Ayah 58:11۔ ابن الضریس والنحاس وابو الشیخ نے الفضہ میں والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مجادلہ مدینہ
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم
1۔ سعید بن منصور والبخاری تعلیقاً وعبد بن حمید والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں کہ اس کی سماعت تمام آوازوں کو وسیع ہے یعنی اس کی قوت سماعت تمام آوازوں کو محیط ہے۔ ایک جھگڑا کرنے والی عورت نبی ﷺ کے پاس آکر باتیں کرنے لگی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھی۔ جو وہ کہہ رہی تھی میں اس کو نہیں سن رہی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے جھگڑ رہی تھی۔ آیت کے آخرتک۔
2۔ ابن ماجہ وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے حضرت عائشہ ؓ عنا سے روایت کیا کہ وہ ذات بڑی برکتوں والی ہے جس کی قوت سماعت ہر چیز کو محیط ہے بلاشبہ میں خولہ بنت ثعلبہ کی بات کو سن رہی تھی۔ اور اس کی بعض باتیں مجھ پر پوشیدہ رہیں کہ میں ان کو نہ سن سکی اور وہ اپنے خاوند کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور وہ کہہ رہی تھی یا رسول اللہ ! اس نے میری جوانی کھالی اور میں نے اس کے لیے اپنے پیٹ کو پھیلا دیا۔ (یعنی میرے بطن سے اس کے کئی بچے پیدا ہوئے) یہاں تک کہ میں بوڑھی ہوگئی۔ اور میری اولاد جو میرے بطن سے ہوئی وہ مجھ سے کٹ گئی۔ اے اللہ میں تیری طرف شکایت کرتی ہوں وہ لگاتار باتیں کرتی رہی یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) ان آیات کے ساتھ نازل ہوئے۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا اور ان کے خاوند اوس بن الصامت تھے۔
حضرت خولہ ؓ کا احترام
3۔ ابن ابی حاتم والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک عورت سے ملے۔ اس کو خولہ کہا جاتا تھا۔ اور عمر بن خطاب ؓ لوگوں کے ساتھ چل رہے تھے کہ اس نے آپ کو ٹھہرا لیا آپ اس کے لیے ٹھہر گئے اور اس سے قریب ہوگئے اس کی باتیں سننے کے لیے اس کی طرف اپنے سر کو جھکالیا اور اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھوں پر رکھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ضرورت (ضروری گفتگو) کو پورا کیا اور چلی گئی ایک آدمی نے آپ سے کہا اے امیر المومنین ! قریش کے اتنے آدمی اس بڑھیا کے لیے رک گئے۔ فرمایا افسوس ہے تجھ پر کیا تو جانتا ہے یہ کون تھی ؟ کہا نہیں۔ فرمایا یہ وہ عورت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے شکوہ کو ساتوں آسمانوں کے اوپر سے سن لیا۔ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھ سے رات تک نہ ہٹتی میں اس سے نہ ہٹتا یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتی۔
4۔ البخاری فی تاریخہ وابن مردویہ نے ثمامہ بن حزن (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان عمر بن خطاب ؓ اپنے گدھے پر چل رہے تھے ان کو ایک عورت ملی اس نے کہا اے عمر ! ٹھہر جائیے، تو وہ ٹھہر گئے۔ تو اس عورت نے آپ سے سخت لہجہ میں بات کی۔ ایک آدمی نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے آج کی طرح نہیں دیکھا۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھے کوئی نہیں روک سکتا اس کی گفتگو کی طرف توجہ کرنے سے اور یہ وہ عورت ہے کہ اس کی بات کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور اس کے بارے میں یہ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا اتاری۔
5۔ احمد وابوداوٗد وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے ایک طریق سے یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ مجھے خولہ بنت ثعلبہ ؓ نے بیان فرمایا اللہ کی قسم ! میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مجادلہ کی شروع کی آیات نازل فرمائیں۔ کہنے لگیں میں اس کے پاس تھی اور وہ بوڑھا آدمی تھا جس کے اخلاق برے تھے۔ ایک دن میرے پاس آیا میں نے اسے کسی چیز کی وجہ سے واپس لوٹا دیا اور وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا تو مجھ پر ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر وہ لوٹ آیا اور اپنی قوم کی مجلس میں آکر کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے میری ذات کا ارادہ رکھتا تھا یعنی جماع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا میں نے کہا ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں خولہ کی جان ہے تو مجھ سے نہیں مل سکتا حالانکہ تو ایسا کہا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ اور اس رسول ہمارے درمیان فیصلہ نہ کردیں۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی آپ سے سارا واقعہ عرض کیا ابھی سلسلہ کلام جاری تھا۔ کہ قرآن نازل ہونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ پر وہ کیفیت چھا گئی جو آپ پر چھاجاتی تھی۔ پھر وہ کیفیت آپ سے جاتی رہی۔ مجھ سے فرمایا اے خولہ ! کہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمادیا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا سے لے کر آیت عذاب الیم تک پڑھی۔ پھر مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو یعنی اپنے خاوند کو حکم کر کہ وہ ایک غلام آزاد کرے میں نے کہا یارسول اللہ اسکے پاس کوئی غلام نہی کہ جس کو وہ آزاد کرے۔ پھر آپ نے فرمایا اس کو چاہیے کہ دو ماہ لگاتار روزے رکھے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! وہ بوڑھا آدمی ہے روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر آپ نے فرمایا اس کو چاہیے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ایک وسق کھجور میں سے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! وہ بھی اس کے پاس نہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم اس کی عنقریب کھجور کے ایک عرق کے ساتھ اس کی مدد کریں گی۔ میں نے کہا یارسول اللہ ! میں بھی عنقریب دوسرے عرق کے ساتھ مدد کروں گا۔ آپ نے فرمایا تو نے درست کیا اور بہت اچھا کیا پس تو چلی جا اور اس کی طرف سے صدقہ کر پھر اپنے چچا کے بیٹے کو نیکی کی نصیحت کر۔ تو میں نے ایسا ہی کیا۔
