Ayah 40:37اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ (آسمانوں پر جانے کی راہیں) اسباب راستہ اور باب اور جو چیز اس تک پہنچانے کے لیے استعمال ہو ہر وہ چیز جو کسی چیزتک پہنچائے اس کو سبب کہا جاتا ہے مثلاً رسی وغیرہ۔ فَاَطَّلِعَ (پھر دیکھوں بھالوں)
قراءت : حفص نے نصب سے پڑھا ہے۔ ترجی کا جواب قرار دیا اور ترجی کو تمنی کے مشابہ مانا۔ دیگر قراء نے رفع پڑھا اور ابلغ پر عطف کیا۔ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰى (موسی کے معبود) معنی یہ ہے پس میں اس کو دیکھوں۔ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا (اور میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں) ہ ٗ کی ضمیر موسیٰ کی طرف لوٹی ہے کاذب سے اس بات میں جھوٹا کہنا مراد ہے کہ وہ کہتا ہے میرے سوا اور بھی کوئی معبود ہے۔
ۭ وَكَذٰلِكَ (اور اسی طرح) اس تزین اور رک جانے کی طرح۔ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ (فرعون کی بدکرداریاں اس کو مستحسن معلوم ہوتی تھیں اور راستہ سے رک گیا) السبیل سے سیدھا راستہ مراد ہے۔ صد فتحہ صاد سے کوفی اور یعقوب کے علاوہ نے پڑھا ہے۔ یعنی اس نے دوسروں کو روکا یا اس نے اپنے آپ کو مکمل طور پر روکا۔ المزین یہ شیطان ہے جو اپنے وساوس سے سبز باغ دکھاتا ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا وزین لہم الشیطان اعمالہم فصدہم عن السبیل (النمل :34) یا اللہ تعالیٰ نے مزین کردیا جیسا اس ارشاد میں ہے زینا لہم اعمالہم فہم یعمہون (النمل :4) ۔ۭ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِيْ تَبَابٍ (اور فرعون کی تدبیر غارت ہی گئی) ۔ تباب یہ خسارے اور ہلاکت کا معنی دیتا ہے۔
Ayah 40:38وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ (اور اس مومن نے کہا اے بھائیو ! تم میری راہ پر چلو)
قراءت : مکی و یعقوب نے دونوں حالتوں میں اتبعونی پڑھا ہے۔
اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِ (میں تم کو ٹھیک ٹھیک راستہ بتلاتا ہوں) الرشاد کا لفظ یہ الغی کا عکس ہے اس میں تعریفض کی گئی ہے جو کہ تصریح کے مشابہ ہے کہ فرعون اور قوم فرعون گمراہی کے راستہ پر چل رہا ہے۔ اولا مجمل و مختصر بیان کیا پھر وضاحت کی۔ دنیا کی مذمت اور اس کی بےحیثیتیں بیان کرتے ہوئے کہا۔
Ayah 40:39يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ (اے میرے بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی محض سامان ہے) حقیر سامان ہے اس کو ہمیشگی کی چیز سمجھ لینا یہ شر کی جڑ اور فتنوں کا منبع ہے اور آخرت کی عظمت بیان کی اور واضح کیا کہ اصلی وطن اور جائے قرار وہی ہے۔ ۡ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَرَارِ (ٹھہرنے کا مقام تو آخرت ہے)
پھر اعمال حسنہ اور سیئہ کا ذکر کرکے ہر ایک کا انجام بیان کردیا تاکہ نقصان دہ سے بچا جائے اور فائدہ مند کو مضبوطی سے تھاما جائے۔
Ayah 40:40مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ (جو شخص گناہ کرتا ہے اس کو تو برابر سرابر ہی بدلہ ملتا ہے۔ اور جو نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مؤمن ہو ایسے لوگ جنت میں جاویں گے۔ وہاں بےحساب ان کو رزق ملے گا)
قراءت : یدخلون، مکی، بصری، ابوبکر اور یزید نے پڑھا ہے۔
Ayah 40:41دونوں دعوتوں کا موازنہ :
ربط : پھر دونوں دعوتوں کا باہمی موازنہ پیش کیا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے جس کا انجام جنت ہے اور تم غیر اللہ کی طرف دعوت دیتے ہو جس کا انجام آگ ہے۔ وَيٰقَوْمِ مَالِيْٓ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ (اے میرے بھائیو ! یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں یعنی جنت کی طرف)
قراءت : مَالِی فتحہ یاء کے ساتھ حجازی اور ابوعمرہ نے پڑھا ہے۔
وَتَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَى النَّارِ (اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو۔ )
Ayah 40:42جب معبود ہونے کی دلیل نہیں تو اسے معبود ماننا درست نہیں :
تَدْعُوْنَنِيْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ (تم مجھ کو اس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کروں) یہ پہلے تدعوننی سے بدل ہے عرب کہتے ہیں، دعاہ الی کذا و دعاہ لہ۔ دونوں کا معنی ایک ہے جیسا کہا جاتا ہے۔ ھداہ الی الطریق وھداہ لہ۔ دونوں صلے الی اور لام استعمال ہوتے ہیں۔ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ (اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیز کو اس کا ساجھی بناؤں جس کی میرے پاس کوئی بھی دلیل نہیں) یعنی اس کی ربوبیت کی۔ اگرچہ یہاں نفی علم کی کی ہے مگر اس سے نفی معلوم کی گئی ہے۔ گویا اس طرح کہا اور میں اس کے ساتھ اس کو شریک بناؤں جو معبود نہیں اور جو معبود نہیں یہ کیسے صحیح یہ کیسے صحیح ہے کہ اس کو معبود کے طور پر جانا جائے ؟ یعنی جب اس کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں تو پھر اس کا معبود ماننا ہی صحیح نہیں۔
ۡ وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ (اور میں تم کو اللہ تعالیٰ زبردست خطائیں بخش دینے والے کی طرف بلاتا ہوں) ۔ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہیں۔ نداء کو دوبارہ لانا تنبیہ میں اضافہ کی خاطر ہے اور غفلت کا ازالہ مطلوب ہے اور اس سے یہ ابت بھی واضح ہوتی ہے کہ قبطی اس کی قوم تھی اور وہ آل فرعون کا فرد تھا۔
واؤ کا نکتہ : ندائے ثالث میں واؤ لائی گئی جبکہ ندائے دوم میں نہیں آئی کیونکہ ندائے ثانی ایسی کلام پر داخل ہے جو بیان مجمل اور تفسیر مبہم کے لیے ہے تیسری نداء ایسی نہیں اس لیے اس پر واؤ لائے۔
Ayah 40:43تمہاری دعوت کا بطلان ثابت شدہ ہے :
لَا جَرَمَ (یقینی بات) علمائے بصرہ کے نزدیک لا اس بات کی تردید کیلئے لایا گیا جس کی طرف اس کی قوم نے اس کو دعوت دی تھی۔ جرم، فعل ہے جو حق کے معنی ہے اور ان بمع ما کے اپنے متعلقات سمیت اس کا فاعل ہے مطلب یہ ہے حق وجب بطلان دعوتہ، تمہاری دعوت کا باطل ہونا ثابت شدہ اور یقینی ہے۔
اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْاٰخِرَةِ ( کہ تم جس کی طرف مجھے بلاتے ہو وہ نہ تو دنیا ہی میں پکارے جانے کے لائق ہے اور نہ ہی آخرت میں) مطلب یہ ہے کہ جن کی طرف مجھے تم بلاتے ہو انہوں نے کبھی اپنی ذات کی عبادت کیلئے دعوت نہیں دی اس لیے کہ معبود برحق کا حق یہ ہے کہ وہ بندوں کو اپنی اطاعت کی طرف بلائے۔ اور جن کی طرف تم دعوت دیتے ہو اور ان کی عبادت کی طرف بلاتے ہو۔ وہ خود تو اس کی طرف دعوت نہیں دیتا اور نہ وہ ربوبیت کا دعوے دار ہے (پس تمہارا اس کی عبادت کی دعوت دینا باطل ہے) ۔ نمبر 2 ۔ اس کی دعوت کو دنیا و آخرت میں قبولیت حاصل نہٰں۔ نمبر 3 ۔ جن کی طرف تم بلاتے ہو ان کے لیے تو دعوت مستجابہ نہیں اور جس دعوت میں منفعت و استجابت نہ ہو وہ دعوت ایسی ہے گویا وہ دعوت ہی نہیں۔ نمر 4 ۔ یا استجابت کو دعوت کہہ دیا۔ جیسا کہ جزائے فعل کو خود جزاء کہہ دیتے ہیں کما تدین تدان (بخاری، کتاب التفسیر)
وَاَنَّ مَرَدَّنَآ اِلَى اللّٰهِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ (اور ہم سب نے اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے اور بیشک دائرہ سے نکلنے والے) ۔ مرد کا معنی رجوع ہے المسرفین سے مشرکین مراد ہیں۔ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ (وہ سب دوزخی ہیں) ۔
Ayah 40:44فَسَتَذْكُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَكُمْ (پس آگے چل کر تم میری بات کو یاد کروگے) یعنی میری نصیحت کو یاد کروگے جب عذاب نازل ہوگا۔ ۭ وَاُفَوِّضُ (اور میں سپرد کرتا ہوں) اَمْرِيْٓ اِلَى اللّٰهِ (اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے)ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ (اللہ تعالیٰ سب بندوں کا نگران ہے) ان کے اعمال انجام سمیت دیکھ رہا ہے۔
Ayah 40:45اس کے متعلق تمام فرعونی منصوبے ناکام ہوئے :
فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا (پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کی مضر تدابیر سے محفوظ رکھا) ۔ ان کے منصوبوں کی وجہ سے پہنچنے والی تکالیف اور قسم قسم کے عذاب جو اس شخص کو دئیے جاتے جو ان کی مخالفت کرتا تھا۔
ایک قول : وہ ان سے نکل کر پہاڑ کی طرف رخ کر گیا۔ فرعون نے ایک ہزار فوجی اس کی تلاش میں روانہ کیے۔ جن میں بعض کو درندوں نے پھاڑ کھایا اور جو واپس لوٹے ان کو ناکامی مہم کی وجہ سے فرعون نے سولی پر لٹکا دیا۔ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ (اور فرعونیوں پر موذی عذاب نازل ہوا) حاق کا معنی اترنا ہے۔
Ayah 40:46فرعونیوں کو آگ سے جلایا جا رہا ہے :
