57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 57:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں وہ سب جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کے لیے سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی، وہی حیات دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الحدید مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ والبیہقی نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة الحدید مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 3 طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة حدید منگل کے دن نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بھی منگل کے دن پیدا فرمایا اور آدم علیہ السلا کے بیٹے نے اپنے بھائی کو منگل کے دن قتل کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے منگل کے دن پچھنے لگوانے سے منع فرمایا۔ 4۔ الدیلمی نے جابر ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تم لوگ منگل کے دن پچھنے نہ لگواؤ کیونکہ سورة حدید مجھ پر منگل کے دن نازل ہوئی۔ 5۔ احمد وابوداوٗد والترمذی وحسنہ ولنسائی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے مسبحات (سبح سے شروع ہونے والی سورتیں) پڑھتے تھے۔ اور فرمایا کہ ان کے اندر ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔ 6۔ ابن الضریس نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ مسبحات پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان کے اندر ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ یحییٰ نے فرمایا ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ آیت سورة حشر کے آخر میں ہے (یہ روایت مرسل ہے) حضرت عمر بن خطاب ؓ کا اسلام قبول کرنا 7۔ البزار وابن عساکر وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیۃ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف سب سے زیادہ سخت تھا اس درمیان کہ میں گرم دن میں دوپہر کی گرمی کے وقت مکہ کے بعض راستوں پر چل رہا تھا۔ اچانک ایک آدمی مجھ سے ملا۔ اور اس نے کہا اے ابن خطاب ! تیرے لیے عجیب بات ہے تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے اور تیرے گھر میں اسلام داخل ہوچکا ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے ہے ؟ اس نے کہا یہ تیری بہن اسلام لاچکی ہے۔ تو میں شدید غصہ میں لوٹا یہاں تک کہ (بہن کے گھر کا) دروازہ کھٹکھٹایا۔ پوچھا گیا کون ہے ؟ میں نے کہا عمر ہوں۔ انہوں نے جلدی کی اور مجھ سے چھپ گئے اور جو صحیفہ اپنے سامنے رکھ کر پڑھ رہے تھے انہوں نے اس کو وہیں چھوڑدیا یا اس کو بھول گئے۔ میں اندر داخل ہوا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔ میں نے صحیفہ کی طرف دیکھا اور میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ اس کو مجھے دو بہن نے کہا تو اس کے لینے کے قابل نہیں ہے تو نے جنابت سے غسل نہیں کیا۔ اور نہ تو پاک ہوا اور اس کتاب کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگاسکتے ہیں پس میں برابر مانگتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے مجھ کو دے دیا۔ میں نے اس کو کھولا تو اس میں اچانک بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا۔ جب میں نے الرحمن الرحیم پڑھا تو میں خوف زدہ ہوگیا۔ میں نے وہ صحیفہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا۔ پھر میں نے اپنے دل کی طرف رجوع کیا۔ اور اس صحیفہ کو پھر اٹھا لیا تو اس میں آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سبح للہ مافی السموت والارض۔ لکھا ہو تھا۔ جب میں اللہ کے ناموں میں سے ایک نام پڑھتا تو میں خوف زدہ ہوجاتا۔ میں اپنی ذات کی طرف رجوع کرتا یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا۔ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کا چھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو تو میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں (میرے کلمہ پڑھنے پر) صحابہ کرام ؓ خوشخبری دیتے ہوئے باہر نکل آئے اور نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ 8 ابو الشیخ نے العظمہ میں ابوالاسود (رح) سے روایت کیا کہ جالوت کے سردار نے کہا کہ تورات میں صرف حلال و حرام کا ذکر ہے تمہاری کتاب میں سب کچھ موجود ہے۔ یعنی آیت ” سبح للہ ما فی السموت والارض “ اللہ کے لیے تسبیح بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ اور تورات میں یوں ہے ” یسبح للہ الطیر والسباع “ اللہ کے لیے تسبیح بیان کرتے ہیں پرندے اور درندے۔ 9۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی وابو الشیخ نے العظمہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے اچانک ان پر ایک بادل آیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا ی بارش کا بادل ہے۔ یہ زمین کو سیراب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کی طرف چلا رہے ہیں جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اور نہ اس کو پکارتے ہیں۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں یہ پہلا آسمان ہے جو محفوظ چھت ہے اور رکی ہوئی موج ہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اور تمہارے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر فرمایا تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال کا راستہ ہے۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر فرمایا اس کے اوپر دو آسمان ہیں ان کے درمیان پانچ سو سال کا راستہ ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان شمار فرمائے ہر دو آسمانوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسے زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہ۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ فرمایا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں پھر فرمایا اس کے اوپر عرش ہے اور عرش اور ساتویں آسمان کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ہر دو آسمانوں کے درمیان ہے۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا وہ زمین ہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا اس زمین کے نیچے دوسری زمین ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے سات زمینوں کو شمار فرمایا اس طرح پر کہ ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا راستہ ہے۔ پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ اگر تم اپنے میں سے کسی کو رسی کے ساتھ باندھ کر نیچے والی زمین کی طرف لٹکادو تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ پر جاکر گرے گا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت ” ہو الاول والاخر والظاہر والباطن۔ وہو بکل شیء علیم “ وہی سب سے اول ہے اور وہی سب سے آخر ہے۔ اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا بعض اہل علم نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کے علم اس کی قدرت اور اس کی سلطنت پر آگرے۔ 10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ اگر تم میں سے کسی کو ساتویں زمین کی طرف رسی کے ساتھ لٹکایا جائے تو وہ یقیناً اپنے رب پر آپہنچے گا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت۔ ہو الاول والاٰخر والظاہر والباطن۔ وہو بکل شیء علیم۔
Ayahs 57:3–6

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اول ہے وہی آخر ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا۔ وہ جانتا ہے اس چیز کو جو زمین کے اندر ہوتی ہے اور جو اس میں سے نکلتی ہے اور جو آسمانوں سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں بھی ہو اور وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھتا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور ہی کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کی باتوں کو جانتا ہے۔

