57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 57:22–24

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے، قبل اس کے کہ ہم انکو پیدا کریں۔ یہ اللہ کے نزدیک آسان ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر رنج نہ کرو اور جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اتراؤ نہیں، اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں، اور جو شخص اعتراض کرے گا تو اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے سزاوار حمد ہے

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم (کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں) یعنی نہ دنیا میں اور نہ دین میں آیت الا فی کتب من قبل ان نبرأہا۔ مگر وہ ایک کتاب میں کھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کریں۔ آیت لکیلا تاسوا علی مافاتک یہ اس لیے ہے کہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر غمگین نہ ہو۔ یعنی دنیا میں سے آیت ولاتفرحوا بما اٰتیکم۔ اور یعنی جو چیز تم کو دنیا میں مل جائے اس پر اترانے نہ لگو۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ما اصاب من مصیبۃ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ چیز ہے جس سے فراغت ہوچکی جانوں کے پیدا کرنے سے پہلے۔ 3۔ احمد والحاکم وصححہ نے ابو حسان (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئے اور کہا کہ ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے بدشگونی جانور میں عورت میں اور گھر میں ہے یعنی یہ بدفالی لینے کی چیزیں ہیں تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم ﷺ پر قرآن اتارا اس طرح نہیں ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جاہلیت والے کہتے تھے کہ بدشگونی عورت میں۔ جانور میں اور گھر میں ہے پھر یہ آیت پڑھی ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبرأہا ان ذلک علی اللہ یسیر۔ ہر آنے والی مصیبت تقدیر میں لکھ جا چکی ہے 4۔ البیہقی نے شعب الایمان میں حسن ؓ سے روایت ہے کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے اس میں کون شک کرتا ہے کہ آنے والی ہر مصیبت آسمان میں اور زمین میں کتاب میں لکھ دی گئی ہے روحوں کے پیدا کیے جانے سے پہلے۔ 5۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر واحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لکیلا تاسوا علی مافاتکم الآیۃ۔ تاکہ تم کو افسوس نہ ہو اس چیز پر جو تم سے جاتی رہے۔ یعنی کوئی انسان ایسا نہیں ہے مگر وہ غمگین بھی ہوتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچ جائے تو اس پر صبر کرے اور اگر اس کو کوئی خیر پہنچ جائے تو اس پر شکر ادا کرے۔ 6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبرأہا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت میں مصیبت سے مراد معاشی مصیبتیں ہیں۔ دینی مصیبتیں مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آیت لکیلا تاسوا علی ما فاتکم اور یہ دین کی تکلیفیں مراد نہیں ہیں لیکن دین کے معاملات میں امن کے لیے حکم ہے کہ وہ گناہ پر غم زدہ ہوں اور نیکی پر خوش ہوں۔ 7۔ ابن المنذر نے حسن (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ گناہ اور برائی کا فیصلہ کیا جاتا ہے آسمان میں۔ اور وہ ہر دن نئی شان میں ہوتا ہے پھر اس کے لیے ایک وقت مقرر کردیا جاتا ہے اور وہ اسے اس کے ہر مقرر وقت تک روکے رکھتا ہے پھر جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو وہ اس کو بھیج دیتا ہے اب اسے نہیں لوٹایا جاسکتا۔ وہ اس طرح ہوتا ہے کہ فلاں دن فلاں مہینے فلاں سال اور فلاں شہر میں مصیبت، قحط اور رزق نازل ہوگا اور مصیبت قحط اور رزق نازل ہوگا اور مصیبت خاص لوگوں پر بھی آتی ہے اور عام لوگوں پر بھی یہاں تک کہ ایک آدمی لاٹھی کو اٹھاتا ہے اس کے ساتھ سہارا لینے کے لیے حالانکہ وہ اس کو ناپسند ہوتی ہے پھر وہ اس کی عادت بنالیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ 8۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن ابی صالح (رح) سے روایت کیا کہ میں سعید بن جبیر (رح) کے پاس آیا ایک جماعت میں قوم میں سے ایک آدمی رونے لگا۔ پوچھا کیوں روتا ہے اس نے کہا میں اس لیے روتا ہوں کہ جو کچھ میں آپ میں دیکھ رہا ہوں اور اس کی وجہ سے جس کی طرف آپ کو لے جایا جارہا ہے تو آپ نے فرمایا مت رو کیونکہ وہ اللہ کے علم میں ہے کہ ایسا ہوگا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا۔ آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبرأہا۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب کے بارے میں روایت کیا کہ مصیبت سے مراد ہے بھوک اور امراض آیت من قبل ان نبرأہا یعنی ان کے پیدا کرنے سے پہلے۔ 