پڑیگا) اس نے بطریق تقسیم ان کے سامنے دلیل پیش کی کہ دو حال سے خالی نہیں یا تو وہ سچا ہے یا جھوٹا اگر وہ جھوٹا ہے تو پھر اس کا وبال اس پر پڑے گا اور اس سے آگے نہ بڑھے گا اور اگر وہ سچا ہے تو جس عذاب کا وعہ وعدہ کر رہا ہے وہ تمہیں آن پہنچے گا۔ اس نے یہ نہیں کہا کل الذی یعدکم کہ وہ سارا عذاب ت پر اتر پڑے گا۔ اس کے باوجود کہ یہ سچے نبی کی طرف سے کیا جانے والا وعدہ ہے۔ یہ بات ان کی مدارات اور طریق انصاف پر چلتے ہوئے کہی۔ اس نے وہ بات کہی جو ان کے زہنوں کو زیادہ اپیل کرنے والی تھی۔ اور اس میں تمام عذاب کے مل جانے کی نفی بھی نہ تھی۔ گویا اس طرح فرمایا کہ اس کی سچائی میں کم سے کم بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس عذاب کا کچھ حصہ تم پر ضرور طاری ہوگا جس کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے اور وہ جلد ملنے والا عذاب ہے۔ اور اس میں تمہاری ہلاکت ہے۔ اس نے ان سے دنیا و آخرت کے عذاب کا وعدہ کیا تھا۔ اسی لیے تو کاذب کو صادق پر مقدم کیا۔ اور بعض کی تفسیر کل سے کرنا درست نہیں ہے۔
اگر وہ مسرف ہے تو خود ہلاک ہوگا۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ (اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مقصود تک ہیں پہنچاتا و حد سے گزرنے والا ہو) ۔ مسرف حد سے تجاوز کرنے والا۔ كَذَّابٌ (بہت جھوٹ بولنے والا) اپنے دعو وں میں یہ باب مجاملہ میں سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹ بولنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کردیں گے اور ہلاک کردیں گے پس تمہاری جان اس سے چھوٹ جائے گی یا اگر وہ مسرف و کذاب ہوتا تو اس کو نبوت نہ ملتی اور دلائل سے اس کی پشت پناہی نہ کی جاتی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے وہم دلایا کہ وہ مسرف سے موسیٰ مراد لے رہا ہے حالانکہ وہ فرعون مراد لے رہا تھا۔
Ayah 40:29يٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ (اے میرے بھائیو ! آج تو تمہاری سلطنت ہے کہ اس سرزمین میں تم حاکم ہو) ظاہرین کا معنی غلبہ پانے والے۔ لکم کے کم سے حال ہے۔ فِي الْاَرْضِ (زمین میں) ارض مصر۔ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَاۗءَنَا (اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ہماری مدد کون کریگا اگر وہ ہم پر آن پڑی) مطلب یہ ہے کہ تمہیں ملک مصر میسر ہے اور لوگوں پر تم صاحب اقتدار ہو اور وہ تمہارے مطیع بنے ہیں۔ پس اپنا معاملہ مت بگاڑو۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا مت کرو۔ اگر وہ آگیا تو تم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور نہ کوئی اس سے تمہیں بچا سکتا ہے۔
اگرچہ تم صاحب اقتدار ہو مگر اللہ کے عذاب کا سامنا نہیں کرسکتے : رجل مؤمن نے ینصرنا اور جاءنا کے صیغے جمع والے استعمال کیے۔ کیونکہ اس کی قرابت داری ان میں پائی جاتی تھی۔ اور تاکہ ان کو یہ جتلائے کہ جو ان کو خیر خواہی کی باتیں کر رہا ہے وہ بھی ان کا حصہ دار اور شریک کار ہے۔ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَآ اَرٰى (فرعون نے کہا میں تو تم کو وہی رائے دوں گا جو خود سمجھ رہا ہوں) یعنی میں تم کو وہی رائے دیتا ہوں اس کو قتل کردو۔ اس سے زیادہ میرے نزدیک کوئی رائے نہیں ہے۔ اور یہ بات جو تمہیں کہی جا رہی ہے یہ درست نہیں ہے۔ وَمَآ اَهْدِيْكُمْ (اور میں تم بتلاتا ہوں) اس رائے کے ذریعہ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ (عین طریق مصلحت) ۔ یعنی صلاح و درستگی کا راستہ یا میں تمہیں وہ بتلا رہا ہوں جس کو میں درست جانتا ہوں۔ اور میں اپنی رائے چھپا کر نہیں رکھ رہا اور نہ ہی اپنے پاس محفوظ کر رہا ہوں کہ تمہیں اس کے الٹ بتاؤں۔ مطلب یہ تھا کہ میری زبان و دل دونوں اس بات میں موافق ہیں۔ حالانکہ یہ اس نے کھلا جھوٹ بولا وہ اپنے دل میں موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے شدید خوف محسوس کر رہا تھا۔ لیکن وہ بناوٹ کے طور پر بہادری ظاہر کر رہا تھا۔ اگر وہ علامت سے ظاہر نہ کرتا تو یہ معلوم نہ ہوسکتا۔ اس نے معاملہ فقط اشارہ پر نہ چھوڑا۔