6۔ سعید بن منصوروابن مردویہ اور بیہقی نے عطاء بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ اوس بن صامت ؓ نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ سے اظہار کیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور ان کو بتایا اور اوس ؓ کو تھوڑاسا جنون بھی تھا۔ پس قرآن نازل ہوا آیت والذین یظہرون من نساۂم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہی پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک غلام آزاد کرنا ہے دونوں کے باہم اختلاط کرنے سے پہلے۔ آپ نے اس کی بیوی سے فرمایا اس کو حکم کر کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عطا فرمایا ہے جو کچھ عطا فرمایا ہے آپ نہیں لائے مگر اس کے لیے رحمت کو۔ بلاشبہ اس کے لیے میری ذات میں کئی منافع ہیں۔ اللہ کی قسم ! اس کے پاس کوئی غلام نہی اور نہ وہ اس کا مالک ہے۔ اس عورت نے کہا قرآن نازل ہوا اور میں آپ ﷺ کے پاس گھر میں تھی۔ آپ نے فرمایا اس کو کہہ دے کہ وہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ اس عورت نے کہا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عطا فرمایا جو کچھ عطا فرمایا وہ اس پر قادر نہیں پھر آپ نے فرمایا اس کو کہو کہ وہ ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرے اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ! اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کا وہ صدقہ کرے۔ آپ نے فرمایا فلاں انصاری کے پاس چلی جا اس کے پاس آدھا وسق کھجوروں کا موجود ہے۔ وہ مجھے اطلاع دے کہ وہ اس کے صدقہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اس سے لے لے گا پھر ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کردے گا۔
7۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ خولہ ؓ جو اوس بن صامت ؓ کی بیوی تھی۔ اس آدمی کو تھوڑا ساجنون بھی تھا جب اس کے جنون نے شدت اختیار کی تو اس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ظہار کے کفارہ کا حکم نازل فرمایا۔
ظہار کرنے کا شرعی حکم
8۔ نحاس وابن مردویہ و بیہقی نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی اگر اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو وہ اس پر حرام ہوجاتی۔ زمانہ اسلام میں سب سے پہلے اوس بن صامت ؓ نے ظہار کیا۔ اس کے چچا کی بیٹی اس کے نکاح میں تھی جس کو خولہ کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے ظہار کیا اور اپنے قبضے سے نکال دیا اور کہا میں تیرے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ تو مجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ لہٰذا تو نبی ﷺ کے پاس جا اور ان سے سوال کر۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کے پاس ایک کنگھی کرنے والی تھی جو آپ کے سر مبارک میں کنگھی کر رہی تھی۔ اس نے آپ کو یہ ساری بات بتائی تو آپ نے فرمایا اے خولہ ! ہم کو تیرے معاملہ کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر یہ حکم نازل فرمایا تو آپ نے فرمایا اے خولہ ! تجھے مبارک ہو۔ عرض کیا۔ کیا خیر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں خیر ہے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر جو نازل فرمایا وہ آپ نے اسی عورت پر پڑھا یعنی یہ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا۔
9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خولہ یا خویلہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یارسول اللہ ! کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ میں تیرے بارے میں یہی خیال کرتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوچکی ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کی طرف اپنی شکایت پیش کروں گی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ۔
10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سارا قرآن ایک ہی بار نازل نہیں فرمایا آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ۔ فرمایا یہ خولہ کے پیدا ہونے سے پہلا کا ہے۔ اگر خولہ ارادہ کرتی کہ جھگڑا نہ کرے گا تو ایسا ممکن نہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس کے لیے مقدر کردیا تھا اس کے پیدا کرنے سے پہلے۔
11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا کے بارے میں روایت کیا کہ خولہ انصار میں سے ایک عورت تھی اس کے خاوند نے اس سے ظہار کرلیا۔ اور اس نے کہا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے خاوند نے مجھ سے نکاح کیا تھا اور میں اس کی طرف سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی یہاں تک کہ جب میں بڑی عمر والی ہوگئی اور بڑھاپے میں داخل ہوگئی تو اس نے کہا تو میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ اور اس نے مجھ کسی کے رحم وکرم پر چھوڑدیا یارسول اللہ ! اگر آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں جو مجھے اور اسے ہلاکت سے بچائے گی۔ تو مجھے اس بارے میں بیان فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اب تک تیرے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن تو اپنے گھر کی طرف لوٹ جا۔ اگر مجھے کسی چیز کا حکم دیا گیا تو میں اس کو تجھ پر نہیں چھپاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔ چناچہ وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے کتاب میں اپنے رسول پر اس کے لیے اور اس کے خاوند کے لیے رخصت کا حکم نازل فرمادیا۔
اور فرمایا آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا۔ سے لے کر آیت عذاب الیم تک۔ آپ نے اس کے خاوند کو بلا بھیجا اور اس سے فرمایا کیا تو ایک غلام کو آزاد کرسکتا ہے ؟ اس نے کہا تب تو میرا سارا مال چلا جائے گا کیونکہ غلام مہنگا ہے اور میرے پاس زیادہ مال نہیں ہے میں مفلس ہوں پھر آپ نے فرمایا کیا تو دو ماہ لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اس نے کہا اللہ کی قسم ! اگر میں ہر دن تین مرتبہ نہ کھاؤں تو میرے آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! مگر یہ کہ آپ میری مدد فرمائیں آپ نے فرمایا میں تیری پندرہ صاع (کھجور) میں مدد کروں گا۔
12۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اوس بن صامت ؓ نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ سے ظہار کیا۔ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا میرے خاوند نے مجھ سے اس وقت ظہار کرلیا جب میں بوڑھی ہوگئی اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے آیت ظہار نازل فرمائی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر۔ تو اس نے کہا اس کے لیے یرے پاس مال نہیں ہے پھر فرمایا دو ماہ لگاتار روزے رکھو اس نے کہا اگر میں دن میں تین مرتبہ نہ کھاؤ تو میری آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ تو اس نے کہا میں کوئی چیز نہیں پاتا کہ میں مسکینوں کو کھانا کھلاؤں مگر یہ کہ آپ میری مدد فرمائیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے پندرہ صاع اسے عطا فرمائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس کی بیوی کو ملاکر دونوں کو اکٹھا کردیا۔
