Ayah 39:11: تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے) ۔
تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔
نحو : مبتدأ تنزیل الکتاب اور خبر من اللہ ہے۔
مِنَ اللّٰہِ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتری ہے یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے اور جار و مجرور تنزیل کا صلہ ہے۔ نمبر 3۔ غیر صلہ ہے بلکہ دوسری خبر ہے۔ یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے جس کی تقدیر کلام یہ ہے ھذا تنزیل الکتاب ھذا من اللّٰہ یہ کتاب کا اترنا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ الْعَزِیْزِ (وہ زبردست ہے) اپنی سلطنت میں الْحَکِیْمِ (حکمت والا ہے) اپنی تدبیر میں۔
Ayah 39:22: اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ (ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے) یہ تکرار نہیں کیونکہ پہلا تو کتاب کیلئے بطور عنوان ہے اور دوسرا اس بات کو ظاہر کرنے کیلئے کہ کتاب میں کیا ہے۔ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (پس آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں) ۔
نحو : مخلصًا یہ حال ہے۔ اور الدین یہ مخلصًا کی وجہ سے منصوب ہے۔ اندرونی صفائی کے ساتھ دین کو شرک و ریاکاری سے خالص کرنے والے بنو۔
قراءت : الدینُ کو رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے کا حق یہ ہے کہ مخلصًا پڑھیں۔
Ayah 39:33: اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ (سنو ! عبادت جو خالص ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لائق ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کا طاعت کے ساتھ خاص کرنا ضروری ہے جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام غیبو بات و اسرار پر کامل اطلاع ہے۔
قولِ قتادہ (رح) :
الدین الخالص سے لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کی شہادت مراد ہے۔ قول حسن (رح) : اسلام مراد ہے۔
جھگڑے والوں میں فیصلہ :
وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں) اولیاء کا معنی یہاں معبود ہے یہ مبتدأ اس کی خبر محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے والذین عبدوا الاصنام یقولون۔ بتوں کے پجاری کہتے ہیں۔ مَا نَعْبُدُ ھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی (ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں) زُلْفی مصدر ہے جس کا معنی تقرب ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ (بیشک اللہ تعالیٰ ان کے مابین فیصلہ کریں گے) یعنی مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فِیْ مَاھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے) ایک قول یہ ہے جب مسلمان انہیں کہتے کہ آسمان و زمین کو کس نے بنایا ؟ وہ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے۔ جب مسلمان ان کو کہتے تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگے مانعبد ھم الا لیقربونا الی اللّٰہ زلفٰی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان جھگڑا کرنے والے فریقوں میں فیصلہ فرمائیں گے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو راہ پر نہیں لاتے جو جھوٹا کافر ہو) یعنی اس کی راہنمائی نہیں فرماتے جس کے متعلق اس کے علم میں ہو کہ وہ کفر ہی کو اختیار کرے گا۔ راہنمائی کا مطلب ہدایت کی توفیق عنایت کرنا اور کفر اختیار کرلینے پر اس کی اعانت نہیں فرماتے بلکہ اس کو رسوا کرتے ہیں۔ کذبؔ سے مراد ان کا قول کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اسی لئے ان کے خلاف اس انداز سے حجت پیش فرمائی۔
Ayah 39:44: لَوْ اَرَادَاللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَوَلَدًا لَّاصْطَفٰی (اگر اللہ تعالیٰ اپنے لئے اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو ضرور اپنی مخلوق میں) مِمَّا یَخْلُقُ مَایَشَآ ئُ (سے جس کو چاہتا منتخب فرماتا) یعنی اگر تمہارے خیال کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کیلئے بیٹا بنانا جائز ہوتا تو پھر وہ اپنی مرضی سے جس مخلوق کو چاہتا منتخب کرتا تمہارے انتخاب و مشورہ کی ضرورت نہ تھی۔ سُبْحٰنَہٗ (وہ پاک ہے) اس نے اپنی ذات کو اس سے منزہ اور پاک قرار دیا کہ اولیاء واولاد میں سے کوئی بھی اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔ اس پر آیت کا اگلا حصہ دلالت کر رہا ہے۔ ھُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ (وہ اللہ اکیلا زبردست ہے) یعنی وہ اکیلا ہے اور گنتی کے ملانے سے پاک اور اولاد وجزئیت سے بلند وبالا ہے ہر چیز پر زبردست و غالب ہے اور ان کے معبود تو چیزوں میں سے ہیں پھر وہ کس طرح اس کے شریک وسہیم ہوسکتے ہیں۔
Ayah 39:5آسمان و زمین کی تخلیق اور سورج کی تسخیر ایک وحدہ لا شریک کا قبضہ ظاہر کرتی ہے :
5: پھر آسمان و زمین کی تخلیق اور دن رات کی تکویر اور سورج و چاند کی تسخیر اور ان کا ایک وقت مقررہ کیلئے چلنا اور ایک نفس آدم سے تمام زمین میں انسانوں کو بسا دینا اور ان کے لئے چوپائوں کو پیدا کرنا اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ سب کام ایک وحدہ لاشریک کے قبضہ میں ہیں۔ جو سب پر غالب و زبردست ہے چناچہ فرمایا خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّھَارِ وَیُکَوِّرُ النَّھَارَ عَلَی الَّیْلِ (اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا فرمایا وہ رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے) التکویرؔ موڑنا، لپیٹنا۔ کہا جاتا ہے کار العمامۃ علی رأسہ وکوّرھا اس نے پگڑی کو سر پر لپیٹا معنی یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو غائب کردیتا ہے جبکہ وہ اس پر طاری ہوتا ہے۔ اس کے غائب کرنے کو ایسی شئی سے تشبیہ دی جو ظاہر ہو اور اس پر کوئی ایسی چیز لپیٹ دیں جو اس کو آنکھوں سے غائب کر دے۔ یا ایک ان میں سے دوسرے پر پے در پے حملہ آور ہوتا ہے پس اس کو پگڑی کے پے در پے بلوں سے تشبیہ دی گئی۔
وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی (اور سورج اور چاند کو اس نے کام میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک ان میں سے ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا) یعنی قیامت کے دن تک اَلاَ ھُوَ الْعَزِیْزُ (یاد رکھو کہ وہ زبردست ہے) وہ غالب اور قادر ہے ان لوگوں کو سزا دے سکتا ہے جو سورج و چاند کی تسخیر کو معتبر نہیں مانتے اور ان کی تسخیر پر ان کا ایمان نہیں۔ الْغَفَّارُ (وہ بخشنے والا ہے) جو سوچ و بچار کرے اور عبرت حاصل کر کے ان کے مدبّر پر ایمان لائے۔