اَلنَّارُ (آگ) ۔
نحو : یہ سوء العذاب سے بدل ہے۔ نمبر 2 ۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ وہ سوء عذاب کیا ہے تو جواب دیا۔ ھو النار کہ وہ آگ ہے یا یہ مبتداء ہے اور اس کی خبريُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا ہے۔ یعرضون علیہا (کے سامنے وہ لوگ لائے جاتے ہیں) عرض نار کا مطلب آگ سے جلانا ہے جیسا کہ محاورہ ہے۔ عرض الامام الاساری علی السیف۔ جبکہ وہ ان کو تلوار سے قتل کرے۔ غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا (صبح و شام) یعنی ان دو اوقات میں ان کو عذاب دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ درمیانی وقت میں خواہ ان کو اور جنس کا عذاب دیا جائے یا بالکل نہ دیا جائے۔ نمبر 2 ۔ غدوا و عشیا کی تعبیر سے دوام و ہمیشگی بھی مراد لینا درست ہے اور یہ عذاب دنیا میں ہے۔ وَيَوْمَ تَـقُوْمُ السَّاعَةُ (اور جس روز قیامت قائم ہوگی) تو جہنم کے داروغہ فرشتوں کو حکم دیا جائے گا۔ اَدْخِلُوْٓا (تم داخل کرو)
قراءت : مدنی، حمزہ، علی، حفص اور خلف نے اس کو الادخال باب افعال سے مانا ہے جبکہ دیگر قراء ادخلوا مجرد باب نصر مانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے ان کو خود کہا جائے گا تم داخ ہوجاؤ اے آل فرعون الایۃ۔ اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ (فرعونیوں کو نہایت سخت عذاب میں) یعنی عذاب جہنم۔
مسئلہ : یہ آیت عذاب قبر کی دلیل ہے۔
Ayah 40:47جہنم میں پہنچ کر رؤساء اور خدام کا جدول : وَاِذْ يَتَـحَاۗجُّوْنَ (اور جبکہ کفار ایک دوسرے سے جھگڑیں گے) ۔ اذا ذکر محذوف کے متعلق ہے۔ ان کے جھگڑے کے وقت کو یاد کرو۔
فِي النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا (دوزخ میں تو ادنیٰ درجہ کے لوگ بڑے درجہ کے لوگوں سے کہیں گے) ۔ الذین استکبروا سے روسا و لیڈر مراد ہیں۔ اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا (کہ ہم تو تمہارے تابع تھے) تبعاً جمع تابع کی جیسے خدم جمع خادم کی ہے۔ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ (کیا تم ہم سے ہٹا سکتے ہو) دفع کرسکتے ہو۔ عَنَّا نَصِيْبًا (کوئی حصہ) مِّنَ النَّارِ (آگ کا)
Ayah 40:48قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَآ (وہ بڑے لوگ کہیں گے ہم سب بھی دوزخ میں ہیں) ۔ کل کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے ای کلنا ہم میں سے ہر ایک اس میں ہے کوئی ایک دوسرے سے عذاب کو ہٹا نہیں سکتا۔ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ (اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا) ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا کہ اہل جنت کو جنت میں اور اہل نار کو نار میں داخل کردیا جائے گا۔
Ayah 40:49وَقَالَ الَّذِيْنَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ (اور جتنے لوگ دوزخ میں ہوں گے وہ جہنم کے موکل فرشتوں سے کہیں گے) خزنۃ سے مراد جہنم کے منتظم جو آگ کا عذاب دینے پر مقرر ہیں۔ جہنم کا لفظ صراحۃً لائے حالانکہ ضمیر لوٹ سکتی تھی تاکہ جہنم کا ذکر کرے مزید خوف و ڈر پیدا کیا جائے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جہنم جو گہرائی میں جلنے والی آگ ہے اس کو کہا گیا ہو جیسا کہ اہل عرب کہتے ہیں۔ بئر جھنام۔ یعنی گہرا کنواں۔ اس میں سرکش و بڑے باغی ڈالے جائیں گے۔ شاید ملائکہ موکلین عزاب وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے دعا کا جواب جلدی دے دیں اس لیے جہنمی ان کو کہیں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کرو۔ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ (ئم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ کسی دن تو عذاب ہم سے ہلکا کردے) ۔ یوما سے مراد دنیا کے دن کی مقدار۔
Ayah 40:50قَالُوْٓا (وہ کہیں گے) وہ نگران فرشتے طرویل مدت کے بعد توبیخ کے طور پر کہیں گے۔ اَوَ لَمْ تَكُ (کیا تمہارے پاس) کیا تمہارا قصہ اس طرح نہیں۔ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ (تمہارے رسول نہیں آتے رہے تھے) یہ القصہ کی تفسیر ہے۔ بِالْبَيِّنٰتِ (دلائل کے ساتھ) معجزات کے ساتھ۔ قَالُوْا (وہ کہیں گے) یعنی کفار۔ بَلٰى ۭ قَالُوْا (ہاں) نگران فرشتے بطور تحکم کہیں گے۔ فَادْعُوْا (تو پھر تم دعا کرلو) تمہاری دعا قبول نہ کی جائے گی۔ وَمَا دُعٰۗـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ (اور کافروں کی دعا محض بےاثر ہے) ۔ ضلال بمعنی باطل ہے بیکار یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ نگران فرشوں کا قول ہو۔