ایک مخصوص دعاء 11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللہم انت الاول فلا شیء قبلک وانت الاٰخر فلاشیء بعد اعوذبک من شر کل دابۃ ناصیتہا بید واعوذبک من الاثم والکسل ومن عذاب النار ومن عذاب القبر ومن فتنۃ الغنی ومن فتنۃ الفقر واعوذبک من الماثم والمغرم۔ ترجمہ : اے اللہ آپ ہی سب سے اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور آپ ہی آخر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ہر جانور کے شر سے کہ اس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ سے پناہ لیتا گناہ سے اور سستی اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے سے اور فقر واخلاص کے فتنے سے اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض کے فتنے سے۔ 12۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وحسنہ اور البیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور ایک خادم کا سوال کیا آپ نے ان سے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو۔ اللہم رب السموات السبع ورب العرش العظیم ربنا ورب کل شیء منزل التوراۃ والانجیل والفرقان فالق الحب والنوی اعوذبک من شکر کل ذی شر انت اخذ بناصیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاٰخر فلیس بعد شیء وانت الظاہر فلیس فوق شیء۔ وانت الباطن فلیس دونک شیء۔ اقض عنا الدین واغننا من الفقر۔ ترجمہ : اے اللہ سات آسمانوں کرب اور بڑے عرش کے رب ہمارے رب اور ہر چیز کے رب تورات انجیل اور فرقان کے اتارنے والے دانے اور گٹھلی کے پھارنے والے ! میں آپ سے ہر شر والی چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ ہی اس کی پیشانی پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ ہی سب سے پہلے آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں آپ ہی سب سے آخر ہیں۔ آپ کے بعد کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی ظاہر ہیں آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی باطن ہیں آپ کے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ ہماری طرف سے قرضہ ادا کردیجیے اور فقیری سے ہم کو غنی بنادیجیے۔ نیند سے بیداری کے بعد کی خاص دعاء۔ 13۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابن مردویہ اور البیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نیند کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللہم رب السموات السبع ورب العرش العظیم ربنا ورب کل شیء منزل التوراۃ والانجیل والفرقان فالق الحب والنوی اعوذبک من شکر کل ذی شر انت اخذ بناصیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاٰخر فلیس بعدک شیء وانت الظاہر فلیس فوقک شیء۔ وانت الباطن فلیس دونک شیء۔ اقض عنا الدین واغننا من الفقر۔ ترجمہ : اے اللہ سات آسمانوں کے رب اور بڑے عرش کے رب ہمارے رب اور ہر چیز کے رب تورات انجیل اور فرقان کے اتارنے والے دانے اور گٹھلی کے پھارنے والے ! میں آپ سے ہر شر والی چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ ہی اس کی پیشانی پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ ہی سب سے پہلے آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں آپ ہی سب سے آخر ہیں۔ آپ کے بعد کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی ظاہر ہیں آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی باطن ہیں آپ کے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ ہماری طرف سے قرضہ ادا کردیجیے اور فقر و افلاس سے ہم کو غنی بنادیجیے۔ 14۔ البیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جو دعائیں کیا کرتے تھے ان میں سے یہ دعا بھی تھی۔ یا کائن قبل ان یکون شیء والمکون لکل شیء والکائن بعد مایکون شیء اسالک بلحظۃ من لحظاتک الحافظات الوافرات الراجیات المنجیات ترجمہ : اے ہر چیز سے پہلے ہونے والے اور ہر چیز کو پیدا فرمانے والے، اے وہ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی میں تیری آزمائشوں اور تنگیوں میں سے ہر تنگی کے بارے میں تجھ ہی سے وافر حفاظت اور نجات دلانے والی امیدوں کا سوال کرتا ہوں۔ 15۔ ابن ابی الدنیا اور البیہقی نے محمد بن علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ایک دعا سکھائی جب آپ کسی مشکل میں پڑجاتے تو آپ وہ دعا مانگا کرتے تھے اور علی ؓ اپنی اولاد کو یہ دعا سکھاتے تھے۔ (اور وہ یہ تھی) یا کائن قبل کل شیء ویا مکون کل شیء ویا کائن بعد کل شیء افعل بی کذا وکذا۔ ترجمہ : اے موجود ہر چیز سے پہلے اور ہر چیز کے پیدا کرنے والے اور ہر چیز سے بعد موجود رہنے والے تو میرا فلاں فلاں کام کردے۔ 16۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے ہو الاول قبل کل شیء والاٰخر بعد کل شیء والظاہر فوق کل شیء والباطن اقرب من کل شیء۔ ترجمہ : یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے اور وہی ہر چیز کے بعد ہے وہی ہر چیز سے اوپر ہے اور وہی ہر چیز سے قریب تر ہے۔ حالانکہ وہ اپنی شان کے مطابق اپنے عرش کے اوپر ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ آیت ہوالذی خلق السموت والارض فی ستتہ ایام۔ وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ ان میں سے ہر دن کی مقدار ہزار سال ہے پھر قرار پکڑا عرش پر وہ اس قطرے کو بھی جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو چیز بھی زمین میں سے نکلتی ہے سبزے میں سے اور جو چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے بارش سے اور جو چیز اس میں چرھتی ہے یعنی آسمان کی طرف فرشتوں میں سے ان سب کو جانتا ہے اور وہ ذات تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہوتے یعنی ہوہ اپنی قدرت اور اپنی سلطنت کے ساتھ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ اور اس کا علم بھی تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہوتے ہو اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔ 17۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عمر اور ابو سعید ؓ دونوں سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا برابر لوگ ہر چیز کے بارے میں سوال کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہیں وہ ہر چیز سے پہلے ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے پہلے کیا تھا سو اگر وہ تم کو یہ بات کہیں تو تم یوں کہو وہ ہر چیز سے پہلے ہے اور وہی سب سے آخر ہے ان کے بعد کوئی چیز نہیں اور وہی ظاہر یعنی غالب ہے اس کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ وہی باطن ہے یعنی ہر چیز کے قریب ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ 18۔ ابو داوٗد نے ابو زمیل (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ میں نے کہا کوئی حقیقت نہیں اس چیز کی جو میں اپنے سینے میں پاتا ہوں۔ پوچھا وہ کیا ہے ؟ میں نے کہ اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں بات نہیں کروں گا۔ پھر مجھ سے فرمایا کیا کوئی چیز شک میں سے ہے اور ضحک یعنی مذاق ہے پھر فرمایا اس سے کوئی محفوظ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت فان کنت فی شک مما انزلنا الیک (الایۃ) اگر آپ شک میں ہیں اس چیز کے بارے میں جو ہم نے آپ کی طرف اتاری اور مجھ سے فرمایا جب تو اپنے دل میں کسی چیز کو پائے تو یوں کہہ آیت ہو الاول والاٰخر والظاہر والباطن۔ وہو بکل شیء علیم۔ وہی اول ہے آخر ہے اور ظاہر ہے اور باطن ہے اور ہو ہر چیز کو جاننے وال ہے۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہو معکم این ماکنتم۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہوتے ہو۔ یعنی وہ تم کو جانتا ہے جہاں تم ہوتے ہو۔ 20۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ ان سے آیت وہو معکم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ ان کا علم تمہارے ساتھ ہے۔ 21۔ ابن مردویہ والبیہقی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کے افضل ایمان میں سے یہ ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے جہاں وہ ہوتا ہے۔ 22۔ ابن النجار نے تاریخ بغداد میں ضعیف سند کے ساتھ براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے علی ؓ سے کہا اے امیر المومنین ! میں آپ سے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ خاص اسم اعظم بتائیے جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خاص طور پر بتایا اور آپ کو جبرئیل (علیہ السلام) نے خاص طور پر بتایا اور جبرئیل (علیہ السلام) کو وہ عطا فرما کر رحمن نے بھیجا۔ تو آپ نے فرمایا جب تو ارادہ کرے کہ تو اسم اعظم کے ساتھ دعا کرے تو سورة حدید کے شروع میں سے چھ آیات تا آیت وہو علیم بذات الصدور “ اور سورة حشر کی آخر کی چار آیات تک پڑھ لے پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھ اکر یوں کہہ یامن ہو ہکذا سالک بحق ہذہ الاسماء ان تصلی علی محمد وان تتفعل بی کذا وکذا۔ اے وہ جو اس طرح ہے میں آپ سے ان ناموں کے طفیل سے سوال کرتا ہوں اور محمد ﷺ پر درود پڑھے اور تو اس اس طرح کہ جو تو ارادہ رکھتا ہے اور اللہ کی قسم ! کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یقینی طور پر جو تیری حاجت اور التجاء کو قبول کرلے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayahs 57:7–11

