Ayah 51:41خیر سے خالی ہوا :
آیت 41 : وَفِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ (اور عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے۔ جبکہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی) عقیم وہ جس میں کوئی خیر بارش وغیرہ میں سے نہ تھی یا درختوں کو ثمر بار کرنے سے خالی تھی وہ ہلاکت کی ہوا تھی۔ اس کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔
قول اظہر :
سب سے ظاہر قول یہ ہے۔ کہ وہ دبور۔ پچھم کی ہوا تھی اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ نصرت بالصباو اہلکت عاد بالدّبور۔ (رواہ احمد 324۔ مسلم /900)
Ayah 51:42تکذیب کے نتیجہ میں ہر چیز ریزہ ہوگئی :
آیت 42 : مَا تَذَرُ مِنْ شَیْئٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِلاَّ جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ (جس چیز پر گزرتی اس کو ایسا کردیتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے) الرمیم : ہر وہ چیز جو ریزہ ریزہ ہو یعنی پرانی ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائے۔ نمبر 2۔ خواہ وہ ہڈی ہو یا نبات یا اور
کوئی چیز مطلب یہ ہوا۔ کہ اس ہوا کا گزر ان کی جس چیز چوپائے ٗ کھیتیاں ٗ اموال پر ہوتا اس کو وہ تہس نہس کردیتی۔
Ayah 51:43آیت 43 : وَفِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ ۔ (اور ثمود کے قصہ میں جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو) ۔
Ayah 51:44آیت 43 : فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ (پس ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی) اس کو بجا لانے سے تکبر اختیار کیا۔ فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ (پس ان کو عذاب نے آلیا) الصاعقہ : سے عذاب مراد ہے ہر مہلک عذاب کو صاعقۃ کہا جاتا ہے۔
قراءت : الصعقۃ علی نے پڑھا۔ فعلہ کا وزن ایک بار کیلئے آتا ہے۔ یہ مصدر ہے ای صعقتہم الصاعقۃ۔ ان کو عذاب نے پکڑ لیا یکبارگی پکڑنا۔ وَہُمْ یَنْظُرُوْنَ (اور وہ دیکھ رہے تھے) کیونکہ وہ دن کے وقت تھا جس کو وہ آنکھوں سے ملاحظہ کر رہے تھے۔
Ayah 51:45آیت 45 : فَمَا اسْتَطَاعَوْا مِنْ قِیَامٍ (پس نہ تو وہ کھڑے ہی ہوسکے) یعنی بلکہ بھاگ گئے یا یہ عرب کے اس قول سے ہے۔ مایقوم بہٖ ۔ جبکہ وہ کسی چیز کے دفع کرنے سے عاجز آجائے۔ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ (اور نہ وہ بدلہ لے سکے) نہ وہ عذاب کو روک سکے۔ یا ان کو عذاب سے ہمارا مقابلہ ممکن نہ ہوا کیونکہ انتصار مقابلے کے لئے آتا ہے۔
Ayah 51:46آیت 46 : وَقَوْمَ نُوْحٍ (اور قوم نوح علیہ السلام) اے اہلکنا قوم نوح ہم نے قوم نوح کو ہلاک کردیا۔ کیونکہ ماقبل اس فعل کے حذف پر دلالت کرتا ہے۔ یا نمبر 2۔ اذکر فعل کا مفعول ہے۔
قراءت : ابوعمرو ٗ علی ٗ حمزہ ٗ نے جر سے پڑھا ہے۔ ای وفی قوم نوحٍ آیۃ۔ اور قراءت عبداللہ اس پر دلالت کرتی ہے۔ وفی قوم نوحٍ ۔ مِّنْ قَبْلُ (ان سے پہلے) ان مذکورۃ الصدر لوگوں سے پہلے۔ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (وہ بڑے نافرمان لوگ تھے) فاسقین بمعنی کافرین ہے۔
Ayah 51:47آیت 47 : وَالسَّمَآئَ ۔ نحو : یہ بنینٰہا باید جس فعل کی تفسیر کر رہا ہے اسکی وجہ سے منصوب ہے۔ ای بنینا السماء بنینٰھا۔
بَنَیْنٰـہَا بِاَیْدٍ (اور آسمان کو ہم نے قدرت سے بنایا) اَیْد : قوت وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ (اور ہم وسیع القدرت ہیں) ضرور قدرت والے ہیں۔ یہ الوسع سے لیا گیا جس کا معنی طاقت ہے۔ الموسع۔ القوی علی الانفاق (جو خرچ کرنے میں قوی ہو) یا الموسعون ہم آسمان و زمین کے درمیان وسعت کرنے والے ہیں۔
Ayah 51:48آیت 48 : وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰـہَا (اور ہم نے زمین کو فرش بنایا) ہم نے زمین کو پھیلایا اور بچھایا۔ نحو : الارض۔ فعل مضمر سے منصوب ہے۔ ای فرشنا الارض فرشنا ہا۔ یہ جملہ اس کی تفسیر ہے۔ فَنِعْمَ الْمٰہِدُوْنَ (پس ہم اچھے بچھانے والے ہیں)
Ayah 51:49ہر چیز میں متقبل چیزیں ہیں :