Ayah 40:51اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس میں کہ گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) ۔ یعنی دنیا و آخرت میں مدد کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو دارین میں غلبہ دیں گے ان کے مخالفین پر حجت و فتح کے ساتھ اور اگر کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امتحان کبھی مغلوب ہوگئے پھر بھی عافیت انہی کیلئے اور ان کے اعداء میں سے ایسے لوگ میسر فرما دیں گے خواہ کچھ وقت بعد ہو۔
نحو : یوم یہ منصوب ہے جار ومجرور کے موضع میں شمار کرنے کی وجہ سے جیسے کہتے ہیں جئتک فی امس والیوم۔ الاشہاد جمع شاہد کی ہے جیسا کہ صاحب کی جمع اصحاب۔ اس سے مراد انبیاء اور حفاظتی فرشتے ہیں انبیاء (علیہم السلام) کافروں پر ان کی تکذیب کی وجہ سے گواہی دیں گے اور حفاظتی فرشتے اعمال بنی آدم کی شہادت دیں گے۔
قراءت : تقوم، ہشام نے پڑھا جیسا رازی نے نقل کیا۔
Ayah 40:52يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ (جس دن کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی)
نحو : یہ یوم یقوم سے بدل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے لایقبل عذرہم ولا ینفع۔ ان کا عذر قبول نہ ہوگا۔
قراءت : کوفی اور نافع نے لا ینفع پڑھا ہے۔
وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ ( اور ان کے لیے لعنت ہوگی) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری۔ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ (اور ان کے لیے اس عالم میں خرابی ہوگی) ۔ سوء الدر سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔
Ayah 40:53ہدی میں تمام دینی اشیاء شامل ہیں :
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْهُدٰى (اور ہم موسیٰ کو ہدایت نامہ دے چکے ہیں) ۔ الھدی اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو دین کے سلسلہ میں ان کو دیں گئیں مثلا معجزات، تورات، احکامات، وَاَوْرَثْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْكِتٰبَ (اور ہم نے وہ کتاب بنی اسرائیل کو پہنچائی تھی) الکتاب سے تورات، انجیل اور زبور مراد ہے۔ کیونکہ الکتاب جنس ہے۔
Ayah 40:54هُدًى وَّذِكْرٰى (کہ وہ ہدایت اور نصیحت تھی) حق کی گواہی اور نصیحت کے اعتبار سے۔
نحو : یہ دونوں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں یا حال ہیں۔
لِاُولِي الْاَلْبَابِ (اہل عقل کیلئے)
Ayah 40:55تلقین صبر : فَاصْبِرْ (پس آپ صبر کیجیے) ان امور پر جو آپ کی قوم کی طرف سے آپ کو پیش آتے ہیں۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ (بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے) جو آپ کی نصرت اور اعلائے کلمہ کے بارے میں کیا گیا بالکل سچا ہے۔ وَّاسْتَـغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ (اور اپنے گناہ کی معافی مانگیے) یعنی اپنی امت کے گناہوں کی معافی مانگیے۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے شام اور صبح) یعنی اپنے رب کی عبادت پر مداومت اختیار فرمائی اور اس کی ثناء کیجیے۔ ایک قول یہ ہے اس سے عصر و فجر کی نمازیں مراد ہیں۔ ایک اور قول کہ سبحان اللہ اور الحمد للہ کہتے رہیے۔
Ayah 40:56حسد وبغض کی وجہ سے نبوت کے خود خواہاں ہیں :
اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ (جو لوگ بلا کسی سند کے جو ان کے پاس موجود ہو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑا نکالتے ہیں)
نحو قراءت : اس پر وقف نہیں کیونکہ ان کی خبر ان فی صدورہم ہے۔
اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ (ان کے دلوں میں نری بڑائی ہے) بڑائی سے مراد آگے بڑھنے، سرداری کا ارادہ اور یہ خیال کہ کوئی اس سے اوپر نہ ہو۔ اسی لیے تو وہ آپ سے دشمنی کرنے والے ہیں۔ اور آپ کے معجزات کو مسترد کرنے والے ہیں کہ کہیں آپ ان سے بڑھ نہ جائیں۔ اور ان کو آپ کی ماتحتی ماننی پڑے اور آپ کے اوامرو نہی کا پابند ہونا پڑے کیونکہ ہر بادشاہت و سرداری نبوت کے ماتحت ہوتی ہے۔ یا نمبر 2 ۔ حسد و بغض کی وجہ سے خواہاں ہیں کہ نبوت انہیں مل جائے۔ اور اس پر یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ لوکان خیرا ما سبقونا الیہ (الاحقاف :11) ۔ یا نمبر 3 ۔ مجادلہ کے ذریعہ معجزات کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ (وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں) وہ بڑائی اور اس کے مقتضی کو پہنچ نہیں سکتے اور وہ نبوت اور سربراہی کا ارادہ یا آیات و معجزات کو دفع کرنا اور روک دینا۔ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ (پس آپ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہیے) جو آپ سے حسد کرتے اور عداوت رکھتے ہیں ان کے فریب سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہیے۔ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ (بیشک وہی ہے ہر بات کو سننے والا) جو آپ کہتے اور وہ کہتے ہیں۔ الْبَصِيْرُ (اور سب کچھ دینے والا ہے) جو آپ عمل کرتے اور وہ کرتے ہیں پس وہ آپ کا ان کے خلاف مددگار اور ان کے شر سے بچانے والا ہے۔
Ayah 40:57جب آسمان و زمین کی تخلیق مسلم ہے تو انسان کو دوبارہ اٹھانا کیسے ناممکن ہے :
لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ (یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے) جب ان کا مجادلہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں انکار بعث پر مشتمل تھا اور مجادلہ کی ضر و بنیاد یہی مسئلہ انکار بعث تھا۔ تو ان کے سامنے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے حجت پیش کی گئی۔ کیونکہ ان کو ان کی تخلیق کا اقرار تھا۔ پس جو ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود ان کو پیدا کرسکتا ہے تو اتنے چھوٹے سے انسان کو بنانے پر بدرجہ اولیٰ وہ قدرت رکھتا ہے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر آدمی نہیں سمجھتے) کیونکہ وہ غور نہیں کرتے اور ان پر غفلت کا غلبہ ہوچکا ہے۔
Ayah 40:58وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ وَالَّذِيْنَ (اور آنکھوں والا اور اندھا برابر نہیں ہوتے اور) اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِيْۗءُ ۭ قَلِيْلًا (وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور بدکار باہم برابر) مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ (نہیں ہوتے۔ تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو) ۔ تتذکرون کا معنی نصیحت پکڑنا۔
قراءت : دونوں تاء کے ساتھ کوفی قراء نے پڑھا اور باقی قرارء نے یاء اور تاء سے پڑھا (تتذکرون، یتذکرون) قلیلا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تذکرا قلیلا ما یتذکرون۔ وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں حاصل کرنا تھوڑا۔ لا المسیئ کا لا زائد ہے۔ ما صلہ زائدہ ہے۔
Ayah 40:59اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا (قیامت تو ضرور ہی آ کر رہے گی اس میں کسی طرح کا شک ہے ہی نہیں) ۔ قیامت کی آمد ضروری ہے اور اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں کیونکہ جزاء تو یقینی ہے تاکہ مخلوق کی پیدائش صرف فناء کے لیے نہ ماننی پڑے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ (مگر اکثر لوگ نہیں مانتے) ۔ اس کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 40:60ادعوا کا معنی اعبدوا ہے :
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ (اور تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ مجھ کو پکارو) ادعوا بمعنی اعبدوا ہے اَسْتَجِبْ لَكُمْ (میں تمہاری درخواستوں کو قبول کروں گا) تم کو ثواب دوں گا۔ الدعاء کا لفظ عبادت کے معنی میں قرآن مجید میں بہت استعمال ہوعا ہے قرآن مجید کی یہ آیت اسی پر دلالت کرتی ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ (اور جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ادعاء ھو العبادۃ، اور پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (رواہ احمد : 4:267، ابو داود 1479، الترمذی 3247، ابن ماجہ 3828) ۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے تم مجھے وحدہ لا شریک مانو میں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔ یہ تفسیر دعا کی ہے جو عبادت کے معنی میں ہے پھر اس عبادت کی جو توحید کے ساتھ کی جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ استجب کا معنی مجھ سے سوال کرو میں تمہیں دوں گا۔ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ (وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم ہوں گے)