Ayah 39:66: خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (اس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا) یعنی آدم (علیہ السلام) سے ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا (پھر اسی سے اسکا جوڑا بنایا) یعنی حواء کو اس کی سب سے چھوٹی پسلی سے۔ ایک قول یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو ان کی پشت سے چیونٹیوں کی مثل نکالا۔ پھر اس کے بعد حواء کو پیدا کیا وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنْ الْاَنْعَامِ (اور تمہارے لیے اس نے اتارے چوپایوں میں سے) یعنی بنا دیئے۔ یہ حسن بصری (رح) کا قول ہے یا ان کو آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی جنت میں بنایا پھر ان کو اتارا کیونکہ چوپائے نباتات سے زندہ رہ سکتے ہیں اور نباتات پانی ہی سے باقی رہ سکتی ہیں اور پانی کو آسمان سے اتارا تو گویا ان کو بھی اتارا ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ (آٹھ جوڑے) یعنی مذکر و مؤنث چار قسموں میں سے اونٹ ‘ گائے، بھیڑ، بکری، جیسا کہ سورة انعام کے اندر اس کو بیان کیا گیا ہے۔ الزوج کا لفظ اس واحد پر بولا جاتا ہے جس کے ساتھ اور بھی ہو۔ جب وہ منفرد ہوجائے تو وہ فرد اور وتر کہلاتا ہے۔
تخلیق انسانی کے مراحل :
یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْم بَعْدٍخَلْقٍ (وہ تم کو مائوں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا ہے) نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ پھر تکمیل تخلیق فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ (تین تاریکیوں میں) پیٹ کی تاریکی، پھر رحم اور جھلی کی تاریکی یا پشت کی تاریکی اور پیٹ اور رحم کی تاریکی ذٰلِکُمُ (جس کے یہ کام ہیں وہی) اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ (اللہ تمہارا رب ہے اسی کی بادشاہی اسی کی سلطنت ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں پھر تم کہاں پھرے جارہے ہو) یعنی پھر کس طرح تم کو اس کی عبادت سے غیر کی عبادت کی طرف پھیرا جاتا ہے پھر اس نے بیان فرمایا کہ وہ سب سے بےنیاز ہے فرمایا۔
Ayah 39:77: اِنْ تَکْفُرُوْافَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ (اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں) یعنی تمہارے ایمان کا۔ تم اس کے محتاج ہو کیونکہ کفر میں تمہارا نقصان اور ایمان میں تمہارا فائدہ ہے۔
وہ بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا :
وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ (وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا) کیونکہ کفر پر اللہ راضی نہیں اگرچہ کفر اور ایمان سب اس کے ارادہ سے ہے۔ وَاِنْ تَشْکُرُوْا (اور اگر تم شکر کرو گے) پس ایمان لے آئو گے یَرْضَہُ لَکُمْ (تو اس کو وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے) یعنی تمہارے لیے شکر کو پسند کرتا ہے۔ کیونکہ وہ تمہاری کامیابی کا سبب ہے پس وہ اس پر تمہیں جنت بطور ثواب دے گا۔
قراءت : مکی اور علی نے یرضہ ہاء کے ضمہ اور اشباہ کے ساتھ پڑھا ہے اور نافع ‘ ہشام اور عاصم تمام نے سوائے یحییٰ اور حماد کے ہا کے ضمہ اور بغیر اشباہ کے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے ہاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْ رَ اُخْرٰی (اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) یعنی کسی کو دوسرے کے گناہ کے بدلے نہ پکڑا جائے گا۔ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ (پھر اپنے پروردگار کے پاس تم کو لوٹ کرجانا ہوگا) ربکم سے پہلے جزاء کا لفظ محذوف ہے یعنی اپنے رب کی جزاء کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پس وہ تم کو تمہارے سب اعمال جتلا دے گا) پس تمہارے اعمال کی تمہیں خبر دے گا۔ اور اس پر تمہیں بدلہ دے گا۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بلاشبہ وہ دلوں تک کی باتوں کو جانتا ہے) یعنی دلوں کی مخفی باتوں کو۔
Ayah 39:8کافر کا طرز عمل :
8: وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ (اور آدمی کو جب پہنچتی ہے) انسان سے یہاں ہر کافر یا ابو جہل مراد ہے۔ ضُرٌّ (آزمائش و تکلیف) اور مس کا لفظ اعراض کے لیے بطور مجاز بولا گیا۔ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ (تو اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کر کے پکارنے لگتا ہے) دعا سے اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے اس کے غیر سے دعا نہیں کرتا۔ ثُمَّ اِذَا خَوَّ لَہٗ (پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو عطاء فرماتا ہے) ۔ نِعْمَۃً مِّنْہُ (اپنی طرف سے نعمت) ہ کی ضمیر اللہ عزوجل کی طرف لوٹتی ہے۔ نَسِیَ مَاکَانَ یَدْعُوْآ اِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ (تو جس کے لیے پہلے سے پکار رہا ہے اس کو بھول جاتا ہے) یعنی اپنے اس رب کو بھول جاتا ہے جس کے سامنے وہ گڑگڑا رہا تھا۔
نحو : یہاں مَامَنْ کے معنی میں ہے جیسے اس آیت میں وما خلق الذکر والانثٰی ] سورة الیل : 3[ یا اس نقصان کو بھول جاتا ہے جس کے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو پکار رہا تھا وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا (اور اللہ تعالیٰ کے شریک بنانے لگتا ہے) انداد کا معنی امثال ہے۔ لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ (جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ سے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے) سبیل سے یہاں اسلام مراد ہے۔ قراءت، مکی ‘ ابو عمرو ‘ یعقوب نے لِیَضِلّ یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
قُلْ تَمَتَّعْ (کہہ دے اے محمد ﷺ تم بہار لوٹ لو) تمتع میں امر تہدید کے لیے آیا ہے۔ بِکُفْرِکَ قَلِیْلًا (اپنے کفر کے تھوڑے دنوں) یعنی دنیا میں اِنَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ (تو دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے) یعنی اصحب النار بمعنی اہل النار ہے۔