13۔ ابن مردویہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ وہ عورت جس نے اپنے خاوند سے جھگرا کیا تھا۔ وہ خولہ بنت ثعلبہ تھی۔ اور اس کی ماں معاذہ تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی یعنی آیت ولا تکرہوا فتیتکم علی البغاء (النور : آیت 33) اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔ اور وہ عبداللہ بن ابی کی باندی تھی۔
Ayah 58:2اسلام میں سب سے پہلے ظہار کرنے والا
14۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ اسلام میں سب سے پہلے خویلہ کے خاوند نے ظہار کیا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کیا ہے اور وہ اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کرنے لگی نبی ﷺ نے اس سے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی چیز یعنی کوئی حکم نہیں آیا۔ اس نے کہا یارسول اللہ میں کس کے پاس جاؤں میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے وہ اسی حال پر تھی کہ اچانک وحی نازل ہوگئی۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت فتھریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ کہ اس سے جماع کرنے پہلے ایک غلام آزاد کرو پھر وحی رک گئی رسول اللہ ﷺ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر یہ آیات تلاوت فرمائیں اس نے کہا وہ اتنی وسعت نہیں پاتا کہ غلام آزاد کرے۔ نبی ﷺ نے فرمایا حکم تو اسی طرح ہے اس درمیان کہ وہ اسی حال پر تھی پھر وحی نازل ہوئی آیت فمن لم یجد فصیام شہرین متتابعین من قل ان یتماسا۔ اور وہ اس کو نہ پائے تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے جماع سے پہلے۔ پھر وحی رک گئی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور اس پر یہ آیت پڑھ تو اس نے کہا وہ ایک دن بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہی رکھتا۔ آپ نے فرمایا حکم تو اسی طرح ہے اس درمیان کہ وہ اسی حال پر تھی اچانک پھر وحی نازل ہوئی آیت فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا جو اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے پھر رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر اس آیت کو پڑھا تو اس نے کہا وہ کچھ نہیں پاتا (کہ مسکینوں کو کھانا کھلائے) یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا بلاشبہ عنقریب ہم اس کی مددکریں گے۔
15۔ عبد بن حمید نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے پندرہ صاع کھجور کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔
16۔ عبد بن ھمید نے ابو زید مدنی ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت جو کا آدھاوسق لے کر آئی تو نبی مکرم ﷺ نے اسے وہ دے دئیے جو کے دو مد، گندم کے ایک مد کے برابر ہیں۔
17۔ عبد بن حمید نے عبدالرحمن بن ابی لیلی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے جو کے پندرہ صاع کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔
18۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی سے ظہار کیا۔ اور اس وقت ظہار طلاق سے زیادہ سخت اور حرام کردہ چیزوں میں زیادہ حرام تھا۔ جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے ظہار کرلیتا تو وہ اس کی طرف کبھی نہ لوٹتی تھی۔ وہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا اے اللہ کے نبی ! کہ میرے خاوند اور میری اولاد کے باپ نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور اللہ کے سوا کوئی اس پر مطلع نہیں ہوگا کہ وہ اپنے فراق کے سبب مجھ پر داخل ہوگا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا۔ وہ کہہ چکا جو اس نے کہنا تھا۔ اس عورت نے کہا میں کیسے گزر بسر کروں گی اور اس نے اللہ کے ہاں التجا کی اور اپنی شکایت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ آیات کے آخرتک۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر۔ اس نے کہا زمین میں کوئی ایسا غلام نہیں جس کا میں مالک ہوں پھر آپ نے فرمایا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ؟ اس نے کہا یارسول اللہ ! میں بڑھاپے کو پہنچ چکا ہوں اور میر اسر چکراتا ہے اگر میں دن میں کئی بار نہ کھاؤں تو مجھے چکر آنے لگتے ہیں یہاں تک کہ میں گرپڑتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس کی وسعت نہیں پاتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ہم تیری مدد کریں گے۔
19۔ عبد بن حمید عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کی کہ اس نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے۔ اور ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میں سے کچھ نکال رہی تھی یا کہا کہ تیل لگا رہی تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور وہ عورت آپ کے سر مبارک سے کچھ نکال رہی تھی عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی کی بیوی سے کہا اور اس کا نام خولہ بنت ثعلبہ تھا اے خولہ ! کیا تو چپ نہیں ہوجاتی۔ حالانکہ تو آپ کو دیکھ بھی رہی ہے کہ وہ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں (نزول وحی کی کیفیت طاری ہے) تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو ایک غلام کے آزاد کرنے کو کہا تو اس نے کہا میں نہیں پاتا یعنی میرے پاس کوئی غلام نہیں کہ اس کو آزاد کروں پھر آپ نے اس کو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔ تو اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اگر میں ہر دن میں تین مرتبہ نہ کھاؤں تو مجھ پر مشقت پڑجاتی ہے تو پھر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے کہا میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر نبی ﷺ کے پاس کچھ کھجوریں آئیں تو آپ نے اس سے فرمایا اس کو لے لو اور ان کی تقسیم کردو۔ اس آدمی نے کہا کہ ان لابتین (یعنی کالی پتھریلی زمینوں) کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی فقیر نہیں۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تو خود کھالے اور اپنے گھروالوں کو کھلادے۔
20۔ عبد بن حمید یزید بن ہمدانی (رح) سے آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت خولہ بنت صامت ؓ تھیں۔ اور اس کا خاوند مریض تھا اس نے اس کو بلایا اس نے جواب نہ دیا اور آنے میں دیر لگائی۔ تو اس نے غصہ میں آکر کہا تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت فتحریر رقبۃ۔ ایک گردن آزاد کرنا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا ایک غلام آزاد کر، اس نے کہا میں نہیں پاتا۔ پھر فرمایا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ آپ میری مدد فرمائیں تو نبی مکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تو اور تیرے گھر والے اس کو کھائیں۔