10۔ ابن المنذر نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مصیبت کو نازل کیا پھر اس کو اپنے پاس روک لیا پھر وہ صاحب مصیبت کو پیدا فرماتے ہیں پھر جب وہ گناہ کا کام کرتا ہے تو اس پر مصیبت کو بھیج دیتے ہیں۔ 11۔ الدیلمی نے سلیم بن جابر نجیمی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت پر تقدیر میں سے ایک دروازہ کھول دیا جائے گا آخری زمانہ میں اس کو کوئی چیز بند نہیں کرسکے گی۔ تمہارے لیے اس میں سے یہ کافی ہے کہ تم ان کو اس آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب کے ذریعہ اس سے بچاؤ۔ متکبرین کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا 12۔ عبدبن حمید و عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں قزعہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کھردرا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن کہ میں تیرے پاس ایک نرم کپڑا لاتا ہوں جو خراسان میں بنایا جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی کہ میں آپ کو وہ پہنے ہوئے دیکھوں۔ کیونکہ آپ کھدرا کپڑا پہنے ہوئے ہیں تو انہوں نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں اس کو پہنوں تو میں اترانے والا اور شیخی بگھرانے والا ہوجاؤں گا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت واللہ لایحب کل مختال فخور۔ اور اللہ تعالیٰ اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔
Ayahs 57:25–26

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور ترازو کو نازل کیا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں شدت ہیبت ہے، اور لوگوں کے لیے طرح طرح کے فائدہ ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی، سو ان لوگوں میں بعض تو ہدایت یافتہ ہوئے اور بہت سے ان میں نافرمان تھے

1۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا معہم الکتب والمیزان۔ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا۔ اس میں میزان سے مراد عدل ہے۔ 2۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے۔ اس میں لوگوں کی نفع کی چیزوں میں ڈھال اور دوسرے ہتھیار مراد ہیں جو لوہے سے بنائے جاتے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا الحدید الآیۃ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے میں سے سب سے پہلے لوہار کا زنبور نازل فرمایا جس پر لوہے کو کاٹا جاتا ہے پیر کے دن اعمال پیش ہوتے ہیں 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایام یعنی دنوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ہفتہ کا دن ایک عدد ہے اور اتوار کا دن ایک عدد ہے اور پیر کا دن وہ ہے جس میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور منگل خون کا دن ہے اور بدھ لوہے کا دن ہے آیت وانزلنا الحدید فیہ باس شدید اور خمیس کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور جمعہ کا دن وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ 5۔ عبدبن حمید والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ایک طرق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں حاضر ہوں تین مرتبہ ایسا ہوا آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں حاضر ہوں تین مرتبہ ایسا ہوا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے ایمان کا کونسا گروہ زیادہ مضبوط اور ثقہ ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان کا مضبوط ترین گروہ اسی ولایت ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہو اور اس میں محبت اور دشمنی بھی اسی کے لیے ہو۔ پھر فرمایا کیا تو جانتا ہے کون سے لوگ افضل ہیں۔ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا لوگوں میں سے افضل جو ان میں عمل کے لحاظ سے افضل ہو جب وہ دین میں سمجھ حاصل کرلیں۔ اے اللہ کے بندے کیا تو جانتا ہے کون زیادہ عالم ہے لوگوں میں سے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا لوگوں میں سب سے زیادہ عالم وہ ہے جو ان میں حق کی زیادہ بصیرت رکھتا ہو۔ جب لوگ اختلاف کریں۔ اگرچہ وہ عمل میں غفلت اور سستی کرنے والا ہو۔ اگرچہ وہ اپنی سرین کے بل گھسٹتا رہے۔ اور وہ لوگ جو ہم سے پہلے تھے وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے ان میں سے تین نے نجات پائی اور باقی سارے فرقے ہلاک ہوئے۔ ایک فرقے نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ اللہ اور عیسیٰ بن مریم کے دین پر قتال کیا اور قتل کردئیے گئے۔ اور ایک فرقہ ایسا تھا کہ ان میں طاقت نہ تھی بادشاہوں سے مقابلے میں اور نہ ان کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کیا۔ تو وہ لوگ پہاڑوں میں چلے گئے۔ اور وہاں خلوت اور رہبانیت اختیار کرلی اور یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا ماکتبنا ہا علیہم الا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوہا حق رعایتہا فاتینا الذین اٰمنوا منہم اجرہم۔ اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا ہم نے ان پر اس کو واجب نہیں کیا تھا۔ لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضامندی کے لیے اس کو اختیار کیا تھا۔ سو انہوں نے اس رہبانیت کی پوری نگہداشت نہیں کی ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہم نے ان کو ان کا اجر عطا کردیا۔ یعنی جو مھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی آیت وکثیر منہم فاسقون اور بہت ان میں سے فاسق ہیں۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور میرا انکار کیا۔ شریعت کے خلاف فیصلہ کرنا بڑا گناہ ہے 6۔ النسائی والحکیم الترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایسے بادشاہ تھے جنہوں نے تورات اور انجیل کو بدل دیا اور ان میں ایمان والے بھی تھے جو تورات اور انجیل پڑھا کرتے تھے۔ بادشاہوں سے کہا گیا جو آدمی ہم کو گالیاں دیتا ہے اس کی گالی سے زیادہ شدید اور سخت ہم اس چیز کو پاتے ہیں کہ وہ یہ پڑھتے ہی کہ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون (المائدہ : 44) ۔ جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ کافر ہیں اور آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الظلمون (المائد : آیت 45) اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ ظالم ہیں اور آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون (المائدہ : 47) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ فاسق ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ہم کو ہمارے اعمال میں سے عیب لگاتے ہیں اپنی قراءت میں۔ سو ان کو بلائیے اور ان کو کہیں کہ ایسے پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور چاہیے کہ وہ ایسے ایمان لے آئیں جیسے ہم ایمان لائے۔ چناچہ بادشاہوں نے ان کو بلایا اور ان کو جمع کیا۔ اور ان کو قتل کی دھمکی دی یا پھر وہ تورات اور انجیل کی قراءت کو چھوڑ دیں سوائے ان مقامات کے جو ان سے تبدیل کردئیے گئے ہیں تو ایمان والوں نے کہا کہ تم لوگ اس مطالبے کی طرف کیا ارادہ رکھتے ہو کہ تم ہم کو چھوڑدو ؟ ان میں سے ایک جماعت نے کہا ہمارے لیے ایک ستون بناؤ۔ پھر ہم کو اس کے اوپر چڑھا دو ؟ پھر ہم کو ایسی چیز دو کہ جس کے ذریعہ ہم اپنا کھانا اور پینا چڑھا سکیں تو پھر ہم تمہاری طرف نہیں لوٹیں گے۔ اور دوسری جماعت نے کہا ہم کو چھوڑ دو ہم زمین میں سیر کریں گے ہم اس میں گھومیں پھریں گے اور ہم ان چیزوں میں سے کھائیں گے جس میں سے وحشی جانور کھاتے ہیں۔ اور ہم ان چیزوں میں سے پئیں گے جس میں سے وہ پیتے ہیں اگر تم نے اپنی زمین میں ہم کو پکڑ لیا تو تم ہم کو قتل کردینا اور تیسری جماعت نے کہا ہمارے لیے جنگلوں میں ایک راہب خانہ بنا دو ۔ ہم کنوئیں کھود دیں گے اور ہم سبزیاں اگائیں گے۔ ہم تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ ہم تمہارے پاس سے گذریں گے۔ یہ تمام قبائل آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا ماکتبنا ہا علیہم الا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوہا حق رعایتہا۔ اور دوسرے الوگ ان لوگوں میں سے وہ ہیں جو مشرکین میں سے عبادت کے لیے علیحدہ ہوگئے۔ ان میں سے جو فنا ہوگئے وہ فنا ہوگئے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم تو اسی طرح عبادت کے لیے علیحدہ رہیں گے جیسے فلاں عبادت کے لیے علیحدہ ہوا۔ اور ہم اسی طرح پھرتے ہیں جنگلوں میں جیسے فلاں پھرتا ہے۔ اور ہم اسی طرح خانقاہیں بنائیں گے جیسے فلاں نے بنائی حالانکہ وہ شریک پر قائم تھے اور ان کو ایمان کا کوئی علم نہ تھا جن لوگوں کی انہوں نے پیروی کی جب نبی ﷺ تشریف لائے۔ تو ان میں سے کوئی باقی نہ تھا مگر تھوڑے سے چناچہ جو مینار اور ستون والا تھا وہ اس سے نیچے اتر آیا اور سیاحت کرنے والا سیاحت سے واپس آگیا اور عبادت گاہ میں رہنے والا اپنی عبادت گاہ سے واپس آگیا۔ اور یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہا الذی اٰمنوا اتقوا للہ وٰمنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ۔ اے عیسیٰ پر ایمان رکھنے والوں ! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تم کو اپنی رحمت سے ثواب کے دو حصے دے گا۔ یعنی دو اجر دے گا عیسیٰ ﷺ پر یمان لانے کی وجہ سے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کو قائم رکھنے اور محمد صلی اللہ علیہ پر ایمان لانے اور ان کی تصدیق کرنے کی وجہ سے آیت ویجعل لکم نورا تمشون بہ اور تم کو ایسا نور عنایت کرے گا کہ اس کے ساتھ تم چلو گے یعنی نور سے مراد ہے۔ قرآن اور ان کا نبی ﷺ کی اتباع اور پیروی کرنا۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد دوسرے رسولوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل دی، اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا تھا، ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور ترحم پیدا کیا، اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا، ہم نے ان پر اس کو واجب نہ کیا تھا لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضا کے واسطے اس کو اختیار کیا تھا، سو انہوں نے اس کی پوری رعایت کی، سو ان میں سے جو لوگ ایمان لائے، ہم نے ان کو ان کا اجر دیا اور ان میں زیادہ نافرمان ہیں

عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا 7۔ ابو یعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو۔ پھر تم پر سختی کی جائے گی۔ پہلے ایک قوم نے اپنے اوپر سختی کی تو ان پر سختی کی گئی یہ گرجے گھروں میں اور راہب خانوں میں ان کی باقیات ہیں آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم۔ 8۔ البیہقی نے شعب میں سہل بن ابی امامہ بن سہل بن جبیر سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اور ان کے باقی لوگوں کو گرجے گھروں میں اور راہب خانوں میں عنقریب تم پاؤ گے۔ 9۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ وابن نصر نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے مہینے کے روزے فرض کردئیے ہیں۔ اور اس کا قیام تم پر فرض نہیں کیا۔ اور بلاشبہ قیام وہ چیز ہے جس کا آغاز تم نے کیا پم ایس پر دوام یعنی ہمیشگی اختیار کرو اور اس کو نہ چھوڑو بلاشبہ بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں نے ایک بدعت نیا کام شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے چھوڑنے پر ان کو عیب لگایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا۔ 10۔ احمد والحکیم الترمذی فی نوادر الاصول وابویعلی والبیہقی نے الشعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر امت کے لیے رہبانیت یعنی دنیا سے قطع تعلقی ہے اور اس امت کی رہبانیت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے عورتوں کو چھوڑدیا تھا اور گرجے گھر بنالیے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان رکھنے والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے دو حصے دے گا اور تم کو ایسا نور عنایت فرمائے گا کہ تم اس کو لیے ہوئے چلو پھروگے اور وہ تم کو بخش دے گا، اور اللہ غفور رحیم ہے

1۔ الطبرانی نے الاوسط میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نجاشی کے ساتھیوں میں سے چالیس آدمی نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ غزوۂ احد میں شامل ہوئے۔ ان میں سے کئی زخمی ہوئے مگر ان میں سے کوئی بھی قتل نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے مومنین کی حاجات و ضرورت کو دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم وسعت والے ہیں ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم اپنے مالوں کو لے آئیں اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دلجوئی کریں۔ تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت الذین اٰتینہم الکتب من قبلہ ہم بہ یومنون۔ اور وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ان سے پہلے وہ اس کے ساتھ ایمان لاتے ہیں سے لے کر آیت اولئک یوتون اجرہم مرتین بما صبرو ا (القصص) یہی لوگ ہیں کہ ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا ان کے صبر کرنے کے بدلے میں یعنی ان کے لیے دو اجر بنا دئیے گئے پھر فرمایا آیت ویدرء ون بالحسنۃ السیءۃ۔ اور وہ دفع کرتے ہیں برائی کو نیکی کے ساتھ یعنی وہ خرچ کرنا کہ جس کے ذریعہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے مسلمانوں کی جماعت ! جو ہم میں تمہاری کتاب پر ایمان لایا اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور جو تمہاری کتاب پر ایمان نہیں لایا اس کے لیے ایک اجر ہے تمہارے اجر کی طرح تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ واٰمنو ا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ ویغفرلکم۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈروا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تم کو اپنی رحمت سے ثواب کے دو حصے دے گا اور تم کو ایک ایسا نور عطا کرے گا کہ اس کو لیے ہوئے تم چلو گے اور تم کو بخش دے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے نور اور مغفرت میں اضافہ فرمادیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) نے اسی طرح روایت کیا۔ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے دہرا اجر 3۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت اولئک یوتون اجرہم مرتین بما صبروا۔ نازل ہوئی تو اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں نے نبی ﷺ کے اصحاب پر فخر کیا اور کہا ہمار لیے دو اجر ہیں اور تمہارے لیے ایک اجر ہے تو یہ بات صحابہ کرام ؓ پر بھاری گزری پھر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ واٰمنو ا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تو ان کے لیے بھی دو اجر مقرر فرمائے اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے اجر کی طرح اور اجر میں دونوں کو برابر کردیا۔ 4۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوتکم کفلین من رحمتہ سے مراد ہے دو اجر آیت ویجعل لکم نورا تمشون بہ۔ یعنی نورا سے مراد قرآن مجید ہے۔ 5۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوتکم کفلین من رحمتہ سے مراد ہے دگنا اجر آیت وجعل لکم نورا تمشون بہ یعنی نورا سے مراد ہے ہدایت۔ 6۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کفلین سے مراد ہے دو اجر۔ 7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کفلین سے مراد ہے دو حصے۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفلین سے مراد ہے دوگنا۔ 9۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ آیت کفلین سے مراد ہے دگنا اور یہ حبشی زبان کا لفظ ہے۔ 10۔ فریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوتکم کفلین من رحمتہ میں کفل اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تین سو پچاس اجزاء کا ہے۔ 11۔ عبد بن حمید نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوتکم کفلین من رحمتہ میں ایک کفل رحمت میں سے تین سو اجزاء ہیں۔ 12۔ ابن الضریس سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویجعل لکم نورا تمشون بہ میں نورا سے مراد قرآن ہے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تاکہ اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ ان لوگوں کو اللہ کے فضل کے کسی جزو پر بھی دسترس نہیں، اور یہ کہ اللہ کے ہاتھ میں فضل ہے، وہ اسے جس کو چاہے دے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے

13۔ عبد بن حمید نے یزید بن حازم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ اور عبداللہ بن ابی سلمہ رحمہما اللہ دونوں کو سنا کہ ان میں سے ایک نے اس طرح پڑھا آیت لئلا یعلم اہل الکتب اور دوسرے نے یوں پڑھا آیت لیعلم اہل الکتب۔ امت محمدیہ ﷺ کا اجر وثواب 14۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عمل کو تقسیم فرمایا پھر اجر کو تقسیم کردیا۔ اور دوسری روایت میں اجر کی بجائے اجل کے لفظ ہیں۔ یہودیوں سے کہا گیا تم عمل کرو تو انہوں نے آدھے دن تک عمل کیا۔ اور ان سے کہا گیا کہ تمہارے لیے ایک قریاط ثواب ہے پھر نصاری سے کہا گیا تم بھی عمل کرو انہوں نے آدھے دن سے عصر تک عمل کیا۔ پھر ان سے کہا گیا کہ تمہارے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔ پھر مسلمانوں سے کہا گیا تم عمل کرو تو انہوں نے عصر سے سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا۔ تو ان سے کہا گیا کہ تمہارے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ تو یہود و نصاریٰ نے اس بارے میں آپس میں گفتگو کی اور یہودیوں نے کہا ہم نے آدھے دن تک کام کریں گے اور ہمارے لیے ایک قیراط ہوگا۔ اور نصاریٰ نے کہا ہم نے آدھے دن سے عصر تک عمل کیا اور ہمارے لیے ایک قیراط ہوگا۔ اور یہ لوگ یعنی مسلمان عصر سے سورج کے غروب ہونے تک کام کریں گے تو ان کے لیے دو قیراط ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت لئلا یعلم اہل الکتب الا یقدرون علی شیء من فضل اللہ تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہوں گے آیت کے آخرتک، پھر فرمایا بلاشبہ تمہاری مثال تم سے پہلی امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے عصر سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک کا وقت ہے۔ 15۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ نازل ہوئی تو اس پر اہل کتاب نے حسد کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت لئلا یعلم اہل الکتب الایۃ۔ 16۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا قریب ہے کہ ہم میں سے ایک نبی نکلے گا جو ہاتھ اور پاؤں کو کاٹے گا۔ پس جب وہ نبی عرب سے ظاہر ہوا تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت لئلا یعلم اہل الکتب۔ تاکہ اہل کتاب نبوت کی فضیلت کو جان لیں۔ 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت لئلا یعلم اہل الکتب۔ واللہ اعلم۔