Ayah 39:9مومن کو خوف اور امید کے درمیان رہنا ضروری ہے :
9: اَمَّنْ (آیا وہ شخص ) ۔
قراءت : مکی، نافع اور حمزہ نے تخفیف کے ساتھ پڑھا اور ہمزہ استفہام کو مَنْ پر داخل تسلیم کیا دیگر قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا اور اَمْ کو مَنْ پر داخل کیا۔
نحو : من مبتدأ ہے اور اس کی خبرمحذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے :
اَمن ھُوَ قَانِتٌ کغیرہ یعنی امن ھو مطیع کمن ھو عاصٍ (وہ عبادت کرنے والا ہے) القُنٰت کا معنی اللہ تعالیٰ کا مطیع۔ دلالت کلام کی وجہ سے اس کو حذف کردیا ( کمن ھوعاصٍ ) کیونکہ کافر کا تذکرہ پہلے گزرا اور اس کے بعد بھی یہ ارشاد موجود ہے۔ قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون۔ اٰنَآ ئَ الَّیْلِ (رات کے اوقات میں) سَاجِدًا وَّ قَآپمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ (اس حال میں کہ وہ سجدے اور قیام میں ہوتا ہے آخرت سے ڈرتا ہے)
نحو : ساجد اور قائم دونوں قٰنتٌ کی ضمیر سے حال ہیں۔ یحذرالاخرۃ سے مرادیحذر عذاب الاٰخرۃ ہے۔ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ (اور وہ اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے) رحمت سے یہاں جنت مراد ہے۔
آیت یہ دلالت کر رہی ہے کہ مومن کا خوف اور امید کے درمیان رہنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ رب کی رحمت کا امیدوار ہو نہ کہ اپنے عمل کا اور اپنے عمل کی کوتاہی پر اس کے عذاب سے خوف زدہ ہو پھر رجاء جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو امن بنتی ہے اور خوف جب حد سے تجاوز کرجاتا ہے تو ناامیدی آجاتی ہے اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا فلا یامن مکراللّٰہ الا القوم الخٰسرون ] الاعراف : 99[ اور دوسرے مقام پر فرمایا کہ انہ لا یایئسُ من روح اللّٰہ الا القوم الکٰفرون ] یوسف : 87[ پس ضروری ہے کہ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔
قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ 1 (آپ کہہ دیجئے کیا علم والے اور جہالت والے برابر ہوتے ہیں) یعنی جو جانتے اور عمل کرتے ہیں گویا یہاں عمل نہ کرنے والے کو غیر عالم قرار دیا۔ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی تذلیل ہے۔ جو علوم کو جمع کرتے ہیں پھر اس میں عاجزی اختیار نہیں کرتے اور اس میں طرح طرح کے فنون حاصل کرتے ہیں۔ پھر دنیا پر فریفتہ ہیں وہ اللہ کے ہاں جاہل ہیں اس لیے کہ اس آیت میں قانتین کو علماء قرار دیا گیا ہے۔ یا مراد اس سے تشبیہ دینا ہے کہ جس طرح عالم و جاہل برابر نہیں اسی طرح مطیع اور نافرمان برابر نہیں۔ اِنَّمَا یَتذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ (بےشک وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو اہل عقل ہیں) الالباب جمع لب کی ہے یعنی عقل والے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نصیحت سے عقل والے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 39:1010: قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! تم اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو) اس کے اوامر کو بجا لائو اور نواہی سے گریز کرو۔
قراءت : اکثر قراء کے ہاں یٰعبادِ بغیر یاء پڑھا گیا ہے۔
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّّنْیَا حَسَنَۃٌ (ان لوگوں کیلئے جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک صلہ ہے) یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ : فی احسنواؔ کے متعلق ہے حسنۃ کے ساتھ متعلق نہیں یعنی آیت یہ ہے کہ جو اس دنیا میں اچھائی کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں بھلائی ہے آخرت کی بھلائی کا مطلب جنت ہے یعنی ان کو ایسی نیکی ملے گی جس کا بیان نہیں ہوسکتا۔
سری کا قول :
یہ حسنۃ سے متعلق ہے پھر حسنۃ کی تفسیر اس نے صحت و عافیت سے کی ہے۔
نیکی میں کوتاہی والے کے ہاں کوئی عذر نہیں :
وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ (اور اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے) جو لوگ نیکی میں کوتاہی کرنے والے ہیں ان کے ہاں کوئی عذر نہیں یہاں تک کہ اگر وہ یہ سبب بتائیں کہ وہ اپنے وطن میں نیکی کی زیادہ قدرت نہیں پاتے ہیں۔ تو انہیں بتلا دیا گیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اور ملک بیشمار ہیں۔ دوسرے ملکوں میں چلے جائو۔ اور انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کی سیرتوں کی اتباع کرو کہ انہوں نے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کی تاکہ نیکی میں اضافہ ہو اور اطاعت دراطاعت ان کو میسر آئے۔
اِنَّمَا یُوَ فَّی الصّٰبِرُوْنَ (مستقل رہنے والوں کو پورا ملے گا) جنہوں نے ترک وطن، انقطاع خاندان اور دیگر گھبرا دینے والی پریشانیاں برداشت کرلیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مصائب برداشت کئے اور نیکی کی ترویج کیلئے دکھ اٹھائے۔ ان کو ملے گا۔ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (ان کا اجر بےشمار) قول ابن عباس ؓ : حساب کرنے والے کا حساب اس کی طرف راہ نہیں پاسکتا اور نہ اس کو جانا جاسکتا ہے۔
نحو : یہ اجر سے حال ہے۔ اس حال میں کہ وہ پورا دیا ہوا ہے۔
Ayah 39:111 1: قُلْ اِنِّیْ ٓ اُمْرِتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ (کہہ دیجئے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں) ای بان اعبد اللہ باء محذوف ہے۔ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (کہ عبادت کو اسی کے لیے خالص رکھوں) مجھے دین کے اخلاص کا حکم ہوا ہے۔
Ayah 39:12اخلاص دین میں سبقت کا سبب ہے :
12: وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ (اور مجھے یہ حکم ہوا کہ سب مسلمانوں میں اول میں ہوں) ۔ مجھے یہ اس لئے حکم ہوا کہ میں مسلمانوں میں سب سے پہلا فرمانبردار بنوں یعنی ان میں دین کے لحاظ سے سب سے آگے اور دنیا و آخرت میں سب سے بڑھنے والا۔ معنی یہ ہے کہ اخلاص دین میں سبقت کا سبب ہے جو جتنا زیادہ اخلاص برتنے والا ہے وہ سابق ہے۔ پس پہلی بات یہ ہے کہ عبادت بمعہ اخلاص کا حکم ہوا۔ دوسری بات سبقت کا حکم دیا۔ جب دونوں ایک ہیں تو عطف کیسے درست۔ ان کی جہت کے اختلاف نے ان کو الگ الگ کردیا جس سے ان کا عطف ایک دوسرے پر جائز ہے۔