21۔ ابن سعد نے عمران بن انس (رح) سے روایت کیا کہ اسلام میں سب سے پہلے اوس بن صامت ؓ نے ظہار کیا اور انہیں کو کچھ جنون تھا۔ اور کبھی ان کو افاقہ ہوجاتا تھا ایک دن اپنے افاقہ کی حالت میں وہ اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کے پاس آیا اور اسے کہہ دیا۔ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ پھر وہ نادم ہوا اور کہا میں تیرے بارے میں خیال نہیں کرتا مگر یہ کہ تو مجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ بیوی نے کہا کہ تو نے طلاق کا ذکر تو نہیں کیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور ان کو وہ بات بتائی جو اس نے کہی۔ راوی نے کہا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باربار اس کا تکرار کیا پھر کہنے لگی اے اللہ ! میں آپ کی طرف اپنی تنہائی اور سختی کی شدت کی شکایت کرتی ہوں۔ اور اس کی جدائی کے سبب جو گرانی مجھ پر ہوگی اس کا شکوہ آپ کی بارگاہ میں کرتی ہوں عائشہ ؓ نے فرمایا کہ وہ رونے لگی اور جو کوئی گھر میں تھا وہ وبھی اس پر رحمت اور نرمی کے جذبات کی وجہ سے رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی جب یہ کیفیت جاتی رہی تو آپ مسکرا رہے تھے اور فرمایا اے خولہ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں حکم نازل فرمادیا ہے آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا پھر فرمایا کہ اس کو یعنی اپنے خاوند کو حکم کر کہ ایک غلام آزاد کرے اس نے کہا وہ نہیں پاتا (یعنی اس کے پاس کوئی غلام نہیں) پھر فرمایا اس کو حکم کر کہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ اس نے کہا وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر فرمایا اس کو حکم کر کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیے اس نے کہا اس کے پاس کہاں سے کھانا آئے گا ؟ پھر آپ نے فرمایا کہ وہ ام المنذر بنت قیس کے پاس جائے۔ اور اس سے آدھا وسق کھجور لے لے۔ اور ساتھ مسکینوں پر صدقہ کرے۔ تو وہ اوسر ؓ کے پاس لوٹ آئی۔ تو اس نے پوچھا تیرے پیچھے کیا ہے یعنی تو کیا خبر لائی کہنے لگی خیر کی خبر ہے۔ حالانکہ تو برا ہے۔ پھر اس نے اس کو ساری بات بتائی۔ وہ ام المنذر کے پاس آیا اس سے وہ کھجوریں اٹھائیں اور ہر مسکین کو دو مد کھجور کے کھلانے شروع کیے۔
22۔ عبد بن ھمید نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کی طلاق زمانہ جاہلیت میں ظہار اور ایلا ہوتی تھی یہاں تک کہ اس نے وہ کہا جو تو نے سنا۔
23۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ اور بلاشبہ وہ ایک نامعقول اور جھوٹی بات ہے۔ میں ” الزور “ سے مراد ہے جھوٹ۔
24۔ ابن المنذر وابیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین یظہرون من نساۂم ثم یعودون لما قالوا۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ آدمی جو اپنی بیوی سے کہتا ہے تو میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ جب وہ یہ بات کہتا تو اس کے لیے جائز نہی کہ وہ مجامعت یا کسی اور غرض سے عورت کے قریب آئے یہاں تک کہ وہ ایک غلام آزاد کرے اگر اس کو نہ پائے تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ جماع کرنے سے پہلے اور ” المس “ سے مراد ہے نکاح اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے بیشک یہ تب ہے جب وہ ایسے کہہ دے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو اس سے ظہار واقع نہ ہوگا۔ جب تک وہ حانث نہ ہوجائے۔ جب وہ حانث ہوجائے تو وہ اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ کفارہ ادا کرے اور ظہار میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
25۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یعودون لما قالو۔ پھر وہ اپنی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں یعنی پھر وہ مس یعنی جماع کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔
26۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یعودون لما قالوا۔ یعنی پھر وہ لوٹنا چاہے وطی کی طرف۔
27۔ ابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی نے ظہار کے ساتھ نامعقول اور جھوٹی بات کہی تو اس پر کفارہ واجب ہوگا چاہے وہ حانث ہو یا نہ ہو۔
28۔ عبدالرزاق نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ظہار زمانہ جاہلیت میں طلاق تھی۔ تو ایک آدمی نے اسلام میں ظہار کیا اور وہ طلاق کا ارادہ رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کفارہ کا حکم نازل فرمایا۔
29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت من قبل ان یتماسا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے جماع مراد ہے۔
30۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاطعام ستین مسکینا سے مراد ہے کہ قسم میں طعام کھلانے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر مسکین کے لیے دو مد ہوں گے۔
31۔ ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہی جن میں ایک مد ہے۔ قسم کا کفارہ، ظہار کا کفارہ اور روزے کا کفارہ۔
کفارۂ ظہار کی تفصیل
32۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کفارۂ ظہار کا حکم فرمایا جس نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔
33۔ عطاء زہری اور قتادہ (رح) حضرات نے فرمایا کہ کفارۂ ظہار میں غلام کو آزاد کرنا روزرے رکھنا اور کھانا کھلانا ہر ایک ان میں عورت کے جماع کرنے سے پہلے ہے
34۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ظہار عورتوں کو حرام کردیتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلے اوس بن صامت ؓ نے ظہار کیا۔ اس کی بیوی خولہ بنت خویلد تھی۔ اور وہ آدمی ضعیف تھا اور اس کی عورت مضبوط تھی۔ جب وہ ظہار کی بات کرچکا تو کہا میں تجھ کو خیال نہیں کرتا مگر یہ کہ تو مجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ لہٰذا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس چلی جا۔ شاید کہ تو ایسی چیز حاصل کرسکے جو تجھے مجھ پر لوٹادے وہ گئی اور اس کا خاوند اس کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور ایک کنگھی کرنے والی آپ کے سر مبارک میں کنگھی کر رہی تھی۔ اس عورت نے کہا یارسول اللہ ! آپ جانتے ہی کہ اوس بن صامت ؓ رائے کے اعتبار سے کمزور ہے۔ اور اپنی قدرت اور طاقت کے اعتبار سے عاجز ہے۔ اس نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے۔ یا رسول اللہ ! میرے لیے کچھ تلاش کیجیے۔ آپ نے فرمایا اے خویلہ ! تیرے بارے میں ہم کو کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ اگر ہم کوئی حکم دئیے گئے تو میں تجھے مطلع کردوں گا اسی اثناء میں وہ کنگھی دینے والی آپ کے سر مبارک کے ایک طرف سے فارغ ہوگئی تھی۔ اور دوسری طرف میں شروع ہوئی تھی۔ اللہ جل شانہ نے حکم اتارا اور جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو اس وجہ سے آپ کا چہرہ مبارک پر سفیدی لوٹ آتی تھی پھر آپ بت کرتے تھے جو حکم دیا جاتا تھا۔ کنگھی کرنے والی نے کہا اے خویلہ بلاشبہ میرا بھی خیال ہے اب یہ وحی تیرے بارے میں ہے پس خوف اور کپکپی اس پر طاری ہوگئی پھر کہنے لگی اے اللہ ! میں تیرے ساتھ پناہ مانگتی ہوں کہ تو میرے بارے میں خیر کے سوا کچھ اتارے۔ کیونکہ میرے تیرے رسول سے خیر ہی چاہتی ہوں جب یہ کیفیت آپ سے جاتی رہی تو آپ نے فرمایا اے خویلد کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں نازل فرمادیا ہے اور تیرے شوہر کے بارے میں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ سے لے کر آیت فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ تک پھر کہنے لگی اللہ کی قسم ! یارسول اللہ میرے علاوہ اس کا کوئی خدمت کرنے والا نہیں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس کے سوا کوئی خدمت کرنے والا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت فمن لم یجد فصیام شہرین متتابعین اور کوئی نہ پائے تو لگاتار یہ دو ماہ کے روزے رکھے۔ اس عورت نے کہا اللہ کی قسم ! اگر وہ دن میں دو مرتبہ نہ کھائے تو اس کی آنکھیں چندھیاجاتی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا آیت یتماسا فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا۔ تو اس نے کہا اللہ کی قسم آج ہمارے پاس معمولی خوراک کے سوا کچھ نہیں ہے پھر آپ نے فرمایا اس کو حکم کر کہ وہ فلاں کے پاس جائے اور اس سے آدھا وسق کھجور کا لے لے اور ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرے اور تیرے طرف رجوع کرے۔
Ayahs 58:3–4کفارۂ ظہار میں غلام آزاد کرنا
35۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ سلمہ بن صخر الانصاری ؓ نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر ماں کی پیٹھ کی طرح بنادیا (یعنی اپنی بیوی سے ظہار کرلیا) پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے گویا کہ وہ اس کو گناہ سمجھ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے کہا نہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اے فروہ بن عمرو ! اس کو ایک عرق (کھجور) دے دو اور یہ ایک پندرہ یا سولہ صاع کا ایک پیمانہ ہے تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ اس نے کہا کیا مجھ سے زیادہ کوئی فقیر ہے اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے دمیان کوئی گھروالے ہم سے زیادہ محتاج نہیں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے پھر فرمایا اس کو اپنے گھروالوں کے پاس لے جا۔
36۔ عبد بن حمید وابن مردویہ و بیہقی نے السنن میں ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ خولہ بنت ود بیج انصار کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ وہ بڑے اخلاق والا، اندھا اور فقیر آدمی تھا۔ اور زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو جدا کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو یہ کہتا تھا تو میرے اوپر ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ۔ اس نے اسے کیس پریشانی میں مبتلا کردیا تو اس نے کہا تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو اس کے گھر کا ایک آدمی تھا یا دو آدمی تھے۔ پس جب اس نے اس کو کہتے ہوئے سنا جو اس نے کہا تو اس نے اپنے بچوں کو اٹھایا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑ کرگئی۔ اور حضر عائشہ ؓ کے پاس جاکر ٹھہر گئی اور جبکہ عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کے ایک حصہ کو دھو رہی تھیں۔ وہ عورت آپ کے پاس کھڑی ہوگئی۔ پھر کہنے لگی یارسول اللہ میرا خاوند فقیر ہے اندھا ہے اور برے اخلاق والا ہے میں نے اس سے کسی چیز میں جھگڑا کیا تو اس نے کہہ دیا تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے اور اس نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ تو اس پر حرام ہوچکی ہے۔ اس نے اپنی عاجزی ظاہر کی اور کہنے لگی میں اللہ کی طرف شکایت کرتی ہوں۔ جو مجھ پر مصیبت نازل ہوئی۔ عائشہ ؓ نے جب آپ کے سرمبارک کے دوسرے حصہ کو دھونے کے لیے دوسری جانب پھریں تو وہ عورت آپ کے ساتھ پھر گئی۔ اور اسی طرح پھر کہنے لگی اور مزید کہا کہ میرے اس سے ایک یا دو بچے ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنے سرمبارک کو اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا میں نہیں جانتا مگر یہ کہ تو اس پر حرام ہوچکی ہے۔ وہ رونے لگی اور کہنے لگی میں رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی مصیبت کی شکایت کر رہی ہوں۔ اور رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا تو عائشہ ؓ نے فرمایا پیچھے ہٹ جا چناچہ وہ بیٹھ گئی اور رسول اللہ ﷺ اسی حال پر رہے جتنا اللہ نے چاہا پھر وحی ختم ہوگئی تو فرمایا اے عائشہ وہ عورت کہاں ہے میں نے عرض کیا وہ یہ ہے فرمایا اس کو بلاؤ میں نے اس کو بلایا تو نبی ﷺ نے فرمایا جا اور اپنے شوہر کو لے آ۔ وہ دوڑتی ہوئی گئی اور ذرا تاخیر کے بغیر وہ آگئی اور اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آئی۔ وہ ایسا ہی تھا جیسے اس عورت نے کہا تھا۔ اندھا فقیر، اور برے اخلاق والا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں پناہ مانگتا ہوں اس سمیع علیم ذات کے ذریعہ شیطان رجیم سے آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی۔ آیت کے آخرتک۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو غلام پاتا ہے (کہ اس کو آزاد کرے) اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ میں اگر ایک یا دو یا تین مرتبہ دن میں نہ کھاؤ تو میں بےہوش ہوجاتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں مگر یہ کہ آپ اس میں میری مد فرمادیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی مدد فرمائی اور اس نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