قراءت : مکی اور بو عمرو نے سیدخلون پڑھا ہے۔ داخرین کا معنی ذلیل ہوکر
Ayah 40:61دن رات کا تقابل :
اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا (اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے رات بنائی تمہارے لیے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اسی نے دن کو روشن بنایا)
نکتہ : نہار کی طرف مبصر کی نسبت یہ اسناد مجازی ہے ای مبصراً فیہ (تاکہ اس میں دیکھا جائے) کیونکہ آنکھیں تو فی الحقیقت اہل نہار کی ہوتی ہیں۔ اللیل کو مفعول لہ اور النہار کو حال سے ملا کر ذکر کیا۔ وہ دونوں نہ تو دو حال بنے اور نہ ان دونوں کے لیے مفعول بنے اس میں دونوں کے تقابل کی رعایت کی۔ کیونکہ دونوں معنوی اعتبار سے ایک دوسرے کے متقابل ہیں کیونکہ ہر ایک دوسرے کی جگہ پوری کرتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس طرح کہا جاتا ہے۔ لتبصروا فیہ، اسناد مجازی والی فصاحت چلی جاتی اور اگر ساکناً کہا جاتا تو حقیقت مجاز سے ممتاز نہ ہوسکتی۔ لیکن رات کی صفت حقیقی سکون ہے۔ اہل عرب کہتے ہیں لیل ساج و ساکن لا ریح۔
ایسا فضل کہ کوئی فضل اس کا مقابل نہ ہو۔ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ (بیشک اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل ہے) ۔ یہا لمفضل نہیں فرمایا اور نہ متفضل فرمایا کیونکہ مقصود فضل کا نکرہ لانا تھا۔ تاکہ فضل ایسا ہو کہ کوئی فضل اس کے مقابل نہ ہو اور یہ فائدہ اضافت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ (لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے) ۔ یہاں ولکن اکثرھم نہیں فرمایا بلکہ الناس کا لفظ دوبارہ لائے۔ تاکہ لوگوں کا تذکرہ متکرر نہ ہو۔ کیونکہ اس تکرار میں کفران نعمت کی تخصیص ان کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ حالانکہ وہ وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے منکر اور اس کے ناشکرے ہیں۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ان الانسان لکفور (الحج : 66) اور اس ارشاد میں ان الانسان لظلوم کفار (ابراہیم : 34) ، الناس معرفہ ہے اور تکرار معرفہ سے ایک ہی مراد ہوتا ہے جو پہلے میں مذکور ہوتا ہے۔ (مترجم)
Ayah 40:62ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ (یہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا رب ہے) جس نے تمہارے لیے رات دن بنائے۔ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۘ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ (وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں) یہ مبتداء کی مترادف خبریں ہیں۔ مطلب یہ ہے وہ ان صفات کا جامع ہے الوہیت ربوبیت، خلق کل شیء اور وحدانیت۔ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ (پس تم لوگ کہا الٹے چلے جا رہے ہو) انی، کیف کے معنی میں ہے۔ کس طرح اور کس وجہ سے تم اس کی عبادت سے بتوں کی عبادت کی طرف پھرتے ہو ؟
Ayah 40:63كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِيْنَ كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ (اسی طرف وہ لوگ بھی الٹا چلا کرتے تھے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے) ہر وہ جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور ان میں غور و فکر نہ کی۔ اور حق کی طلب نہ کی اور الٹے پھرے جیسے وہ الٹے پھرے۔
Ayah 40:64انسان سب حیوانات سے زیادہ خوبصورت ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا (اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا) قرار بمعنی مستقر ہے۔ وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً (اور آسمان کو چھت) تمہارے اوپر چھت۔ وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (اور تمہارا نقشہ بنایا پس عمدہ نقشہ بنایا) ۔ ایک قول اللہ تعالیٰ نے کوئی حیوان انسان سے زیادہ خوبصورت نہیں بنایا۔ ایک قول کہ ان کو بہائم کی طرح اوندھے سر والے پیدا نہیں کیا۔ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ (اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں) طیبات سے لذیذ اشیاء مراد ہیں۔ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ښ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (یہ اللہ ہے جو تمہارا رب ہے پس بڑا عالیشان ہے۔ اللہ تعالیٰ جو سارے جہان کا پروردگار ہے)