Ayah 39:1313: قُلْ اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں) یہ بات آپ اس کو فرما دیں جو آباء و اجداد کے دین کی طرف لوٹنے کی آپ کو دعوت دے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفارقریش نے رسول (علیہ السلام) کو کہا کہ تم اپنے والد اور دادا اور اپنی قوم کے سرداروں کو نہیں دیکھتے کہ وہ لات وغیرہ کی پوجا کرتے تھے پس یہ آیت ان کی تردید میں اتاری گئی۔
Ayah 39:1414: قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ (آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو اسی ہی کیلئے خالص رکھتا ہوں) یہ آیت خبر دے رہی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کو عبادت کے ساتھ خاص کرنے والے تھے۔ دوسروں کو چھوڑکر۔ بہتر قول یہ ہے کہ اس میں اس بات کی اطلاع ہے کہ آپ کو عبادت و اخلاص کا حکم دیا گیا۔ پس کلام اولاً تو نفس فعل اور اس کے اثبات کو ظاہر کر رہا ہے۔ اور ثانیاً کلام اس کے متعلق ہے جن کی وجہ سے یہ فعل کیا جائے۔ اسی لیے اس پر اگلی آیت کو مرتب فرمایا گیا۔
Ayah 39:1515: فَاعْبُدُوْا مَاشِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ (پس اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمہارا دل جس چیز کو چاہے اس کی تم عبادت کرو) فاعبدواؔ کا یہ امر تہدید کیلئے ہے۔
درجات کی بجائے درکات والے اصل خسارہ میں :
فائدہ : آپ کو کہا گیا اگر تم اپنے آباء کے دین کی مخالفت کر وگے تو نقصان اٹھائو گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ (کہہ دیجئے پورے خسارہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں) مکمل خسارے اور اس کے تمام اسباب ووجوہ کو اپنے اندر جمع کرنے والے۔ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ (جو اپنی جانوں سے) ان کو آگ میں ہلاک کرنے کے سبب وَاَھْلِیْھِمْ (اور اپنے متعلقین سے خسارہ میں پڑے) یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (قیامت کے دن) کیونکہ انہوں نے ان کو گمراہ کیا پس وہ بھی آگ میں پہنچ گے۔ اور ان کے نقصان کو اگلے حصہ آیت میں شدیدترین خسارہ قرار دیا گیا فرمایا اَلاَ ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ (سنو ! کہ صریح خسارہ یہ ہے)
تاکیدات :
نمبر 1۔ جملہ کی ابتداء حرف تنبیہ سے فرمائی۔ نمبر 2۔ مبتدأ اور خبر کے درمیان فاصلہ لایا گیا۔ نمبر 3۔ الخسران کو معرفہ لائے۔ نمبر 4۔ معرفہ کی المبین صفت لائے۔ نمبر 5۔ جملہ اسمیہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جنت کے بدلے آگ لے لی ہے۔ اور اپنے درجات کو درکات سے بدل ڈالا ہے۔
Ayah 39:16پہلے آگ سے پھر اپنی ذات سے ڈرایا :
16: لَھُمْ مِّنْ فَوْقِھِمْ ظُلَلٌ (ان کے لئے ان کے اوپر سے محیط شعلے ہونگے) ظلل : آگ کے طبقات کو فرمایا۔ مِّنَ النَّارِ (آگ کے) وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ( اور آگ کے محیط شعلے ان کے نیچے سے بھی ہونگے) ظلل یہاں بھی اطباق کے معنی میں ہے اور یہ دوسروں کیلئے ظلل ہونگے حاصل یہ ہے کہ آگ ان کو ہر طرف سے محیط ہوگی۔ ذٰلِکَ (یہ وہی ہے) جو عذاب بیان کیا گیا یا وہ اطباق یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ (جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے) تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی منہیات سے پرہیز کریں۔ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ (اے میرے بندو ! مجھ سے ڈرو) اور اپنے آپ کو ان مقامات پر مت لے جائو۔ جو میری ناراضگی کو لازم کرنے والے ہیں۔ اوّلاً اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگ سے ڈرایا پھر اپنی ذات سے ڈرایا۔
Ayah 39:17شیطان سے بچنے والے خوشخبری کے حقدار ہیں :
17: وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ (اور وہ لوگ جو شیطان کی عبادت سے بچتے ہیں) الطاغوتؔ سے شیاطین مراد ہیں۔ یہ الطغیان سے فعلوت کا وزن ہے۔ جو مبالغہ کیلئے ملکوت اور رحموت کی طرح استعمال ہوا۔ البتہ اس میں لام کو غین سے بدل کر قلب کیا ہے۔ اس کا اطلاق شیطان پر ہوتا ہے۔ یا شیاطین پر کیونکہ الطاغوت مصدر ہے۔ اور اس میں کئی مبالغات ہیں۔ نمبر 1۔ مصدر سے نام رکھ دیا گیا گویا شیطان بعینہٖ سرکشی ہے نمبر 2۔ یہ وزن مبالغہ کا ہے الرحموت رحمت واسعہ کو کہتے ہیں اور الملکوت وسیع ملک کو۔ نمبر 3۔ قلب بھی اختصاص کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ یہ شیطان کے علاوہ کسی پر بھی بولا نہیں جاتا۔ یہاں جمع مراد ہے۔ اور ایک قراءت میں الطواغیت بھی آیا ہے۔ اَنْ یَّعْبُدُ وْھَایہ طاغوت سے بدل الاشتمال ہے۔ ای عبادتھا اس کی عبادت سے۔ وَاَنَابُوْٓا (اور وہ متوجہ ہوتے ہیں) اِلَی اللّٰہِ لَھُمُ الْبُشْرٰی (اللہ تعالیٰ کی طرف وہ خوشخبری سنانے کے مستحق ہیں) البشریؔ سے بشارتِ ثواب مراد ہے۔ فرشتے حضور موت کے وقت ان کو خوشخبریاں دیتے ہیں اور جب حشر میں اٹھائے جائیں گے تو خوشخبری سنائیں گے۔ فَبَشِّرْ عِبَادِ (پس آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنادیں)
Ayah 39:18اعمالِ دین کو نقد و تبصرہ کی نگاہ سے دیکھ کر احسن کو لینے والے ہیں :
18: الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ (جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں اور پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں) یہ وہی لوگ ہیں جو پرہیز گار اور منیب ہیں مقصود یہ ہے کہ پرہیزگاری اور انابت کے ساتھ ساتھ وہ اس صفت سے بھی متصف ہوں۔ یہاں ظاہر کو ضمیر کی جگہ لایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ دین کے اعمال کو نقد و تبصرہ کی نگاہ سے دیکھنے والے اور اس میں سے حسن واحسن اور فاضل و افضل کا فرق کرنے والے ہوں۔ جب ان کے سامنے دو معاملے پیش آئیں۔ ان میں سے ایک واجب اور دوسرا مستحب ہو تو وہ واجب کو اختیار کرنے والے ہوں۔ اسی طرح مباح وندب میں تقابل کے وقت ندب کو اختیار کرنے والے ہیں۔ گویا اس بات کی ان کو حرص لگی ہو کہ بارگاہ الٰہی میں کونسا امر قریب تر ہے۔ اور کس کا ثواب بڑھا ہوا ہے۔ نمبر 2۔ وہ قرآن اور غیر قرآن کو سنکر پھر قرآن کی اتباع کرتے ہیں۔ یا اللہ تعالیٰ کے اوامر کو سن کر پھر ان میں سے احسن کی پیروی کرنے والے ہوں مثلاً قصاص اور عفو میں سے عفو اختیار کرنے والے ہیں۔ نمبر 4۔ لوگوں کے ساتھ باتیں سنتے ہیں جن میں اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔ وہ اچھی باتوں کو آگے لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور ان کے علاوہ سے بچتے ہیں۔
اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ ھَدٰھُمُ اللّٰہُ وَاُولٰٓپکَ ھُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ (یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور یہی ہیں جو اہل عقل وخرد ہیں) یعنی اپنی عقول سے نفع اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 39:1919: اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ (بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی۔ تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں) اصل کلام اس طرح ہے امن حق علیہ کلمۃ العذاب فانت تنقذہ حق بمعنی وجب ہے۔
نحو : یہ جملہ شرطیہ ہے جس پر ہمزہ استفہام انکاری داخل ہوا اور فاءؔ جزائیہ ہے۔ پھر اس پر وہ فاءؔ داخل ہوئی جو اس کی ابتداء میں محذوف پر عطف کیلئے لائی گئی۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ ئَ اَنَتَ مالک امرھم ؟ فمن حق علیہ العذاب فانت تنقذہ ؟ ہمزہ ثانیہ وہی پہلاہی ہمزہ ہے جو انکار کے معنی کی تاکید کیلئے دوبارہ لایا گیا۔ اور من فی النارؔ کو مضمر کی جگہ لائے ای تنقذہٗ حاصل یہ ہوا کہ اس کے مطابق آیت ایک ہی جملہ ہے۔ نمبر 2۔ اسکا معنی یہ ہوا افمن حق علیہ کلمۃ العذاب ینجو منہ فانت تنقذہٗ ؟ مطلب یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا اس کو آگ سے بچانے کی کوئی قدرت نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات سبقت کرچکی کہ وہ اہل نار میں سے ہے۔
Ayah 39:20حقیقت میں بالا خانے ملیں گے :
20: لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِھَا غُرَفٌ (لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے ہونگے) جنات کے مکانات بلند ہونگے۔ اور ان کے اوپرمکانات ہونگے جو ان سے بھی بلند تر ہونگے یعنی کفار کیلئے اگر آگ کے طبقات ہونگے تومتقین کے لئے بالا خانے ہونگے۔ مَّبْنِیَّۃٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ (جو بنے بنائے تیار ہیں ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں) یعنی ان منازل کے نیچے وَعْدَ اللّٰہِ لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ (یہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ وعدہ میں خلاف نہیں کرتا)
نحو : وَعْدَ یہ مصدر مؤکد ہے کیونکہ ھم غرف کا معنی وعدھم اللّٰہ غرفًا ہے۔
Ayah 39:21پانی اتارنے ‘ کھیتی نکالنے میں عقل والوں کے لئے عبرت :
21: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً ( کیا تم نے اسپرنظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا ہے) الماء سے مراد بارش ہے۔
ایک قول :
تمام زمین کے پانی بھی آسمان سے ہیں پہلے صخرہ پر اترتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو تقسیم کردیتے ہیں۔ فَسَلَکَہٗ (پس اس کو داخل کردیا) یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ (زمین کے چشموں میں) ینابیع چشموں اور پانی کے چلنے کے راستے اور گزرگا ہیں۔ جیسا کہ جسم میں رگیں۔
نحو : ینابیع یہ حال کی وجہ سے منصوب ہے یا ظرفیت کی بناء پر منصوب ہے۔ فی الارضؔ یہ ینابیع کی صفت ہے۔
ثُمَّ یُخْرِجُ بہٖ (پھر اس کے ذریعے سے وہ پیدا کرتا ہے) ہٗ کی ضمیر سے پانی مراد ہے۔ زَرْعًامُّخْتَلِفًا اَلْوَا نُہٗ (کھیتیاں جن کے رنگ مختلف (ہیں) الوان سے ہیئت و شکل مراد ہے جیسے سبز، سرخ، زرد، سفید یا اقسام مراد ہیں۔ گندم، جو، تل وغیرہ۔ ثُمَّ یَھِیْجُ (پھر وہ کھیتی بالکل خشک ہوجاتی ہے) فَتَرٰہُ مُصْفَرًّا (پس اس کو تم زر ددیکھتے ہو) تروتازگی اور خوبصورتی کے بعد ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًا (پھر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے) حطاماً ریزہ ریزہ ٹکڑے جو نبات ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ہوجائے وہ حطام کہلاتی ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) پانی اتارنے اور کھیتی نکالنے، پیدا کرنے میں لَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ (اہل عقل کیلئے بڑی عبرت ہے) یادداشت اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ اس کا ایک صانع نہایت حکیم ہے اور یہ سب کچھ بڑے اندازے اور بڑی تدبیر سے ہورہا ہے۔ نہ کہ اہمال و تعطیل سے۔
Ayah 39:2222: اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ (پس جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا) شرح کو وسیع کردیا لِلْاِسْلَامِ پس اس نے ہدایت پائی۔
فرمانِ رسول اللہ ﷺ :
رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کے متعلق دریافت کیا گیا۔ تو فرمایا جب نور دل میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ سینہ کھل جاتا اور وسیع ہوجاتا ہے آپ سے سوال کیا گیا۔ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے ؟ فرمایا ہاں ! ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع اور غرور کی طرف سے بےرغبتی اور موت کی آمد سے قبل موت کی تیاری ] تفسیر ابن کثیر 2/181[
فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (وہ اپنے پروردگار کے نور پر ہے) نور کا معنی وضاحت و بصیرت۔ معنی یہ ہے افمن شرح اللّٰہ صدرہ کیا وہ آدمی جس کے سینے کو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا پس وہ ہدایت پا گیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل پر مہر لگ چکی اور اسکا دل سخت ہوگیا ؟ اس کو حذف کردیا کیونکہ ارشاد الٰہی فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ (پس بڑی خرابی ہے ان لوگوں کیلئے کہ جن کے دل متاثر نہیں ہوتے) اس پر دلالت کررہا ہے۔ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے ذکر سے) یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد کو چھوڑ دینے کی وجہ سے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر کی وجہ سے یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ان کے ہاں کیا جائے۔ یا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ان کے دلوں کی قساوت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے۔ فزادتہم رجسا الی رجسہم ] التوبہ : 125[ اُولٰٓپکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (وہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں) ظاہری گمراہی میں مبتلا ہیں۔