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں تم کو اس نے دوسروں کا قائم مقام بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو، سو جو لوگ تم میں سے ایما لے آئیں اور خرچ کریں ان کو بڑا ثواب ہوگا

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تم کو اس کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اللہ نے تم سے عہد لیا تھا، اگر تم کو ایمان لانا ہو

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ ایسا ہے کہ اپنے بندہ پر صاف صاف آیتیں بھیجتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائے، اور بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا شفیق ہے اور مہربان ہے

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ سب آسمانوں کی اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے خرچ کرچکے اور لڑ چکے وہ برابر نہیں ہیں وہ لوگ درجہ میں ان لوتوں سے بڑے ہیں، جنہوں نے بعد میں خرچ کیا، اور اللہ تعالیٰ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کوئی شخص ہے جو اللہ کو قرض حسن دے پھر اللہ کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے اجر پسندیدہ ہے

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰمنو باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ۔ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرو یعنی اس رزاق میں سے جو اس نے تم کو زندگی گزارنے کے لیے کثرت سے عطا فرمایا ہے آیت وقد اخذ میثاقکم اور خود خدا نے تم سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا تھا یعنی ابھی تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے آیت لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت 2۔ سعید بن منصور وابن المنذر وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح۔ جو لوگ فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ کرچکے۔ یعنی جو فتح مکہ سے پہلے اسلام لا چکے۔ آیت وقتل۔ اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقٰتلوا۔ یعنی وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے۔ یعنی وہ اسلام لائے آپ فرماتے ہیں کہ وہ برابر نہیں ہے جس نے ہجرت کی اور جس نے ہجرت نہیں کی۔ آیت وکلا وعداللہ الحسنی۔ اور اللہ نے بھلائی یعنی ثواب کا وعدہ سب سے کیا ہے۔ یعنی جنت کا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح۔ یعنی دو جگہیں ہیں ایک ان میں سے افضل ہے دوسری سے۔ اور دو خرچے ہیں ایک ان میں سے افضل ہے دوسرے سے پھر فرمایا کہ مال خرچ کرنا اور جنگ لڑنا فتح مکہ سے پہلے افضل ہے فتح مکہ کے بعد خرچ کرنے اور لڑنے سے آیت وکلا وعدہ اللہ الحسنی۔ میں الحسنی سے مراد جنت ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ نازل ہوئی تو ابوالدحداح ؓ سنے فرمایا۔ اللہ کی قسم ! میں آج کے دن ایسا خرچ کروں گا۔ کہ میں اس کے ذریعہ اپنے سے پہلے لوگوں کے درجات کو پالوں گا اور اس کے بعد بھی کوئی مجھ سے سبقت نہیں لے جاسکے گا پھر کہا اے اللہ ! ہر وہ چیز جس کا ابوالدحداح مالک ہے۔ بلاشبہ اس کا آدھا اللہ کے لیے ہے حتی کہ اپنا ایک جوتا بھی اتار دیا اور کہا یہ بھی صدقہ ہے۔ 5۔ سعید بن منصور نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس ایک قوم یہاں سے آئے گی اور اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے حقیر سمجھوگے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم بہتر ہیں یا وہ ؟ فرمایا بلکہ تم بہتر ہو۔ اگر یمن میں سے کوئی احد کے برابر سونا خرچ کرے گا تو وہ تم میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف کو بھی نہیں پس کے گا۔ سو یہ آیت ہمارے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے یعنی آیت لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلو۔ 6۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور ابونعیم نے دلائل میں زید بن اسلم کے طریق سے عطاء بن یسار سے روایت کیا اور انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عفان میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے حقیر سمجھو گے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کون ہیں کیا وہ قریش میں ہوں گے ؟ فرمایا نہیں لیکن وہ یمن والے ہوں گے۔ ان کے دل انتہائی نرم اور ملائم ہوں گے۔ پھر ہم نے عرض کیا کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے ؟ یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ تم میں س کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ اور یہ آیت لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ ہمارے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کن ہے۔ 7۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کے درمیان کوئی بات ہوئی۔ خالد ؓ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے فرمایا کہ تم چند دن اسلام قبول کرنے میں ہم سے آگے ہو اور ہم پر سبقت لے گئے ہو۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا میرے صحابہ ؓ کو میرے پاس لے آؤ پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم احد کے برابر یا پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کردو تم ان کے اعمال کو نہیں پہنچ سکتے۔ 8۔ احمد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم بہتر ہیں یا وہ جو ہمارے بعد ہوں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ان میں سے کسے نے احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردیا تب بھی وہ تم میں سے کسی کے ایک مد خرچ کرنے بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ صحابہ کی برائی کی ممانعت 9۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗد اور ترمذی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ ؓ کو برانہ کہو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے بابر سونا بھی اللہ کے لیے خرچ کرے۔ تو وہ ان صحابہ ؓ کے ایک مد یا ان کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ 10۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ کے صحابہ کو برا نہ کہو ان کا ایک گھڑ ٹھہرنا اللہ کے حکم میں تم میں سے کسی کے ساری عمر کے نیک اعمال سے بہتر ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا ہوگا، آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے

1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسعی نورہم بین ایدیہم۔ ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوا ہوگا۔ یعنی پل صراط یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ 2۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ نے آیت یسعی نورہم بہن ایدیہم۔ کے بارے میں روایت کیا کہ پل صراط پر ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوا ہوگا۔ 3۔ ابن المنذر نے یزید بن شجرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے نام، تمہاری شکل و صورت، تمہارا رنگ وروپ، تمہاری سرگوشی اور تمہاری مجلسیں سب کچھ لکھی ہوئی ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو کہا جائے گا اے فلاں بن فلاں آجاؤ اپنے نور کی طرف اور اے فلاں بن فلاں تیرے لیے کوئی نور نہیں۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعض مومنین ایسے ہوں گے کہ ان کا نور ان کے لیے اتنی روشنی کرے گا جیسے مدینہ اور عدن کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ اور صنعاء تک زیادہ روشن ہوگی۔ پھر اس سے کم ہوجائے یہاں تک کہ بعض ایمان والے ایسے بھی ہوں گے کہ ان کا نور صرف ان کے پاؤں رکھنے کی جگہ کو روشن کرے گا۔ اور لوگوں کے مرتبے ان کے اعمال کے مطابق ہوں گے۔ 5۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت یسعی نورہم بین ایدیہم کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو نور دیا جائے گا۔ جب وہ پل صراط سے گذریں گے۔ ان میں سے بعض کا نور پہاڑ کی طرح ہوگا۔ اور ان میں بعض کا نور کھجور کے درخت کی طرح ہوگا۔ اور ان سے کم درجے والے کا نور ان کے انگوٹھے پر ہوگا جو کبھی بجھے گا اور کبھی روشن ہوگا۔ قیامت کے روز سب سے پہلے سجدہ کی اجازت 6۔ عبدالرحمن بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابوذر اور ابودرداء ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں پہلا آدمی ہوں گا جس کو قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اور میں پہلا آدمی ہوں گا جس کو اپنا سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو میں اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے داہنے اور اپنے بائیں دیکھوں گا اور اپنی امت کو تمام امتوں کے درمیان پہچان لوں گا۔ پوچھا گیا یارسول اللہ ! کس طرح آپ اپنی امت کو تمام امتوں کے درمیان پہچانیں گے۔ جو نوح (علیہ السلام) سے لے کر آپ کی اس امت تک ہوگی۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے وضو کے اثر سے اور ان کے علاوہ کسی ایک کے لیے ایسا نہیں ہوگا۔ اور میں ان کو پہچانوں گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔ اور میں ان کو پہچانوں گا کہ ان کے چہروں پر سجدوں کے نشانات ہوں گے اور ان کے نور سے ان کو پہچانوں گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف اور بائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ 7۔ ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ اے لوگو ! کہ تم ایسی منزل میں صبح اور شام کرتے ہو کہ جس میں تم نیکیوں اور برائیوں میں تقسیم کردئیے جاتے ہو۔ اور عنقریب تم اس سے ایک دوسری منزل کی طرف کوچ کرنے والے ہو اور وہ قبر ہے جو تنہائی کا گھر ہے اور اندھیرا گھر ہے اور کیڑوں مکوڑوں کا گھر ہے اور تنگی کا گھر ہے مگر جس کے لیے اللہ تعالیٰ وسیع کردیں۔ پھر تم وہاں سے قیامت کے دن میدان حشر کی طرف منتقل کردئیے جاؤ گے بیشک تم ابھی میدان ہی میں ہوگے۔ یہاں تک کہ اللہ کا امر لوگوں پر غالب آجائے گا تو بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے کالے ہوں گے۔ پھر تم وہاں سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوگے۔ تو لوگوں پر شدید تاریکی چھا جائے گی۔ پھر روشنی کو تقسیم کردیا جائے گا اور مومن کو نور دیا جائے گا۔ اور کافر اور منافق کو چھوڑدیا جائے گا۔ اور ان کو کچھ بھی نہ دیا جائے گا۔ اور وہی مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا اپنے قول کی طرف کافر اور منافق مومن کے نور سے روشنی نہیں لے سکے گا۔ جیسے اندھا آدمی دیکھنے والے کی آنکھ سے کچھ نہیں لے سکتا۔ اور منافق ایمان والوں سے کہے گا۔ آیت انظرونا نقتبس من نورکم۔ ذرا انتظار کرو کہ ہم بھی روشنی حاصل کرلیں۔ آیت قیل ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا۔ کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ اور یہی دھوکہ بازی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے منافقین کے لیے جس کا ذکر اس طرح فرمایا آیت یخدعون اللہ وہو خادعہم۔ (النساء : آیت 142) ۔ وہ اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو دھوکہ بازی کی سزا دینے والا ہے وہ لوگ اس جگہ پر لوٹیں گے جہاں روشنی تقسیم کی گئی تھی تو وہ کچھ بھی نہ پائیں گے پھر وہ ان کی طرف پھر کر آئیں گے۔ آیت فضرب بینہم بسور لہ باب باطنہ فیہ الرحمۃ وظاہرہ من قبلہ العذاب۔ پھر ان دونوں فریقوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب کی طرف عذاب ہوگا وہ ان کو آواز دیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے۔ تمہارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ جہاد کرتے تھے ایمان والے کہیں گے کیوں نہیں سے لے کر آیت وبئس المصیر تک۔ قیامت کا اندھیرا 8۔ ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے ابوامامۃ ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن تاریکی پھیلا دی جائے گی کہ مومن اور کافر اپنی ہتھیلی کو بھی نہ دیکھے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی طرف ان کے اعمال کے مطابق نور بھیجیں گے تو منافق بھی ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور کہیں گے آیت انظرونا نقتبس من نورکم۔ ٹھہرجاؤ ہم تمہارے نور میں سے کچھ حاصل کریں۔ 9۔ ابن جریر وابن مردویہ اور بیہقی فی البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا اس درمیان کہ لوگ اندھیرے میں ہوں گے اچانک اللہ تعالیٰ روشنی بھیجیں گے۔ ایمان والے جب روشنی کو دیکھیں گے تو اس طرف متوجہ ہوں گے اور یہ روشنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے جنت کی طرف راستہ دکھانے والی بن جائے گی۔ جب منافق ایمان والوں کو دیکھیں گے تو وہ بھی ان کے پیچھے اس روشنی کی طرف چلنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیرا مسلط کردیں گے۔ تو وہ اس وقت کہیں گے آیت انظرونا نقتبس من نورکم۔ ٹھہرجاؤ ہم تمہارے نور میں سے کچھ حاصل کرلیں۔ بلاشبہ ہم دنیا میں تمہارے ساتھ تھے تو ایمان والے کہیں گے اپنے پیچھے لوٹ جاؤ اور وہیں سے نور تلاش کرو جہاں سے تم آئے ہو اندھیرے میں سے، وہاں سے روشنی کو تلاش کرو۔ ٍ 10۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو پکاریں گے قیامت کے دن ان کی ماؤں کی نسبت سے تاکہ ہر بندے کا پردہ اور ستر دوسرے بندوں پر قائم رہے۔ اور پل صراط کے پسا اللہ تعالیٰ ہر مومن کو ایک روشنی عطا فرمائیں گے۔ اور ہر منافق کو بھی لیکن جب وہ پل صراط پر چڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کے نور کو ختم کردیں گے تو اس وقت منافق کہیں گے آیت انظرونا نقتبس من نورکم۔ اور ایمان والے کہیں گے۔ ربنا اتمم لنا نورنا۔ (التحریم : آیت 8) اے ہمارے رب ہمارا نور پورا کردیجیے۔ اور اس وقت کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان کو جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب عذاب ہوگا

