Ayah 40:77وہ ہمارے ہاں حاضر ہیں :
فَاصْبِرْ (پس آپ صبر کیجیے) اے محمد ﷺ ، اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ (بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ہلاکت کفار کے سلسلہ میں، حق (سا ہے) بہر صورت ہونے والا ہے۔ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ (پھر اس میں سے تھوڑا سا اگر دکھلا دیں) یہ اصل میں فان نریک ہے اور ما اس پر زائدہ ہے تاکہ معنی شرط میں تاکید ہوجائے۔ اسی لیے نون تاکید بھی فعل کے ساتھ برائے تاکیدل لگا دیا گیا۔ جیسا تم نہیں کہتے ہو۔ ان تکرمنی اکرمک۔ لیکن۔ اما تکرمنی اکرمک۔ کہتے ہیں۔ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَـوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ (جو ہم وعدہ کر رہے ہیں یا ہم وفات دیدیں پس ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہوگا) یہ جزاء نتوفینک کے متعلق ہے۔ اور نرینک کی جزاء محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ فاما نرینک بعض الذی نعدہم من العذاب۔ اور وہ عذاب یوم بدر میں ان کا قتل ہونا تھا۔ پس وہ یا اگر ہم وفات دیں یوم بدر سے قبل پس وہ ہماری طرف لوٹائے جائیں گے بروز قیامت پھر ہم ان سے خوب انتقام لے لیں گے۔
Ayah 40:78رسول تو پہلے بھی آئے مگر معجزہ ظاہر کرنا ان کے اختیار میں تھا :
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ (اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے) ان کی امتوں کی طرف۔ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (جن میں سے بعض تو وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کردئیے اور بعض وہ ہیں جن کا واقعہ ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا) ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار پیغمبر بھیجے جن میں چار ہزار بنی اسرائیل میں سے اور چار ہزار دیگر تمام انسانوں میں سے۔ قول علی ؓ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسود کو پیغمبر بنایا پس وہ ان میں سے ہے جس کا واقعہ قرآن میں بیان نہیں کیا۔ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ (اور کس رسول سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی معجزہ بغیر اذن الٰہی کے وہ ظاہر کرسکے) یہ اس بات کا جواب ہے۔ جو عناداً آئے روز آیات کا مطالبہ کرتے رہتے مطلب یہ ہے کہ ہمے بہت سے رسول بھیجے ان میں سے کسی کے بس میں نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بغیر اذن الٰہی کے پیش کرسکے۔ پھر میرے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں وہ نشانی لے آؤں جو تم مجھ سے طلب کرتے ہو۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہو اور وہ اس کے پیش کرنے کا حکم نہ کردے۔ فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ (پھر جس وقت اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا) یعنی قیامت کے دن۔ یہ کفار کو وعید ہے اور ان کے آیات کے مطالبہ کے بعد ان کی تردید ہے۔ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ (ٹھیک فیصلہ ہوجاوے گا اور اس وقت اہل باطل خسارہ میں رہ جائیں گے) المبطلون سے وہ معاندین مراد ہیں جو آیات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔
Ayah 40:79مختلف انعامات کا تذکرہ :
اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ (اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے بنائے) پیدا کردیے۔ لَكُمُ الْاَنْعَامَ (تمہارے لیے مواشی) اونٹ۔ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ (تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے بھی ہو) ۔ تقدیر کلام اس طرح ہے لترکبوا بعضہا و تاکلوا بعضہا۔ تاکہ ان میں سے بعض پر سواری کرو اور بعض کو کھاؤ۔
Ayah 40:80وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ (اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فوائد ہیں) یعنی دودھ اور اون۔
وَلِتَبْلُغُوْا عَلَيْهَا حَاجَةً فِيْ صُدُوْرِكُمْ (اور تاکہ تم ان پر اپنے مطلب تک پہنچو جو تمہارے دلوں میں ہے) ای لتبلغوا علیہا ماتحتاجون الیہ من الامور۔ تاکہ ان پر سواری کر کے تم اپنی ضروریات کو پورا کرسکو۔
وَعَلَيْهَا (اور ان چوپاؤں پر) وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ (اور کشتیوں پر تم لدے لدے پھرتے ہو) ۔ یعنی صرف چوپاؤں پر فقط سواری نہیں کرتے۔ بلکہ ان پر اور کشتیوں پر خشکی اور سمندر میں سفر کرتے ہو۔
Ayah 40:81وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ ڰ فَاَيَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ (اور تم کو اور بھی نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے پس تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے) کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔
نحو : ای یہ تنکرون کی وجہ سے منصوب ہے اور مشہور لغت میں بھی وارد ہے۔ باقی ایۃ آیات اللہ یہ قلیل الاستعمال ہے۔ کیونکہ مذکر و مونث میں فرق ۃ کے ذریعہ اسماء میں ہے صفات میں نہیں۔ باقی رہے حمار، حمارۃ وغیرہ قلیل الاستعمال ہیں اور ای میں تو ابہام کی وجہ سے یہ اور بھی غریب تر اور انوکھی بات ہے۔
Ayah 40:82اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زیادہ تھے) تعداد کے لحاظ سے وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ (اور قوت میں بڑھ کر) نائب کے اعتبار سے۔ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (پس ان کی کمائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی) ۔