Ayah 39:23سب سے عمدہ بات قرآن سن کر انہیں خشیت آتی ہے :
23: اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ (اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے) اللہ کے لفظ سے ابتداء کر کے نزل کو اس پر مرتب فرمانے میں احسن الحدیث کی تفخیم شان مقصود ہے۔
نحو : کِتٰبًا یہ احسن الحدیث سے بدل ہے یا اس سے حال ہے۔
مُّتَشَا بِھًا (یہ ایسی کتاب ہے کہ باہم ملتی جلتی ہیں) جو صدق وبیان میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ اسی طرح وعظ، حکمت اور اعجاز و غیر ذلک میں باہم ملتی جلتی ہیں۔ مَّثَانِیَ (بار بار دہرائی گئی ہیں) جمع مثنی اسکا معنی بار بار لوٹائی اور دہرائی گئی اس کے واقعات، اخبار، احکام، اوامر، نواہی وعدے اور وعید اور مواعظ بار بار دہرائے گئے ہیں۔
نحو : یہ کتاب کی صفت ہے۔ متشابہ کا بیان ہے کیونکہ قصص مکررہ وغیرہ وہ متشابہ ہی ہوتے ہیں۔
ایک قول :
کیونکہ اس کی بار بار تلاوت کے باوجود اس سے اکتاتے نہیں۔ واحد کی صفت جمع لائی جاسکتی ہے کیونکہ کتاب مکمل طور پر تفاصیل والا جملہ ہے اور شئی کی تفاصیل وہی اسکا مجموعہ ہوتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں القرآن اسباع و سوروآیات ؟ اسی طرح تم کہتے ہو اقاصیص و احکام ومواعظ مکررات، کہ قصص و احکام و مواعظ بار بار لائے گئے ہیں۔
نمبر 2۔ یہ متشابہا ً کی تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جیسا تم کہو : رایت رجلاً حسنًا شمائل۔ معنی یہ ہے وہ بار بار دھرائے جانے کی بناء پر متشابہ ہیں۔ تَقْشَعِرُّ (ان لوگوں کے بدن کا نپ اٹھتے ہیں) مضطرب ہوجاتے اور حرکت میں آجاتے ہیں، مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ (اس سے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں) کہا جاتا ہے اقشعر الجلد اذا تقبض تقبضًا شدیدا جب کہ وہ سخت گھٹے۔ مطلب یہ ہے جب وہ قرآن مجید سنتے ہیں۔ اور آیات وعید ان کے کانوں میں پڑتے ہیں تو ان پر خشیت طاری ہوجاتی ہے جس سے ان کے بدن کا نپ اٹھتے ہیں۔ حدیث میں وارد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے خوف سے کسی مومن کے رونگٹے کھڑے ہوں۔ تو اس سے اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ جس طرح خشک درخت سے پتے گرتے ہیں۔ الھیثمی فی مجمع الزوائد 10/310)
ذکر اللہ پر اکتفاء :
ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُھُمْ وَقُلُوْبُھُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ (پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں) یعنی جب رحمت کی آیات ذکر کی جاتی ہیں تو ان کے بدن اور دل نرم پڑجاتے ہیں اور ان پر جو خوف و کپکپی طاری تھی وہ زائل ہوجاتی ہے۔ الیٰ کے ساتھ اس کو متعدی کیا گیا کیونکہ الیؔ کے ساتھ متعدی ہونے والے فعل کے معنی کو متضمن ہے گویا اس طرح کہا گیا اطمانت الی ذکر اللّٰہ لینۃ غیر منقبضۃ گھٹنے کے بغیر نرمی کے ساتھ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف مطمئن ہیں۔ آیت میں ذکر اللہ پر اکتفاء کیا گیا۔ رحمت کا تذکرہ نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی رحمت غضب پر سبقت کرنے والی ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ جب اس کو یاد کیا جائے تو وہ اپنی رحمت اس بندے کو پہنچاتا ہے اور اس وقت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی رؤفیت اور رحمیت ہی کا غلبہ ہوتا ہے۔ اولاً صرف جلود کا ذکر کیا پھر دوسری بار قلوب کو بھی شامل کیا کیونکہ خشیت کا محل دل ہیں۔ پس ان کا ذکر کردینا یہ قلوب کا ذکر کرنا تھا۔ ذٰلِکَ (اس سے) کتاب کی طرف اشارہ کیا اور وہ ھُدَ ی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآ ئُ (اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس کو وہ چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے) اپنے بندوں میں سے اور اس سے وہی بندے مراد ہیں جن کے متعلق اس کے علم میں ہے کہ وہ ہدایت کو اختیار کریں گے۔ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کرتا ہے) اس میں ضلالت کو پیدا فرما دیتا ہے۔ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ (پس اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں) حق کی راہ کی طرف۔
Ayah 39:24ظالموں کا قیامت کے دن حال :
24: اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْھِہٖ سُوْ ئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بھلا وہ شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنائے گا) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو عذاب سے مامون و محفوظ ہے ؟ یہاں خبر کو اسی طرح حذف کردیا جیسا کہ اس کے نظائر میں خبر حذف کی جاتی ہے۔ سوء العذابؔ سے شدت مراد ہے اسکا معنی یہ ہے انسان کو جب کوئی خوفناک چیز سامنے آتی ہے۔ تو اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہاتھ آگے کرتا ہے اور چاہتا یہ ہے کہ اس طرح اسکا چہرہ بچ جائے۔ کیونکہ وہ انسان کے ہاں معزز ترین اعضاء میں سے ہے۔ اور جس شخص کو آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس کے ہاتھوں کو گردن سے باند ھ کر آگ میں پھینکا جائے گا۔ پس اس لئے صرف یہی موقعہ ہوگا کہ وہ اپنے چہرے کو ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔ وہ چہرہ جس کو مقامات خوف میں ہاتھوں وغیرہ سے بچایا جاتا تھا اور اس کی حفاظت کی جاتی تھی۔ وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کو حکم ہوگا) یعنی جہنم کے داروغہ ان کو کہیں گے۔ ذُوْقُوْا (تم مزہ چکھو) یعنی وبال مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ (جو کچھ تم کیا کرتے تھے) یہ مصدر کے معنی میں ہے اپنی کمائی کا وبال چکھ لو۔
Ayah 39:2525: کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (ان لوگوں نے جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے ہوچکے) ھمؔ کا مرجع قریش مکہ ہیں۔ فَاَتٰھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ (پس ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا) ایسی جہت سے آیا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی اور نہ ان کو خیال گزرا کہ کبھی شر اس طرف سے بھی آجائے گا۔ اس دوران کہ وہ مطمئن تھے کہ اچانک ان کے امن کے مقام میں ہی عذاب نے ان کو آگھیرا۔