قیامت میں یہود و نصاری سے سوالات 11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ اسے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب اللہ تعالیٰ پہلو کو اور پچھلوں سب کو جمع فرمائیں گے تو یہودیوں کو پکاریں گے اور ان سے پوچھا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کیا اس کے ساتھ کسی اور کی بھی تم عبادت کرتے تھے۔ تو وہ کہیں گے ہاں پھر ان سے پوچھا جائے گا وہ کون ہے جس کی تم اس کے ساتھ عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے عزیر (علیہ السلام) کی، تو ان کے چہرے پھیر دئیے جائیں گے۔ پھر نصاری کو بلایا جائے گا۔ اور ان سے پوچھا جائے تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کیا تم اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت بھی کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں پھر ان سے پوچھا جائے گا اس کے ساتھ تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے مسیح (علیہ السلام) کی۔ پھر ان کے چہرے پھیر دئیے جائیں گے پھر مسلمانوں کو بلایا جائے گا اور یہ زمین کی خاصی مقدار پر جمع ہوں گے ان سے پوچھا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کیا تم اس کے ساتھ کسی اور کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو وہ غصہ ہوجائیں گے اور کہیں گے ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے تو ان میں سے ہر ایک انسان کو روشنی دی جائے گی پھر وہ پل صراط کی طرف متوجہ ہوں گے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت یوم یقول المنفقون والمنفقت للذین اٰمنوانظرونا نقتبس من نورکم۔ اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے ٹھہرجاؤ ہم تمہارے نور میں سے حاصل کرلیں۔ اور یہ آیت پڑھی۔ آیت یوم لا یخزی اللہ النبی والذین اٰمنوا معہ نورہم (التحریم : آیت 8) جس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور ان کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ہوگا۔ آیت کے آخر تک۔ 12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یوم یقول المنفقون والمنفقت کے بارے میں روایت کیا اس درمیان کہ لوگ اندھیرے میں ہوں گے اچانک اللہ تعالیٰ روشنی بھیجیں گے جب ایمان والے روشنی کو دیکھیں گے تو اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان کا نور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جنت کی طرف رہنمائی کرے گا۔ جب منافق ایمان والوں کو دیکھیں گے کہ وہ چل پڑے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہولیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیرا کردیں گے۔ تو اس وقت منافق کہیں گے آیت انظرونا نقتبس من نورکم۔ کہ ہم دنیا میں تمہارے ساتھ تھے۔ تو یمان والے کہیں گے۔ واپس لوٹ جاؤ جہاں سے تم اندھیرے میں سے آئے ہو، وہاں روشنی کو تلاش کرو۔ 13۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو فاختہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو قیامت کے دن جمع فرمائیں گے۔ اور لوگوں پر تاریکی اور ظلمت کو مسلط کردیں گے۔ تو لوگ اپنے رب سے فریاد کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس دن ہر مومن کو روشنی دیں گے۔ اور منافقین کو بھی دیں گے تو سب لوگ اکٹھے ہو کر جنت کی طرف چلیں گے ان کے ساتھ ان کی روشنی ہوگی۔ اس درمیان کی وہ اسی طرح چل رہے ہوں گے اچانک منافقین کی روشنی بجھ جائے گی تو وہ اندھیرے میں لڑکھڑانے لگیں گے۔ اور ایمان والے لوگ اپنی روشنی کے ساتھ ان کے آگے بڑھ جائیں گے تو منافقین ان کو آواز دیں گے۔ آیت انظرونا نقتبس من نورکم پھر فرمایا آیت فضرب بینہم بسور لہ باب باطنہ۔ پھر ان دونوں فریقوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس اندرونی جانب میں رحمت ہوگی۔ کہ ایمان والے اس کے اندر رحمت ہوگی کہ ایمان والے اس کے اندر رحمت میں جائیں گے اور اس کے آگے جنت ہوگی اور منافق ان کو آواز دیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ تو وہ کہیں گے کیوں نہیں لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں ڈال دیا اور تم ہماری تباہی کا انتظار کرتے رہے اور شک میں پڑے رہے تو منافق آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے۔ اور وہ اندھیرے میں بھٹکتے پھر رہے ہوں گے آپس میں کہیں گے آجاؤ ہم ایمان والوں کی طرف کوئی راستہ تلاش کریں۔ مگر وہ ایک گہرے گڑھے میں گرپڑیں گے اور ان کا بعض، بعض سے کہے گا بیشک یہ تم کو مومنین کی طرف لے جائے گا۔ پس وہ اس میں لگاتار گرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جہنم کی گہرائی تک پہنچ جائیں گے۔ پس یہی منافقوں کے لیے دھوکہ بازی کی سزا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وہو خادعہم (النساء : آیت 142) اور وہ ان کو دھوکے کی سزا دے گی۔ 14۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو آیت انظرونا پڑھا کہ وہ اس میں ہمزہ وصل ہے الف پر رفع ہے۔ 15۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو انظرونا پڑھا کہ اس میں ہمزہ قطعی ہے اور الف منصوب اور ظاء مکسور ہے۔ 16۔ ابن ابی شیبہ نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا : تو کہا ہوگا جس دن جہنم کو لایا جائے گا اور وہ بند کردے گی مشرق مغرب کے درمیان ہر چیز کو اور کہا گیا تو ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ تو آگ میں داخل نہ ہوگا اگر تیرے پاس روشنی ہوگی اور پل صراط پر وہ تیرے ساتھ قائم رہے تو یقینی بات ہے اللہ کی قسم ! تو نجات پاجائے گا اور ہدایت یافتہ ہوگا۔ اگر تیرے پاس روشنی نہ ہوئی تو تجھے جہنم کے لوہے کے کانٹے اور اس کی مڑی ہوئی سلاخیں مضبوطی سے پکڑلیں گے اور خدا کی قسم ! تو گرادیا جائے گا۔ پل صراط پر منافقین کی بےبسی 17۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یقول المنفقون والمنفقت للذین اٰمنوا وہم علی الصراط انظرونا۔ جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے اور وہ پل صراط پر ہوں گے کہ ہمارا انتظار کرو۔ یعنی ہمارا انتظار کرو۔ آیت نقتبس من نورکم۔ کہ ہم تمہارے نور میں سے لے لیں۔ یعنی تمہاری روشنی میں سے کچھ حصہ لے لیں اور ہم تمہارے ساتھ چلیں تو ان سے فرشتے کہیں گے آیت ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا من حیث جئتم۔ اپنے پیچھے واپس لوٹ جاؤ اور روشنی کو تلاش کرو جہاں سے تم آئے ہو اور یہ ان کے ساتھ مذاق ہوگا اس کے دبلہ میں جو وہ ایمان والوں کے ساتھ دنیا میں مذاق کیا کرتے تھے اس طرح پر جب وہ کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے اور وہ ایان والے نہیں ہوتے تھے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اللہ یستہزئ بہم کہ جب ان سے کہا جائے آیت ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا۔ اور فرمایا۔ آیت فضرب بینہم بسور لہ باب۔ ان کے درمیان ایک دیوار لگادی جائے گی جس کا ایک دروازہ ہوگا۔ یعنی جنت اور دوزخ والوں کے درمیان ایک دیوار ہوگی۔ آیت باب باطنہ۔ یعنی دیوار کے اندر فیہ الرحمۃ۔ اس میں رحمت ہوگی جو جنت سے ملی ہوگی۔ آیت وظاہرہ من قبلہ العذاب۔ اور اس کے بیرونی حصہ کی طرف عذاب ہوگا۔ یعنی جہنم ہوگی اور وہ پردہ ہوگا جو جنت اور دوزخ والوں کے درمیان لگادیا جائے گا۔ 18۔ عبد بن حمید نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ یہ بیت المقدس کی شرقی جانب ایک دیوار پر تھے اور وہ رونے لگے ان سے پوچھا گیا آپ کیوں روتے ہیں ؟ تو فرمایا یہاں رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خبردی کہ آپ نے جہنم کو دیکھا ہے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آیت فضرب بینہم بسور کے بارے میں فرمایا کہ یہ دیوار کی جگہ ہے جہنم کی دادی کے پاس۔ 19۔ عبد بن حمید نے ابو سنان (رح) سے روایت کیا کہ میں علی عبداللہ بن عباس ؓ کے ساتھ جہنم کی وادی کے پاس تھا۔ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ وہ دیوار جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا کہ آیت فضرب بینہم بسور۔ یہ وہ دیوار ہے۔ جو بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے۔ آیت باطنہ فیہ الرحمۃ۔ یعنی اس کے اندرونی حصہ میں مسجد ہے۔ آیت وظاہرہ من قبلہ العذاب۔ اور اس کے بیرونی حصہ میں جہنم کی وادی ہے اور جو کچھ اس سے ملا ہوا ہے۔ دیوار اعراف کا ذکر 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت فضرب بینہم بسور کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دیوار جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی۔ 22۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت باطنہ فیہ الرحمۃ یعنی اس کے باطن میں جنت ہے آیت وظاہرہ من قبلہ العذاب سے مراد ہے کہ اس کے ظاہر کی جانب جہنم ہے۔ 23۔ آدم بن ابی ایاس وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے آیت یوم یقول المنفقون والمنفقت کے بارے میں روایت کیا کہ منافق دنیا میں ایمان والوں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ ان سے نکاح بھی کرتے تھے اور وہ انہیں کے ساتھ مرے تو قیامت کے دن ان سب کو روشنی دی جائے گی۔ پھر منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا جب وہ دیوار کے پاس پہنچیں گے تو اس دن ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی اور دیوار ایک پردہ کی طرح ہوگی اعراف کے مقام میں پھر وہ منافق کہیں گے۔ آیت انظرونا نقتبس من نورکم۔ قیل ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا۔
Ayahs 57:14–15