نحو : ما اغنی کا ما نافیہ ہے۔
Ayah 40:83کفار نے علم الٰہی کی بجائے علم دنیا کو ہی نفع بخش خیال کیا :
فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ (غرض جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے علم پر بڑے نازاں ہوئے جو ان کو حاصل تھا) اس سے مراد امور دنیا کے متعلق ان کی معلومات اور اس کی تدابیر سے واقفیت ہے۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ یعلمون ظاہرا من الحیاۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غافلون (الروم :7) جب ان کے ہاں انبیاء علیہم الصلوت والسلام دینی علوم لائے وہ ان کے علم کے لحاظ سے بہت بعید چیز تھی کیونکہ وہ دنیا کے انکار پر آمادہ کرتے ہیں اور شہوات و لذات سے روکتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں نے ان کی طرف التفات و توجہ نہ کی اور ان علوم دینیہ کو حقیر قرار دیا اور ان کا استہزاء کیا۔ اور اعتقاد یہ رکھا کہ ان کا علم دنیا ہی سب سے زیادہ نفع بخش اور فائدہ مند ہے۔ اس لیے اس پر اترانے لگے۔ نمبر 2 ۔ یا ان کے پاس فلاسفہ اور دہریت والا علم تھا۔ پس جب وہ وحی کو سنتے تو اس کو مسترد کردیتے اور علم انبیاء کو حقیر قرار دیتے۔
سقراط کی بات : سقراط کے متعلق ہے کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق سنا ! اس کو کہا گیا اگر تم ہجرت کر کے ان کی خدمت میں جاتے تو بہت خوب ہوتا اس نے کہا ہم مہذب لوگ ہیں۔ پس ہمیں کسی ایسے راہنما کی ضرورت نہیں جو ہمیں تہذیب سکھائے۔ نمبر 2 ۔ مراد یہ ہے کہ وہ رسولوں کے پاس جو علم تھا اس پر مسخری کرتے ہوئے ہنسے اور اس کا مذاق اڑایا۔ گویا اس طرح کہا انہوں نے دلائل سے استہزاء کیا اور جو ان کے پاس علم وحی آیا اس کا مذاق اڑایا۔ اور اس پر ارشاد الٰہی دلالت کر رہا ہے۔
وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (اور ان پر وہ عذاب آپڑا جس کے ساتھ وہ تمسخر کرتے تھے) ۔
سقراط کی بات : سقراط کے متعلق ہے کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق سنا ! اس کو کہا گیا اگر تم ہجرت کر کے ان کی خدمت میں جاتے تو بہت خوب ہوتا اس نے کہا ہم مہذب لوگ ہیں۔ پس ہمیں کسی ایسے راہنما کی ضرورت نہیں جو ہمیں تہذیب سکھائے۔ نمبر 2 ۔ مراد یہ ہے کہ وہ رسولوں کے پاس جو علم تھا اس پر مسخری کرتے ہوئے ہنسے اور اس کا مذاق اڑایا۔ گویا اس طرح کہا انہوں نے دلائل سے استہزاء کیا اور جو ان کے پاس علم وحی آیا اس کا مذاق اڑایا۔ اور اس پر ارشاد الٰہی دلالت کر رہا ہے۔ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (اور ان پر وہ عذاب آپڑا جس کے ساتھ وہ تمسخر کرتے تھے) ۔ یا نمبر 3 ۔ رسولوں کا خوش ہونا مراد ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) نے جب ان کی جہالت اور حق کے متعلق استہزاء کو دیکھا اور ان کی بد انجامی سامنے آئی اور جو عذاب ان کو جہالت پر پہنچنے والا تھا اس کو جانا تو اس علم پر جو ان کو دیا گیا تھا۔ اس پر خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکریہ ادا کیا اور کفار کو ان کی جہالت و استہزاء کی سزا نے آگھیرا۔
Ayah 40:84فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا (پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا) باسنا سے شدت عذاب مراد ہے۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ (تو کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ جو واحد ہے اس پر ایمان لائے اور ان سب چیزوں سے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے)
Ayah 40:85عذاب دیکھ کر ایمان لائے مگر وہ بیکار ثابت ہوا :
فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا (پس ان کو ایمان لانا فائدہ مند نہ ہوا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا) یعنی اس وقت ایمان لانا درست اور ٹھیک نہیں تھا۔ سُنَّتَ اللّٰهِ (اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے) یہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی طرح ہے اور اس طرح کے مصادر مؤکدہ یہ فائدہ دیتے ہیں۔ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ (جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آتا ہے) نزول عذاب کے وقت کا ایمان غیر مفید ہے اور مکذبین رسل پر عذاب آ کر رہتا ہے۔ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ (اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے) ۔ هُنَالِكَ یہ ظرف مکان کے لیے آتا ہے۔ مگر یہاں زمان کے لیے استعارۃ استعمال ہوا ہے اور کافر تو ہر گھڑی خسارہ پانے والے ہیں لیکن جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ان کا خسارہ خود ان کے سامنے واضح ہوجائے گا۔
فوائد : ان آیات میں پے در پے فاء لائے گئے ہیں۔ نمبر 1 ۔ فما اگنی عنہم کی فا کانوا اکثر منہم کے لیے بطور نتیجہ لائی گئی ہے۔ نمبر 2 ۔ اور فلما جاءتہم کی فا یہ فما اغنی عنہم کے لیے بطور تفسیر وبیان کے ہے جیسے کہتے ہیں رزق زید المال فمنع المعروف فلم یحسن الی الفقراء زید کو مال کیا ملا وہ بھلائی سے رک گیا پس وہ فقراء پر احسان و سخاوت نہیں کرتا۔ اور فلما راو باسنا، یہ فلما جاءتہم کے تابع ہے گویا اس طرح کہا، فکفروا فلما راو باسنا امنوا۔ پس انہوں نے انکار کیا پھر جب ہمارے عذاب کو دیکھا تو ایمان لائے اور اسی طرح فلم یک ینفعہم، یہ ان کے ایمان کے تابع ہے جب کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھ لیا۔ واللہ اعلم۔