Ayah 39:2626: فَاَذَا قَھُمُ اللّٰہُ الْخِزْیَ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں عذاب کا مزہ چکھایا) الخزیؔ سے ذلت، رسوائی مثلاً مسخ، زمین میں دھنسنا، قتل وجلا وطن ہونا وغیرہ اسی قسم کے اللہ تعالیٰ کے عذاب۔ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ (اور البتہ آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے) دنیا کے عذاب کے مقابلہ میں لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (کاش یہ لوگ سمجھ جاتے) تو ضرور ایمان قبول کرلیتے۔
Ayah 39:2727: وَلَقَدْضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے واسطے ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں) تذکر نصیحت پانے کو کہتے ہیں۔
Ayah 39:2828: قُرْ ٰانًا عَرَبِیًّا (جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ عربی قرآن ہے) یہ حال مؤکدہ ہے جیسے کہتے ہیں جاءنی زید رجلا صالحًا و انسانًا عاقلا۔ اس میں رجلاً اور انسانًا کو بطور تاکید لائے ہیں۔ یا نمبر 2۔ منصوب علی المدح ہے۔ غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ (جس میں ذرا ٹیڑھ نہیں) وہ مستقیم اور تناقص و اختلاف سے پاک ہے۔
نکتہ : آیت میں مستقیم نہیں فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس میں کبھی ٹیڑھ ہوا ہی نہیں۔
ایک قول :
یہ ہے العوج سے شک مراد ہے۔ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ (تاکہ یہ لوگ ڈریں) اور کفر سے بچ جائیں۔
Ayah 39:29مشترک غلام اور منفرد آقا کا غلام میں فرق :
29: ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَـلاً رَّجُلًا فِیْہِ شُرَکَآ ئُ مُتَشَاکِسُوْنَ (اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ جس میں کئی ساجھی ہیں جن میں باہم اختلاف ہے) متشاکسون کا معنی باہمی منازعت اور اختلاف رکھنے والے وَرَجُلًا سَلَمًا (اور ایک اور شخص ہے کہ پورا ایک ہی شخص کا ہے) سلماً یہ مصدر ہے باب سلِمَ معنی ذا سلامۃ سلامتی والا لِّرَجُلٍ (یعنی جو شرکت سے بچا ہوا)
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے سالماؔ پڑھا ہے۔ خالص اسی ہی کا ہو۔
ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَـلاً (کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہے) مثلاً کا معنی حالت ہے یہ تمیز ہے۔ معنی یہ ہے کیا ان دونوں کی حالت و کیفیت برابر ہے۔ تمیز مفرد لائی گئی کیونکہ وہ جنس کو بیان کررہی ہے۔
قراءت : ایک قراءت میں مثلین ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں) ۔ وہ ذات جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ (بلکہ ان میں اکثر سمجھتے بھی نہیں) پس وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دیتے ہیں۔ اس آیت میں کافر اور اس کی معبودیت کو اس غلام کے ساتھ تشبیہ دی جس کے بہت سے اختلاف و تنازع کرنے والے مالک ہوں۔ جن میں سے ہر ایک اس بات کا مدعی ہو کہ وہ اسکا غلام ہے۔ پس وہ آپس میں کھینچا تانی اور مختلف پُر مشقت کاموں کے لئے باہمی لے دے کرنے والے ہوں۔ اور وہ حیران ہو اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کون ان میں سے اس کی خدمت سے راضی ہوگا اور اپنی ذاتی ضروریات میں وہ کس پر انحصار کرے اور کس سے اپنا خرچہ مانگے اور کس سے نرمی کا سوال کرے پس ایسی حالت میں اس کی فکر منتشر، دل گھبرانے والا ہوگا۔ اور مومن کی مثال ایک ایسے غلام سے دی ہے جس کا ایک ہی آقا ہو۔ اس کی فکر ایک اور دل مجتمع ہوگا۔
Ayah 39:30موت سب پر ہے تو کسی کے انتظار موت سے اس میں فرق نہیں :
30: اِنَّکَ مَیِّتٌ (آپ کو بھی مرنا ہے) یعنی عنقریب آپ پر موت آئے گی۔ وَّ اِنَّہُمْ مَّیِتُوْنَ (اور ان کو بھی مرنا ہے) مَیْتٌ تخفیف سے وہ جس پر موت اترے۔
قولِ خلیل :
ابو عمرو نے یہ شعر پڑھا ؎
وتسألنی تفسیر مَیّتٌ وَمَیْتٍ ٭ فدونک وقد فسرت ان کنت تعقل
فمن کان ذا روحٍ فذلک مَیّتٌ ٭ وما المیْتُ الامن الی القبر یحمل
جس پر موت آئندہ طاری ہوگی وہ میت ہے اور جو مرچکا اور اس کو قبر کی طرف لے جایا جارہا ہو۔ وہ مَیْتٌہے۔ کفار قریش رسول اللہ ﷺ کے متعلق موت کے منتظر تھے۔ پس اس میں خبر دی گئی کہ موت تو ان کو بھی آئے گی۔ پھر کسی کے انتظار موت کا کیا فائدہ۔ اور فانی کا فانی کی موت پر خوش ہونا چہ معنی دارد۔
قولِ قتادہ (رح) :
اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی موت کی خبردی ہے۔ اور تمہارے نفوس کے بھی مرنے کی خبر دی۔ یعنی آپ اور وہ سب موتیٰ کے شمار میں ہو۔ کیونکہ جو ہونے والا ہے اس کو ہوچکا شمار کرنا چاہیے۔
Ayah 39:31ایک دوسرے کے خلاف دلیل پیش کریں گے :
31: ثُمَّ اِنَّکُمْ (پھر تم) یعنی تم اور وہ۔ اصل کلام انک وایاھم تھا پھر ضمیر مخاطب کو غیب پر غلبہ دیا۔ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ (قیامت کے دن تم اپنے مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کروگے) پھر آپ ان کے خلاف دلیل پیش کریں گے کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا اور انہوں نے جھٹلا دیا۔ اور آپ نے دعوت دینے میں خوب کوشش کی مگر انہوں نے عناد کے سمندر میں غوطے لگائے۔ وہ معذرت پیش کریں گے مگر اس کا فائدہ نہ ہوگا۔
پیروکار کہیں گے ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی بات مانی سرداروں کا جواب ! ہمیں شیاطین نے اغواء کیا اور ہمارے آباء و اجداد کو بھی۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا ہمارا جھگڑا کیا ہوگا۔ حالانکہ ہم تو بھائی بھائی ہیں۔ جب حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا گیا تو کہنے لگے یہ ہماری خصومت ہے۔ ابو العالیہ کا قول یہ ہے کہ یہ اہل قبلہ کے متعلق اتری۔ اور یہ ان مظالم اور خونوں کے متعلق ہے جو مسلمانوں کے باہمی ہیں۔ مگر بہتر قول پہلا ہے۔ اس کی تائیداگلی آیت میں فرمائی۔
Ayah 39:32فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَي اللّٰهِ (اس شخص سے بڑھ کر بےانصاف کون ہوگا) اور والذی جاء بالصدق وصد بہ (الزمر :33) یہ درحقیقت ان لوگوں کی وضاحت و تفسیر ہے جن کے مابین یہ خصومت پیش آئے گی۔ ممن کذب علی اللہ (جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے) اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر یا بیٹے کی نسبت اس کی طرف کر کے۔ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ (اور سچی بات کو جھٹلائے) وہ معاملہ جو بعینہ سچائی ہے اور وہ وہی ہے جس کو محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں۔ اِذْ جَاۗءَهٗ (جبکہ وہ اس کے پاس پہنچے) پس اس نے سن کر بلاتوقف تکذیب کردی اس نے اہل انصاف کی طرح حق و باطل میں تمیز کیلئے اہتمام رویہ سے کام نہیں لیا۔ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ (کیا جہنم میں ایسے کافروں کا ٹھکانہ نہ ہوگا) ان لوگوں کا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق جھوٹ بولا اور سچ کی تکذیب کردی۔ للکافرین کی لام ان کی طرف اشارہ کرنے کیلئے ہے۔