37۔ البزار والحاکم والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا ہے پھر میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازب سفیدی کو دیکھا تو مجھے اچھی لگی تو میں اس پر واقع ہوگیا کفارہ ادا کرنے سے پہلے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا آیت من قبل ان یتماسا کہ جماع کرنے سے پہلے کفارہ ادا کرو۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! میں نے ایسا کرلیا۔ آپ نے فرمایا تو اس سے دور رہ اور رکا رہ اور یہاں تک کہ تو کفارہ ادا کرے۔
ظہار میں کفارہ سے پہلے ہم بستری جائز نہیں
38۔ عبدالرزاق وابو داوٗ والترمذی ولنسائی وابن ماجہ والحاکم والبیہقی نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر میں کفارہ دینے سے پہلے اس پر واقع ہوگیا۔ آپ نے فرمایا کس چیز نے تجھے اس پر آمادہ کیا ؟ اس نے کہا چاند کی روشنی میں اس کے پازیبوں کی چمک نے۔ آپ نے فرمایا اس کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تو وہ کام کرلے جس کا اللہ نے تجھ کو حکم فرمایا ہے۔
39۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید واحمد وابوداوٗ دوالترمذی وحسنہ وابن ماجہ والطبرانی والبغوی فی معجمہ والحاکم وصححہ والبیہقی نے مسلمہ بن صخر انصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا کہ عورت کے جماع کے وہ جذبات رکھے گئے جو میرے علاوہ کسی میں نہیں رکھے گئے۔ جب رمضان داخل ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ رمضان گزرتا رہا اور میں رات کے وقت اپنی بیوی سے علیحدہ رہا۔ ایک رات میں اس کا پیچھا کرتا رہا لیکن میں اس کے ساتھ چلنے پر قادر نہ ہوچکا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اس درمیان کہ وہ ایک رات میری خدمت کر رہی تھی۔ اچانک اس کی کوئی چیز مجھ پر ظاہر ہوگئی تو میں اس پر کود پڑا جب میں نے صبح کی تور صبح سویرے میں اپنی قوم کے پاس گیا اور میں نے اس کو ساری صورت بتائی اور میں نے ان سے کہا میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف چلو۔ اور میرے معاملہ کی ان کو اطلاع دو ۔ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں قرآن نازل نہ ہوجائے یا ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ ایسی بات فرمادیں گے کہ اس کی عار اور شرم ہم پر باقی رہے۔ لیکن تو خود جا۔ اور ان کو بتلا جو کچھ تجھ سے ہوا میں نکلا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اپنی خبر بتائی آپ نے فرمایا تو نے اس طرح کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا تو نے وہ کام کیا ؟ میں نے کہا ہاں میں نے کام کیا پھر فرمایا تو نے وہ کام کیا ؟ میں نے کہا ہاں میں نے یہ کام کیا اور میں ہی یہاں حاضر ہوں پس آپ میرے بارے میں اللہ کا حکم نافذ کیجیے میں اس میں صبر کرنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا ایک غلام آزاد کر اور میں نے اپنا ہاتھ اپنی گردن پر مارا اور کہا نہیں (میں غلام آزاد نہیں کرسکتا) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس بیوی کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں پھر آپ نے فرمایا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ میں نے عرض کیا جو مجھے پیش آیا۔ اور روزوں کے درمیان ہی مجھے نہیں پیش آیا ؟ پھر آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلاؤ۔ میں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم نے اور میرے بیٹوں نے اپنی یہ رات اس حال میں گزاری ہے کہ ہمارے شام کے کھانے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ آپ نے فرمایا بنو زریق کے صدقہ والے کی طرف جاؤ اور اس کو صدقہ کے بارے میں کہو کہ وہ تجھ کو صدقہ کا مال عطا کرے۔ اور پھر تو اپنی طرف سے اس میں سے ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ پھر ان تمام سے اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے مدد لے لے۔ تو میں اپنی قوم کی طرف لوٹ آیا۔ اور میں نے کہا کہ میں نے تمہارے پاس تنگی اور بری رائے کا پایا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس وسعت اور برکت کو پایا۔ آپ ﷺ تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیا ہے تو ان لوگوں نے اس کو صدقہ کا مال دے دیا۔
Ayahs 58:5–61۔ فریابی وعبد بن حید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یحادون “ (وہ مخالفت کرتے ہیں) یعنی جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔
2۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یحادون اللہ ورسولہ۔ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑا کر رہے ہیں۔ آیت کبتوا کما کبت الذین من قبلہم۔ وہ دنیا میں ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے۔ یعنی ان کو اس طرح ذلیل ورسوا کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو ذلیل ورسوا کیا گیا۔
Ayahs 58:7–83۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت مایکون من نجوی ثلثۃ الا ہوا رابعہم ولا خمسۃ الا ہوسادسہم۔ کوئی تین کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چوتھا نہ ہو اور کوئی پانچ کی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں وہ چھٹا نہ ہو یعنی وہ اللہ عرش پر ہیں اور ان کا علم ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
4۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین نہوا عن النجوی۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا۔ یعنی یہودیوں کو۔
سرگوشی کی ممنوع صورت
5۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور یہودیوں کے درمیان صلح تھی جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تھا تو وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتے۔ یہاں تک کہ مومن گمان کرتا کہ وہ لوگ آپس میں میرے قتل کے لیے سرگوشی کر رہے ہیں یا ایسی سرگوشیاں کرتے تھے جس کو مومن ناپسند کرتا تھا۔ جب مومن اس سرگوشی کو دیکھتا تو ان سے ڈرتا اور ان کا راستہ چھوڑدیتا۔ تو نبی مکرم ﷺ نے ان کو سرگوشی سے منع فرمایا مگر وہ باز نہ آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت الم تر الی الذین نہوا عن النجوی۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کیا گیا تھا۔
6۔ احمد وعبد بن حمید وبزار وابن المنذر و طبرانی وابن مردویہ اور بیہقی شعب الایمان میں جید سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے۔ ” سام علیکم “ یعنی تم پر موت ہو۔ اور اسے وہ آپ کو برا کہنے کا ارادہ کرتے تھے۔ پھر اپنے دلوں میں کہتے تھے۔ آیت لو لا یعذبنا اللہ بما نقول۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو عذاب کیوں نہیں دیتے جو ہم کہتے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے سلام کے لیے استعمال نہیں کیا۔
7۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری والترمذی وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک یہودی نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس آیا اور آکر کہا ” السام علیکم “ تم پر موت ہو تو صحابہ کرام ؓ نے ان کو جواب دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ہم نہیں جانتے۔ پھر فرمایا بلکہ اس نے اس طرح اور اس طرح کہا ہے تم اس کو میرے پاس لے آؤ۔ صحابہ ؓ اس کو آپ کے پاس لے آئے۔ تو آپ نے اسے فرمایا کیا تو نے ” السام علیکم “ کہا تھا (تم پر موت ہو) اس نے کہا ہاں (تونے ایسے ہی کہا تھا) نبی ﷺ نی اس وقت فرمایا جب اہل کتاب میں سے تم کو کوئی سلام کرے تو تم کہو (وعلیکم) تم پر وہی جو تو نے کہا اسی کو فرمایا آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔
یہودیوں کی شرارت
8۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے شعب میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ” السام علیکم “ اے ابو القاسم حضرت عائشہ نے یہ سن کر کہا اور تم پر موت ہو اور لعنت ہو آپ نے فرمایا اے عائشہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدکلامی کو پسند نہیں فرماتے۔ میں نے کہا کیا آپ نے ان کو نہیں سنا جو وہ کہہ رہے تھے ” السام علیکم “ آپ پر موت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا جو کچھ میں نے کہا یعنی ” وعلیکم “ (اور تم پر بھی ایسے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ نازل فرمائی۔
9۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ منافق جب رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے تو یوں کہتے تھے ” سام علیک “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودی یوں کہتے تھے ” سام علیکم “ (تم پر موت ہو) ۔
Ayahs 58:9–1011۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب کوئی فوجی دستہ بھیجتے تو اسے جنگ کرنے پر آمادہ کرتے تو منافقین آپس میں ملتے اور مسلمانوں کو دیکھ کر اپنے سروں کو ہلاتے اور کہتے تھے کہ یہ قوم یعنی صحابہ مارے جائیں اور جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپس میں سرگوشیاں کرتے اور غم کو ظاہر کرتے تو یہ بات نبی ﷺ اور مسلمانوں کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالثم والعدوان الایۃ اے ایمان وال ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی سرگوشیاں نہ کرو۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافق آپس میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ اور اس سے وہ مسلمانوں کو غصہ دلاتے تھے اور ان پر تکبر اور بڑائی کا اظہار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت انما النجوی من الشیطان الایۃ۔ بلاشبہ سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے۔
3۔ بخاری ومسلم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کرو تیسرے کو چھوڑ کر۔ کیونکہ یہ بات اس کو غم میں ڈالے گی۔
رسول اللہ ﷺ کے پہریدار
4۔ ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کے وقت باری باری ہوا کرتے تھے۔ کہ آپ کو کوئی واقعہ پیش آجائے یا آپ کسی طرح کا حکم فرمائیں پس کسی رات باریوں والے اور پہرے دار زیادہ ہوجاتے یہاں تک کہ جب ہم آپس میں باتیں کرنے لگتے تو ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ رات کے وقت تشریف لاتے تو آپ فرماتے یہ کیا سرگوشیاں ہیں کیا تم سرگوشیوں سے منع نہیں کیے گئے۔
Ayah 58:115۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت تفسحوا فی المجالس الف کے ساتھ آیت فافسحوا یفسح اللہ لکم (مجلس میں جگہ کھول دیا کرو اور اللہ تم کو کھلی جگہ جنت میں دے گا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قتال میں کشادگی کردے گا۔ آیت واذا قیل انشزوا فانشزوا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو۔ یعنی جب کہا جائے کہ واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جاؤ۔
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجٰلس کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ کی مجلس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجٰلس فافسحوا یفسح اللہ لکم۔
7۔ عبد بن حمید وعبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت اذا قیل لکم تفسحوا الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت مجالس ذکر کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے کہ جب وہ لوگ کسی کو سامنے سے آتا دیکھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کے بیٹھنے کی جگہ نہ چھوڑتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ بعض بعض کے لیے جگہ کو کھول دیا کریں۔
8۔ ابن المنذر نے حسن (رح) نے اس آیت میں روایت کیا کہ وہ لوگ آتے تھے اور جڑ جڑ کر بیٹھ جاتے تھے۔ اس طرح پر کہ بعض ان کا بعض کے پیچھے ہوتا تھا۔ تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ مجلس میں جگہ کھول دیں۔ تو ان کے بعض نے بعض کے لیے جگہ کھول دی۔
9۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ اور رسول اللہ ﷺ اس دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور جگہ میں تنگی تھی آپ مہاجرین اور انصار میں سے بدر والوں کا اکرام فرماتے تھے۔ کچھ لوگ اہل بدر میں سے آئے اور وہ مجلس کی طرف آگے بڑھے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے نبی ﷺ کو سلام کیا آپ نے ان کے سلام کو جواب دیا۔ پھر انہوں نے صحابہ ؓ کو سلام کیا انہوں نے بھی ان کو جواب دیا وہ اپنے پاؤں پر کھڑے رہے انتظار کرتے ہوئے کہ ان کے لیے جگہ کو کھول دیا جائے گا۔ نبی ﷺ نے سمجھ لیا کہ کس چیز نے ان کو کھڑا ہونے پر آمادہ کیا ہے کہ ان کے لیے جگہ کو نہیں کھولا گیا۔ تو یہ بات آپ پر بھاری گزری۔ْ آپ نے اپنے ارگرد کے مہاجرین اور انصار میں سے اہل بدر کے علاوہ دوسرے لوگوں سے فرمایا اے فلاں کھڑا ہوجا اور اے فلاں تو بھی کھڑا ہوجا۔ اہل بدر میں سے جتنے لوگ کھڑے تھے ان کی تعداد کے برابر آپ نے لوگوں کو اٹھادیا۔ تو جن کو آپ کی مجلس سے اٹھایا گیا۔ ان پر بھی یہ بات بھاری گذری۔
مجلس میں آنے والے کے لیے کشادگی پیدا کرنا
10۔ بخاری ومسلم نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی کسی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے کھڑا نہ کرے پھر خود اس میں بیٹھ جائے لیکن تم آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کردو اور اسے وسیع کردو۔