آیت 49 : وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ اور ہم نے ہر چیز کو حیوانات میں سے خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ (دو دو قسم کا بنایا) مذکر و مؤنث۔
قولِ حسن (رح) :
آسمان و زمین ٗ لیل ٗ نہار ٗ سورج ٗ چاند ٗ خشکی ٗ تری ٗ موت ٗ زندگی پس انہوں نے بہت سی اشیاء کو شمار کیا۔ اور فرمایا ان میں سے ہر دو جوڑا (متضاد) اور ذات باری تعالیٰ وہ فرد بےمثل ہیں۔ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (تاکہ تم سمجھو) ہم نے یہ سب کیا یعنی آسمان کا بنانا ٗ زمین کا بچھانا ٗ ازواج کا پیدا کرنا ٗ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور خالق کو پہچان کر اس کی عبادت کرو۔
Ayah 51:50آیت 50 : فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ (تو تم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دوڑو) نمبر 1۔ یعنی شرک سے ایمان باللہ کی طرف آئو۔ یا اطاعت شیطان کو چھوڑ کر۔ نمبر 2۔ طاعت رحمان اختیار کرو۔ نمبر 3۔ یا وہ چیز جو اس کی طرف لے جانے والی ہے۔ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میں تمہارے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں)
Ayah 51:51آیت 51 : وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا ٰاخَرَ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود مت قرار دو ! میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں) انی لکم الایۃ کو دوبارہ تاکید کے لئے لائے۔ وعید کو طویل کرنا بلاغت کا قاعدہ ہے۔
Ayah 51:52آیت 52 : کَذٰلِکَ (اسی طرح جو لوگ) یعنی معاملہ اسی طرح ہے۔ ذلک سے ان کے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور ساحر و مجنون جیسے القاب دینے کی طرف اشارہ ہے۔ پھر اس اجمال کی تفصیل اس ارشاد میں فرمائی۔ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں) ہم آپ کی قوم قریش۔ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ قَالُوْا (ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا۔ جس کو انہوں نے نہ کہا ہو) کہ وہ سَاحِرٌ اَوْمَجْنُوْنٌ (ساحر ہے یا مجنون) انہوں نے ان پر سحر یا جنون کا الزام اپنی جہالت کی بنیاد پر لگا دیا۔
Ayah 51:53ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی اصل میں یہ سرکش نہیں :
آیت 53 : اَتَوْا صَوْا بِہٖ (کیا وہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آتے تھے) ہٗ کی ضمیر قول کی طرف راجع ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے أتواصی الاولون والآخرون بہذا القول حتی قالوہ جمیعا متفقین علیہ۔ کیا اول و آخر اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے یہاں تک کہ سب نے بالا تفاق یہ بات کہی۔ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ (بلکہ یہ سب کے سب سرکش لوگ تھے) یعنی انہوں نے وصیت تو نہ کی کیونکہ ان کی باہمی ملاقات ہی نہ ہوئی۔ زمانے مختلف تھے۔ بلکہ ایک علت نے ان کو جمع کردیا اور وہ علت طغیان تھی اور سرکشی ہی اس بات پر آمادہ کرنے والی ہے۔
Ayah 51:54آیت 54 : فَتَوَلَّ عَنْہُمْ (پس آپ ان کی طرف التفات نہ فرمائیں) پس ان سے اعراض فرمائیں جن کو بار بار دعوت دی جا چکی مگر انہوں نے عناد کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا۔ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ (کیونکہ آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں) آپ نے جب پیغام رسالت پہنچا دیا تو اب اعراض سے آپ پر الزام نہ ہوگا آپ نے تو دعوت و تبلیغ میں امکانی جہد صرف کر ڈالی۔
Ayah 51:55آیت 55 : وَّذَکِّرْ (اور سمجھاتے رہئے) قرآن سے نصیحت کرتے رہیں۔ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ (کیونکہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دے گا) ان کے علم میں اضافہ ہوگا۔
Ayah 51:56سیاق سے آیت خاص ہے :