Ayah 40:65هُوَ الْـحَيُّ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ (وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ پس اس کو پکارو) ۔ اس کی عبادت کرو۔ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (خالص اعتقاد کر کے) اطاعت کو شرک و ریاء سے خالص کرنے والے ہو۔ یہ کہتے ہوئے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (تمام خوبیاں اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہاں کا پروردگار ہے) ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جس نے لا الہ الا للہ کہا پس وہ اس کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، تمام تعریف ہے اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے، کہہ لے۔
Ayah 40:66عبادت اوثان کے مطالبہ کے جواب میں یہ آیت اتری :
جب کفار نے آپ سے عبادت اوثان کا مطالبہ کیا تو یہ آیت اتری۔ قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَاۗءَنِيَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّيْ (آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو اس بات سے ممانعت کردی گئی ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی نشانیاں آچکیں) ۔ البینات سے قرآن مجید مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے عقل و وحی مراد ہے۔ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ (اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں گردن جھکا لوں) اسلم کا معنی استقامت اختیار کرنا ہے۔ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (رب العالمین کے سامنے) ۔
Ayah 40:67هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ (وہی ہے جس نے تم کو بنایا) یعنی تمہاری اصل کو۔ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّــطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا (مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر تم کو بچہ کر کے نکالتا ہے) یہاں طفلاً فرما کر ایک پر اکتفاء کیا کیونکہ مراد بیان جنس ہے۔ ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ (پر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو)
نحو : یہ محذوف سے متعلق ہے تقدیر کلام یہ ہے، ثم یبقیکم لتبلغوا۔ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُيُوْخًا (پھر تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ) تقدیر کلام اس طرح ہے ثم یبقیکم لتکوانوا شیوخا۔
قراءت : شیوخا۔ شین کے کسرہ کے ساتھ مکی، حمزہ، علی، حماد، یحیی، اعشی نے پڑھا ہے۔
وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ (اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے) یعنی جوانی تک پہنچنے سے پہلے یا بڑھاپے سے قبل۔ وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّى (اور تاکہ تم سب ایک وقت مقرر تک پہنچ جاؤ) اس کا معنی یہ ہے فعل ذلک لتبلغوا اجلا مسمی (وہ ایسا کرتا ہے تاکہ ایک مقررہ وقت پہنچ) وَّلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (اور تاکہ تم لوگ سمجھو) کہ اس میں کیا کیا عبرتیں اور دلائل ہیں۔
Ayah 40:68هُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَـقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا پورا کرنا چاہتا ہے۔ سو بس اس کی نسبت فرما دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے) وہ اس کو جلد بنا دیتا ہے بغیر کس کلفت و مشقت کے۔
Ayah 40:69اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ ۭاَنّٰى يُصْرَفُوْنَ (کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی آیت میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ کہاں پھرے چلے جا رہے ہیں) ۔ اس سورت میں جدال کا تین مقام پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ پس درست ہے کہ اس کو تین اقوام میں مان لیا جائے۔ نمبر 2 ۔ تین الگ الگ اصناف میں تسلیم کیا جائے۔ نمبر 3 ۔ ایک ہی قسم مراد ہے اور بقیہ مقامات پر تاکید کیے لیے لائے۔