11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس کے بارے میں روایت کیا یہ کہ یہ قتال کی مجلس کے بارے میں ہے آیت واذاقیل انشزوا اور جب کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو۔ یعنی کسی خیر کے کام اور نماز کی طرف اٹھو۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قیل انشزو یعنی جب کہا جائے اٹھو ہر بھلائی کی طرف مثلا دشمن کے خلاف جنگ کرنا اور نیکی کا حکم کرنا یا حق کو ثابت کرنا جو بھی ہو۔
13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت واذا قیل انشزوا فانشزوا کے بارے میں روایت کیا کہ جب تم خیر کی طرف بلائے جاؤ تو اس دعوت کو قبول کرو۔
14۔ ابن المنذر والحکام وصححہ وابیہقی نے المدخل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت۔ اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کو اور ان لوگوں کو جن کو علم دین عطا کیا گیا آخرت میں درجے بلند کردے گا۔ یعنی اللہ ان لوگوں کو بلند کردے گا درجات میں جو علم دئیے گئے ان ایمان والوں پر جو علم نہیں دئیے گئے۔
15۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا اللہ تعالیٰ نے علماء کو قرآن کی کسی آیت میں اس طرح خاص نہیں فرمایا جیسا اس آیت میں خاص فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان ایمان والوں کو فضیلت دی جو علم دئیے گئے ان ایمان والوں پر جو علم نہیں دئیے گئے۔
Ayahs 58:12–131۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا ناجیت الرسول جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرو سے مراد ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے سوال پوچھتے تھے یہاں تک کہ آپ پر یہ معاملہ سخت ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے نبی اکرم ﷺ سے اس بوجھ کو ہلکا کردے۔ چناچہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے اور مسائل پوچھنے سے رک گئے۔ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ءا شفقتم کیا تم ڈرگئے الایۃ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وسعت فرمادی اور ان پر تنگی نہیں فرمائی۔
مشورہ کے لیے صدقہ کرنے کا حکم
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید و ترمذی وحسنہ وابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والنحاس نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت۔ اے ایمان والو جب تم سرگشی کرنے لگو تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کرلو تو مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو ایک دینار کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے میں نے عرض کیا وہ اس کی طاقت نہ رکھیں گے پھر آپ نے فرمایا نصیف دینار کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا پھر کتنا ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا ایک جو۔ آپ نے فرمایا بیشک تو بڑی بےرغبتی کرنے والا ہے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت۔ کیا تم اپنی سرگوشی سے قبل صدقہ کرنے سے ڈر گئے۔ یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے تخفیف فرمادی۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ میرے علاوہ کسی نے اس آیت کے مطابق عمل کیا یہاں تک کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ آیت نجوی کا حکم نہیں تھا مگر ایک ساعت کے لیے۔
4 سعید بن منصور وابن راہویہ وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ مجھ سے پہلے کسی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گ۔ اور آیت نجوی ہے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا ناجیت الرسول فقدموا بین یدی نجوکم صدقہ۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں اس کو دس دراہم کے عوض بیچا اور جب بھی میں نبی اکرم ﷺ سے سرگوشی کی تو آپ کے سامنے ایک درہم پیش کیا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا تو کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور یہ آیت نازل ہوئی آیت ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت۔ کیا تم اپنی سرگوشیوں سے پہلے صدقہ کرنے سے ڈر گئے۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا یہاں تک کہ وہ پہلے صدقے کریں تو سوائے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے کسی نے سرگوشی نہیں کی۔ کیونکہ انہوں نے ایک دینار پہلے صدقہ کیا۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ سے سرگوشی کی اور آپ سے دس خصلتوں کے بارے میں پوچھا پھر رخصت نازل ہوگئی کہ بغیر صدقہ کیے سرگوشی کرسکتے ہو۔
6۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جو کوئی نبی ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک دینار صدقہ کرتا اور سب سے پہلے حضرت علی ؓ نے یہ عمل کیا پھر رخصت نازل ہوگئی اور فرمایا آیت فاذلم تفعلوا وتاب اللہ علیکم۔ جب تم اس کو نہ کرسکے تو اللہ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی۔
7۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ مالدار لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور بہت زیادہ آپ کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے اور مجالس میں غریب لوگ غالب آجاتے تھے یہاں تک کہ نبی ﷺ ان کے دیر تک بیٹھنے اور لمبی سرگوشیوں کو ناپسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا اس حکم پر تنگدست لوگوں نے تو صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ پایا اور یہ حکم دس راتوں تک رہا۔ لیکن جو لوگ وسعت والے تھے ان میں سے بعض نے اپنے مالوں کو روک لیا اور اپنے آپ کو پابند کردیا مگر ان میں سے کچھ لوگوں نے سرگوشی سے پہلے صدقہ دینا شروع کردیا۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ ایک آدمی کے سوا مہاجرین اہل بدر میں سے کسی نے یہ کام نہیں کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ءاشفقتم اتاری۔
8۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کی کہ جب یہ آیت یا ایہالذین اٰمنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجویٰکم صدقۃ نازل ہوئی تو میں ایک جو لے کر آیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بڑی بےرغبتی کا اظہار کرتے ہو تو پھر دوسری آیت نازل ہوئی ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوٰکم صدقت۔
9۔ ابوداوٗد فی ناسخہ وابن المنذر عطاء الخراسانی کے طریق ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مجادلہ کی اس آیت اذا ناجیتم الرسول الاٰیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ سب سے پہلے اس آیت کے حکم پر علی ؓ نے عمل کیا پھر یہ آیت منسوخ کردی گئی۔ واللہ اعلم۔