Ayah 40:30وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِ (اور اس مومن نے کہا اے میرے دوستو ! مجھ کو تمہارے متعلق اور امتوں جیسے برے دن کا ندیشہ ہے) یعنی ان جیسے دن جن میں ان پر عذاب اترے۔
ربط : جب اس نے احزاب کی طرف نسبت کی تو پھر اس کی وضاحت کی۔
Ayah 40:31مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ (جیسا قوم نوح اور عاد اور ثمود اور انے بعد والوں کا حال ہوا تھا) ، اس میں یہ بات نہیں چھپائی گئی کہ ان میں سے ہر گروہ کیلئے تباہی وہ لاکت کا دن تھا، بلکہ جمع میں سے ایک پر اکتفاء کیا گیا۔ اور ان لوگوں کی عادات عمل میں انہی جیسی ہیں جیسے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی۔
نحو : اور چونکہ ان کی عادت انہی جیسی تھی، پس حذف مضاف ضروری وا۔ یعنی جثل جزاء دابہم۔ ان کی جزاء ان کے عمل کی جزاء جیسی ہوگی۔ اور مثل کا لفظ دو مرتبہ منصوب لائے۔ کیونکہ یہ مثل اول کیلئے عطف بیان ہے۔ وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ (اور اللہ تعالیٰ تو بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتے کہ بغیر گناہ کے ان کو سزا دے دیں یا اس عذاب میں اس مقدار سے اضافہ فرما دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ان کو تہس نہس کرنا عدل ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے اس کے حقدار ہیں اور یہ جملہ اس جملہ سے زیادہ بلیغ ہے جو سورة فصلت میں ہے۔ وما ربک بظلام للعید (فصلت :46) ۔ اس طرح کہ ظلم کو نکرہ لا کر ارادہ ظلم کی نفی فرمائی اور جو کسی بھی ارادہ ظلم سے دور ہوا جو بندوں کیلئے ہوسکتا ہے تو وہ ظلم سے ابعد بعید ہوگا۔
رد معتزلہ : معتزلہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق ارادہ نہیں فرماتے کہ وہ ظلم کریں مگر یہ تفسیر حقیقت سے بہت دور ہے۔ کیونکہ اہل غت کہتے ہیں۔ جب کوئی آدمی دوسرے کو کہے۔ لارید ظلما لک۔ تو اس کا معنی لا ارید ان اظلمک، کہ میں آپ پر ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا کیا جاتا ہے۔ پس ان کا معنی غلط ہوا۔
اس آیت میں عذاب دنیا سے ڈرایا گیا۔ پھر اگلی آیت میں عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 40:32کثرت نداء کا دن قیامت ہے :
وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (اور اے میری قوم مجھے تمہارے متعلق اس دن کا اندیشہ ہے جس میں کثرت سے ندائیں ہوں گی) ۔ یوم التناد سے قیامت کا دن مراد ہے۔
قراءت : التناد مکی، یعقوب نے دونوں حالوں میں پڑھا ہے۔ اور اصل میں اثبات یاء کے ساتھ آتا ہے مگر اس کا حذف کرنا زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ کسرہ یاء کی دلالت کے لیے کافی ہے اور ان آیات کے آخر میں آگے پیچھے دال آرہی ہے اور یہ وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ذکر فرمایا : ونادی اصحاب الجنۃ اصحاب النار (الاعراف :44) اور ونادی اصحاب الاعراف (اعراف :48)
ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ نداء مراد ہے جو اس طرح دی جائے گی۔ اے محشر والو سن لو، فلاں شخص ایسا خوش نصیب ہوا کہ کبھی بدبخت نہ ہوگا۔ خبردار فلاں ایسا شقی ہوا کہ اس کے بعد کبھی سعادت مند نہ ہوگا۔
Ayah 40:33يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ (جس روز پیٹھ پھیر کر لوٹو گے) موقف حساب سے آگ کی طرف لوٹ رہے ہوں گے۔ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ (تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہوگا) یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مِنْ عَاصِمٍ (کوئی بچانے والا) وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ (اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت کرنے والا نہ ہوگا) هَادٍ بمعنی سیدھے راہ پر لگانے والا۔
Ayah 40:34یوسف (علیہ السلام) سے کون مراد ہے ؟
وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ (اور تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف دلائل لے کر آچکے ہیں) وہ یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ ہے وہ یوسف بن ابراہیم بن یوسف بن یعقوب ہیں۔ یہ بیس سال ان میں نبوت پا کر زندہ رہے۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ والا فرعون وہی یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون ہے ان کے زمانہ تک وہ زندہ رہا۔
ایک قول : وہ اور فرعون ہے۔ اس میں ان کو توبیخ کی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل یوسف (علیہ السلام) آئے اور معجزات لے کر آئے۔ فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَاۗءَكُمْ بِهٖ (تم ان امور میں شک میں پڑے رہے جو وہ تمہارے پاس لے کر آئے) پس تم ان باتوں میں شک کرتے رہے اور شک کا ازالہ نہ ہوسکا۔ ۭ حَتّىٰٓ اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا (یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم لوگ کہنے لگے اب اللہ تعالیٰ ہرگز کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا) یہ بات تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل وحجت کے گھڑ لی یعنی تم اپنے کفر پر برقرار رہے اور یہ یقین کیے رکھا کہ دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حجت کی تجدید نہ ہوگی۔ ۭ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ (اسی طرح اللہ تعالیٰ آپے سے باہر ہونے والے، شبہات میں گرفتار رہنے والوں کو غلطی میں ڈالے رکھتا ہے) یعنی اس اضلال میں مبتلا رکھتا ہے جو کہ شبہات کا شکار، اپنے دین کے متعلق شک میں پڑا ہو۔
Ayah 40:35الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ (جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑا نکالتے ہیں) یہ من ھو مسرف سے بدل ہے۔ اور اس کا بدل بننا درست ہے اگرچہ وہ مفرد اور یہ جمع ہے کیونکہ ایک مسرف مراد نہیں بلکہ ہر مسرف مراد ہے۔ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ (اللہ تعالیٰ کی آیات میں) یعنی ان کے باطل قرار دینے اور دور کرنے میں بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ (بغیر کسی دلیل کے) اَتٰىهُمْ ۭ كَبُرَ مَقْتًا (جو ان کے پاس موجود ہو۔ بڑی نفرت) یعنی غصہ کے لحاظ سے بہت بڑی ہے۔ کبر کا فاعل من ھو مسرف کی ضمیر ہے۔ وہ لفظاً واحد ہے مگر معناً جمع ہے پس بدل معنی کے لحاظ سے لایا گیا۔ اور ضمیر میں لفظ کا لحاظ رکھا گیا اور واحد لائے اور الذین کا مرفوع ہونا بھی درست ہے۔ مگر اس صورت میں مضاف کا حذف ماننا پڑتا ہے۔ جس کی طرف کبر کی ضمیر لوٹتی ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ جدال الذین یجادلون کبر مقتاً ان لوگوں کا جدال جو جدال کرتے ہیں بہت زیادہ نفرت میں۔ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ (اللہ تعالیٰ کو بھی اور ایمان والوں کو بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مغرور و جابر کے دل پر مہر کردیتا ہے)
قراءت : قلب کو تنوین کے ساتھ ابوعمرو نے پڑھا ہے۔
نکتہ : قلب کی صفت یہاں تکبر و تجبر لائی گئی کیونکہ دل اس کا منبع ہے جیسا تم کہو سمعت الاذن وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے۔ فانہ اثم قلبہ (البقرہ :283) ۔ اگرچہ گناہ گار تمام جسم ہے۔
Ayah 40:36فرعون کی ملمع سازی : وَقَالَ فِرْعَوْنُ (اور فرعون نے کہا) اپنی قوم کے ساتھ ملمع سازی کرتے ہوئے یا ان کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا (اے ہامان ایک بلند عمارت بناؤ) صرح محل کے معنی میں آتا ہے۔ الصرح ایسی عمارت جو دیکھنے والے پر مخفی نہ رہے اگرچہ دور ہو جیسے کہا جاتا ہے صرح الشیء اذا ظہر۔ لَّعَلِّيْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ (شاید میں آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤں)
قراءت : لعلی یہ یاء کے فتحہ کے ساتھ حجازی، شامی، ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ پھر اس کو تفخیم شان کیلئے بدل دیا اور اس غرض سے بدلا کہ اس سے مقصود امر عظیم ہے۔