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

وہ ان کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کہ تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم منتظر رہا کرتے تھے اور تم شک کیا کرتے تھے اور تم کو تمہاری تمناؤں میں دھوکہ میں ڈال رکھا تھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تم کو دھوکہ دینے والے نے اللہ کے ساتھ دھوکہ میں ڈال رکھا تھا

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

غرض آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیا جاوے گا اور نہ کافروں سے، تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے، وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولکنکم فتنتم انفسکم لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا۔ یعنی شہوات اور لذات کے فتنوں میں ڈال دیا تو اور تم توبہ کا اتنظار کرتے تھے۔ آیت وتربصتم اور تم شک میں پڑے ہوئے تھے اللہ کے بارے میں آیت وغرتکم الامانی حتی جاء امر اللہ۔ اور تم کو تمہاری تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا، یعنی موت۔ آیت وغرکم باللہ الغرور۔ اور تم کو دھوکہ دینے والے شیطان نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یعنی شیطان نے۔ 25۔ عبد بن حمید نے ابو سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولکنکم فتنتم انفسکم اور تم فتنہ میں پڑے ہوئے تھے گناہوں اور نافرمانیوں کے سبب اور تم تو یہ انتظار کرتے تھے آیت وارتبتم اور تم شک میں پڑے ہوئے تھے آیت وغرتکم الامانی۔ اور تم کو تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور تم کہتے تھے عنقریب ہم کو بخش دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا یعنی موت آیت وغرکم باللہ الغرور یعنی شیطان نے تم کو دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ 26۔ عبد بن حمید نے محبوب اللیثی رحمہ سے روایت کیا کہ آیت ولنکم فتنتم انفسکم یعنی تم نے شہوات کے سبب اپنے آپ کو فتنوں میں ڈال رکھا تھا آیت وتربصتم یعنی توبہ (کی تم انتظار کررہے تھے) آیت وارتبتم یعنی تم اللہ کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے تھے۔ آیت وغرتکم الامانی۔ یعنی لمبی امیدوں نے تم کو دھوکہ دیا۔ آیت حتی جاء امر اللہ۔ یعنی فوت کا حکم آپہنچا۔ آیت وغرکم باللہ الغرور۔ یعنی شیطان نے تم کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ 27۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتربصتم یعنی تم انتظار کر رہے تھے حق اور اہل حق کی تباہی کا آیت وارتبتم اور تم اللہ کے حکم کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے تھے آیت وغرتکم الامانی یعنی تم شیطان کی طرف سے دھوکہ میں مبتلا رہے اللہ کی قسم وہ برابر اس حال پر رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں پھینک دیا۔ آیت وغرکم باللہ الغرور۔ یعنی شیطان نے تم کو دھوکہ میں ڈالدیا۔ آیت فالیوم لایوخذ منکم فدیۃ۔ آج کے دن تم سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا یعنی نہ منافقین سے اور نہ کافروں سے۔
Ayahs 57:16–18

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایمان والوں کے لیے اس کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا سو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت سے فاسق تھے

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان لو کہ بیشک اللہ زندہ فرماتا ہے زمین کو اس موت کے بعد بیشک ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کیں تاکہ تم سمجھو

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بلاشبہ صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا۔ ان کے لیے اس کو بڑھادیا جائے گا ان کے لیے اجر کریم ہے

1۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا۔ 2۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے مرفوع حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے قرآن کے نازل ہونے کے سترہ سال بعد مہاجرین کے دلوں میں جھکنے میں تاخیر اور آہستگی کو پایا۔ تو یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی آیت الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ۔ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں یاد الٰہی کے لیے۔ 6۔ ابن المبارک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اعلموا ان اللہ یحییٰ الارض بعد موتہا۔ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرنے کے بعد یعنی دلوں کو نرم کردیتے ہیں ان کی سختی کے بعد۔ 8۔ ابن المنذر وابن مردویہ والطبرانی والحاکم وصححہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ نے اس بات کی خبردی کہ ان کے اسلام اور آیت کے نازل ہونے کے درمیان جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انکو عتاب فرمایا چارسال کا وقفہ ہے۔ اور وہ نہیں ہوں گے ان اہل کتاب کی طرح جن کو کتاب دی گئی اس سے پہلے۔ اور ان پر مدت لمبی ہوگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ 9۔ ابو یعلی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ نازل ہوئی ہم میں سے بعض لوگ بعض کے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ ہم نے کون سی بات کی ہے۔ اور ہم نے کون ساکام کیا ؟ کہ ہم پر عتاب نازل ہوا۔۔ 10۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے دلوں کو ذرا سست پایا تو نزول قرآن کے تیرھویں سال کے شروع پر ان کو عتاب فرمایا اور فرمایا آیت الم یان للذین اٰمنوا۔ الایۃ۔ 11۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبدالعزیز بن ابی رداد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب سے ہنسی مذاق کا اظہار ہوا تو یہ آیت۔ الم یان للذین اٰمنو نازل ہوئی۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب کسی چیز کے بارے میں مذاق کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت الم یان للذین اٰمنو۔ 13۔ ابن المبارک وعبد الرزاق وابن المنذر نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب مدینہ منورہ آئے اور ان کو زندگی کی خوش حالی پہنچی جبکہ اس سے پہلے ان کی زندگی سختی اور مشقت والی تھی۔ تو انہوں نے بعض ایسے کام چھوڑدئیے جو پہلے کرتے تھے۔ تو اس پر وہ عتاب کیے گئے اور یہ آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم نازل ہوئی۔ 14۔ ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے قاسم (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب سخت اکتاگئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! ہم کو بیان کیجیے توا للہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت نحن نقص علیک احسن القصص (یوسف : آیت 2) ہم تیرے پاس بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں) پھر وہ اکتائے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم کو بیان فرمائیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت۔ الم یان للذین اٰمنوا نازل فرمائی۔ 15۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر مدت طویل نہیں ہوئی کہ تمہارے دل سخت ہوجائیں خبردار ! ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ خبردار وہ چیز دور ہے جو آنے والی نہیں ہے۔ 16۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے مرفوعا روایت کیا۔ بنی اسرائیل کی سخت دلی کا ذکر 17۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے شعب میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل پر جب مدت لمبی ہوگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور انہوں نے اپنے پاس سے ایک کتاب کو گھڑ لیا۔ ان کے دل اس سے متحیر ہوگئے ان کی زبانوں نے اسکو حلال کرلیا۔ اور حق ان کے اور ان کی بہت سی شہوات کے درمیان حائل تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا کہ وہ اس کو جانتے بھی تھے اور کہجے لگے اس کتاب کو بنی اسرائیل پر پیش کرو اگر وہ تمہاری تابعداری کریں تو ان کو چھوڑ دو اگر وہ تمہاری مخالفت کریں تو ان کو قتل کردو۔ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس کو ان علماء میں فلاں آدمی کو بلابھیجو اور اس پر یہ کتاب پیش کرو۔ اگر اس نے تمہاری تابع داری کی تو اس کے بعد ہرگز تمہاری کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔ اگر وہ تمہاری مخالفت کرے تو اسے قتل کردو۔ اس کے بعد پھر کوئی تمہاری مخالفت نہیں کرے گا۔ تو انہوں نے اس کو بلابھیجا تو اس نے ایک ورقہ لیا اور اس کے اوپر لکھا اس میں کتاب اللہ ہے۔ پھر اس کو اپنی گردن میں ڈال دیا۔ اس کے اوپر کپڑے پہن لیے پھر انہوں نے اس پر کتاب کو پیش کیا اور کہا کیا تو اس پر ایمان لایا اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں اس پر ایمان لایا اور میرے لیے کیا ہے کہ میں اس پر ایمان نہ لاؤں۔ یعنی وہ کتاب جس میں قرآن ہے تو انہوں نے اس کا راستہ چھوڑدیا اس کے کچھ ساتھی تھے جو اس کے ساتھ رہا کرتے تھے جب وہ مرگیا تو انہوں نے اس کتاب کو پایا جس میں قرآن ہے تو انہوں نے اس کا راستہ چھوڑدیا اس کے کچھ ساتھی تھے جو اس کے ساتھ رہا کرتے تھے جب وہ مرگیا تو انہوں نے اس کتاب کو پایا جس میں قرآن تھا جو اس پر لٹکا ہو تھا۔ انہوں نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے اس کے قول کی طرف کہ میں اس پر ایمان لایا اور میرے لیے کیا ہے کہ میں اس پر ایمان نہ لاؤں اور بلاشبہ اس کی مراد یہ کتاب تھی۔ بنواسرائیل نے ستر سے کچھ اوپر ملتوں پر اختلاف کیا یعنی ستر سے اوپر فرقوں میں بٹ گئے اور ان میں سے سب سے بہترین مذہب صاحب قرآن کے اصحاب کا ہے۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا جو تم میں سے باقی ہوگا وہ عنقریب منکر اور گناہ کے عمل کو دیکھے گا۔ اور آدمی کے لیے یہ کافی ہوگا کہ وہ گناہ کو دیکھے گا مگر اس کو تبدیل نہیں کرسکے گا اس طرح پر کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو جانتے ہیں کہ وہ اس کو ناپسند کرنے والا ہے۔ 18۔ ابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ اس آیت الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ کی تلاوت کرتے تھے تو فرماتے تھے کیوں نہیں اے میرے رب، کیوں نہیں اے میرے رب۔ 19۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس بارے میں روایت کیا کہ شداد بن اوس ؓ نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو لوگوں سے اٹھالی جائے گی وہ خشوع ہوگا۔ 20۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ” الامد “ سے مراد ہے زمانہ۔ 21۔ ابن ابی شیبہ نے ابو حرب بن ابی الاسود سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوموسی اشعری ؓ نے قاریوں کو جمع کیا اور فرمایا تم پر ہرگز کوئی داخل نہ ہو قرآن جمع کرنے والون خے سوا یعنی حفاظ قرآن داخل ہوں تو ہم تین سو آدمی اندر داخل ہوئے اور آپ نے ہم کو وعظ فرمایا اور فرمایا تم لوگ اس شہر کے قراء ہو اللہ کی قسم ! تم پر مدت ضرور لمبی ہوجائے گی پھر تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ جیسے اہل کتاب کے دل سخت ہوگئے۔
Ayahs 57:19–21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی سچائی والے ہیں اور جو شہداء ہیں اپنے رب کے پاس ہیں، ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہوگا، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ دوزخ والے ہیں