آیت 56 : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ (اور میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کیا کریں) العبادۃ کا حقیقی معنی مراد لیں تو پھر آیت عام نہ بنے گی۔ بلکہ اس وقت اس سے مراد جن و انس میں سے مومن مراد ہونگے۔ اس کی دلیل سیاق آیت ہے۔ میری مراد یہ ہے وذکرفان الذکری تنفع المؤمنین۔ اور قراءت ابن عباس ؓ وما خلقت الجن والانس من المؤمنین اس کی تائید کرتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ درست نہیں کہ وہ ان لوگوں کو عبادت کے لئے پیدا کرے جن کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ کیونکہ جب ان کو عبادت کے لئے پیدا کیا اور عبادت ان سے چاہی تو اس ارادہ کا ظہور لازم ہے اور ادھر جب وہ ایمان نہ لائے تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ وہ جہنم کے لئے پیدا کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا۔ ولقد ذرأنا لجہنم کثیرًا من الجن والانس۔ ] الاعراف۔ 179[
ایک قول یہ ہے :
میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے تاکہ میں ان کو عبادت کا حکم دوں۔ یہ قول علی ؓ سے منقول ہے۔ (الالآمرہم بالعبادۃ)
ایک اور قول :
الالیکونوا عبادًالی۔ مگر اس لئے تاکہ وہ میرے بندے بن جائیں۔
بہترین توجیہ :
عبادت کا معنی توحید لیا جائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے تھے۔ کہ کل عبادۃ فی القرآن فہی توحید۔ کہ عبادت کا لفظ جہاں قرآن میں ہے وہاں توحید مراد ہے۔ اور تمام اللہ تعالیٰ کو آخرت میں وحدہ لاشریک مان لیں گے۔ جیسا کہ معلوم ہے اور کافر بھی آخرت میں مومن موحد ہونے کا اقرار کریں گے۔ جیسا کہ اس ارشاد الٰہی میں فرمایا۔ ثم لم تکن فتنتہم الا ان قالوا واللّٰہ ربنا ماکنا مشرکین ] الانعام۔ 23[
اگرچہ بعض نے دنیا میں شرک کیا لیکن دنیا کی مدت ابد کی بنسبت ایک دن سے بھی اقل قلیل ہے۔ جو شخص غلام خرید لے اور کہے۔ ما اشتریت الا للکتابۃ کان صادقا فی قولہ۔ ما اشتریتہ الا للکتابۃ اگرچہ وہ اس کی عمر غلامی میں کسی اور کام پر بھی لگائے۔ گویا معتد بہٖ مدت جو کام کرایا جائے وہ کل سے محاورہ میں تعبیر کردیا جاتا ہے۔
Ayah 51:57آیت 57 : مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ (میں ان سے رزق رسائی کی درخواست نہیں کرتا) میں نے ان کو اس لئے نہیں بنایا کہ وہ اپنے نفسوں کو رزق پہنچائیں۔ یا میرے بندوں میں سے کسی کو رزق پہنچائیں۔ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ (کہ وہ مجھ کو کھلایا کریں)
قولِ ثعلب نحوی :
ای یطعموا عبادی۔ یہ اضافت تخصیص ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد میں جو کہ حدیث قدسی ہے۔ من اکرم مؤمنا فقدا کرمنی۔ ومن اٰذی مؤمنا فقد آذانی۔ (فیض القدیر۔ 8517)
جس نے کسی مومن کا اکرام کیا اس نے میرا اکرام کیا اور جس نے کسی مومن کو ایذاء دی اس نے مجھے ایذاء دی۔
Ayah 51:58آیت 58 : اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ (اللہ تعالیٰ خود ہی سب کو رزق پہنچانے والا ہے۔ قوت والا نہایت ہی قوت والا ہے) القوۃ المتین (نہایت قوت والا) نحو :۔ رفع کے ساتھ یہ ذو کی صفت ہے۔ اعمشنے جر کے ساتھ پڑھا۔ اور القوۃ کی صفت قرار دیا۔ اقتدار کی تاویل پر ہے۔
Ayah 51:59اب ان ظالموں کی باری :
آیت 59 : فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس ان ظالموں کی) قریش مکہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تکذیب کا ظلم کیا۔ ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ (بھی باری ہے جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کی باری تھی) اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے ان کا حصہ ہے جیسا کہ ان کے ہم مثل ہلاک شدہ زمانوں والے کا۔
قول الزجاج :
الذنوب لغت میں حصہ کو کہتے ہیں۔ فَـلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ (پس یہ مجھ سے جلدی نہ طلب کریں) یعنی نزول عذاب میں۔ اس میں نضر اور اس کے ساتھیوں کا جواب ہے۔ جب کہ انہوں نے جلد عذاب مانگا۔
Ayah 51:60آیت 60 : فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہے۔ جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) جس کا وعدہ کیا گیا اس سے قیامت کا دن مراد ہے۔ اور ایک قول یہ ہے بدر کا دن مراد ہے۔
قراءت : یعقوب نے دونوں حالتوں میں یاء سے پڑھا ہے سہل نے وصل میں اس کی موافقت کی ہے اور باقی قراء نے ان کو لیعبدونی ٗ ان یطعمونی ٗ فلا یستعجلونی کو بغیر یاء پڑھا۔ لیعبدون ٗ ان یطعمون ٗ فلا یستعجلون۔