Ayah 40:70الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا (جن لوگوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی جو ہم نے اپنے پیغمبر کو دے کر بھیجا تھا) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے اور ما ارسلنا بہ سے کتب سابقہ۔ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ (پس ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے)
Ayah 40:71قطعی ہونے کی بناء پر مستقبل کو ماضی سے ذکر کیا :
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ (جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے) اذ ظرف زمان ماضی کیلئے آتا ہے مگر یہاں مراد مستقبل ہے دلیل یہ قول فسوف یعلمون ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار مستقبلہ علم الٰہی میں قطعی ہیں۔ اس لیے تعبیر ماضی سے کی گئی۔ اور جو پایا گیا اس سے تعبیر کردی گئی معنی یہ ہے کہ مستقبل میں ایسا ہوگا وَالسَّلٰسِلُ (اور زنجیریں) ۔
نحو : اس کا عطف اغلال پر ہے۔ اور ان کی خبر فی اعناقہم ہے۔ معنی اس طرح ہوگا جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہوں گی۔ يُسْحَبُوْنَ (ان کو گھسیٹا جائے گا)
Ayah 40:72فِي الْحَمِيْمِ (گرم پانی میں) ای یجرون فی الماء الحار (ان کو گرم پانی میں کھینچا جائے گا) ۔ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ (پھر ان کو آگ میں جھونک دیا جائے گا) یسجرون سجر التنور سے بنا ہے۔ جبکہ اس کو ایندھن سے بھر دیں اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آگ میں ہوں گے اور وہ ان کے چاروں طرف چھائی ہوگی اور ان کو آگ سے جلایا جائے گا اس حال میں کہ ان کے پیٹ آگ سے بھرے ہوں گے۔
Ayahs 40:73–7473 ۔ 74 ثُمَّ قِيْلَ لَهُمْ (پھر ان کو کہا جائے گا) یعنی ان کو جہنم کے نگران فرشتے کہیں گے۔ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (وہ غیر اللہ کہاں گئے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے شریک بناتے تھے) وہ اصنام جن کی تم عبادت کرتے تھے۔
قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا (وہ کہیں گے وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے) ہماری آنکھوں سے غائب ہوگئے۔ نہ ہم ان کو دیکھتے ہیں اور نہ ان سے نفع اٹھاتے ہیں۔
غیر اللہ کی عبادت کو وہ بیکار قرار دیں گے : بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَـيْـــــًٔا (بلکہ ہم تو اس سے قبل کسی کو بھی نہیں پوجتے تھے) یعنی ہمارے سامنے کھل گئی کہ وہ کچھ بھی نہ تھے اور ان کی جو ہم عبادت کرتے تھے وہ کچھ بھی نہ تھی۔ یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کہتے ہیں حسبت ان فلانا شیء فاذا ھو لیس بشیء (جبکہ تم اس کو آزماؤ اور اس کے اندر کوئی بھلائی نہ پاؤ) ۔ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِيْنَ (اللہ تعالیٰ اسی طرھ کافروں کو غلطی میں پھنسائے رکھتا ہے) ۔ جیسے ان کے معبود ان سے گم ہوگئے ان کو ان کے معبودوں سے گم کردے گا۔ یہاں تک کہ اگر وہ اپنے الہ کو ڈھونڈیں یا ان کے الہ ان کو ڈھونڈیں تو ان کا باہمی آمنا سامنا نہ ہوسکے گا یا جس طرح ان مجادلین کو گمراہ کردیا۔ تمام کافروں کو اسی طرح کردے گا۔ وہ کافر جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ گمراہی کو دین پر ترجیح دیں گے،
Ayah 40:75ذٰلِكُمْ (یہ) عذاب جو تم پر نازل ہوا۔ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ (اس کے بدلہ میں ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشیاں مناتے تھے۔ اور اس کے بدلہ میں ہے کہ تم اتراتے تھے) بما کی باء سببیہ ہے اس سبب سے کہ تم ناحق خوش ہوتے اور اتراتے تھے۔ اور ناحق اترانا شرک ہی ہے۔ اور بتوں کی پوجا بھی حرام ہے۔ پس ان کو کہا جائے گا۔
Ayah 40:76اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ (تم جہنم کے دروازوں میں گھسو) ، جہنم کے ساتھ تقسیم شدہ دروازے ہیں۔ جیسے ارشاد فرمایا لہا سبعۃ ابواب لکل باب منہم جزء مقسوم (الحجر :44) ۔ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا (وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے) ان کے لیے خلود کو مقدر کردیا جائے گا۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ (پس متکبرین کا برا ٹھکانہ ہے) جو حق سے تکبر کرنے والے تھے ان کے لیے جہنم ہے۔