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

تم خوب جان لو کہ دنیوی زندگی محض لہو ولعب اور زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنا کو زیادہ بتانا ہے۔ جیسے بارش ہے کہ اس کی پیداوار کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ خشک ہوجاتی ہے سو اے مخاطب ! اس کو تو زرد ہونے کی حالت میں دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں عذاب شدید ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے۔ اور دنیاوی زندگی محض دھوکہ کا سامان ہے

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

تم اپنے پروردگر کی مغفرت کی طرف دوڑوا اور ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے وہ ان لوگوں کے واسطے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے، اپنا فضل جس کو چاہے عنایت فرمائے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

1۔ ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین کی خاطر یعنی اپنے دین کو بچانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوتا رہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کو صدیق لکھدیا جائے گا جب وہ مرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید قرار دے گا۔ پر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ آیت والذین اٰمنوا بللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ اور جو لوگ اللہ پر اور اسکے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ پھر فرمایا اور جدا ہوانے والا اپنے دین کو بچانے کے لیے ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہونے والا قیامت کے دن عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے ساتھ جنت میں ان کے درجہ میں ہوگا۔ 2۔ ابن جریر نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے ایمان لانے والے شہداء ہیں پھر نبی ﷺ نے یہ آیت والذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولئک الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے بستر پر مرتا ہے اور وہ شہید ہوتا ہے پھر یہ آیت والذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے ایک دن فرمایا اور وہ آپ کے پاس تھے کہ تم سب کے سب صدیق اور شہید ہو ان سے کہا گیا اے ابوہریرہ ؓ کیا کہہ رہے ہو فرمایا تم پڑھ لو آیت والذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ حقیقی شہید جنتی مومن ہے۔ 5۔ عبدالرزاق نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا شہید وہ ہے جو جنت میں داخل ہوگا اگرچہ بستر پر مرجائے یعنی جو اپنے بستر پر مرے اور اس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہر مومن صدیق ہے اور شہید ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت والذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عندربہم۔ 7۔ عبد بن حمید نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ ہر مومن صدیق ہے پھر یہ آیت والذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون پڑھی اور فرمایا یہ حصہ اس سے الگ اور جدا ہے آگے فرمایا آیت والشہداء عند ربہم لہم اجرہم ونورہم۔ 9۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے آیت والذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون کے بارے میں روایت کیا کہ یہ علیحدہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام صدیقین رکھا ہے۔ پھر فرمایا آیت والشہداء عندربہم۔ لہم اجرہم ونورہم۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت شہداء کے لیے خاص ہے۔ 10۔ ابن حبان بن عمرو بن میمون جہنی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ آپ بتائیے اگر میں لا الہ الا اللہ اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دوں۔ اور پانچ نمازیں پڑھوں اور زکوٰۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور میں اسی پر قائم رہو تو میں کن لوگوں میں سے ہوں گا ؟ آپ نے فرمایا صدیقین اور شہداء میں سے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفی الاٰخرۃ عذاب شدید ومغفرۃ من اللہ ورضوان۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔ اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہوگی یعنی سب لوگ ان دونوں جانبوں کی طرف ہوں گے آخرت میں۔