Ayahs 39:33–34وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ (اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور اس کو سچ جانا) ۔ رسول اللہ ﷺ سچ لے کر آنے والے ہیں اور اس پر ایمان لائے۔ اس سے آپ کی ذات گرامی اور وہ سب مراد ہیں جنہوں نے آپ کی اتباع کی۔ جیسا کہ اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) خود اور آپ کی قوم مراد ہے۔ ولقد آتینا موسیٰ الکتاب لعلہم یہتدون (المومنون :49) ۔ اسی لیے فرمایا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ (تو یہ لوگ پرہیز گار ہیں)
قول زجاج : علی مرتضی ؓ سے مروی ہے کہ وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور الذی صدق بہ سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جاء بالصدق تو محمد ﷺ ہیں اور صدق بہ مومن ہیں اور ہر دو صحیح ہے علمائے مفسرین نے اسی طرح فرمایا۔ عربی اسلوب کے لحاظ سے اقرب بات یہ ہے کہ جاء اور صدق کا فاعل ایک ہو۔ کیونکہ تغایر سے الذی کو مضمر ماننا پڑے گا۔ حالانکہ اس کا ذکر پہلے موجود نہیں اور یہ بعید ہے۔
Ayah 39:35آیت میں اسوا اور احسن کی اضافت۔ یہ اضافۃ الشی الی ماھو بعضہ من غیر تفضیل کے قبیل سے ہے جیسا کہ کہتے ہیں۔ الاشج اعدل بنی مروان۔ اشج بنومروان سے ہیں۔ اب ان کا عدل بنی مروان میں سے کسی کو تفضیل دینے کے بغیر ہے۔
Ayah 39:36مان لو ورنہ انتقام الٰہی تمہارا منتظر ہے : اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۔ ہمزہ استفہام انکاری کو حرف نفی پر داخل کیا گیا۔ جس سے کفایت کا اثبات اور پختگی ہوگئی۔ عبدہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔
قراءت : حمزہ، علی نے عباد پڑھا ہے۔ اس صورت میں انبیاء مومنین مراد ہونگے۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ انا کفیناک المستہزئین (الحجر :95) ۔
وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۔ یعنی ان بتوں سے جنو کو انہوں نے اس کے سوا معبود تجویز کر رکھا ہے۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہمارے معبود تمہیں نقصان پہنچائیں گے اور مخبوط الحواس کردیں گے کیونکہ تم ان کے عیب نکالتے ہو۔
Ayah 39:37العزیز، غالب و محافظ۔ ذی انتقام وہ اپنے اعداء سے انتقام لے گا۔ پھر ان کو بتلایا کہ بتوں کی عبادت کے باوجود وہ اس بات کے اقراری ہیں کہ خالق ارض و سماء اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے
Ayah 39:38بتوں کے حملہ سے تو اللہ بچائے مگر اللہ تعالیٰ کی اتاری تکلیف سے تمہیں کون بچائے گا۔
قراءت : حمزہ کے علاوہ باقی قراء نے ارادنی یاء کے فتحۃ سے پڑھا۔ الضر سے مرض یا فقر یا اس کے علاوہ کوئی تکلیف مراد ہے۔
رحمت سے صحت یا مالداری اسی طرح کی اور چیزیں مراد ہیں۔
کاشفات ضرہ، اور ممسکات رحمتہ کو بصری نے تنوین کے ساتھ اصل کی بنیاد پر پڑھا ہے۔ مسئلہ کو بطور فرض کے اپنی ذات کے سلسلہ میں ذکر فرمایا کیونکہ کفار آپ کو بتوں کے مجنون بنا دینے اور حملہ آور ہونے سے ڈراتے تھے۔ پس آپ کو حکم دیا گیا کہ پہلے ان کے سامنے بار دیگر فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا تمام جہان کا خالق ہے۔ پھر اس بات کے پختہ کرنے کے بعد فرمائیں کہ اگر جہان کا خالق جس کا تم بھی اقرار کرچکے اگر وہ کچھ تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے۔ کیا تم اس کے خلاف کرنے کی قدرت رکھتے ہو ؟ جب ان کو لاجواب کردیا تو فرمایا اعلان کردو، میرے لیے اللہ کافی ہے، بتوں کے چڑھ دوڑنے بچائے گا۔ اور توکل کرنے والے اسی ہی پر توکل کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئے۔ پس یہ آیت اتری۔ قل حسبی اللہ۔
کاشفات اور ممسکتان۔ یہ دونوں صیغے مونث کے استعمال کیے گئے اور اس سے قبل یخوفونک بالذین من دونہ ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مونثات ہیں جیسے لات، العزی اور منات اس میں ان کو ان کی معبودیت کے اعتقاد پر شرمندی کیا گیا ہے۔ (کہ تمہیں شرم آنی چاہیے کہ تم عورتوں کے پجاری ہو)
Ayah 39:39(کہہ دیجیے اے میری قوم ! تم اپنی حالت پر عمل کیے جاؤ) اپنی اس حالت پر جس پر تم ہو اور وہ عداوت جس پر جتنی قدرت تمہیں حاصل ہے۔ المکانۃ یہاں مکان و جگہ کے معنی میں ہے پھر یہ ذات سے معنی کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ھنا، حیث جو کہ مکان کیلئے ہیں بطور استعارہ زمانے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اِنِّىْ عَامِلٌ (میں بھی عمل کر رہا ہوں) اپنی جگہ پر علی مکانتی کو بطور اختصار حذف کردیا کیونکہ اس طرح وعید کا مفہوم زیادہ قوی بنتا ہے اور اس سے یہ بھی اعلان کرنا مقصود ہے کہ میری حالت ہر روز رو بترقی ہے کیونکہ میرا معین و مددگار اللہ تعالیٰ ہے۔ آیت کا اگلا حصہ اس کی تائید کر رہا ہے ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (پس اب جلد تمہیں معلوم ہوا چاہتا ہے)
Ayah 39:40مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ (اور وہ کون شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا چاہتا ہے) ۔ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ (جو اس کو رسوا کردیگا اور اس پر دائمی عذاب نازل ہوگا) کس طرح اس میں ان کو اپنے ان پر غلبہ و سربلندی پالینے سے ڈرایا گیا جو غلبہ دنیا و آخرت میں میسر ہوگا۔ کیونکہ جب ان پر ذلت و رسوائی اور عذاب اترے گا۔ تو وہ آپ ﷺ کے ان پر غلبے کی آمد ہوگی اور وہ غلبہ اس حیثیت سے ہوگا کہ اللہ العزیز اپنے اولیاء کی نصرت سے ان کو غالب کردیں گے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل رسوا کردیں گے۔ یخزیہ، یہ عذاب کی صفت ہے جیسا کہ مقیم یعنی ایسا عذاب جو اس کو رسوا کرنے والا ہوگا اور وہ بدر کے دن پیش آیا اور عذاب دائم سے عذاب نار مراد ہے۔ قراءت : ابوبکر و حماد نے مکاناتکم پڑھا ہے۔